نام : انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر

مصنف : مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

ضخامت : ۴۸۰ صفحات (مجلد۔ دیدہ زیب گرد پوش)

کاغذ و طباعت عمدہ۔ کتابت واجبی

پتہ ناشر : مجلس نشریاتِ اسلام۔ ۱۔ کے۔ ۳۔ ناظم آباد نمبر ۱ کراچی نمبر ۱۸

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی مدظلہ کا شمار دنیائے اسلام کے ان عظیم ترین علماء اور مفکرین میں ہوتا ہے جس کے علم و فضل اور گراں قدر دینی خدمات پر ملتِ اسلامیہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ مبداء فیاض نے انہیں اردو اور عربی زبان و ادب پر بے پناہ قدرت عطا کی ہے اور ان دونوں زبانوں میں ان کے قلم سے متعدد ایسی کتابیں نکل چکی ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے موضوع پر شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سے کئی کتابیں، عالمگیر شہرت کی حامل ہیں۔ زیرِ نظر کتاب بھی اس زمرے میں آتی ہے۔ اصل میں یہ کتاب عربی ہیں 'اذا خسر العالم بالخطاط المسلمین' کے نام سے لکھی گئی تی اور تقریباً پچیس سال پہلے مصر کے ایک مشہور دار الاشاعت کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔ اس کتاب کو عالم اسلام میں اس قدر مقبولیت ہوئی کہ اب تک عربی میں اس کے نو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کا ترجمہ انگریزی، فرانسیسی، ترکی اور فارسی زبانوں میں بھی ہو چکا ہے اور ان تراجم کے دو دو ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ عربی کتاب کے بیشتر حصے کو فاضل مصنف نے خود اردو میں منتقل کیا ہے اور چند ابواب کا ترجمہ مولانا عبد اللہ ندوی، مولانا محمد رابع ندوی اور مولانا محمد حسنی نے کیا ہے۔ اردو میں اس کتاب کا یہ آٹھواں ایڈیشن ہے۔ عربی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کا مقدمہ مصر کے نامور مفکر اسلام سید قطب شہیدؒ نے لکھا تھا یہ مقدمہ بجائے خود ایک بلند پایہ مقالہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی زیرِ نظر کتاب میں شامل ہے۔

کتاب کے پہلے باب میں فاضل مصنف نے بعثتِ محمدی سے قبل کے حالات کا بڑی دقتِ نظر کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ صرف عرب ہی نہیں بلکہ اس دور میں تمام دنیا ہی بدترین گمراہی، اوہام اور خرافات میں مبتلا تھی۔ دوسرے باب میں انہوں نے بعثتِ محمدی کے بعد بنی نوعِ انسان کی تقدیر بدل دینے والے انقلاب کے حالات مسحور کن انداز میں بیان کئے ہیں۔ تیسرے باب میں بڑے ولولہ انگیز پیرائے میں مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں دنیا کی قیادت کرتے دکھایا گیا ہے۔ پانچویں اور چھٹے باب میں مسلمانوں کے تنزل اور مخالفِ اسلام قوتوں کے عروج کی تفصیل نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ ساتویں باب میں فاضل مصنف نے مسلمانانِ عالم اور بالخصوص عربوں کو اپنا محاسبہ کرنے اور اپنی سیرت و کردار کو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی نہج پر استوار کرنے کی دعوت دی ہے۔ ساری کتاب میں شروع سے اخیر تک تحقیق، عمیق نظری اور تفکر کی گہری چھاپ ہے اس کے ایک ایک لفظ سے ایسا اخلاص اور سوز درد مندی نمایاں ہے کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب تاریخ اور تفکر کا نہایت خوشگوار امتزاج ہے۔ فاضل مصنف کا اندازِ فکر خالص دینی اور اسلامی ہے ساتھ ہی وہ بڑے وسیع النظر اور وسیع المطالعہ بھی ہیں۔ مختلف تاریخی واقعات سے انہوں نے جو نتائج اخذ کیے ہیں وہ فکر و نظر کی آخری حد تک درست معلوم ہوتے ہیں۔ بلا مبالغہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ہر لحاظ سے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے اس کا مطالعہ نہ صرف معلومات میں اضافہ کا باعث ہو گا بلکہ ایمان اور یقین کو مزید پختہ کرے گا۔

کتاب کی کتابت اس کے شایانِ شان معلوم نہیں ہوتی۔ کئی جگہ کتابت کی غلطیاں بری طرح کھٹکتی ہیں امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں انہیں دور کر دیا جائے گا۔ (طالب ہاشمیؔ)

(۲)

نام : سیرت حضرت سعد بن ابی وقاص

مصنف : طالبؔ ہاشمی

ضخامت : ۲۶۴ صفحات (مجلد دیدہ زیب سرورق)

قیمت : ۹ روپے

سائز : 18 x 23 / 8

ناشر : قومی کتب خانہ (رجسٹرڈ) ریلوے روڈ لاہور

فاتح عراقِ عرب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا شمارِ شمع رسالت کے ان پروانوں میں ہوتا ہے جن کے مہتمم بالشان کارناموں اور دینی خدمات سے تاریخ اسلام کے صفحات گرانبارِ احسان ہو رہے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سابقون اوّلون میں سے ہیں اور ان دس صحابۂ کرامؓ میں سے ایک ہیں جن کو لسانِ رسالت نے ان کی زندگی ہی میں مغفرت اور جنت کی بشارت دے دی تھی۔ بدر سے لے کر حنین تک انہوں نے ہر معرکہ میں سرور کونین ﷺ کی رفاقت کا حق ادا کیا اور پھر ایک دن چشمِ فلک نے انہیں اس جانباز لشکر کی قیادت کرتے دیکھا۔ جس نے کجکلاہِ ایران کا تخت الٹ کر آتشکدۂ فارس کو ہمیشہ کے لئے سرد کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے مرد صالح کا عظیم لقب مرحمت ہوا تھا اور حضور ﷺ کی دعا کی بدولت وہ مستجاب الدعوات ہو گئے تھے۔ ان کا چمنِ اخلاق عشقِ رسول، خشیتِ الٰہی، غیرت دینی، تحمل، شدائد، زہد و تقویٰ، تواضع، ایثار اور سخاوت جیسے گلہائے رنگا رنگ سے آراستہ تھا۔ اِسے حالات کی ستم ظریفی کہیے یا کچھ اور کہ اتنے بلند مرتبہ اور جامع کمالات و صفات صاحبِؓ رسول ﷺ کی سیرت پر اردو میں اس سے پہلے کوئی مستقل کتاب شائع نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ طالب ہاشمی نے یہ کتاب لکھ کر اس کمی کو بطریقِ احسن پورا کر دیا ہے۔ فاضل مٔولف ایک گوشہ نشین ادیب ہیں اور گزشتہ تیس سال سے نہایت خاموشی کے ساتھ دین و اخلاق اور اردو زبان کی خدمت کر رہے ہیں۔ تاریخ و سیرت ان کا خاص موضوع ہے۔ اور اب تک ان کی متعدد تاریخی کتابیں شائع ہو کر اربابِ علم سے خراجِ تحسین وصول کر چکی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب انہوں نے بڑی تحقیق و تفحص اور محبت و عقیدت کے ساتھ قلم بند کی ہے اور حضرت سعدؓ کی ولولہ انگیز داستانِ زندگی کے ہر گوشے پر بڑے دلکش انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ زبان شستہ اور اندازِ تگارش نہایت دلآویز ہے۔ بعض مقامات پر تو شدّت تاثر سے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کتاب کی دلچسپی شروع سے اخیر تک قائم رہتی ہے کیونکہ اس میں کسی مقام پر بھی پیوست غالب نہیں ہونے پائی۔ فاضل مؤلف نے واقعات کی ترتیب و تبویب میں بھی بڑے سلیقے سے کام لیا ہے، کتاب کا دیباچہ ملک کے بزرگ ترین صحافی ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب نے لکھا ہے۔ یہ دیباچہ بڑا جاندار اور وقیع ہے اور کتاب کے شایانِ شان ہے ایسی کتابوں کی نشر و اشاعت اس وقت ملک کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ ہمارے خیال میں ان کا مطالعہ قوم کے جذبۂ عمل کے لئے مہمیز ثابت ہو سکتا ہے۔

جناب طالب ہاشمی ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنا قلم ایسی پاکیزہ کتابیں لکھنے کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ فجزاہ اللہ خیر الجزا!

کتاب میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں کھٹکتی ہیں۔ امید ہے آئندہ ایڈیشن میں ان کی تصحیح کر دی جائے گی۔