قرآنِ کریم وہ ابدی ہدایت ہے جو انسان کو بامقصد زندگی گزارنے کا شعور اور زندگی کے تمام شعبوں کے لئے مکمل رہنمائی دیتی ہے۔ اس کا بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پوری نوعِ انسانی کے لئے مکمل اور آخری ضابطۂ حیات بنا کر تا قیامت اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اُٹھایا ہے۔ اس سے قبل آسمانی ہدایات جس طرح زمان و مکان کی قیود سے محدود ہوتی تھیں اسی طرح ان کی حفاظت بھی مخصوص اشخاص کے سپرد ہوتی تھی جیسا کہ ''بما استحفظوا من کتاب اللہ'' سے واضح ہے۔ لیکن یہ ''مخصوص اشخاص''، اس ذمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ نہ ہو سکے بلکہ انہوں نے خواہشاتِ نفسانی کو آسمانی ہدایات میں داخل کر کے ان کو بھی احکامِ خداوندی کا نام دے دیا۔ قرآن کریم نے ان کے اِس کردار ناہنجار کو ان الفاظ میں بیان کیا۔ ''يحرفون الكلم عن مواضعه'' ''يكتبون الكتب بأيديهم ثم يقولون هذا من عند الله''

قرآن مجید چونکہ ''هدى للعٰلمين'' ہے بنا بریں زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہو کر اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا گیا کہ جس میں انسانی دخل اندازی کا بالکل کوئی حصہ نہیں۔ چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے۔

''إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحٰفظون'' یعنی ہم نے یہ قرآن اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔'' دوسرے مقام پر فرمایا:

لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه  تنزيل من حکيم حميدٍ

چونکہ قرآن و انا و بینا کی طرف سے نازل شدہ ہے اس لئے اس میں جھوٹ اور خواہشاتِ نفسانیہ کسی طرف سے داخل نہیں ہو سکتی۔

قرآن مجید صرف خود ہی محفوظ نہیں بلکہ سابقہ سچی تعلیمات کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے جیسا کہ اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے۔

''وأنزلنا إليك الكتاب بالحق مصدقا لما بين يديه من الكتاب ومهيمنًا عليه''

ہم نے آپ کی طرف ایسی برحق کتاب اتاری ہے جو سابقہ کتابوں کے لئے تصدیق کنندہ اور ''مہیمن'' کی حیثیت رکھتی ہے۔

عربی زبان میں ''مہیمن'' کا لفظ محافظ و نگران اور امین و شاہد کے معنوں میں مستعمل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نہ صرف خود ہی انسانی دخل اندازی سے محفوظ ہے بلکہ سابقہ ضروری تعلیمات بھی اس نے اپنے اندر محفوظ کر لی ہیں اور نگران کی حیثیت سے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ ان 'احبار و رہبان'' نے کہاں فکر و عمل کے مسائل میں تحریف سے کام لیا۔ بھلا جو کتاب خود تحریف و تبدیل سے محفوظ نہ ہو وہ دوسری کتابوں کی تعلیمات کی حفاظت کا دعویٰ کیونکر کر سکتی ہے؟

قرآن کریم کی اس عظمت و حفاظت کا اعتراف غیروں کو بھی ہے چنانچہ ''سرولیم میور'' اپنی تصنیف ''لائف آف محمد'' میں لکھتا ہے۔

''دنیا میں آسمان کے نیچے قرآن کے علاوہ اور کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں جس کا متن ابتدا سے لے کے اس وقت تک تحریف سے پاک ہو۔''

اس کے علاوہ ''دان کریم'' نامی ایک مشہور جرمن مستشرق کہتا ہے۔

''ہم قرآن کو بالکل اسی طرح محمد کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا مجموعہ یقین کرتے ہیں جس طرح مسلمان اسے خدا کا کلام یعنی اس کے غیر محرف ہونے کا یقین کامل ہے۔''

قرآنی حفاظت کے ان دلائل و اعترافات کے باوجود ہمارے معاشرے کا ایک گروہ اس بات پر تلا ہوا ہے کہ موجودہ قرآن وہ قرآن نہیں جو محسنِ انسانیت ﷺ پر نازل ہوا تھا بلکہ اس میں بہت کانٹ چھانٹ اور تبدیلی کی گئی ہے اور بیشتر وہ حصہ جس میں اہل بیت کے مناقب اور حضرت علیؓ کے ''خلیفہ بلا فضل'' ہونے کا ذکر تھا اس کو دانستہ حذف کر دیا گیا ہے۔ قرآن کے متعلق ایسے پروپیگنڈے ان کی معتمد کتابوں میں موجود ہیں بلکہ اور انہوں نے اپنی کتابوں میں ''قرآن میں کمی و بیشی کے متعلق'' باب باندھے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

''باب فیه نکت ونتف من التنزیل في الولایة'' اصول کافی ص ۲۶۱

یعنی یہ باب اس بیان میں ہے کہ (حضرت علی کی) امامت کی آیات قرآن سے نکال دی گئی ہیں۔'' اس کے بعد متعدد روایات سے ثابت کیا گیا ہے کہ فلاں فلاں آیات قرآن سے خارج کر دی گئیں۔

وزادوا فیه ما ظھر تناکرہ وتنافرہ احتجاج (ص ۱۳۵)

یعنی انہوں (یعنی صحابہ کرام) نے قرآن میں ایسی آیتوں کا اضافہ کر دیا جو قابلِ نفرت اور خلافِ فصاحت ہیں۔

''أما اعتقاد مشائخنا في ذلك في الظاھر من ثقة الإسلام من یعقوب الکلینی أنه یعتقد التحریف والنقصان'' تفسیر صافی۔

یعنی تحریفِ قرآن کے بارے میں ہمارے مشائخ کا وہی عقیدہ ہے جو امام کلینی کے کلام سے ظاہر ہے وہ اس قرآن میں تحریف اور کمی ہو جانے کے قائل تھے۔

إن القراٰن الذي بین أظھرنا لیس بتمامه تفسیر صافی۔

''یعنی اس بات میں جھوٹ کی ذرا بھر بھی ملاوٹ نہیں کہ موجود قرآن پورا نہیں ہے۔''

''دعویٰ ایں کہ قرآن ہمیں است کہ در مصاحف مشہورہ است خالی از اشکال نیست'' صافی ترجمہ کافی۔

یعنی یہ دعویٰ کہ قرآن اسی قدر ہے جو مصاحف مشہورہ میں موجود ہے ''محلِ نظر'' ہے۔ طوالت کے پیشِ نظر ہم انہیں حوالجات پر اکتفا کرتے ہیں وگرنہ بقول سعدی مجالِ سخن تنگ نیست، اگر ان تمام ''افکار پریشاں' کو تسلیم کر لیا جائے تو کائنات کی عمارت ہی دھڑام سے نیچے آگرتی ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اتنی قدرت بھی نہ تھی کہ اپنی کتاب کی حفاظت کر سکتا اندریں حالات نظام کائنات کس طرح سنبھال سکتا ہے؟ بھلا وہ شمع کس طرح بجھ سکتی ہے جس کو خدا نے خود فروزاں کیا ہو اور اس کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لی ہو۔ قرآنی تحریف کا عقیدہ رکھنا صرف حماقت ہی نہیں بلکہ شقاوت بھی ہے۔ لفظ ''قرآن'' ہی اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ کتاب بلا کم و کاست ہم تک اس طرح پہنچی ہے جس طرح حضور علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی کیونکہ قرآن کہتے ہیں جس کی کثرت سے تلاوت کی جائے۔ دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کی کثرت سے تلاوت کی جاتی ہے۔ بھلا جس کتاب کی اتنی تلاوت کی جاتی ہو کہ ''قرآن'' اس کا نام بن جائے یعنی اس کا یہ وصف ہی اس کا عَلَم قرار پائے اس میں تحریف کس طرح سے داخل ہو گی۔

مجموعۂ احادیث میں بے شمار ایسے دلائل ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے عہد زریں میں ہی بے شمار صحابۂ کرام نے قرآن مجید کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا تھا۔ اس مجلس میں ہم چاہتے ہیں کہ ان کا مختصر تعارف پیش کر دیا جائے لیکن اس سے قبل ایک مشہور حدیث جو بعض دفعہ غلط فہمی کا باعث بنتی ہے پیش کر کے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی توجیہ عرض کر دی جائے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی میں کن کن لوگوں نے قرآن مقدس کو ''جمع'' کیا تھا؟ اور وہ تمام کے تمام انصار سے متعلق تھے۔ یعنی حضرت ابن بی کعبؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو زید رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ حضرت انسؓ کے الفاظ یہ ہیں۔ ''أربعة کُلّھم من الأنصار أبي بن کعب و معاذ بن جبل و زید بن ثابت وأبو زید۔''

یعنی چار کے علاوہ اور کوئی بھی ''جامع القرآن'' نہ تھا ابو الدرداء، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید رضوان اللہ اجمعین۔ اس مقام پر ایک اشکال ہے کہ حضرت انسؓ چار اشخاص کی تعیین ''کلمہ حصر'' سے کرتے ہیں یعنی صرف یہی چار حافظ تھے؟ یہ بات خلاف عقل و نقل ہے۔

بنا بریں محدثین کرام نے حدیثِ انس کے کئی ایک جواب دیئے ہیں۔ مثلاً حضرت مارزی فرماتے ہیں کہ حضرت انسؓ کا یہ قول یعنی ''تعیین بکلمۂ حصر'' قابلِ حجت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انہوں نے تو اپنے علم کا اظہار کیا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ صرف چار صحابہ نے قرآن مجید جمع کیا ہواور باقی حضرات اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم رہے ہوں حالانکہ دور دراز سے لوگ قرآنی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ اگر حصر تسلیم کر لیں تو یہ بات کہاں تک درست ہو گی کہ قرآن مجید ہمارے پاس تو اتراً پہنچا ہے۔''

ہم بھی الاتقان للسیوطی اور البرہان للزرکشی سے چند توجیہات ہدیۂ قارئین کرتے ہیں۔

1. متن میں دو وجہ سے اضطراب ہے۔ (۱) عیین اشخاص۔ حضرت ثابت کی روایت میں حضرت ابو الدرداء کا ذکر ہے جبکہ روایت قتادہ میں ان کی بجائے حضرت ابی بن کعب کا تذکرہ ہے۔

2. تعداد اشخاص۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ''حافظِ قرآن'' صرف چار تھے حالانکہ دوسری روایات میں کمی بیشی کا ذکر ہے۔ علاوہ ازیں حدیث انس کی بعض روایات میں ''بیان حصر'' نہیں جیسا کہ قتادہ کی روایت میں ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ''کلمہ حصر'' سہو راوی یا ''نسخِ کاتب'' ہے۔

3. یہ مرفع حدیث نہیں بلکہ حضرت انس کا بیان ہے جو انہوں نے اپنے علم کے مطابق کیا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ اور حافظِ قرآن نہیں تھے۔ عین ممکن ہے کہ حضرت انس کو صرف انہی حضرات کا علم ہو۔

4. ان حضرات نے جن کا تذکرہ حدیث انس میں ہے منسوخ اور غیر منسوخ تمام قرآنی آیات کو لوحِ قلب پر رقم کیا تھا چونکہ لفظاً و معناً منسوخ آیات بھی کسی وقت قرآن کا حصہ تھیں بنا بریں ''جمعو القرآن'' کی نسبت خصوصیت کے ساتھ ان کی طرف کی گئی جب کہ دیگر صحابہ کرامؓ نے حکماً و تلاوتاً منسوخ آیات کو ''ترک متروک'' کر دیا تھا۔

5. ان سے مراد وہ حضرات ہیں جنہوں نے ''أنزل القراٰن علی سبعة أحرف'' کے مصداق تمام وجوہ قرات کے ساتھ قرآن محفوظ کیا تھا ہو سکتا ہے کہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ نے ''بالاستیعاب سبعۃ احرف'' کو یاد نہ کیا ہو۔

6. صرف انہوں نے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے براہِ راست بلا واسطہ قرآن یاد کیا تھا عین ممکن ہے کہ باقی حضرات نے آپ کی وفات کے بعد بالواسطہ قرآن یاد کیا ہو اس صورت میں ''جمعوا القران من في رسول اللہ ﷺ'' محذوف ماننا پڑے گا۔

7. یہ حضرات قرآن یاد کرنے کے بعد تعلیم و تعلّم میں مشغول ہو گئے جس کی وجہ سے ان کا نام مشہور ہو گیا اور باقی صحابہ کے حالات مخفی رہے اور بقاعدہ ''المشہور المذکور'' کے تحت ان کا ذکر احادیث میں آگیا یا انہوں نے خود اظہار کیا ہو گا کہ ہم حافظِ قرآن ہیں جب کہ دوسروں نے اپنے ''حفظِ قرآن'' کے متعلق کسی کو خبر نہ دی بنا بریں ان کا تذکرہ نہ ہوا۔

8. حدیث میں ''جمعوا'' سے مراد حفظ نہیں بلکہ ''اطاعت شعاری'' ہے جیسا کہ حضرت ابو الدرداء کے پاس ایک آدمی آیا اور اپنے بیٹے کے متعلق خبر دی کہ اس نے قرآن جمع کر لیا ہے۔ حضرت ابو الدرداء نے اس کے لئے عا کی اور فرمایا کہ انما جمع القراٰن من لہ سمع وطاعۃ یعنی جمع قرآن عبارت ہے فرمانبرداری اور اطاعت شعاری سے۔''

لیکن یہ تمام احتمالات میں ہمارے نزدیک یہ ''وجہ وجیہہ'' ہے جو امام المحدثین حافظ ابنِ حجرؒ نے بیان کی ہے۔ یعنی حضرت انس نے یہ بات اوس اور خزرج کے درمیان مفاخرہ کے وقت کہی تھی جس کی تفصیل یہ ہے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ اوس اور خزرج کے مابین ایک دفعہ فخر و مباہات کا ذکر ہوا تو قبیلہ اوس کے اشخاص کہنے لگے کہ ہم میں چار عظیم القدر اور جلیل المرتبت ہستیاں ہیں ایک حضرت سعد بن معاذ جن کی موت کے وقت عرش بھی کانپ اُٹھا تھا۔ دوسرے حضرت خزیمہ بن ابی ثابت جن کی گواہی کو دو آدمیوں کے برابر ٹھہرایا گیا تھا۔ یتسرے حنظلہ بن ابی عامر ہیں جن کو فرشتوں نے غسل دیا تھا۔ چوتھے حضرت عاصم بن ثابت جن کی نعش مبارک کی بھڑوں نے حفاظت کی تھی اس پر خزرج قبیلہ والے بولے کہ منا أربعة جمعوا القران لم یجمعه غیرھم یعنی ہم میں چار حافظِ قرآن ہیں۔ اس کے بعد ان کے نام ذکر کیے۔ ابن جریر بحوالہ اتقان ص ۷۱،ج۱ عین ممکن ہے کہ قبیلہ انصار میں صرف اس وقت چار حافظ ہوں۔ واللہ اعلم بحقیقة الحال۔

صحابہ میں کثرتِ حفاظ کے ثبوت کے لئے کئی دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ کا جماعت کرانا اس بات پر دلالت کناں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا جماعت کرانا اس بات پر دلالت کناں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ حافظ قرآن تھے کیونکہ حضور علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ یؤم القوم أقرأکم لکتاب اللہ یعنی جماعت کرانے کے لئے وہی لائق ہے جو کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو اس کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کو خود آنحضرت ﷺ نے مقرر فرمایا تھا۔

نیز جنگِ یمامہ میں ستر کے قریب ایسے صحابہ شہید ہوئے تھے جو تمام کے تمام ''قراء'' تھے۔

اسی طرح نئر معونہ میں ستّر ایسے صحابہ نے جام شہادت نوش کیا تھا جن کو ''قراء'' کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ شہداء یمامہ کی وجہ سے حضرت عمر فاروق نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر زور دیا تھا کہ قرآن مقدس کو ایک مقام پر جمع کر دیا جائے مبادا شہداء کی وجہ سے قرآن ضائع ہو جائے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام میں حفاظ کرام کی کثرت تھی۔ ہماری خواہش ہے کہ ان ''نفوس قدسیہ'' کے مختصر حالات صفحہ قرطاس پر رقم کر دیں جنہوں نے قرآن جیسی عظیم نعمت کو اپنے سینوں میں سمیٹ لیا تھا تاکہ کسی کو یہ جرأت نہ ہو کہ قرآن نعوذ باللہ محرف ہے یا اس سے بعض اجزا عمداً حذف کر دیئے گئے ہیں۔ وبا اللہ التوفیق۔

1. حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ:

نسب: خلیفة الرسول أبو بکر صدیق عبد اللہ بن عثمان ابو قحافة بن عامر بن کعب القرشي التمیمی۔

آپ عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد مکۃ المکرمہ میں پیدا ہوئے جب حضور ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر ہی آپ پر ایمان لائے۔ آپ کو حضور سے حد درجہ محبت تھی اور حضور ﷺ کو بھی آپ سے کوئی کم الفت نہ تھی حتیٰ کہ حضور نے فرمایا لو کنت متخذا خلیلا لاتخذت أبا بکر خلیلا۔ یعنی اگر دنیا میں کوئی خلیل بنایا جا سکتا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ کے سوا اور کوئی ہستی اس خلت کے لائق نہ ہوتی۔ ''خلّت'' محبت کے درجات میں ایک ایسا درجہ ہے کہ یہاں پہنچ کر دل ما سوا ''خلیل'' کے اوروں سے خالی ہو جاتا ہے کیونکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ''لیکن میرا خلیل اللہ تعالیٰ ہے۔'' آپ کے مناقب مشہور و معروف ہیں ان کی وضاحت کی حاجت نہیں۔ آپ ۱۳ ؁ھمیں تریسٹھ برس کی عمر میں اللہ کے ہاں پہنچ گئے۔ رضی اللہ عنہ۔ الاصابہ ص ۳۳۳، ج۲۔ اسد الغابہ ص ۲۰۵،ج۲۔

آپ نے مکہ مکرمہ میں اپنے گھر مسجد بنائی ہوئی تھی جس میں آپ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ إن أبا بکر کان یحفظ القران في حیاة رسول اللہ ﷺ یعنی آپ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں قرآن مجید حفظ کیا کرتے تھے اور ابو عبید نے اپنی کتاب القرآت القراء النبی ﷺ میں آپ کو ''حافظِ قرآن'' لکھا ہے۔ الاتقان ص ۷۴،ج۱

ابو الحسن علی اشعری نے بھی آپ کو حافظِ قرآن ثابت کیا ہے۔ طبقات القراء، جزری ص ۴۳۱، ج۱ ''آپ حافظِ قرآن تھے'' تہذیب الاسماء واللغات للنووی ص ۱۹۱، ج۱۔

2. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ:

نسب: امیر المومنین ابو حفص عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن ریاح القرشی العدوی۔ آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے آپ دراز قد، سڈول جسم اور سفید رنگ کے خوبصورت نوجوان تھے۔ حضور ﷺ کی دُعا سے مسلمان ہوئے۔ آپ اسلام کے دشمنوں پر بہت سخت تھے۔ قرآن مجید میں تقریباً اٹھارہ آیتیں آپ کی موافقت میں اتریں۔ آپ حضرت ابو بکرؓ کے بعد خلیفہ بنے۔ آپ کا دروِ خلافت دنیا کا بہترین دور تھا۔ آپ کے زمانے میں اسلام کو ہر طرح سے تقویت ملی۔ آپ آخر ذی الحجہ ۲۳؁ھ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے کہ بد بخت ابو لولو مجوسی نے آپ کو خنجر سے زخمی کر دیا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ الاصابہ ص ۵۱۱، ج۲، اسد الغابہ، ص ۵۲، ج۴، استیعاب مع الاصابہ ص ۴۵، ج۲

آپ کے متعلق سیوطی نے الاتقان ص ۴۷، ج۱ میں ابو عبید کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آپ حافظِ قرآن تھے۔ طبقات القراء، جزری ص ۵۹۱،ج۱ میں ہے کہ آپ حافظِ قرآن تھے۔

3. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ:

آپ عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ بہت بڑے مالدار تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے اور اپنا اکثر مال خدمتِ دین کے لئے وقت کر دیا۔ آپ کے گھر میں یکے بعد دیگرے رسولِ خدا ﷺ کی دو بیٹیاں آئیں۔ اس وجہ سے آپ کو ذو النورین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے بعد شوریٰ کے مشورہ سے امیر المومنین منتخب ہوئے۔ آپ کے زمانے میں بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن بعد میں اختلافات کی وجہ سے فتوحات رک گئیں اور ۳۵ھ میں بلوائیوں کی بد بختی برآئی انہوں نے آپ کو شہید کر دیا۔ رضی اللہ عنہ۔ الاصابہ ص ۴۵۵ ج۳ اسد الغابہ ص ۳۷۶، ج۳۔

قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کا سہرا آپ ہی کے سر ہے (یعنی ایک قرأت میں اختلاف کی بناء پر) ابو عبید نے آپ کو اپنی کتاب القرآت القراء النبی ﷺ میں حفاظ میں سے شمار کیا ہے۔ الاتقان ص ۷۴، ج۱۔ ذہبی نے آپ کو حافظ لکھا ہے۔ معرفۃ القراء الکبار ص ۲۹، ج۔ جزری نے یہ الفاظ تحریر کیے ہیں۔ حفظ علی شہد رسول اللہ ﷺ وعرض علیہ انتہٰی۔ یعنی آپ نے قرآن مجید از بر کر کے حضور ﷺ کو سنایا۔ طبقات القراء، جزری ص ۵۰۷، ج۱۔ امام ابن جوزیؒ نے بھی آپ کو حفاظ میں سے شمار کیا ہے۔ تلقی فہوم اہل الاثر ص ۲۲۵۔

4. حضرت علی رضی اللہ عنہ:

نسب: امیر المومنین ابو الحسن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی ہاشمی معرفۃ القراء الکبار ذہبی ص ۳۰، ج۱۔

آپ بعثت سے دس سال پہلے پیدا ہوئے اور تقریباً دس سال کی عمر میں اسلام لا کر بچوں میں سبقت لے گئے۔ یعنی بچوں میں سب سے پہلے آپ ہی مشرف باسلام ہوئے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ آپ کے بارے میں حضور ﷺ نے جنگِ تبوک کے موقع پر فرمایا تھا (جب آپ نے حضرت علی کو مدینہ چھوڑنا چاہا اور حضرت علی نے یہ کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں) الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ ولکن لا نبی بعدی۔ یعنی اے علی! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تجھے وہ مقام ملے جو موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے پر حضرت ہارون کو ملا تھا۔ آپ جنگ تبوک کے علاوہ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔ خیبر کے فاتح بھی آپ ہی ہیں۔ حضرت عثمانؓ ی شہادت کے بعد آپ نے بیعت خلافت لی۔ آپ کے زمانے میں فتوحات نہ ہو سکیں کیونکہ آپ کی مدتِ خلافت آپس میں جنگ و جدال میں ہی کٹ گئی۔ آپ رمضان کی ۱۷ کو صبح کی نماز کے لئے نکلے ہی تھے کہ عبد الرحمٰن ابنِ ملجم نے آپ کو زخمی کر دیا جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے۔ یہ واقعۂ دل سوز ۴۰ھ میں پیش آیا۔ الاصابہ ص ۵۰۱، ج۲۔

الاتقان والے نے ابو عبید کے حوالے سے آپ کو حافظ شمار کیا ہے۔ الاتقان ص ۷۴،ج۱

ذہبی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ عن عاصم بن أبي النجود عن أبي عبد الرحمٰن الأسلمي قال ما رأيت أحد اکان أقرء من علي رضي اللہ عنه یعنی حضرت علی حافظ قرآن تھے اور بکثرت تلاوت کیا کرتے تھے۔ معرفۃ القراء الکبار المذہبی ص ۳۲،ج۱۔

امام جزریؒ نے بھی آپ کو حفاظ سے شمار کیا ہے۔ طبقات القراء، جزری ص ۴۳۲، ج۱

اب تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت علی حافظ تھے۔ اب اتنے دلائل و شواہد کے ہوتے ہوئے آپ کی زندگی میں کس کو جرأت ہو سکتی ہے کہ قرآن میں رد و بدل کی جرأت کرے۔ بیشک یہ بات کہ ''کلام اللہ محرف ہے'' بعید از عقل ہی نہیں بلکہ حماقت کے ساتھ باعثِ شقاوت بھی ہے کیونکہ صحابہ کرام کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ آپ خائن تھے تمام محدثین کے اس قول کی تردید کے مترادف ہے۔ الصحابة کلھم عدول بقول شما قرآن محرف ہے۔ یہ اس طرح بھی ناممکن ہے کہ حضرت علیؓ کی زندگی میں آپ کے سامنے یہ کام ہوا اور آپ خاموش بیٹھے ہیں یہ بات تو تب ہی ہو سکتی ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ معاذ اللہ بزدل تھے یا آپ کو قرآن سے کوئی سروکار نہ تھا۔ پہلی بات، تو اس کی گواہی کے لئے تاریخِ عالم بھری پڑی ہے جو کہ ببانگ دُبل اعلان کر رہی ہے آپ اسد اللہ تھے۔ دوسری بات کہنے سے پہلے اپنے ایمان کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ اب بظاہر تو کوئی بات نہی آتی جس سے ہم یہ تسلیم کر لیں کہ آپ کی زندگی میں قرآن کی تحریف ممکن ہو۔ اب جب ان کو کوئی راہ نہیں ملتی تو یہ آڑ لیتے ہیں کہ حضرت علی نے تقیہ کیا لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ تقیہ کس چیز کا نام ہے تو کوئی بھی مسلمان حضرت علی کے بارے میں یہ کلمات نہیں کہہ سکتا کیونکہ تقیہ عبارت ہے منافقت سے۔ دل میں اور زبان سے کچھ اور ظاہر کرنے کا نام ''تقیہ'' ہے۔ ایسے دو رنگے شخص کی سزا جہنم کا سب سے آخری حصہ قرار پایا ہے۔ اب حضرت علیؓ کی محبت کا دم بھرنے والو کیا حضرت علی کو اب بھی تقیہ کرنے والا کہتے ہو۔ اگر اب بھی تمہاری یہی حالت ہے تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے ؎ دلوں میں کفر رکھتے ہیں بظاہر دوستانہ ہے۔

بفرض محال آپ کی یہ بات مان لی جائے کہ حضرت علی نے اس طرح خاموشی اختیار کی کہ کہیں مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف نہ ہو جائے یہ ''عذرِ لنگ'' بھی ناقابلِ قبول ہے کیونکہ ہر طرح کے جھگڑے حضرت علیؓ کی خلافت میں ہوئے۔ قرآن کے بارے میں ہی امت کی تفریق ہونا تھی جب کہ اس کی تصحیح تو بہت آسان تھی۔ کیونکہ جس طرح حضرت عثمان نے تمام قرأتوں کو ختم کر کے تمام امت کو ایک قرأت میں قرآنِ مجید پڑھنے کا حکم دیا تھا آپ بھی قرآن کو درست کر کے بزور طاقت حکم دے سکتے تھے کیونکہ انہوں نے حضور کے اس فرمان کو تو سنا ہی ہو گا بلغوا عنی ولو اٰیَۃ اس کے باوجود حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کچھ ہے تو آپ نے فرمایا کہ میرے ہاں دیّات کے احکام کے علاوہ کچھ نہیں ہے یعنی کوئی بات جو کہ باقی صحابہ کو یاد نہ ہو میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے اب جبکہ حضرت علیؓ نے خود فرما دیا کہ میرے ہاں کوئی زائد بات نہیں ہے تو وہ دس پارے جو کہ حضرت علی (بقولِ شما) کے بارے میں ہی اترے تھے وہ کہاں غائب ہو گئے۔ کیا حضرت علی نے جھوٹ بولا؟ یا واقعی ان دس پاروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے جن کا آپ کو علم ہے۔ اور حضرت علی اس سے بہ بہرہ تھے۔ معلوم ہوتا ہے جب یہ بات کہی جاتی ہے تو عقل ان سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے کیونکہ جھوٹ اور حضرت علیؓ کا اکٹھا ہونا بال عنقا ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے آپ کو علم ہو اور حضرت علی لا علم ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی کسی سے بغض رکھتا ہے تو ایسے ہی بے تُکی باتیں اپنوں کے متعلق بھی کہہ جاتا ہے کیونکہ باقی صحابہ سے عناد ہے تو درمیان میں حضرت کو بھی جھوٹ اور منافقت جیسی قبیح چیزوں سے ملوث کر جاتے ہیں ؎ وحشت میں ہر جہاں الٹا نظر آتا ہے۔

ایک واقعہ یاد آیا جو کہ سید بدیع الدین شاہ صاحب کو مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ سید صاحب فرماتے ہیں میں نے مکہ مکرمہ میں محرم کی بدعات پر تقریر اور ان کا رد کیا۔ تقریر کے بعد میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ واقعی یہ لوگ بدعت کرتے ہیں لیکن ایک بات پوچھوں؟ سید صاحب نے کہا پوچھو۔ کہنے لگا لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے وہ دس پارے جن میں مناقب اہل بیت تھے قرآن مجید سے حذف کر دیئے تھے۔ سید صاحب نے جواباً فرمایا کہ حضرت علی قرآن کے حافظ نہ تھے اس لئے انہوں نے یہ کام کر لیا۔ اگر آپ حافظ ہوتے تو وہ یہ کام نہ کر سکتے۔ وہ آدمی کہنے لگا یہ کیسے ممکن ہے تو سید صاحب نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کے حافظ بھی ہوں اور قرآن مجید میں تحریف کی جائے۔ فبھت الذی۔۔۔ وہ آدمی غصے سے چلا اُٹھا۔

اللہ ہی اگر ہدایت دے تو مل سکتی ہے۔ اللہ حق کو توفیق طا فرمائے آمین۔

5. حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ:

نسب: ابو محمد طلحہؓ بن عبید اللہ بن عثمان بن طرف بن کعب بن سعد القرشی التیمی۔

آپ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی دعوت سے ایمان لائے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور بدری بھی ہیں۔ آپ زیادہ بالوں والے خوبصورت چہرے کے مالک تھے۔ جب آپ چلتے تو انتہائی تیز چلتے تھے۔ آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے جنگِ احد کے دن اپنے آپ کو حضور ﷺ کے سامنے ڈھال بنا رکھا تھا کہ مبادا کوئی تیر آپ تک پہنچے۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ کے ہاتھ کو دیکھا جو کہ جنگ احد میں شل ہو گیا تھا۔

حضور ﷺ نے آپ کا نام طلحۃؓ الفیاض رکھا تھا۔ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے جس نے زندہ شہید کو دیکھنا ہو وہ طلحہؓ کو دیکھے۔ آپ جنگِ جمل میں گئے لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ آپ کو مردان ابن عبد الحکم نے تیر مارا جو کہ آپ کی پنڈلی پر لگا جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور ۳۶ھ میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر ۶۴ سال تھی۔ الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ ص ۲۲۰ ج۲۔ الاستیعاب مع الاصابہ ص ۲۱۰۔ج۲۔

آپ کو ابو عبید نے اپنی کتاب القرأت القراء من اصحاب النبی ﷺ میں حافظ قرآن لکھا ہے۔ الاتقان ص ۷۴،ج۱ (باقی)