Muhaddas_39_jan_frb_1975

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گرامی قدر۔ مولانا صاحب؛ دام فیوضہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

کتاب و سنت اور فقہ حنفی سے فجر کی نماز کے اول اور آخری وقت کے متعلق مفصل تحریر فرمائیں۔ والسلام۔

حافظ محمد طفیل۔ منڈی واربرٹن۔ ضلع شیخو پورہ (دسمبر ۱۹۷۴ء)

الجواب وھو الملھم بالصواب:

کتاب و سنت اور کتب احناف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کی نماز اندھیرے (غلس) میں شروع کی جائے۔ باقی رہا اس کا اختتام؟ سو راقم الحروف کے نزدیک اندھیرے میں ہی ختم کی جائے یا اتنا لمبا قیام اور لمبی قرأت کی جائے کہ صبح معروف معنوں میں روشن ہو جائے۔ ظاہر ہے اس مؤخر الذکر صورت میں اجر بھی زیادہ ہو گا۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں صورتیں مسنون ہیں (الف) غلس سے غلس تک۔ (غلس سے اسفار تک)

غلس کتاب اللہ سے:

قرآن حکیم کا ارشاد ہے:

﴿سابِقوا إِلىٰ مَغفِرَ‌ةٍ مِن رَ‌بِّكُم...٢١﴾...سورة الحديد
''دوڑو اپنے رب کی معافی کو۔'' (موضح القرآن شاہ عبد القادرؒ)

''دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف کو (ترجمہ شیخ الہند استاذ مولانا انور شاہ کشمیری)

''یعنی موت سے پہلے وہ سامان کر لو جس سے کوتاہیاں معاف ہوں۔ اس کام میں سستی اور دیر کرنا مناسب نہیں۔'' (مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ دیو بندی)

چونکہ موت کا کچھ پتہ نہیں کہ کب آجائے، اس لئے وقت آجائے تو اس سلسلے میں سستی مناسب نہیں ہے۔ اٹھو اور پہلے ہی مرحلہ میں وہ کام کر لو جو آپ کے ذمے ہو گیا ہے۔ چنانچہ حج کے بارے میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے شاگرد حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فتویٰ ہے کہ: جب ستطاعت ہو جائے تو حج اسی سال ہی کر لینا چاہئے۔

وھو واجب علی الفور عند أبي یوسفؒ وعن أبي حنیفةؒ ما يدل عليه (ھدايه كتاب الحج ص ۲۳۲/۱)

حضرت امام ابو حنیفہؒ سے سوال کیا گیا کہ: ایک شخص کے پاس مال ہے۔ اسے پہلے حج کرنا چاہئے یا شادی؟ فرمایا: حج! علمائے احناف لکھتے ہیں کہ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ حج فوری کر لینا چاہئے۔

وھو أنه سئل عمن له مال يحج أم يتزوج فھذا دليل علي أن الواجب عنده علي الفور كذا في الكافي (حاشيه ھدايه ۵ ص ۲۳۲/۱)

امام کرخیؒ (ف ۳۴۰ ؁ھ) اور حضرت امام ابو منصور ما تریدیؒ (ف ۳۳۳؁ھ) جیسے ائمۂ احناف کا بھی یہی نظریہ ہے۔

وفي التحفة والبدائع عن الكرخي أنه علي الفور والإمام أبو منصور ما تريدي يحمل مطلق الأمر علي الفور (حاشيه ھدايه ۴ ص ۲۳۲/۱)

فوری کے معنی یہ کیے ہیں کہ! جہاں تک بس میں ہو جلدی جلدی اول وقت میں کر لینا چاہئے۔

والمراد عن الفور أن یلزم المأمور فعل المأمور به في أول أوقات الأمكان مستعار للسرعة (حاشيه ھدايه ۴ ص ۲۳۲ / ۱)

ہدایہ کے مؤلف امام علی بن ابی بکر الفرغانیؒ (ف ۵۹۳؁ھ) اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ:

حج سال میں ایک دفعہ آتا ہے اور سال بھر میں مر جانا انہونی بات نہیں ہے اس لئے افضل کہ جلدی کی جائے۔

وجه الأول أنه يخص بوقت خاص والموت في سنة واحدة غيرنا در فيتضيق احتياطا ولھذا كان التعجيل أفضل (ھدايه ص ۲۳۲ / ۱)

امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ اگر اس دیری میں وہ فوت ہو گیا تو گنہگار ہو گا۔

یأثم بالتأخیر عند أبي یوسف (حاشیہ ۲ ص ۲۳۲/۱)

گو صاحبِ ہدایہ نے نماز کو اس کلیہ سے مستثنیٰ کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ: نماز کے ٹائم میں موت نادر بات ہے۔

بخلاف وقت الصلوٰة لأن الموت في مثله نادر (كتاب الحج ص ۲۳۲/۱)

لیکن یہاں اختلاف 'گنہگار' ہونے میں نہیں ہے بلکہ افضلیت میں ہے۔ اس لئے جب موت کا احتمال یہاں موجود ہے بلکہ بہت سے بزرگوں کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ فلاں صاحب سجدہ میں یا قیام میں فوت ہو گئے، تو معلوم ہوا کہ نماز کا سارا وقت تو بڑی بات، خود نماز میں یہ حادثہ ممکن الوقوع ہے۔ اور ہوتا رہا ہے۔ اس لئے افضلیت کی حد تک اس احتمال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ احتیاط اسی میں ہے، اس لئے فرمایا۔

﴿حـٰفِظوا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلوٰةِ الوُسطىٰ...٢٣٨﴾...سورة البقرة
خبردار رہو نمازوں سے اور بیچ والی نماز سے (موضح)

حضرت مسروق (۶۲؁ھ) اس کے معنی وقت پر ادا کرنے کے کرتے ہیں۔

قال الحافظ علي الصلٰوة، الصلٰوة لوقتھا (مصنف ابن ابي شيبة)

نگہداشت اور حفاظت کا طریقہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ پورے آداب کے ساتھ اول وقت پر ادا کر لی جائے، کیا خبر کہ اگلی گھڑی میں کیا پیش آجائے۔

امام ابنِ حزم (ف ۴۵۶؁ھ) نے اول وقت کی افضلیت کے سلسلے میں ان آیات سے استدلال کیا ہے۔

﴿وَسارِ‌عوا إِلىٰ مَغفِرَ‌ةٍ مِن رَ‌بِّكُم...١٣٣﴾...سورة اٰل عمران (محلي ص ۱۳۳/۳)

اور اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف لپکو۔ (نذیر احمدؒ)

اور دوڑو طرف بخشش اپنے رب کی۔ (موضح محدث دہلوی)

اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی جانب۔ (ترجمہ عاشق الٰہی تلمیذ شیخ الہند)

اور دوڑو بخشش کی طرف اپنے رب کی (ترجمہ شیخ الہند)

امام ابن حزم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ: دوڑنے کے حکم کا تقاضا ہے کہ: دیر نہ کی جائے، اول وقت میں ادا کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بیٹھ بیٹھ کر آخر میں ''دوڑنے' کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ دوڑنے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ حکم ملتے ہی اٹھ کھڑا ہو۔ اور اس سلسلے کے لوازمات کی تکمیل میں لگ جائے۔

﴿وَالسّـٰبِقونَ السّـٰبِقونَ ﴿١٠﴾ أُولـٰئِكَ المُقَرَّ‌بونَ ﴿١١﴾...سورة الواقعة
ترجمہ: ۱۔ اور گاڑی والے سوا گاڑی والے، وہ لوگ ہیں پاس والے (موضح)

۲۔ اور گاڑی والے تو اگاڑی والے، وہ لوگ ہیں مقرب (شیخ الہند)

۳۔ اور آگے نکل جانے والے جو آگے ہیں (سب سے) یہی مقرب لوگ ہیں (تلمیذ شیخ الہند، عاشق علیؒ)

امام ابنِ حزم رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر دوسرے اکثر مفسرین سے تقریباً مختلف کی ہے، ان کا خیال ہے کہ سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں جو خیر اور نیکی کے کاموں میں سبقت کیا کرتے تھے، اور دوڑ کر اسے جا لیتے تھے: فرماتے ہیں کہ خیر کے کاموں میں مسارعت اور مسابقت کی افضلیت نص قرآن سے ثابت ہے۔

فالسارعة إلي الخير والسابقة إليه أفضل بنص القراٰن (المحلي ص ۱۳۳/۳)

قراٰن الفجر:

قرآن حکیم میں ہے:

﴿وَقُر‌ءانَ الفَجرِ‌ ۖ إِنَّ قُر‌ءانَ الفَجرِ‌ كانَ مَشهودًا ﴿٧٨﴾...سورة الاسراء
مختلف تراجم وتفاسیر:

1. اور قرآن پڑھنا فجر کا، بے شک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو۔ (موضح القرآن شاہ عبد القادرؒ دہلوی)

2. اور قرآن پڑھو فجر کو، بیشک قرآنِ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ (تلمیذ شیخ الہند دیو بندیؒ)

چونکہ نمازِ صبح میں رات کے محافظ اور دن کے محافظ فرشتوں کی بدلی ہوتی ہے اس کو مشہود فرمایا۔ (تلمیذ شیخ الہندؒ)

حدیث میں ہے کہ فجر و عصر کے وقت دن اور رات کے فرشتوں کی بدلی ہوتی ہے، لہٰذا دو وقتوں میں لیل و نہار کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے تو ہماری قرأت اور نماز ان کے روبرو ہوئی جو مزید برکت و سکینہ کا موجب ہے اور اس وقت اوپر جانے والے فرشتے خدا کے یہاں شہادت دیں گے کہ جب ہم گئے تب بھی ہم نے تیرے بندوں کو نماز پڑھتے دیکھا اور جب آئے تب بھی۔ (حاشیہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ دیو بندی)

3. اور صبح کا قرآن ف۲ بے شک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ ف۳۔ (کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن مولانا احمد رضا خاں بریلوی)

حاشیہ: ف۳: یعنی نمازِ فجر میں رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں اور دن کے فرشتے بھی آجاتے ہیں (خزائن العرفان في تفسیر القرآن از سید محمد نعیم مراد آبادی بریلوی)

یہ تراجم و حواشی زیادہ تر حنفی بزرگوں کے ہیں، جو دیو بندی اور ان کے اکابر ہیں یا بریلوی ہیں اور ان کے رہنما۔

فرشتوں کی یہ ڈیوٹی عصر اور فجر کا وقت ہوتے ہی بدلتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ اوّل ہی وقت کی بات ہو سکتی ہے، کیونکہ آنے والے نے بتایا کہ جب ہم پہنچے تو وہ نماز میں تھے۔

اگر نماز اس وقت شروع کی جب چیونٹی نظر آنے لگی تو ظاہر ہے جب وہ آئے نمازی، نماز میں تو نہ دیکھے۔

حنفی علماء صبح کے وقت کو جمعیت خاطر کا وقت بھی قرار دیتے ہیں (حاشیہ مولانا عثمانی دیو بندی) تو ظاہر ہے کہ جمعیت خاطر کے لئے صبح کا اول وقت ہی سازگار ہو سکتا ہے، کیونکہ ابھی فضاؤں پر سناٹا چھایا ہوتا ہے، جب فقہی 'اسفار' شروع ہو جاتا ہے،فضاؤں میں 'کہرام' برپا ہو جاتا ہے۔ جمعیت کے سامان کہاں؟ یہی وجہ ہے کہ نمازِ عشاء کو اول وقت کے بجائے بعد کے ان اوقات میں پڑھنا افضل بتایا گیا ہے، جن میں 'ہُو کا عالم طاری ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں جمعیتِ خاطر کے سامان زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے تہجد کی فضیلت بھی زیادہ آئی ہے۔ گویا کہ نماز عشاء کے استثناء کی وجہ بھی یہی 'ساعتِ جمعیت' ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی یہی حکمت بیان فرمائی ہے وہ لکھتے ہیں:

وكان أحق ما يؤدي فيه الصلوٰة وقت خلو النفس عن ألوان الاشغال المعاشية المنسية ذكر الله ليصارف قلبا فارغًا فتمكن منه ويكون أشد تأثيرا فيه وھو قوله تعالٰي: وقراٰن الفجر ط إن قراٰن الفجر كان مشھودا (حجة الله البالغة ص ۱۵۰)

اسفار، چونکہ اشغال منسیہ کا محمل ہے اس لئے اس میں جو نماز پڑھی جائے گی، اس سے 'حضور قلب' غلط تاثر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں افضل یہی رہے گا کہ غلس میں نماز شروع کی جائے جو 'جمعیتِ خاطر' کا بہترین ضامن ہے۔ اگر یہ حکمت 'غلس' (اندھیرے) میں مضمر نہ ہوتی تو نمازِ عشاء کو زیادہ مؤخر کرنے اور حرف اللیل میں تہجد پڑھنے میں زیادہ اجر نہ ہوتا۔

علامہ ابو السن السندی حنفی (ف ۱۱۲۸ھ) لکھتے ہیں کہ اس وقت دونوں طرف کے ملائکہ کے اجتماع کا یہ تقاضا ہے کہ نماز اس وقت ادا کی جائے اور یہ استنباط نہایت دقیق ہے۔

يمكن أن يؤخذ من ھذا التفسير المرفوع أنه ينبغي إيقاع ھذا الصلوٰة في الغلس أول ما يطلع النھار الشرعي إذا الظاھر أن ذاك ھو وقف نزول ملائكة النھار وطلوع ملائكة الليل فاجتماع الطائفتين في ھذه الصلوٰة يقتضي أداؤھا في مثل ھذا الوقت وھذا استنباط دقيق۔ (شرح ابن ماجه ص ۲۲۹/۱)

غلس:

سنت رسول اللہ ﷺ:

اس سلسلے میں دو قسم کی روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں، ایک وہ جو عام ہیں دوسری وہ جو خاص ہیں۔

عام احادیث:

1. عن علیؓ: أن النبي ﷺ قال: یا علي ثلث لا تؤخرھا: الصلوٰۃ إذا آنت (ترمذی۔ ابواب الصلوٰۃ، باب ما جاء فی الوقت الاول)

امام ملا علی قاری مکی حنفی (ف ۱۰۹۴؁ھ لکھتے ہیں کہ: راوی ثقہ ہیں: بسند رجاله ثقات قاله میرک (مرقاۃ ص ۱۳۶/۲)

ترجمہ: حضور کا ارشاد ہے: اے علیؓ تین باتیں ایسی ہیں جن میں تاخیر نہ کریں، نماز جب وقت ہو جائے الحدیث۔

2. عن أم فروة وکانت مما بایعت النبي ﷺ قالت سئل النبي ﷺ أی الأعمال أفضل! قال الصلٰوة لأول وقتھا (ترمذی باب مذکور۔ ابن ابی شيبة)

امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث عمری کے بغیر اور کسی نے روایت نہیں کی اور یہ راوی ضعیف ہے۔

ملا علی قاری مکی حنفی لکھتے ہیں: دوسرے (ائمہ) کہتے ہیں، بلکہ یہ حدیث صحیح ہے۔ قال غیرہ بل ھو حدیث صحیح نقله ابن الملك (مرقات ص ۱۳۷ / ۲)

حضرت ام فروہؓ جس نے حضور ﷺ کی بیعت کی تھی۔ فرماتی ہیں کہ کسی نے حضور ﷺ سے سوال کیا، سب عملوں سے افضل کونسا عمل ہے؟ فرمایا: اول وقت میں نماز۔

3. أن رجلا قال لابن مسعودؓ أي العمل أفضل؟ قال سألت عنه عن رسول الله ﷺ فقال: الصلوٰة علي مواقيتھا (ترمذي ايضاً وابن ابي شيبة ص ۳۱۶/۱ باب في قال افضل الصلوٰة لميقاتھا)

كسی نے حضرت ابنِ مسعودؓ سے پوچھا: کونسا عمل افضل ہے؟ فرمایا میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس سے متعلق سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ: اپنے وقتوں پر نماز پڑھو الحدیث۔

4. عن عائشةؓ: قالت ما صلي رسول الله ﷺ صلوة لوقتھا إلاخر مرتين حتي قبضه الله تعالٰي (ترمذي ايضا ومصنف ابن ابي شيبة)

ترمذی کے موجودہ نسخے میں 'ھذا حدیث غریب' لکھا ہے مگر امام ملّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں کہ امام ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث حسن ہے: وقال حسن غریب (مرقات ص ۱۳۷/ ۲)

حضرت عائشہ کا ارشاد ہے: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے وصال تک دو دفعہ (بھی) نماز اخیری وقت میں نہیں پڑھی۔

عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ: الوقت الأول من الصلوٰة رضوان اللہ والوقف الاخر عفو اللہ (ترمذی ایضا)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

نماز کے اول وقت میں اللہ کی خوشنودی ہے اور آخر میں صرف درگزر۔

بعض روایات میں آیا ہے: ووسطه رحمة الله (مرقات ص ۱۳۶/۲) يعنی اس كا درمیانہ حصہ الله كی رحمت كا موجب ہے۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ: رضوان محسنین کا خاصہ ہے اور 'عفو' قصور واروں کا۔ فی شرح السنة قال الشافعي رضوان الله تعالٰي إنما يكون للمحسنين والعفو يشبه أن يكون للمقصرين نقله الطيبي (مرقات ص ۱۳۶/۲)

حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ (ف ۸۵۲؁ھ) امام تيمی كی ترغيب و ترہيب سے نقل کرتے ہیں۔

ویروی عن أبي بکر الصدیقؓ أنه قال لما سمع ھذا الحديث: رضوان الله أحب إلينا من عفوه (تلخيص الحبير ص ۶۷)

حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت کی جاتی ہے کہ: جب انہوں نے یہ حدیث سنی تو فرمایا ہمیں رب کی رضا اور خوشنودی اس کے عفو سے زیادہ محبوب ہے۔

گو یہ روایت ضعیف ہے مگر کثرت طرق کی بنا پر 'حسن نعیرہ' ہے جو حجت ہوتی ہے: وقال: حدیث حسن غریب وقال ابن حجر ھو ضعیف من سائر طرق فليحمل تحسين في حسنه علٰي أنه حسن لغيره (مرقات ص ۱۳۷ / ۲)

بعض بزرگوں نے 'اول وقت' والی احادیث کے یہ معنی کیے ہیں کہ: آخر وقت سے مراد مکروہ وقت ہے (الکوکب الدری ص ۹۸ /۱)

یہ تاویل ان کو اس لئے کرنا پڑی ہے تاکہ 'جن جن نماز دن میں وہ اوّل وقت کے بجائے 'تاخیر' سے پڑھنے کے قائل ہیں، اس پر آنچ نہ آئے۔ اصل میں روایات میں مقابلہ، مباح اور مکروہ یا مستحب اور مکروہ اوقات کا نہیں ہے بلکہ مستحب اور جائز بلا کراہت کا ہے۔ کیونکہ وقت مکروہ اور اول وقت متنازع فیہ بات ہی نہیں ہے، سب جانتے ہیں کہ مکروہ کے مقابلے میں اول افضل ہے۔

بہرحال وقت، کے تین حصے ہو سکتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ، ان میں سے جو حصہ سب سے پہلا ہے، ان روایات میں ان کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اسے ہی 'اول وقت' قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے اسے مکروہ کے مقابلے میں رکھا جائے یا مباح بلا کراہتِ وقت کے ہر حال میں 'اول وقت' سے مراد 'اضافی اول' نہیں ہے بلکہ حقیقی اوّل ہے اور وہ وہی ہے جہاں سے وقت شروع ہوتا ہے۔

گو ان روایات میں سے بیشتر روایات علی الانفراد ضعیف ہیں لیکن جیسا کہ ملا علی قاری حنفی نے امام ابن جر عسقلانی سے نقل کیا ہے، مجموعی لحاظ سے قوی یعنی 'حسن لغیرہ' ہے۔

خاص احادیث: اسی سلسلے میں دو قسم کی روایات ہیں، ایک وہ ہیں جو اس امر میں 'نص' ہیں کہ 'غلس' (ابتدائی وقت، جب ابھی اندھیرا ہوتا ہے) میں نماز پڑھی جائے۔ پھر یہ بھی دو قسم کی ہیں، ایک وہ جو غلس سے شروع کر کے غلس میں ختم کرنے کی غماز ہیں اور کچھ وہ ہیں جو غلس سے شروع کر کے روشنی میں ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں مسنون اور افضل ہیں کبھی یہ اور کبھی وہ۔

دوسری وہ روایات ہیں جو اس امر کی متحمل ہیں کہ نماز روشنی میں پڑھی جائے اور روشنی میں ہی ختم کی جائے۔ ہمارے نزدیک گو یہ بھی جائز ہے لیکن افضل نہیں ہے۔

ہاں موخر الذکر صورت میں غلس سے شروع کر کے اسفار (معروف معنوں میں روشنی تک) یہ لحاظ رکھنا ہو گا کہ نمازی اس کے متحمل بھی ہوں، بہت بوڑھے، بیمار، کمزور یا بہت تھکے ہارے لوگ شریک ہوں تو پھر افضل غلس (اندھیرے) سے غلس تک ہی رہے گا، ورنہ غلس سے اسفار تک نماز کو لمبا لے جانا ہی افضل ہو گا، اس سلسلے کی روایات کو سامنے رکھا جائے تو ان میں تطبیق کی یہی صورت ہی احسن معلوم ہوتی ہے گو روشنی سے شروع کر کے روشنی میں ختم کرنا جائز ہے مگر افضل نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تعامل اور صحابہؓ کے طرزِ عمل سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ بیانِ جواز کی بات الگ ہے۔

غلس والی روایات:

یہ روایت ان صحابہؓ سے مروی ہے: حضرت عبد اللہ بن عمرو، حضرت زید، حضرت عائشہؓ، حضرت ابنِ عمر، حضرت سہل بن سعد، حضرت انس، حضرت قیلۃ بنت مخرمہ، حضرت ابو بردہ، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت معاویہ، حضرت ام سلمہ، حضرت علی، حضرت ابو مسعود انصاری، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابنِ عباس، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت براء، حضرت ابو سعید خدری، حضرت عمرو بن حزم اور حضرت بریدۃ رضوان اللہ علیہم۔

ان سب کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام غلس میں یعنی صبح صادق ہوتے ہی اندھیرے اندھیرے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔

بعض روایات کے بعض اقتباسات یہ ہیں:

حضرت زیدؓ:

سحری کھا کر ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، سحری اور جماعت کے درمیان اتنا فرق تھا جتنا پچاس آیتیں تلاوت کرنے سے ہو سکتا ہے:

قَدْرُ خمسین اٰية (بخاري و مسلم)

حضرت عائشہؓ:

فرماتی ہیں کہ ہم پڑھ کر واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتی تھیں۔

وَلَا يَعْرِفُھُنَّ أَحَدٌ من الغلس وفي رواية ولا يَعْرِفُ بعضھن بعضا (بخاري)

بعض اوقات پڑھ کر واپس ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچانا جا سکتا تھا۔

وکان ینفتل من صلاة الغداة حین یعرف الرجل جلیسه (بخاری و مسلم)

معلوم ہوا کہ شروع بہرحال اندھیرے میں ہوتی تھی۔

بعض بزرگوں نے حضرت عائشہؓ کی روایت کی تاویل کی ہے کہ: دراصل وہ اندھیرا اندھیرے کمرے کا تھا جس میں وہ نماز پڑھتی تھیں۔ مگر یہ بات محل نظر ہے۔ دراصل یہ بزرگ سردیوں میں حدیث کا مطالعہ فرما رہے تھے کہ وہ بھی شاید کمرے میں ہوں گی، کیا گرمیوں میں صبح نہیں ہوتی؟ اور کیا ضرور ہے کہ وہ کمرے میں نماز پڑھتی ہوں؟ حالانکہ خواتین کا مسجد میں جا کر نماز پڑھنا ثابت ہے۔

حضرت معاذؓ:

سردیوں میں صبح کی نماز غلس (اندھیرے) میں پڑھا کیجئے اور قرأت لمبی رکھیے۔

إذا كان في الشتاء فَفَلِّسْ بالفجر وأطِلِ القرأة (شرح السنة)

حضرت جابرؓ:

آپ صبح كی نماز اندھيرے (غلس) میں پڑھتے تھے۔

والصبح کانوا وکان النبي ﷺ یصلیھا بغلس (بخاری و مسلم)

حضرت انسؓ:

آپ نے خیبر کے دنوں میں غلس (اندھیرے) میں نماز پڑھی:

صلی رسول اللہ ﷺ یوم خیبر صلوٰة الصبح بغلس (النسائی)

حضرت عبد اللہؓ بن عمرو بن العاص:

صبح کا وقت صبح صادق سے سورج نکلنے تک ہے۔

وقت صلوٰة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس (مسلم، ابو داؤد و نسائی)

ابو ہریرہؓ:

فجر کا اول وقت صبح صادق ہے۔

إن أول وقت الفجر حین یطلع الفجر (ترمذی)

جبرائیل:

جبرائیل امین نے اسی طرح پڑھ کر دکھائی: پہلے پو پٹھتے ہی اور دوسرے دن قدرے روشنی ہونے پر آپ کو نماز پڑھائی۔

فصلی الصبح حین طلع الفجر۔۔۔۔۔ ثم جاءہ الغد فصلی به الصبح حين أسفر قليلا (نسائي)

ابو موسی الاشعریؓ:

پو پٹھتے ہی فجر پڑھی ابھی ایک دوسرے کو پہچاننا مشکل تھا۔

فأقام الفجر حین انشق الفجر والناس لا یکاد یعرف بعضھم بعضا (مسلم)

ان میں سے بعض روایات وہ ہیں، جن میں امامت جبرائیل یا حضور ﷺ کا ذِکر ہے جس میں تعلیم کے لئے اول اور آخر وقتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور ان میں سے بیشتر روایات امام طحاوی حنفیؒ (ف ۳۲۱؁ھ) نے اپنی حدیث کی مشہور کتاب 'شرح معانی الآثار' میں بیان فرمائی ہیں۔

حضرت ابو مسعود انصاریؓ:

فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دفعہ اندھیرے میں پڑھی، پھر روشنی میں، اس کے بعد آپ نے 'وصال' تک اندھیرے میں ہی پڑھی، روشنی میں پھر نہ پڑھی۔

صلی الصبح مرة بغلس ثم صلی مرة أخری فأسفر بھا ثم کانت صلٰوته بعد ذلك التغليس حتّٰي مات لم يعد إلي أن يسفر (ابو داؤد ص ۴۱/۱)

أن رسول الله ﷺ صلي الغداة فغلس بھا ثم صلاحا فأسفر ثم لم يعد إلي الإسفار حتي قبضه الله عزوجل (شرح معاني الاثار، المعروف طحاوي ص ۸۶/۱)

وصلي الصبح بغلس ثم صلي مرة أخري فأسفر بھا ثم كانت صلوته بعد ذلك بالغلس حتّٰي مات ﷺ لم يعد إلي أن يسفر (ابن حبان ص ۹۲/۱)

دار قطنی میں مزید وضاحت ہے: باقی روایات میں ہے کہ ایک بار غلس میں پڑھی پھر ایک دفعہ روشنی میں پڑھی، دار قطنی میں ہے کہ، صبح کی نماز پڑھتے تو اندھیرے میں پڑھا کرتے پھر ایک اور دن روشنی میں پڑھی۔

ویصلی الصبح فیغلس بھا ثم صلاھا یوما اٰخر فأسفر ثم لم یعد إلی الإسفار حتّٰی قبضه الله تعاليٰ (دار قطني ص ۹۳/۱)

اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا معمول 'غلس' میں نماز پڑھنے کا تھا۔ صرف ایک دفعہ روشنی میں پڑھی۔ پھر تا عمر غلس میں ہی پڑھتے رہے۔ ھکذا قالت عائشة روايات سے پتہ چلتا ہے، یہ بھی صرف نمازِ صبح كا اخیری وقت بتانے کے لئے پڑھی یا پڑھائی تھی۔ اسی روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ، دوسری جن احادیث اسفار کا ذِکر ہے، اس سے مراد 'کوفی روشنی' نہیں بلکہ 'مدنی' ہے۔ کوفی کے معنی ہیں کہ بالکل دن چڑھ جانا جیسا کہ اب اکثر حنفیوں کا معمول ہے۔ مدنی سے ہماری مراد صرف 'وضوح صبح' ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا معمول تھا۔

اسی مضمون کی روایت سنن کبریٰ بیہقی میں بھی ہے (ص ۴۳۵/۱ بغیۃ الالمعی) کچھ بزرگوں نے اس ٹکڑے پر اعتراض کیا ہے اور یہ بھی انکشاف فرمایا ہے کہ امام ابو داؤد کے نزدیک یہ حدیث معلول ہے۔ علله ابو دوأد وعندي له وجه ومعناه (فيض الباري پ ۱۲۵)

ابو داؤد ہمارے سامنے ہے اس میں انہوں نے یہ تو فرمایا ہے کہ: فلاں راویوں نے یہ حدیث بیان کی ہے مگر یہ 'ٹکڑا' کسی اور نے بیان نہیں کیا، صرف فلاں نے بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو (ابو داؤد ص ۴۱/۱ باب فی المواقیت) چونکہ یہ زیادہ حصہ ثقہ راوی کا ہے اور اپنے سے اوثق کے خلاف بھی نہیں ہے بلکہ 'ما سکت عنه' کے قبیل سے ہے۔ اس لئے اصولِ حدیث کی رو سے حجت ہے اس لئے امام ابو داؤد اس کی تضعیف نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ شیخ سلام اللہ حنفی رامپوری (ف ۱۲۲۹؁ھ) محل شرح مؤطا میں لکھتے ہیں کہ امام ابو داؤد نے اس پر سکوت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ امام ابو داؤد جس حدیث پر سکوت فرمائیں، کم از کم حسن درجہ کی ضرور ہوتی ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں، امام خطابی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔

الحدیث مما صححه ابن خزيمة وسكت عليه أبو داود وما سكت ھو عليه لا ينزل عن درجة الحسن قال البيھقي رواية كلھم ثقات۔۔۔۔ وقال الخطابي ھو حديث صحيح إسنادأ ومتناً (محلّي شرح موطا للشيخ سلام الله حنفيؒ)

ابن عمرو عبد اللہ بن زبیرؓ:

حضرت مغیث کہتے ہیں میں نے ابن زبیرؓ کے ساتھ غلس (اندھیرے) میں صبح کی نماز پڑھی تو سلام کے بعد میں نے ابن عمرؓ کی طرف دیکھا اور کہا کہ: یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ حضورؐ علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ ہم اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ جب حضرت عمرؓ کو نیزہ مارا گیا تو حضرت عثمان نے روشنی میں نماز شروع کی۔

ھذہ صلاتنا کانت مع رسول اللہ ﷺ وأبي بکر وعمر فلما طعن عمر أسفر بھا عثمان (ابن ماجه باب وقت صلوٰة الفجر ص ۴۹ وطعاوي ص ۸۶/۱) امام ابو الحسن السندی لکھتے ہیں کہ مجمع الزوائد میں ہے کہ اس کی سند صحیح ہے (ص ۲۲۰/۱)

خلفائے راشدین:

اوپر کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بھی اسی پر عمل تھا (ابن ماجہ ص ۴۹)

امام ترمذی لکھتے ہیں:

وھو الذي اختارہ غير واحد من أھل العلم من أصحاب النبي ﷺ منھم أبو بكر وعمر من بعدھم من التابعين (باب ما جاء في التغليس بالفجر)

یہی مسلک بہت سارے اہل علم صحابہؓ کا تھا ان میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں اور ان کے بعد کے تابعین ہیں۔

امام حازمی فرماتے ہیں: یہی مذہب خلفائے راشدین کا تھا، ابو بکر، عمر، عثمان وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنهم (کتاب الاعتبار ص )

تابعین وائمہ دین:

امام ترمذی فرماتے ہیں یہی مسلک تابعین کا ہے اور امام شافعیؒ، امام احمد، امام اسحق بھی غلس میں نماز پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ (ترمذی باب مذکور)

امام مالک، امام لیث بن سعد، امام اوزاعی، امام شافعی، امام احمد، امام ابو ثور، امام داؤد بن علی اور امام ابو جعفر طبری کا یہی مذہب ہے۔ (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد نفی ص ۳۳)

حضرت عمر بن عبد العزیز، حضرت عروہ اور اہل حجاز کا بھی یہی مسلک ہے۔

ابو موسیٰ اشعریؓ، ابنِ زبیرؓ، ابو مسعودؓ انصاری، عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کا بھی یہی نظریہ ہے۔ (کتاب الاعتبار حازمی)

اہل بیتؓ، حضرت انسؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابنِ مسعودؓ کا بھی یہی مسلک ہے (نیل الاوطار ص ۱۵/۲)

حضرت عمرؓ:

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام گورنروں کے نام سرکاری آرڈر کیا تھا کہ:

ظہر کی نماز ایک مثل سایہ ہونے تک ادا کیا کریں۔ اور صبح کی جب کہ ستارے ابھی چمکتے اور گنجان ہوں۔

إن عمر بن الخطاب کتب إلی عمال۔۔۔۔ أن صلوٰة الظھر إذا کان الفيء ذراعًا إلی إن یکون ظل أحدكم مثله۔۔۔۔ والصبح والنجوم بادية مشتبكة (موطا مالك باب وقوت الصلوٰة ص ۵)

عمرو بن میمون اودی فرماتے ہیں، میں حضرت عمرؓ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھا کرتا تھا، اگر میرا بیٹا بھی تین ہاتھ کے فاصلے پر ہوتا تو جب تک نہ بولتا میں اسے نہیں پہچان سکتا تھا۔

إن کنت لأصلي خلف عمر بن الخطاب الفجر ولو أن أبنی منی ثلثة أذرع ما عرفته حتي يتكلم (ابن ابي شيبة باب من كان يغلس بالفجر ص ۳۲۰/۱)

یہ وہی امیر المؤمنین حضرت عمرؓ ہیں جن کے نام پر ناحق بیس رکعت تراویح کا کاروبار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے یہاں کیا بنتا ہے۔

عمر ثانیؒ:

عمر ثانیؒ حضرت عمر بن عبد العزیز پانچویں خلیفۂ راشد نے حضرت عبد الحمید کو حکم دیا تھا کہ صبح کی نماز غلس میں پڑھا کریں۔

کتب عمر بن عبد العزیز إلی عبد الحمید أن غلس بالفجر (ابن أبي شیبة أيضا)

حضرت ابن الزبیرؓ:

مکہ مکرمہ میں آپ کی خلافت منعقد ہو گئی تھی، آپ بھی خلیفہ راشد تھے۔ حضرت عمرو بن دینار (تابعی) ان کے پیچھے صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے وہ فرماتے ہیں وہ اس قدر اندھیرے میں نماز پڑھتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کو پہچان بھی نہیں سکتے تھے۔

أنه صلي مع ابن الزبير فكان يغلس بالفجر فينصرف ولا يعرف بعضنا بعضا (ابن ابي شيبة ص ۳۲۰/۱)

حضرت عثمانؓ:

حضرت ابن ایاس فرماتے ہیں، ہم حضرت عثمان کے ساتھ فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے لیکن ہم ایک دوسرے کا چہرہ بھی نہیں پہچان سکتے تھے۔

کنا نصلي مع عثمان الفجر فننصرف وما یعرف بعضنا وجوہ بعض (ایضا)

حضرت ابو ہریرہؓ:

فرماتے ہیں۔

صلی الظھر إذا کان ظلّك مثلك ..... وصلِّ الصبح بغلس (مؤطا امام محمدؒ شاگرد امام ابو حنیفهؒ ص ۳۲)

جب آپ کے اپنے قد (قامت) کے برابر آپ کا سایہ ہو جائے تو ظہر پڑھیے۔ اور صبح اندھیرے میں پڑھیے۔

الغرض: قرآن و سنت، خلفاء راشدین، صحابہ کرام کی ایک عظیم جماعت، تابعین، چاروں اماموں میں سے حضرت امام ابو حنیفہؒ کے سوا باقی تینوں اماموں (امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) اہل بیت اور اہلِ حجاز کا یہ مذہب ہے کہ آسمان پر بھی تارے گنجان اور چمکتے ہوں تو صبح کی نماز کھڑی ہو جانی چاہئے۔ باقی رہا کب ختم ہو؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کوئی شرعی مجبوری نہ ہو تو قرأت اتنی لمبی ہونی چاہئے کہ صبح نکھر جائے، بقول امام طحاویؒ حضرت امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ (طحاوی ص ۹۰/۱) ہے۔ دوسری یہ کہ اندھیرے میں شروع کر کے اندھیرے میں ہی ختم کی جائے۔ اس کے سوا اور جتنی صورتیں ہیں، مثلاً کبھی بالکل سفیدی میں، کبھی درمیان میں، کبھی ہلکی قرأت کے ساتھ اور کبھی اتنی لمبی کہ سورج نکلنے کا اندیشہ ہونے لگے؟ تو ان میں سے کوئی بھی صورت ناجائز نہیں ہے بلکہ سب بیانِ جواز کی صورتیں ہیں تاکہ امت کو تنگی نہ ہو۔ ہمارے نزدیک دین کا کوئی 'عمل' بے ضابطہ نہیں ہے۔ اس کی بنیادی شکل ضرور متعین ہوتی ہے لیکن اس قدر سخت بھی نہیں کہ بوقتِ ضرورت اس کی کم از کم اور نرم سے نرم صورت اختیار کرنا بھی جان جوکھوں والی بات بن جائے۔

اسفار:

دوسرا مسلک 'اسفار' کا ہے۔ یعنی اتنی روشنی ہو جائے کہ دور دور تک نظر آنے لگے۔ الإسفار ھو وضوح الفجر وظھورہ (نصب الرایه حنفي ص ۲۳۸/۱)

کچھ امام اس کے قائل ہیں کہ صبح کی نماز اس روشنی میں پڑھنی چاہئے۔ ان کے دلائل یہ ہیں۔

عن رافع ابن خدیجؓ قال قال رسول اللہ ﷺ أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر

(سنن اربعه) وكذا عن حواء الأنصاريه (طبراني)

فرمایا: فجر روشن کرو، اجر و ثواب کے لئے بڑی شے ہے۔

بعض روایات میں نَوِّرُوا بالفجر آیا ہے۔ (طحاوی ص )

اس مضمون کی روایات چند اور صحابہؓ سے بھی مروی ہیں لیکن زیادہ تر ضعیف ہیں، صحیح مان لینے کے باوجود یہ معنی لینے کہ: غلس میں نہیں پڑھنا چاہئے، مفہوم مخالف ہے۔ جس کو احناف نہیں مانتے۔

اَسْفِرُوا یا نوروا میں جس روشنی کا ذِکر ہے، وہ ایک اضافی شے ہے، سورج کے طلوع ہونے تک اس کے کئی ایک سٹیج آتے ہیں۔ اس لئے حتمی طور پر اس کی تعیین مشکل ہے۔ جو شکل فقہاء نے تشخیص کی ہے، وہ ان کی صرف رائے ہے، حدیث نہیں ہے۔ حضرات احناف فرماتے ہیں کہ مسنون آداب اور مسنون قرأت کے ساتھ پڑھنے کے بعد اتنی گنجائش ابھی باقی رہے کہ مکرر پڑھنی پڑ جائے تو انہی آداب کے ساتھ طلوع آفتاب سے پہلے پہلے پڑھی جا سکے (العرف الشذی وغیرہ) مگر یہ صحیح نہیں، کیونکہ بہت سی روایات میں(جو خود فقہاء نے بیان کی ہیں) آتا ہے کہ فلاں صحابی یا بزرگ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ سورج کے طلوع ہونے کا اندیشہ ہونے لگا۔ مثلاً

حضرت سائب بن یزید (یہ وہی بیس رکعت تراویح والے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب واپس ہوئے سورج نظر آنے کو تھا۔

صلیت خلف عمر الصبح..... فلما انصرفوا استشرفوا الشمس (طحاوی ص ۸۸/۱)

حضرت اودی فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور ہم طلوعِ سورج کا اندیشہ کرنے لگے کہ کہیں وہ نکل نہ آیا ہو۔

کان علی بن أبي طالب یصلي بنا الفجر ونحن نتراأی الشمس مخافة أن تكون قد طلعت (نصب الرايه بحواله طحاوي ص ۱۰۶)

غور فرمائیے! فقہائے کرام کی روشنی کی تحدید کا کیا حشر ہو؟

صحیح یہ ہے کہ اس کے معنی وضوح صبح کے ہیں جیسا کہ علامہ زیلعی حنفی (ف ۷۶۲؁ھ) نے کہا ہے۔ نصب الرایہ ص ۲۳۸/۱)

امام أبو الحسن محمد بن عبد الهادی نزیل المدنیۃ المنورہ المتوفی ۱۱۳۸؁ھ بھی اسفار الصبح کے معنی اس کا وضوح کرتے ہیں۔

أي انکشافه وأضاءته (شرح ابن ماجه، السندي ص ۲۲۸/۱)

وضوح ایک وہ ہوتا ہے جس پر خاص خاص لوگ مطلع ہوتے ہیں اور یہ بالکل ابتدائی درجہ ہے جو رات کے بطن سے ابھی الگ ہوا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو گو اندھیرا ہوتا ہے لیکن ہر خاص و عام کو محسوس ہو جاتا ہے کہ صبح ہو گئی ہے۔ بس یہاں پر بھی 'اسفار' (وضوح) مراد ہے۔

تنویر یا اسفار اور اصباح سے 'وضوح اور ظہور' کے بجائے تاخیر مراد لینا، لغت اور تعاملِ اہل زبان کے خلاف ہے کیونکہ سورج کے نکلنے کے قریب تک اس 'تاخیر' کا دائرہ ممتد ہو سکتا ہے جیسا کہ ہوا بھی۔

دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ أسفروا بالفجر دراصل أسفروا صلوٰۃ الفجر ہے۔ ملاحظہ ہو (نصب الرایہ بحوالہ بزار ص ۲۳۶/۱)

بعض روایات میں أصبحوا بالصبح (ابن ماجہ ص ۲۳۰ج۱۔ زوائد ابن حبان ص ۸۶، ابو داؤد ص ۲۴) اور بعض میں نور والصلوٰۃ الفجر (دارمی ص ۲۷۷، نصب الرایہ ص ۲۳۸/۱ بحوالہ طیالسی) اور بعض میں أسفروا بصلٰوۃ الصبح (دارمی ص ۲۷۷/۱) آیا ہے، جس کے یہی معنی بنتے ہیں کہ:

(الف) واضح صبح صادق میں نماز پڑھا کرو۔

(ب) یا یہ کہ نماز کے ساتھ صبح روشن کیا کرو، یعنی نماز غلس میں شروع کر کے اتنی لمبی کی جائے کہ صبح روشن ہو جائے۔ امام طحاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو پسند کیا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔

أن یکون تغلیسا یدرك به الأسفار (طحاوي ص ۸۸)

مندرجہ ذیل آثار سے اس معنی کی تائید بھی ہوتی ہے:

قال خرشة قال صلي عمر بالناس فغلس ونور وصلي بھم فيما بين ذلك (ابن ابي شيبة)

اس سے واضح تر یہ اثر ہے۔

صلي المغيرة بن شعبة الصبح فغلس ونور حتّٰي قلت قد طلعت الشمس أولم تطلع الحديث (ابن ابي شيبة ص ۳۲۲/۱)

عن محمد قال كانوا يحبون أن ينصرفوا من صلٰوة الصبح وأحدھم يري موقع نبله (ايضاً)

یعنی غلس میں شروع کی اور پھر اسے اس قدر لمبا کیا کہ صبح روشن کر دی۔ صحابہ اسی طرزِ عمل کو پسند کرتے تھے چنانچہ امام طحاوی لکھتے ہیں۔

أن يكون دخوله فيھا إلاغلس ولا خروجه كان منھا إلا وقد أسفرإ سفارًا شديدًا (طحاوي ص ۸/۱)

حضرت امام طحاوی فرماتے ہیں کہ یہی مناسب ہے کہ غلس میں شروع کی جائے اور اسفار (روشنی) میں ختم کی جائے۔

فالذي ينبغي الدخول في الفجر في وقت التغليس والخروج منھا في وقت الإسفار علي موافقة ماروينا عن رسول الله ﷺ وأصحابه (طحاوي ص ۹۰/۱)

پھر فرماتے ہیں، یہی ہے قول حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت امام ابو یوسف اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا۔

وھو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمھم الله تعالٰي (طحاوي ص ۹۰/۱)

ملّا علی قاری حنفی نے علامہ میرک کا قول نقل کیا ہے کہ امام طحاوی کی توجیہ کو انہوں نے سراہا ہے۔

وھذا التأويل أقول جمعا بين الأحاديث التي وردت في التغليس والإسفار (مرقات شرح مشكوٰة ص ۱۳۹/۲)

علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی اپنی التعلیق الممجد ص ۳۳ علی مؤطا محمد میں لکھتے ہیں: وھو جمع حسن یہ دونوں احادیث میں جمع کی توجیہ خوب ہے۔

بالفرض والتسلیم:

اگر اسفار کے وہی معنے لیے جائیں جو حنفی فقہاء نے کیے ہیں تو ہمارے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ:

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ (ف ۱۱۷۶؁ھ) نے 'اسفار' والی حدیث کی جو توجیہ بیان کی ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اصل 'غلس' ہے۔ اور بالکل وہی توجیہ کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔

اسفار والی حدیث:

أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر۔ کا خطاب ان لوگوں سے ہے جن کو وقت پر جماعت کے لئے نمازی بہت کم ملنے کا اندیشہ ہو یا ایسی جامع مسجد کی بات ہے جس میں ضعفاء بھی شرکت کرتے ہوں کہ ان کے خیال سے 'اسفار' کر لیا کرو۔ فرماتے ہیں یا اس کے یہ معنی ہیں کہ لمبی قرأت کر کے غلس سے اسفار تک چلے جایا کرو، اس لئے اسفار اور غلس والی روایات کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔

أقول ھذا خطاب لقوم خشوا تقلیل الجماعة جدا ان ینتظروا إلی الإسفار وللأھل المساجد الکبیرة التي تجمع الضعفاء والصبیان وغیرہ.... أو معناہ طولوا الصلٰوة حتی یقع اخرھا فیوقت الإسفار لحدیث أبي برزة الخ (حجة اللہ البالغه ص ۱۵۱/۱)

چونکہ یہ ایک ایسی استثنائی صورت ہے جو کبھی پیش آسکتی ہے، ظاہر ہے ایسی صورتیں وقتی ہوتی ہیں، دائمی نہیں ہوتیں۔

اس کے علاوہ اس سلسلے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ:

(الف) فقہاء کرام کی تشخیص کردہ تنویر اور اسفار دراصل حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت عثمان کے عہد میں بطور احتیاط اختیار کی گئی تھی (طحاوی وغیرہ) جو ایک عارضی بات تھی۔ اب اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ہاں اگر کہیں ایسا ہو تو اب بھی ٹھیک ہے۔

(ب) یا صرف اس لئے کہ راتیں چھوٹی ہیں، لوگوں کی نیند پوری نہیں ہوتی ہو گی، اس لئے امام ضرورت محسوس کرے تو اب بھی ویسا کر سکتا ہے اور وہ بھی صرف گرمیوں میں (شرح السنۃ) مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، خلفاء راشدین، اہل بیت اور اہلِ حجاز کا تعامل اس کے خلاف ہے جیسا کہ گزرا۔

(ج) یا موسم کا لحاظ فرماتے تھے، یعنی سردی گرمی کا حساب۔

(د) یا چاندنی رات کا کر کے کبھی کہا گیا ہو کہ مزید اطمینان کر لیا جائے، کیونکہ اس میں بڑا مغالطہ لگتا ہے۔ بہرحال یہ کچھ استثنائی صورتیں ہیں۔

الغرض: اگر ''کوفی روشنی'' مستحب اور افضل ہوتی تو اہلِ حجاز، خلفاء راشدین اور دوسرے عظیم صحابہؓ اور ائمۂ دین کا تعامل 'حجازی روشنی' پر بالکل نہ ہوتا۔ ویسے بھی ایسے وقت میں نماز کے لئے کھڑا ہونا جب چیونٹی نظر آنے لگے، سستی کی انتہاء ہے۔ یہ وقت کچھ جچتا نہیں ہے، راقم الحروف کو یقین ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عمل میں بھی اس کی گنجائش نہیں مل سکے گی، وہ بھی جیسا کہ امام طحاوی نے کہا ہے، اندھیرے میں کھڑے ہوتے ہوں گے، چونکہ آپ کو قرآن اور قیام سے عشق تھا، اس لئے لمبی قرأت اور لمبے قیام سے ان کی صبح بالکل سفید ہو جاتی ہو گی، ایسا دل نہیں مانتا کہ وہ اتنی دیر اور تاخیر سے کھڑے ہوتے ہوں، جیسا کہ آج کل حنفیوں میں رواج ہو گیا ہے۔ ویسے بھی ہمارے نزدیک اجر عظیم کا باعث یہی لمبا قیام اور لمبی قرأت ہی ہے۔ صرف سفیدی سے سفیدی تک کا سلسلہ 'اجر عظیم' کی نوید نہیں بن سکتا۔

علمائے دیو بند:

حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شاید تغلیس کا معاملہ رمضان سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی طرح جب لوگ جمع ہو جائیں تو ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے، چنانچہ دیو بند میں بھی شروع سے اکابر کا یہی معمول چلا آرہا ہے۔

ولعل ھذا التغلیس کان في رمضان خاصة وھکذا ینبغي عندنا إذا اجتمع الناس وعلیه العمل في دار العلوم دیو بند من عھد الأکابر (فیض الباری شرح بخاری ص ۱۳۶/۱)

حضرت مولانا احمد علی رحمۃ اللہ لاہوری کا معمول ہمیشہ غلس (اندھیرے) رہا ہے اور علماء دیو بند کا یہاں عموماً آنا جانا رہتا تھا، انہوں نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

آخر میں ہم پھر عرض کر دیں، اختلاف 'جواز' میں نہیں ہے۔ صرف افضلیت میں ہے اور اس امر میں خود حضور ﷺ، خلفائے راشدین، صحابہ تابعین اور زیادہ تر ائمۂ دین کا تعامل کیا رہا ہے؟ وہ آپ نے اوپر کی سطور میں ملاحظہ فرما لیا ہے کہ: غلس ہی رہا ہے۔ خاص کر 'بریلوی کوفیوں' کے ہاں جس قسم کا 'اسفار' چل نکلا ہے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ علمائے دیو بند کا عمل اس سے کہیں زیادہ اونچا رہا ہے اور رہنا چاہئے۔ بریلویوں نے اسفار کیا کیا، ان کو تو اسفار کا ہیضہ ہو گیا ہے۔ خاص کر یہ لوگ تو گیارھویں والے بزرگ کے بھی خلاف چل نکلے ہیں کیونکہ حضرت پیر جیلانی کے نزدیک 'غلس' اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھنا افضل ہے۔ آپ کا ارشاد ہے: حین حوم الطعام والشراب علی الصائم (غنية) یعنی جب سحری ختم ہو جاتی ہے۔ نماز پڑھنی چاہئے۔ ھذا ما عندي وآله أعلم وعلمه أتم۔