قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (30) وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (31) قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (32) قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ بولے تو پاک (ذات) ہے جو تم نے ہم کو بتا دیا ہے اس کے سوا ہم کو کچھ معلوم نہیں، تحقیق تو ہی جاننے والا مصلحت کا پہچاننے والا ہے (تب خدا نے آدم کو) حکم دیا کہ اے آدم تم فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دو۔ پھر جب آدم نے فرشتوں کو ان کے نام بتا دیئے تو (خدا نے فرشتوں کی طرف مخاطب ہو کر) فرمایا، ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں او زمین کی سب مخفی چیزیں ہم کو معلوم ہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم ہم سے چھپاتے ہو (وہ) سب ہم کو معلوم ہیں۔

مَا لا تعلمون (جو تم نہیں جانتے) یعنی تخلیقِ آدم میں جو حکمتیں اور مصلحتیں ہیں، وہ تم نہیں جانتے ہم جانتے ہیں، اپنے فکر و خیال کی معصومیت کی وجہ سے، تم صرف اتنا ہی احساس کر سکے کہ پاک ذات کے دربارِ عالی کے لئے غلام اور خدّام بھی معصوم چاہئیں، اس بارگاہ میں ہلڑ باز سجتے نہیں جپتے نہیں، گو یہ بات شایانِ شان ہے لیکن خدا کی یہ کوئی نجی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو بارگاہ کی تقدیس کا احساس کریں گے، وہ دراصل اپنی پاکیزہ فطرت کا ثبوت مہیا کریں گے، جو ایسا نہیں کریں گے خدا کا کوئی نقصان نہیں کریں گے بلکہ خود ہی فاش ہوں گے کہ، شہنشاہ کے عظیم دربار میں حاضر ہونے کا سلیقہ ہی نہیں رکھتے۔ اس لئے بالآخر انہیں یک بینی و دوگوش پکڑ کر اُٹھا دیا جائے گا۔ بہرحال یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کے علاوہ جو حکمتیں اور مصلحتیں ہیں بے شمار ہیں، کچھ گز شتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لی ہوں گی۔

اٰدم (ابو البشر، بابا آدم) یہ دنیا میں پہلے انسان ہیں، اسے مٹی سے بنایا اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِنْ تُرَابٍ (پ۱۴۔ الحج ع۱) وَمِنْ آياتِه اَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ (پ۲۱۔ الروم۔ ع۳) وہ مٹی خشک مٹی نہیں تھی گارا تھی۔ وبَدَأَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (پ۲۱۔ السجدۃ۔ ع۱) اور انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی۔

طِیْن پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں خواہ وہ بعد میں خشک بھی ہو گئی ہو، دوسری جگہ اِسے طِیْنٍ لَّازِبٍ (پ۲۳۔ الصفت۔ ع۱) چپچپی مٹی سے تعبیر فرمایا ہے۔

لازب سے مراد وہ مٹی ہے جو خوب چپکتی ہے، یہ عموماً جوہڑوں کے کناروں اور تالابوں کی تہوں میں ہوتی ہے، دوسرے مقام پر فرمایا۔

مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ (پ۱۴۔ الحجر۔ ع۳) کالے (اور) سڑے ہوئے گارے سے جو (سوکھ کر) کھن کھن بولنے لگتا ہے۔

سورۂ رحمٰن میں فرمایا: من صلصال كالفخار (پ۲۷۔ الرحمٰن۔ ع۱) ایسی کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا۔

امام بخاریؒ لکھتے ہیں: صلصال، طین، خلط برمل فصلصل کما صلصل الفخار (کتاب الأنبیاء باب خلق آدم)

گارا جس میں ریت ملی ہو، سو وہ آواز دیتا ہے جیسے ٹھیکری آواز دیتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں: بلکہ یہ ایک نوع کی تخلیق ہوئی جسے نوع انسان کہا گیا ہے۔ لہٰذا آدم سے یہ مراد نہیں کہ وہ سب سے پہلا انسان تھا مگر ہمارے نزدیک یہ مغربی افکار کی خوشہ چینی ہے۔ اصل میں یہی آدم وہ پہلا انسان ہے جو کسی مغربی جرثومہ کی ارتقائی شکل نہیں ہے بلکہ براہِ راست مٹی سے تخلیق ہوا۔ چنانچہ اوپر کی سطور میں اِسی آدم کے جسد کا ذِکر کیا گیا ہے جس میں حق تعالیٰ نے روح پھونکی اور ملائکہ اس کے حضور جھکے۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (پ۱۴۔ الحجر۔ ع۳)

اور یاد کرو وہ وقت جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا ہ میں کالے (اور) سڑے ہوئے گارے سے جو (سوکھ کر) کھن کھن بولنے لگتا ہے۔ ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں، تو جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف) سے روح پھونک دوں تو تم اس کے حضور جھک جانا۔

ابلیس نے بھی اِسی انسانِ اوّل (آدم) کے حجور جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔

قَالَ اَنَا خَيرٌ مِّنْه ط خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَه مِنْ طِينٍ (پ۲۳۔ صٓ۔ ع۵)

(ابلیس) بولا، میں اس سے بہتر ہوں مجھے آپ نے آگ سے بنایا، اسے مٹی سے۔

لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَه مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ (پ۱۴۔ الحجر۔ ع۳)

اور یہی وہ آدم ہے جس کو رب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے بنایا۔ لِمَ خَلَقْتُ بِيَدَيَ (پ۲۳۔ ص۔ ع۵)

اصل میں ان کو مغالطہ ان آیات سے لگا ہے، جن میں اس کی پیدائش کے سلسلے میں مختلف مراحل کا ذِکر آیا ہے، جس سے وہ یہ سمجھے کہ، یہ کسی خلیہ کا ذِکر ہے، جس میں ایک لیسدار مادہ موجود ہوتا ہے جو زندگی کے سارے امکانات اپنے اندر رکھتا ہے جسے نفس واحدہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ اطوار اور مراحل تخلیقِ آدم کے بعد کے ہیں یعنی سلسلۂ نسلِ انسانی کے۔

جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے سارے مراحل طے ہو گئے، ساخت مکمل ہو گئی اور روح پھونک دی گئی تو ابلیس کے سوا تمام فرشتے سجدہ میں جھک گئے۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ اِلَّا اِبْلِيسَ (پ۲۳۔ صٓ۔ ع۴)

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے، جوہر اور ست سے بنایا۔

دوسری جگہ اسے یوں بیان فرمایا:

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَه مِنْ سُلٰلَة مِّنْ مَّاءٍ مَّهِينٍ (پ۲۱۔ السجدہ۔ ع۵)

پھر (مٹی کے) نچوڑ سے جو ایک حقیر پانی ہے، اس کی نسل چلائی۔

سورت فرقان میں ہے:

خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَه نَسَبًا وَّصِهرًا (پ۱۹۔ الفرقان۔ ع۵)

انسان کو پانی (منی) سے پیدا کیا، پھر اسے خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔

پھر اس نطفہ سے لوتھڑا، پھر بوٹی، پھر بوٹی مع گوشت بنا کر ایک نیا ڈھانچہ بخشا۔ ملاحظہ ہو سورت المومنون پ۱۹ ع۱۔

الغرض مٹی سے آدم (سب سے پہلا انسان) بنا، پھر اس کے بعد نسلِ انسانی کے لئے دوسرا نظام تجویز فرمایا، یعنی غذا کے نچوڑ سے منی، پھر مادرِ رحم میں مدتوں رہنے کے بعد لوتھڑا، بوٹی، ہڈی وغیرہ کے بعد حسین و جمیل ''ابن آدم'' نمودار ہوا۔ اس کو قرآن نے قَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا (پ۲۹۔ نوح۔ ع۱) سے تعبیر فرمایا ہے۔ ایک منکرِ حدیث نے، اس سلسلے میں انسان، آدم اور ابنِ آدم کی قرآنی وضاحت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

انسان دراصل آدم اور ابن آدم کی نوعی ماہیت کی ایک تعبیر ہے۔ جسے یہ صاحب سمجھ نہیں سکے۔ فلسفہ کا یہ مشہور مسئلہ ہے کہ وجود ماہیت کا عین ہوتا ہے، زائد شے کا نام نہیں ہے غور فرمائے۔

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہر شے کی نوعی ہیئت اور حیثیت کے لئے ''عالمِ مثال'' کا فلسفہ تشخیص فرمایا ہے، جس میں 'معانی' اپنی مناسب شکل میں پہلے موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس عنصری دنیا میں اس کے ظہور کی صورت بنتی ہے (حجۃ اللہ) شیخ الاشراق۔ اس کو 'اشباح' اور غزالی خیال تمثل سے تعبیر کرتے ہیں۔ بہرحال یہ انفرادی قسم کی ذوقیات ہیں، ورنہ خارج میں 'مجرد کلی' کے وجود کا تصوّر محال ہے۔

اس سلسلے میں احادیث سے بھی کچھ مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ چنانچہ حضور کا ارشاد ہے کہ آدم سلسلہ تخلیق کی آخری کڑی ہے، جس کی تخلیق جمعہ کے دن، عصر کے بعد، غروب آفتاب سے پہلے ہوئی تھی۔

وخلق آدم بعد العصر من یوم الجمعة في آخر الخلق واٰخر ساعةمن نھار فیما بین العصر إلی اللیل (رواہ مسلم۔ ابو ھریرۃ)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جمعہ کو ہی بہشت میں داخل کئے گئے تھے اور جمعہ کو ہی وہاں سے خارج کئے گئے تھے۔ وفیه أدخل الجنة وفیه أخرج منھا (مسلم)

زمین کے مختلف حصوں سے تھوڑی تھوڑی مٹی جمع کر کے جسدِ آدم تیار کیا گیا، جس طرح مختلف علاقوں کی زمین کی خاصیت ایک دوسرے سے مختلف یا متنوع ہوتی ہے، اسی طرح نسلِ انسانی بھی تیار ہوئی، گورے، کالے یا اچھے اور برے وغیرہ۔

إن اللہ عزوجل خلق اٰدم من قبضة قبض من جمیع الأرض، فجاء بنو اٰدم علی قدر الأرض، جاء منھم الأبیض والأحمر والأسود وبین ذلك والخبیث والطیب والسھل والحزن فذکر مثله(مسند احمد وکتاب الاسماء والصفات بیھقی وابن حبان۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَة مِّنْ طِينٍ (پ۱۸۔ المومنون۔ ع۱) کا مفہوم بھی اگر وہ تصور کیا جائے جو مندرجہ بالا حدیث میں بیان کیا گیا ہے تو زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے۔

آدم کی تخلیق بہشت میں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بنا کر رکھ چھوڑا تو ابلیس نے اس کے گرد چکر لگا کر دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے۔ چنانچہ وہ پہچان گیا کہ یہ بے قابو اور بے بس ہستی ہے۔

لما صور اللہ اٰدم في الجنة ترکه ما شاء اللہ أن یترکه فجعل إبلیس یطیف به ینظر ما ھو فلما رأہ أجوف عرف أنه خلق خلقا لا یتمالك (روہ مسلم واحمد۔ انس)

بخاری شریف کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کا جو جسدِ مبارک تیار کیا گیا تھا کافی لمبا تھا، ساٹھ گز کا تھا۔

خلق اللہ آدم وطوله ستون ذراعا (بخاری۔ کتاب الانبیاء)

اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ آثارِ قدیمہ سے اس کی تائید نہیں ہوتی (قالہ الحافظ) مگر قرآنِ مجید میں قومِ عاد کی لاشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔

تَنْزِعُ النَّاسَ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ (پ۲۷۔ القمر۔ ع۱)

فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعٰى كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَة (پ۲۹۔ الحاقہ۔ ع۱)

اگر صدیوں بعد بھی اتنے لمبے ترنگے انسانوں کے ڈھانچے ہو سکتے ہیں تو آغاز میں اتنے لمبے قد و قامت کی بات کچھ خلاف توقع نہیں ہو سکتی۔ یا ہو سکتا ہے کہ ''ستون ذراعاً'' کا مفہوم بہت لمبا قد ہو۔ بہرحال حضرت آدم علیہ السلام غیر معمولی قد و قامت کے مالک تھے، ہاں بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قد و قامت اس زمانے کی بات ہے جب آسمان (یعنی) بہشت میں تھے۔ ستون ذراعا في السماء چنانچہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ جب ہبوط (آسمان سے نکالے گئے) ہوا تو قد و قامت میں مناسب تخفیف بھی کر دی گئی۔ صاحب فیض الباری فرماتے ہیں کہ جغرافیائی اختلاف کا اثر قد و قامت پر پڑتا ہے، آسمان پر لمبے ترنگے رہے ہوں زمین پر آگئے تو قد و قامت بھی گھٹ گیا، یعنی جنت میں لمبا قد ہوا اور زمین پر آکر حسبِ حال ہو گیا۔ ویحتمل أن یکون مراد الحدیث أنه کان قدر طولھم ھذا في الجنةفإذا نزلوا عادوا إلی القصر فإن الأحکام تتفاوت بتفاوة البلد ان والأوطان (فیض الباری ص۱۷، ج۴)

اس کے علاوہ: یہ ساٹھ ذراع، شرعی ذراع تھے، جو ہمارے حساب سے وہ تیس بنتے ہیں۔ قوم عاد کے واقعہ کو ملا کر دیکھا جائے تو پھر یہ بات کچھ اُن ہونی نہیں رہتی۔

رنگ ان کا گندمی اور شکل نہایت حسین و جمیل تھی (سیرت حلبیہ ص ۴۲۷،ج۱) ابی بن کعب سے مرفوعاً آیا ہے کہ: آدم کو لمبا، جیسی لمبی کھجور اور سر کے گھنے بالوں والا اللہ نے بنایا۔ ان اللہ خلق اٰدم رجلا طوالا کثیر شعر الرأس کانه نخلة سحوق (رواہ ابن ابی حاتم باسنادٍ حسن۔ فتح الباری پ ۳۶۷ کتاب الانبیاء)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر بنایا تھا۔

عن أبي ھریرة عن النبي ﷺ قال خلق اللہ ادم علی صورته(بخاری کتاب الاستیذان باب بدء السلام ص ۹۱۹/۲)

اس کے کئی ایک معنی بیان کئے جا سکتے ہیں: ایک یہ کہ: ان کو بہت حسین و جمیل بنایا۔ کیونکہ بنانے والا خود بہت حسین و خوبصورت ہے۔

إن اللہ جمیل یحب الجمال (مسلم، ترمذی عن ابن مسعود)

اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے، کہ معراج کے واقعہ میں حضور نے ان سے اپنی ملاقات کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: تو اس میں آدم تھے، ہو بہو ویسے تھے جیسے اللہ نے اس دن ان کو پیدا کیا۔

فإذا فیھا اٰدم کیوم خلقه اللہ علی صورته(إنسان العیون في سیرۃ الأمین المامون للجلی :ص ۴۲۷/۱)

دوسرے یہ کہ یہ نسبت تشریفی ہے، تیسرے یہ کہ جرثومے اور خلیے والی بات نہیں کہ حیوان سے ترقی کر کے ایک ترقی یافتہ انسان بن گیا ہو بلکہ جیسے ہیں ویسے ہیں۔ تنہا اور بالاصالت مٹی سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ قال الحافظ أي لم یشارکه في خلقه أحد أبطالا لقولِ أھل الطبائع (فتح) مجھے اول اور تیسرا پہلو نسب اور احوط معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

جب آپ میں روح ڈال دی گئی تو ان کو چھیک آئی جس پر انہوں نے الحمد للہ کہی۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: رَحِمَكَ رَبُّكَ یا اٰدم لما خلق اللہ اٰدم عطس فقال الحمد للہ فقال له ربه رحمك ربك یا اٰدم (رواہ البزار عن أبي ھریرة بسند لا بأس به (ابن حبان عن انس بنحوہ)

موارد الظمان میں ہے کہ الحمد للہ کہنے کا بھی اللہ نے ان کو الہام کیا تھا۔ فألھمه ربه (موارد الظمان ص ۵۰۸)

جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق فرما لی تو ان سے فرمایا: جا کر فرشتوں کو سلام کرو، اور غور سے سنتے رہو کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے جا کر کہا: السلام علیکم، جواب میں فرشتے بولے: السلام علیک ورحمۃ اللہ چنانچہ انہوں نے رحمۃ اللہ زیادہ کیا۔ یہ سلام دعا آپ کے لئے اور آپ کی اولاد کے لئے ہے۔

اذھب فسلم علی اولئك نفر من الملئکة فاستمع ما یحیونك فإنھا تحیتك وتحیة ذریتك فقال السلام علیکم فقالوا السلام علیك ورحمة اللہ فزادو رحمةاللہ (بخاری عن ابی ھریرۃ کتاب الاستیذان)

زوائد ابنِ حبان میں ہے کہ سلام دعا کے بعد جب رب کے پاس واپس ہوئے تو اللہ نے کہا کہ یہ آپ اور آپ کی اولاد کی سلام دعا ہے۔

ثم رجع إلٰی ربه فقال ھذا تحیتك وتحیة نبیك بینھم (ص ۵۰۹)

جب اللہ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو اس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر اس کو اولاد کو نکال کر ان کے پیش کی، ان میں ان کو ایک چمکتا چہرہ نظر آیا، بولے! الٰہی! اس کی عمر اور بڑھا دیجیے! فرمایا، نہیں ہاں اگر آپ اپنی عمر میں سے کچھ دے دیں تو اتنی بڑھائی جا سکتی ہے، چنانچہ اپنی عمر میں سے چالیس سال عمر ان کو دے دی اور یہ لکھ کر فرشتوں کو گواہ بنایا۔ جب فرشتہ روح قبض کرنے آیا تو کہا چالیس سال ابھی باقی ہیں، انہوں نے ان کو یاد دلایا کہ آپ نے اپنے بیٹے کو دے دی تھی، تو انہوں نے کہا: کب؟ چنانچہ اللہ نے وہ دستاویز دکھا دی۔ تاہم دونوں کی عمر ویسے رہنے دی، سو سال حضرت داؤد کی اور ہزار سال حضرت آدم کی۔

أول من جحد اٰدم قالھا ثلث مرات إن اللہ عزوجل لما خلقه، مسح ظھرہ فأخرج فدیته فعوضھم علیه فرأی فیھم رجلا یزھر فقال رب زد في عمرہ قال لا إلا أن تزیدہ أنت من عمرك، فزادہ أربعین سنةمن عمرہ فکتب اللہ تعالٰی علیه کتابا وأشھد علیه الملٰئکة فلما أراد أن یقبض روحه قال إنه بقي من أجلي أربعون سنةفقیل له إنک قد جعلتھا لابنك داود قال فجحد قال فأخرج اللہ الکتاب وأقام علیه البینة فأتمھا لداود مائة سنةوأتمھا لادم عمرہ ألف سنة (رواہ احمد عن ابن عباس)

موارد والظمان میں ہے کہ مٹھی میں اللہ نے ان کو آپ کی ذریت دکھائی، جن کے ماتھے پر ان کی عمریں بھی لکھی تھیں (موارد الظمّان ص ۵۰۹)

بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم بہشت میں اداس اداس رہنے لگے، پھر سو گئے، جاگے تو سرہانے ایک عورت بیٹھی جسے اللہ نے اس کے پہلو سے پیدا کیا تھا۔

عن ابن عباس وابن مسعود و ناسٍ من الصحابة قال لما سکن ادم الجنةکان یمشي فیھا وحشاً لیس له زوج یسکن إلیھا فتام نومة فاستیقظ وإذا عند واسم امرأة قاعدة خلقھا اللہ من ضلعه ( فتح القدیر للشوکانی عن البیھقی وغیرہ)

قرآن حمید سے اتنا تو مترشح ہوتا ہے کہ بیویاں مردوں کے لئے تسکینِ خاطر کا سامان ہے۔

خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيهَا وَجَعَلَ بَينَكُمْ مَوَدَّة وَّرَحْمَة (پ۲۱۔ روم ع۳)

بخاری شریف میں ہے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔

فَاِنَّ الْمَرأةَ خُلِقَت مِںْ ضِلْعٍ (کتاب النبیاء باب قول اللہ تعالیٰ: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً)

ضلع: پہلو، پہلو کی پسلیوں اور میلان کو ضلع کہتے ہیں: جمہور کا یہی نظریہ ہے کہ حواء کا ظہور آدم کی پسلیوں سے ہوا؟ وہ کیسے؟ کیفیت معلوم نہیں ہے۔ پہلو کی پسلیوں کو اس کے لئے کیوں انتخاب کیا گیا؟ کیونکہ وہ رفیقۂ حیات ہے، سفرِ حیات میں اسے پہلو بہ پہلو رہنا ہے، جینا ہے اور رفیق کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ پہلو میں رہتا ہے، اس دل میں بستا ہے جو پہلو میں آباد ہے۔ علاقہ قرطبی کا ارشاد ہے کہ الامرأۃ، المرء سے ماخوذ ہے۔ المرء کے معنی مرد کے ہیں، کیونکہ اس کا ظہور مرد کے جسم سے ہوا ہے۔ حوّا کا لفظ بھی بتاتا ہے کہ وہ حیَّ (زندہ) سے ظاہر ہوئی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ لڑکی کا پیشاب لڑکے کی بہ نسبت غلیظ ہوتا ہے کیونکہ لڑکے کی نمود مٹی سے ہوئی ہے اور لڑکی کی آدم کے گوشت سے۔

علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ پسلی سے پیدائش نہیں ہوئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی پیدائش یوں ہوئی جیسی پسلی کی، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ایک اور روایت میں المرأۃ کا لضلع (بخاری باب المداراۃ مع النساء کتاب، النکاح) عورت، پسلی کی مانند ہے آیا ہے اور بعض روایات میں إنما المرأۃ کا لضلع آیا ہے (فتح ص ۲۵۲/۶)

بخاری کے ایک شارح نے لکھا ہے کہ جب وہ جاگے تو بائیں جانب حوا کو بیٹھا پایا۔

خلقت من ضلع کے یہی معنی ہیں۔

والمشھور أنھا خلقت من ضلع الیسر ورأیت مصنفا مر علیه وقال إن اٰدم علیہ السلام أنتبه مرة من منا مه فإذا حواء جالسة علی یسارہ وھذا معنی مخلوقة من ضلع أی رأھا مخلوقة نحو یسارہ (فیض الباری ص ۱۸/۴)

حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مابین ایک مثالی مکالمہ ہوا جس میں حضرت موسیٰ نے اعتراض کیا کہ آپ کی خطا ہمارے لئے وجہ شامت بنی، حضرت آدم نے کہا، کیا آپ نے یہ دیکھا تھا کہ مجھے یہ پیش آنا تھا؟ کہا ہاں، فرمایا: پھر تقدیر کے سامنے میری کیا مجال؟

ثم تلومني علی أمر قد قدّر علی قبل أن أخلق (بخاری۔کتاب الانبیاء ص ۴۸۴/ج۱)

مصائب کا انتساب تقدیر کی طرف بجا ہے لیکن خطا کا نہیں، بات بھی مصیبت کی ہوئی تھی معصیت اور لغزش کی نہیں! دراسل مصائب کی نوعیت ابتلاء کی ہوتی ہے یا اپنی حماقتوں کا نتیجہ، ابتلاء ہے تو ہرچہ از دست دوست آید، درست آید کے مطابق راضی بہ رضا رہنے میں اجر ملتا ہے۔ اگر خطا ان کا سبب ہوتا تو توبہ کی توفیق ملتی ہے۔ یہاں تقدیر کو گناہوں کے لئے بہانہ نہیں بنایا گیا بلکہ مصیبت میں خدا کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اور یہ بجائے خود عبادت ہے۔ کیونکہ وہاں حضرت آدم علیہ السلام سے جو کچھ سرزد ہوا، نسیانا ہوا یا خدا کے حضور میں دائمی قرب و وصال کے لالچ میں اجتہاداً ہوا۔ اس لئے یہ معصیت تھی ہی نہیں، بھول چوک کی بات تھی۔ باقی رہا بہشت سے ان کا نکلنا؟ سو وہ معصیت کا نتیجہ نہیں تھا۔ کیونکہ اصلی پروگرام جس کے لئے تخلیق ہوئی تھی وہ زمین کی سکونت تھی ( إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً)بہشت میں جتنے دن رہے، بطور مہمان کے رہے۔ اُسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ سکون حرکت کے بعد یا حرکت سے پہلے کے ثانیہ کا نام ہے، ظاہر ہے کہیں سے آئے نہیں تھے، وہاں ہی ان کی تخلیق ہوئی تھی، اس لئے یہ سکون آنے والی حرکت کے اعتبار سے تھا۔ گویا کہ یہ قیام عارضی تھا۔ شیطان کا ان کو پھسلانا کہ اصل میں تمہیں یہاں سے چلتا کرنا ہے، اس لئے یہ شجرہ چکھ لو گے تو پھر یہاں سے کوچ کی نوبت ہی نہیں آئے گی، تو معلوم ہوا کہ وہاں آدم کو اپنے عارضی قیام کا علم تھا تبھی تو انہوں نے دائمی اقامت کے لئے جتن کیے۔

قیامت میں حضرت آدم اپنی اس غلطی کے احساس سے شفاعت کرنے سے گریز کریں گے۔ (بخاری کتاب الانبیاء۔ باب، قول اللہ اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِه تو یہ اس لئے نہیں کہ وہ بھی اِسے گناہ تصور کرتے ہیں بلکہ آنا نکہ عارف تراند ترساں تراند والی بات ہے، دیکھیے! ٹھوکر کھا کر گرنا سب سے بڑی معذرت ہے کوئی عیب کی بات نہیں، لیکن بچہ گر جائے تو اس کی پروا نہیں ہوتی اگر بڑا گر پڑے تو چہرے کی ہوائیاں اُڑ جاتی ہیں۔ بہرحال وہ رب سے شرمائیں گے کہ مجھ سے لغزش ہو گئی۔

حضرت آدم علیہ السلام، اللہ کے رسول اور نبی تھے اور سب سے پہلے نبی و رسول!

أبو ذر: قلت یا رسول اللہ من کان أولھم قال آدم قلت یا رسول اللہ! نبي مرسل؟ قال نعم (البدایۃ والنھایۃ ص ۹۷ بحوالہ ابن حبان)

حضرت نوح اور حضرت آدم کے مابین دس قرن کا وقفہ ہے۔

فکم کان بنیه وبین نوحٍ قال عشرة قرون (البدایۃ والنھایۃ ص ۱۰۲/ج۱ بحوالہ ابن حبان)

عورت، مرد کی سب سے بڑی کمزوری ہے، چنانچہ حضرت آدم سے بھی یہی کچھ ہوا کہ وہ حوّا کے بھرے میں آگئے۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کو اعتماد میں رکھ کر در پردہ ان کی مرضی کے علی الرغم بھی کچھ نہ کچھ کام کر ڈالے۔ چنانچہ حضور نے اسے یوں بیان فرمایا۔

لو لا حوا لم تخن أنثی زوجھا (بخاری کتاب الانبیاء ص ۴۶۹/۱)

اگر حوّا نہ ہوتی (تو) کوئی بھی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔

عورتیں یہ خیانتیں، عام سمجھ کر کچھ کر گزرتی ہیں، بعض اوقات حجابًا نہیں پوچھتیں اور کر گزرتی ہیں، بعض اوقات مصلحتاً چھپا کر کرتی ہیں، الغرض عورت کی یہ ایک فطری کمزوری ہے جس کو حوّا (پہلی خاتون) کی مثال کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ باقی رہی وہ خیانت کیا تھی؟ کچھ پتہ نہیں۔ نہ تفصیل میں پڑنے کی ضرورت ہے، جو روایت ملتی ہیں، غالیا اسرائیلیات ہیں۔ واللہ اعلم

حضور نے شب معراج حضرت آدم کو دیکھا کہ داہنے طرف دیکھتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں بائیں جانب دیکھتے ہیں تو غم کھاتے ہیں۔ یعنی نیک و بد اولاد کو دیکھ کر (بخاری)

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم کو آواز دیں گے، جواب میں کہیں گے لبیك وسعدیك والخیر في یدیك، پھر رب تعالیٰ فرمائیں گے ہزار میں سے 999 دوزخ کے لئے نکالیے! یآدم فیقول لبیك وسعدیك والخیر في یدیك۔ فیقول أخرج بعث النار قال وما بعث النار قال من کل ألف تسع مائة وتسعةوتسعین (بخاری۔ کتاب الانبیاء)

الاسماء (نام) ان سے مراد علم الاشیاء ہے، علم الاشیاء انسانی فطرت کا خاصہ ہے، اور یہ وہ انسان تھا، جس کا خدا نے فرشتوں سے ذکر کیا تھا۔ ایسا نہیں کہ فرشتوں کو مات دینے کے لئے آدم کو تعلیم دی اور پھر فرشتوں کو شکست دلائی۔ بلکہ فرشتوں کے اظہار رائے کے بعد 'مطلوب انسان' بنا کر ان کے سامنے پیش کیا۔ جسکی قدرتی اور فطری صلاحیت کو دیکھ کر انہوں نے اپنے محدود دائرۂ کار کا اعتراف کیا۔

اشیاء کو سامنے لا کر پیش کیا اور ان کے سلسلے کی معلومات کی بابت ان سے پوچھا۔ چنانچہ حضرت آدم اس امتحان میں کامیاب رہے اور فرشتوں نے معذرت کر دی۔

اس سے معلوم ہوا کہ علم سے بالکلیہ بے بہرہ انسان، خدا کا وہ مطلوب انسان نہیں ہے جس کا فرشتوں سے ذِکر کیا گیا تھا۔ یہ باب اور میدان دراصل 'مسلم' کا تھا، مگر افسوس وہی اب تہی دامن ہے۔

فرشتوں نے اشیاء کے سلسلے کی معلومات سے اپنی لا علمی ظاہر کی تھی کیونکہ یہ بہرحال اجتہادی چیز نہیں تھی، سرتاپا الہامی اور توقیفی ہے۔ اجتہاد وہاں ہوتا ہے، جہاں اس کی زمین پہلے سامنے ہوتی ہے۔ آدم کو تعلیم نہ دی جاتی تو اجتہاد کرنے سے وہ بھی قاصر رہتے، چونکہ اپنے دائرۂ کار میں فرشتے کامل معلومات رکھتے ہیں اور اسی حد تک اجتہاد کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوعِ انسان کی تخریب پسندی کی پیش گوئی یا انکشاف کیا تھا۔ علم الاشیاء کے باوجود باقی رہی غلط نتیجے کی بات؟ سو وہ ہو جاتی ہے۔ جب اجتہاد کی نوبت آئی تو بالآخر آدم سے بھی چوک ہو گئی تھی۔ گو گناہ نہیں چوک تو ہے ہی،

یہاں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: غیب تو میرے پاس ہے یہ آپ کے بس کی بات نہیں، کیونکہ یہ اجتہادی بات ہی نہیں تھی، اس لئے اصل موضوع سے واقفیت سے پہلے اظہار رائے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

وہ چھپی بات ؎ بعد از بزرگ توئی، پر فائز رہنے کی تمنا تھی، ہر شخص اپنی عزیز سے عزیز تر متاع کی قربانی یوں دے سکتا ہے کہ اس کے دل پر بوجھ بھی نہ آئے لیکن ''محبوب'' کی بات کچھ اور ہے۔ یہاں ایثار مشکل ہوتا ہے اگر ہوتا ہے تو وہ بھی 'محبوب' کی تمنا پر۔ جیسا کہ یہاں ہوا۔ قربِ خدا، محبوب کا جوار اور بے وساطت تعلق کی پینگیں، ملائکہ کی اصلی کائنات ہے، اس کو قائم رکھنے کے لئے اگر انہوں نے کوئی پیرائیہ بیان کیا تو برا نہیں کیا بلکہ عبادت پر اصرار کیا ہے جو بجائے خود قابلِ رشک ہے۔ اس لئے خدا نے فرشتوں کی اس پوشیدہ تمنا کی تردید نہیں کی اور نہ ابنِ آدم کے سلسلے کی کمزوریوں کی نشاندہی پر نکیر فرمائی، بلکہ گرفت اس بات پر فرمائی کہ وہ اصل بات نہیں سمجھے!

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے، انسان کے سلسلے کی معلومات سے فرشتوں کی بے خبری کا ذِکر فرمایا، اس کے بعد ''انسانِ مطلوب'' تخلیق کر کے فرشتوں کے پیش کیا، یعنی ظاہری اور معنوی طاقتوں، بالخصوص علمی صلاحیتوں اور اجتہادی ملکہ سے اِسے آراستہ فرما کر فرشتوں کے سامنے 'علم الاشیاء' کا باب کھولا، جس میں 'انسان مطلوب' (آدم) اپنے فطری روپ میں نمودار ہو کر ان پر بھاری رہا، مگر فرشتے، اپنے دائرہِ ملکوتیت کی وجہ سے انسانی خصائص، تقاضوں اور میدان میں اجنبی رہے اور یہ بالکل ایک قدرتی بات تھی، کیونکہ نوعی میدان سب کا جدا جدا ہے، اس لئے اتمامِ حجت کے بعد حق تعالیٰ نے ایک اصولی بات ان پر واضح فرما دی کہ علمِ غیب خدائی خاصہ ہے، جس طرح تم خود ایک دوسرے کے نوعی خصائص کے میدان میں اجنبی ہو اسی طرح جو امور مجھ سے متعلق ہیں، وہ میں ہی جانتا ہوں۔ تم نہیں جانتے، دیکھیے تمہارے دِل میں جو تمنا چٹکیاں لے رہی تھی، وہ مجھ پر عیاں تھی لیکن تخلیق آدم میں جو حکمت مجھے ملخوط تھی، تم تآخر اس سے بے خبر ہی رہے۔

کچھ صفحات نہیں ہیں۔

مراد ہوتا ہے۔

وكذلك لفظ الذنوب إذا أطلق دخل فیه ترك کل واجب وفعل کل حرام (اقتضاء الصراط المستقیم)

میر سید شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ہر وہ فعل ہے جو خدا سے روکے:

ما یحجبك عن اللہ (التعریفات ص ۷۳)

اَللّمَم۔ گناہ کا ارادہ کرنا مگر مرتکب نہ ہونا۔ لَمَم ہے۔ (مفردات)

عریاں بے حیائی سے کم درجہ کے صغیرہ گناہ: اللمم ما دون الفاحشة من صغار الذنوب (المغرب ص ۱۷۲)

اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ گناہ کے بعد یوں پچھتانا کہ پھر اسے نہ کرنا۔

بمعنی أنه لم یلم به مرة أو مرتین فیتوب عن قریب فلا یجعلھا عادة (کمالین ص ۴۳۷)

قال ابن عباس ھو الرجل یلم بالفاحشة ثم یتوب۔۔۔۔ وقال أبو ھریرة اللمة من الزنا ثم یتوب ولا یعود الخ (ابن کثیر ص ۲۵۶/۴) أي ما یأتي به المؤمن ویندم في الحال وھو من اللمم (کبیر)

اثم۔ وہ فعل جو کارِ ثواب سے پیچھے رکھے (مفردات) جس سے شرعاً اور طبعاً پرہیز کرنا ضروری ہو۔

ما یجب التحرز منه شرعا وطبعا (التعریفات ص ۴)

اور جب مطلق مستعمل ہو تو اس وقت ہر گناہ کو اثم کہتے ہیں۔ کذلك لفظ الإثم إذا أطلق دخل فیه کل ذنب (اقتضاء الصراط المستقیم ابن تیمیہ (ص۶۶)

تکفیر اہلِ قبلہ:

مزرائی کا استدلال غلط ہے، حدیث میں 'مسلمانی' کی کچھ ظاہری علامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ: اب سمجھ لو کہ ضروریاتِ دین کا وہ قائل ہو گا، اگر داخلی یا خارجی دلائل سے واضح ہو جائے کہ وہ شخص ضروریات دین کا منکر ہے تو وہ لاکھ نمازیں پڑھے، یہاں نہیں کعبہ میں جا کر پڑھے صرف ہمارا ذبیحہ نہیں ہمارا پکا بھی کھائے تو وہ پھر بھی کافر ہی رہے گا۔ کیونکہ وہاں روح غائب ہے۔

عقائد کی جن کتابوں میں اِس موضوع سے بحث کی گئی ہے اس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ بنیاد اس کی پختہ ہو۔ پھر ان کی تکفیر مناسب نہیں۔ شرح مقاصد میں ہے۔

وھم الذین اعتقدوا بقلبھم دین الإسلام اعتقادا جازماً خالیا عن الشکوك وانطلقوا بالشھادتین فإن من اقتصر علی أحدھما لم یکن من أھل القبلة (شرح مقاصد)

شرح عقائد کی شرح خیالی میں ہے کہ اس سے مراد اجتہادی مسائل میں عدم تکفیر ہے لیکن جو ضروریاتِ دین کا منکر ہو اس کی تکفیر میں کوئی اختلاف نہیں۔