نہ ساحل ہے نہ ساحل کا نشاں ہے
محبت ایک بحر بے کراں ہے

درخشاں جس سے تاریخ جہاں ہے
شہیدان وفا کی داستان ہے

بلند از رتبہ ہفت آسماں ہے
وہ دل جس میں تری الفت نہاں ہے

محبت مٹ نہیں سکتی جہاں سے
محبت کی امیں نوک سناں ہے

سنبھل کر جادہ الفت پہ چلنا
یہاں کا ہر قدم اک امتحاں ہے

جگر شق، دل حزیں، نمناک آنکھیں
یہی تو زاد راہ عاشقاں ہے

اگر معلوم ہے رسم محبت
تو پھر کیوں شکوہ درد نہاں ہے

جہاں گر کر کوئی مشکل سے اٹھا
جہنم زار وہ کوئے بتاں ہے

محبت ہے بس اللہ کی محبت
صلہ جس کا سکون دو جہاں ہے

ہمیشہ سرنگوں دیکھا ہے اس کو
مال معصیت جس پر عیاں ہے

کسے روداد غم عاجز سنائیں
جہاں میں کون ہے جو شادماں ہے