دور حاضر کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ''مرد اور عورت ، مرتبہ و مقام کے لحاظ سے ہر میدان میں برابر ہیں اور اگر نہیں تو انہیں برابر ہونا چاہیے۔'' پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آج کا مہذب مرد، عورت کو ''نصف بہتر'' کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہو کہ آج کل حسن کے مقابلے تو صرف عورتوں ہی کے ہوتے ہیں۔لہٰذا مرد اس میدان میں عورت کی برابری کیونکر کرسکتے ہیں؟

پھر یہ بات کچھ آج کے دور سے مخصوص بھی نہیں۔ جب بھی کوئی بے خدا تہذیب اپنے جوبن پر آئی تو وہ عورت کو گھر سے نکال کر بازار لے آئی اور اس کی عصمت ایک فروختنی چیز بن کر رہ گئی۔ اس سے جہاں ایک طرف فحاشی کو فروغ حاصل ہوا تو دوسری طرف عائلی نظام کے انجر پنجر تک ہل گئے اور بہت سے جدید معاشرتی مسائل پیدا ہوگئے۔

موضوع کا تعیّن:
آج کی عورت معاشی، معاشرتی اور سیاسی سب میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مردوں کے برابر کے حقوق کا مطالبہ کررہی ہے۔ وہ کیا کچھ مانگتی ہے اور اسکا یہ مطالبہ درست ہے یا غلط؟ ہم سردست اس طویل بحث میں نہیں پڑتا چاہتے ۔ ہم اس وقت صرف دو باتوں کا جائزہ لیں گے:
(1) آیا قرآن نے مرد و عورت کو ہر مقام پر برابر رکھا ہے یا کسی میدان میں مرد کی فوقیت یا بالادستی بھی تسلیم کی ہے۔
(2) ''طلوع اسلام'' پکار پکار کر یہ کہتا ہے کہ ''اس کا مخاطب جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے، جو اسلام سے متنفر ہوتا جارہا ہے۔پرویز صاحب کی زندگی بھر یہ کوشش رہی کہ وہاس جدیث تعلیم یافتہ اور اسلام بیزار طبقہ کو قریب تر لانے کی کوشش کریں۔ آپ نے اس کا طریق یہ اپنایا کہ قرآنی ایات کی تاویل اسی ''مہذب طبقہ'' کی خواہش کے مطابق فرمایا کرتے اور اس فن میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ جن قرآنی آیات سے مرد کی فوقیت کا کوئی پہلو نکلتا ہے، اس کی آپ نے کیا تاویلات پیش فرمائی ہیں اور وہ کس حد تک درست ہیں؟

اسلام کے عطا کردہ حقوق:
پیشتر اس کے کہ ہم اصل موضوع کی طرف آئیں، ضروری معلوم ہوتا ہے، اس بات کا بھی جائزہ لے لیا جائے کہ اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں عورت کی حیثیت کیا تھی اور اسلام نے عورت کو کیا کیا حقوق عطا کیے؟ اور وہ درج ذیل ہیں:
c 1۔ دور جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتاتھا اور ا س کی وجوہ دو تھیں:
d (الف) بچی پر خرچ کرنے میں بخل (ب) سسر بننے کی عار سے بچاؤ.......
e اسلام نے اس فعل کو قتل کے برابر جرم قرا ردیا۔

f 2۔ عورت متروکہ میراث سمجھی جاتی تھی ، جو دوسری جائیداد کی طرح ورثہ میں تقسیم ہوتی تھی۔ اور اس کے بیٹے ہی اسے اپنے نکاح میں لے آتے تھے۔ اسلام نے ان دونوں باتوں کی مخالفت کی اور باپ کی منکوحہ سےنکاح کر حرام قرار دیا۔

3۔ عورت پہلے محروم الارث تھی۔ اسلام نے اس کو وراثت میں باقاعدہ حصہ دار بنایا۔

g 4۔ دور جاہلیت میں ایک مردوس دس تک بیویاں رکھا سکتا تھا۔ اسلام نے اس تعداد کو چار تک محدود کردیا۔

5۔ عورت نکاح کے معاملہ میں بالکل بے بس تھی۔ اسلام نے اسے شوہر کے انتخاب کا حق دیا۔

6۔ مرد جب چاہتا عورت کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا۔ اسلام نے طلاق پرکڑی پابندیاں عائد کردیں اور ساتھ ہی شوہر پر دوران عدت کے قیام و طعام کی ذمہ داری ڈال دی۔

7۔ اسلام نے حق مہر کو فرض قرار دیا جبکہ اس سے پیشتر اسے ضروری نہ سمجھا جاتا تھا۔

8۔ اسلام نے عورت کو حق ملکیت دیا جبکہ پہلے وہ خود مملوکہ اور متروکہ مال تصور ہوتی تھی۔ اب عورت خاوند سے علیحدہ اپنا مال یا جائیداد رکھ سکتی اور حسب خواہش و ضرورت اسے خرچ کرسکتی ہے۔

9۔ ایلاء، ظہار اور طلاق کے ذریعہ عورتوں کو خاصا پریشان اور تنگ کیا جاتا تھا وہ لوگ نہ عورت کو بساتے نہ آزاد کرتے تھے۔ اسلام نے ان حرکتوں کا شدید نوٹس لیا اور کڑی پابندیاں عائد کردیں۔

10۔ اسلام میں عورت کو نکاح ثانی کی اجازت ہی نہیں دی گئی، بلکہ اسے ایک مستحسن فعل قرار دیا گیا اور بے شوہر رہنے کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔

11۔ اسلام نے عورت کو معاشی لحاظ سے بالکل آزاد کردیا اور اخراجات کی تمام تر ذمہ داری مردوں کے ذمہ ڈال دی اگر عورت مالدار ہے اور اس کا شوہر غریب ، تو بھی اخراجات کی ذمہ داری مرد ہی کے سر پر ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنی مرضی سے چاہے تو خاوند اور اولاد پر خرچ کرسکتی ہے اور یہ از راہ احسان ہوگا۔

12۔ اس دور میں لونڈی غلاموں کا رواج عام تھا۔ مالک غلاموں سے تو مزدوری کروا لیا کرتے تھے، جبکہ لونڈیوں کو فحاشی کے ذریعہ کما لانے پر مجبور کرتے تھے۔ اسلام نے اس بد رسم کو حکماً بند کردیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

مرد کی فوقیت کے گوشے:
ان تمام تر اصلاحات و حقوق کے باوجود زندگی کے چند گوشے ایسےبھی تھے، جن میں قرآن نے مرد کی بالادستی کو تسلیم کیاہے۔ ان میں سب سے اہم گوشہ عائلی نظام کی سربراہی ہے۔ گھر کے انتظامی امور میں مرد کو اس کی بیوی اور اس کی اولاد سب پر فوقیت حاصل ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی وحدت بھی اس وقت تک تعمیری نتائج پیدا نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کا سربراہ ایک نہ ہو۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی گوشے ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔

اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایسے مقامات پر ''طلوع اسلام'' کیا توجیہات پیش کرتا ہے۔

مرد کی فوقیت اور ''طلوع اسلام''
مرد اور عورت کا درجہ برابر ثابت کرنے میں''طلوع اسلام '' نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔پرویز صاحب نے معاشرہ کے ایک فرضی کردار ''طاہرہ'' کو اپنی بیٹی منتخب فرمایا ہے اور خود اس کے والد بنتے ہیں۔ طاہرہ کی طرف سے سوالات بھی ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں اور جوابات تو بہرحال ہیں ہی۔ آپ نے ''طاہرہ کے نام خطوط '' نامی کتاب(i) لکھ کر ماڈرن عورتوں کو یقین دلایا ہے کہ قرآن کی رُو سے تمہارامرتبہ مردوں سے کسی صورت کم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں پرویز صاحب نے جن نکاحت پر روشنی ڈالی ہے، وہ یہ ہیں:

1۔ عورت کی پیدائش :
عورت کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم میں مذکور ہے:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوارَ‌بَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَ‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِ‌جَالًا كَثِيرً‌ۭا وَنِسَآءً...﴿١﴾...سورۃ النساء
''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اس سے اس کی بیوی بنائی پھر ان دونوں سےبہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔''

اس آیت میں نفس واحدہ سے مراد آدم ؑ ہیں اور نفس واحدہ کے زوج سے ان کی بیوی حوّا ؑ ہیں۔ پھر ان دونوں کے ملاپ سے بنی نوع انسان پیدا ہوئی ۔ لیکن پرویز صاحب ''نفس واحدہ'' سے مرا دوہ پہلا جرثومہ حیات لیتے ہیں جو سمندر کے کنارے کی کائی میں آج سے اربوں سال پہلے پیدا ہوا تھا اور ''خلق منھا زوجھا'' سے مراد اس جرثومہ کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا ہے۔ پھر ان دونوں ٹکڑوں کے امتزاج سے اللہ نے بہت سی خلقت پھیلا دی۔

اس تاویل سے آپ نے یہ تو ثابت کردکھایا ہے کہ پیدائش کے لحاظ سے مرد و عورت دونوں کی حثییت یکساں ہے۔ مگر ہمیں افسوس ہے کہ یہ توجیہہ و تاویل حقائق کے خلاف ہے، کیونکہ :
1۔ آج بھی جراثیم کی پیدائش کا سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے کہ ایک جرثومہ کے دو ٹکڑے ہوجاتے ہیں، پھر ان دونوں میں سے ہرایک کے ۔ اور یہ سلسلہ بدستور آگے چلتا ہے۔ ان میں امتزاج ہوتا ہی نہیں۔
2۔ قرآن نے لفظ ''زوج'' استعمال فرمایا ہے، یعنی آگے نسل انسانی توالد و تناسل کے واسطہ سے بڑھی ہے۔ لہٰذا ان دو ٹکڑوں میں سے کسی پر بھی ایک دوسرے کے ''زوج'' کالفظ استعمال نہیں ہوسکتا۔

ان وجوہ کی بناء پرپرویز صاحب کی بحیثیت پیدائش مرد و عورت کی یکساں حیثیت ثابت کرنے کی دلیل درست نہیں۔

2۔ مرد کی حاکمیت :
قرآن مجید میں ہے:
﴿ٱلرِّ‌جَالُ قَوَّ‌ٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوامِنْ أَمْوَ‌ٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّـٰلِحَـٰتُ قَـٰنِتَـٰتٌ حَـٰفِظَـٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّـٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُ‌وهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِ‌بُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُواعَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ...﴿٣٤﴾...سورۃ النساء
''مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے اموال سے (بیوی بچوں پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں وہ ہیں جو فرمانبرداری اور مرد کی غیر موجودگی میں الہ کی حفاظت میں مال و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں نافرمانی کا ڈر ہے تو انہیں سمجھاؤ، انہیں خوابگاہوں میں علیحدہ رکھو اور انہیں زدوکوب کرو، پھر اگر وہ فرمانبردار بن جائیں تو ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔''

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کی قوامیت کے درج ذیل پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے:
1۔ مرد کے عور پر قوام یا حاکم ہونے کی دو وجوہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ مردوں کو عورتوں پر (بلحاظ جسم و قوت) فضیلت حاصل ہے اور دوسرے اس لیےکہ بیوی بچوں پر اخراجات کی ذمہ داری مردوں کے ذمہ ڈالی گئی ہے۔
2۔ نیک عورتوں کی بھی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مردوں کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ دوسرے مرد کی غیر موجودگی میں اپنی عصمت کی حفاظت کرتی ہیں۔
3۔ اور نافرمان عورتوں کے لیے بتدریج تین اقدامات بتلائے گئے ہیں۔یعنی پہلے انہیں زبانی سمجھایا جائے۔ اگر باز نہ آئیں تو پھر ان سے مرد علیحدہ رہیں۔ اگر پھربھی باز نہ آئیں تو ان کو مار کر درست کریں۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو سب باتیں چھوڑ دیں اور انہیں ایذا نہ دیں۔

اس پوری آیت میں مردوں کی عورتوں پربالادستی کاذکر ہے اور اس آیت کا ہر ایک حصہ دوسرے کی بھرپور تائید کررہا ہے۔ اب یہ باتیں اس مفہوم میں بھلا پرویز صاحب کو کیسے گوارا ہوسکتی تھیں؟ لہٰذا اس آیت کی تشریح سے پیشتر آپ نےد رج ذیل نکات پیش کرکے دل کا غبار ہلکا کیا ہے۔
مروجہ تراجم سب غلط ہیں۔ کیونکہ یہ عربی تفسیروں کا سا ہی مفہوم بیان کرتے ہیں۔
عربی کی تفسیریں بھی غلط ہیں۔ کیونکہ وہ روایات کی تائید میں لکھی گئی ہیں۔
اور روایات بھی سب غلط ہیں اگریہ صحیح ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کو چاہیئے تھا کہ ایک مستند نسخہ(ii) اُمت کے حوالے کرجاتے، جیسا کہ قرآن حوالے کرگئے تھے۔

لہٰذا اس آیت کا جو مفہوم یا تراجم، یہ تفسیریں (خواہ کسی زبان کی ہوں) اور یہ روایات، جو پیش کرتی ہیں سب کچھ یکسر غلط ہے۔

اس تردید کے بعد آپ نے جو صحیح مفہوم پیش فرمایا، اس کے نکات درج ذیل ہیں:
اس آیت میں بات میاں بیوی کی نہیں، بلکہ معاشرہ کے عام مردوں اور عام عورتوں کی ہورہی ہے۔
''قام الرجل علی النسآء'' کے معنی ''مرد نے عورت کو روزی مہیا کی'' اور یہ مرد کی ذمہ داری ہے۔ اس میں فضیلت کی کوئی بات نہیں۔
''فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ'' کے معنی ایک کی دوسرے پرفضیلت ہے، مرد کی عورت پر ، عورت کی مرد پر۔ مرد اپنے دائرہ کار کے لحاظ سے افضل اور عورت اپنے دائرہ کار کے لحاظ سے افضل ہے۔

گویا آپ نے آیت مندرجہ بالا کے پہلو نمبر 1 سے مرد کی افضیلت یا حاکمیت کو یوں خارج کرکے طاہرہ بیٹی کو خوش کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ:
1۔ اگر سب تراجم، تفسیریں اور روایات غلط ہیں، تو آپ کی اس تشریح کی صحت کی کیا دلیل ہے؟
2۔ لغوی لحاظ سے بھی ''قوام کا معنی''رزق مہیا کرنے والا '' نہیں۔ بلکہ ''قائم رہنے یا رکھنے والا '' ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿كُونُواقَوَّ‌ٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ...﴿١٣٥﴾...سورۃ النساء
''ہمیشہ انصاف پر قائم رہو۔''

امام راغب ''قَوَّ‌ٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ'' کا معنی راعی اور محافظ بیان کرتے ہین اور صاحب منجد اس کا معنی ''خوبصورت قد والا، معاملہ کا ذمہ دار، کفیل، معاملہ کی ذمہ داری پوری کرنے پر قادر، امیر'' بتاتے ہیں۔ پرویز صاحب خود بھی ''قام الرجال علی المرأة'' کے معنی ''لغات القرآن'' میں ''مرد نے عورت کی کفالت کی، اس کی ضروریات کو پورا کیا اور ان کا ذمہ دار ہوا'' لکھتے ہیں۔ گو یا اس لفظ میں رزق مہیا کرنے سے زیادہ ذمہ داری اور نگہداشت کا پہلو نکلتا ہے اور یہی بات ہم کہتے ہیں۔

3۔ کون کس پر افضل ہے؟ اس بات کا جواب خو داسی آیت میں ہے۔ ''ٱلرِّ‌جَالُ قَوَّ‌ٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ'' کے ساتھ ہی ''بما'' آیا ہے۔ جو ایک تو اس کی وجہ بیان کررہا ہے اور دوسرے یہ وضاحت کررہا ہے کہ یہ فضیلت مردوں کو حاصل ہے اور عورتوں پر حاصل ہے۔

4۔ فضیلت کی دوسری وجہ الہ تعالیٰ نے یہ بتلائی ہے کہ مرد عورت کے ذریعہ معاش کا وسیلہ ہے اور پرویز صاحب نے اس کتاب کے صفحہ 39 پر بیان فرمایا ہے کہ ''یہ معیار تمہارا اپنا پیدا کردہ ہے، اللہ نے ایسا نہیں کہا۔'' پھر فٹ نوٹ میں لکھتے ہیں:
''اگر یہ اصول صحیح مان لیا جائے کہ کمانے والوں کو کھانے والوں پر فضیلت ہوتی ہے تو بڑے بڑے مدبر ین، مفکرین اور ایجادات کرنے والوں پر کاشتکاروں کو ہمیشہ فضیلت ہونی چاہیے اور میدان جنت میں لڑنے والوں کا درجہ مزدوروں سے بہت نیچا ہونا چاہیے کیونکہ ، مفکر، مدبر اور سپاہی اناج پیدا نہیں کرتے۔''

غور فرمایا آپ نے کہ عقل کجرو انسان کوکہاں سے کہاں لے جاتی ہے؟ کاشتکار زر نقد وصول کرکے اپنا غلہ بیچ دیتا ہے۔ جب اس نے پورا عوض لے لیا تو اب فضیلت کی کیا بات باقی رہ گئی؟ یہی حال مزدور کا ہے ۔ لیکن خاوند اخراجات کےعوض بیوی سے کیا لیتا ہے؟ جیسی ضرورت مرد کو عورت کی ہے ویسی ہی عورت کو مرد کی بھی ہے۔ جنسی اشتہاء مرد و عورت دونوں میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ اب مرد کا عورت پر خرچ کرنا فضیلت نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور اس فضیلت کی اصل وجہ یہ ہےکہ عورت اگرچہ مالدار ہو اور خاوند غریب ہو، تب بھی اخراجات کی ذمہ داری مرد ہی کے ذمہ رہیں گی۔ الاّ یہ کہ عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے کچھ خرچ کرے۔ اور یہ اس کا احسان ہوگا۔

3۔ عورت کی فرمانبرداری :
اب اس آیت کے دوسرے حصہ کی طرف آئیے جو یہ ہے:
﴿فَٱلصَّـٰلِحَـٰتُ قَـٰنِتَـٰتٌ حَـٰفِظَـٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ...﴿٣٤﴾...سورۃ النساء
''بس جو نیکی بیبیاں ہیں تو وہ مردوں کی فرمانبردار ہیں اور مردوں کی غیر موجودگی میں اللہ کی حفاظت میں اپنے مال و آبرو کی خبرداری کرتی ہیں۔''

اب پرویزی نکتہ افرینیاں ملاحظہ فرمائیے:
1۔ ''مردوں کے مالوں سے عورتوں کی ضروریات زندگی پوری ہوں گی اور ان کی صلاحیتیں نشوونما پائیں گی۔ (فالصٰلحٰت)''
2۔ ''وہ اپنی صلاحیتوں کو اس مصرف میں لائیں جس کے لیے وہ خاص صلاحیتیں پیدا کی گئی ہیں یہ معنی ہیں۔ ''قٰنتٰت'' کے۔''
3۔ ''حَـٰفِظَـٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ'' یعنی جب اللہ کے قانون نے اس طرح عورتوں کی حفاظت (پرورش) کا سامان بہم پہنچا دیا کہ وہ اس چیز کی حفاظت کرسکیں جو پوشیدہ پور پر ان کے سپرد کی گئی ہے (یعنی جنین کی حفاظت)'' 1

سو یہ ہے وہ ''صحیح مفہوم '' جو آپ کو نہ کسی ترجمہ میں مل سکتا ہے ، نہ عربی یا غیر عربی تفسیر میں، اور نہ ہی کسی روایت میں مل سکتا ہے۔ اس حد تک تو پرویز صاحب کی یہ بات یقیناً درست ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا ان کی یہ تشریح بھی درست ہے یا نہیں؟ تو یہ یقیناً غلط ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
1۔ نکتہ نمبر 1 میں ضروریات زندگی کے پورا ہونے سے جو صلاحیتوں کےنشوونما پانے کو لازم و ملزوم قرار دیا گیاہے، یہ اصول غلط اور مشاہدہ کے خلاف ہے۔ ''صٰلحٰت'' عورتوں کی ایکمستقل اور علیحدہ صفت ہے۔ جس کاضروریات زندگی کے پورا ہونے نہ ہونے سے کچھ تعلق نہین ہے۔ ایسی عورت بھی صالح ہوسکتی ہے جس کی ضروریات پوری نہ ہورہی ہوں اور ایسی عورت ، جس کی ضروریات زندگی پوری ہورہی ہوں، وہ مفسدہ بھی ہوسکتی ہے۔

2۔ ''قٰنتٰت'' پربحث کرتے ہوئے پرویز صاحب نے خود لغات القرآن میں آخری نتیجہ یہ پیش کیا ہے کہ ابن الفارس نے ان کے بنیادی معنی ''اطاعت کرنا'' لکھے ہیں اور منجد میں اس کے معنی یہ درج ہیں: ''اطاعت کرنا، کمال خاموشی کے ساتھ نماز میں کھڑا ہونا۔ خدا تعالیٰ کے آگے خشوع خضوع کرنا۔'' لہٰذا پرویز صاحب کا یہ معنی کہ ''اپنی مضمر صلاحیتوں کو مصرف میں لانا'' ان کی ذاتی اختراع ہے ۔ جوصرف مطلب برآری کے لیےکرلیا گیا ہے۔

3۔ ''اللہ کا معنی'' اللہ کا قانون'' کرنا بھی آپ کے مخصوص تجریدی نظریہ ارسطو کی غمازی کررہا ہے۔جسے لغت سے کچھ تعلق نہیں۔

4۔ جنین کے لیے قرآن نے ہر مقام پر حمل کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ پھر آخر اس مقام پر ''غیب'' کالفظ لانے کی کیا مصلحت تھی؟

یہ تفسیر فرمانے کے بعد پرویز صاحب نے ایک اور نکتہ پیدا کیا ہے کہ:
''یہ صفات (یعنی صالحات، قٰنتٰت اور حٰفظٰات) قرآن نے سورہ احزاب 33(؍35) میں مردوں اور عورتوں کے لیے مشترکہ طور پربیان فرمائی ہیں۔ تو اگر قانتات کے معنی عورتوں کو مردوں کا فرمانبردار لیا جائے تو کیا پھر قانتین کےمعنی یہ ہوں گے کہ مرد بھی عورتوں کی فرمانبرداری کریں؟''2

اب دیکھئے اس مقام پر آپ نےمتعلقہ آیت درج نہیں فرمائی، بلکہ کسی دوسرے مقام (یعنی صفحہ 41) پر درج فرمائی ہے۔ وجہ یہ کہ یہاں ''قانتین اور قانتات'' یعنی ''مردوں اور عورتوں کے مطیع و فرمانبردار ہونے'' کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور آیت کے الفاظ درج کرنے سے چونکہ اصلیت کھل سکتی تھی، لہٰذا صرف ترجمہ پراکتفاء فرمائی ہے۔ جبکہ زیر بحث آیت میں چونکہ پہلے مردوں کا ذکر چل رہا ہے، لہٰذا اس مقام پر ''قانتات'' کے ساتھ ''قانتین'' کےلفظ بھی موجود ہوتے تو پرویز صاحب کا مقصد پورا ہوسکتا تھا۔مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔

4۔ مردوں کا عورتوں کو سزا دینے کا اختیار:
اب مندرجہ بالا آیت کے تیسرے حصہ کی طرف آئیے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُ‌وهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِ‌بُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا...﴿٣٤﴾...سورۃ النساء'' 3
''اور جن عورتوں سے سرکشی کا تمہیں خطرہ ہوتو ان کو نصیحت کرو اور ان کو خوابگاہوں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو زدوکوب کرو پھر اگر اطاعت کرلیں تو ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔''

اب اس حصہ آیت کی تفسیر میں پرویز صاحب نے جو نکات پیش فرمائے، وہ یہ ہیں:
1۔ ''بات میاں بیوی کی نہیں ہورہی بلکہ معاشرہ کے عام مردوں اور عورتوں کی ہورہی ہے یعنی معاشرہ کے مرد معاشرہ کی عورتوں کورزق مہیا کریں۔
2۔ اس کے بعد بھی اگر عورتیں اپنے خصوصی فرائض سے بلا عذر سرکشی اختیار کریں، جیسا کہ آج کل بعض مغربی ممالک میں ہورہا ہے کہ عورتوں نے مرد بننے کے چاؤ میں بلا عذر اپنے فرائض کو چھوڑ دیا ۔ جس سے نسل انسانی کاسلسلہ ہی منقطع ہوجاتا ہے، تو معاشرہ ایسا انتظام کرے کہ ان کو سمجھائے۔
3۔ اگر عورتیں سمجھانے پر باز نہ آئیں تو پھر انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دیا جائے، یہ ایک قسم کی نظر بندی کی سزا ہوگی۔
4۔ اور اگر عورتیں اس پر بھی باز نہ آئیں تو پھر انہیں عدالت کی طرف سے بدنی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ 4

دیکھا آپ نے کہ:
1۔ آیت کے چند اکٹھے اور مربوط الفاظ میں ضمیریں کبھی تو معاشرہ کی طرف موڑی جارہی ہیں اور کبھی عدالت کی طرف ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ''فعظوھن'' کی ضمیر آخر معاشرہ کی طرف کیوں ہے، عدالت کی طرف کیوں نہیں؟ اور ''واضربوھن'' کی ضمیر، معاشرہ کو چھوڑ کر عدالت کی طرف کیوں چلی گئی؟

2۔ اگر معاشرہ کے عام مرد، معاشرہ کی عام عورتوں کو رزق مہیا کرنے لگیں تو اس سے زیادہ فحاشی کی صورت اور کیا ہوسکتی ہے جبکہ اس حصول رزق کا مقصد بھی ، بقول پرویز صاحب ، عورتوں کی مضمر صلاحیتوں کو نشوونما دینا ہو؟

3۔ ''فعظوھن'' کے تحت اب معاشرہ پر ایک اور ذمہ داری یہ بھی آن پڑی کہ وہ ایسی سرکش عورتوں کو سمجھایا کرے جو مرد بننے کے چاؤ میں اپنے فرائض منصبی چھوڑ دیتی ہیں۔کیونکہ اس سے نسل انقانی منقطع ہوجاتی ہے۔ لیکن پرویز صاحب کی یہ بات بھی مشاہدہ کے خلاف ہے۔ یورپ کی عورتیں، مرد اس لحاظ سے بنتی ہیں کہ وہ مردوں میں آزادانہ اختلاط رکھتی اور ان کی ہی وضع اختیار کرتی ہیں۔ لیکن جہاں تک ان کے ''فرائض منصبی'' پورا کرنے کا تعلق ہے تو یہ کام وہ نکاح سے بھی زیادہ کرتی ہیں۔ چنانچہ لاتعداد حرامی بچے بھی پیدا ہوتے ہیں، ایسے حرامی بچے نجی یاسرکاری تحویل میں پرورش بھی پاتے رہتے ہین، نسل انسانی بھی بدستور چلتی رہتی ہے اور اس میں انقطاع بھی نہیں ہوتا۔ تو پھر یہ نشوز کیا ہوا؟

4۔ عورتوں کو ان کی خواب گاہوں میں چھوڑنے کامطلب ''نظر بندی'' بھی خوب لطیفہ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ نظر بندی کرے گا کون؟ معاشرہ یا حکومت ؟ کیونکہ یہاں میاں بیوی کا تو ذکر ہی نہیں۔

اپنے بیانات کی خود تردید:
لُطف کی بات یہ ہے کہ خود پرویز صاحب نے''مفہوم القرآن'' میں ''وَٱهْجُرُ‌وهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ'' کا مطلب (مفہوم) یہ لکھا ہے:
''تو اگلا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ ان کے خاوند ان سے علیحدگی اختیار کرلیں اور اس نفسیاتی اثر سے ان میں ذہنی تبدیلی پیدا کرنےکی کوشش کریں۔'' 5

گویا''مفہوم القرآن'' کی اس وضاحت نے آپ کے سب کیے کرائےپر پانی پھیر دیا۔ چنانچہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ یہاں بات خاوند اور بیوی کی ہورہی ہے تو معلوم ہواکہ:
1۔ خاوند ہی اپنی بیوی کو رزق دینے کے ذمہ داری ہیں، نہ کہ عام معاشرہ کے عام مرد معاشرہ کی عام عورتوں کو۔
2۔ ''قٰنتٰت'' سے مراد بیویوں کا خاوندون کے لیےفرمانبردار ہونا ہے۔
3۔ ''نشوز'' کا معنی خاوند کی حکم عدولی اور سرکشی ہے، نہ کہ عورت کے اپنے جنسی فرائض سے سرکشی۔
4۔ ''فعظوھن۔ واھجروھن۔ واضربوھن'' میں مخاطب عورتوں کے خاوند ہیں۔ یعنی سرکشی کی صورت میں وہی انہیں نصیحت کریں، پھر وہی ان سے ہم بستری چھوڑ دیں ، پھر بھی باز نہ آئیں تو وہی انہیں مار بھی سکتے ہیں۔
''وَٱهْجُرُ‌وهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ'' کا مطلب ''خاوندوں کا عورتوں سےہم بستری نہ کرنا ہے۔'' نہ کہ (معاشرہ یا حکومت)کا انہیں نظر بند کرنا۔
6۔ روایات و تفاسیر میں جو کچھ درج ہے وہ سب ٹھیک ہےاور پرویز صاحب نے جو کچھ لکھا، وہ غلط ہے۔ (جاری ہے)

حوالہ جات
1. ایضاً صفحہ 55
2. صفحہ 56
3. ایضاً
4. ایضاً صفحہ 57
5. مفہوم القرآن ج1 ص189

i. یہ مضمون اسی کتاب کو پیش نظر رکھا کر لکھا گیا ہے، اور اس میں صفحات کے نمبر بطور حوالہ اسی کتاب کے ہیں۔
ii. طلوع اسلام کے اس اعتراض کامفصل جواب قبل ازیں محدث میں ''حسبنا کتاب اللہ '' کے عنوان سے چھپ چکا ہے۔