(ڈاکٹر سید عبد اللہ، ڈاکٹر صغیر حسن معصومی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں

مولانا ماہر القادری، حکیم محمد سعید دہلوی، حافظ نذر احمد)

• پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا لیکن کیا وجہ ہے کہ یہاں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بے زار سا ہے؟

• ہمارے معاشرے میں بے راہ روی جس تیزی سے قوت پکڑتی جا رہی ہے۔ آپ کے خیال میں اس کے اسباب کیا ہیں؟

• بے راہ روی اور دوسری معاشرتی خرابیوں کے تدارک کے لئے آپ کیا طریقۂ کار تجویز کرتے ہیں؟

• کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ فرد اور معاشرہ کی اصلاح کا انحصار تجدید ایمان و عمل پر ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس کا طریق کار کیا ہو سکتا ہے؟

• پاکستان کی غالب اکثریت دین سے جذباتی تعلق رکھتی ہے۔ تجدید و اصلاح میں علماء، اساتذہ اور دانشوروں کی ذمہ داری دوسرے طبقوں سے زیادہ ہے؟ یہ طبقے اصلاح معاشرہ میں کیوں ناکام ہیں یا پورے طور پر کامیاب کیوں نہیں؟

• اصلاحِ فرد اور تطہیر معاشرہ کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟

ڈاکٹر سید عبد اللہ (صدر دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور)

سب سوالوں کو یک جا کر کے، سب کا خلاصہ سامنے رکھ کر ایک ہی جواب میں ہمہ جہت نقطہ نظر آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

آپ کے سب سوالات کا تعلق کسی نہ کسی طور اصلاحِ معاشرت سے ہے۔ آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری موجودہ معاشرت کیوں بگڑ رہی ہے۔ اس کی اصلاح علماء سے کیوں نہیں ہو رہی اور تعلیم یافتہ طبقے اپنے مذہب اور اپنی معاشرت سے کیوں بیزار ہیں؟

معاشرت کا بگاڑ، غیر ملکی معاشرت کے پرزور حملے کی وجہ سے ہے۔ جس کے ذرائع و وسائل نہایت مؤثر اور پرزور ہیں۔ ادب، سینما و فلم، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ہوٹل، سیر و سفر اور سیاحت کی آسانیاں۔ ان سب میں ترغیباتِ نفس کو مشتعل کرنے کے جملہ اسباب و محرکات موجود ہیں۔ جن کا مقابلہ کرنا اوسط درجے کے انسان (مسلمان) کے بس کی بات نہیں۔ یہ ترغیبات آہستہ آہستہ مزاج میں داخل کی گئیں۔ اس کے بعد جب مزاج مانوس ہو گئے (جیسا کہ اب تقریباً سارے عالم اسلام میں ہو چکے ہیں) تو لذات و شہوات کا کاروبارعام و خاص تک (بلکہ اب گھروں تک میں) پہنچا دیا گیا۔ بڑی عمر کے لوگوں میں سے ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اسے ناپسند کرتا ہے مگر نوجوان تر نسلیں جو کالجوں، ہوٹلوں اور سینماؤں کی فضا میں اور نام نہاد ادب کے ماحول میں پل کر نکلی ہیں۔ گھروں میں بھی غالب آچکی ہیں خصوصاً لڑکیاں۔ یہ سب لوگ پرانی معاشرت سے نفرت کرنے لگے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ عنقریب یہ ملک (باقی عالم اسلام کی طرح) مغربی معاشرت کے شہوانی مظاہر کا گھر بن جائے۔

اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس کا ایک سبب جدید تعلیم ہے جو مغربی شے کے لئے انس اور میلان پیدا کر دیتی ہے۔ یہ میلان آہستہ آہستہ ہر شے مغربی کو لبیک کہہ دیتا ہے۔

مغربی ممالک کے ساتھ سیر و سفر کے مواقع اب زیادہ ہو گئے ہیں۔ جو لوگ وہاں جاتے ہیں۔ ظاہری لذّت بخش ماحول کے شیدا بن کر آتے ہیں اور یہاں پہنچ کر ان سلسلوں کے مبلغ بن جاتے ہیں۔

بین الاقوامی اعلیٰ ہوٹلوں کی پاکستان میں تعمیر اس لئے گوارہ کی جاتی ہے (بلکہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے) کہ ان کی وجہ سے پاکستان کو زرِ مبادلہ کمانے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی آڑ میں مغرب کے فواحش پھیلتے ہیں اور پھیلائے جاتے ہیں۔

مغربی اقوام۔ خصوصاً یہودیوں کے کئی ادارے، مختلف ناموں سے اسلامی ملکوں میں (بشمول پاکستان) ان میں فواحش کی منظم تربیت کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور تربیت کنندگان میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سے اساتذہ شامل ہیں۔

یہ امراض قوم کے امراء میں سب سے زیادہ ہیں ان کی دیکھا دیکھی متوسط اور اُس سے نیچے کے طبقوں میں بھی پھیل رہے ہیں۔ اور دانشور گروہ (غریب پروری کے دعوؤں کے باوجود) ان فواحش کے لئے علمی دلائل مہیا کرتا ہے۔

اب آپ سوال کریں گے کہ اِس صورتِ حال کا مقابلہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ گزارش ہے کہ اِس کے کئی اسباب ہیں۔

1. مغرب کی ہر معاشرتی رسم کے ساتھ کسی نہ کسی فائدے کا پیوند لگایا جاتا ہے۔ مغربیوں کو معلوم ہے کہ نفع کی دلیل اب عالم اسلام میں بہت مقبول ہے لہٰذا نفع کی چاشنی دے کر زہر کو دُور تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

2. جب علماء اس کی مخالفت کرتے ہیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ علماء ہمیشہ مسلمانوں کے لئے فائدہ مند چیزوں کی ممانعت کرتے آئے ہیں۔ اور یوں بھی علماء کی بات بے وزن کر دی گئی ہے۔

3. خود علماء بھی یوں بے اثر رہتے ہیں کہ ان کی معلومات مغربی اشیاء و مظاہر کے بارے میں ناقص ہوتی ہیں اس لئے ان کا حملہ اکثر بے دلیل اور غیر مؤثر ہوتا ہے۔

4. تعلیم یافتہ طبقہ مزاجاً نفع پسند، بے حس بلکہ دین بیزار ہے۔ اِلّا ماشاء اللہ، ان میں اچھے لوگ بھی ہیں مگر ان میں اس محاذ پر کام کرنے کا ذوق بھی نہیں اور شوق بھی نہیں۔

5. علماء کی مذکورہ بالا بے خبری کے علاوہ، ان کا تصور نہی عن المنکر بھی بدل گیا ہے۔ وہ صرف برا سمجھنے تک محدود رہتے ہیں۔ برائی کا صحیح علم حاصل کر کے، اس کے خلاف جہاد کی تنظیم نہیں کرتے۔ ہاتھ سے ٹھیک کرنے کا پروگرام اب مصلحتوں کی نذر ہو گیا ہے۔

6. علماء بڑی برائیوں کو بڑی کہہ کر عجز کا اظہار کر دیتے ہیں۔ چھوٹی برائیوں کو معمولی کہہ کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں۔

7. علماء کی توجہ زیادہ تر فرقہ ورانہ مسائل کی طرف رہتی ہے یا ارزاں سیاست۔ معاشرت کی اصلاح کا جو موقع انہیں مساجد میں ملتا ہے اُس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے فرقہ ورانہ بحثوں میں فرار کا راستہ پا کر اصلاح معاشرت کا فریضہ انجام نہیں دیتے۔

8. طریقِ کار کے جدید راستوں سے بے خبری ہے۔ ورنہ کسی ایک نکتہ پر کام کا آغاز کر کے اسے دوسری برائیوں تک پھیلایا جا سکتا ہے، درجہ بدرجہ اور مرحلہ بہ مرحلہ۔ لیکن وہ یا تو کچھ کرتے ہی نہیں یا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص بیک وقت مکمل اسلام کا مکمل پیکر بن جائے اور ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں، اس لئے علماء کی اُٹھائی ہوئی اصلاحی تحریکیں محدوود دائرہ خواص سے آگے نہیں بڑھ سکتیں۔

اب رہا یہ کہ اصلاح احوال کی صورت کیا ہے؟ تو گزارش یہ ہے کہ صورتِ حال جہاد کی طلبگار ہے۔ جہاد میں جدوجہد کی ہر صورت شامل ہے جسے یقین سے شروع کیا جائے اور عقل و حکمت سے چلایا جائے۔ امن پسندانہ ذرائع سے لے کر مسلمانوں کی قوت مجتمعہ کے سہارے برائیوں کو زبردستی روکنے تک ہر چیز اس میں شامل ہے۔ مگر پہلے برائی کے بارے میں پورا علم، اس کے بعد دلائل سے پورا اتمام حجت اور موعظہ حسنہ اور آخر میں مکمل مقابلہ، انسداد اور بیخ کنی اور اِسراستے میں جملہ شدائد و مصائب کی بصد تحمل برداشت اس پروگرام میں بتدریج ایک لازمی عنصر ہے اور پہلے مرحلے میں موعظ حسنہ اور اتمام حجت بالحکمت۔ پھر ہم خیال لوگوں کی تنظیم، پھر تربیت برائے جہاد، پھر جہاد، اس جہادِ نہی عن المنکر کے سوا، موجودہ مغربی برائیوں کا انسداد ناممکن ہے۔ اسلام کا معاشرتی حصہ اب تقریباً نابود ہوا چاہتا ہے۔ دیر طلب لمبے تربیتی پروگراموں میں پڑنے کی مطلق گنجائش نہیں۔

یہ یاد رہے کہ یہاں جہاد سے میرا سعی تبلیغ اور رائے عامہ کی قوت سے فواحش کا انسداد مراد ہے۔ تشدد اور دہشت انگیزی نہیں۔ رائے عامہ کا منظم ہو جانا بجائے خود ایک قوت ہے۔ اُسے کسی تشدد کی ضرورت نہیں۔ مگر

جنابِ من۔ یہ کام کون کرے گا۔ جو لوگ فرقے کی لڑائی میں مصروف ہیں۔ وہ یہ کام کیسے کریں گے؟

ڈاکٹر صغیر حسن معصومی

ڈاکٹر صاحب نے تمام سوالوں کے ترتیب وار جواب لکھے ہیں۔ (ادارہ)

1. پاکستان میں مسلمانوں کو امن کی ضمانت مل گئی، خوف خدا کا اور دشمن کا جاتا رہا۔ تعلیم گاہوں میں تعلیم ناقص رہی۔ اربابِ حل و عقد نے اسلامی احکام اور اسلامی نظام برتنے کا کبھی خیال نہیں کیا۔ نصابِ تعلیم لا دینی رجحان کے ما تحت مرتب کیا جاتا رہا۔ بیسوی صدی کی لا دینی تہذیب سارے عالم میں خصوصاً پاکستان میں فروغ پاتی رہی۔ سیاسی راہنماؤں نے اپنا سیاسی غلبہ ہاتھ سے جاتا دیکھ کر ذہنی سطوت قائم کرنے کے لئے برٹش لائبریریوں، امریکن سنٹروں کا قیام ملک کے بڑے بڑے مرکزوں میں ضروری سمجھا تاکہ جدید علم و فنون کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب و تمدّن کو عام کرنے کے لئے عملی میدان مہیا کریں۔ بنا بریں لیڈرز ایکسچینج (Leaders Exchange) اور فارن اسکالر شپ (Foreign Scholarship) نیز ممالک خارجہ کے سفر خرچ کی داد دہش سے نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہنوں کو اپنانا اُن کے لئے تعجب خیز نہ تھا۔ ان ہتھکنڈوں کے علاوہ درس، کتابوں کی فراہمی اور مطالعہ کے لئے کتابیں دے کر نو پختہ ذہنوں کو غلام بنانا ان کے لئے دشوار نہ رہا۔ پس آج اگر جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بیزار ہوتا جا رہا ہے۔ تو یہ لازمی نتیجہ ہے ان ثقافتی منصوبوں کا، نیز ہماری تجدّد پسندی اور لا دینی ترقی پسندی کا۔

2. ہمارے معاشرے میں بے راہ روی کی ذمہ داری خود پاکستان کے معماروں پر عائد ہوتی ہے۔ ان معماروں نے اسلام کے نام پر پاکستان تو حاصل کر لیا مگر اسلام کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے کا کوئی سامان نہ کیا۔ مغرب زدہ دیگر مسلم ممالک کی دیکھا دیکھی پاکستان کے قائدین نے شعائر اسلامی اپنے لئے کسرِ شان سمجھا۔ پاکستان میں مغربی علوم کے حاملین کی تعداد دوسرے مسلم ممالک سے کہیں زیادہ رہی اور ہے۔ ان علمی راہنماؤں کا فریضہ تھا کہ یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کے علوم کو اپنانے کے ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو یورپ اور امریکہ کے معاشرتی عادات و اطوار سے متاثر ہونے سے بچاتے مگر انہوں نے علوم جدیدہ کے اکتساب کے ساتھ ساتھ..... اپنے دینی شعور کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھا اور اپنے اپنے علمی مرکزوں کو جو بیشتر دراصل مسیحی کلیسا ہیں یکسر بھلا بیٹھے۔ علوم و فنون تو دیکھ آئے مگر اپنا دین اور اپنا اخلاق بیچ آئے۔ وَبِئْس مَا اشْتَرَوْ بِه (كيا برا سودا انہوں نے کیا!)۔

ان قائدینِ علم و نظام نیز حکومت کے شعبوں کے افسران کے بچے لا محالہ اپنے ماں باپ کے عادات و اطوار و لادینی حرکات و سکنات سے متاثر ہوتے رہے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نئی روشنی بڑھتی رہی۔ اور لا دینی طور طریقے کی روز افزوں ترقی کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکی و طہارت کا خیال تک جو مسلمانوں کا طرۂ امتیاز تھا بالکل جاتا رہا اور آج اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آبدست لینے اور آرام کے ساتھ قضاء حاجت کے وسائل تک باقی نہیں رکھے گئے۔

لا دینی تعلیم اور لادینی نصابوں کے ساتھ صبح ساڑھے چھ بجے سے رات کے دس گیارہ بجے تک کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں، موسیقی، ڈرامے، فیچرز اور نت نئے منصوبے کب دین و مذہب سے لگاؤ رکھتے ہیں کہ اسلامیات کی برائے نام ادھوری تعلیم سے بچوں کو دین سے لگاؤ پیدا ہو سکتا۔

جب مسلمانوں کے اعلیٰ اور ادنیٰ طبقوں میں اکثر و بیشتر شراب، جوا اور غیر اسلامی تہذیب کو فروغ ہوا اور حلال و حرام میں تمیز باقی نہ رہے۔ استحصال، چور بازاری، رشوت ستانی، فریب و نفاق عام ہو جائے تو اسلام کے نام سے بیزاری نہ ہو گی تو کیا امانت و دینداری اور تقویٰ و پرہیز گاری کو فروغ ہو گا؟

خود بیشتر علماء کا جو حال بظاہر ہم پاکستان میں دیکھتے ہیں تو اسلامی معاشرے کی بے راہ روی سے کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں صرف ایک مکتب فکر کے علماء تین جمعیتوں میں بٹے ہوئے ہیں دوسرے مکاتیبِ فکر کا کیا تجزیہ کیا جائے؟

جن لوگوں کو اللہ نے توفیق دی ہے کہ وہ مسجدوں میں حاضر ہوتے ہیں اور دین کی باتیں سنتے ہیں۔ ان میں تبلیغ کرنے سے مسلم معاشرے کی خرابیاں کیوں کر دور ہو سکتی ہیں؟ نیز لوگوں کے حقوق سے غافل ہو کر اللہ کے حقوق کی ہم کب نگہبانی کر سکتے ہیں؟

3. بے راہ روی اور دوسری معاشرتی خرابیوں کا تدارک اسلامی احکام پر عمل کرنے لوگوں میں عملی نمونہ بننے، حسن سلوک و نیک اخلاق پیش کرنے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ کار پر چلنے ہی سے ممکن ہے۔ اس کے سوا دوسرا کوئی طریقہ نہیں ہو سکا۔

4. بے شک فرد و معاشرہ کی اصلاح ایمان و عمل کے مظاہرے پر موقوف ہے۔ اللہ سے ڈرنے کی ضرورت ہے، اتباع ہوا وہوس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسوۂ رسول ﷺ کو پس پشت ڈال کر ہم ترقی کر سکتے ہیں نہ فلاح پا سکتے ہیں۔

5. پاکستان کے اکثر و بیشتر دیہی مسلمان علم سے بے بہرہ سہی، دین کے گرویدہ ہیں۔ مگر اصحاب علم، ارباب حل و عقد، دانشور اور اساتذہ میں سے اکثر و بیشتر، اِلّا ماشا اللہ، ہر قسم کے استحصال میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں تجربے سے ظاہر ہے کہ جو زیادہ علم و دانش رکھتا ہے وہ اسی قدر استحصال کا مردِ میدان ہے اور قرآن کریم کے الفاظ میں ''مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَه ھَوَاه'' كا مصداق بنا ہوا ہے (یعنی اپنی خواہش نفسانی کو اپنا معبود سمجھتا ہے۔)

6. آئیے اصلاح فرد اور تطہیر معاشرہ کا آغاز خود اپنے سے یعنی اپنی ذات سے کریں۔ ''وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْوَبِیْنَ'' اپنی اصلاح سے اپنے اہل و عیال اور اپنے اقربا اور احباب کو متاثر کریں کہ وہ وہ بھی صدق و صفا، زہد و اتقاء، محبت و ایثار، اخوت و مساوات کے نمونے بن جائیں اپنے دفاتر میں وقت پر پہنچیں، اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ بجا لائیں، کسی قسم کی لالچ کے لئے دوسروں کے کاموں کو التواء میں نہ ڈالیں۔ حلال کھائیں، حرام سے بچیں۔ بجا کہا ہے وزیر امور دینیہ نے کہ پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام کی حیاتِ طیبہ کو فلما کر اسلام کی تبلیغ ہم نہیں کر سکتے۔ رشوت لے کر ہم بنی نوع انسان کی مدد نہیں کر سکتے۔ حرام و ممنوع ذرائع ابلاغ سے ہم دین کو نشر و اشاعت نہیں کر سکتے۔

7. دنیا بھر کی خبروں سے آگہی حاصل کرنے اور سارے علوم جدیدہ اور دنیا بھر کے فنوں کے حصول سے ادغان و یقین حاصل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان کے نیز سارے عالم کے مسلمانوں کو ہدایت کی توفیق دے اور اسلامی احکام پر عمل پیرا بنائے! کہ ملک کی خوشحالی اور ترقی اسی میں مضمر ہے۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغ۔

ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خاں (صدر شعبۂ اردو سندھ یونیورسٹی۔ حیدر آباد)

1. پاکستان بے شک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بالکل جاہل ہے۔ اس طبقے کو نہ دین کے متعلق کچھ معلوم ہے اور نہ دنیا کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ جس موضوع یا مضمون میں ان کو اپنی مہارت کا دعویٰ ہے اس میں وہ بالکل کورے ہیں۔ اور اب تو 'لڑکی نما' لڑکے اس قدر نکمے ہیں کہ وہ معاشرے کے عضو معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس لئے ایسے طبقے سے مرعوب اور متاثر ہونے کی ضرورت نہیں۔

2. آپ کے بقیہ سوالات کے لئے عرض ہے کہ ہمارے علماء اور اساتذہ ہی تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ حضور انور ﷺ کی ذات گرامی سے ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ نے استفادہ کر کے تمام عالم کی اصلاح کی۔ ہمارے علماء اور اساتذہ نے علم تو حاصل کیا لیکن تزکیۂ نفس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس لئے عوام نے ان سے بیزار اختیار کی۔ حالانکہ عوام اب بھی دین سے لگاؤ رکھتے ہیں اور انہیں اب بھی اچھے رہبروں کی تلاش ہے۔ لیکن افسوس کہ ان کے اِس لگاؤ سے بھی ہم لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور ان کی اصلاح، صلاح، فلاح و خیر کی کوئی پرواہ نہیں کی اگر علماء اور اساتذہ کا کردار مثالی ہو تو اب بھی ہمارا معاشرہ درست ہو سکتا ہے۔ خدا کرے ہم لوگ پہلے اپنی اصلاح کر لیں اور باہمی جنگ و جدال اور تفرقہ پروری سے دور رہ کر ایثار و قربانی اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائیں۔ اقبالؒ نے سچ کہا ؎

بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست

اگر بہ اُو نہ رسیدی تمام بو لہبی ست

مولنا ماہر القادری۔ مدیر ''فاران'' کراچی

1. جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے اس لئے بیزار ہے کہ اس کا مطالعہ ان کتابوں تک محدود ہے جو مغربی تمدن و تہذیب 'مادہ پرستی اور ہوا و ہوس' کے محرکات کے ترجمان ہیں۔ پاکستان کا طریقہ تعلیم انگریز کے طرزِ تعلیم کی نقل اور یادگار ہے۔ اگر پاکستان کی تعلیم کے پچھلے طریقہ کو بدل کر اُسے دینی قالب میں ڈھالا جاتا تو نوجوانوں کے دل و دماغ کی تربیت دینی انداز پر ہوتی۔ روس میں تعلیم کا محور سوشلزم ہے اس لئے وہاں کے نوجوان سوشلزم ہی کو اپنی نجات و فلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہم نے دین کو تعلیم کا محور نہیں بنایا۔

2. اس کا بڑا سبب ''آخرت فراموشی'' ہے۔ آخرت پر زبانی اقرار کے ساتھ آخرت سے عام غفلت پائی جاتی ہے اور اِس منزل میں

؎ جو صید کا عالم وہی صیّاد کا عالم

صحابہ کرام آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھتے تھے کہ ہمیں اپنے ایک نہ ایک فعل کا اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔ اس لئے ان نفوسِ قدسیہ کا معاشرہ اخلاقی اعتبار سے انتہائی پاکیزہ معاشرہ تھا۔

3. جو مسلمان معاشرتی بے راہ روی کا احساس رکھتے ہیں۔ انہیں خود عملاً نیک اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بننا چاہئے۔ اس سے دوسرے لوگ بھی لازمی طور پر متاثر ہوں گے۔ پھر انفرادی نیکی پر قناعت نہ کی جائے۔ نیکی کو پھیلایا جائے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے نیک لوگ پائے جاتے ہیں جو خود تو نیک ہیں مگر اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت کی زحمت گوارا نہیں کرتے چراغ سے چراغ جلتے رہنا چاہئے اِس طرح روشنی پھیلتی ہے۔

4. میں نہیں سمجھ سکا ''تجدیدِ ایمان'' سے آپ کی کیا مراد ہے؟شاید یہ مراد ہو کہ مسلمان اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے ہوئے گناہوں سے توبہ کریں اور آئندہ نیکی اور پاک بازی کی زندگی گزارنے کا عہد! یہ تو بڑا اچھا کام ہے۔ تجدید عہد اور توبہ و انابت سے زندگیوں میں تقدیس پیدا ہوتی ہے۔

5. اس کا سبب وہی چیز ہے جس کی نشاندہی سوال نمبر ۲ کے جواب میں کر چکا ہوں۔ یعنی ''آخرت فراموشی'' اللہ، رسول، قرآن اور اسلام سے ہمارا جذباتی لگاؤ عقیدت کی حد تک ہے۔ حالانکہ عقیدت کے ساتھ اطاعت لازمی شے ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس جن کے ذریعے اصلاح معاشرہ اور اخلاقی انقلاب برپا کرنے کی کامیاب کوشش کی جا سکتی ہے۔ وہ غیر اخلاقی مظاہر میں استعمال ہو رہے ہیں۔ کسی گھرانے میں کوئی بزرگ صبح و شام اخلاق کی تلقین کرتا ہے مگر ٹیلی ویژن پر نیم عریاں رقص اِس اخلاقی تلقین پر پانی پھیر دیتا ہے اور سب کیا کرایا برابر ہو جاتا ہے۔

6. اس کا آغاز مسلمانوں کے ہر گھر سے ہونا چاہئے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ گھریلو زندگی سدھر جائے تو معاشرہ لازمی طور سدھر جائے گا۔ گھر کے افراد کی اخلاقی تربیت بڑی پتہ ماری کا کام ہے۔ گھر کے بڑے لوگ اس محنت سے جی چراتے ہیں اور خود نیکی کرتے مگر اپنی اولاد کو نیک بنانے سے غافل ہیں۔

آخر بات یہ عرض کرنی ہے کہ اعلیٰ طبقہ کے طرزِ معاشرت سے معاشرہ بہت کچھ اثر قبول کرتا ہے۔ مگر پاکستان میں ان بڑے آدمیوں کی زندگیوں کا جو رنگ ہے وہ راز کی بات نہیں ہے۔ ''الناس علٰی دِیْنِ مَلَوکِھِمْ'' کی ضرب المثل پاکستان میں پوری طرح صادق آرہی ہے! بھارت جو لادینی اسٹیٹ ہے اس میں شراب ممنوع اور پاکستان جو اسلام کے لئے اور اسلام کے نام پر بنا ہے وہاں شراب پر کوئی پابندی نہیں۔ یہی حال دوسرے فواحش و منکرات کا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؓ کے ہاتھ میں زمامِ حکومت آئی تو اُن کی تنہا ذات نے معاشرے میں انقلاب برپا کر دیا۔

حکیم محمد سعید۔ مدیر ''ہمدردِ صحت'' کراچی

اصلاحِ فرد اور تطہیر معاشرہ بلاشبہ ایک بڑی ضرورت ہے۔ آپ نے میرے لئے چند سوالات بھجوائے ہیں۔ میں نہایت اختصار کے ساتھ ان کے جوابات آپ کی خدمتِ اقدس میں بھجوا رہا ہوں۔

1. پاکستان بلاشبہ اسلام کے نام پر قائم ہوا مگر یہاں اسلام جاری و ساری رکھنے کی آخری کونسی مثبت کوشش کی گئی ہے؟ سب سے پہلے اس پر غور کر لینا مناسب ہو گا کہ بعض علمائے کرام کہ جن پر فکرِ اسلامی کی مہرِ تصدیق ثبت ہوا کرتی ہے۔ خود انہوں نے اسلام کا کیا مظاہرہ کیا ہے اور خود انہوں نے اتحادِ فکر کی برکات اور اتفاق رائے کے فیوض کا کیا مفہوم سمجھا؟ اگر یہ حقیقت ہے کہ بیشتر علمائے کرام میں یکسر اتحاد و اتفاق نہیں ہے اور یہ حضرات کرام اتحاد و اتفاق اور یگانگت کی شاہراہ سے ہٹ گئے ہیں اور ان کی قوتیں اور ان کی صلاحیتیں اور ان کی عظمتیں انقلابِ اسلامی لانے پر صرف نہیں ہو رہی ہیں بلکہ ان کا انتشار طاغوتی طاقتوں کو قوت اور قطعی غیر اسلامی نظریات کو قوت بخش رہا ہے تو معاشرے کا پریشان ہونا امرِ بدیہی ہے۔ اس صورت حال نے اسلامی صفوں میں انتشار اور مغائرات پیدا کی ہے اور ذہین طبقے نے اس کا نہایت خراب اثر لیا ہے۔ یہ وہ 'ذہین طبقہ' ہے جس کو آپ نے 'جدید تعلیم یافتہ طبقہ' کہا ہے اور اس کی تعلیم اس انداز پر ہوئی ہے کہ جو قطعی طور پر اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے بلکہ بعض حالات میں یہ تعلیم اسلام کی نفی بھی کرتی ہے۔ اس طرح پاکستان کا یہ 'ذہین طبقہ' صحیح تربیت اور معقول تعلیم دونوں سے یکسر محروم رہا۔ اس طبقے سے آپ مذہب بیزاری کے سوا آخر کیا توقع قائم فرما سکتے ہیں؟

2. میری رائے میں ایک ملت کی تعمیر ذہنی اور تربیت فکری کے لئے استواریٔ تعلیم بنیادی چیز ہے اور پاکستان میں سب سے زیادہ جس چیز سے غفلت برتی گئی ہے وہ تعلیم ہی ہے۔ دراصل مسئلہ یہ درپیش رہا کہ ہم سرے سے یہی فیصلہ نہ کر سکے کہ پاکستان کا نظریۂ مملکت کیا ہو گا۔ یہ فیصلہ نہ کرنے کے مواقع متعدد ہیں۔ ان میں سرِ فہرست یہ ہے کہ پاکستان میں ہیئت اقتدار کا ایمان ہمیشہ متزلزل رہا، خود ہیئتِ اقتدار اسلام سے نا آشنا اور اس کے تقاضوں کے ادراک سے محروم تھی اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ بیرونی دباؤ میں مسلسل رہی ہے۔ برطانوی تربیت یافتہ ہیئتِ حاکمہ اور انتظامیہ کا حال یہ رہا ہے کہ وہ اپنے جہل کی بنا پر تعلیم کے معاملے میں بھی 'غیر ملکی امداد' پر بھروسا کرتے رہے ہیں خود ان پر ان کو کبھی بھروسہ نہیں رہا ہے۔ اس لئے پاکستان کا نظامِ تعلیم افکارِ غیر سے متاثر اور مرعوب رہا ہے۔ اور وہ ہرگز ایسا نظامِ تعلیم نہ تھا اور نہ ہے کہ اسے اسلامی نظامِ تعلیم کا نام دیا جا سکے۔ اس نظامِ تعلیم میں تربیت کو ایک ضروری جز کی حیثیت سے کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ اس کا ظاہری نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ملّی تقاضوں سے اس یکسر مغائر اور ناقص نظامِ تعلیم نے وہ افرادِ ملّت پیدا ہی نہیں کیے کہ جو اقتدار اسلامی سے مالا مال ہوتے۔ ان افراد کو نہ اسلام سے تعلق پیدا ہو سکا اور نہ ان میں پاکستان سے محبت کا جذبۂ مقدس پیدا ہو سکا۔ وہ معاشرہ کہ جو ایسے محروم افراد پر مشتمل ہو ان سے خیر کی توقع قائم نہیں کی جا سکتی۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلی ویژن کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ یہاں فلموں نے کیا فساد برپا کر رکھا ہے؟ یہاں اخبارات کا مزاج کیا ہے؟ یہاں ہیئتِ حاکمہ کا اندازِ فکر کیا ہے؟

3. آپ کے اِس سوال کا جواب میرے جواب نمبر ۱ اور نمبر ۲ میں واضح طور پر موجود ہے۔ ایک اسلامی انقلاب لانے کے لئے ساری طاقتوں کو مجتمع کرنا ہو گا۔ اس طاقت کا سرچشمہ خوش قسمتی سے اب بھی علماء ہیں۔ میرے نزدیک یہ سب سے بڑی اور غنیمت مہلت ہے کہ جو ملی ہوئی ہے۔ تمام علمائے کرام کو قطعی طور پر متحد ہو کر انقلابِ اسلامی لانے کے لئے رہنمائی کا فریضۂ مقدس انجام دینا چاہئے اور ملت کو اپنی فکری عظمتوں سے اور اپنی تعمیری جدوجہد سے اور اپنے فکر و عمل کی یگانگت سے قرآن و سنت کی روشنی عطا کرنی چاہئے۔ اہلِ فکر و نظر کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی نہایت قیمتی متاع ہے۔ اس متاعِ ملی کا پورا احترام کرنا چاہئے اور انقلابِ اسلامی کی جدوجہد میں صفوں کی درستی کے وقت اہلِ فکر و نظر کو اہمیت دینی چاہئے۔ میں اسے امتزاجِ علوم سے تعبیر کروں گا اور یہ امتزاجِ علوم نہ صرف علماء کی حاجت ہے بلکہ اہلِ فکر و نظر کی ضرورت ہے۔ اسلامی انقلاب پاکستان کا سب سے بڑا مطالبہ ہے اور اس اسلامی انقلاب کی ابتداء نظامِ تعلیم میں یکسر انقلاب سے کرنی چاہئے۔

4. میں جواب نمبر ۳ میں اس سوال کا محاکمہ کر چکا ہوں۔ تجدیدِ ایمان و عمل کے لئے نسخۂ کیمیا کتاب و سنت کی روشنی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس روشنی میں پاکستان کو منوّر کر دینے کا جذبۂ صادق جب تک پیدا نہ ہو گا ہمارے مسائل سلجھیں گے نہیں، الجھتے رہیں گے۔ علم و عمل کی طاقتوں کو متحد کرنے اور تعصبات کو ختم کر دینے اور قلوب میں وسعت پیدا کر لینے سے راستے کھُل سکیں گے۔

5. اگر آپ میرے دل کی بات پوچھنا چاہتے ہیں اور اس سے ناراض نہ ہوں گے تو میں یہ کہوں گا کہ بعض اساتذہ ناقابلِ بیان مصائب کی بناء پر اپنے فرائض میں مخلص نہیں ہیں۔ بیشتر علمائے کرام دورِ جدید کا چیلنج قبول کرنے اور اس کا مناسب رد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ہمارے شاعر، نئے ادیب اور دانشور جن کے ہاتھوں میں ہمارے ملکی اور ملّی نظام کی باگیں ہیں۔ کتاب و سنت کی روشنی سے محروم ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی راہ کے مستقیم ہونے پر اصرار ہے اور صراطِ مستقیم خالی پڑی ہے۔ اس پر کوئی بھی رہِ نورد موجود نہیں ہے۔ اب بتائیے کامیابی کہاں سے آئے گی؟ اور غالب اکثریت کے دین سے جذباتی لگاؤ کا کیا حشر ہو گا۔

6. تعلیمی انقلاب سے ایک ایسا نظامِ تعلیم و تربیت قائم و نافذ کرنے کہ جو انقلاب اسلامی پر منتج ہو۔

حافظ نذر احمد (پرنسپل شبلی کالج، لاہور)

جوابات (اختصار کے ساتھ)

1. ''جدید تعلیم یافتہ'' طبقہ کی مذہب سے بیزاریخود اس کے نام یا لقب سے ظاہر ہے جو آپ نے انہیں دیا ہے یعنی ''جدید تعلیم''۔

جدید تعلیم، اس کا اسلوب، اس کا نصاب، نصابی نظریات، طرزِ تدریس، تدریسی ماحول، غرض ہر پہلو مذہب بیزاری بلکہ مذہب دشمنی پر مبنی ہو تو اس ہتھیار سے لیس ہونے والا طبقہ مذہب بیزار نہیں تو کیا ہو گا؟

وجوہات اور بھی ہیں لیکن بڑی اور بنیادی وجہ جدید تعلیم ہے۔

صفحہ پھٹا ہوا ہے، اس وجہ سے کچھ لائنیں چھوڑی گئی ہیں۔

2. میرے نزدیک خرابیوں کا تدارک ممکن نہیں جب تک مندرجہ ذیل تدابیر اختیار نہ کی جائیں۔

دینی تعلیم کی عمومیت کی مساعی مؤر انداز میں کرنا۔

جدید تعلیم کا دین اور دینی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جانا۔

قائدینِ دین اور سیاسی کا نمونۂ عمل۔

3. ''تجدیدِ ایمان و عمل'' سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ تجدید کون کرے گا؟

a. انفرادی مساعی۔

b. حکومتی سطح پر فیصلے۔

c. دینی قیادت کا مؤثر اور محسوس طور پر سرگرمِ عمل ہونا۔

مولانا امین احسن اصلاحی

مکرمی زاد لطفہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ سوالنامہ موصول ہوا۔ اگر میں ان سوالوں کے مختصر جواب لکھوں تو اس سے بڑی غلط فہمیاں پیدا ہوں گی اور اگر مفصل جواب لکھوں تومجھے ایک پورا مقالہ لکھنا پڑے گا۔ اس کے لئے میرے پاس بالکل فرصت نہیں ہے۔ اب میری قوتِ کار بہ کم ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے تفسیر کے سوا تمام کاموں سے دست بردار ہو گیا ہوں۔ امید ہے آپ میری یہ معذرت قبول فرمائیں گے۔ والسلام

امین احسن اصلاحی

ابو الاعلیٰ مودُودی (بانی جماعت اسلامی پاکستان)

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ نے چھ سوالات پر مشتمل جو سوالنامہ بھیجا ہے، میں اپنی علالت کے باعث اس کا جواب دینے سے معذور ہوں۔ پھر یہ سوالات بھی ایسے ہیں کہ انہی کا جواب میں اپنی تحریروں اور تقریروں میں عمر بھر دیتا رہا ہوں۔ میرے لئے اب از سرِ نو ان میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔

امید ہے کہ آپ میری معذرت قبول فرمائیں گے۔