2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

انکار حدیث کا پس منظر:
انسانی فطرت دو حصوں میںمنقسم ہوئی۔ فطرت سلیمہ اور غیر سلیمہ۔ اوّل الذکر اپنے خالق کے احکامات کو زاویہ ایمان سے دیکھتی او رحلقہ اسلام میں داخل ہوتے وقت کئےگئے عہد و پیمان کو ایفاء کرنےکی کوشش کرتی ہے جبکہ دوسری قسم کی فطرت اپنے ناجائز مقاصد اور خبث باطن کے معیار سے ان احکامات الٰہیہ کو پرکھتی اور غلط جذبوں کی تسکین کی خاطر خاک چھانتی ہے۔ قرآن مجید کی تعبیر یوں ہے:
﴿وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُ‌جُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَ‌بِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُ‌جُ إِلَّا نَكِدًا...﴿٥٨﴾...سورۃ الاعراف
''پاکیزہ زمین سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور خراب زمین سے (جھاڑ جھنکاڑ اور ) ناقص (پیداوار)کےعلاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔''

باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید، و درشوم بوم و خس


اسلام دین فطرت ہے اور باران رحمت۔ سنت رسول ﷺ اس کی فصل اور قرآن اس کابیج ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اس فصل کی آبیاری اپنے خون پسینہ سے کی اور تابعین عظام و محدثین نے اس گلشن مصطفوی کے پھولوں کو ربع مسکوں میں تقسیم کیا، چنانچہ آج تک مشام جان معطر کئے جانے کا یہ سامان امت مسلمہ کے پاس موجود ہے۔

اسلام آیا تھا زندہ رہنے کے لیے، باطل کو دبانے او رجھکانے کے لیے۔ اس نے احبار و رہبان کی گوڈریاں ادھیڑ ڈالیں، قیصر و کسریٰ کی قبائیں چاک کیں، شخصیت پرستی کے دامن پھاڑے، پیٹ پرستی کے بخئے ادھیڑے، ظلم و جبر کے محلوں کو مسمار کیا او ریہود و نصاریٰ کے قائم کردہ قصر فریب کی خاک تک اڑا ڈالی۔ اب یہ اسےبرداشت کرتے تو کیونکر؟ زور بازو سےکائنات کی اس سب سے بڑی حقیقت کو مٹا نہ سکے تو اسلام کے ہمدرد اور قرآن کے خیر خواہ بن کر میدان میں اترے۔ چنانچہ اس سیدھے سادے دین کو علم کلام و معانی کے پیچوں میں الجھایا تو فتنہ کبھی خلق قرآن کی شکل میں رونما ہوا توکبھی صفات خداوندی کی تاویلات کے روپ میں۔ کبھی سبائیت نے دانت نکالے تو کبھی باطنیت و تصور نے آنکھیں دکھائیں۔مذہبی فتنےتو بہت جلد اپنی موت آپ مرگئے، مگر متشککین و متجددین کا ایک گروہ اجتہاد و تحقیق کی آڑ میں اب بھی برسر پیکار ہے۔ قرآن مجید سے اپنے من مانے مطالب و مفہوم اخذ کرنے کے لیے انکار حدیث کے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ چنانچہ یہ پروپیگنڈہ ان کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ اب تک عجمی سازشوں کا شکار رہی ہے۔ لے دے کے اسلام کے جو چند ہمدرد اور بہی خواہ رہے ہیں، ان میں احمد امین مصری، سرسیداحمد خان، عبداللہ چکڑالوی ، احمد دین امرتسری، نیاز فتح پوری، اسلم جیراجپوری اور ان کا تتمہ غلام احمد پرویز ہیں۔ اب زکوٰة ان کے نزدیک حکومت کاٹیکس ہے یامرکز ملت کا حق، حج ہندوؤں کی یاترا یاعیسائی کے پلگریمیج کا چربہ، نماز محض رسم، سنت متواترہ نہیں بلکہ جہالت متواترہ ، روزہ ایک بے روح فاقہ تو تلاوت قرآن ایک بے فائدہ عبادت۔ یہ ہے ان بدنہاد لوگوں کی قرآنی بصیرت کا خلاصہ، جوانکار حدیث کے تعفن سے پوری فضا کو آلودہ کررہے ہیں۔چنانچہ قربانی بھی ان کے نزدیک ایک فضول اور اسراف پر مبنی رسم قرار دی گئی ہے۔
﴿كَبُرَ‌تْ كَلِمَةً تَخْرُ‌جُ مِنْ أَفْوَ‌ٰهِهِمْ'' ....... ''وَمَا تُخْفِى صُدُورُ‌هُمْ أَكْبَرُ‌''

ابتدائی سطور کافی طویل ہوگئیں۔مگر اس فتنہ انکار حدیث کے پس منظر سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ تب آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ احکامات الٰہیہ اور شعائر اسلام پر خاک اڑانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ لوگ تو اسلام کی پوری عمارت کو ڈھا دیناچاہتے ہیں۔ ان کاجواب دینے سے ہمارا مقصود یہ ہوتا ہے کہ کم از کم جو لوگ علم و جہل میں فرق نہیں کرسکتے او ران کی لفاظی اور ''ادبیت'' سے مرعوب ہوجاتے ہیں، یاشکوک و شبہات کےجو کانٹے ان کے ذہنوں میں چبھ جاتے ہیں، ان سےیہ محفوظ رہ سکیں۔

چنانچہ ہمارے ایک دوست نے قربانی کے بارے کچھ سوالات بھیجے ہیں جومنکرین حدیث کے ایک پمفلٹ ''رسم قربانی، ایک ناجائز رسم'' کا خلاصہ ہیں۔زیادہ تر آڑ معیشت کی تباہی کی لی گئی ہے۔ قبل اس سےکہ ہم ان کے اس کمزور او ربھونڈے سہارے کو منہدم کریں، قربانی کےبدیہی مفہوم سے متعارف کرانا ضروری سمجھتے ہیں۔

قربانی کا یدیہی مفہوم:
قرآن مجید سے پوچھئے، قربانی کیا ہے؟ تو وہ یوں نقشہ کھینچتا ہےکہ:
کفر و شرک کی تاریکیوں میں ایک بندہ خدا توحید کی شمع روشن کرتا ہے۔ اس کوشش میں اسے اپنے گھر بار، وطن، شفقت پدری، رأفت مادری، غرض ہر چیز سے دست بردار ہونا پڑتا ہے ۔ تاہم وہ کسی بھی موقع پر کمزوری نہیں دکھاتا۔امتحان و آزمائش کے اسی برس گزارنے کے بعد﴿رَ‌بِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ﴿١٠٠''1 کے جواب میں ﴿فَبَشَّرْ‌نَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍ ﴿١٠١''2 کی صورت میں اس کا دامن خوشیوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ لیکن آزمائش کی گھڑی پھر سامنے آموجود ہوتی ہے۔چنانچہ باپ بیٹا یوں ہمکلام ہوتے ہیں:
باپ: ''بیٹے، میں نےخواب میں دیکھا کہ راہ خدا میں تجھے ذبح کررہا ہوں، بتا تیری کیا رائے ہے؟''
بیٹا : ''ابا جان، امر رب کے معاملے میں یہ پوچھ گچھ کیسی؟ جو حکم ملا ہے، اس کی تعمیل فرمائیے، رہا میرا معاملہ ،تو آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔''
باپ بیٹا دونوں فرمان الٰہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔باپ اپنے لخت جگر کو پیشانی کے بل لٹا کر حلقوم پر چھری رکھ دیتا ہے اور زبان سے یہ اقرار کرتا ہے :
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَ‌بِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿١٦٢﴾ لَا شَرِ‌يكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَ‌ٰلِكَ أُمِرْ‌تُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣...سورۃ الاانعام
''میری نماز، میری قربانی غرضیکہ میرا جینا او رمرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔''

میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیےمسلماں ، میں اسی لئے نمازی


یہ ہے وہ قربانی ، جس کی حقیقت کے بارے میں صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بایں الفاظ استفسار کیا:
''ماھٰذا الأضاحي یارسول اللہ''
زبان رسالت ترجمان سے ارشاد ہوا:
''سنة أبیکم إبراهیم''
''یہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔''

مزید فرمایا:
﴿لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ‌ ۖ...﴿٣٦﴾...سورۃ الحج
''تمہارے لیے اس میں خیر ہی خیر ہے۔''

نیز فرمایا:
﴿فَكُلُوامِنْهَا وَأَطْعِمُواٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ‌...﴿٣٦﴾...سورۃ الحج'' 3
''(ذبح کرو) سو اس میں سے خود بھی کھاؤ او رحاجت مندوں کو بھی کھلاؤ''

ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ محض خون بہانے سےمقصود حاصل نہیں ہوسکتا ، بلکہ دل و نگاہ کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے او ریہی کچھ مطلوب:
﴿لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ...﴿٣٧﴾...سورۃ الحج'' 4
گوشت تم نے کھا لیا، خون زمین پر گر گیا۔ خدا تک کیا پہنچا؟ تمہارے دلوں کی طہارت اور تمہارا جذبہ اطاعت۔ چنانچہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے تمہارےگناہوں کی بخشش ہوجائے گی۔

نگاہ باز گشت :
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی یادگار، سنت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام کی اتباع، تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ، دلوں کے تقویٰ کا شاندار مظہر، راہ خدا میں سب کچھ لٹا دینے او راپنا دامن جھاڑ لینے کاعزم، غرباء و مساکین کو مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرنے کا باعزت طریقہ۔اسےاہل اسلام قربانی کہتے ہیں۔ دیکھئے کس قدر مسرت آگیں پہلو ہے، کیسی دلآویز فضائیں ہیں، کیسی خوش کن و سحر آمیز بہاریں ہیں، جن میں ایک حقیقی مسلمان جی رہاہے؟ روحانیت کی یہ رعنائیاں او راسلام و ایمان کی یہ حلاوت جسے نصیب ہوجائے، اسے منکرین حدیث او ران نام نہادمفکرین کی بدبودار اور متعفن تحقیقات سے خود بخود نفرت ہوجاتی ہے۔ گلشن اسلام اور چمن مصطفوی کی بلبوں کےساتھ خس و خاشاک اور جھاڑ جھنکاڑ کے بھنوروں کا بھلا کیاجوڑ؟ ﴿لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ ﴿٦..سورۃ الکافرون''

قربانی کامعاشی پہلو:
اسلام دین فطرت ہے، جہاں اس نے روحانیت کی عطر بیز فضاؤں سے دنیا او راہل دنیا کو معمور و مسحور کیا، وہاں اس نے معیشت و اقتصاد کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ قربانی ہی کو دیکھ لیجئے، یہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ بھی ہے اور دنیا والوں کے لیےروزی کا سامان بھی۔

ارشاد خداوندی ہے:
﴿فَكُلُوامِنْهَا وَأَطْعِمُواٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ‌...﴿٣٦﴾...سورۃ الحج''
کہ ''(قربانی کے) اس گوشت) سے خود بھی کھاؤ اور سفید پوش اور اصحاب احتیاج کو بھی کھلاؤ۔''

نیز فرمایا:
﴿لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ‌ ۖ...﴿٣٦﴾...سورۃ الحج'' 5
''وہ تمہارے لیےاس میں (دینی و دنیاوی)خیر (ہی خیر) ہے۔''

اس کےمقابلے میں منکرین حدیث اور دشمنان قرآن کا یہ کہنا کہ:
قربانی کی''رسم'' پربےشمار روپیہ غریب عوام کا ہر سال ضائع ہوجاتا ہے، جس سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

کیااس نظریہ کی کچھ وقعت باقی رہ جاتی ہے؟ روحانی پہلو سے سوچا جائے تو وہ چیز کہ جس کا حکم احکم الحاکمین دے، جو اس کے تقرب کا بہترین ذریعہ ہو، جو دلوں کے جذبہ اطاعت کا شاندار مظہر ہو، جس کاوجود از آدمؑ تا ایں دم پایاجاتا ہو، اور تاقیامت باقی رہے گا۔ ان شاء اللہ ۔ وَلَوْ كَرِ‌هَ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ جو خدا تعالیٰ کے دو فرمانبردار بندوں کی تسلیم و رضا کی یادگار ہو، اور جسے بالخصوص رحمة للعالمین ﷺ نے پوری مدنی زندگی کے دس سالہ دور میں لازم پکڑا ہو او رامت کو سختی سے اس کی تاکید کی ہو کہ ''جو شخص استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔'' چنانچہ امت مسلمہ کا اس پرمتواتر عم رہا ہو۔ اسے ''رسم''کہنا گمراہی، ہٹ دھرمی، مادیت پرستی اور شیطان کی عبادت نہیں تو اور کیا ہے؟ اسے فضول خرچی پرمحمول کرنا خود اس قرآن سےکیا کھلامعارضہ نہیں کہ جس سے زبانی محبت کاڈھونگ رچایاجارہا ہے؟ پھر ساتھ ہی ساتھ ''مفسر قرآن'' ہونے کادعویٰ بھی ہے، لیکن ان احمقوں کو یہ تک سوچنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی کہ عیدالاضحٰی کا نام ''عیدالاضحٰی '' کیوں ہے۔ او رقربانی کے بغیر ''عیدالاضحٰی'' چہ معنی دارد؟

اور اگر معاشی نقطہ نظر سے سوچا جائے تو اس قربانی سے بے شمار لوگوں کی روزی وابستہ ہے، قربانی کا جانور پالنے سے لے کر قربانی تک او رپھر اس کے بعد قربانی کی کھالوں کی مصنوعات حتیٰ کہ قربانی کے جانوروں کی ہڈیاں او رپٹھے تک ان گنت خاندانوں کےمعاشی کاذریعہ ہیں۔پھر وہ غریب اور تنگ دست لوگ کہ جنہیں سال بھر گوشت دیکھنانصیب نہیں ہوتا، قربانی کا گوشت ان کےکام و دہن کی لذت کاسبب بنتا ہے عقل اور صرف عقل کا بھی فیصلہ یہ ہے کہ قربانی سے انکار کے لیےمعیشت کی تباہی کا یہ بہانہ بھی ان اسلام دشمنوں کے کام نہیں آسکا۔

ورنہ اگر اس منفی سوچ کا انداز یہی ہے تو ہمیں فریضہ نماز پربھی نظرثانی کرنا پڑے گی کہ ''بے چارے عوام'' کےروزانہ کتنے گھنٹے اس ''رسم'' پر ضائع ہوجاتے ہیں، یہی وقت اگر کاروبار پر صرف کیا جائے تو ملکی معیشت بڑی مستحکم ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حج کے فریضہ کا پوسٹ مارٹم بھی ہمیں کرنا ہوگاکہ محض ایک گھر کی زیارت کے لیےکروڑوں روپیہ ہرسال ضائع ہوجاتا ہے۔حتیٰ کہ یہ بدبودار سوچ صرف عبادات تک محدود نہ رہے گی بلکہ معمولات زندگی یالوازمات حیات نکاح، شادی، تجہیز و تکفین، اکل و شرب حتیٰ کہ سونے اور جاگنے کے معمولات میں بھی ہمیں کانٹ چھانٹ کرنا ہوگی۔کیاخیال ہےکہ ہر آدمی اپنی زندگی کاتقریباً تیسرا حصہ سو کر گزار دیتا ہے، اگر وہ سونا چھوڑ دے تو انسانی زندگی کا یہ قیمتی وقت کسی ہنر کمانے میں صرف ہوسکتاہے۔چنانچہ ملکی معیشت کو چار چاند ہی تو لگ جائیں گے۔ اسی طرح سوچتے جائیے، سوچتے جائیے او رمنکرین حدیث کی ان دماغی کاوشوں اور مضحکہ خیز ہمدردیوں پر سردھنیے، کہ ع

ہمارےبھی ہیں مہرباں کیسےکیسے


دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان عقل دشمنوں کو عقل عطافرمائے۔ آمین!


حوالہ جات
1. الصٰفت: 100
2. ایضاً : 101
3. ایضاً
4. ایضاً:37
5. ایضاً