بشر ہےخالق عالم کی ایک حسین تخلیق
نہیں یقین جسے ہے وہ کافرو زندیق

وہ اپنے بندوں پہ ہے کس قدر کریم و شفیق
یہ کرتی رہتی ہے قدرت ہی خود بخود تصدیق

عطا کی عقل وخرد بھی اسی نے ہے سب کو
سکھائے اس نے ہی بندوں کو زندگی کے طریق

ہے اس کا فیض ہمیشہ ہی جاری و ساری
نہیں ہے مسلم و کافر کی کچھ وہاں تفریق

ہرایک شکل جدا، رنگ او رنسل جدا
کمال یہ ہے، نہیں ہے ذرا سی بھی تطبیق

ہےنام جس کاخدا، بے نیاز ہے سب سے
نہیں ہے کوئی بھی اس کا شریک بالتحقیق