نام کتاب : مسیح موعود کی پہچان (قرآن و سنت کی روشنی میں)

مؤلف : مفتی محمد شفیع

طباعت : لیتھو صفحات : 44

قیمت : ایک روپیہ پچیس پیسے

ناشر : مکتبہ دارالعلوم کراچی۔ 14

مرزائے قادیان کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے آج سے پچاس سال پہلے قرآن و سنت کی روشنی میں مسیح موعود کی 77۔ کی اعلامات پر مشتمل یہ کتابچہ ترتیب دیا تھا۔ جس کے مطالعہ سے مرزائے قادیان کاجھوٹا او رکاذب ہونا واضح ہوجاتا ہے۔

مسیح موعود کی علامات اور حالات ایک جدول میں لکھے گئے ہیں اور قرآن و حدیث کے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں۔ دیباچہ میں بتایا گیا ہے کہ احادیث کی عبارتیں خاصی طویل تھیں اس لیے جملہ احادیث کو ضمیمہ کی صورت میں کتابچہ کے آخر میں درج کیا گیا ہے۔ (ص:9) مگر یہ ضمیمہ غائب ہے۔ طباعت کی اس خامی کے باوجود کتابچہ قابل مطالعہ ہے۔ خاص طور پر قادیانی عقیدہ رکھنے والوں تک یہ کتابچہ پہنچایا جائے۔ شاید ان میں سے کوئی حقیقت پہچان لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(2)

نام کتاب : سیرت یعقوب ومملوک 

مؤلف : پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی

طباعت : گوارا، مجلہ مع گردپوش

صفحات : 240۔ قیمت: پندرہ روپے پچھتر پیسے صرف

ناشر : مکتبہ دارالعلوم۔ کراچی ۔14

نانوتہ ضلع سہارنپور کی مردم خیز بستی ہے۔ یہاں کی صدیقی برادری میں مولانا مملوک علی نانوتوی مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور مولانا محمد یعقوب نانوتوی نے حلقہ علم و ادب میں بلند نام حاصل کیا ہے۔مولانامملوک علی (م1851ء) دہلی کالج میں عربی زبان و ادب کے استاد تھے۔ ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا او رملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے۔

مولانا محمد یعقوب نانوتوی ، انہی مولانا مملوک علی کے فرزند ارجمند تھے۔مولانا یعقوب ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اور صوفی منش بزرگ تھے۔ وہ دارالعلوم کے صدر مدرس بھی رہے تھے اور اس نسبت سے ان کے تلامذہ کا حلقہ بہت وسیع ہے۔

زیر نظر تالیف بنیادی طور پر مولانا محمد یعقوب نانوتوی کی سوانح عمری ہے۔ ضمنی طو رپرمولانا مملوک علی نانوتوی کاتذکرہ لکھا گیا ہے ۔مؤلف نے ان کےعہد کے حالات پر بھی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔مثال کے طور پر ''جہاد آزادی 1857ء '' میں علمائے دیوبند کی شرکت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ مؤلف نے بعض مقامات پر اپنے حالات کو بھی شامل کرنا ضروری خیال کیا ہے۔

''سیرت یعقوب و مملوک'' قدیم انداز میں لکھی گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس انداز تالیف میں بہت سی خوبیاں ہیں مگر زمانے کے تقاضے کونظرانداز کرنا درست نہیں ہے۔مولانا محمد یعقوب کے علم و عمل ، طب و شاعری پر علیحدہ علیحدہ ابواب میں گفتگو کی گئی ہے او ربحیثیت مجموعی یہ حصہ جاندار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(3)

نام کتاب : از خوانسار تا خراساں

مؤلف و ناشر : محمد حسین تسبیحی

184۔ خیابان راشد منہاس ۔ راولپنڈی

صفحات : 436 قیمت : 25 روپے

ایرانی فاضل جناب محمد حسین تسبیحی ان جوان سال و جوان حوصلہ افراد میں سے ہیں جن کی زندگی کا مقصد علم و ادب کی خدمت ہے۔ ان دنوں موصوف مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان راولپنڈی میں ناظم کتب خانہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔کتب خانہ کے شعبہ مخطوطات کی فہرست سازی ان کی توجہ کا مرکز ہے۔ دو ضخیم جلدیں ''فہرست نسخہ ہائے خطی کتب خانہ گنج بخش'' کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ تیسری جلد زیر طبع او رباقی زیر تسوید و ترتیب ہیں۔

جناب تسبیحی کو پاکستان او راہل پاکستان سے بے پناہ محبت ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اڑھائی سالہ قیام میں خیبر سے کراچی تک سفر کیا۔ اہل علم کی صحبت سے استفادہ کیا او ران کے کتب خانوں کو دیکھا۔ پاکستان کی ثقافت و تہذیب پر مضامین قلمبند کئے۔ گذشتہ سال پاکستان سے متعلق مضامین کامجموعہ ''فارسی پاکستانی و مطالب پاکستان شناسی'' شائع کیا۔ پاکستان شناسی کے موضوع پر فارسی زبان میں یہ اوّلین کتاب تھی۔

پاکستان آنے سے پہلے موصوف ایران کے شعبہ تعلیم سے منسلک تھے او رفارسی زبان و ادب کے استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے مختصر دور ملازمت میں دو بار اساتذہ کےتعلیمی سیمیناروں میں حصہ لیا۔ زیر نظر تالیف (سفر نامہ) ان میں سے ایک سیمینار کی روداد ہے۔مؤلف نے خوانسار سے اپنے سفر کا آغاز کیا او رمشہد (خراسان) میں سیمینار میں شرکت کی۔ اس نسبت سے کتا ب کا نام ''از خوانسار تا خراسان'' تجویز کیا۔

زیر نظر کتاب تہران کے معروف ہفت روزہ '''فردا'' میں بالاقساط شائع ہوئی البتہ مؤلف کا قلمی نام ''ابن بی بی''، ''زینت فردا'' رہا۔ لکھتے ہیں:

''این یادداشت ہارا تحت نام ''ابن بی بی '' می نگاشتم۔ بی بی نام مادر من بود۔ من بہ مادرم مدیون مرہون ہستم۔ اومرا پردرش داد، رنج ہاکشید، غم گساری ہاکرد، تیمارداری ہانمود، من نور ستہ بارد گردیدم، چون نام مادر من ''بی بی'' بود ومن ہم البتہ ابن بی بی یا پسر بی بی ہستم''

آقائے تسبیحی نے دوران سفر میں آنکھیں بینا او ردماغ بیدار رکھا۔ راستے میں آنے والے شہروں ان کے آثار قدیمہ، کتب خانوں،کوہ و بیابان، گلزار و خیابان غرضیکہ ہر اہم پہلو پر گفتگو کی ہے۔ مثال کے طور پر سبزوار سے گزرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ اس شہر کا قدیم ''بیہق'' ہے۔ اس شہر کی تمام آبادی اثنا عشری ہے۔ اس شہر کی مٹی سے بہت سے دانشمند پیدا ہوئے مثلاً ابن فندق (قرن ششم) ابوالفضل بیہقی، او رابوجعفر بیہقی وغیرہ ۔ ان کے حالات پربھی مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے۔

نیشاپور سے گزر ہوا تو خیام کا تذکرہ آیا اور پھر اسی نسبت سے مقبرہ خیام، رباعیات خیام، اُن کے تراجم اور بعض دوسری باتیں زیربحث آئیں۔ یہی انداز طوس کے بارے میں ہے۔

سیمینار میں شرکت او راس کی مصروفیات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ آقائے تسبیحی کے تاریخی اور ادبی ذوق نے کتاب کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ وہ زاہد خشک نہیں بلہ جابجا طنزو مزاج سے بھی کام لیتے ہیں۔ تاریخی او رادبی معلومات سے پُر سفر نامہ طنزو مزاج کی چاشنی سے مزید پُرلطف ہوگیا ہے۔

زبان (فارسی) اس قد رسادہ ہے کہ ایک اُردو خوان بھی معمولی محنت سے لطف اٹھا سکتا ہے کتاب کے آخر میں چار مختلف النوع انڈکس ہیں۔ انڈکس کی تیاری میں محنت او رعرق ریزی کرنی پڑتی ہے۔ اس کا اندازہ کچھ وہی کرسکتے ہیں جنہوں نےکبھی یہ کام انجام دیا ہے۔ مگر انڈکس قاری کے لیے ایک ایسی کلید ہے جس سے وہ سینکڑوں صفحات کی کتاب میں اپنے مقصد کی ایک ایک سطر بآسانی دیکھ سکتا ہے۔آقائے تسبیحی نے نفاست ذوق کا ثبو ت دیتے ہوئے اعلیٰ معیار پر کتاب شائع کی ہے ۔ کپڑے کی نفیس جلد نےکتاب کی زینت میں مزید اضافہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(4)

نام کتاب : حضرت مولانا داؤد غزنوی

ترتیب و تدوین : سید ابوبکر غزنوی

صفحات : 464

طباعت : عمدہ، مجلد مع دیدہ زیب گردپوش

قیمت : 20 روپے

ناشر : مکتبہ غزنویہ، 4۔ شیش محل روڈ، لاہور

مولانا داؤد غزنوی ماضی قریب کے ان بزرگوں میں سے تھے جن کی شخصیت کئی پہلو رکھتی تھی۔ مرحوم بلند پایہ عالم دین ، نڈر او ربے باک سیاسی راہنما، منفرد خطیب اور پختہ کار صحافی تھے۔

زیر نظر تالیف ان کی یاد میں ترتیب دی گئی ہے۔ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اوّل تاثراتی ہے اور اس میں برصغیر پاک و ہند کے معروف اہل قلم او رمولانا کے احبان و تلامذہ نے اپنے مکرم و محترم بزرگ کی یاد تازہ کی ہے۔مقالہ نگاروں میں مولانا محی الدین احمد قصوری، غلام رسول مہر، رئیس احمد جعفری، مولانا مظہر علی اظہر، ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا محمد حنیف ندوی، محمد شفیع، آغا شورش کاشمیری، ملک حسن علی جامعی، مولانا محمد داؤد راز، محمد اسحاق بھٹی،ڈاکٹر اسرار احمد اور فضل الرحمٰن سواتی شامل ہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا مختصر انٹرویو بھی اس حصہ کی زینت ہے۔

یہ مضامین ''ہر گلے رارنگ و بوئے دیگر است'' کے مصداق دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔ ان سے مولانا مرحوم کی دلآویز شخصیت، ان کے فکری توازن و اعتدال ، ان کی مجاہدانہ سرگرمیوں، اُن کے علمی ذوق، عقائد و مسلک میں پختگی او ران کے وسیع حلقہ روابط پر روشنی پڑتی ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ جو نسبتاً طویل ہے۔مولانا مرحوم کے صاحبزادے پروفیسر ابوبکر غزنوی صاحب کے رشحات قلم پر مشتمل ہے۔ یہ حصہ سوانحی اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے۔ واقعات و حالات زندگی ترتیب سے لکھے گئے ہیں۔ اگر اس حصہ کے ساتھ مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب کا مضمون پڑھا جائے تو مکمل سیرت سامنے آجاتی ہے۔

اُردو زبان کے سوانحی ادب میں زیر نظر تالیف ایک اہم اضافہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(5)

نام کتاب : نورالدین زنگی

مؤلف : طالب ہاشمی

طباعت و کتابت : عمدہ

صفحات : 332، قیمت : 11 روپے

ناشر : قومی کتب خانہ، ریلوے روڈ لاہور

نورالدین محمود زنگی تاریخ اسلام کی ان ہستیوں میں سے ہیں جن پرمسلمان بجا طور پر ناز کرسکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ بقول مؤلف کتاب ہذا اُردو زبان میں نور الدین زنگی مرحوم پرکوئی کتاب نہ لکھی جاسکی۔ علامہ شبلی مرحوم نے ''ناموران اسلام'' کی سیرت نگاری کا پروگرام بنایا تو اس رجل عظیم کو شامل کیا۔مگر قدرت نے انہیں اپنا منصوبہ مکمل کرنے کی مہلت نہ دی۔

آج ہمارے نوجوان ''اسلامی تاریخی ناولوں'' کے رسیا ہیں۔ جن میں مصنوعی جاذبیت پیدا کرنے کے لیے عشق و عاشقی کے قصے شامل کئے گئے ہیں۔ بظاہر قاری ان سے لطف اندوز تو ہوتا ہے مگر تاریخ کا صحیح شعور حاصل نہیں کرسکتا۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ تاریخی واقعات بلا کم و کاست اور بغیر کمی بیشی کے پیش کردیئے جائیں۔طالب ہاشمی نے زیر تبصرہ تالیف میں اس پہلو پر خاص طور پر زور دیا ہے۔

جناب طالب ہاشمی نے ناموران اسلام کی سوانح شروع کرکے شبلی نعمانی کے مشن کو زندہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(6)

نام کتاب : تہافۃ الفلاسفہ (تلخیص و تفہیم)

مؤلف : مولانا محمد حنیف ندوی

طباعت : آفسٹ

صفحات : 220 ، قیمت 12 روپے

ناشر : ادارہ ثقافت اسلامیہ کلب روڈ لاہور

مولانا محمد حنیف ندوی علمی و دینی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی فکر انگیز تالیفات نے غور و فکر کے کئی گوشے وا کئے ہیں۔ امام غزالی کے افکار پر ان کی تین کتابیں، سرگذشتہ غزالی، افکار غزالی اور تعلیمات غزالی کے نام سے شائع ہوکر اہل علم سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہیں۔

امام غزالی (م505ھ) نے برسوں تعلیم و تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ فلسفہ کی موشگافیوں اور ایں وآں میں مشغول رہے۔ پھر تحقیق کے داعیوں نے زہد و ورع کی طرف مائل کیا اور تقریباً دس سال تک حجاز، شام او ربیت المقدس کے شہروں اور ویرانوں میں گھومتے رہے۔ یہ عرصہ یونانی فلاسفہ کے افکار کے تجزیے اور تنقید میں گزرا۔ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ فلاسفہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

امام غزالی نے پہلے ''مقاصد الفلاسفہ'' لکھ کر یہ ثابت کیا کہ وہ جس گروہ کے مزعومات کی تردید کرنا چاہتے ہیں ان کےعلوم و معارف سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس کے بعد''تہافۃ الفلاسفہ'' لکھی جس میں ثابت کیا کہ فلسفہ یونانی میں اس درجہ تناقض و تضاد ہے کہ اس سے مابعد الطبیعی حقائق کو قطعی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

امام غزالی کے جواب میں ابن رُشد نے یونانی فلاسفہ کا دفاع کیا اور ''تہافۃ التہافۃ'' کےنام سے جواب لکھا۔ ہر دو کتب فلسفہ یونان او راسلامی علم کلام کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مولانا محمد حنیف ندوی صاحب نے ''تہافۃ الفلاسفہ'' کے بیس ابواب کی تلخیص و تفہیم کی ہے۔ زبان سادہ اپنائی ہے۔ تلخیص و تفہیم کے آغاز میں طویل مقدمہ ہے جس میں مولانا موصوف نے دلنشین انداز میں فلسفہ، اس کے مقتضیات اور یونانی فلاسفہ کے تعارف او راُن کے افکار پر مختصراً گفتگو کی ہے۔ امام غزالی او رابن رُشد کا تقابلی مطالعہ پیش کیا اور پُرزور محاکمہ لکھا ہے۔ ''تہافۃ الفلاسفہ'' کی اہمیت کے بارے میں کیا خوب لکھا ہے کہ اس میں فلسفہ و کلام کے وہ تمام مباحث سمٹ آئے ہیں جن پر صدیوں ہمارے ہاں بحثیں ہوتی رہی ہیں او رہماری فکری کاوشوں کا مایہ ناز ذخیرہ ہیں۔

مقدمہ میں مولانا نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ ''جزیرۃ العرب میں کیوں اس کثرت اور تسلسل کے ساتھ انبیاء مبعوث ہوئے یا خط یونان کو یہ شرف کیوں بخشا گیا کہ یہاں عقل و خرد کی اس درجہ ارزانی ہو۔'' (صفحہ 5)

قاری اس سوال کا جواب چاہتا ہے ۔ مولانا نے اس سلسلہ میں جغرافیائی او رتہذیبی اثرات کو چنداں اہمیت نہیں دی اس لیے بجا طور پر یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ مولانا مثبت طور پر اس فکری خلش کو دور کریں گے۔

اُردو خواں طبقہ مولانا کی اس کتاب سے غزالی کی فکر بآسانی سمجھ سکتا ہے۔