ڈاکٹر جارج حبش نے مشرق وسطیٰ میں حسن بن صباح کا کردار پیش کیا ہے۔

آزادیٔ فلسطین کی تحریک کا آغاز جس خلوص اور حسن نیت سے ہوا تھا۔ اس نےمسلمانوں کی رگوں میں ایک تازہ ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی تمام دنیا میں تعریف کی گئی۔ مگر جلد ہی یہ تحریک عالمی سیاست کے گرگوں کا شکار ہو گئی۔ بعض عناصر جہاد اور آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے اس میں اس طرح د اخل ہوئے کہ انہیں شک و شبہ سے دیکھنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی مگر جب ان کی تعداد میں اضافہ ہوا اور وہ تنظیم میں موثر حیثیت کے حامل ہو گئے تو انہوں نے اپنے گھنائونے عزائم کے بال و پر نکالنے شروع کر دیئے۔ حتیٰ کہ یہ تنظیم بارہ چھوٹی چھوٹی تنظیموں میں بٹ گئی۔

بدباطن عناصر:

ان میں کچھ وہ عناصر ہیں، جو مسلمانوں اور بالخصوص عالم عرب کے خلاف، روس، امریکہ اور چین کی طرف سے سازشوں میں مصروف ہیں۔ بعض ان میں انتہاء پسند اشتراکی (سوشلسٹ) ہیں۔ بعض دائیں اور بعض بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیںَ ان حالات میں ایک سادہ لوح عرب ان کی منافقانہ سرگرمیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسے اتنا معلوم ہے کہ یہودیوں نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے جن کی امریکہ اور برطانیہ کی عظیم طاقتیں پشت پناہی کر رہیں ہیں۔ اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اولین دشمن صرف امریکہ، برطانیہ اور دیگر سامراجی حکومتیں ہیں لیکن انہوں نے اپنی ہی بفل میں چھپے ہوئے دشمن کو نہ پہچانا جس نے حسن بن صباح کا کردار ادا کر کیأ ایک بار نہیں کئی بار انہیں اور اکے بھائیوں کا اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھں کشت و خوان کرا کے ان کی سر زمین کو لالہ زار بنا دیا۔

ڈاکٹر جارج حبش:

ان انتہاء پسند تنظیموں میں ڈاکٹر جارج حبش کی تنظیم ایسی ہے، جو طیاروں کے اغوا اور اس قسم کی دوسری تخریبی سرگرمیاں کرا رہی ہے۔ جن سے اس کی غرض یہ ہے کہ ایک طرف تو عرب ملکوں میں پھوٹ پڑے اور وہ آپس میں لڑیں بھڑیں اور دوسری طرف غیر ملکی طاقتیں براہِ راست عرب ممالک میں جنگی فضا قائم کر کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس تنظیم نے مسلمانو کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ شاہ اردن کو سامراج کا پٹھو ثابت کر کے بدنام کیا جائے اور اس کے خلاف تمام تنظیموں کو بھڑکا کر اُردون پر قبضہ کیا جائے۔ اردن پر قبضہ کرنے کے بعد ہی کھیل سعودی عرب میں کھیلا جائے اور اس پر بھی قبضہ یا جائے۔ جب یہ دونوں حکومتیں، شام، عراق اور متحدہ عرب جمہوریہ کی طرح سوشلسٹ بن جائیں گی تو اس کے بعد اسرائیل پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ سارا مشن یہودیوں کے مفاد میں جاتا ہے، اسلئے ہمارے نزدیک یہ تنظیم یہودیوں کے مقاصد کی تکمیل کے لئے مصروف ہے۔

شاہ حسنین کا اندازہ صحیح تھا:

شاہ حسین جیسا عظیم مدبر، دلیر جرٔت مند انسان اور اسرائیل جیسی خوفناک طقت سے شیروں کی طرح لڑ جانے والا مرد مجاہد ان تمام خرابیوں کو جانتا تھا جو حریت پسندوں میں پنپ رہی تھیں۔ چنانچہ موجودہ بحران کے دوران اس نے ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا کہ اس خانہ جنگی کی باعث حریت پسندوں میں بض نام نہاد اور انتہاء پسند تنظیمیں ہیں، چنانچہ اس خانہ جنگی سے نپٹنے کے لئے اس نے اپنے تمام اختیارات فوجی حکومت کو سونپ کر اکٹر مجالی کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ اب شاہ حسین تین اطراف سے خطرات میں گھرے ہوئے تھے۔ ایک طرف تو وہ حریت پسندوں (جن کی امداد تمام سوشلسٹ عرب ممالک کر رہے تھے اور شامی فوجیں تو براہِ راست اردن میں داخل بھی ہو گئی تھیں) نے اور دوسری طرف اسرائیل جس نے اپنی تمام افواج دریائے اُردون کے پار دوسری طرف لا کھڑی کر دی تھیں وار تیسری طرف امریکہ برطانیہ جو اردن میں براہِ راست مداخلت کے لئے تیار تھے، ان حالات میں اردن کی وفادار فوجوں نے نہایت جانفشانی اور تدبر سے ان ابتر حالات پر قابو پایا۔ انہوں نے ٹھیک اندازہ لگایا کہ یہ سب شرارت انتہاء پسند تنظیموں کے سربراہوں کی ہے۔ اس لئے جارج حبش کے سر کی قیمت لگا دی۔ ذیل میں ہم اس تنظیم کی تخریبی کارروائیوں کا مختصر سا جائزہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔

گزشتہ دنوں اردن کے صحرا میں مختلف ملکوں کے تین جہازوں کے عین دوپہر کے وقت ایک زبردست دھماکا کے ساتھ پھٹتے ہی ایک گرد اٹھی جس میں بلند شعلے لپکتے ہوئے نظر آئے۔ چند ہی منٹ بعد ان جہازوں کے انجر پنجر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دور دور تک بکھر گئے۔ اس کے ساتھ ہی فتح و کامرانی کے نعرے بلند ہوئے اور کچھ لوگ ان جہازوں کے ملبے پر فاتحانہ انداز میں رقض کرنے لگے۔

یہ جہاز ان عرب حریت پسندوں کی ایک تنظیم کے چند فدائیوں نے اغوا کر کے عمان سے ۲۵ میل دور صحرا میں اتار دیئے تھے جس کے رہنما وہی بدنام اور عیسائی ڈاکٹر جارج حبش ہیں۔ انہوں نے جہازوں کے مسافروں کو یرغمال کے طور پر رکھ لیا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دے دی کہ اگر قید میں پڑے ہوئے حریت پسندوں کو آزاد نہ کیا گیا تو ان مسافروں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا جائے۔

بظاہر یہ بڑا دلیرانہ اقدام تھا اور حریت پسندوں کے لئے اس سے بڑا عظیم اور کارنامہ ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اس لئے جب اس بہادری کے کارنامے کی شہرت تمام دنیا میں معترف نگاہوں سے دیکھی جانے لگی تو ان کی تنظیموں میں بعض انتہاء پسندوں نے نتائج سے بے پروا ہو کر کچھ اس قسم کا پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ دنیا کی توجہ ان کے گھنائونے عزائم کی طرف نہ جائے۔

دراصل انتہاء پسند تنظیموں میں ڈاکٹر جارج حبش کی تنظیم پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین مارکس کے نظریات کی حامل ہے اس کا تعلق مائو سے ہے۔ گزشتہ دنوں جارج حبش نارتھ کوریا کے راستے پیکنگ سے واپس آئے جہاں سے انہوں نے ہتھیاروں اور فنڈز کی امداد حاصل کی اور مرحوم صدر ناصر وار شاہ حسین کی تسلیم کردہ جنگ بندی کے معاہدہ کی زبردست مخالفت شروع کر دی۔ اس نے بیان دیا کہ اگر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت کی گئی تو ہم مشرقِ وسطیٰ کو جہنم زار بنا دیں گے۔ اسی تنظیم نے جولائی ۱۹۶۸؁ء میں ایک اسرائیلی جہاز کو اغواء کر کے الجزائر میں اتار دیا تھا۔ تنظیم کے گوریلوں نے جہاز اور اس کے مسافروں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آخر کار انہیں ۱۲ اسرائیلی مسافروں کو چھوڑ کر باقی تمام مسافروں کو رہا کرنا پڑا۔ یہ مسافر پانچ ہفتے تک انکے قبضے میں رہے اور ان کے بدلے میں اسرائیل کو ۱۶ حریت پسندوں کو آزاد کرنا پڑا۔

اس کے اگلے ہی مہینے پاپولر فرنت نے ایتھنز، زیورچ اور میونخ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کر دیا۔ زیورچ میں ان کا ایک آدمی مر گیا اور ۱۲ پکڑے گئے۔ گزشتہ فروری میں پھر اسی فرنٹ کے آدمیوں نے اسرائیل کو جانے والے جہاز کو دھماکے سے اُڑا دیا، جس کے نتیجے میں ۴۷ آدمی مر گئے۔ بعد اذیں انہوں نے ایک بار پھر ایتھنز کے ہوائی اڈہ سے ۴۷ آدمیوں کو پکڑ لیا۔ جن کے بدلے میں یونان کی حکومت کو ۷ عربوں کو رہا کرنا پڑا، جو دو آدمیوں کو قتل کرنے کے جرم میں جیل چلے گئے تھے۔

لیلیٰ خالد:

گزشتہ جولائی میں ڈاکٹر حبش اور اس کے لیفٹیننٹ ڈاکٹر وادی ہداد نے جو حقیقت میں ایک ماہرِ تعمیرات ہے۔ ایک خطرناک منصوبہ بنایا جس کے متعلق اس فرنٹ کے نصف درجن آدمیوں کے سوا اور کسی کو علم نہ تھا۔ اتوار کی دوپہر کو اس فرنٹ کے دو آدمی ای ایل اے ایل ۲۱۹ میں سوار ہوئے۔ ان میں ایک عیسائی خاتون لیلیٰ خالد تھی جو فلسطین میں ایک سابق سکول اُستانی تھی۔ اس کا ساتھی مرد تھا جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کون تھا۔ لیلیٰ کے پاس دو ہینڈ گرینڈ تھے۔ وہ ۱۹۶۹؁ء میں اس محاذ میں شامل ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ایک ۷۰۷ بوئنگ طیارے کو دمشق کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئی تھی، اس کے بم سے جہاز کا کاک پٹ ضائع ہو گیا تھا۔ اس وقت تک مسافر جہاز سے اُتر چکے تھے۔ پرواز کے دوران اس نے جہاز کے عملے اور مسافروں کو بتایا کہ پاپولر فرنٹ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کو سبوتاژ کر کے رکھ دے گا اور یہ اقدام اسی خاطر کیا گیا ہے آپ کو ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ لیلیٰ اور اس کے ساتھی کو توقع تھی کہ پروگرام کے مطابق فرنت کے دوسرے چھ ساتھی بھی ان سے جا ملیں گے۔ لیکن ای ایل اے ایل کے سیکورٹی افسروں نے دونوں کو شک کی بناء پر پکڑ لیا۔ جو سینی گال کے پاسپورٹ کے ذریعے سفر کر رہے تھے اور انہوں نے فرسٹ کلاس کی سیٹیں ریزرو کرا رکھی تھیں۔ آخری لمحے میں ای ایل ا ایل جہاز ۲۱۹ سے دونوں آدمیوں کو اتار دیا گیا۔

اپنے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے لیلیٰ خالد اور اس کے دوست نے اپنے ساتھیوں کا اس وقت تک انتظار کیا جب تک کہ جہاز نے ایمٹرڈم کی فضائوں میں پرواز نہیں شروع کی تھی۔

اغواء کی کوششیں:

فضاء میں جہاز کے آتے ہی لیلیٰ اور اس کے ساتھی اپنی سیٹوں سے کود کر کھڑے ہو گئے اور گرنیڈ اور پستول تان لیے اور فرسٹ کلاس کیبن کی طرف دوڑنے لگے۔ ان کے پیچھے جہاز کے عملے کا ایک آدمی اور حفاظتی افسر دوڑا۔ جب پائلٹ نے یہ منظر دیکھا تو اس نے جہاز کو بریک لگا کر ایک جھٹکا دیا۔ جس سے وہ لڑکھڑا گئے اور مسافروں نے دوڑ کر لیلیٰ خالد پر قابو پا لیا۔ اسی دوران حفاظتی افسر کو لیلیٰ کے ساتھی کے ساتھ باقاعدہ جنگ لڑنی پڑی جس میں لیلیٰ کا ساتھی مر گیا۔ لیلیٰ کے ہاتھ سے جو گرنیڈ گرے وہ پھٹ نہیں سکے اس لئے جہاز، اس کا عملہ اور تمام مسافر موت کے منہ سے بچ گئے۔ جہاز کو لندن اتار لیا گیا۔

اِس حادثے کے ۴۵ منٹ بعد ایک اور جہاز ٹی ڈبلیو اے ۷۴۱ فرینکفورٹ سے اُڑ کر بحیرۂ شمالی پر پرواز کرنے لگا۔ اسی دوران جہاز کے کیپٹن سی ڈی وڈ نے وائر لیس کے ذریعے کہا کہ ہمیں اغواء کیا جا رہا ہے۔ پھر اُس نے مشرق وسطیٰ کا راستہ لیا۔

قریباً انہی لمحوں کے دوران عرب حریت پسندوں نے ایک اور جہاز ڈی سی۔ ۸ کو اغوا کر لیا۔ یہ جہاز زیورچ سے نیویارک جا رہا تھا۔ جب وہ فرانس پر سے گزر رہا تھا تو فرانس کے زمینی کنٹرول پر جہاز میں ایک عورت کے بولنے کی آواز آئی کہ ''جہاز ہمارے مکمل کنٹرول میں ہے ہماری منزلِ مقصود حیفہ ہے ہم کسی اور بات کا جواب نہیں دیں گے۔'' اسی دوران ٹی ڈبلیو اے ۷۴۱ جہاز سے ایک نئے سگنل کی آواز آئی کہ یہ غزہ ہے۔

دراصل غزوہ اور حیفہ ان کی منزل مقصود نہیں تھا بلکہ وہ جہاز اردون سے شمال مغرب کی طرف ۲۵ میل دور اتارے جانے تھے۔ اس علاقے کو برطانیہ کی جنگ عظیم دوم کے موقع پر تربیتی ہوائی اڈہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا اور اس کا نام ''ڈائوسنز'' کا میدان رکھا گیا تھا۔

اِس وقت رات تھی۔ دونوں جہاز اتار لیے گئے۔ ریت اور گرد کا ایک بادل اُٹھا اور جہاز کے دریچوں سے جہاز کے اندر آگیا۔ بہت سے مسافر ایمرجنسی دروازوں سے کود پڑے۔ ادھر دوسری طرف وہ دو حریت پسند جنہیں ای ایل اے ایل سے اتار دیا گیا تھا، نے پان امریکہ کے جہاز ۹۳ پر فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے لیا، جونہی جہاز نے پرواز کے لئے پوزیشن اختیار کی تو گرائونڈ کنٹرولر نے جسے ای ایل اے ایل نے چوکنا کر دیا تھا، کیپٹن جیک پرائڈی کو خبردار کیا۔ اُس نے جہاز روک لیا اور مسافروں میں سے ان دونوں کو دیکھنے کے لئے اندر گیا۔ اُنہیں فرسٹ کلاس کی سیٹوں پر دیکھ کر ان کا سارا سامان چیک کیا مگر وہ کچھ نہ پا سکا۔ اُس نے اطلاع دے دی کہ ان کے پاس کچھ نہیں وار جہاز پرواز کرنے لگا۔ جہاز ۲۸ ہزار فٹ کی بلندیپر پہنچ گیا۔ اب ایک آدمی جلدی سے کاک پٹ کی طرف جاتا ہے اور پستول تان لیتا ہے۔ پھر پائلٹ کو بیروت کی طرف پرواز کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پائلٹ نے کہا کہ بیروت کا ہوائی اڈہ اس جہاز کے اتارنے کے قابل نہیں۔ لیکن وہ اس پر مصر رہا۔

بیروت میں حریت پسند (بارود کا بھرا ہوا) بورڈ پر ایک تھیلا لائے۔ ان میں سے ایک جہاز کے اندر ہی رہا۔ قاہرہ پر سے پرواز کے دوران حریت پسند نے ایک ایئر ہوسٹس سے ماچس مانگی۔ اس نے ماچس دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ تم سگریٹ نہیں پی سکتے ہو کیونکہ جہاز اب اترنے والا ہے۔ ابھی جہاز سو فٹ کی بلندی پر تھا کہ اُس ے فیوز کو آگ لگا دی۔ حریت پسند نے مسافروں کو بتایا کہ آپ کے پاس صرف آٹھ منٹ باقی ہیں۔ کیپٹن کسی موزوں جگہ پر جہاز اتارنا چاہتا تھا۔ جونہی جہاز نیچے اترنا شروع ہوا۔ جہاز کا عملہ اور مسافر امرجنسی دروازہ کے پاس آگئے۔ جہاز کھڑا ہو گیا۔ اسی دوران آواز آئی۔ آپ کے پاس صرف دو منٹ ہیں۔ لوگ دوڑ کر اترنے کی کشش کرنے لگے۔ ابھی مسافر اُتر کر تھوڑے ہی فاصلے پر گئے تھے کہ جہاز کو اڑا دیا گیا۔ مذکورہ تینوں چاروں جہاز سوئٹزر لینڈ، مغربی جرمنی، برطانیہ اور اسرائیل کے تھے۔ جن میں سے تین کو اُردن کے صحرا میں اتارا لیا گیا۔ ان جہازوں کے عملے اور مسافروں کو یرغمال کے طور پر رکھ لیا گیا۔ پاپولر فرنٹ نے عورتوں، بچوں اور بوڑھے مسافروں کو عمان کے ہوٹلوں میں بھیج دیا ان میں یہودیوں کو بالکل علیحدہ کر دیا گیا۔

رہائی کے لئے مختلف تجویزیں:

طیاروں کے اغواء کے بعد سوئٹزر لینڈ نے اس بات کی سفارش کی کہ پانچ ملک ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کا انتخاب کریں جو مسافروں کی فوری طور پر رہائی کیلئے مدد کرے۔ اس سلسلے میں برن میں فوری طور پر متعلقہ ملکوں کا ایک بورڈ بیٹھا، جنہوں نے اس ہنگامی صورتِ حال پر غور کیا، اینڈری رچٹ نے مسافروں کو ہر صورت میں چھڑانے پر زور دیا۔ سوئٹزر لینڈ اور مغربی جرمنی نے عرب قیدیوں کو رہا کرنے کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کیا لیکن برطانیہ نے لیلیٰ خالد کی سودے بازی کو ترجیح دی۔ اسرائیلی نمائندے نے اس سے اتفاق نہ کیا بہرحال وہ اس بات پر آمادہ تھا کہ عربوں کی شرائط پر غور کرے۔

شاہ حسین کی مشکلات:

ان حالات میں اُردن کی حکومت کے لئے عجیب و غریب مشکلات پیدا ہو گئیں۔ امریکہ اور برطانیہ عمان میں فوری طور پر مداخلت کے لئے تیار ہو گئے۔ خصوصاً حالات میں یہ سنگینی اس وقت اور زیادہ بڑھ گئی جب جہاز کو اُڑا دیا گیا۔ اُردن پر مصائب کا زور تو اس وقت سے ہی ہے جب سے مقبوضہ اردن کے مہاجرین یہاں آباد ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو شاہ حسین کے سامنے مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ تھا اور دوسری طرف آزادی فلسطین کی متعدد تنظیموں میں ان کی شمولیت کے تقاضے تھے۔ یہ بات بالخصوص توجہ طلب ہے کہ شاہ حسین نے ان حریت پسندوں کو بے شمار سہولتیں دے رکھی تھیں لیکن اس کے باوجود حریت پسندوں کی بعض تنظیمیں اردن کے سلسلے میں مخلص نہیں تھیں۔ وہ اردن میں شاہ حسین کی حکومت کو ختم کر کے وہاں بھی سوشلسٹ حکومت قائم کر کے روس اور چین کے عزام کو کامیاب بنانا چاہتی تھیں۔ اس سلسل میں شاہ حسین پر متعدد بار حملے کئے گئے مگر وہ ہر بار بال بال بچ گئے۔ جہازوں کو اغواء کرنے کا مقصد ایک طرف تو اپنی جرأت و دلیری کا دنیا میں سکہ بٹھانا تھا اور دوسری طرف بیرونی طاقتوں کو اپنے باشندوں کو رہا کرانے کے لئے اردن میں براہِ راست مداخلت کے لئے دعوت دینا تھا۔ اس طرح سے ان کے سامنے ایک ایسی صورتِ حال پیدا کرنا تھی جس سے مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل جنگ کی لپیٹ میں لانا تھا۔ جہاں تک فلسطین کو آزاد کرانے کا تعلق ہے، اس سے سب تنظیمیں متفق ہیں مگر ان میں طریق کار کا اختلاف ہے۔ انتہاء پسند سوشلسٹ کا تعلق براہ راست مائو س ہے۔ چنانچہ جب تنظیم کے افراد کو فوجی تربیت دی جاتی ہے تو ان کے ہاتھوں میں مائو کی کتاب ہوتی ہے۔

شاہ حسین کی حکومت، سعودی عرب کے سوا، واحد حکومت ہے جو عرب حکومتوں میں سوشلسٹ نہیں ہے۔ حریت پسند انتہاء پرستوں کی طرف سے ہمیشہ اس حکومت کی مخالفت کی گئی ہے۔ اُردن میں گاہے گاہے جو خانہ جنگی ہوتی رہی ہے وہ انہی لوگوں کا کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ سعودی حکومت کو بھی اسی نہج پر لانا چاہتے ہیں لیکن ابھی وہ یہاں ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتے ہیں۔

اُردن میں خانہ جنگی:

موجودہ خانہ جنگی اس وقت شروع ہوئی جب صدر ناصر اور شاہ حسین نے امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں امن منصوبہ کی بات چیت کو قبول کر لیا۔ اس کے فوراً ہی بعد شاہ حسین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اسی پاپولر فرنٹ کی طرف سے ناصر اور شاہ حسین کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں، صدر ناصر پر تو ان کا زور نہ چلا اور ویسے بھی صدر ناصر کی سوشلسٹ حکومت پر انہیں کچھ نہ کچھ اعتماد تھا کہ وہ ہمارے عزائم میں مداخلت نہیں کرے گی۔

انتہاء پسند حریت پسندوں کے عزائم:

شاہ حسین کی بدقسمتی یہ کہ جس حوصلہ اور بردباری سے اس نے حریت پسندوں کی دلجوئی کی اور فلسطین کی آزادی میں جس خلوص اور ہمدردی سے ان کی مدد کی اور اس شرط پر کہ وہ اس کی حکومت میں مداخلت نہیں کریں گے مگر اُنہوں نے وعدہ پورا نہ کیا۔ انہوں نے بلا وجہ اسے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ کبھی تو یہ مطالبہ کیا گیا کہ فلاں رشتہ دار کو حکومت سے نکال دیا جائے اور کبھی یہ کہا کہ فوج میں فلاں شخص ہماری کاروائیوں میں مداخلت کرتا ہے اس لئے اُس ہٹا دیا جائے۔ شاہ حسین نے کسی وقت بھی انہیں مایوس نہیں ہونے دیا۔ دراصل ان کا مطمح نظر یہ تھا کہ اگر شاہ حسین کو تخت سے دستبردار کر دیا جائے تو یہاں بھی سوشلسٹ حکومت قائم ہو جائے گی۔ اس اندھی خواہش نے نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ اسرائیل تو ان کو بھول ہی گیا۔ فوج اور حریت پسند ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے۔

عرب سوشلسٹ ممالک کا کردار:

شام، عراق، الجزائر اور دوسرے سوشلسٹ عرب ملکوں ن بھی حریت پسندوں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ شام نے بھی اپنی فوجیں اردن کی مغری سرحد پر ہنگامی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لئے جمع ہو گئیں۔ اس خانہ جنگی نے ہولناک صورت اختیار کی اور جس قدر قتل و غارت گرمی کی مثال قائم کی۔ عربوں کی تاریخ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ۲۵ ہزار مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ گئے۔ یہی وہ کھیل ہے جو حسن بن صباح اور عبد اللہ بن صبا نے اسلام کی تابناک تاریخ میں کھیلا تھا۔ مسلمانوں میں نفاق ڈالنا اور انہیں آپس میں لڑانا انہی لوگوں کا شیوہ تھا۔ آئندہ شمارے میں ہم انہی لوگوں کے عقائد اور کردار کے ڈانڈے ان تنظیموں سے ملا کر دکھائیں گے جو اپنے گھنائونے کارناموں سے مسلمانوں میں نفاق و نفرت ڈال کر ان کی قوت کو پاش پاش کرتے رہے ہیں۔

ضروری اعلان

مجلس التحقیق الاسلامی لاہور نے ماہنامہ ''محدث'' کی پہلی مجوزہ اشاعت ماہِ رمضان کی مناسبت سے بعض بیش قیمت علمی اور تحقیقی مضامین تیار کئے تھے، لیکن افسوس! ڈکلیریشن کی قانونی پیچیدگیوں میں تاخیر کی وجہ سے مجبوراً ہم پہلی اشاعت ماہِ شوال (تحفۂ عید الفطر) پیش خدمت کر رہے ہیں۔ ان مضامین کو الگ کرنے کی وجہ سے حالیہ اشاعت ۹۶ صفحات کی بجائے ۶۴ صفحات ہو گئی ہے۔ (ادارہ)