2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اقبال منزل، حبیب کالونی شیخوپورہ سے جیلانی صاحب لکھتے ہیں:
چند روز قبل یوم شہادت علیؓ کے موقع پر پاکستان ٹی وی پر دو ہاشمی اور شیعہ حضرات نے درج ذیل حدیث کے حوالہ سےبات چیت کی:
''أنا مدینة العلم و علي و بابھا''
''میں علم کا شہر ہوں اور علیٰؓ اس کا دروازہ''

ہمارے ہاں شیخوپورہ میں ایک بریلوی مولوی صاحب بے بھی جمعہ کے روز (31 مئی 1986ء) کو دوران تقریر اسی حدیث کے حوالہ سے دیر تک فضیلت علیؓ بیان کی او رکہا کہ ''علم کا شہر'' والی یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے۔کیا واقعی یہ حدیث صحیح بخاری یا صحاح ستہ کی دیگر کتب میں موجود ہے؟ سنداً اس کی حیثیت کیاہے؟ براہ کرام مفصل روشنی ڈالئے۔ جزاکم اللہ''

الجواب بعون اللہ الوھاب:
''أقول و باللہ التوفیق''
دین اسلام کے دشمنوں او رنادان اہل اسلام نے مختلف طریقوں سے دین کو نقصان پہنچایا۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک طریقہ اور فتنہ وضع حدیث کا تھا۔ ان لوگوں نے خود ساختہ احادیث آنحضرتﷺ کی طرف نسبت کرکے ذخیرہ حدیث کو غیر معتبر بنانے اور ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اس لیے اس نے اس امت میں علماف و محدثین کی ایک بہت بڑی جماعت پیدا فرمائی، جنہوں نے دفاع عن الحدیث کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے صحیح احادیث اور موضوع احادیث کو علیحدہ علیحدہ کردیا اور احادیث وضع کرنے والوں اور ان کی وضع کردہ احادیث کی حقیقت بیان کرکے ان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی۔ چنانچہ کتب دینیہ میں مستقلاً اس موضوع پر لکھی گئی کتب کی ایک معقول تعداد شامل ہے۔

احادیث وضع کرنے والوں کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر شخص کی اس مذموم عمل سے غرض بھی مختلف ہوتی ہے، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔اگر ضرورت محسوس کی گئی تو کسی آئندہ نشست میں اس موضوع پر مفصل گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ! مختصراً یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ حدیث وضع کرنے والوں نے اپنے اپنے قبیلوں ، خاندانوں ، شخصیتوں ، اپنے محبوب و پسندیدہ شہروں ، علاقوں، ملکوں، پسندیدہ اورمرغوب غذاؤں اور مشروبات و فواکہ کے فضائل پر مشتمل احادیث وضع کرکے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیں اور اس طرح ''من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار'' کی وعید کے مستحق ہوئے۔ اسی طرح ان لوگوں کو جن شخصیات سے عقیدت و محبت ہوتی، ان کے فضائل و مناقب میں احادیث وضع کردیتے او رجن لوگوں سے عقیدت کم ہوتی یا دل میں ان کے خلاف بغض و حسد ہوتا، ان کے بارہ میں بھی ایسی احادیث وضع کردیتے، جن سے ان حضرات کی تنقیص مقصود ہوتی۔اسی ضمن میں حضرت علیؓ کے معتقدین نے ان کے فضاول و مناقب میں بے شمار احادیث وضع کیں۔ حالانکہ آپؓ کی فضیلت میں صحیح اور معتبر احادیث کی کافی تعداد کتب حدیث میںموجود ہے جن کے ہوتے احادیث گھڑنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔

امام ابن قیم لکھتے ہیں:
''وأما ما وضعته الزنا دقة في فضآ ئل علي فأکثر من أن یعد قال الحافظ أبویعلی الخلیلي في کتاب الإرشاد: وضعت الرافصة في فضآئل علي وأھل البیت نحو ثلٰث مأة ألف حدیث ولا تستبعد ھٰذا فإنك لو تبعت ما عندھم من ذٰلك لوجدت الأمر کذٰلك'' 1
کہ ''زنادقہ نے حضرت علیؓ کے فضائل میں جواحادیث وضع کیں وہ بے شمار ہیں حافظ ابویعلیٰ اپنی کتاب ''الارشاد'' میں لکھتے ہیں کہ رافضیوں نے حضرت علیؓ او راہل بیت کے فضائل میں تین لاکھ کے قریب احادیث وضع کیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جو کچھ ان کے پاس ہے، اگر اس کا تتبع کیا جائے، تو صورت حال اس سے مختلف نہیں ہوگی۔''

حضرت علیؓ کے حق میں جواحادیث وضع کی گئیں، ان میں سب سے زیادہ مشہور وہ روایت ہے جس میں آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''أنا مدینة العلم و علي بابھا'' کتابوں میں یہ روایت مختلف الاچظ سے نقل ہوئی ہے۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
1۔ ''أنا مدینة العلم و علي بابھا''
2۔ ''أنا دارالحکمة و علي بابھا'' 2
3۔ ''أنا مدینة الفقه و علي بابھا'' 3
4۔ ''أنا مدینة العلم و علي بابھا فمن أراد العلم فلیأت الباب'' 4
5۔ ''أنا مدینة العلم و علي بابھا فمن أراد المدینة فلیأتھا من بابھا'' 5
6۔ ''أنا مدینة العلم و علي بابھا فمن أراد الدار فلیأتھا من بابھا'' 6
7۔ ''أنا مدینة العلم و أبوبکر و عمر و عثمان سورھا و علي بابھا فمن أراد العلم فلیأت الباب'' 7

کتاب ستہ میں یہ روایت صرف جامع ترمذی میں بالفاظ ''أنا دارالحکمة وعلي بابھا'' وارد ہے۔ لیکن امام ترمذی اسے روایت کرنےکے بعد محاکمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''یہ حدیث غریب، منکر ہے....... اور ہم نہیں جانتے کہاس روایت کو شریک کے علاوے کسی او رنے ثقات سےبیان کیا ہو۔''

پس یہ روایت ناقابل احتجاج و استدلال ہے۔ جامع ترمذی کے علاوہ امام حاکم کی المستدرک میں بھی یہ روایت موجود ہے اور انہوں نے اس کی تصحیح کی ہے۔مگر اولاً تو یہ کتاب معتبر کتب حدیث میں شمار ہی نہیں ہوتی ۔ثانیاً محققین محدثین کے نزدیک امام حاکم کا کسی حدیث کو صحیح کہنا مقبول نہیں۔کیونکہ امام حاکم تصحیح کرنے میں متساہل مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ذہبی اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، اس حدیث کا صحیح ہونا تو دور کیبات ہے، یہ حدیث تو ہے ہی موضوع۔ چنانچہ اس کی سند میں ایک راوی (احمد بن عبداللہ بن یزید الحرافی) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
''العجب من الحاکم و جرأته و تصحیحه ھٰذا وأمثاله من البواطیل و أحمد ھٰذا دجال کذاب''8
''امام حاکم پرتعجب ہے کہ وہ کس جرأت کے ساتھ اس روایت او راس جیسی جھوٹی روایات کو صحیح کہہ دیتے ہیں، یہ احمد راوی تو دجال اور بڑا جھوٹا آدمی ہے۔''

اس حدیث پر امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب ''الموضوعات'' کے صفحہ 349 ۔354 پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا ہےکہ یہ حدیث حضرت علیؓ سے پانچ سندوں کے ساتھ، حضرت ابن عباسؓ سے دس سندوں کےساتھ اور حضرت جابرؓ سے دو سندوں کےساتھ روایت ہوئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے تمام سندیں ذکر کرکے ہرہر سند میں جو راوی ضعیف، جھوٹا اور وضع کرنے والا ہے، تفصیل سے ان پر کلام کیا ہے۔

اس حدیث کےمتعلق امام عقیلی فرماتے ہیں:
''لا یصح في ھٰذا المتن حدیث'' 9
کہ''اس مفہوم کی ایک بھی حدیث صحیح نہیں۔''

امام ابن عدی لکھتے ہیں:
''ھٰذا حدیث منکر موضوع'' 10
کہ ''یہ حدیث منکر اور من گھڑت ہے۔''

ابن عدی نے الکامل 3؍1247 پر بھی اس روایت کے راوی عثمان بن عبداللہ اموری پر کلام کی ہے۔

اسی طرح اسی عثمان پر ''لسان المیزان'' 4؍143 پر بھی جرح ہے۔

ان کے علاوہ اس حدیث کو مندرجہ ذیل محدثین و ائمہ کرام نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں موضوعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے:
ابن عراق الکتانی نے ''تنزیه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة'' میں 1؍377 پر۔

ابن الدیبع الشیبانی نے ''تمییز الطیب من الخبیث فیما یدور علیٰ ألسنة الناس من الحدیث'' کے صفحہ 330 پر۔

ملا علی قاری نے ''الموضوعات الکبیر'' کے صفحہ 40 پر۔

جلال الدین السیوطی نے ''الجامع الصغیر'' کی جلد 2 صفحہ 13 پر۔

یہ تو سند کے لحاظ سے اس حدیث کا حال ہے، اب ذرا معنیٰ پر غور کریں، تو معنوی لحاظ سے بھی یہ غلط ہے۔

اس کامعنیٰ یہ ہے کہ ''میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کادروازہ ہیں۔''

یعنی علم نبوی حاصل کرنے کا ذریعہ صر ف اور صرف حضرت علیؓ ہیں۔

حالانکہ یہ بات حقائق کے خلاف ہے۔ کیونکہ ذخیرہ حدیث میں بےشمار حدیثیں ایسی ہیں جو دیگر صحابہؓ سےمروی ہیں اور حضرت علیؓ سے ان کا ذکر تک تک ملتا۔ حضرت علیؓ کی زندگی ہی میں بعض معتقدین بھی اسی قسم کا اعتقاد رکھتے تھے جس کی آپؓ نے خود تردید فرمائی۔

اور فرمایا کہ ''ہمیں اللہ کے رسولؐ نے کوئی خصوصی ایسا علم نہیں دیا جو دوسروں کے پاس نہ ہو۔'' (ملاحظہ ہو، صحیح بخاری، صحیح مسلم و دیگر کتب حدیث)

اس تفصیل سےمعلوم ہواکہ یہ روایت ، روایتاً، درایتاً، عقلاً او رنقلاً کسی بھی لحاظ سے قابل التفات و قابل احتجاج نہیں۔لہٰذا اس قسم کی موضوع روایات بیان کرنے سے بچنا چاہیے کیونکہ احادیث میں جھوٹی اور موضوع روایات آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کرنے والے کے بارہ میں شدید وعید آئی ہے۔ ھٰذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب۔

حوالہ جات
1. المنار المنیف فی الصحیح والضعیف ص121
2. جامع ترمذی، مناقب علي، اللآلي  المصنوعة للسیوطي1؍329، الفوائد المجموعہ 348
3. اللالی المصنوعة 1؍329
4. اللالی المصنوعة1؍329۔ 330، الفوائد صفحہ 348
5. اللالی المصنوعة 1؍329
6. اللالی المصنوعة 1؍330
7. اللالی المصنوعة 1؍335
8. میزان الاعتدال
9. الضعفاء الکبیر 3؍150
10. الکامل1؍195