سیاست: سیاست کو لوگ ''دنیا داری'' تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ''سیاست'' دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

«كانت بنو إسرائیل تسوسهم الأنبیاء كلما ھلك نبي خلفه نبی وإنه لا نبي بعدي وسیكون خلفاء فیكثرون ،الحدیث» (بخاری، ابو ھریرہؓ)

بنی اسرائیل کا نظام سیاست ان کے انبیاء کے ہاتھ میں ہوتا تھا، جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی، دوسرا اس کا جانشین آجاتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں خلفا ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔

ایک اور روایت میں آیا ہے۔

«لي النبوة ولكم الخلافة» (ابن عساکر، ابن عباس)

نبوت صرف میرے لئے اور خلافت تمہارے لئے۔

خلافت نبی کی جانشینی کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کی سیاست بھی دین ہوتی ہے اور اس کے جو جانشین ہوتے ہیں، وہ بھی نبی کی اسی امانت کے وارث ہوتے ہیں اور وارث ہونے چاہئیں۔

سیاست کو ''دنیا'' سمجھنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں جو مناسب احتیاط چاہئے نہیں کرتے۔ جیسا امیدوار ہو، اس کو اپنے نجی مفاد کے مطابق سر آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں اور ملک و ملت کے سلسلہ میں ان کے ہاتھوں جو کچھ ہو جاتا ہے، اس کی پروا نہیں کرتے۔

دینی سیاست کے معنی ہیں کہ نظامِ حکومت، دین برحق کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے اور اسلام کی ہدایات کے مطابق نافذ کیا جائے۔

قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا:

﴿الَّذينَ إِن مَكَّنّـهُم فِى الأَر‌ضِ أَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَأتَوُا الزَّكو‌ٰةَ وَأَمَر‌وا بِالمَعر‌وفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ‌...٤١﴾... سورة الحج

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر زمین میں ہم ان کو اقتدار دے دیں تو وہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوٰۃ دیں گے۔ اچھے کام کے لئے کہیں گے اور برے کاموں سے روکیں گے۔

معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی سیاست اور اقتدار نری دُنیا نہیں دین بھی ہے۔

سیاست امانت ہے:

سیاست دینیہ کا نام قرآن کریم نے ''امانت'' رکھا ہے۔ حدیث شریف میں بھی اس کا نام ''امانت'' آیا ہے ( إنھا أمانة۔ رواہ مسلم) گویا کہ حکومت خدا ملک اور ملت کی طرف ایک امانت ہے، کاروباور اور خدائی کرنا نہیں ہے۔ خدا کے منشاء ملک کے مفاد اور ملت اسلامیہ کے نظریۂ حیات کا پورا پورا تحفظ کرنا اس کی غرض و غايت ہے۔ حضرت امام ابن تمیہؓ کے نزدیک سیاست عادلہ اور ولایت (حکومت) صالحہ کے دو بنیادی عنصر یہ ہیں۔

ایک امانت اہل امانت کے حوالے کرنا اور دوسرا عدل و انصاف سے فیصلہ کرنا۔

أداء الأمانات إلی أھلھا والحكم بالعدل فھٰذان جماع السیا سة العادلة والولایة الصالحة (السیاسۃ الشرعیۃ) ص ۲

اہل ہونے کے معنی:

یعنی حکومت اس کے حوالے کی جائے جو اس کے اہل ہوں۔ اہل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ:

الف۔ اہل علم ہوں اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ مفادِ عامہ اور مصالح دینیہ کی حفاظت کرنے پر قادر ہوں۔

ب۔ دیانت دار اور صالح ہوں۔ ابن الوقف، خود غرض اور اقتدار پرست نہ ہوں۔

نا اہلوں کی حکومت:

حضورﷺ نے فرمایا کہ:

جب امانت گنوا دی جائے تو قیامت کا انتظار کیجیے! صحابہ نے عرض کی۔ ضائع ہونے کے کیا معنی ہیں۔ فرمایا:

جب حکومت نا اہلوں کے سپرد کر دی جائے، اس وقت بس قیامت کی راہ دیکھئے۔

«إذاأ ضیعت الأمانة فانتظر الساعة قیل یا رسول اللّٰه وما إضاعتھا؟ قال إذاأوسد الأمر إلی غیر أهله فانتظر الساعة» (بخاری، ابو ھریرہؓ)

ایک خاتون نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا:

«ما بقاؤ نا ھذاالأمر الصالح الذي جاء اللّٰه به بعد الجاھلیة قال بقاء كم علیه ما استقامت بكم أئمتكم» (بخاری، قیس ابن ابی حازم)


وہ نظام صالح جسے جاہلیت کے بعد اللہ لایا، اس پر ہم کب تک قائم رہیں گے؟

فرمایا: جب تک تمہارے حکمران سیدھے رہیں گے۔

صالح اور اہل کا انتخاب:

قرآن و حدیث کی رُو سے معلوم ہوا کہ، سیاست مادر پدر آزاد دنیا داری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ''دینی حکمت عملی'' ہے جو دنیا کو دین کے زیر سایہ لے کر چلنے کی ضامن ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کی جائے جو اس حکمت عملی اور  دينی فریضہ کے سلسلہ میں مخلص بھی ہوں اور اہل بھی۔ ورنہ یہ خیانت ہو گی، خدا کی، رسول کی اور ملتِ اسلامیہ کی۔

«قال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم من ولي من أمر المسلمین شیئا فولي رجلا وهو یجدمن ھوأصلح للمسلمین فقد خان اللّٰه ورسوله»

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ: جو مسلمانوں کے کسی کام کا والی بنا، پھر جان بوجھ کر ایک ایسے شخص کو حاکم مقرر کر دیا، جس سے بہتر ایک شخص مل سکتا ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی۔

اس سے یہ بھی اخذ ہو سکتا ہے کہ بہتر کو چھوڑ کر دوسرے شخص کو منتخب کرنا، اللہ اور اس کے رسول کی بہت بڑی خیانت ہے۔ حاکم کی روایت میں ہے، وخان المومنین (حاکم) میں آیا ہے یعنی اس نے مسلمانوں کی بھی خیانت کی۔

حضرت عبادہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس شرط پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تھی کہ: «أن لا ننازع الأمر أھله» (بخاری و مسلم) جو اہل ہے اس سے حکومت نہیں چھینیں گے۔''

حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ:

«من سوده قومه علی الفقه كان حیوة له ومن سوده قومه علی غیر فقه كان هلاكا له ولهم» (عن تمیم الداری)

جس کو قوم نے اس کی فہم و فراست کی بنا پر امیر بنایا وہ اس کے لئے حیات بخش ثابت ہو گا اور جس شخص کو قوم نے فہم و ہوش کے علاوہ کسی اور وجہ سے امیر بنایا وہ خود بھی ڈوبے گا او ان کو بھی لے ڈوبے گا۔

کیا ہمارے ملک میں یہی کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ بہتر آدمی کو چھوڑ کر دوسروں کو محض ان کے اثر و رسوخ یا دھن دولت اور برادری کی وجہ سے ووٹ دے کر کامیاب بنایا جاتا ہے۔ اور جو لوگ عقل و ہوش، سیاسی سمجھ بوجھ کے حامل اور دیانتدار ہیں وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں، ان کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔ آج جو لوگ کام کے نیک آدمیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ان کو اس کے نتائج کا اسی وقت اندازہ ہو گا جب ان کی آنکھیں بند ہوں گی۔

جتھے اور برادری کی لاج:

آج کل جتھے اور برادریاں بہت بڑی مصیبت بن رہی ہیں۔ ان کی خاطر لوگوں کو اندھے کنویں میں بھی چھلانگ لگانی پڑے تو نہیں چوکتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشاد ہے:

«لیس منا من دعا إلی عصبیة ولیس منا من قاتل عصبیة ولیس منا من مات عصبیة» (ابو داود عن جبیر)

وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے قومی عصبیت کی طرف دعوت دی۔ اس شخص سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں جو قومی عصبیت کے لئے لڑتا ہے اور وہ شخص ہمارا کچھ نہیں لگتا جو قومی عصیت پر مرا۔

غرض یہ ہے کہ اعانت کا معیار، ذات پات کی بجائے اہلیت ہو۔ جو ذات پات کو معیار بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اسلام کی روح کے خلاف کرتا ہے ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حق کے لئے اپنی قوم سے کیوں لڑتے؟

یہی کیفیت سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ارکان کی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے گھٹیا آدمی کی حمایت کے لئے بھی جان کی بازی لگا لیتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں جو ملک و ملت کے لئے مفید اور بہتر ہوتا ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ إنا للہ وإنا الیہ راجعون۔

«عن ابن مسعود: عن النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم قال من نصر قومه علی غیر الحق فھو كالبعیر الذي فھو ینزع بذنبه»(ابو داود)

جس شخص نے نا حق اپنی قوم کی حمایت کی، وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنوئیں میں گر پڑے پھر اس کو اس کی دم پکڑ کر کھینچا جائے۔

حضرت امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

«فان عدل عن الأحق الأصلح إلی غیره لأجل قرابة بینھما اوولاء عتاقة أو صداقة أو موافقة في بلد أو مذھب أو طریقةأو جنس كالعربیة والفارسیة والترکیة والرومیة۔۔۔۔ أو لضغن في قلبه علی الأحق أو عداوة بینهما فقد خان اللّٰه ورسوله والمؤمنین ودخل فیما نھي عنه في قوله تعالٰی یایھا الذین أمنوا لا تخونوا اللّٰه والرسول وتخونوا أماناتکم وأنتم تعلمون» (السیاسیة الشرعیةفي اصلاح الراعي والرعیةص ۴)

اگر امیر یا بادشاہ کسی زیادہ مستحق اور زیادہ لائق آدمی کو نظر انداز کر کے کوئی عہدہ اس بناء پر کسی دوسرے شخص کو دے دے کہ وہ اس کا قرابت دار یا دوست یا ہم مشرب یا ہم مذہب یا ہم وطن یا ہم جنس مثلاً عربی، فارسی، ترکی، رومی ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے غداری کی ... یا وہ دل میں اس کے خلاف کینہ یا دشمنی کے جذبات رکھتا ہے (یا کسی اور وجہ سے مستحق پر غیر مستحق کو ترجیح دیتا ہے) تو اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے بے وفائی کی، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی اس نہی میں داخل ہے۔

اے مسلمانوں، اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو او نہ ہی جان بوجھ کر ان امانتوں میں خیانت کرو۔

رشوت یا قربت کی بناء پر ترجیح دینا:

حضرت امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

أو لرشوة یأخذھا منه من مال أو منفعة أو غیر ذلك من الأسباب ... ثم قال :واعلموا أنما أموالکم و أولادکم فتنة وإن اللّٰه عنده أجر عظیم فإن الرجل لحبه لولده أو لعتیقه قد یؤثرہ في بعض الولایات أو یعطیه ما لا لستحقه فیكون قد خان أمانته (السیاسة الشرعیة)

اسی طرح (اگر اس نے) رشوت لے کر یا کسی اور منفعت وغیرہ کی وجہ سے اہل آدمی کو نظر انداز کر کے نا اہل کو ترجیح دی۔ (تو اس نے بھی، رسول اور مسلمانوں سے بے وفائی کی) اور یاد رکھو کہ تمہارے مال و اولاد فتنہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر موجود ہے۔

یقین کیجئے: ایک شخص بسا اوقات پدری محبت کی بناء پر بض عہدوں میں اپنی اولاد یا غلام کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے یا اس کو کوئی ایسی شے دیتا ہے جس کا وہ شخص شرعاً مستحق نہیں ہوتا وہ بھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔

ثم إن المؤدي للأمانة مع مخالفة ھواه یثبته اللّٰه فیحفظه في أھله وما له بعدہ والمطیع لھواہ یعاقبه اللّٰه بنقیض قصده فیذل أھله ویذھب ما له (السیاسۃ الشرعیۃ)

ثم وہ شخص اگر اپنی خواہش نفس کے خلاف امانت ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھے گا اور اس کی وفات کے بعد اس کے اہل و عیال کی حفاظت کرے گا او جو شخص اس میں اپنی خواہش نفس کا مطیع ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے مقصد میں ناکام رکھ کر عذاب دے گا۔ اس کے اہل و عیال کو ذلیل و رسوا کرے گا اور اس کے مال و متاع کو برباد کرے گا۔

گو ان سے غرض خلیفہ کو متوجہ کرنا ہے کہ جو حکام مقرر کرے وہ اہل ہوں، دیانت دار ہوں اور ملک و ملت کے لئے مفید ہوں، تاہم جن نمائندوں کا ہم انتخاب کرتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ جو شخص رشوت لے کر غیر مستحق کو ووٹ دے کر مستحق دیانتدار اور اہل انسان کی راہ مارتا ہے۔ وہ بہت ہی خسارے کا سودا کرتا ہے، ملک و قوم کے مستقبل کو غارت کرتا ہے اور اپنی آخرت برباد کر کے خدا اور ملت اسلامیہ کی نگاہ میں رسوا ہوتا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں نبوی وراثت ارضی کے اہل اور وارث وہی ہونے چاہئیں جو بہترین اور صالح لوگ ہوں، جو مقصد ہے وہ ان کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ حضرت امام ابن کثیر فرماتے ہیں:

اسلامی سوسائٹی کے نکوکار افراد روئے زمین پر خدا کے نائب ہیں، انسانیت کے رہنما اور لیڈر ہیں۔ انسانوں کے والی اور نگران ہیں اور وہی دنیا کے بہتر منطقوں میں بہتر نظام قائم کرنے پر مامور ہیں۔'' (اسلام کا نظامِ حکومت ص ۳۳۱ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ۳ ص ۳۰۰ )

قوم اور ملت اسلامیہ کی یہ کتنی بد نصیبی ہے کہ:

جو لوگ انتخاب میں حصہ لیتے ہیں، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ننگ دین بھی ہیں۔ اور ننگ قوم بھی، اسلامی تعلیمات سے بالکل بے خبر، قرآنی علم و عمل کے لحاظ سے بالکل کورے، ان کی نجی زندگی حد درجہ گھنائونی اور ان کی ذہنی اڑان حد درجہ پست، نگاہ کوتاہ، فکر محدود، کردار میں بھرپور سطحیت، اکثر ''رنگیلے شاہ'' ''راج دلارے'' اگر ان کے پاس جاگیر اور دولت نہ ہوتی تو ان کو قوم کے جوتوں میں بھی جگہ نہ ملتی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ملت اسلامیہ میں جان ہوتی تو کیا یہ لوگ ہمارے سر کا تاج بن سکتے تھے۔

اب بھی وقت ہے کہ، جو امانت خدا نے آپ کے حوالے کی ہے اس کی پوری درد و سوز کے ساتھ حفاظت کریں، یہ نبوی مسندان ناپاک لوگوں کے سپرد نہ کریں جس پر کبھی ابو بکر و عمر، عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے پاک لوگ بیٹھا کرتے تھے، جب ایسے ناہنجار اور نابکار لوگ ملت اسلامیہ کی اس سب سے اُونچی اور پاک گدی پر براجمان ہوتے ہیں تو کیا آپ کو غیرت اور شرم نہیں آتی کہ آپ رسول اللہﷺ کی اس پاک اور معصوم گدی کو کن نا اہل لوگوں کے حوالے کر رہے ہیں۔

عورتوں کی سربراہی:

عورتوں کے ان تجربات سے فائدہ اٹھانا کچھ برا نہیں، جو صرف وہی بتا سکتی ہیں لیکن یہ بات کہ ا نکو قوم کی لیڈر بھی بنا دیا جائے دین اسلام کی تعلیمات سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔

جنگ جمل ۳۶ ؁ھ میں ہوئی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نہ کے خلاف لڑنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا تھا چنانچہ حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ نہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«لقد نفعني اللّٰه بكلمة سمعتها من رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم أیام الجمل بعد ما كدت أن الحق بأصحاب الجمل فا قاتل معھم قال لما بلغ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم إن أھل فارس قد ملكوا علیھم بنت كسری قال لن یفلح قوم ولوا أمرھم امرأة» (بخاری باب کتاب النبي صلعم الی کسری و قیصر)

جنگ جمل کے دن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی بات سے نفع دیا جو میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ میں جمل والوں سے جا ملتا اور ان کے ساتھ ہو کر لڑائی کرتا۔ فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ اہل ایران نے کسری کی صاحبزادی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ:

ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنی باگ دوڑ ایک عورت کے سپرد کر دی۔ یہ کہہ کر در اصل حضرت ابو بکرۃؓ نے معذرت کی کہ چونکہ حضرت صدیقہؓ اس گروہ کی رہنما ہیں اس لئے اس حدیث کی رو سے اس میں شمولیت جائز نہیں۔ چنانچہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اپنی اس لغزش پر عمر بھر پچھتاتی رہی تھیں۔ ابن سعد میں ہے کہ وہ کہا کرتی تھیں: اے کاش میں درخت ہوتی، اے کاش میں پتھر ہوتی، اے کاش میں روڑا ہوتی، اے کاش میں نیست و نابود ہوتی۔ (طبقات ابن سعد)

بخاری میں ہے کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر سے فرمایا تھا کہ مجھے حضور کے ساتھ دفن نہ کرنا بلکہ آپ کی دوسری بیویوں کے ساتھ دفن کرنا۔ «لا تدفني معھم وأدفني مع صواحبي بالبقیع لأزکي به أبدا۔ بخاري باب ما جاء  في قبر النبي» مستدرک حاکم میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ میں نے آپ کے بعد ایک جرم کیا ہے (حاکم) طبقات ابن سعد میں ہے کہ:

جب وہ یہ آیت پڑھتی تھیں: ﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ﴾ (اے پیغمبر کی بیویو، اپنے گھروں میں ٹھہری رہو) تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا۔

غر ض یہ ہے کہ عورت کا دائرہ کار ''گھر'' ہے۔ قومی اقتدار، ملکی سیاست اور ملی نمائندگی نہیں ہے۔ جو عورتوں کو سیاست کے میدان میں لا رہے ہیں، ان کے لئے ان کو گھروں میں رکھنا مشکل ہو جائے گا اور سیاست میں اس قدر گندگی اور سٹراند پیدا ہو جائے گی کہ اس میں کسی شریف اور سنجیدہ انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہو جائے گا۔

جمہوریت:

اسلام میں جو جمہوریت ہے، اس سے مختلف ہے جس کا اس وقت غوغا اور چرچا ہے۔ مروج جمہوریت میں نمائندگانِ قوم، دستور ساز بھی ہوتے ہیں۔ قانون بھی دیتے ہیں گویا کہ وہ پوری قوم کے خدا ہوتے ہیں، العیاذ باللہ۔

اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے منشا کے نفاذ اور اتمام لئے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور عصری حالات کے تقاضوں کے مطابق ملت اسلامیہ کو کتاب و سنت کی روشنی مہیا کرتے ہیں۔ ان میں نا اہلوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ سیاسی سمجھ بوجھ کے مالک، مجتہد، قرآنی علم و عمل کے حامل، دیانتدار اور قابل اعتبار لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی رائے قرآن و حدیث سے متصادم ہو جائے تو ترک کر دی جاتی ہے۔ اس میں اس امر کے لئے بھی گنجائش ہوتی ہے کہ صدر مملکت اور شورائیہ سے جب تک نا اہلی اور ناکامی سر زد نہ ہو تو تا آخر ان کی رہنمائی اور قیادت کو ہی برقرار دکھا جائے، آئے دن کی ادھیڑ پن سے، جس کی وجہ سے کروڑوں کے حساب سے وقت اور دولت لٹتی ہے، لاکھوں کے حساب سے بد دیانتی اور مکاری کے فنون ایجاد ہوتے ہیں اور ان گنت رقابتوں اور دشمنیوں کے لازوال بھوت نمودار ہوتے ہیں۔ نجات مل جاتی ہے۔

ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریہ، صرف ترجمان ہوتی ہے۔ شارع نہیں ہوتی، مغرب میں جس کے اب مسلم مقلد ہیں، جمہوریت کو ''خدا اور رسول'' کا درجہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ دستور سازی خدا کا حق ہے۔

ہماری کتاب سیاست کے چند اہم باب

نشہ نہیں، ترشی ہے:

اسلامی نقطۂ نظر سے ''سیاست'' نشۂ اقتدار کا نہیں بلکہ مسلم کے لئے ایک ایسی ترشیٔ فریضہ ہے، جس کے ہاتھوں ہمارے سربراہ کے دن کا چین، رات کا آرام، خوشی کی مسکراہٹ اور بے فکری کی گھڑیا کافور ہو جاتی ہیں۔ لوگ سوتے ہیں وہ جاگتا ہے۔ اس کے دورِ حکومت میں بندگان خدا ہنستے ہیں اور یہ اپنے فرائض کی بجا آوری کی فکر میں گھلتا اور روتا ہے۔

فرائض:

(الف) اس کی زندگی پوری ملت اسلامیہ کے لئے پورا ''اُسوۂ حسنہ'' ہوتی ہے۔ بے داغ دامن، بے لاگ ذہن، بے لوث کردار، درد و سوز کا مجسمہ اور قول و عمل کے لحاظ سے ''تفسیر قرآن'' ہونا سربراہ کی صفات حسنہ کی بنیادی چیزیں ہیں ورنہ اسے ملت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام کی رہنمائی کے لحاظ سے نااہل اور اَن فٹ تصور کیا جاتا ہے۔

(ب) اسلام کی نشر و اشاعت اسلامی مملکت کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دورِ اقتدار میں اسلام کا دائرہ نہیں بڑھا تو اسے ناکام دورِ خیال کیا جاتا ہے۔

(ج) اسلامی مکارمِ اخلاق کا تحفظ اور اشاعت کا بندوبست کرنا حکومتِ الٰہیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

(د) توحید کے اتمام اور شرک و بدعت کے استیصال کی طرف توجہ دینا اسلامی نمائندوں کا منصبی فریضہ ہوتا ہے۔

(ر) ملک کے کمزوروں کی داد رسی اور ان کی مشکلات اور مسائل کو حل کئے بغیر مملکت اسلامیہ کی اسمبلی پر بوجھ بنے رہنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاتی۔

(ق) دولت اور وسائل دولت کی تقسیم کا عادلانہ نظام قائم کرنا، غیر جانبدار اور جاندار عدلیہ مہیا کرنا ارباب اقتدار کا بنیادی فرض ہوتا ہے تاکہ ملک سے جو رد ظلم کا سد باب اور حقوق العباد کی مناسب حفاظت کی جا سکے۔

(م) پاکیزہ نظامِ تعلیم کا اہتمام کرنا تاکہ ملک سے ناخواندگی دور ہو، کتاب و سنت سے جہالت کا خاتمہ ہو، ملک و ملت کی دینی اور دنیوی ضروریات کے مناسب حال نوخیز نسل تیار ہو سکے۔