سوال: ایک آدمی نے دوسرے سے دو سو روپے لیے اور کہا دس روپے من کے حساب س فصل میں سے دو سور روپے کی گندم ادا کر دوں گا۔ اگر میرے پاس اپنی گندم نہ بھی ہوئی تو کسی سے لے کر تمہیں ضرور ادا کر دوں گا اور اسی بھائو پر۔ کیا یہ بیع جائز ہے؟

جواب: جائز ہے۔ صحیحین میں حدیث ہے:

«قدم النبي(ﷺ) وهم یسلفو ن في الثمار السنة والسنتین فقال من أسلف في شيء فلیسلف في كیل معلوم و وزن معلوم إلی أجل معلوم»

‏یعنی جب آنحضرت (ﷺ) ہجرت فرما کر مدینہ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ پھلوں میں ایک ایک سال اور دو دو سال کی میعادی بیع (یہ وہی بیع ہے جس کی صورت سوال میں بیان کی گئی ہے اور جسے سلم کہتے ہیں) کیا کرتے تے۔ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص بیع سلم کرے تو اسے ماپ تول کا حساب اور میعاد مقررہ طے کر لینی چاہئے۔

دوسری حدیث میں ہے جس کو امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں بیان فرمایا ہے:۔

«عن عبد اللہ بن أبی أوفٰی و عبد الرحمٰن بن أبزی قالا: كنا نصیب الغنائم مع رسول اللہ وكان یأتینا أنباط من أنباط الشام فنسلفهم في الحنطة والشعیر والزبیب إلی أجل مسمّٰی، قیل: أکان لهم زرع، قالا: ما كنا نسألهم عن ذالك»

یعنی ہم لوگ آنحضرت (ﷺ) کے سات غنائم کے مال حاصل کرتے اور شام میں رہنے والے نبطیوں کے ساتھ اجناس گندم جَو وغیرہ سے بیع سلم کیا کرتے تھے جس میں ایک میعاد مقرر ہو جاتی تھی۔ ان دونوں سے پوچھا گیا کہ جن نبطیوں کے ساتھ تم بیع سلم کیا کرتے تھے، کیا ان کی اپنی کھیتیاں ہوتی تھیں، جواب میں کہا ہم یہ بات ان سے نہ پوچھا کرتے تھے۔

شبہہ:

اگر کوئی شخص یہ شبہ پیش کر کہ یہ بیع معدوم کی ہے اور معدوم کی بیع سے حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
لا تبع ما لیس عندك

ازالۃ شبہہ:

اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث لا تبع ما لیس عندک بیع حاضر (نقد) کے متعلق ہے۔ بیع سلم کے متعلق نہیں اور پہلی ذکر کردہ دونوں حدیثیں اِس بات پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ پہلی حدیث میں دو دو سال کی بیع سلم کو بھی جائز رکھا ہے۔ صرف میعاد مقرر کرنا شرط فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ دو دو سال کے بعد واجب الادا چیز بیع کے وقت کب موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسری حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کیونکہ صحابہؓ آنحضرت (ﷺ) کے زمانہ میں بیع سلم کرتے تھے اور یہ نہ پوچتے تھے کہ یہ چیز تمہارے پاس موجود ہے یا نہیں؟ اگر بیع سلم میں عقد (بیع) کے وقت جنس کا موجود ہونا یا بائع کے قبضہ میں ہونا شرط ہوتا تو صحابہؓ ایسی وضاحت طلب کئے بغیر سودا نہ کرتے اور اگر صحابہ کر بھی بیٹھتے تو آنحضرت (ﷺ) اِن کو ایسا کرنے سے ضرور منع فرماتے اور صحابہؓ کا تعامل جو عہد نبویؐ میں ثابت ہو اور آنحضرت (ﷺ) سے اس پر انکار ثابت نہ ہو تقریر حکمی ہے اور ایسی بات صحابہؓ میں حجت سمجھی جاتی تھی جس پر قول صحابی ''کنا نعزل والقراٰن ینزل'' شاہد ہے۔ اسی شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے صاحبِ سبل السلام نے دوسری حدیث کے تحت لکھا ہے:

''الحدیث دلیل علی صحة السَلَفِ في المعدوم حال عقد إذلو كان من شرطه وجود المسلم فیه لاستفصلوهم وقد قال ما كنا نسألهم وترك الاستفصال في مقام الاحتمال ینزل منزلة العموم في المقال''

پھر آگے چل کر پہلی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''وأحسن منه في الاستدلال أنه صلی اللہ علیه وسلم أقرّ أهل المدینة علی السلم سنة وسنتین والرطب ینقطع فی ذالك''

اسی طرح علامہ شوکانیؒ حدیث لا تبع ما لیس عندك کے تحت لکھتے ہیں:

''قال البغوي: النهي في هذا الحدیث عن بیوع الأعیان التي لا یملكما أما بیع شيء موصوف في ذمته فیجوز فیه السلم بشروطه فلو باع شیئا موصوفافي ذمته عام الوجود عند المحل المشروط في البیع جاز وإن لم یكن المبیع موجودافي ملكه حالة العقد''

یہ یاد رہے کہ ائمہ سنت میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ بیع سلم میں مسلم فیہ جنس کا بوقت عقد بائع کے پاس ہونا شرط ہے۔ البتہ فقہا حنفیہ کے نزدیک زمان عقد میں بازار میں موجود ہونا شرط ہے۔ بائع کے پاس ہونے کی وہ بھی شرط نہیں کرتے اورد ونوں مذکورہ بالا حدیثیں اس مسلک کے بھی خلاف ہیں۔ ہاں بیع سلم کے بارہ میں کچھ مزید شرعی پابندیاں ہیں۔

مسلم فیہ چیز جب تک قبضہ میں نہ لی جائے۔ دوسرے شخص کے پاس فروخت نہیں کی جا سکتی جیسا کہ سنن ابی داؤد اور ابن ماجہ میں ہے:

قال رسول الله صلی الله علیه وسلم من أسلم في شيء فلا یصرفه إلی غیره

۲۔ دینے والے سے جنس کی قیمت نہیں وصول کی جا سکتی بلکہ وہی جنس لی جائے یا سودا ختم کر کے اصل ادا شدہرقم ہی واپس لی جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:

من أسلف في شيء فلا یأخذ إلا ما أسلف أو رأس ماله (دار قطنی)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

سلطان محمود بقلم خود

دار الحدیث محمدیہ جلال پور پیر والہ

تفسیر جامع البیان

تفسیر الجمل مع الجلالین۔ نیل الاوطار۔ سنن الکبری للبیہقی۔ الترغیب والترہیب۔ عون المعبود۔ تحفۃ الاحوذی۔ الزرقانی شرح الموطا۔ الزوائد لابن حبان۔ البدر الطالع۔ الاحکام فی اصول الأحکام۔ معرفۃ علوم الحدیث للحاکم۔ تہذیب الکمال فی اسمائ الرجال۔ الیواقیت والجواہر۔ تہذیب التہذیب سیرۃ النبی لابن ہشام۔ حیوۃ الحیوان۔ أعلام الموقعین لابن قیم۔ مجموع الأمثال۔ تاریخ طبری۔ الدین الخالص۔ سراج الوہاج۔ شرح مسلم شریف للنواب صاحب۔

آپ اپنی کوئی کتاب بیچنا چاہیں تو ہمیں یاد فرمائیں۔

رحمانیہ دار الکتب امین پور بازار لائل پور