باخدا دیوانہ باش و بامحمّد ؐ ہوشیار
یہ افسوسناک واقعہ 17 مئی کی شام کو اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران پیش آیا۔ روزنامہ جسارت کے الفاظ ہیں:
''خواتین محاذ عمل اسلام آباد کے ایک جلسے میں صورت حال اس وقت سنگین ہوگئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جیلانی نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے سرور کائناتؐ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اور کہا کہ رسول خداؐ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہوگئی اور جلسے کی فضا کشیدہ ہوگئی۔ عاصمہ جیلانی نے اپنی تقریر میں ''تعلیم سے نابلد'' اور ''اَن پڑھ'' کے الفاظ استعمال کئے تھے۔ لیکن بعد میں پولیس فاؤنڈیشن کے چیئرمین حبیب الرحمان اور شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آفتاب حسین نے عاصمہ جیلانی کے دلائل کی تائید کی۔'' 1

اس کے بعد کے واقعات یوں ہیں کہ:
محترمہ نثار فاطمہ ایم این اے، نے اس بے ادبی رسولؐ کا سخت نوٹس لیا اور اخبارات میں اس کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ حتیٰ کہ بات قومی اسمبلی تک بھی پہنچی ۔ پھر اسی سلسلہ میں انہوں نے ایک مستقل مضمون بعنوان ''شان رسالت اور اس کے تقاضے '' بھی لکھا ، جو روزنامہ جنگ کی دو اشاعتوں (17۔18 جون 1986ء) میں قسط وار شامل ہوا۔ لیکن مغربیت کے پجاریوں نے جن کے نزدیک حب رسولؐ اور احترام رسالت کا یہ جذبہ ، جرم قرار پایاہے، عاصمہ جیلانی کی حمایت اور محترمہ نثار فاطمہ کی تردید میں جوابی مضامین لکھنے ضروری سمجھے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے لفظ ''اُمی'' جس کا متبادل لفظ استعمال کیا جانا ہی توہین رسالت کے اس جرم کا ارتکاب قرار پایا ہے، کی طول طویل لغوی بحثیں چھیڑ کر معاملہ کی سنگینی کو کم کرنے کی ناپاک جسارت اور ناکام کوشش کی ہے۔

قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے لغت کی اہمیت سے کسی کو بھی مجال انکار نہیں، لیکن قرآن مجید کے اکثر و بیشتر الفاظ کا معنی و مفہوم جاننے کے لیے ان الفاظ کو قرآن مجید کے اپنے ہی پیش کردہ سیاق و سباق کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں لفظ ''اُمی'' مختلف صورتوں میں چھ مقامات پر آیا ہے اور ہر مقام پر اس کا معنی و مفہوم اس کے سیاق و سباق نے متعین کیاہے۔ سورة البقرہ آیت 78 میں ارشاد ہوا:
﴿وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّآ أَمَانِىَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿٧٨...سورۃ البقرۃ
''اور بعض ان میں اَن پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔'' (ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری)

اس سے قبل کی دو آیات ہمیں بتلاتی ہیں کہ بات منافقین اور یہود و نصاریٰ کی ہو رہی ہے۔ جبکہ زیر بحث لفظ ''أُمِّيُّونَ'' کی تعریف میں وارد شدہ قرآن کریم کے اپنے ہی آئندہ الفاظ '' لَا يَعْلَمُونَ'' نے ان لوگوں کی جہالت پر مہر تصدیق ثبت کردی اور ﴿إِلَّآ أَمَانِىَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿٧٨...سورۃ البقرۃ'' کے استثناء و حصر نے ان کے نفاق کی قلعی کھول کر رکھا دی ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس جب یہی لفظ ''امی'' رسول اللہ ﷺ کے لیے استعمال ہوا تو یہ آپؐ کا اعجازی وصف قرار پایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّ‌سُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَ‌هُمْ وَٱلْأَغْلَـٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِهِۦ وَعَزَّرُ‌وهُ وَنَصَرُ‌وهُ وَٱتَّبَعُواٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧...سورۃ الاعراف
''وہ جو (محمدؐ) رسول (اللہ) کی، جو نبی امی ہیں، پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہںی اور بُرے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق ، جو ان (کے سر)پر (اور گلے میں) تھے، اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نُور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی پیروی کی، وہی مراد پانے والے ہیں۔''

یہ ترجمہ بھی مولانا فتح محمد جالندھری کا ہے۔ اوّل الذکر مقام پر آپ نے لفظ ''أُمِّيُّونَ'' کا ترجمہ ''اَن پڑھ'' کیاہے جبکہ یہاں اس آیت میں لفظ ''اُمی'' کا ترجمہ ''اُمی'' ہی کیا ہے۔اس میں لغت کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی، ہاں سیاق و سباق کو ملحوظ رکھا گیاہے۔ اور سیاق و سباق صاف بتلا رہا ہے کہ یہاں شان رسالت کا ذکر ہے اور ''اُمی'' ہونا حضورؐ کا وصف ہے، آپؐ کی خوبیوں کی ایک طویل فہرست کے ضمن میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے، تو اس سیاق و سباق میں آپؐ کے لیے یہ انتہائی قابل تعریف ہے، باعث تحقیر ہرگز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں لوگوں کو نہ صرف آپؐ کی اتباع کی دعوت دی جارہی ہے ، بلکہ حضورؐ کے متبعین کو فوز و فلاح کی نوید بھی سنائی جارہی ہے۔ پھر قرآن مجید نے خود ہی دیگر مقامات پر اس بات کی مزید وضاحت بھی کردی اور آپؐ کے ''اُمی'' ہونے کی حکمت بھی بیان فرما دی ہے۔ چنانچہ اہل باطل یہ شک کرسکتے تھے کہ یہ قرآن مجید آپؐ نے خود لکھ لیا ہے، ا س لیے تردید فرما دی کہ:
﴿وَمَا كُنتَ تَتْلُومِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَـٰبٍ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّٱرْ‌تَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ ﴿٤٨...سورۃ العنکبوت
''اور آپؐ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے۔ ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے۔''

اسی طرح شاعری ایک اہم فن ہے، کہا جاسکتا ہے کہ ایسا کلام پیش کرنا حضورؐ کے اس فن کا حصہ ہے۔ لہٰذا آپؐ کے شاعر ہونے کی نہ صرف تردید کی گئی بلکہ اسے حضورؐ کے مقام و مرتبہ ہی کے منافی قرار دیا گیا:
﴿وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ‌ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌وَقُرْ‌ءَانٌ مُّبِينٌ ﴿٦٩...سورۃ یس
''اور ہم نے ان (پیغمبرؐ) کوشعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے، یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پر از حکمت ) ہے۔''

الغرض، یہاں ضرورت طول طویل لغوی بحثوں کی نہیں، سیاق و سباس کو پیش نظر رکھنے کی ہے۔ اور مذکورہ ہر دو مقامات پر لفظ کی یکسانیت ، نیز لغت کے اپنی جگہ درست ہونے کے باوجود، یہ وہ سیاق و سباق ہی ہے کہ جس نے مفہوم میں زمین و آسمان کا سا فرق کردیا ہے۔

علاوہ ازیں، آپؐ ''اُمی'' ان معنوں میں بھی ہیں کہ کسی بھی دنیاوی استاد کے سامنے آپؐ نے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا۔ ہاں بلکہ ''ٱلرَّ‌حْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ ٱلْقُرْ‌ءَانَ ﴿٢﴾ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ ٱلْبَيَانَ ﴿٤...سورۃ الرحمن'' کے تحت آپؐ براہ راست اللہ رب العزت سے فیض یافتہ ہیں اور یہی بات اپؐ کے لیے باعث صد افتخار ہے۔امام کعبہ فضیلة الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اسلامیات کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے 24 جون 1986ء کو فرمایا:
''آپؐ کو نہ صرف قرآن مجید ایسی جامع العلوم کتاب ملی، بلکہ آپؐ کی حدیث کے جامع کلمات اس قدر فصیح و بلیغ ہیں کہ ایک ایک کلمہ میں ہزاروں نکتے پوشیدہ ہیں، اور ایک ایک نکتہ ہمارے لیے روشنی کا معیار۔ پس اس سیاق و سباق سے علیحدہ کرکے (اور آپؐ کے ''اُمی'' ہونے کی وضاحت میں قرآن مجید کے دیگر مقامات سے صرف نظر کرتے ہوئے) اگر آپؐ کو اَن پڑھ کہا جائے گا، تو یہی چیز توہین رسالت کے دائرہ میں داخل ہوکر ناقابل معانی جرم قرار پائے گی''

کیونکہ یہی لفظ ''أُمِّيُّونَ'' کی صورت میں قرآن مجید کے دوسرے مقام پر جہال منافقین یہود و نصاریٰ کے لیے بھی بولا گیا ہے۔ ہاںمگر سیاق و سباق نے یہ واضح کردیا کہ ع


چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک!


سیاق و سباق کی اس مختصر گفتگو کے بعد اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مسٹر عبدالعزیز خالد، ہمارے دیرینہ کرم فرما پروفیسر وارث میر اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس کی مؤکلہ عاصمہ جیلانی نے لفظ ''امی'' کا کیا معنی لیا اور کس سیاق و سباق میں لیا ہے؟ روزنامہ ''جسارت'' کے مطابق اس نے ''تعلیم سے نابلد'' اور ''اَن پڑھ'' کے الفاظ استعمال کئے اور یہ الفاظ آج کل ہمارے ہاں '''غیر مہذب اور جاہل'' کے مفہوم میں مستعمل ہیں۔پھر اس عورت کے شاتم رسول اور دشمن رسول ہونے میں کون سا شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے؟ جبکہ حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں، ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کی تو ایک شخص نے اسکا گلا گھونٹ کر اسے مار ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کا قصاص نہیں لیا اور اس کا خون رائیگاں کردیا۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داؤد مع العون 4؍226، السنن الکبریٰ بیہقی:9؍200، الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ ابن تیمیہ  صفحہ 61)2

اور اگر یہ الفاظ متنازعہ فیہ ہوں (اس لیے کہ بعد میں ان وکلاء حضرات کی طرف سے ان پرکافی لے دے ہوئی ہے۔ اگرچہ ''جسارت '' کی متذکرہ بالا رپورٹ کی روشنی میں اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ 17 مئی کو یہ واقعہ پیش آیا اور 18 مئی کو ''جسارت'' میں یہ خبر شائع ہوئی) تو بھی جس سیاق و سباق میں لفظ ''امی'' کےمترادف الفاظ استعمال کئے گئے، اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ یہ بات تو ان وکلاء حضرات کو بھی تسلیم ہےکہ محترمہ، شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے زہر اگل رہی تھیں۔ پروفیسر وارث میر کے اپنے ہی نقل کردہ الفاظ ہیں:
"Asma Jahangir considered shariat bill was a great danger for women."

اب اگر شریعت بل کے بارے میں اس کا یہ خیال ہے تو صاحب شریعت کے بارے میں اس کی رائے کیا متحقق ہوئی؟ ظاہر ہے، اس نے شریعت بل میں یحیثیت بل کسی سقم کی نشاندہی نہیں کی، جس کا اسے حق پہنچتا تھا (بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔کیونکہ اس نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے، اس کے باوجود اس نے اپنے شوہر کو عام مسلمانون سے بہتر مسلمان قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو روزنامہ نوائے وقت 30جون 1986ء صفحہ آخر)۔ لیکن شریعت بل کو اس وجہ سے عورتوں کے لیے ''خطرہ عظیم'' قرار دینا کہ یہ نفاذ شریعت کے لیے ایک تحریک ہے، شریعت دشمنی نہیں تو اور کیا ہے، اور اس سے وہ صاحب شریعت کی حدی خواں کیونکر ہوگئی؟ قرآن مجید نے تو جس قیاق و سباق میں حضورؐ کو ''اُمی'' کہا ہے، اس میں آپؐ کی شریعت کی اتباع کرنے والوں کو فلاح و کامرانی کی نوید سنائی ہے، لیکن یہاں صاحب شریعت کی شریعت کے نفاذ کو عورتوں کے لیے ''خطرہ عظیم'' قرار دیا جارہا ہے تو اس سے اس کی عداوت رسول ؐ کے علاوہ اور کون سا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ پھر اس گستاخانہ سیاق و سباق (شریعت دشمنی) کا ایک افسوسناک پس منظر بھی ہے۔ کیا یہ عاصمہ جہانگیر ''ویمن ایکشن فورم'' (خواتین محاذ عمل کی وہی سرگرم رکن نہیں جو اس سے قبل قانون شہادت ، مسورہ قصاص و دیت کے خلاف جلوس نکال چکی اور ''سب کچھ 2؍1'' کا مذاق کے بینر لکھ کر اور نعرے لگا کر ارکان اسلام نماز ، روزہ، حج اور زکوٰة ایسے احکام الٰہیہ کا مذاق اڑا چکی ہے؟ اور اگر یہ ساری شریعت دشمن کا رروائیاں آج بھی اخبارات کی فائلوں میں موجود ہیں تو کیوں نہ یہ مطالبہ کیا جائے کہ ان کی پاداش میں اس دریدہ دہن ، گستاخ رسول کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی مقام مصطفیﷺ پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہ ہو۔

اور اس ''انجمن وکالت عاصمہ جیلانی'' سےبھی پوچھا جانا چاہیے کہ ان لوگوں نے ان کی وکالت کرکے شاتم رسول راجپال کی روح کو خراج تحسین پیش کیاہے تو آخر کس خوشی میں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ایک تو اس شریعت دشمن کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی 18 مئی کے روزنامہ ''جسارت'' نے صفحہ اوّل پر لکھا ہے:
''وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آفتاب حسین نےکہا ہے کہ شریعت بل آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کے حقوق پامال کرنے کی سازش ہے۔ وہ آج یہاں خواتین محاذ عمل کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت بل کا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کے لیے نان روٹی کا بندوبست کیاجاسکے۔ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ دینی مدارس میں فقہ کی تعلیم حاصل کرنے والے علماء کی قابلیت محدود ہوتی ہے۔''

گویا یک نہ شد دو شد۔ قطع نظر اس سے کہ شریعت بل کا مقصد کیا ہے؟ اسی شریعت سے منسوب جس شریعت سے یہ بل منسوب ہے، ایک عدالت کے آپ چیف جسٹس رہے ہیں اور شریعت اگر ایسی ہی حقوق کو پامال کرنے والی چیز ہے، تو آپ نے اس عہدہ کوقبول فرما کرقبل ازیں خواتینکے حقوق پامال کرنے کی یہ سازش کیوں کی تھی؟ یا کیا یہ بھی محض نان روٹی کا ایک بندوبست ہی تھا؟ پھر (بالفرض ) دینی مدارس کے لیے یہ بندوبست شجر ممنوعہ کیوں قرار پایا اور اس کی پاداش میں وہ قابل گردن زدنی کیوں ٹھہرے؟ آپ ایک انتہائی باوقار عدالت کے جج رہے ہیں، کیا آپ کی عدالت پروری اور کرم گُستری کا یہی تقاضا ہے کہ دینی مدارس کے طلبائ کے لیے نان روٹی کا بندوبست بھی نہیں ہونا چاہیے، محض اس جرم میں کہ وہ علوم شریعت پڑھتے اور پڑھاتے ہیں؟ شریعت بیزار، اس شخص کو شریعت کورٹ ہی کا چیف جسٹس بنا دینا متعلقہ حکومت کا وہ کارنامہ ہے کہ تاریخ میں سنہری حرفوں سےلکھا جائے گا۔

آپ کی مؤکلہ مسز عاصمہ جہانگیر نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیائے اسلام میں مسلّمہ طور پر قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں، لیکن اس کے باوجود اپنے شوہر کو عام مسلمانوں سے بہتر مسلمان قرار دیتی ہے پھر آپ ہی بتائیے وہ خود کیا ہوئی؟ اور اگر وہ خود مسلمان ہے اور اپنے ہی بقول 14 سال سے وہ اس کے ساتھ رہ رہی ہے، تو بتائیےیہ حدود اللہ کی پامالی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور شریعت کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کو، توہین رسالت کی سزا کے علاوہ، اسے حدود آرڈیننس کے تحت بھی سزا دینے کی سفارش کرنی چاہیے تھی یا اسی کے لب و لہجہ میں گفتگو کرکے اور اس کی حمایت میں کھڑا ہوکر توہین رسالت کے ساتھ ساتھ توہین عدالت کا بھی مرتکب ہونا چاہیے تھا؟ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دور عدالت میں بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں تاہم شکوہ آپ کو علمائے دین سے ہے کہ ''ان کی قابلیت محدود ہوتی ہے''

اور شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے پروفیسر وارث میر صاحب نے عاصمہ جیلانی کی حمایت میں لکھے جانے والے مضمون ''اُمّی کا مفہوم کیاہے؟'' کے ذریعے، اُن کی ''بیداری شعور'' کی اطلاع ہمیں دی ہے۔ لکھتے ہیں:
''اگر شعور کی بیداری کا نام کفر ہے تو پھر پاکستان میں ''گیم'' علماء کے ہاتھ نکل چکی ہے''

چنانچہ ''گیم'' کے علماء کے ہاتھ سے نکلنے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ع
''ہر شاخ پر الّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟''........

...........کی کیفیت نظر آتی ہے اور آپ ایسے باشعور ہر چہار سو بکھرے نظر آتے ہیں کہ جس کے عقل و شعور پرعقل و شعور ہی ماتم کناں ہیں۔ اس ''شعور کی بیداری'' کا ایک قابل فخر نمونہ تو آپ نے اوپر ملاحظہ فرما لیا، ایک مزید نمونہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
یہ آپ کے ہم مشرب عبدالعزیز خالد ہیں۔ عاصمہ جیلانی کے خلاف مضمون تو لکھا آپا نثارفاطمہ نے، لیکن یہ گلے پڑ گئے مولویوں کے، بغیر یہ سوچے سمجھے کہ نہ تو وہ مولوی ہیں اور نہ ہی کسی مسجد کی خطیب ، لیکن غیظ و غضب کا طوفان ہےکہ روکے نہیں رکتا۔ چنانچہ مولویوں کو:
''مذہبی فدائی۔ نام نہاد مذہبی طبقہ۔ جاہلیت و عصبیت کو ہوا دینے والے۔بڑے جابر۔ بڑے مستبد۔ بڑے خون آشام۔ بدمزاج۔ بددماغ۔ پندار و نخوت کے پیکر۔ غرور پارسائی میں اپنے آپے سے باہر ہونے والے ۔ ملوکیت کے حاشیہ بردار ۔ لوگوں کی جان و ناموس کے دشمن۔ تنگ نظر۔ اسلام کے اجارہ دار۔ مذہب کو ذریعہ معاش بنانے والے ۔خوش اخلاقی، روا داری، مروّت و محبت اور مساوات و اخوت سے نفرین۔ اور اس کے علاوہ بھی ڈھیر ساری گالیاں''......................

..................... دے ڈالی ہیں۔ ان کے جس مضمون کا یہ اقتباس آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس کا عنوان ہے:
''شان رسالت اور اس کے تقاضے''


یہ موضوع دیکھئے اور کوثر و تسنیم سے دُھلی ہوئی یہ زبان دیکھئے۔ ''شعور کی بیداری'' اگر اسی کا نام ہے تو پاگل پن کے لیے آپ کو لغت میں کوئی اور لفظ ایجاد کرنا ہوگا۔

محترم، آپ نےمولویوں کی جتنی بھی خوبیاں گنوائی ہیں، افسوس ان میں سے کوئی ایک خوبی بھی ان میں موجود نہیں، ورنہ آپ کی یہ زبان طعن اس قدر دراز کیوں ہوتی؟ اب تک اسے لگام مل چکی ہوتی۔

پاکستان میں علمائے دین کے خلاف یہ محاذ آرائی صرف اس لیے ہے کہ وہ نفاذ شریعت کی بات کرتے ہیں اور شریعت دشمن یہ ٹولہ، شریعت سے اس قدر الرجک ہےکہ اس کا نام سننا بھی گورارا نہیں کرتا۔ چند دن ہی پیشتر 29 جون کو پنجابی عالمی کانفرنس کے سٹیج سے یہ آواز بلند ہوئی ہے کہ:
''شریعت بل کے خلاف فضا تیار کی جانی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ فاشزم کی صورت میں نکلے گا۔''

شریعت کو اس سے بڑی گالی اور کوئی کیا دے گا اور ملک کی نظریاتی بنیادوں پراس سے مہلک وار اس سے بڑھ کر کیا ہوگا؟ لیکن اس کے باوجود اگر یہی بحالی جمہوریت ہے کہ جس کے جو منہ میں آئے بَک دے، تاہم راوی چین ہی چین لکھتی ہے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔ حکمرانوں، پھر وہ وقت جلد آئے کہ تمہیں پچھتانا بھی نصیب نہ ہوگا۔ ہاں لیکن رسول اللہ ﷺ کی خاطر اگر تمہیں عزیز ہے، آپؐ کی شریعت سے کچھ بھی لگاؤ ہے اور اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ میں بھی تم مخلص ہو، تو یہاں شریعت کا نفاذ جلد از جلد کرو۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ شاتمین رسول، اعدائے شریعت اور دشمنان ملک و ملت پھر یوں دندناتے نہیں پھریں گے، ہرایک کو اس کا انصاف جلد ملے گا، اللہ کا قانون سب کے لیے کافی و شافی ہوگا۔ اس دنیا میں تمہیں سردردی سے نجات ملے گی اور آخرت میں تمہارا بھلا ہوگا۔ وما علینا إلاالبلاغ۔


حوالہ جات
1. جسارت، کراچی مورخہ 18 مئی 1986ء
2. مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے ''محدث'' جلد16 عدد5۔6