ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مئی
  • جون
1975
ادارہ
فساد فی الارض ''نوع انسانی'' کی سب سے بڑی بد نصیبی بلکہ کائنات کی ہر چیز کی سیاہ بختی کی بات ہے، کیونکہ تخریب اور تخریب کاری انسان کی سیاہ کاری کا نتیجہ ہوتی ہے اور بطور سزا اور قہرِ الٰہی کے پھلتی پھولتی اور پھیلتی ہے۔

ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا (پارہ۲۱۔ الروم۔ ع۵)
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَائَھُمْ بَاَسْمَآئِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
1. مجالسِ ذکر:

خصوصی مجالسِ ذکر جو کبھی اہل بدعت کے ہاں لگتی تھیں، دیو بندی اور اہل حدیثوں میں بھی رواج پا رہی ہیں، مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد میں اور پروفیسر مولانا سید ابو بکر غزنوی کے مدرسہ میں ''خاص رنگ'' میں ذکر کی محفل لگتی ہے، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
  • مئی
  • جون
1975
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
قرآنِ کریم وہ ابدی ہدایت ہے جو انسان کو بامقصد زندگی گزارنے کا شعور اور زندگی کے تمام شعبوں کے لئے مکمل رہنمائی دیتی ہے۔ اس کا بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پوری نوعِ انسانی کے لئے مکمل اور آخری ضابطۂ حیات بنا کر تا قیامت اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اُٹھایا ہے۔ اس سے قبل آسمانی ہدایات جس طرح زمان و مکان کی قیود سے محدود ہوتی تھیں اسی طرح ان کی حفاظت بھی مخصوص اشخاص کے سپرد ہوتی تھی جیسا کہ ''بما استحفظوا من کتاب اللہ'' سے واضح ہے۔
  • مئی
  • جون
1975
عبدالرحمن عاجز
جگر شق، زرد چہرہ، چاک داماں کون د یکھے گا            پریشاں ہوں مرا حالِ پریشاں کون دیکھے گا
جہاں پڑتی نہیں نظریں کسی کی آتشِ گُل پر             وہاں اے دل ترا یہ سوز پنہاں کون دیکھے گا
اگر وہ نور برساتے ہوئے محفل میں آجائیں               تری صورت پھر اے شمعِ فروزاں کون دیکھے گا
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
رزم و بزم کے بادشاہ حضرت شاہ اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں رزم گاہوں میں شمشیر و سناں کے جوہر دکھائے تھے، وہاں زبان دبیان کے ادبی شاہکار بھی پیش کئے ہیں۔ مندرجہ بالا کتاب شہید فی سبیل اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے اِسی شاعرانہ کلام کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔ جو بڑا جاذب اور نہایت معنی خیز ہے۔