نام : انسان کامل

مؤلف : پروفیسر خالد علوی (ایم۔ اے، ایم۔ او۔ایل)

ناشر : یونیورسٹی بک ایجنسی۔ ۱۹۴، انار کلی، لاہور

قیمت : ۳۶ روپے

صفحات : ۶۷۶

اُمتِ مسلمہ تہذیبی بحران کا شکار ہے۔ اخلاقی لحاظ سے ہم مغربیت میں رنگے جارہے ہیں اباحیت، تجدد اور لادینی افکار و نظریات ہم پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔ قدرتی وسائل اور بے پناہ انسانی قوت کے باوجود مسلم دنیا فلاکت و غربت سے پیچھا نہیں چھڑا سکی۔ غربت و افلاس کا علاج مختلف 'ازموں' کو اپنا کر ڈھونڈا جا رہا ہے مگر امتِ مسلمہ کی زندگی سنورنے کے بجائے مزید بگڑتی جارہی ہے۔ سیاسی طور پر اسلامی ممالک مغربی جمہوریت کے دام میں پھنسے ہیں یا آمریت کے نرغے میں ہیں۔ سماجی طور پر اسلامی اقدار آہستہ آہستہ دم توڑتی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں جب امتِ مسلمہ ایک مہیب اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ اس کے احیاء اور رُو بہ ترقی ہونے کے لئے کوئی نسخہ تجویز کیا جا سکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ہم خالقِ کائنات ے فرمان کو آویزۂ گوش بنائیں اور اپنی سوچ فکر او عمل کو اس پر مرکوز کر دیں۔

﴿لَقَد كانَ لَكُم فيهِم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ...٦﴾...سورة الممتحنة
نبی اکرم ﷺ بلا ریب زندگی کے ہر میدان میں اسوۂ کامل ہیں۔ انہوں نے انسان کی دنیوی و اخروی زندگی کی فلاح کے لئے جو پیغام پیش کیا اسے عملی جامہ پہنا کر واضح کر دیا کہ یہی آبِ حیات ہے اور جاہلیت (قدیمہ و جدیدہ) کو اپنا کر انسان سکھ اور آرام کا سانس نہیں لے سکتا۔ خوش نصیب اور قابلِ صد مبارک باد ہیں وہ لوگ جو یہ جوت جگانے میں منہمک ہیں۔

فاضل مؤلف ان ہی لوگوں میں سے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو دورِ جدید میں کامیابی کی کلید سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زیرِ نظر بلند پایہ تالیف کے پہلے باب میں نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے اہم واقعات کو سمیٹ لیا ہے اور اس سلسلے میں تحقیق و تنقید کے معروف اصولوں کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ ہر روایت اور بیان پر محدّثانہ نقد و جرح سے کام لے کر اخذ و تردید کی ہے۔

اجتماعی تبصرہ کے بعد فاضل مؤلف نے نبی اکرم ﷺ کی مختلف حیثیتوں۔ ذی وقار شہری، تاجر، خطیب، مبلغ و داعی، سپہ سالار، داعی انقلاب، مقنن و منصف اور سربراہِ خاندان وغیرہ سے ان کے پیغام و عمل کو واضح کیا ہے اور کتاب کا یہ حصہ فکر انگیز اور از حد جاذبِ قلب و ذہن ہے ان ابواب سے یہ بات نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی تمام مادی پہلوؤں میں مکمل نمونہ ہے اور آج بھی ان کے طرزِ عمل کو اپنا کر فلاح و کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے۔

فاضل مؤلف پروفیسر خالد علوی صاحب علمی حلقوں میں جانے پہچانے ہیں۔ اس سے قبل ان کے قلم سے دینی مسائل پر بیسوں مضامین اور مفید کتابیں اہلِ علم کے سامنے آچکی ہیں۔ اندازِ تحریر سادہ اور عام فہم ہے۔ بلا مبالغہ ایک عالم اور عام آدی یکساں طور پر لطف اُٹھائیں گے۔ کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں ملتی ہیں۔ امید ہے آئندہ ایڈیشن میں درست کر دی جائیں گی۔

(۲)

نام : اشرف المناسک ملقب بہ مناسکِ حج

مؤلف : مولانا محمد اشرف علی قریشی

ناشر : شعبۂ تالیف و تصنیف دار العلوم جامعہ اشرفیہ پشاور

قیمت : چار روپے صرف

صفحات : ۲۷۰

حج امتِ مسلم کی ایک اہم عبادت ہے جس میں صبر و استقامت، جہاد و عزیمت، باہمی محبت و مودت، ضبطِ نفس اور تزکیۂ اخلاق کی جملہ خوبیاں موجود ہیں۔ ضروری ہے کہ حج کے احکام و مسائل عام ہوں تاکہ فریضۂ حج ادا کرنے والے خوش نصیب ہر آن اور ہر لمحہ اپنے حبیب نبی اکرم ﷺ کی اتباع کر رہے ہوں۔ مولانا محمد اشرف علی قریشی نے راہِ محبت کے راہروؤں کے لئے زیرِ نظر کتاب مرتب کی ہے۔ انہوں نے خانہ کعبہ کی مختصر تاریخ، اہم مقامات، حج کے احکام و مسائل اور ادعیہ ماثورہ نہایت سلیقے سے یکجا کی ہیں۔ امید ہے حجاج اس سے بھرپور استفادہ کریں گی۔

(۳)

حضرت ابو بکر صدیقؓ:

انجمن تحفظ حقوق اہل سنت والجماعت کراچی کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے یومِ وفات ۲۲؍ جمادی الثانی کے موقع پر شائع کردہ آٹھ صفحات کا پمفلٹ ہے۔

(۴)

ماہنامہ ''الھلال'' پشاور:

مولانا محمد اشرف علی قریشی باہمت نوجوان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قلمی جہاد کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ ان کی ادارت میں ماہنامہ ''صدائے اسلام'' شائع ہو رہا تھا کہ تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کے لئے زیر نظر پرچہ جاری کیا۔

زیرِ تبصرہ 'الہلال' کا اولین شمارہ ہے۔ اداریہ جچا تلا اور موثر ہے۔ مضامین بھی اچھے ہیں البتہ تحریر میں پٹھانوں کا اندازِ گفتگو جھلکتا ہے۔ سالانہ چند پانچ روپے ہے۔

(۵)

ہفت روزہ 'الاصلاح' لاہور۔ اشاعت ۵؍ جولائی ۱۹۷۴؁ء

ہفت روزہ 'الاصلاح' خاکسار تحریک کا آرگن ہے۔ زیرِ نظر خصوصی اشاعت ہے جس میں سال ۱۹۷۴؁ء کے اجلاس مرکزی مجلسِ مشاورت کی کاروائی اور فیصلے درج ہیں۔ حالات حاضرہ کے متعلق مضامین معلوماتی اور دلچسپ ہیں۔ (ابو شاہد)

(۶)

نام : فتاویٰ علمائے حدیث

مرتب : حضرت مولانا بو الحسنات علی محمد سعیدی مدظلہ

پتہ : مکتبہ سعیدیہ۔ خانیوال۔ ضلع ملتان (پاکستان)

صفحات : کتاب الطہارۃ (۱۳۶) کتاب الصلوٰۃ حصہ اوّل (۲۶۴) جلد دوم (۲۴۰)

قیمت : کتاب الطہارۃ (۶ روپے) کتاب الصلوٰۃ حصہ اول (۱۰ روپے) جلد دوم(۱۲ روپے)

شرعی مسائل میں علمائے کرام کے جوابات کا نام فتویٰ ہے۔ ان کی حیثیت مشورہ، رائے اور رہنمائی کی ہوتی ہے، ان کو قانونی درجہ حاصل نہیں ہوتا، ہاں سرکاری حیثیت میں عدالتیں جو فیصلے سناتی ہیں، ان کو ایک قانونی حیثیت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ گو علمائے کرام کے فتووں کو قانونی درجہ حاصل نہیں رہا، تاہم امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لئے انہیں سے زیادہ کام لیا گیا ہے اور ملّت اسلامیہ نے بھی انہی سے ہی زیادہ استفادہ کیا ہے کیونکہ یہ 'بلاد مزد اور بلا مشقت' مل جاتے ہیں۔ عدالتی نظام پر بعض اوقات غیر صالح حکمرانوں کی سرکاری دلچسپیاں اور ججوں کے ذاتی مصالح بوجھ بن جاتے ہیں، اس لئے عوام نے ان کی طرف بہت کم رجوع کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہی بوریہ نشینوں کو سوادِ اعظم کا جتنا اعتماد حاصل رہا ہے سرکاری عدالتوں کو نہیں رہا بلکہ یہ عدالتیں بھی ہمیشہ انہی مبارک ہستیوں کی طرف رجوع کرتی رہی ہیں۔

فتاووں کا یہ مسئلہ نزولِ وحی کے وقت سے جاری ہے، قرآن حکیم اور احادیث پاک میں یہ کثرت سے ملتے ہیں۔ اس کے بعد صحابہ، تابعین اور دوسرے علمائے حق کے و فتاوے منظرِ عام پر آئے ہیں اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک دفتر بے پایاں جمع ہو جائے۔ بہرحال ہمارے نزدیک وہ فتاوے بالخصوص محفوظ کرنے کے قابل ہیں جو مختلف شخصیتوں اور مذہبی حلقوں کی بنیاد پر مبنی نہیں ہیں بلکہ کتاب و سنت اور تعاملِ صحابہ سے ماخوذ ہیں کیونکہ یہ ملّت اسلامیہ کی میراث اور امانت ہیں۔ زیرِ تبصرہ فتاوے بھی اسی سلسلے کی ایک مبارک کڑی ہے۔

ان فتاووں کے مطالعہ سے رہنمائی کے علاوہ کتاب و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے اور انسان اس چاشنی سے شاد کام بھی ہوتا ہے جو جعلی وساطتوں کے چکروں میں پڑ کر حاصل نہیں ہو سکتی۔

فاضل مرتب حضرت مولانا علی محمد سعیدی کے علم و عمل اور مساعی جمیلہ میں اللہ برکت دے۔ انہوں نے ان مبارک فتاووں کو یک جا کر کے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ وہ امانت ہے اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جاتی تو خدا جانے ان کا کیا حشر ہوتا۔ علامہ موصوف نے جن فتاووں (مرتب یا غیر مرتب) کو جمع کیا ہے ان کے نام یہ ہیں۔

فتاویٰ نذیریہ، فتاویٰ غزنویہ، فتاویٰ ثنائیہ، فتاویٰ ستاریہ، مجموعہ فتاویٰ نواب صدیق حسن خاں، فتاویٰ مولانا عبد الجبار عمر پوری، فتاویٰ شیخ حسن عرب، فتاویٰ دلیل الطالب، فتاویٰ تنظیم اہل حدیث، فتاویٰ الاعتصام، فتاویٰ اہل حدیث سوہدرہ، فتاویٰ اہل حدیث دہلی، فتاویٰ ترجمان اہل حدیث دہلی، فتاویٰ گزٹ اہل حدیث دہلی، فتاویٰ محدث دہلی، فتاویٰ قوانین فطرت، فتاویٰ صحیفۂ اہل حدیث کراچی، فتاویٰ عزیزیہ۔

ان کو جمع کرنا اور منتشر مواد کو فراہم کرنا آسان بات نہیں ہے۔ خدا جانے موصوف کو اس کے لئے کتی محنت اور زحمت اُٹھانا پڑی ہو گی۔ خاص کر یہ دیکھ کر ہم حیران رہ گئے کہ موصوف نے یہ تمام مساعی جمیلہ محض اللہ کے سہارے پر انجام دی ہیں۔ اب وقت، حالات اور دینی حمیت کا تقاضا ہے کہ ان کی نشر و اشاعت میں کھل کر ان سے تعاون کیا جائے۔

ان فتاووں میں اختلافِ آراء بھی پایا جاتا ہے، جو علمی استعداد کا ایک قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ اس سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ نوع بہ نوع دلائل اور اسلوبِ استدلال کے نظارہ سے علم و تحقیق کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔

ملک میں اور بیرون ملک کچھ آزاد اہلِ قلم بھی موجود ہیں جن کی نگاہ کتاب و سنت پر رہتی ہے۔ جدید الجھنوں، تقاضوں اور خاکوں سے بھی وہ باخبر ہیں اور ان کی یہ بھی کیفیت ہے کہ وہ کسی بھی فرقہ سے منسلک ہوں قرآن و حدیث کے خلاف اپنے مسلک کی پابندی کے قائل نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے فتاووں کو بھی ساتھ ساتھ سمیٹ لیا جائے تو کتاب کی جامعیت اور بڑھ جائے گی۔ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ وہ عربی جرائد جو سعودیہ عربیہ سے نکلتے ہیں یا رابطۂ عالمِ اسلامی، اخوان اور دوسری اسلامی اور دینی تحریکوں کے زیرِ اثر شائع ہو رہے ہیں۔ نئے حالات میں جو نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان کے سلسلے میں وہ بہت سے فتاویٰ شائع کر رہے ہیں، ان سے بھی استفادہ کیا جائے۔ کیونکہ وہ مدتوں سے آزاد ہیں، ان کو اجتماعی مسائل سے زیادہ پالا پڑا ہے، خصوصاً معاملات نکاح و بیوع، ملکی آئیں، تعزیرات اور نام اقتصادیات کے سلسلے میں ان کے تجربات ہماری بہ نسبت زیادہ ہیں۔ ان سے ضرور استفادہ کیا جائے ملک میں بہت سے ادارے یا افسر ایسے مل جائیں گے جن سے ایسے رسالے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

راقم الحروف کی یہ بھی خواہش ہے کہ: اعلام الموقعین کے اخیر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جو فتاوےٰ جمع کئے گئے ہیں محل و موقع کے مطابق ان کو بھی درج کیا جائے اور قرآن حکیم میں ''یَسْتَفْتُوْنَکَ'' کے جواب میں جو قرآن فتاوےٰ ملتے ہیں، ان کا اندراج بھی ضروری ہے، جن ابواب سے ان کا تعلق ہے ان ابواب کو پہلے انہی سے شروع کیا جائے، کیونکہ ہمارے لئے اولین ماخذ وہی ہے۔

اس کے علاوہ جن جن اکابر کے فتاوےٰ حاصل کیے گئے ہیں، ان کے مختصر سوانح اور تعارف بھی ضرور دیا جائے، الگ جزء میں یا محل و موقعہ کے مطابق، اس کی افادی حیثیت واضح ہے۔

فتاویٰ علمائے حدیث کے تینوں حصے مدّتوں سے میرے پاس تبصرے کے لئے پڑے تھے، ایک دو دفعہ ان پر تبصرہ لکھ کر ہفت روزہ 'تنظیم اہل حدیث' کے حوالے کیے بھی مگر افسوس! بارہا یاد دہانی کے باوجود شائع نہ ہو سکے۔ خدا جانے کیوں؟ بہرحال حافظ صاحب کی حکمتِ عملی کو مولانا سعیدی صاحب ہی میری بہ نسبت زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جتنی تاخیر ہوئی گو اس میں میری مرضی کا دخل نہیں ہے تاہم مجھے اس کا افسوس ہے!

(۷)

نام : روحِ سعید

مؤلف : محمد سعید رمضان البوطی

مترجم : مولانا محمد حنیف خلف الرشید مولانا محمد شراغ مدظلہ

صفحات : ۷۸

قیمت : ۳ روپے

طباعت : عمدہ

ملنے کا پتہ : مکتبہ چراغ اسلام، بیرون کھیالی دروازہ، گوجرانوالہ

ترکی کا مصطفیٰ کمال، ہند کا جلال الدین اکبر تھا۔ اس کی وجہ سے 'دینی' لحاظ سے ترکی کا جو حال رہا وہ ایک آزار دہ داستان ہے۔ اس کے فتنوں اور جاہلی نعروں کی بدولت 'مسلم ترکی' کو پہچاننا دشوار ہو گیا تھا۔ اس عہد میں ایک 'سادہ دل بندہ' حضرت علامہ بدیع الزمان نورسیؒ ترکی اُٹھا اور فراعنہ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر 'کلمۂ حق' بلند کیا۔ پھر اس جرمِ حق کی پاداش میں 'عذاب و عتاب' کے جتنے اور جیسے کچھ پہاڑ سر پر گرے، ایک 'مردِ مجاہد' کی طرح چوم کر ان کو آنکھوں پر رکھا۔

زیرِ تبصرہ کتاب میں اسی 'بندۂ مومن اور مردِ مجاہد' کا تعارف اور تذکار ہے، جس کے مطالعہ کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے بارانِ رحمت کا نزول ہو رہا ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر محمد سعید رمضان کی تالیف ہے جو رابطۂ عالمِ اسلامی کی مجلسِ تاسیس کے اہم رکن اور رابطہ کے گشتی سفیر بھی رہے ہیں۔

اس کا ترجمہ ہمارے عزیز فاضلِ نوجوان مولانا محمد حنیف صاحب نے کیا ہے جو ترجمہ کے بجائے اصل معلوم ہوتا ہے، زبان شستہ اور رواں ہے۔ فاضل موصوف اس سے پہلے حضرت حسن البناء شہید رحمۃ اللہ علیہ (ف ۱۹۴۹ء) کی ایک کتاب کا بھی ترجمہ پیش کر چکے ہیں، جس کا نام 'تعلیمات حسن البناء شہید' ہے۔ ترجمہ کے علاوہ ان کا ذوق انتخاب بھی قابلِ رشک ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں کتابچے اہم اور قابل مطالعہ ہیں۔

اس کتاب کے مطالعہ سے 'حق و باطل' کے مابین دیرینہ آویزش کے دلچسپ نمونے مل جاتے ہیں، جو دورِ حاضر کے داعیانِ حق کے لئے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں، اس رسالہ کا مطالعہ ان 'علماءُ کے لئے بالخصوص مفید رہے گا جن پر شاہانِ وقت کے درباری بننے کا خبط سوار ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے۔

مترجم کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ 'پیش لفظ' میں کتاب، مصنف اور اس کے پس منظر کے سلسلے کی ضروری معلومات بھی مہیا فرمائیے۔ ورنہ ساری کتاب پڑھ جانے کے باوجود قاری کو تشنگی محسوس ہوتی رہتی ہے جیسا کہ یہاں ہو رہی ہے۔ بلکہ کتاب میں بعض مقامات ایسے بھی آجاتے ہیں جن کی وضاحت کیے بغیر بات واضح نہیں ہو سکتی اس لئے ہر مترجم عموماً حواشی اور تعلیقات کے ذریعے اس مشکل کو حل کیا کرتے ہیں۔ اگر عزیز محترم نے آئندہ اس کا التزام کیا تو کتاب کی اہمیت کافی بڑھ جائے گی۔

(۸)

نام : مسعود عالم ندوی

مؤلف و مرتب : جناب اختر راہی ایم۔ اے۔

قیمت : ۶ روپے

صفحات : ۱۰۴

ملنے کا پتہ : مکتبہ ظفر ناشر قرآنی قطعات، محلہ فیض آباد، سرگودھا روڈ، گجرات

حضرت مسعود عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ (ف ۱۶؍مارچ ۱۹۵۴؁ء) علمی و ادبی اور سیاسی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں، موصوف ایک ادیب بھی تھے او راسخ عالمِ دین بھی، سیاستدان بھی تھے اور باخدا سلفی بھی۔ اس سلسلے میں ان کی خدمات جلیلہ اور مساعی جمیلہ معروف ہیں۔ اس حیثیت سے ان کا جامع تذکار ابھی ان کے ادارتمندوں اور جوہر شناسوں کی گردنوں پر قرض ہے، اور ان کی اس متنوع شخصیت کو محفوظ کرنے کا اس سے بہتر شاید ہی اور کوئی راستہ ہو۔ اب تک اس سلسلے میں جو کام ہوا ہے اس کی حیثیت زیادہ تر ایک پہلو یا 'منجملہ' کی ہے، اسے پڑھ کر جو عام تاثر پیدا ہوتا ہے، وہ صرف اتنا ہے، کہ وہ جماعت اسلامی کے عظیم رہنما اور اکابر جماعت اسلامی کے ایک ممدوح بزرگ تھے۔ گو یہ بھی ان کا ایک اہم پہلو ہے مگر وہ سارے یہی نہیں ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب میں ضمناً بہت سی باتیں آگئی ہیں لیکن اس میں ملحوظ زیادہ تر ان کے مکاتیب گرامی ہیں، جو خاصے معلوماتی اور بصیرت افروز ہیں، ہمارے دوست فاضل نوجوان جناب اختر راہی ایم۔ اے نے ان کو مرتب فرمایا ہے۔ موصوف کے خصوصی حواشی اور تعلیقات نے کتاب کی اہمیت کو دوبالا کر دیا ہے۔ اصل کتاب کی فہرست کے ساتھ اگر حواشی اور تعلیقات کی فہرست بھی الگ لگا دی جاتی تو تلاش میں آسانی رہتی۔ کیونکہ بعض حواشی خاصے معلوماتی ہیں۔ جزاہ اللہ۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ (ف ؁ھ) کا سفر نامہ (رحلۃ الامام الشافعی) بہت مشہور ہے وقتاً فوقتاً بہت سے رسائل اور جرائد نے اس کے ترجمے بھی شائع کیے، جب ہم پڑھتے تو انتہائی ذہنی کوفت ہوتی، کیونکہ اس کی روایاتی حیثیت کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہے جس کا ذِکر کیے بغیر ہر مترجم نے کام چلایا ہے۔ اب کے مرتب نے اپنی تعلیقات میں اس پر تبصرہ کر کے نہ صرف ہمیں ایک ذہنی بوجھ سے نجات بخشی ہے بلکہ اسی کی روایاتی کم مائیگی کو بیان کر کے ایک علمی ذمہ داری کا حق بھی ادا کیا ہے۔ جزاہ اللہ تعالیٰ، ملاحظہ ہو۔ ص ۵۴

مکاتیب گرامی کی تعداد چونتیس (۳۴) ہے، ان میں بعض مکتوب ایسے بھی ہیں جن سے بعض اداروں اور افراد کے بعض خفیہ گوشے کھلتے ہوتے ہیں۔ اور کچھ وہ ہیں، جن سے مرحوم کی طالبعلمانہ پالیسیوں اور مصلحانہ کاوشوں پر روشنی پڑتی ہے۔

فاضل مرتب نے آخر میں بیشتر مکتوب الیہ حضرات (جن کو خطوط لکھے گئے) کا مختصر تعارف بھی پیش کیا ہے جو مختصر ہونے کے باوجود معلوماتی ہے۔ سب سے آر میں ایک جامع انڈیکس دیا گیا ہے جو کتاب میں مذکور، اعلام، اماکن، ادارے اور کتب کی ایک لسٹ دی گئی ہے۔ خصوصی طور پر فاضل مرتب نے اس کتاب کو ایڈٹ کرنے پر جو محنت کی ہے، وہ قابلِ قدر اور لائق تحسین ہے۔