آپ کا مول تول شروع ہو گیا ہے



علمائے کرام، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث، دینِ نبی کے ترجمان، صداقتِ اسلام کے شاہد، طائفہ منصورہ کی جان اور ملتِ اسلامیہ کے اصلی نمائندے ہوتے ہیں۔ یہ وہ اعزاز ہے جو بیک وقت کسی ایک طبقہ کو ایک ساتھ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ سے انہیں ناقابلِ تسخیر محاذ اور قابل صد رشک اعزاز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گروہِ سعید اس احترام، اکرام، اعتماد اور عزت کا اہل بھی ہے۔ کثرھم اللہ سواوھم۔

ان کے مقام شہادت کی رفعت کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حق تعالیٰ نے 'توحیدِ برحق' پر اپنی ذات اور فرشتوں کے ساتھ علماء کو بھی بطور گواہ پیش کیا ہے۔

﴿شَهِدَ اللَّـهُ أَنَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلـٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ...١٨﴾...سورة اٰل عمران
ان کی قابل ذکر طمانیت کا اس کے علاوہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ جہانِ علم و فن کے بڑے بڑے جغاوری ریب و تذبذب کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں، وہاں وہ پوری شرح صدر کے ساتھ غیر متزلزل ایقان اور طمانیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

﴿فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشـٰبَهَ مِنهُ...٧﴾...سورة اٰل عمران
یہ طمانیت ان کی بے ذوقی یا کم فہمی پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ وہ دراصل اس طبعی مناسبت کا قدرتی نتیجہ ہوتی ہے جو اسلامی طرزِ حیات کی بدولت ان میں پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ 'رسوخ فی العلم' کا حاصل ہوتی ہے، جو سرتاپا ذوق بھی ہے اور فہم بھی، شرح صدر بھی ہے اور معراجِ مشاہدۂ قلبی بھی۔ لیکن ؎

ذوق ایں بادہ ندانی بخدا! تانچشی

جہاں پر علم و ہوش کے طاغوتی دیوتا تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں وہاں سے علمائے حق کے علم و یقین اور طمانیت کی ابتداء ہوتی ہے، چنانچہ شفقت اور خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ اور علیٰ وجہ البصیرت ان کو آواز دیتے ہیں کہ: ادھر آؤ! ہم تمہیں راہِ راست پر ال دیں گے۔

﴿يـٰأَبَتِ إِنّى قَد جاءَنى مِنَ العِلمِ ما لَم يَأتِكَ فَاتَّبِعنى أَهدِكَ صِرٰ‌طًا سَوِيًّا ﴿٤٣﴾...سورة مريم
ابا جان! مجھے ایسی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو آپ کو حاصل نہیں ہوئیں تو آپ میرے پیچھے ہو لیجیے! میں آپ کو سیدھا رستہ دکھا دوں گا۔

ان کا طرّۂ امتیاز صرف علم و بصیرت نہیں ہے بلکہ 'خشیتِ الٰہی' ان کے تمام احساسات، نفسیات اور علم و ہوش کی اساس ہوتی ہے۔

﴿إِنَّما يَخشَى اللَّـهَ مِن عِبادِهِ العُلَمـٰؤُا...٢٨﴾...سورة فاطر
اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔

؎ آنانکہ عارف تراند ترساں تراند

اس لئے ان کے دل ماسوی اللہ کے ڈر سے سدا خالی رہے ہیں۔ وہ ایک ہی دروازہ پر جھک کر دوسرے ہر باب اور دروازہ سے نجات پا گئے تھے۔ غیر کی طرف سے لالچ یا خوف کبھی بھی ان کے دل و دماغ میں جگہ نہ پا سکے تھے۔ ان کی بیم و رجا اور نفع و ضرر کے احساسات اور تصورات 'لَا اِلٰهَ اِلَّا الله' كے گرد گھومتے تھے۔ اس لئے سب سے گردن فراز تھے، دریاؤں کی مچھلیاں اور خشکی کے جانور اور حشرات الارض اور ہوا کے پرندے ان کے لئے سدا دست بدعا رہتے ہیں۔

رَجُلٌ اٰتَاہُ اللهُ عِلْمًا فَبَذَلَه لِلْنَّاسِ وَلَمْ يَاْخُذْ عَلَيْهِ طَمَعًا وَلَمْ يَشْتَرِ بِه ثَمَنًا قَلِيْلًا فَذٰلِكَ تَسْتَغْفِرُلَه حِيْتَانُ الْبَحْرِ وَدَوَابٌّ الْبَرِّ وَالطَّيْرُ فِيْ جَوِّ السَّمَآءِ (طبراني اوسط۔ ابن عباس)

یہ وہ ستارے ہیں، جو فکر و عمل کے ظلمات میں لوگوں کو راہ دکھاتے ہیں اور لوگ راہ پاتے ہیں ورنہ بھٹک جاتے ہیں۔

اِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَآءِ فِی الْاَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُوْمُ يُھْتَدٰي بِھَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرَّ وَالْبَحْرِ فَإذَا انْظَمَسَتِ النُّجُومُ أوْشَكَ أنْ تَضِلَّ الْھُدَاةُ (رواہ احمد عن انس)

؎ ای خوبیٔ طبع برمن بلا شدی

کے مصداق ہر زمانہ میں ارباب ثروت اور حکمران ٹولے نے ان کو اپنے 'اغراض سیئہ' کے شیشے میں اتارنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے علمائے حق کو بارہا حوصلہ شکن ابتلاء و محن اور مصائب کے گھاٹ اترنا پڑا۔ اس راہ میں جس قدر ان راہ نماؤں نے قربانیاں دی ہیں، کسی اور طبقہ نے شاید و باید دی ہوں۔ بنو امیہ کے حجاج بن یوسف سے لے کر اب تک کتنے علمائے کرام اور ائمۂ عظام، ظالم بے دین اور خود غرض حکمرانوں کی مشقِ ناز کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں؟ ان کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے تاہم علماء حق کو 'کلمۂ حق' جیسے فریضۂ حق کے ادا کرنے سے کوئی شے نہ روک سکی۔

جبری طلاق کی اوٹ میں منصور اپنی جبری بیعت اور قیادت قبول کرانا چاہتا تھا، جب امام مالکؒ نے اس کی یہ خواہش پوری نہ کی تو اس ظالم نے حکم دیا کہ:

'ان کو ستر کوڑے مارے جائیں، امام دار الہجرۃ کو محکمۂ امارت میں گنہگاروں کی طرح لایا گیا۔ کپڑے اتارے گئے اور شانۂ امامت پر دستِ ظلم نے ستر کوڑے پورے کیے، تمام پیٹھ خود آلود ہو گئی۔ دونوں ہاتھ منڈھوں سے اتر گئے۔ اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو حکم دیا کہ اونٹ پر بٹھا کر شہر میں ان کی تشہیر کی جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، مگر امام موصوف اب بھی ان سے رام نہ ہوئے اور نہ ہی حواس باختہ ہوئے بلکہ فرماتے رہے کہ۔

میں فتویٰ دیتا ہوں کہ طلاق جبری درست نہیں (حیاتِ مالک بحوالہ طبقات)

امام احمد بن حنبلؒ کو پابجولاں جیل لایا گیا۔ کوڑے مار مار کر لہو لہان کیا گیا۔ آپ بے ہوش ہو ہو جاتے تھے اور کس مپرسی کے عالم میں نہایت جبر و تشدد کے ساتھ مدتوں جیل میں رکھا گیا اور ہمیشہ یہی فرماتے رہے کہ جو کہتے ہو اس کے لئے کتاب و سنت لاؤ۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو جرمِ حق کی پاداش میں جیل میں ڈال کر انواع و اقسام کی تعذیب اور اذیتیں دی گئیں مگر حکمرانوں کے غیر عادلانہ اور غیر اسلامی نظامِ حکومت میں ان سے قطعاً تعاون نہ کیا۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

یمن کے گورنر کے ظالمانہ طرزِ حکومت کے خلاف بولنے اور اس کو ٹوکنے کے نتیجہ میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو تلوار کی دھار کے نیچے اپنا سر رکھنا پڑا۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے یزید بن عبد الملک (بنو امیہ کے عظیم تاجدار) کی غیر عادلانہ حکومت کے خلاف ہمیشہ تنقید کی، اس عہد کی شورش جو یزید بن مہلب اور ابن الاشعت نے برپا کی تھی کے متعلق کہا کہ، ان میں سے کسی کا ساتھ نہ دیا جائے، ایک شامی نے کہا کہ کیا امیر المؤمنین کا بھی نہیں؟ انہوں نے پورے جلال میں کہا: ہاں ہاں: نہ امیر المؤمنین ک، نہ امیر المؤمنین کا۔ (طبقات ص ۱۱۸/۷)

امام غزالیؒ نے اپنے عہد کے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: بادشاہوں کے مال زیادہ تر حرام ہوتے ہیں۔ حلال مشکل سے ان کے ہاں ملے گا: أغلب أموال السلاطین حرام في ھذہ الأعصار والحلال في أیدیھم معدوم أو عزیز (احیاء العلوم ص ۱۲۰)

خلیفہ متقتضی لامر اللہ نے قاضی ابن المزحم الظالم کو جج مقرر کیا تو حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے اس کو سخت ملامت کی کہ: تو نے سب سے بڑے ظالم کو مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، کل خدا کو کیا جواب دو گے؟

ولیت علی المسلمین أظلم الظالمین، ما جوابك غداً عند رب العلمین (قلائد الجواھر ص ۸)

یہ سن کر خلیفہ کانپ اُٹھا اور رونے لگا اور فوراً ہی اسے برخاست کر دیا (القلائد)

بے انصاف اور ظالم لوگوں کو خاص کر حکام کو بے دریغ ٹوکتے اور بھرے مجمع میں ان کو ٹوکتے اور ان کے خلاف لوگوں کو متوجہ کیا کرتے تھے۔

ویصدعھم بذلك علی رؤس الأشھاد ورؤس المنابر وفي المحافل دینکم علی من یولي الظلمة ولا تأخذه في الله لومة لائم (ايضاً)

درباری سرکاری علماء اور مشائخ سے فرماتے کہ:

اے علم و عمل میں خیانت کرنے والو! تم کو ان سے کیا نسبت۔ اے اللہ اور اس کے رسول کے دشمنو! اے بندگانِ خدا کے ڈاکوؤ، اے عالمو، اے زاہدو! بادشاہوں اور سلاطین کے لئے کب تک منافق بنے رہو گے۔

پھر ان کے خلاف اللہ سے دعا کرتے کہ:

الٰہی منافقوں کی شوکت توڑ دے، ان کو ذلیل فرما۔۔۔ اور زمین کو ان سے پاک کر دے یا ان کی اصلاح فرما۔ (فیوض یزدانی مجلس ص۵)

حضرت امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے حکام اور بادشاہوں پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا۔

یہ حضرات شریعت کے مقابلہ میں اپنی رائے پر عمل کرتے ہیں کبھی اس شخص کا ہاتھ کاٹتے ہیں جس کا ہاتھ کاٹنا جائز نہیں اور کبھی اس کو قتل کرتے ہیں جس کا قتل حلال نہیں، ان کو یہ دھوکا ہے کہ یہ سیاست ہے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ شریعت ناقص ہے اس کو تکملہ اور ضمیمہ کی ضرورت ہے اور ہم اپنی رائے سے اس کی تکمیل کرتے ہیں۔ معاصی پر اصرار کے ساتھ ساتھ ان کو صلحاء کی ملاقات کا بھی بڑا شوق ہوتا ہے اور ان سے وہ اپنے حق میں دعائیں کراتے ہیںِ شیطان ان کو سمجھاتا ہے کہ اس سے گناہوں کا پلڑا ہلکا ہو جائے گا۔ (ماخوذ از تاریخ دعوت و عزیمت)

امام داؤد بن یوسف الخطیب ابو اللیث کے حوالےسے لکھتے ہیں۔

إنه كان يكره الدخول علي السلاطين ويفتي بذلك (برصغير پاك و ہند میں علم فقر ص ۵۲)

یعنی امام ابو اللیث سلاطین کے ہاں جانے کو برا سمجھتے تھے اور یہی فتوے دیتے تھے۔

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے تو حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے کی پیشکش صرف اس لئے ٹھکرا دی تھی کہ حکمران اور ان کے احکام اسلام کے پابند نہ تھے اور ڈرتے تھے کہ خدا کے ہاں ظالموں کے ہمراہ ان کا حشر نہ ہو۔

الغرض علمائے حق کا یہ مقامِ عزیمت تھا اور یہ ان کی تاریخ تھی۔ لیکن ان میں علماء سوء کا ایک طبقہ وہ بھی پیدا ہو گیا جس نے علم اور فتوے بیچے، اپنے اثر و رسوخ کا کاروبار کیا، حکومت کے مظالم میں ان کا ہاتھ بٹایا۔ حکمرانوں کی ہر بھونڈی سازش، سکیم، دھندے اور ضیافتِ طبع کے لئے جواز کے حیلے تشخیص اور تجویز کیے۔

ویسے تو ہر زمانہ میں ہر با اثر اور ہر حکمران نے مطلب کے علماء تلاش کرنے اور ثقہ علماء کی راہِ حق سے منحرف کرنے کے لئے جال پھیلائے ہیں، لیکن دورِ حاضر میں منظم طریقے کے ساتھ جس طرح علماء کو خریدنے اور استعمال کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے علاوہ مستقل ایک شعبہ ان کو اغوا کرنے کے لئے تگ و دو میں مصروف ہے۔ 'سیاسی داشتہ' کے طور پر باقاعدہ نام نہاد 'مولانا' رکھے جاتے ہیں جو لطیف حیلوں کے ذریعے ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں ان کو کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ جیسی کچھ صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ علمائے حق کو اسی صورتِ حال کا مقالہ کرنے کے لئے غور و فکر کرنے کی دعوت دیں۔ اگر وقت پر انہوں نے اس فتنہ کا احساس نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ، کل ان کا برا حشر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خود 'دین حق' بھی ناحق بدنام ہو۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑے جبہ و دستار اور علم و فضل میں اونچی شہرت رکھنے والے ایسے بدنام شکاریوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں اور ہتھیار ڈالتے جارہے ہیں کہ کرسی سے علیحدہ ہونے کے بعد اس سے سلام کرنا بھی وہ گوارا نہ کریں۔ اب ضرورت ہے کہ کوئی احمد بن حنبل، کوئی مالک، کوئی ابو حنیفہ، کوئی ابنِ تیمیّہ، کوئی جیلانی اور کوئی ابن الجوزی پھر اُٹھے اور واژگوں حالات کے دھاروں کا رخ بدل دے۔ اور یہ کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جب علماء اپنے بلند مقام پر فائز تھے تو دبکے نہیں تھے بلکہ حکمرانوں کو جنسِ بازار کی طرح بیچ ڈالا تھا۔

مصری حکومت کا ایک نائب السلطنت اصل میں غلام تھا جو کسی طرح بر سر اقتدار آگیا تھا، غلام اصل میں اسلامی بیت المال کی ملکیت ہوتے ہیں، اس لئے حضرت امام عز الدین بن عبد السلام نے اعلان کیا کہ، یہ شخص بیت المال کی جائداد ہے اور شرعی طریقے پر آزاد نہیں کیا گیا چنانچہ اس فتوے سے بڑی کھلبلی مچ گئی۔ حکام نے بلا کر پوچھا کہ آخر آپ کیا چاہتے، فرمایا:

ہم ایک مجلس طلب کریں گے اور بیت المال کی طرف سے آپ کو نیلام کریں گے اور شرعی طریقہ پر آپ کو آزادی کا پروانہ دیا جائے گا۔ انہوں نے جا کر بادشاہ سے کہا کہ یہ شیخ ہمیں ذلیل کرنا چاہتا ہے، بادشاہ نے بڑی کوشش کی مگر شیخ نے اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا، جس سے برہم ہو کر شاہ سے شیخ کی شان کے خلاف کوئی غیر محتاط جملہ نکل گیا، آپ نے سن کر وہاں سے کوچ کر دیا، پھر کیا تھا سارے شہر میں کہرام مچ گیا اور بادشاہ کو خود جا کر منتوں سے واپس لانا پڑا اور بالآخر یہ طے ہوا کہ:

وہ امراء سلطنت کو خود نیلام کریں۔

نائب السلطنت نے جلال میں آکر کہا کہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ تلوار لے کر شیخ کے دروازہ پر پہنچا، دستک دی، شیخ کا بیٹا آیا دیکھا کہ نائب السلطنت تلوار سونتے کھڑا ہے، جا کر بتایا تو شیخ نے کہا کہ:

بیٹا! آپ کا باپ اس قدر خوش نصیب کہاں کہ اس کو شہادت ملے۔ پھر باہر نکلے تو دیکھتے ہی نائب السلطنت کے ہاتھ سے تلوار گِر گئی اور بدن پر رعشہ طاری ہو گیا۔ اور پاؤں میں گر گیا اور کہا آپ کیا کرنا چاہتے ہیں، فرمایا آپ کا نیلام! پھر فرمایا یہ رقم کس مد میں ڈالیں گے؟ فرمایا: مسلمانوں کے کاموں میں: پوچھا: قیمت کون وصول کرے گا؟ فرمایا: میں خود۔ اس نے کہا: بہت اچھا! چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک ایک امیر کو نیلام کیا گیا اور ہر ایک کی بولی بولی گئی اور قیمت وصول کر کے وہ خیر کے کاموں میں صرف کی گئی۔ (طبقات الشافعیہ ماخوذ از تاریخ دعوت و عزیمت)

اب وقت ہے کہ آپ بھی اسلامی حکومت کے قیام میں کوئی تاریخ ساز کردار پیش کریں۔ ان سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، یقین کیجئے جو لوگ اسلامی کردار اور روح سے خالی ہیں ان کو جال تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ وہ آپ کی زد میں ہیں بشرطیکہ آپ خود قائم رہیں۔ یہ بت صرف آپ کے سہارے پر قائم ہیں۔ آپ اپنے کو ان کے سہارے پر نہ چھوڑیں! ہاں جائز کاموں میں حکومت سے ضرور تعاون کیا جائے لیکن اس سے ان کے باطل نظامِ سیاست اور پروگرام کی عمر دراز نہ ہونے پائے اور ان کے جو گماشتے آپ کا کاروبار کرنے کے لئے آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کو آپ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے آپ کی غیرت اور ثبات علی الحق سے خوف آئے۔ اگر آپ نے خود اپنے منصب اور مقام و مرتبہ کا احترام نہ کیا تو یقین کیجئے: کل آپ کی وہی حیثیت ہو گی جو آج ملک میں چماروں کی ہے۔ آپ اس سے بچیں کہ آپ پر حضور کا یہ ارشاد صادق آئے۔

کچھ لوگ دین حاصل کریں گے کہ بادشاہوں کا قرب حاصل ہو گا، دنیا کمائیں گے مگر اپنا دین بچا کے رکھیں گے مگر ایسا ممکن نہ ہو گا۔

إن ناسًا من أمتي سیتفقھون في الدین یقرؤن القراٰن یقولون نأتی الأمرآء فنصیب من دنیاھم ونعتزلھم بدیننا ولا یکون ذلك الحدیث (ابن ماجه)

حضرت ابن مسعود نے فتنوں کی تصویر کھینچتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس وقت نازل ہوں گے جب فہم دین، دین کے لئے اور علم عمل کے لئے نہیں حاصل کیا جائے گا اور نیک عمل کے ذریعے دنیا تلاش کی جائے گی۔

إذا تُفَقِّه لغير الدين وتُعُلم لغير العمل والتمست الدنيا بعمل الاخرة (رواه عبد الرزاق)

بہرحال ہم اس فریضہ کے لئے ہر اس شخص سے اپیل کریں گے جو دین کی عظمت اور سر بلندی چاہتا ہے کہ علمائے حق کا ساتھ دے تاکہ بدول ہو کر وہ کسی آس پاس کے فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ قائم نہ رہیں تو قرآن کا ارشاد ہے کہ ان سے الگ ہو جاؤ! کیونکہ اس سے زیادہ یہ سوچ ہی نہیں سکتے۔

﴿فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيوٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ...٣٠﴾...سورة النجم
جو شخص ہماری یاد سے روگردانی کرے اور دنیا کے سوا اس کو اور کسی بات سے غرض ہی نہ ہو، اس کی ذرہ بھی پروا نہ کرو، اس کے علم و عقل کی رسائی (بس) یہیں تک ہے۔

جن لوگوں نے علمِ دین کے ذریعے 'قرب سلطان اور دنیا' حاصل کی، قرآن نے ان کو آیات الٰہی فروخت کرنے والا قرار دیا ہے:

اشتروا به ثمنا قليلا (توبه ع۱۴)﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَ‌وُا الضَّلـٰلَةَ بِالهُدىٰ...١٦﴾...سورة البقرة ﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَ‌وُا الحَيوٰةَ الدُّنيا بِالـٔاخِرَ‌ةِ...٨٦﴾...سورة البقرة ﴿اشتَرَ‌وا بِـٔايـٰتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَليلًا...٩﴾...سورة التوبة "یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت اور آیات کے عوض حقیر دنیا کمائی اور ہدایت کے بدلے ضلالت مول لی۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں مسلمان حکومتیں، ان تمام ذرائع اور وسائل پر قبضے کرتی جا رہی ہیں، جن سے کسی طور علماء کا تعلق ہو سکتا ہے، پھر ان کو جاہ و منصب اور مادی منفعت کے لالچ دیئے جا رہے ہیں چنانچہ کچھ خام اور ناہنجار لوگ کچے دھاگے سے ادھر کو کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ خاص کر جماعت اہل حدیث کے اکابر کے لئے یہ مقامِ غور ہے، بعض پوری جماعتیں، بعض افراد، اور بعض علماء حکمرانوں کی گود میں پناہ لیتے ہیں، اس کو ہوش میں آنا چاہئے، اس سے غرض: حکومت یا حکمرانوں کی مخالفت نہیں کیونکہ یہ مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ ہے کہ: ان کی غلط کاریوں میں ان کا ساتھ نہ دیا جائے اور یہ احساس کیا جائے کہ ان کی حاشیہ نشینی اور چوبداری کے فرائض اور خدمات آپ کا منصب نہیں ہے۔ تبلیغ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سوا ان کی طرف رخ کرنا، آپ کی ذات اور آپ کی آخرت کے لئے خطرناک ہے۔ اگر آپ کے 'قرب سلطان' کی وجہ سے عوام گمراہ ہو سکتے ہیں اور اس سے غلط کار حکمرانوں کے اغراض سیئہ اور باطل نظامِ حکومت کو غذا مل سکتی ہے۔ تو پھر خوفِ خدا سے کام لیجیے! خدا کے ہاں آپ سے اس کی بڑی باز پرس ہو گی، باقی رہی دنیا؟ سو اس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ وفا کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ یہ لوگ عموماً چوس کر پھینک دیا کرتے ہیں، سوچ لیجئے، کہیں کل آپ کا بھی یہی حشر نہ ہو۔

یہ ایک تاریخی تجربہ ہے کہ سچی اسلامی حکومت اور خلافت علی منہاج النبوۃ کے سوا اور کسی بھی طرز کی حکومت 'علماء حق' کے لئے سازگار فضا مہیا نہیں کر سکتی اور جو بھی حکومت آئی ہے، عموماً اس نے علمائے سو ہی پیدا کیے ہیں۔ اور کرتی چلی جائے گی، آپ کو یاد ہو گا کہ سابق صدر ایوب نے شکایت کی تھی کہ، ان لوگوں نے مشاہدۂ تاشقند کو 'صلح حدیبیہ' کا نام دیا تھا، یقین کیجئے! جب مسٹر بھٹو جائیں گے تو خدا جانے وہ اپنے حاشیہ نشینوں میں سے کس کس 'مولانا' کی کیسی کیسی شرمناک بو العجبیاں بتائیں گے؟ بہرحال سیاسی کاسہ لیسی تو ہر باضمیر انسان کے لئے شرمناک ضلالت اور پستی ہے خاص کر علماء کے لئے 'سیاسی داشتہ' کے فرائض اور خدمات قبول کرنا تو انتہائی ذلیل پیشہ ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بندۂ خدا اُٹھے اور ان علماء کو بریک لگائے جو ہمت ہار کر اپنے روحانی اور معنوی مقتل کو اٹھ دوڑے ہیں۔ وما علینا إلا البلاغ