میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دنیا میں حافظِ قرآن تو بہت ہیں لیکن حافظِ نماز بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کلسویؒ بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز پیر کی صبح سے چند گھنٹے پہلے ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ إنا لله وإنا إلیه راجعون۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے عالم باعمل کے اُٹھ جانے سے جو خلا پیدا ہو چکا ہے وہ مشکل سے ہی پورا ہو گا۔ چند ہی سالوں میں ہم سے علم و عمل کے بیش بہا موتی، موت کے آہنی پنجہ نے چھین لئے۔ اگرچہ وہ دنیائے فانی اور دورِ فتن سے محفوظ ہو کر ہمیشہ کے لئے میٹھی نیند سو چکے ہیں۔ لیکن ان کے چلے جانے سے ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ کیونکہ ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جو کام وہ سر انجام دیتے رہے اس میں کمی واقع نہ ہو۔ لیکن کون ہے جو ان کے عالی مقام مساند درس و تدریس پر جلوہ افروز ہو۔ چنانچہ جب ان کے علمی مراکز خالی دکھائی دیتے ہیں تو دل سے آہ نکلتی ہے۔

''الٰہی! ہم تہی دامن ہیں۔ موجودہ حالات میں ہم ان کے مشن کو اچھی طرح قائم نہیں رکھ سکتے۔ تو اپنے فضل خاص سے ایسے خلفا پیدا کر! جو ان بزرگوں کی خالی علمی مساند کو پر کر کے وہی باغ و بہار لوٹا سکیں۔''

ابھی ان علمی مراکز کی فکر دامن گیر ہوتی ہے اور ان کے خلا کو پر کرنے والا سامنے نہیں ہوتا کہ ایک اور علمی مسند خالی ہو جاتی ہے۔

چنانچہ پچھلے چند ہی سالوں کے واقعات یاد فرمائیں کہ کس طرح قحط الرجال میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور ایک ایک ہستی جو ایک انمول گوہر تھی۔ جن کے فراق کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ جن پر لگانے کو مرہم ملی نہ ڈاکٹر، کہ ایک اور علمی گھرانے کے سربراہ حضرت مولانا عبد اللہ کلسویؒ کی وفات کی خبر ملی۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔ اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده۔

مولانا تقریباً ۱۹۱۲؁ میں موضع ''کلس راجپوتاں'' تحصیل قصور ضلع لاہور (حال امرتسر) میں تولد ہوئے مرحوم چھ بھائی اور ان کی ایک ہمشیرہ تھی۔ آبائی پیشہ زمینداری اور کاشتکاری تھا۔ قرآن مجید ناظرہ اپنی ہمشیرہ سے پڑھا (جن کے لئے تادمِ حیات دعاگو رہے) ۱۲ برس کے تھے کہ والدین یکے بعد دیگر داغِ مفارقت دے گئے۔ پہلے بھائیوں کے ساتھ کاشتکاری میں ہاتھ بٹاتے رہے۔ مگر خدا کو کسی اور مقام پر لے جانا مقصود تھا۔ لہٰذا تعلیم حاصل کرنے کا شوق چرایا اور محمد سلیمان نامی اپنے ایک دیہاتی دوست کے ساتھ گھڑیالہ، مولانا سید محمد شریف صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے علمی ذوق و شوق کو دیکھ کر سید صاحب نے از خود چار پانچ ماہ بعد مدرسہ شمشیہ بمقام ویرووال ضلع امرتسر میں مولانا محمد ابراہیم صاحب باقی پوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا۔ جہاں اڑھائی سال زیر تعلیم رہے۔ بعد ازاں امرتسر مدرسہ غزنویہ تقویۃ الاسلام میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ جہاں مولانا نیک محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے زانوئے تلمذ طے کیا۔ امرتسر میں قیام کے دوران انہیں خطیبِ ملت حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمۃ اللہ کے ہمراہ شیخ التفسیر حضرت مولانا حافظ محمد حسین امرتسری (روپڑی) رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا۔

تحصیل علم کے بعد سندِ فراغت لے کر اپنے گاؤں ''موضع کلس'' واپس آئے اور لوجہ اللہ ودرس و تدریس میں مصروف ہو گئے اور سورۃ الحمد سے سورۃ الناس تک قرآن مجید کا درس دیا۔ پھر تقسیم ملک کے بعد مضافاتِ قصور میں ایک قصبہ ''سرہالی کلاں'' میں رہائش پذیر ہوئے۔

چار دفعہ حج کیا۔ پہلی دفعہ ۱۹۵۰ میں بمعہ اہل و عیال تشریف لے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھے۔ پھر مزید تین بار ۱۹۵۱، ۱۹۵۳ اور ۱۹۶۳ میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔ آخری بار بھی بچے ہمراہ تھے۔

۱۹۵۶ ؁ میں مولانا عبد الحمید صاحب سوہدروی اور مولانا محمد اسماعیل صاحب گوجرانوالہ رحمۃ اللہ علیہما کے اصرار پر کہ محدثِ شہیر حافظ عبد المنان وزیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد اور مسندِ تدریس کو آباد کریں، وزیر آباد تشریف لے گئے اور ۱۹۶۱؁ تک وہاں کام کیا۔ وہاں سے واپس آکر دو سال وہاڑی اور ایک سال لاہور دھرمپورہ میں ایک علمی مرکز مدرسہ نظامی کی بنا ڈال کر صحیحین کی تدریس کرتے رہے۔ مسلسل درس و تدریس سے صحت جواب دے گئی اور گھر واپس آگئے۔

آخری ایام میں بغرضِ علاج اپنے صاحبزادے حافظ ثنا اللہ صاحب ایم۔ اے پروفیسر اسلامیات و عربی و خطیب جامع مسجد رحمانیہ پونچھ روڈ کے پاس مقیم تھے اور یہیں وفات پائی۔

سیرت:

مولانا نہایت عقلمند اور فہم و فراست کے مالک تھے۔ طبیعت سادہ اور نرم تھی۔ لیکن حق گوئی میں بے باک تھے۔ عقیدہ کے معاملہ میں کوئی رو رعایت نہیں رکھتے تھے۔ ہمیشہ اوّل وقت نماز پڑھنے کے پابند تھے۔ باجماعت نماز کے لئے سینکڑوں بار گرد و باراں کا مقابلہ کیا۔ درس ہمیشہ دیتے جس دن نہ دیتے طبیعت خراب رہتی اورکہتے آج روحانی غذا سے محروم ہوں۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں بھی کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ حافظ ثنا اللہ صاحب کالج سے آتے تو انہیں حدیث پڑھانے میں مشغول ہو جاتے۔ اور یہ سلسلہ بڑی باقاعدگی سے جاری رہتا۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو دین و دنیا کی سربلندیوں پر سرفراز فرمائے جو اللہ تعالیٰ نے کسی حد تک پوری کر دی۔ ان کے بڑے صاحبزادے حافظ ثنا اللہ صاحب کالج میں تدریس اور دینی خدمات میں دن رات منہمک رہتے ہیں۔ ان کی حالیہ خدمات مسجد میں خطبہ و درس کے علاوہ مجلس التحقیق الاسلامی اور ماہانہ محدث لاہور کے لئے وقف ہیں۔

آخری ایام:

آخری ایام میں مشکوٰۃ شریف کی ''کتاب الایمان'' اور باب عیادۃ المریض و ثواب المرض بڑے جذبے اور اصرار سے سنتے۔ کہتے جب سے ہوش سنبھالی ہے کوئی نماز نہیں چھوڑی۔ اب آخری ایام میں بے نماز کر کے رخصت نہ کرنا۔ جب شدید بیماری میں بار بار غنودگی آتی تو ایک صاحؓزادے کو کہتے کہ میرا گھٹنا ہلاتے رہو تاکہ غفلت کا شکار نہ ہو جاؤں اور دوسرے کو کہتے کہ نماز بآواز بلند پڑھو اور اس کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے۔

اکثر دعا کرتے کہ وفات کا دن جمعہ ہو یا پیر۔ روزانہ استفسار کرتے۔ آج کون سا دن ہے۔ اتوار کو ۹ بجے حافظ ثنا اللہ صاحب کو سورہ اخلاص پڑھانے کے لئے کہا۔ انہوں نے تن بار بآواز بلند پڑھائی۔ کلمہ طیبہ اور شہادت بھی پڑھا۔ پھر اولاد اور لواحقین و اعزا سب کو عمومی اور خصوصی طور پر حق حقوق کی تلقین کی، پھر کلمہ کا ورد کرنے لگے اور زبان بند ہو گئی اور مسلسل پندرہ گھنٹے کی خاموشی کے بعد رات کو بارہ ۱۲ بج کر دس ۱۰ منٹ پر جب کہ شمسی اور قمری ہر لحاظ سے پیر کا دِن شروع ہو چکا تھا۔ بغیر کسی گھبراہٹ کے ایک سانس لیا جس کے ساتھ ہی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ مرحوم کی وصیت کے مطابق حافظ ثنا اللہ فاضل مدنی نے ان کے گاؤں سرہالی کلاں میں نمازِ جنازہ پڑھائی اور وہیں دفن کئے گئے۔ اللهم اغفرله وارحمه وعافه واعف عنه۔ آمین۔