ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
1986
عبدالرحمن عاجز
نہ ساحل ہے نہ ساحل کا نشاں ہے
محبت ایک بحر بے کراں ہے

درخشاں جس سے تاریخ جہاں ہے
شہیدان وفا کی داستان ہے
  • اگست
1986
عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم میں سورة البقرة کی آیت 282 میں ایک مرد کےبجائے دو عورتوں کی شہادت کو قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی چونکہ عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔لہٰذا پرویز صاحب طاہرہ بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:''ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی شہادت عورتوں کےناقابل اعتماد یا ناقص العقل ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ (ڈاکٹر ہارڈنگ کی تحقیق کے مطابق) اگر ایک دائرے (یعنی جزئیات کی کماحقہ
  • اگست
1986
رمضان سلفی
ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں چھپنے والے درود ''صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم'' پر رسالہ ''طلوع اسلام''کو بڑی دیرسے اس لیےاعتراض ہے کہ اس دورد میں ایک نحوی قاعدے کی مخالفت کی جارہی ہے۔کیونکہ اس میں حرف جر ''علیٰ'' کو دہرائے بغیر اسم ظاہرکاضمیر مجرور پر عطف ڈالنافحش غلطی ہے۔ ''اہلحدیث'' نے لکھا بھی کہ دراصل بات آپ نہیں سمجھے، اس لیے جس درود کو آپ نےغلط بتایاہےوہ درست ہے۔لیکن طلوع اسلام نے بعنوان
  • اگست
1986
عبدالسلام بھٹوی
بات کو مکمل کرنے کے لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حد باطل کرنے کے لیے باربار جس روایت کو دلیل بنایاگیا ہے اس کی حیثیت واضح کردوں او ریہ بھی واضح کردوں کہ اگر اسے صحیح مانا جائےتو مکمل روایت کیا ہے؟ جسے اگر مدنظر رکھاجاتا تو کسی کو تعطیل حدود (حدود ختم کرنے) کی جرأت ہی نہ ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ شبہ سے حد ہٹا دینے کی جتنی روایات ہیں، ان میں کوئی بھی رسول اللہ ﷺ تک ایسی سند سے نہیں پہنچتی
  • اگست
1986
عبدالرحمن عاجز
مثال مردہ پہلو میں پڑا ہے ایک مدت سے
دل خوابیدہ، اٹھ بیدار ہوجا خواب غفلت سے

مال زندگی دیکھا ہے جس کی چشم عبرت نے
وہ کب مانوس ہوتاہے جہاں کے عیش و عشرت سے
  • اگست
1986
عبدالاعلیٰ بن حماد
انکار حدیث کا پس منظر:انسانی فطرت دو حصوں میںمنقسم ہوئی۔ فطرت سلیمہ اور غیر سلیمہ۔ اوّل الذکر اپنے خالق کے احکامات کو زاویہ ایمان سے دیکھتی او رحلقہ اسلام میں داخل ہوتے وقت کئےگئے عہد و پیمان کو ایفاء کرنےکی کوشش کرتی ہے جبکہ دوسری قسم کی فطرت اپنے ناجائز مقاصد اور خبث باطن کے معیار سے ان احکامات الٰہیہ کو پرکھتی اور غلط جذبوں کی تسکین کی خاطر خاک چھانتی ہے۔
  • اگست
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
اقبال منزل، حبیب کالونی شیخوپورہ سے جیلانی صاحب لکھتے ہیں:چند روز قبل یوم شہادت علیؓ کے موقع پر پاکستان ٹی وی پر دو ہاشمی اور شیعہ حضرات نے درج ذیل حدیث کے حوالہ سےبات چیت کی:''انا مدینة العلم و علی و بابھا''''میں علم کا شہر ہوں اور علیٰؓ اس کا دروازہ''ہمارے ہاں شیخوپورہ میں ایک بریلوی مولوی صاحب بے بھی جمعہ کے روز (31 مئی 1986ء) کو دوران تقریر اسی حدیث کے حوالہ سے دیر تک فضیلت علیؓ بیان کی او رکہا
  • اگست
1986
اکرام اللہ ساجد
13 جولائی 1985ء کو سینیٹ میں ''نفاذ شریعت بل'' پیش ہوا۔ اس وقت سے یہ بل مختلف کمیٹیوں کے سپرد ہوتا ہوا، اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس پہنچا، جہاں سے اس کی رپورٹ آچکی ہے۔ اسی دوران یہ بل عوام،انجمنون اور دینی جماعتوں کے غور کے لیےبھی نشر کیا گیا۔چنانچہ تقریروں، کانفرنسوں اور کنونشنوں میں زیربحث آنے کے بعد اس پر اظہار خیال کے علاوہ ،اخبارات و جرائد میں بھی اس کے حق یا مخالفت میں تبصرے شائع