میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قوموں کے عروج و زوال کے سلسلہ میں اس امر سے زیادہ واضح تر کوئی حقیقتِ کبریٰ نہیں کہ علم و دانش اور ادب و حکمت کے بغیر انسایت عظمےٰ، کبھی سربلند اور سرفراز نہیں ہو سکتی اور پھر مسلمان قوم جس کا مزاج اور جس کا اوڑھنا بچھونا، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، بڑھنا پھولنا حتیٰ کہ جینے اور مرنے کا مرکز و محور علم ہی ہے۔

حضور سرورِ کائنات ﷺ پر پہلی وحی اقرأ یعنی پڑھائی کے امر الٰہی سے شروع ہوئی اور آخری وحی دین کی تکمیل کی خوشخبری پر منتج ہوئی اور یہ دن کیا ہے؟ مذہبیت خدا شناسی، اور انسانی زندگی کے گزارنے کے ''علم'' ہی کا دوسرا نام ہے۔

علم کبھی صفحۂ قرطاس پر نظر کے ذریعہ منتقل ہوتا ہے کبھی صوت و الفاظ سے سماعت کے ذریعہ قلبِ انسانی تک پہنچایا جاتا ہے۔ چنانچہ نومولود بچہ کے اس دنیا میں وارد ہونے کے بعد سب سے پہلے جو سلوک کیا جاتا ہے وہ یہ کہ اس کے کان میں اذان اور تکبیر کے مقدس الفاظ گونجتے ہیں۔ اسی طر مرتے ہوئے انسان کو جن آخری معلومات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے وہ کلمہ طیبہ ہے۔ اسی لئے حضور علیہ السلام نے فرمایا:

اُطلبو العلم من المهد الی اللحد

کسی نے اسی حدیث رسول (ﷺ) کو نہایت سادے الفاظ میں یوں قلمبند کیا ہے ؎

تم مہد سے لحد تک علم کے طالب رہنا واہ! کیا خوب ہے فرمانِ رسولِ عربیؐ

تاریخ عالم گواہ ہے کہ جاہل، ان پڑھ، خدا ناشناس اور بے علم قوموں نے کبھی ترقی نہیں کی اور انسانی معراج پا نہ سکیں۔ بلکہ صفحۂ ہتی سے ان کا نام و نشاں تک مٹا دیا گیا۔

لیکن اس حقیقت کے اظہار سے قلب و جگر شق ہوئے جات ہیں کہ آج وطن عزیز کو نقشۂ عالم پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے نام سے ابھرے پورے تیئیس ۲۳ سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اس ربع صدی میں قوم اس سے زیادہ جاہل ہے جبکہ ابھی غلام تھی اور وہی تعلیم رائج ہے جو انگریز اپنے ذہنی غلام اور پست ہمت کلرک پیدا کرنے کے لئے نافذ کر گیا تھا۔

میں کہتا ہوں جاہل اور ان پڑھ ہونا بھی بعض ناگزیر حالات میں گوارا ہو سکتا ہے لیکن گندہ، کفرساز اور اسلام دشمن علم کبھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کہ ہم مدت سے اسی زہر ہلاہل کو پی رہے ہیں۔

؎ آنچہ ماکردیم باخود ہیچ نابینا نہ کرد

آنے والی نسل اور تاریخ کا طالب علم ان بد قماش، اسلام دشمن، ملت کش اور قاتلانِ امت مسلمہ اور دشمنانِ ملت پاکستانیہ کو کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ جنہوں نے ہماری قیادت، ہماری سربراہی اور رہبری و رہنمائی کے پردے میں رہزنی کے فرائض سرانجام دیئے۔ وزارتوں کے لئے محلاتی سازشوں اور ذلیل جوڑ توڑ میں لگے رہے اور پاکستان کے بارہ کروڑ مسلمانوں اور ملک و ملت کی فلاح و اصلاح کو قطعاً فراموش کر دیا اور ہمیں ان تینوں عظمتوں سے محروم رکھا جو قوموں کی سربلندی کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں:

1) علم

2) دستور و آئین

3) قومی زبان

ہم آج آزادی کی ربع صدی کے بعد انگریز کے پہلے سے زیادہ ذہنی غلام ہیں۔ پہلے سے زیادہ دین سے واقف۔ قرآن سے نفور، خدا و رسول کی عظمت کے پہلے سے زیادہ ناشناس اور نابلد ہیں۔ اسلامی بلکہ انسانی اخلاق رخصت ہو گیا ہے۔ ملک کا معاشرہ ذلیل جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ہمدردی، اخوت، فرض شناسی اور خدمت خلق کا جذبہ سرد پڑ چکا ہے۔ معاشرہ کا ہر فرد دولت کا پجاری، مادیات کا طالب، آسائش کا خوگر، عیش و عشرت کا دلدادہ اور دوسروں کا حق مارنے اور حق کھانے کا عادی ہو چکا ہے۔ ہماری نوجوان پود جو سکولوں کالجوں سے فارغ ہو کر معاشرہ میں شامل ہوئی ہے یا زیر تعلیم ہے۔ انتہائی گستاخ، فرض ناشناس سینما کی عادی، فحاشی کی رسیا اور بے راہ روی کا منبع و مخرج بن چکی ہے۔ یہ سب اسی ذلیل، بے معنی، لغو اور لچر تعلیم کے برگ و بار ہیں جس میں نیکی، اصلاح، اخلاق، دین، مذہب کے سوا باقی سب کچھ ہے۔ اب یہی نوخیز نسل ملک میں اُدھم مچانے کے لئے پر تول رہی ہے۔ خدا و ررسول کو دقیانوس، اسلام کو کہنہ، دین کو نامکمل اور قرآن کو فرسودہ قرار دے رہی ہے۔ محمد رسول اللہ (ﷺ) اور خلافتِ راشدہ کی بجائے لینن، مارکس اور  ماؤ ماؤ کے نظریات کی زیادہ شائق اور دلدادہ ہے۔ جس کی نظریں مکہ و مدینہ کی بجائے ماسکو اور چین کی طرف اُٹھ رہی ہیں اور قدیم مغربی تعلیم یافتہ طبقہ یورپ زدگی کا ذہنی مریض اور تہذیبِ افرنگ کا غلام بے دام بنا پھرتا ہے اگر کچھ کمیابی و نایابی ہے تو غلامانِ محمد ﷺ کی ہے۔ حاملانِ قرآن کی ہے اور دلدادگانِ دین مبین کی ہے اور بس

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں؟

جو بونے پر گندم نہیں کاٹت۔ یہی اصولِ فطرت ہے۔ ہم نے اب تک جس قسم کی تعلیم کو اپنایا اس کے برگ و بار اور ثمرات تو یہی ہو سکتے تھے۔ جرائم۔ ہڑتالیں۔ بے حیائی۔ گھیراؤ۔ دھونس اور دھاندلی۔ ہماری موجودہ تعلیم نے ہمیں یہی کچھ عطا کیا ہے اور ہم نے اسے لعلِ گراں مایہ سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ اپنی تہذیب بھول گئے دوسروں کی نقالی کو فن کمال تک پہنچایا۔ اپنے جواہر پاروں کو خزف ریزے سمجھ کر چھوڑ دیا اور بے قیمت پتھروں کو در شہوار سمجھا۔

پاکستان میں تعلیم، ضابطۂ تعلیم، اصول تعلیم، طریق تعلیم، اصل تعلیم اور حصولِ تعلیم کے ساتھ جو جو مظالم روا رکھے گئے وہ ایک داستانِ خونچکاں بھی ہے اور افسانۂ دراز بھی۔

افسوس کہ ہمارے ملک کی زمام کار ان لوگوں کے ہاتھ آئی جنہوں نے انگریزی اور انگریزیت کے سوا کچھ نہ پڑھا نہ کچھ جانا۔ انہوں نے عافیت اسی میں سمجھی کہ پہلے ہی نظامِ تعلیم بلکہ اس سے بدتر نصاب کو بہ جبر ملک میں جاری رکھیں۔ یہاں تک سازش کی گئی کہ علم کو صرف اعلیٰ ملازمین اور امرا و وزرا کے بچوں تک محدود کر دیا جائے اور غربا کے لئے حلم کے دروازے چند در چند مشکلات و قیود پیدا کر کے ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں چنانچہ دورِ ایوبی میں جدید ''صحیفۂ تعلیم'' اسی بات کا غماز اور اسی جذبہ کا عکاس تھا جو بری طرح ناکام ہو کر اپنی موت آپ مر گیا۔ صحیح علم سے محرومی ایک عظیم سازش اور ملتِ اسلامیہ سے عظیم دھوکہ دہی کا عملِ مسلسل ہے جو آج تک بلا روک ٹوک جاری ہے۔ اور معلوم نہیں کب تک جاری رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اکثر و بیشتر دانشوروں اور فہمیدہ لوگوں کی زبانوں سے احتجاج ہوتا رہا۔ لیکن بس یہاں تک کسی نے تقریری رونا رو لیا اور کسی نے کچھ مضمون لکھ کر جگر کے پھپھولے پھوڑ لیے۔ نتیجہ صفر رہا۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں علمی استعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملک رو بہ تنزل ہو گیا ہے۔ یورپین تہذیب اسلامی تمدن پر البب آچکی ہے۔ لکھو کہا مسلمان عیسائیت کی گود میں جا چکے ہیں۔ عیسائی مشنری اداروں نے عظیم مقبولیت حاصل کر کے مسلم شاہین بچوں کو اسلام کا دشمن بنا دیا ہے۔

ہماری تعلیم کے نصاب میں انگریزی لازمی ہے۔ ہومر، داحل، شیلے اور شکسپیئر کا کلام بلاغت نظام پڑھنا تو لازمی ہے لیکن اسلامیات عارضی، معمولی اور اختیاری ہے۔ دوسری طرف قرآن تعلیم تو سرے سے غائب ہے۔

ہماری یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم سے فحاشی کے سینکڑوں نئے باب اور رومان کے ان گنت عملی انسانوں نے جنم لیا ہے۔ ہماری بچیاں نماز، روزہ، قرآن، تربیت اولاد، حقوق و فرائض امور خانہ داری اور اسلام کی روایتی حیا داری کی بجائے شمع محفل بن رہی ہیں اور عجیب و غریب چست لباس پہن کر ایک نئی مادر پدر آزاد مخلوق بن جانے پر مچل رہی ہیں۔ یہ سب ہماری تعلیم حاضر کے تحفے ہیں۔

میں پاکستان کے غیور مسلمانوں سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان اسی لئے حاصل کیا تھا؟ کیا لکھو کہا جانوں کی قربانی اسی لئے پیش کی گئی تھی؟ کیا ان گنت عصمت کے آبگینے اسی لئے ٹوٹے کہ اسلامی تعلیم کی جگہ شیطانی تعلیم کو رائج کیا جائے؟ ہماری گزشتہ دو سو سالہ تحریک آزادی، ہزار ہا علمائے حریت کی قربانیاں سعی استخلاص وطن کے ذیل میں خونایہ فشانیاں۔ ہمارا ترکِ وطن اور ترکِ املاک اسی لئے تھا کہ مسلم شاہین بچوں کوجہاد فی سبیل اللہ کی جگہ کالجوں اور سکولوں میں سینما بینی، فحاشی، عریانی، بدمعاشی اور اسلام دشمنی کا سبق دیا جائے!!

کاش کہ میرے پاس کوئی آلۂ نشر الصوت ہوتا تو میں اپنے وطن عزیز کے کوہ و دمن اور میدانوں ،کہساروں میں چیخ چیخ کر کہتا۔ اے لوگو! خدا کے لئے سنبھلو! نوجوان نسل کو موجودہ تعلیم سے بچائو۔ یہ عفریت یہ زہر ہلاہل۔ یہ تباہی و بربادی اور ابدی حرماں نصیبی، بدقسمتی اور ذلت داد بار کی پیغامبر اور تمہاری قومیت کی نسل کشی چمن مصطفویؐ کے لئے بادِ صرصر ہے۔ تم ابدی موت ابدی موت کی طرف سر پٹ دوڑ جا رہے ہو۔ کشتی بے ناخدا ابھی چٹانوں سے ٹکرائی کہ ٹکرائی۔ اگر کچھ مداوا ہو سکتا ہے تو کر لو۔ ورنہ پھر اس قیامت صغریٰ و کبریٰ کا ظہور ہو گا جس کے بعد ایک عالمگیر تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ ؎

جاگو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی دوڑو! زمانہ چال قیامت کی چل گیا!

جواہر پارے

۱.
من اللہ فاسئل کل مر تریده فما یملک الانسان نفعا وولا ضرا


جس کام کا بھی تو ارادہ کرے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کیونکہ انسان کے قبضے میں نفع پہنچانا ہے نہ ضرر

۲.
ولا تتواضع للولاة فانهم من الکبر فی حال تموج بهم سکرا

حکام کے ساتھ تواضع اور انکساری سے مت پیش آ کیونکہ وہ کبر و نخوت کے نشے میں سست ہوتے ہیں

3.
وایاک ان تری بتقبیل راحة فقه قیل عنها انها الجدة الصغری

ان کی دست بوسی سے خوش مت ہو کیونکہ اسی کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ چھوٹا سجدہ ہے۔ (ابن جبیر)