کسی خاص مقام پر دفن کی وصیت کا حکم اور اس کا فائدہ؟ مسئلہ کفاءت وغیرہ

الاستفتاء۔ یہ استفتاء لمبا چوڑا آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

1. وابتغوا إليه الوسيلة ميں ''الوسيلة'' سے کیا مراد ہے؟

2. جسے کوئی شخص پاک مقام تصوّر کرتا ہے، وہاں جا کر اگر وہ اپنے مردہ کو دفن کرے یا کوئی اس کی وصیت کر جائے تو کیا اسے پورا کرنا چاہئے اور کیا اس سے مردہ کو کچھ فائدہ بھی ہو سکتا ہے؟

سمیع اللہ۔ ۹دسمبر ۱۹۷۳؁ء

الجواب:

''الوسیلة'' كے لغوی معنی یہ ہیں:

قرب، درجہ، ذریعہ (لسان العرب و قاموس)

بہشت میں یہ سب سے اونچا مقام ہے، جو ذاتِ حق سے قریب تر ہے، قرب و وصال کے لحاظ سے زیادہ اور کوئی قریب تر منزل نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی یہ اپنی اصطلاح ہے، جیسے صلوٰۃ۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے۔

لغوی:

امام ابن کثیر (ف ۷۷۴ھ) فرماتے ہیں کہ:

وسیلہ کے معنی ''قرب'' ان بزرگوں نے کیے ہیں:

ابن عباسؓ، مجاہد، ابو وائل، حسن، قتادہ، عبد اللہ بن کثیر، سدی، ابنِ زید اور کئی ایک اور:

قال سفیان الثوري عن طلحة عن عطا عن ابن عباس:

أي القربة وكذا قال مجاھد وأبو وائل والحسن وقتادة وعبد الله بن كثير والسدي وابن زيد وغير واحد (تفسير ابن كثير ص ۵۲/۲ تحت اٰيت: وابتغوا إليه الوسيلة)

امام ابن کثیر لکھتے ہیں اس معنی میں مفسرین کے اندر کوئی اختلاف نہیں:

وھذا الذي قاله ھٰولاء الأئمة لا خلاف بين المفسرين (ص ۵۲/۲)

امام ابن قتیبہ (۲۷۶؁ھ/۸۸۹؁ء) فرماتے ہیں۔

الوسيلة القربة الزلفٰي

امام ابو الحسن السندي نزیل المدینة (ف ۱۱۳۸؁ھ) لکھتے ہیں۔

قيل هي في اللغة المنزلة عند الملك (حاشيه ابن ماجه)

امام نووی (ف ؁) فرماتے ہیں:

قال أهل اللغة الوسيلة المنزلة عند الملك (شرح مسلم)

امام ابن جریر (ف ۳۱۰؁ھ) فرماتے ہیں:

يعني بالوسيلة القربة وكذا قال القرطبي (ف ۶۷۱؁ھ) الوسيلة القربة

امام سخاوی نے فراء کا بھی یہی قول نقل کیا ہے (القول البدیع)

الغرض: ائمۂ لغت، ائمۂ مفسرین (من الصحابة والتابعین) اس معنی میں یک زبان ہیں کہ اس کے معنی قرب، مرتبہ اور ذریعہ ہیں۔ یہاں مرتبہ اور قرب سے مراد، قرب شاہی ہے۔

شرعی مفہوم:

شرعی مفہوم دو ہیں:

1. ایک وہ مقام جو بہشت میں سب سے اونچا اور خدا سے قریب تر ہے، جس کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت سے، خدا سے دعا کرنے کو کہا ہے۔

سلوا الله لي الوسيلة (مسلم، ابو داود، نسائی، ترمذی، بیہقی والقاضی)

حضور ﷺ! وسیلہ کیا ہے؟ صحابہؓ نے پوچھا!

ما الوسيلة؟ يا رسول الله!

فرمایا: یہ بہشت میں اعلیٰ درجہ کا نام ہے۔

اعلٰي درجة في الجنة (القول البديع للسخاوي بحواله عبد الرزاق وغيره وفيه الليث)

بعض روایات میں فإنها منزلة في الجنة (مسلم وغیرہ) آیا ہے۔

بہتر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اس مبارک تفسیر کے بعد ''الوسيلة'' کے دوسرے معنی تلاش ہی نہ کیے جائیںِ کیونکہ اس کی تفسیر اور نشاندہی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اس لئے جن آیات میں''الوسيلة'' کا ذکر آیا ہے۔ اس سے مراد یہی قربِ الٰہی تصور کیا جائے، جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی اور لالچ کے بجائے خدا یابی کا جذبہ کار فرما رہنا چاہئے، کیونکہ خدا مل گیا تو سبھی کچھ مل گیا۔ ؎

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد

قرب بادشاہ کے بعد ملک میں اور کسی شے کی حسرت باقی نہیں رہتی، کیونکہ اس کے بعد جو چاہو مل جاتا ہے۔

2. اس کے دوسرے معنی ہیں، طاعت اور عبادت کے ذریعے قرب و وصال کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا۔

امام ابو البرکات نسفی حنفی (ف ۷۱۰؁ھ) لکھتے ہیں:

استعیرت لما یتوسل بهالي الله تعالٰي من فعل الطاعات وترك السيئات (مدارك)

حضرت ابن عباس (ف ۶۸؁ھ) فرماتے ہیں:

طلبوا إلیه القرب في الدرجات بالأعمال الصالحة

امام ....... (ف ۵۰۲؁ھ) فرماتے ہیں:

حقيقة الوسيلة إلي الله تعالٰي مراعاة سبيله بالعلم والعبادة وتحوي مكارم الشريعة وھي كالقربة (مفردات)

امام بیضاوی (ف ۷۹۱؁ھ) لکھتے ہیں:

أی ما نتوسلون به وثوابه وانزلفي منه من فعل الطاعات وترك المعاصي (تفسير انوار التنزيل)

جلالین میں ہے:

ما يقربكم إليه من طاعته (جلالين)

امام رازی (ف ۶۰۶؁ھ) لکھتے ہیں:

فالمراد طلب الوسيلة إليه في تحصيل مرضاته وذلك بالعبادات وبالطاعات (تفسير كبير)

ان سب عبارتوں کا حاصل وہی ہے جو ہم نے شروع میں لکھا ہے، لیکن ان کا بھی خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ:

اعمال صالحہ کے ذریعے وہ مقامِ قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو 'الوسیلة' كے نام سے مشہور ہے، گو تنہا اس كے مکین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ گرامی ہو گی، لیکن وہ بالا صالۃ ہوں گے باقی رہا بالتبع؟ سو دوسروں کے لئے بھی یہ ممکن ہے، کیونکہ دوسروں کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ''معیت'' کا ذِکر احادیث اور قرآن میں ملتا ہے: شارح مصابیح علامہ تور پشتی (ف ۶۰۰؁ھ) نے الوسیلہ کی جو وجہ تسمیہ بتائی ہے اس سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ تمام طاعات کا حاصل یہی قربِ الٰہی ہے جو ''الوسیلۃ'' کے نام سے مشہور ہے:

ملا علی قاری حنفی مکی (ف ۱۰۱۴؁ھ) لکھتے ہیں:

قال التور پشتی: ھي في الأصل ما يتوسل به إلي الشئ ويتقرب به إليه..... وسيت تلك المنزلة من الجنة بھا لأن الراصل إليھا يكون قريباًمن الله وفائزاً بلقائه (مرقات)

حضرت شاہ ولی اللہؒ (ف ۱۱۷۶؁ھ) نے ان ہی اعمالِ صالحہ اور مسنونہ کا نام 'سکینہ اور وسیلہ' رکھا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہؓ (ف ۳۵؁ھ) نے حضرت ابن مسعودؓ (ف ۳۳؁ھ) کے متعلق جو یہ فرمایا تھا:

انه اقربھم الي الله وسيلة (وہ دوسرے صحابہ کی بہ نسبت بہ اعتبار 'وسیلہ' خدا سے نزدیک تر ہیں) کا مفہوم بھی یہی ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں:

وشرع للأول الوضوء ولغسل وللثاني الصلٰوة والأذكار والتلاوة وإذاجتمعتا سميناه 'سكينة ووسيلة' وھو قول حذيفة في عبد الله بن مسعود رضي الله تعالٰي عنھما: لقد علم المحفوظون من أصحاب محمد ﷺ انه أقربهم إلي الله وسيلة (حجة الله ابواب الاحسان ص ۵/۲)

علامہ سخاویؒ (ف ۹۰۲؁ھ) نے امام مادردی اور امام ابو الفرج سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں حضرت ابو زید 'الوسیلہ' کے معنی محبت کے کرتے ہیں۔

اب آئیے! اس سلسلے کی آیات کا ہم مطالعہ کریں:

پہلی آیت:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابتَغوا إِلَيهِ الوَسيلَةَ وَجـٰهِدوا فى سَبيلِهِ...٣٥﴾...سورة المائدة
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈھو اور اس کی راہ میں جہاد کرو (ترجمہ احمد رضا خاں بریلوی)

اس کے حاشیہ پر جناب نعیم مراد آبادی لکھتے ہیں:

جس کی بدولت تمہیں اس کا قرب حاصل ہو۔ (خزائن العرفان)

اس آیت سے پہلے ذکر ہے جو خدا اور رسول کے دشمن اور تخریب کار ہیں ان کو تہس نہس کر دو یادیس بدر کر دو، ہاں اگر توبہ کر لیں تو اور بات ہے، اس کے بعد مندرجہ بالا آیت کا ذِکر ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو، کہیں تم پر یہ آفت نہ آئے، گو اسلام لے آئے ہو لیکن کامل اطمینان کے لئے ضروری ہے کہ خدا کے مقربین میں شامل ہونے کی آپ خوب کوشش کریں، یعنی قرب الٰہی حاصل ہو گیا تو صرف دنیا کی بات نہیں اگلے جہاں کا کھٹکا بھی نہیں رہے گا۔ بس یہاں ''الوسیلہ'' سے مراد وہی ''مقامِ رفیع'' ہے جو جنت میں ہے یا وہ اعمالِ صالحہ ہیں، جو اس 'نبوی الوسیلۃ' تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ ان سے بہرحال اہلِ بدعت کا وسیلہ مراد نہیں ہے، کیونکہ ان ''وسیلوں'' میں تو اہل جاہلیت کو بڑا ہی رسوخ حاصل تھا، مکے اور مدینے کے عالیشان مقابر ان کی اِسی 'وسیلہ پرستی' اور وسیلہ جوئی کی آماجگاہیں تھیں، جن کے مسمار کرنے کا حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو اور حضرت علیؓ نے حضرت اسدی کو حکم دیا تھا (مسلم) اگر اس کے بعد بھی خدا نے دنیا کو پھر اِسی ''الوسیلہ'' کی طرف دعوت دی ہے تو بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے؟ کیونکہ وہ لوگ فرشتوں وغیرہ کے حضور اپنا خراجِ عقیدت پیش کر کے ان کو خدا کے حجور اپنا 'وسیلہ ہی تو بناتے تھے، چنانچہ قرآن نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ کہتے ہیں۔

﴿ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّ‌بونا إِلَى اللَّـهِ زُلفىٰ...٣﴾...سورة الزمر
کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کر دیں۔ (احمد رضا خاں کا ترجمہ)

بہرحال ہمارے نزدیک ''وَابتَغوا اِلَیْهِ الْوَسِيْلَة'' کا مفہوم وہی ہے جو حضور نے بتایا ہے کہ وہ بہشت میں خدا سے قریب ر اور سب سے اونچا مقام ہے یا یہ کہ سچی پیاس کے ساتھ اور نہایت شیفتگی کے عالم میں اس کی اطاعت کی جائے تاکہ 'محمدی الوسیلۃ' ہاتھ آجائے۔

علامہ سخاوی (ف ۹۰۲؁ھ) نے امام ماوردی اور امام ابو الفرج سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابو زید الوسیلہ کے معنی ''المحبة'' كے كيا کرتے تھے یعنی خدا سے محبت کی جائے۔

والقول الثاني إنها المحبة أي تحببوا إلى الله (القول البديع)

اس کا بھی حاصل یہی ہے کہ صرف اس کی تلاش ہی مطلوب و محبوب ہو کیونکہ ''الوسیلہ'' کا مقام انہیں مل سکے گا جو عشاقِ برحق ہیں، اور ان کے لئے خدا سے دوری ناقابلِ برداشت ہے۔ خدا سے دور رہ کر جن کا گزارہ ہو سکتا ہے یا جو لوگ خدا سے ورے ورے کے بدعی وسیلوں سے بہل سکتے ہیں، ان کے لئے تو 'الوسیلہ' جیسے مقامِ رفیع کی ضرورت ویسے بھی نہیں رہتی۔

دوسری آیت:

﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ يَدعونَ يَبتَغونَ إِلىٰ رَ‌بِّهِمُ الوَسيلَةَ أَيُّهُم أَقرَ‌بُ...٥٧﴾...سورة الإسراء
یہ لوگ کہ جن کو مشرکین پکار رہے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف ذریعہ ڈھونڈھ رہے ہیں کہ ان میں کونسا زیادہ مقرب بنتا ہے۔

بخاری میں ہے کہ حضرت ابنِ مسعود ری اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ یہ آیت جماعتِ عرب کے حق میں نازل ہوئی جو جنات کے ایک گروہ کو پوجتے تھے اور وہ جنات اسلام لے آے اور ان کے پوجنے والوں کو خبر نہ ہوئی۔ (کنز الایمان احمد رضا خاں)

اس آیت سے پہلے ہے کہ جن کو تم سمجھتے ہو، پکارو، لیکن وہ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ تو خود رب کے ہاں قرب (الوسیلۃ) حاصل کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا:

﴿وَيَر‌جونَ رَ‌حمَتَهُ وَيَخافونَ عَذابَهُ...٥٧﴾...سورة الإسراء
اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (احمد رضا خاں)

یعنی جن کو تم اپنی امیدوں کا سہارا سمجھتے ہو، وہ تو خود رب العٰلمین کے در کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور مارے ڈر کے کانپ رہے ہیں، جن کی اپنی حالت یہ ہو۔ وہ تمہارا وسیلہ کیا بنیں گے؟

امام زمخشری حنفی نے (ف ۵۲۸؁ھ) اس کے دو معنی لکھے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ: وہ اسی امر کا لالچ کرتے ہیں کہ ان میں سے کون خدا کا زیادہ مقرب بنتا ہے اور یہ طاعت اور خیر و صلاح میں زیادہ سے زیادہ کوشش کے ساتھ۔

فکأنه قيل يحرصون إليهم يكون أقرب إلى الله تعالٰى وذلك بالطاعة وازياد الخير والصلاح (كشاف)

تفسير جلالین میں بھی اسی معنی کو اختیار کیا گیا ہے:

(یبتغون) یطلبون (إلى ربهم الوسيلة) القربة بالطاعة (أيهم) بدل من واؤ يبتغون أي يبتغيها الذي ھو (أقرب) إليه۔

امام بیضاوی (ف ۷۹۱؁ھ) نے بھی اسی مفہوم کو پسند کیا ہے:

ھٰؤلاء الآلھة  يبتغون إلى الله القرابة بالطاعة (أيهم أقرب) بدل من واؤ يبتغون أي يبتغي من ھو أقرب منهم إلى الله الوسيلة فكيف بغير الأقرب (ويرجون رحمته ويخافون عذابه) كسائر العباد فكيف تزعمون أنهم آلھة (بيضاوي)

حضرت ابنِ مسعودؓ نے واضح فرما دیا ہے کہ یہاں کیا وسیلہ مراد ہے۔ یعنی اسلام اور ایمان قبول کیا ہے (بخاری) یعنی وہ تو اسلام کے ذریعے خدا کے قرب کے حصول کے لئے بیتاب ہیں مگر یہ نادان ہیں کہ ان کے ذریعے قربِ خدا کے متمنی ہیں۔ بہرحال آیت کا سیاق سباق اور روایت بخاری اس امر میں بالکل واضح ہیں کہ یہاں ''الوسیلہ'' سے مراد، ''اہل بدعت'' کا ''بدعی وسیلہ'' نہیں ہے بلکہ اسلام ہے (فہو المراد)

جواب، سوال نمبر ۲:

کسی پاک جگہ پر دفن ہونے یا کرنے کا جذبہ برا نہیں لیکں چنداں مفید بھی نہیں۔ الا ان یشاء اللہ۔

حضرت ابو الدرداء (ف ۳۳؁ھ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سلمان فارسی (ف ۳۵؁ھ) کو لکھا کہ:

اَنْ ھَلُمَّ إلی الأرض المقدسة فكتب إليه سلمان أن الأرض لا تقدّس أحدا وإنما يقدس المنسان عمله (موطا مالك باب جامع القضاء والكراھية)

سرزمین پاک میں تشریف لے آئیے! حضرت سلمانؓ نے جواب میں لکھا کہ: زمین کسی کو پاک اور مقدس نہیں بناتی، اصل میں انسان کے عمل ہی اس کو مقدّس بناتے ہیں۔

مکہ اور مدینہ یا سرزمین بیت المقدس سے بڑھ کر اور کون سی جگہ پاک اور مقدس ہو سکتی ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ لاکھوں ابو جہل، ہزاروں یہودی، اور بے شمار مشرکین ان میں مدفون ہیں۔ بلکہ آپ سُن کر حیران ہوں گے کہ جہاں مسجد نبوی ہے، یہاں پہلے قبریں تھیں (بخاری باب ھل یُنبش قبور مشرکی الجاھلية) شہر مدینہ مسجد نبوی، نمازی اور امام محمد رسول اللہ ﷺ اور مقتدی اور نمازی ابو بکر و عمر و عثمان وعلی اور دوسرے عشرہ مبشرہ میں سے عظیم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ بلکہ سب سے محیر العقول یہ ''حقیقت کبریٰ'' کہ بعد میں خود محبوب رب العٰلمین بھی اِسی جگہ میں ہمیشہ کے لئے آرام فرما ہوئے۔ اور یہ بھی نوید سنائی کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا ٹکڑا بہشت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔

ما بین بیتي ومنبري روضة من رياض الجنة (بخاري۔ مسلم۔ ابو ھريره) اس كے باوجود کیا ان بد نصیبوں کو اس کا کچھ فائدہ پہنچا؟

آپ کہیں گے کہ: وہ تو سرے سے مسلمان نہیں تھے، ہم کہتے ہیں کہ، ٹھیک ہے، وہ کافر تھے اس لئے اصل بات انسان کا عمل رہا، اگر یہ نہ ہو تو اس کا کچھ فائدہ نہیں، گندگی کو جتنا دھوئیں پاک نہیں ہو گی، ہاں میلا کپڑا صاف ہو گا مگر دھونے سے، گناہوں کا میل بھی اپنے اعمالِ صال۹ہ اور توبہ کے صابن سے ہی دُھل سکے ا، اور کسی طرح نہیں، اس لئے پاک جگہ لے جا کر اسے دفن کیا جائے یا قرآن جیسی پاک کتاب ہمراہ رکھ دی جائے اس سے اس کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ مٹی بحیثیت مٹی، تو جو کر سکتی ہے، یہ کرتی ہے کہ عبد مومن کو مرحبا کہتی ہے اور فاجر یا کافر جب اس کی گود میں پہنچتا ہے تو اسے کہتی ہے، دفع ہو۔

لا مرحباً ولا أھلاً

پھر اس کی خوب مرمت کرتی ہے۔ (ترمذی، ابو سعید خدریؓ)

وہ زمین پاک ہو یا ناپاک، مقدس ہو یا مطہر بہرحال وہ اپنا فرض اسی طرح ادا کرتی ہے جیسے اسے حکم ہوا ہے۔ اس لئے جو لوگ 'مقدس جگہ' کی تلاش میں رہتے ہیں وہ دراصل سستی بخشش کی وہ میں رہتے ہیں، اگر وہ ویسے 'رحمت' کر دے تو وہ مختارِ کل ہے جہاں تک اس کے احکام اور شرائع کا تقاضا ہے، وہ یہی ہے کہ کچھ لے کر جاؤ گے تو کچھ بن جائے گا، ورنہ وہ ''مفت'' میں دودھ پلانے سے رہی۔ واللہ اعلم۔

مودودیت، کفاءت، حرمتِ مصاہرت

ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

1. ہمیں آپ سے گہری دلچسپی ہے مگر سنتے ہیں کہ آپ 'مودودی' صاحب کے مقلد بھی ہیں۔ اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید حرام ہے توان کی کیوں جائز ہے؟

2. رسائل و مسائل حصہ دوم میں مولانا مودودی نے 'شادی بیاہ میں کفاءت کا لحاظ' کے عنوان سے 'فقہی کفاءت' کی ضرورت اور اہمیت کے لئے نقلی اور عقلی دلائل دیئے ہیں۔

نقلی دلائل:

نقلی دلائل میں یہ حدیثیں لکھی ہیں۔

لا تنکحوا إلا الأكفاء (دار قطنی وبیھقی) یا علي ثلث لا بالصلٰوة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأیم إذا وجدت کفاء (ترمذی۔ حاکم) تخیروا لنطفکم وأنکحوا الأکفاء (حوالہ درج نہیں) قول عمرؓ: لأنعن فروج ذوات الأحساب إلامن الأکفاء۔ (کتاب الآثار امام محمد)

عقلی دلیل:

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: عقل کا صریح تقاضا ہے کہ رشتہ بے جوڑ نہ ہو۔ اخلاق، دین، خاندان، معاشرتی اقدار مثلاً عزت و حیثیت و مالی حالات میں مماثلت کم و بیش ہی سہی، ضرور ہونی چاہئے ورنہ نباہ شایانِ شان مشکل ہو گا۔ یہ باتیں کہاں تک صحی ہیں؟

3. ایک شخص اگر اپنی بیوی کی ماں سے ناجائز تعلق قائم کرتا ہے تو کیا اس پر اس کی بیوی حرام ہو جاتی ہے؟ بینوا توجروا (ملخصا)

الجواب

1. تقلید:

مولانا مودودی سے حسنِ ظن رکھتا ہوں کہ موصوف

1. اہلِ علم ہیں، اس لئے ان کی علمی بصیرت، تجربات اور تخلیقات سے استفادہ کرتا ہوں مگر ان سے اختلاف کرنے کو ناجائز تصوّر نہیں کرتا، کیونکہ جیسا کہ دوسروں کا حال ہے۔ ویسے ہی مولانا بی معصوم یا محفوظ عن الخطاء نہیں ہیں۔ نہ وہ خود اپنی عصمت کے قائل ہیں۔ بلکہ اختلاف کا حق دیتے بھی ہیں اور مانگتے بھی ہیں، جسے سمجھنے کی بہت کم کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے ناحق ان پر لے دے ہوتی رہتی ہے جو مجھے اچھی نہیں لگتی کیونکہ جس کے وہ مدعی نہیں ہیں، اسی کی ان کو سزا دی جا رہی ہے۔

دراصل مولانا مودودی ایک آزاد حنفی ہیں، جیسے شاہ ولی اللہ اور مولانا عبد الحی لکھنوی۔ جس طرح احناف ان دونوں بزرگوں کے اختلاف کو 'شاذ' تصور کرتے ہیں اسی طرح وہ ان کے اختلاف سے بھی بدکتے ہیں، بہرحال یہ ان کے گھر کا مسئلہ ہے، یہ جانیں یا وہ، ہمیں مولانا کے صرف 'اقامتِ دین' کے پہلو سے دلچسپی ہے۔ باقی رہے آپ کے دوسرے پہلو؟ وہ سو بعض قابلِ اخذ ہیں اور بعض قابلِ ترک۔ واقول کما قال مجاھدو ابن عباس۔

لیس أحد بعد النبي ﷺ إلا یؤخذ من قوله ويترك إلا النبي ﷺ (جزء القرأة بخاري ص ۷)

2. دوسرا یہ کہ مولانا موصوف 'اقامت دین' کے لئے کوشاں ہیں، اس لئے اس میں ان سے تعاون کرنے کو سعادت بلکہ دینی فریضہ تصور کرتا ہوں جس طرح کہ ہمارے صادق پوری بزرگوں نے حضرت سید احمد شہیدؒ کے ساتھ تعاون کیا اور پھر اس کا حق ادا کر دیا اور جس طرح بعض مسائل اختلاف کا طوفان کھڑا کر کے سید شہید کی تحریکِ اقامتِ دین کو نقصان پہنچا کر کچھ دین پسندوں نے کچھ ہوش مندی کا ثبوت نہیں دیا تھا، وہی اندیشہ ہمیں یہاں بھی ہے، جو اختلاف علمی ہو مبارک ہوتا ہے جو سیاسی اغراض اور مسلکی عصبیت اور مصالح کے محور پر گھومتا ہے وہ حجاج کی تلوار ثابت ہوتا ہے۔ جس سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ پس اگر آپ نے ان حدود کو ملحوظ رکھا تو پھر آپ کا اختلاف بھی رحمت اور اتفاق بھی مبارک ورنہ' یہ رحمت نہ وہ مبارک)

2. مسئلہ کفاءت:

ہمارے نزدیک اسلام میں 'دین اور خلق' کے سوا کفاءت میں اور کوئی چیز ملحوظ نہیں ہے، مولانا مودودی یا دوسرے فقہائے کرام علیہم الرحمۃ نے مزید جن امور کی نشاندہی فرمائی ہے۔ انہیں میں سرپرستوں کی مقامی صوابدید اور احتیاطی تدابیر کی بات تصور کرتا ہوں جیسا کہ ہر سرپرست اپنی اولاد کے سلسلے میں سوچتا ہے، ہاں اگر کوئی صاحب ان کو شرعی قیود تصوّر فرماتے ہیں، تو ہمیں ان سے اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ خود مولانا مودودی بھی سب شرائط میں ان سے متفق نہیں ہیں۔

مولانا مودودی نے جن دلائل کا ذِکر فرمایا ہے ان میں سے اکثر ثبوت کی حد تک کمزور ہیں اور کافی کمزور ہیں اور جو صحیح ہیں، وہ فقہاء کی مصطلح کفاءت میں واضح نہیں ہیں۔

حدیث اول:

یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے، اس کا راوی مبشر بن عبید ہے۔ دار قطنی نے یہ روایت ذکر فرما کر کہا ہے کہ: مبشر متروک ہے (دار قطنی ۳۹۲) امام احمد ابن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ اس کی حدیثیں جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں، امام ابن القطان فرماتے ہیں کہ بات وہی ہے جو امام احمد نے فرمائی ہے۔

وأسند اللبیھقي في المعرف عن أحمد بن جنبل أنه قال أحاديث مبشر بن عبيد موضوعة كذب انتھى قال ابن القطان في كتابه وھو كما قال (نصب الراية ص ۱۵۶/۳)

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں یہ راوی جھوٹا ہے۔

إسنادہ واہٍ لأن فيه مبشر بن عبيد وھو كذاب (الدراية ص ۲۲۲)

اس کا دوسرا راوی حجاج ہے، ضعیف بھی ہے اور ضعیف راویوں کے سلسلے میں تدلیس بھی کرتا ہے۔

وھو ضعیف ویدلس علی الضعفاء (نصب الراية ص ۱۹۶/۳)

دوسری حدیث:

یہ روایت ترمذی اور مستدرک حاکم میں ہے، امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں اس کی سند ضعیف ہے۔

أخرجه الترمذي والحاكم بإسناد ضعيف (الدراية ص ۲۲۲)

امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ روایت غریب ہے، سند متصل نہیں ہے (یعنی منقطع ہے)

حديث غريب وما أرى إسناده متصلا (ترمذي ص ۱۲۷/۱)

کیونکہ محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب کا سماع دادے سے ثابت نہیں ہے۔

رواية عن جده مرسلة (تقريب ص ۴۶۳)

اگر سند متصل ہو تو اس کی روایت حسن رہتی ہے، صحیح کے درجہ کی نہیں ہوتی۔

قال ابن القطان: فأرٰى حديثه حسنا يعني لا يبلغ الصحة (ميزان ص ۶۶۸/۳)

اس سے نچلا راوی جُہنی ہے امام ابو حاتم فرماتے ہیں مجہول ہے (تہذیب)

تیسری روايت:

یہ روایت حضرت عائشہؓ سے مرو ہے، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی میں ہے۔ امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے (جامع صغیر ص ۱۲۹/۱) لیکن یہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ اس کا ایک راوی حارث بن عمران جعفری ہے، امام ابنِ حجر فرماتے ہیں یہ ضعیف ہے، ابنِ حبان فرماتے ہیں یہ صاحب حدیثیں گھڑا کرتے تھے (تقریب ص ۸۹) امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ راوی ضعیف ہے، اصل میں یہ روایت منقطع (مرسل) ہے۔ (میزان ص ۴۳۹/۱)

امام زیلعی حنفی فرماتے ہیں یہ روایت حضرت عائشہؓ، حضرت انسؓ اور حضرت عمرؓ سے روایت کی گئی ہے مگر یہ سب ضعیف ہیں اور اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہیں۔

وھذا روي من حديث عائشة ومن حديث أنس ومن حديث عمر بن الخطاب من طرق عديدة لھا ضعيفة (نصب الراية ص ۱۹۷/۳)

جامع صغیر میں بحوالہ ابنِ عدی اور ابن عساکر بھی یہ روایت ذکر کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی (ض) نشان لگا دیا ہے یعنی ضعیف ہے ص ۱۲۹/۱)

چوتھی روایت:

یہ روایت جیسا کہ مولانا موصوف نے فرمایا ہے، کتاب الآثار (امام محمد) میں ہے لیکن اس کا ایک راوی مجہول ہے۔

سند یہ ہے:

أخبرنا أبو حنیفة عن رجل عن عمر ابن الخطاب الحديث (كتاب الآثار باب تزويج الأكفاء)

اس لئے یہ روایت بھی قابلِ احتجاج نہیں ہے۔

فقہی کفاءت:

یہ تو احادیث کی روایتی حیثیت ہے، باقی رہی معنوی حیثیت؟ سو وہ اس مفہوم میں ناطق نہیں ہیں جو فقہاء یا مولانا موصوف نے بیان کی ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کفو سے مراد 'دین اور لقب' میں جوڑے کے مابین مناسب مماثلت ہے! کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تعلیم دی ہے، اسے عملاً بھی متشکل کر کے دکھایا ہے۔ آپ نے قریشی خاتون کی شادی غیر کفو میں اور وہ بھی ایک غلام سے کر دی تھی۔

جب حدیثیں بیان کی جائیں تو ضروری ہوتا ہے کہ ان کی روایتی حیثیت بھی بیان کی جائے، کیونکہ اس کے بغیر نہ طمانیت حاصل ہوتی ہے نہ اتمامِ حجت ہوتا ہے۔ جس کا یہاں التزام نہیں کیا گیا۔ یہ حدیثیں زیادہ تر نصب الرایہ سے ماخوذ ہیں اور اس میں ان کی روایتی حیثیت بھی مذکور ہے۔

عقلی دلیل:

عقل و درایت مشعلِ راہ ہے، منزل نہیں ہے اس لئے بیان کردہ احادیث کے سلسلے میں 'وجوہِ طمانیت' تلاش کرنا تو مبارک ہوتا ہے۔ لیکن وہ کتاب و سنت پر قاضی نہیں ہوتی۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے عقل کے ذریعے کچھ محاکمے منقول ہیں، مگر وہ قرآن و حدیث کی عدم موجودگی کی بات ہے، گو یہ ایک مقامِ معذرت تھا تاہم ائمۂ دین نے اس کا خیر مقدم نہیں کیا، اور ''اہل الرائے'' کے نام سے آپ کا ذِ کر کے انہوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔

امام صاحب کے بعد آپ کے تلامذہ اور مقلدین نے اس کو دلیل بنا کر بہت سے ایسے اصول بنا ڈالے جن کے ذریعے واضح اور صحیح سے پیچھا چھڑانا آسان ہو جاتا ہے: قال الشاہ عبد العزیز محدث الدہلوی۔

من اللطائف التي قلما ظفر بھا جدلي لحفظ مذھبه ما اخترعته المتأخرون لحفظ مذھب أبي حنيفة وھي عدة قواعد يردون بھا جميع ما يحتج به عليهم من الأحاديث الصحيحة (فتاويٰ عزيزيه ص ۷۰)

حضرت شاہ ولی اللہؒ کا نریہ ہے کہ یہ رنگ معتزلیوں کی وجہ سے حنفیوں میں عام ہوا۔

ولا یعلم أن أول من أظھر ذلک فیهم المعتزله وليس عليه بناء مذاهبهم ثم استطاب ذلك المتأخرون (حجة الله ص ۱۲۸)

خاص کر حضرت امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں ''نظر'' کے تحت اس کے لئے جو راہ ہموار کی ہے متاخر احناف نے اس سادہ سی راہ کو اور کشادہ بنا دیا ہے، ماضی قریب میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے احکامِ دینیہ کی حکمت اور فلسفہ بیان کت ہوئے جو اسلوب اختیار کیا ہے، اس سے گو احادیث کارو تو بہت کم ہوتا ہے تاہم اس سے دل کے بجائے دماغ کو زیادہ غذا ملتی ہے جو بہرحال کسی بھی وقت غلط ہو سکتی ہے، پیر رومی کے نزدیک یہ پائے چوبیں ہے۔ اس لئے اکابر اہلِ حدیث کا یہ نظریہ ہے کہ جہاں تک شاہ ولی اللہ محدث کا تعلق ہے اس سے تو ہمیں خصوصی دلچسپی ہے لیکن حکیم، صوفی اور فلسفی شاہ ولی اللہ کی حیثیت سے محترم ہونے کے باوجود وہ ہمارے درد کی دوا نہیں ہیں۔

متداول عقل و حکمت کے سلسلے میں یہ گزارشات ہم نے صرف اس لے عرض کی ہیں کہ، یہ بلا عام ہے، مولانا موصوف نے بھی اپنی نگارشاتِ عالیہ میں اس سے زیادہ کام لیا ہے۔ جیسا کہ یہاں پر بلکہ روایات کے سلسلے میں مولانا جو تساہل برتتے ہیں، وہ بھی صرف اسی عقل و درایت کے سہارے پر برتتے ہیں کیونکہ جب آپ اس پہلو سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو پھر روایات کی روایتی حیثیت سے بھی وہ بحث کرنے کی ضرورت محسوس نہیں فرماتے جس سے بہرحال ہم مطمئن نہیں ہیں۔ گویا بالکلیہ ہم اس پہلو کو بھی مسترد نہیں کرتے اور نہ جزوی حد تک ہم اس کی افادی حیثیت کے منکر ہیں لیکن ہم نے یہ محسوس کیا ہے کہ ذہن اور عقل و خرد کے اس کھیت سے وہ صدیق اور قدسی صفات گروہ نہیں ابھر سکتا جو ''حزب اللہ'' کہلا سکتا ہے، اور ان کے دیکھے سے خدا یاد آسکتا ہے۔ باتوں سے دل تو شاید کوئی موہ لے لیکن دل کی مشعلیں بھی اس سے روشن ہو جائیں؟ مشکل ہے۔ عہدِ حاضر میں کمی علم و حکمت کی نہیں ہے بلکہ انہی دیوانوں کی ہے۔

جس عقلی دلیل کے ذریعے فقہی کفاءت کا اثبات کیا گیا ہے، ہمارے نزدیک وہی اس کے ابطال کے لئے بھی کافی ہے۔ کفاءت کی تقریباً تقریباً ساری اقسام عہدِ جاہلیت میں بھی پائی جاتی تھی، نہیں تھی تو دینی اور اخلاقی مکرمت کی بات نہیں تھی حالانکہ اصل یہی تھی، اس لئے اسلام نے اسی بات پر زیادہ زور دیا ہے کہ بس اسی کو ملحوظ رکھو کیونکہ عائلی زندگی کی عافیتیں اسی سے وابستہ ہیں۔ اس کے بغیر حسب و نسب اور جمال کی باتیں، صرف باتیں ہی رہتی ہیں۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہی کفاءت کا التزام کرنے کے باوجود اتنی رسوائیاں دیکھی ہیں کہ 'الامان والحفیظ' جہاں مسنون کفاءت کو ملحوظ رکھا گیا ہے وہاں یہ ضرور محسوس ہوا ہے کہ نباہ نہ ہو سکنے کے باوجود 'بدتمیزی' دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ یوں ہوا جیسے ایک گرہ تھی، جسے بس کھول دیا گیا۔ اور بس۔ ہمارے نزدیک 'مسنون کفاءت' کی یہ بھی ایک کرامت ہے، فللّٰہ الحمد۔

کفؤ:

کفؤ کسی چیز کی نظیر یا ہم پلّہ ہونے کا نام ہے۔ باقی رہا یہ کہ: کس حیثیت سے اور کن کن پہلوؤں سے؟ سو حنفی فقہاء نے تو اس کو 'بحرِ محیط' بنا ڈالا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں کہ: نسب، حریت اسلام، دیانت مال اور حرفت کے لحاظ سے کفؤ ملحوظ رہنی چاہئے۔

والكفاءة تعتبر نسبًا ..... وحرية وإسلامًا وأبوان فيھما كالآباء وديانة وما لا وحرفة (كنز العقائق ص ۱۰۰ فصل في الأكفاء كتاب النكاح)

ستم ظریفی یہ کہ حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کفاءت میں باقی تو سب کچھ معتبر ہے لیکن 'دین' میں مماثلت ضروری نہیں کیونکہ اس کا تعلق آخرت سے ہے دنیا سے نہیں ہے۔

وقال محمده لا يعتبر لأنه من أمور الآخرة فلا تبتني أحكام الدنيا عليه (هدايه ص ۳۲۰/۳)

نہایہ میں ہے کہ ایک روایت امام ابو حنیفہ سے بھی یہی ہے۔

روي عن أبي حنیفة رواية أخری أنه مع محمد في أنه غیر معتبر (نھایه)

فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ''کفؤ'' صرف مردوں میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، عورتوں میں ضروری نہیں۔

من جانب إلي الرجل لأن الشريفة تأبي أن تكون فراشًا للدني ولذا لا تعتبر من جانبھا (الدر المختار شرح تنوير الابصار ص ۱۶۷)

اس کے علاوہ پاک و ہند کے مسلمانوں کے متعلق تو لکھا ہے کہ اب یہاں ''نسب'' کے لحاظ سے کفو کی تلاش ہی فضول ہے کیونکہ اب یہ یقینی نہیں رہا۔

وإنما خص الکفائة في النسب بالعرب لأن العجم ضیعوا أنسابھم (شرح وقایہ ص ۲۸/۲)

کچھ اکابر نے عجم میں بھی بعض انساب کی نشاندہی کی ہے، مر اس سلسلے میں یقینی بات کہنا کچھ آسان کام نہیں ہے۔

اگر فقہاء کی تجویز کردہ کفاءت کو ملحوظ رکھا جائے تو ملّی وحدت عجمی چھوت چھات کے ہاتھوں پٹ جائے۔ بہرحال ہمارے نزدیک کفاءت مطلوب ہے لیکن صرف (۱) دین (۲) اور اخلاق میں۔ مختصراً دلائل یہ ہیں۔

قرآن:

سب سے پہلے تو کفاءت کے تصور سے ہی بالا تر ہو کر قرآن نے 'دل پسند' کی قید لگائی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ (البقره)

اور عورتیں تم کو خوش لگیں، دو دو اور تین تین اور چار چار۔

ظاہر ہے یہ بالکل مطلق ہے، اس کو کفاءت سے بوجھل کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس کے بعد موازنہ پیش کیا تو صرف یہ کہہکر کہ:

اَلْخَبِيثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ ج وَالطَّيِّبٰتُ لِلْطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلْطَّيِّبٰتِ ج (پاره ۱۸۔ النور۔ ع۳)

گندی عورتیں گندے مردوں کے لئے ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہوتی ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔

آیت مذکورہ میں جوڑے کی ان خصوصی صفات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ان کے لئے مطلوب ہیں۔

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْض

مومن اور مومنہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔

یہاں بھی تعلق کی بنیاد ''ایمان'' کو قرار دیا گیا ہے۔

پھر خدا کے ہاں سب سے جو محترم ہے وہ متقی ہے۔

اِنَّ اَكرَمَكُمْ عِنْدَ الله اَتْقٰكُمْ (پ ۲۶۔ حجرات۔ ع۲)

جوڑے کے لئے ''معزز'' کی تلاش ہوتی ہے سو خدا کے نزدیک وہ ہوتا ہے جو سب سے متقی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے تلاش بھی اِسی کی چاہئے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة (پ ۲۶۔ حجرات۔ ع۱)

مسلمان تو بس (آپس میں بھائی) بھائی ہیں۔

بھائی بھائی ہونا، بنیادی کفاءت ہے جو کسی دوسری خارجی قید کی متحمل نہیں ہے۔ احادیث سے بھی اس تصور کی تائید ہوتی ہے۔

احادیث:

خاندانی شرافت کفاءت کا جز شمار ہوتی ہے، لیکن ایک صحابی نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ حضور ﷺ ایک عورت مجھے ہاتھ لگی ہے گو بانجھ ہے پر خاندانی ہے اور حسین ہے، کیا اس سے شادی کر لوں؟ فرمایا نہیں، تین دفعہ یہ باتیں ہوئیں، آخر میں آپ نے فرمایا: جو بجے جننے والی ہو وہ کرو۔

1. جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال إني أصبت امرأة ذات حسبٍ وجمالٍ وإنھا لا ولد فَاَتَزَوَّجُھَا؟ قال لا.... فقال زوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم (ابو داؤد)

معلوم ہوا کہ دینی پہلو ملحوظ رکھنا چاہئے جو آخرت کی سرفرازی کا بھی موجب ہو۔ اور دنیوی عافیت کا بھی۔

2. نکاح میں بھی چار چیزیں سامنے ہوتے ہیں (۱) وہ مال و دولت والے ہوں (۲) خاندانی ہوں (۳) حسین ہوں (۴) اور دیندار ہوں۔ حضور کا ارشاد ہے: بس دیندار خاتون حاصل کیجیے۔

فاظفر بذات الدین (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ)

3. ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے۔ حسب (خاندانی شرف) عمل صالح کا نتیجہ بھی ہو بلکہ اس کا تعلق زیادہ تر دھن دولت کی مقدار پر ہے۔

الحسب المال والکرم التقوی (حاکم عن سمرۃ)

بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں:

إن أحساب أھل الدنیا الذي یذھبون إلیه المال (نسائي واحمد عن بريدة)

گویا کہ جس کی جیب بھاری ہوتی ہے، دنیا اسے معزز اور خاندانی تصوّر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ''نسب اور حسب'' کو کفؤ شرعی کا حصہ قرار دینا، اسلامی روح اور معنویت کے خلاف ہے، کیونکہ ایمان اور عمل صالح کو جو بنیادی حیثیت حاصل ہے، وہ اب معیار نہیں رہیں گے بلکہ وہ بن جائیں گے جو جاہلی تھے اور جن کو اسلام مٹانے کے لئے آیا تھا۔ کیونکہ یہ سب نخوتِ جاہلیہ کی باتیں ہیں۔

قال ﷺ لا فضل لعربي علی عجمي ولا لعجمي علی عربي ولا لأبیض علی أسود ولا لأسود علي أبيض إلا بالتقوى (زاد المعاد)

4. حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس شخص کے دین اور اخلاق سے آپ خوش ہیں اگر وہ رشتہ مانگے تو اسے دے دو، اسے دے دو، اسے دے دو ، تین بار کہا۔ ورنہ فتنہ اور فساد جنم لیں گے۔

5. إذا أتاکم من ترضون دینم وخلقه فأنكحوه إلا تفعلوه تكن فتنة وفساد كبير قالوا يا رسول الله وإن كان فيه؟ قال إذا جاء كم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه ثلٰث مرات (ترمذي وقال حسن غريب)

تعامل:

جن روایات میں کفو، کا ذِکر آتا ہے، وہ مجمل ہیں، حضور ﷺ اور صحابہ کے تعامل کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔ ذیل کی روایات فقہی کفاءت کی تائید نہیں کرتیں۔

حضرت فاطمہ بنت فہریہ قریشی خاندان سے تھیں مگر آپ نے اسے حضرت اسامہؓ کے نکاح میں دلایا تھا۔ (زاد المعاد ص ۳۱)

ابا ہند حجام (سینگی لگا کر خون نکالنے والے) اور غلام تھے، آپ نے اس کے رشتے کے لئے عرب کے معزز قبیلے بنو بیاضہ سے سفارش کی تھی: انکحوا اباھند وانکحوا الیه (زاد المعاد ص ۳۱ /۴)

حضور ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت حجش کا نکاح حضرت زید بن حارثہ سے کر دیا تھا جو غلام تھے (زا المعاد ص ۳۱/۴ فصل فی الکفاءۃ)

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کی ہمشیرہ (ہالہ بنت عوف) سے شادی کی تھی۔

عن حنظلة عن أمه قالت رأيت أخت عبد الرحمٰن بن عوف تحت بلال (دار قطني)

حضرت ابو حذیفہ بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بھتیجی حضرت سالم کو بیاہ دی تھی جو ایک انصاری خاتون کے غلام تھے۔

إن أبا حذیفة..... تبّن سالما وأنكحه ابنته أخيه.... وھو مولى امرأة من الأنصار (بخاري وغيره)

ان روايات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کفؤ کا کوئی مفہوم ہے بھی تو وہ شافعی اور حنفی فقہاء کی کفاءت نہیں ہے بلکہ صرف دین اور اسلامی کیریکٹر اور اخلاق کی کفاءت ہے۔

جس کفاءت کی فقہاء نے نشاندہی کی ہے، ہمارے نزدیک ایمان، اور حسنِ عمل کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ہے، اگر رشتے ناطے میں فقہی کفاءت کے بجائے ''نبوی اور دینی کفاءت'' کو ضروری قرار دیا جاتا تو آج مسلمان کا بازارِ عمل یوں نہ سرد پڑ جاتا، مگر افسوس! ان کو نظر انداز کرنے کے بعد دنیا آج دوسرے دنیا دارانہ تکلفات کے اہتمام میں لگ گئی ہے۔ اور اس کے جو نتائج آئے ہیں آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں، کاش! کوئی آنکھیں کھولے۔!

3. ساس سے ناجائز تعلق:

یہ حرمتِ مصاہرت کامسئلہ ہے، شوافع اور اہل حدیث اس کے قائل نہیں ہیں، حنفی قائل ہیں۔ صحیح مسلک پہلا ہے: کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے: حرام، حلال کو حرام نہیں بناتا۔

عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال لا یحرم الحرام الحلال (ابن ماجه) باب لا یحرم الحلال اللال والدار قطنی ص ۴۰۲/۲)

علامہ سندھی لکھتے ہیں اس کا راوی عبد اللہ بن عمر ضعیف ہے۔ (حاشیہ ص ۶۲۲/۱)

لیکن یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ نافع میں ثقہ ہے جیسا کہ یہاں ہے۔

قال الدارمی قلت لابن معین کیف حاله في نافع قال صالح ثقه (ميزان ص ۴۶۵/۲)

یہ روایت حضرت عائشہؓ سے بھی مرفوعاً مروی ہے۔

لا یفسد الحلال الحرام (دار قطنی ص ۴۰۲/۲)

اس روایت میں پس منظر بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ ایک عورت سے ناجائز تعلق قائم کرنے کے بعد کیا وہ اس کی لڑکی یا ماں سے نکاح کر سکتا ہے؟ جواب میں فرمایا: حرام، حلال کو حرام نہیں کرتا۔ یعنی کر سکتا ہے۔

گو اس روایت میں عثمان بن عبد الرحمٰن متروک راوی ہے، تاہم نفس مضمون تعدد طریق کی وجہ سے قابلِ احتجاج ہے، موقوف آثار مزید اس کے مؤید ہیں۔

امام بخاریؒ نے تعلیقاً اور بیہقی نے موصولاً ابن عباسؓ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ ایک شخص اپنی ساس سے ناجائز تعلق قائم کرتا ہے (اس کا کیا حکم ہے؟) فرمایا، اس پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی۔

رجل غشی أم امرأته قال تخطي حرمتين ولا تحرم عليه امرأته (فتح الباري، قال الحافظ اسناده صحيح)

حضرت علیؓ سے کسی نے اس کے متعلق پوچھا تو جواب دیا: لا یحرم الحرام الحلال (فتح الباری)

اسی قسم کے ایک واقعہ پر حضرت سعید بن المسیب اور عروہ بن زبیر نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔

الرجل یفجر بالمرأة ھل تحل له أمھا فقالا: لا یحرم الحرام الحلال (التعلیق ص ۴۰۲/۲ المغنی عن الفتح)

احناف نے حرمت مصاہرت کے بارے میں جو علت بیان کی ہے بعض صورتوں کو انہوں نے خود ہی مستثنیٰ قرار دیا ہے مثلاً خود موطؤۃ۔

حرمتِ مصاہرت کے سلسلے میں بات صرف 'زنا' کرنے کی نہیں بلکہ وہ فرماتے ہیں شہوت سے چھو لینا یا شرمگاہ کو دیکھ لینا بھی حرمت مصاہرت کا موجب ہے، بظاہر یہ بات غیرتمندانہ محسوس ہوتی ہے اصل میں یہ ایک ذکاوت حس کی بات ہے مسئلہ کی نہیں ہے۔

اس کے یہ معنی نہیں کہ، یہ فعل برا نہیں ہے بلکہ اس کی معصیت یقینی ہے اور سنگین ہے لیکن یہ غلط ہے کہ، اس کی وجہ سے جو جائز بات ہے وہ بھی ناجائز ہو جائے۔ یہ تو ایسا ہوا جیسے ایک شخص جائز کاروبار بھی کرتا ہے اور اس سے الگ سودی کاروبار بھی رکھتا ہے، اب اس سے کہا جائے کہ وہ 'جائز کاروبار' بھی چھوڑ دے۔ یا ایک شخص جہاں سچ بولتا ہے، وہاں وہ جھوٹ بھی بول لیتا ہے۔ اب اسے کوئی کہے کہ یہاں آپ سچ بھی چھوڑ دیں۔ ظاہر ہے کہ یہ غلط ہے۔ صحیح طریقِ کار یہ ہے کہ اس سے جھوٹ اور سود ہی چھوڑنے کو کہا جائے اور ایسا مؤثر اقدام کیا جائے کہ وہ ان برائیوں سے باز آجائے۔ بس یہی ہم یہاں چاہتے ہیں کہ یہ انتہائی سنگین جرم اور شرمناک معصیت ہے، اس سے توبہ کرنا چاہئے یا اسے گھر میں آنے سے روک دینا چاہئے۔ لیکن اس کی سزا ایک بے گناہ لڑکی کو .............. آخری لائن واضح نہیں ہے۔