حدود کو شبہات سے معاف کرنے کی روایت:
بات کو مکمل کرنے کے لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حد باطل کرنے کے لیے باربار جس روایت کو دلیل بنایاگیا ہے اس کی حیثیت واضح کردوں او ریہ بھی واضح کردوں کہ اگر اسے صحیح مانا جائےتو مکمل روایت کیا ہے؟ جسے اگر مدنظر رکھاجاتا تو کسی کو تعطیل حدود (حدود ختم کرنے) کی جرأت ہی نہ ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ شبہ سے حد ہٹا دینے کی جتنی روایات ہیں، ان میں کوئی بھی رسول اللہ ﷺ تک ایسی سند سے نہیں پہنچتی جس سے کوئی روایت ثابت قرار دی جاسکتی ہے و ہ روایات درج ذیل ہیں:
حضرت عائشہؓ کی روایت:
ہدایہ کی تخریج نصب الرایہ کے مؤلف حنفی بزرگ ، زیلعی فرماتے ہیں:
''ترمذی نے محمد بن ربیعہ سے، یزید بن زیاد سے، زہری سے، عروہ سے، عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ادرأ وا الحدود عن المسلمین من استطعتم فإن کان لھا مخرج فخلوا سبیله فمن الإمام أن یخطئ في العفو خیر من أن یخطئ في العقوبة۔انتھى''
یعنی ''مسلمانوں سے حدود کو ہٹاؤ جس قدر تم طاقت رکھتے ہو۔ اگر اس کے لیے کوئی راستہ ہو تو اس کو چھوڑ دو ۔ کیونکہ امام کامعاف کرنے میں غلطی کرنا، سزا دینے میں غلطی کرنےسے بہتر ہے۔''

'ترمذی نے کہا: ہم اس حدیث کو مرفوع نہیں جانتے مگر محمد بن ربیعہ کی حدیث سے جو انہوں نے یزید بن زیاد سے، زہری سے روایت کی ہے اور یزید بن زیاد حدیث میں ضعیف ہے او راسے وکیع نے یزید بن زیاد سے روایت کیا ہے او راسے مرفوع روایت نہیں کیا اور وہ زیادہ صحیح ہے۔پھر ترمذی نے اسےوکیع سے روایت کیا ہے جو وہ یزید سےموقوف، بیان کرتے ہیں انتہیٰ۔اور اسے حاکم نےمستدرک میں روایت کرکے کہا: ''یہ صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔'' ذہبی نے اس کی مختصر میں اس پر تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے:

''یزید بن زیاد کے متعلق نسائی نے کہا ''متروک ہے۔ اور ترمذی نے اپنی ''علل کبیر'' میں کہا ہے: ''محمد بن اسماعیل نےکہا:
''یزید بن زیاد منکر الحدیث گیا گزرا ہے۔او راسےدارقطنی پھر بیہقی نے اپنی سنن میں مرفوعاً روایت کیاہے او ربیہقی نے کہا ہے: ''موقوف زیادہ صحیح ہے۔'' 1

محدث کبیر ناصر الدین البانی حفظہ اللہ نے ''إروء الغلیل في تخریج أحادیث منارالسبیل'' میں اس کلام کے علاوہ کئی زائد چیزیں بیان فرمائیں ہیں، ان میں سے دو باتیں یہاں قابل ذکر ہیں:

1۔یہ روایت مرفوع بھی ضعیف ہے اور موقوف بھی۔کیونکہ دونوں کا مدار یزید بن زیاد دمشقی پر ہے جس کا حال اوپر گزر چکا ہے تو بعض محدثین کے موقوف کو مرفوع سے زیادہ صحیح قرار دینے سے حاصل کچھ نہیں کیونکہ جس وجہ سے مرفوع ضعیف ہے وہ وجہ موقوف میں بھی موجود ہے۔
2۔بیہقی نے کہا ہے: ''اور اسے رشدین بن سعد نے عقیل سے زہری سے مرفوعاً بیان کیا ہے او ررشدین ضعیف ہے۔''

2۔ حضرت علیؓ کی روایت:
زیلعی فرماتے ہیں:''دارقطنی نے اپنی سنن میں مختار تمار سے، ابومطر سے، علی سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،فرماتے تھے : ''ادرأوا الحدود۔انتهی '' یعنی ''حدود کو ہٹاؤ۔ اور مختار تمار ضعیف ہے۔''2

شیخ البانی نے فرمایا: یہ روایت بیہقی میں بھی ہے۔ مختار تمار کے متعلق تقریب میں ہے: ''ضعیف'' اور بخاری نے فرمایا: ''منکر الحدیث''

بیہقی نے اسےمختار تمار سےاس کی ایک اور سند کے ساتھ علیؓ سے روایت کیا ہے۔ اس میں یہ لفظ زیادہ ہیں: ''ولا ینبغي للإمام أن یعطل الحدود'' ''اور امام کےلائق نہیں کہ وہ حدود کو معطل کرے۔''

3۔حضرت ابوہریرؓ کی روایت:
زیلعی فرماتے ہیں: ''ابویعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیاہے: ہمیں اسحٰق بن اسرائیل نے بیان کیا، ہمیں وکیع نے بیان کیا، مجھے ابراہیم بن فضل مخزومی نے سعید مقبری سے ابوہریرہؓ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ادرأوا الحدود ما استطعتم۔انتهى'' یعنی '''' او رابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ ہمیں عبداللہ بن الجراح نے بیان کیا ہمیں وکیع نے اس سند سے مرفوعاً بیان کیا: ''ادفعوا الحدود ما وجدتم لھا مدفعا'' یعنی ''جب تک تمہیں ہٹانے کی کوئی صورت ملتی ہے، حدود کو ہٹاؤ'' 3

شیخ ناصر الدین نے اس پر لکھا ہے کہ بوصیری نے ''الزوائد'' (ق158؍1) میں اس حدیث کے متعلق کہا ہے:
''یہ سنداً ضعیف ہے۔ابراہیم بن فضل مخزومی کواحمد، ابن معین، بخاری ، نسائی، ازدی اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔'' 4

4۔ مرسل عمر بن عبدالعزیز:
محدث البانی فرماتے ہیں: ''تاریخ دمشق میں ابن عساکر نے محمد بن احمد بن ثابت کے طریق سے روایت کیا ہے کہ ہمیں ابومسلم ابراہیم بن عبدالصمد نے بیان کیا، ہمیں محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، ہمیں محمد بن علی شامی نےبیان کیا، ہمیں ابوعمران جونی نے بیان کیا، انہوں نے کہا، عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اس سے آگے ایک قصہ ذکر کرنےکےبعد مذکور ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''ادرأو ا الحدود بالشبھة'' یعنی ''حدود کو شبہ کےساتھ ہٹا دو'' ابوسعد سمعانی نے اسی طریق سے '' الذیل'' میں اسے روایت کیا ہے جیساکہ ''المقاصد الحسنة'' (رقم 46) میں ہے او رکہا ہے: ''ہمارےشیخ نے کہا: ''اس کی سند میں غیر معروف راوی موجود ہیں۔''

5۔ ابن عباسؓ کی روایت:
شیخ ناصر الدین فرماتے ہیں۔''حارثی نے''مسند احمد حنیفہ'' میں مقسم عن ابن عباس کی سند سے ''ادرأوا الحدود بالشبھات ما استطعتم'' یعنی ''جہاں تک کرسکو حدود کو شبہات کے ساتھ دور کرو۔'' روایت کیا ہے۔ یہ روایت ابن عدی کے ہاں بھی اسی طرح ہے۔ او ریہ روایت ضعیف ہے۔'' (شیخ ناصر الدین کاکلام ختم ہوا)

یہ وہ کل روایات ہیں، جن کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی جاتی ہے، مگر آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں۔

صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں مکمل روایت:
اگر یہ روایات صحیح بھی مانی جائیں، تو ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کوبہانہ بنا کر حدود کومعطل ہی کردیا جائے، جیسا کہ ہمارے قانون سازوں نے کیاہے۔ کیونکہ ان میں سے حضرت علیؓ کی روایت میں صاف الفاظ موجود ہیں جن میں آپؐ نےان روایات کو تعطیل حدود کا بہانہ بنانے سے منع کیا ہے۔چنانچہ آپﷺ فرماتے ہیں:
''ولاینبغي للإمام أن یعطل الحدود''
''اور امام کے لائق نہیں کہ وہ حدود کو معطل کردے۔ '' (حوالہ اوپر گزر چکا ہے)

اس سے ظاہر ہے کہ ہمارے قانون سازوں کا اس روایت کو ہرموقع پر بے دریغ استعمال کرکے حدود کو معطل کردینا آنحضرتﷺ کے فرمان کے مقصد و منشاء کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح بعض صحابہؓ سے منقول اس مفہوم کے الفاظ کا مطلب بھی ''لا ینبغي للإمام أن یعطل الحدود'' کو مدنظر رکھ کرمتعین کیا جائے گا کیونکہ آنحضرتﷺ اور صحابہ کرامؓ حدود اللہ نافذ کرتے تھے، نہ کہ ہمارے ان بھائیوں کی طرح حدود ختم کرنےکے قانون بناتے تھے۔ چنانچہ بہت سے شبہات ، جن کی بناء پر ان حضرات نے حد ساقط کی ہے، رسول اللہ ﷺ او رصحابہؓ کے زمانے میں پیش آنے والے واقعات میں بھی موجود ہیں۔مگر اس وقت ان سے حد ساقط نہیںہوئی بلکہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے۔ مثلاً ملاحظہ کیجئے حضرت صفوان کے چور کا واقعہ۔

حرفِ آخر:
آخر میں سب مسلمان بھائیوں سے گزارش ہے کہ آئیے ہم سب اس قانون پرجمع ہوجائیں جو ہمارےرسول اللہ ﷺ لے کر آئے تھے۔ جس پر صحابہؓ و تابعین عمل پیرا رہے او روہ قانون صرف کتاب و سنت ہے جو اس وقت بھی مکمل تھا جب صحابہؓ و تابعین کازمانہ تھا، او راب بھی مکمل ہے۔ نہ اس وقت اس میں کوئی کمی تھی کہ کوئی اسے دور کرتا، نہ اب کوئی کمی ہے ۔ اگر کمی ہوسکتی ہے تو وہ کتاب و سنت کے علم کی کمی ہے جو ہماری کوتاہی ہےنہ کہ کتاب و سنت کی۔ اسی اصل پرعمل پیرا ہونے سے ہم متحد بھی ہوسکتے ہیں اور ہمیںوہ امن و اطمینان بھی حاصل ہوسکتا ہے جو اس مبارک دور میں مسلمانوں کو حاصل تھا۔ ایک سو سال بعد انسانی دماغ کا بنایا ہوا قانون، جس نےکتاب و سنت کی تعبیر و تفسیر کے نام پر حدود و شرائع کو معطل ہی کردیا، نہ بنائے اتحاد ہی بن سکتا ہے نہ اس کی تنفیذ سے امن و سکون کی نعمت ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ میں نےمحنت کرکے صرف حد سرقہ کے متعلق کتاب و سنت او رقانون حنفی، دونوں کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے اور امید رکھتا ہوں کہ آپ ایک مسلم کی حیثیت سے نور و ظلمت کافرق ظاہر ہوجانے کے بعد کتاب و سنت کی روشنی پرکسی تاریکی کو ترجیح نہیں دیں گے اورکتاب و سنت کے ہوتے ہوئے پاکستان میں انسان کے بنائے ہوئے کسی بھی قانون کے نفاذ کامطالبہ نہیں کریں گے، خواہ وہ قانون حنفی ہو یا کوئی اور... کیونکہ ہمارےدکھوں کا مداوا صرف قانون الٰہی کا عملی نفاذ ہے۔ ؎

وہی دیرینہ بیماری، وہی نامحکمی دل کی
علاج اس کا وہی اللہ کاقانون ہےساقی

 


حوالہ جات
1. حضرت عائشہؓ کی روایت پرزیلعی کا کلام ختم ہوا۔ نصب الرایہ صفحہ 74۔ 75 جلد2 مطبع علوی
2. زیلعی کے کلام کا ترجمہ ختم ہوا۔ ص75 ج2
3. زیلعی کے کلام کا ترجمہ ختم ہوا۔ ص75 ج2
4. الارواء ص26 ج8