ووٹ کی یہ پرچی صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، آپ کا نامۂ اعمال بھی ہے۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی       دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا


گو اگلے وقتوں میں الیکشن اور انتخابات کی یہ فنی شکل مروج نہیں تھی تاہم اثرات اور عوامل جن کے ذریعے کچھ شاطر لوگ عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں، وہ تقریباً تقریباً آج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ غور فرمائیے۔ یہ کتنا بڑا سانحہ اور المیہ ہے کہ دنیا میں جتنے سرکش، متکبر، اچکے اور مفسد لوگ ہیں ساری دنیا کی نگاہ میں برے ہی ہوتے ہیں، لیکن افسوس! ہر مقام پر سارے لوگ، مقدم بھی انہی کو رکھتے ہیں، ان ہی کی سنتے ہیں اور ان کے ہی کہے پر چلتے ہیں۔ اللہ والوں کی نہ کوئی سنتا ہے اور نہ ہی ان کے کہے کا کوئی اعتبار کرتا ہے۔ قرآن کریم نے ان کی اِسی ذہنیت اور روش کا گلہ اور شکوہ کیا ہے۔

                           ﴿وَتِلكَ عادٌ ۖ جَحَدوا بِـٔايـٰتِ رَ‌بِّهِم وَعَصَوا رُ‌سُلَهُ وَاتَّبَعوا أَمرَ‌ كُلِّ جَبّارٍ‌ عَنيدٍ ٥٩﴾... سورة هود

اور (اے پیغمبر) یہ (اجڑی ہوئی بستیاں جو تم دیکھتے ہو وہی قوم) عاد (کے لوگ) ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکموں سے انکار کیا، اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش، دشمن (خدا) کے حکموں پر چلتے رہے۔

﴿قالوا يـٰشُعَيبُ ما نَفقَهُ كَثيرً‌ا مِمّا تَقولُ وَإِنّا لَنَر‌ىٰكَ فينا ضَعيفًا ۖ وَلَولا رَ‌هطُكَ لَرَ‌جَمنـٰكَ ۖ وَما أَنتَ عَلَينا بِعَزيزٍ ﴿٩١﴾... سورة هود


وہ کہنے لگے کہ اے شعیب! جو باتیں تم کہتے ہو ان میں سے اکثر تو ہماری سمجھ میں آتی نہیں، اس کے علاوہ ہم تم کو اپنے (لوگوں) میں کمزور پاتے ہیں اور اگر تمہاری برادری کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تم کو (کبھی کا) سنگسار کر چکے ہوتیاور ہم پر تمہارا کوئی دبائو تو ہے نہیں۔

حضرت ہود علیہ السلام نے جواب دیا:

﴿قالَ يـٰقَومِ أَرَ‌هطى أَعَزُّ عَلَيكُم مِنَ اللَّهِ...٩٢﴾... سورة هود

بھائیو! کیا اللہ سے بڑھ کر تم پر میری برادری کا دبائو ہے۔

برادری سسٹم نے جیسے پہلے لوگوں کی آخرت اور ایمان تباہ کیا تھا۔ ویسا ہی آج بھی ہو رہا ہے، دنیا کام لیتی ہے، تو حق کا واسطہ دے کر نہیں، برادری کا نام لے کر لیتی اور دیتی ہے۔ اس لئے انجام بھی اس سے مختلف نہیں نکل رہا اور نہ کبھی مختلف نکلے گا۔

حق کی راہ میں جو لوگ رکاوٹ بنتے اور فتنے کھڑے کرتے رہے ہیں، عموماً بڑی برادری، جتھے والے خوش حال اور با اثر لوگ ہوتے ہیں۔

﴿وَما أَر‌سَلنا فى قَر‌يَةٍ مِن نَذيرٍ‌ إِلّا قالَ مُترَ‌فوها إِنّا بِما أُر‌سِلتُم بِهِ  کفِر‌ونَ ﴿٣٤﴾ وَقالوا نَحنُ أَكثَرُ‌ أَمو‌ٰلًا وَأَولـٰدًا وَما نَحنُ بِمُعَذَّبينَ ﴿٣٥﴾... سورة سبا

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی (رسولِ خدا) خدا سے ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے آسودہ لوگوں نے (اترا کر) ان سے کہا کہ جو (پیغام) دے کر تم کو بھیجا گیا ہے۔ ہمیں وہ منظور نہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد (تم سے) زیادہ رکھتے ہیں اور (آخرت میں بھی) ہم کو عذاب نہیں ہو گا۔

ان آسودہ حال لوگوں کے اثرات کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا۔

﴿وَإِذا رَ‌أَيتَهُم تُعجِبُكَ أَجسامُهُم ۖ وَإِن يَقولوا تَسمَع لِقَولِهِم...٤﴾... سورة المنافقون

اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے ڈیل ڈول آپ کی نظروں میں کھب جائیں اور بات کریں تو آپ اس کو (توجہ سے) سنیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان آسودہ حال منکرین حق کے بارے میں فرمایا کہ یہ دھن دولت اور وہ برادری، کوئی شے بھی قابلِ رشک نہیں ہے بلکہ فتنہ ہیں۔

﴿وَلا تُعجِبكَ أَمو‌ٰلُهُم وَأَولـٰدُهُم ۚ إِنَّما يُر‌يدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِها فِى الدُّنيا وَتَزهَقَ أَنفُسُهُم وَهُم كـٰفِر‌ونَ ﴿٨٥﴾... سورة التوبة

اور ان کے مال اور اولاد تمہارے لئے موجب تعجب نہ ہوں (دراصل) خدا چاہتا ہے کہ (مال و اولاد کی کثرت کی وجہ سے) ان کو دنیا میں مبتلائے عذاب رکھے اور ان کی جان نکلے (تو اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں (تاکہ اخروی عذاب بھی ان کے لئے ضروری ہو)

ان بد لوگوں کے بارے میں یہ خدائے برحق کی باتیں ہیں، گو آج آپ نہ کہیں، لیکن کل آپ بھی چلا چلا کر یہی کہیں گے اور ان کے پیچھے چلنے کے جو بد نتائج نکلیں گے ان کو دیکھ دیکھ کر آپ بھی پچھتائیں گے مگر اس وقت اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔

﴿وَقالَ الَّذينَ كَفَر‌وا لَن نُؤمِنَ بِهـٰذَا القُر‌ءانِ وَلا بِالَّذى بَينَ يَدَيهِ ۗ وَلَو تَر‌ىٰ إِذِ الظّـٰلِمونَ مَوقوفونَ عِندَ رَ‌بِّهِم يَر‌جِعُ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ القَولَ يَقولُ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَر‌وا لَولا أَنتُم لَكُنّا مُؤمِنينَ ﴿٣١﴾... سورة سبا

اور کاش تم دیکھو، جب (قیامت کے دن یہ) ظالم اپنے رب کے حضور میں (جواب دہی کے لئے) ٹھہرائے جائیں گے (اور) وہ ایک دوسرے کی بات کو رو کر رہے ہوں گے، کمزور (اور ادنی درجے کے لوگ) بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ہی ایمان کی بات مان لیتے۔

لیکن یہ شاطر اور مکار لوگ، چپ رہنے والے کہاں، سن کر بولیں گے:۔

﴿قالَ الَّذينَ استَكبَر‌وا لِلَّذينَ استُضعِفوا أَنَحنُ صَدَدنـٰكُم عَنِ الهُدىٰ بَعدَ إِذ جاءَكُم  بَل كُنتُم مُجرِ‌مينَ ﴿٣٢﴾... سورة سبا

(یعنی اس پر) بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ (بتائو تو سہی) جب تمہارے پاس ہدایت آئی تو کیا اس کے آنے کے بعد ہم نے تم کو (زبردستی) اس (پر عمل کرنے) سے روکا تھا؟ بلکہ تم خود ہی جرائم پیشہ اور قصور وار تھے۔

ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگوں نے زبردستی ان کی راہ نہ ماری ہو، لیکن یہ تو ایک واقعہ ہے کہ شاطرانہ چالوں اور مکرو فریب کے ذریعے تو یہ لوگ کوئی کمی نہیں کرتے اور یہ سبھی جانتے ہیں، اس لئے اس کے جواب میں کمزور کہیں گے۔

﴿وَقالَ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَر‌وا بَل مَكرُ‌ الَّيلِ وَالنَّهارِ‌...٣٣﴾... سورة سبا

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ (زبردستی تو نہیں) مگر (ہاں تمہاری) رات دن کی چالوں نے (روکا)

آج کل یہ لوگ اسلامی نظام حکومت کو روکنے کے لئے جو چالیں چل رہے ہیں، کیا وہ ان کی ان فریب کاریوں سے کچھ زیادہ مختلف ہیں؟

سورہ بقرہ میں اس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے۔

﴿وَلَو يَرَ‌ى الَّذينَ ظَلَموا إِذ يَرَ‌ونَ العَذابَ أَنَّ القُوَّةَ لِلَّهِ جَميعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَديدُ العَذابِ ﴿١٦٥﴾ إِذ تَبَرَّ‌أَ الَّذينَ اتُّبِعوا مِنَ الَّذينَ اتَّبَعوا وَرَ‌أَوُا العَذابَ وَتَقَطَّعَت بِهِمُ الأَسبابُ ﴿١٦٦﴾ وَقالَ الَّذينَ اتَّبَعوا لَو أَنَّ لَنا كَرَّ‌ةً فَنَتَبَرَّ‌أَ مِنهُم كَما تَبَرَّ‌ءوا مِنّا...١٦٧﴾... سورة البقرة

اور جو بات (ان) ظالموں کو عذاب دیکھنے پر سوجھ پڑے گی، اے کاش! اب سوجھ پڑتی کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کو ہے اور (نیز) یہ کہ اللہ کا عذاب بھی سخت ہے۔ (یہ ایسا ٹیڑھا وقت ہو گا کہ) اس وقت گرو (اپنے) چیلے چانٹوں سے دست بردار ہو جائیں گے اور عذاب آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کے (آپس کے) تعلقات (سب) ٹوٹ ٹاٹ جائیں گے اور چیلے بول اُٹھیں گے کہ اے کاش! ہم کو (ایک دفعہ دنیا میں) پھر لوٹ کر جانا ملے تو جیسے یہ (لوگ آج) ہم سے دستبردار ہو گے ہیں (اسی طرح کل کو) ہم بھی ان سے دستبردار ہو جائیں۔''

اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

﴿كَذ‌ٰلِكَ يُر‌يهِمُ اللَّهُ أَعمـٰلَهُم حَسَر‌ٰ‌تٍ عَلَيهِم ۖ وَما هُم بِخـٰرِ‌جينَ مِنَ النّارِ‌ ﴿١٦٧﴾... سورة البقرة

یوں اللہ ان کے اعمال ان کے آگے لائے گا کہ ان کو (وہ اعمال سرتا تا سر (موجب) حسرت دکھائیں دیں گے۔ اور (اس پر بھی) ان کو دوزخ سے نکلنا (نصیب) نہیں ہو گا۔

جو لوگ، غلط کار لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو ان سطور کا بغور مطالعہ کر لینا چاہئے۔ شاید ان کو اپنی کارستانیوں کا انجام سمجھ میں آجائے۔

فرعون اور اس کی پارٹی جیسی کچھ تھی، کسی سے پوشیدہ نہیں، ان کی جاہ و حشمت سے مرعوب ہو کر یا للچا کر جن لوگوں نے ان کے اقتدار کو طول دینے اور مستحکم کرنے میں حصہ لیا تھا حق تعالیٰ ان کے بد انجام کا ذِکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

﴿وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ أَدخِلوا ألَ فِر‌عَونَ أَشَدَّ العَذابِ ﴿٤٦﴾ وَإِذ يَتَحاجّونَ فِى النّارِ‌ فَيَقولُ الضُّعَفـٰؤُا۟ لِلَّذينَ استَكبَر‌وا إِنّا كُنّا لَكُم تَبَعًا فَهَل أَنتُم مُغنونَ عَنّا نَصيبًا مِنَ النّارِ‌ ﴿٤٧﴾ قالَ الَّذينَ استَكبَر‌وا إِنّا كُلٌّ فيها...٤٨﴾... سورة غافر

اور جس دن قیامت برپا ہو گی (اس دن ہم حکم دیں گے کہ) فرعونیوں کو سخت سے سخت عذا میں (لے جا کر) داخل کرو۔ اور وہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے تو کیا (اب) تم ہم پر سے تھوڑی سے آگ بھی پرے ہٹا سکتے ہو؟ بڑے لوگ بولیں گے کہ (اب تو) ہم (تم) سب اسی (آگ) میں پڑے ہیں۔

اس کے بعد قرآن حکیم نے ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ جہنم کے داروغے کی منت سماجت کریں گ کہ وہ کسی طرح اللہ میاں سے سفارش کریں کہ وہ کسی دن ہی ہم سے عذاب ہلکا کر دیا کرے۔ وہ جواب دیں گے: کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول احکامِ الٰہی لے کر نہیں پہنچے تے۔ کہیں گے ''ہاں پہنچے تھے اس پر وہ جواب دیں گے تو پھر خود ہی خدا سے عرض معروض کرو۔ مگر ان کی یہ ساری فریادیں رائیگاں جائیں گی۔ پھر فرمایا اپنےرسولوں اور مسلمانوں کی ہم ضرور مدد کریں گے۔ دیا میں بھی اور قیامت میں بھی۔ باقی رہے وہ ظالم تو فرمایا:۔

﴿يَومَ لا يَنفَعُ الظّـٰلِمينَ مَعذِرَ‌تُهُم ۖ وَلَهُمُ اللَّعنَةُ وَلَهُم سوءُ الدّارِ‌ ﴿٥٢﴾... سورة غافر

(قیامت کا وہ) دن جس دن ظالموں کو ان کی معذرت (کچھ بھی) نفع نہ د یگی اور ان پر (خدا کی) پھٹکار ہو گی اور ان کو (بہت ہی) برا گھر (رہنے کو) ملے گا۔

جب منکرین حق ہر طرف سے مایوس ہو جائیں گے تو غصے میں جل بھن کر رب سے کہیں گے۔

﴿رَ‌بَّنا أَرِ‌نَا الَّذَينِ أَضَلّانا مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ نَجعَلهُما تَحتَ أَقدامِنا لِيَكونا مِنَ الأَسفَلينَ ﴿٢٩﴾... (سورة حم سجدہ  ع4)

الٰہی شیطان اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا (ایک نظر) ان کو (بھی تو) ہمیں دکھا کر ہم ان کو اپنے پیروں تلے (مسل) ڈالیں تاکہ وہ بہت ہی ذلیل ہوں۔

﴿يَومَ تُقَلَّبُ وُجوهُهُم فِى النّارِ‌ يَقولونَ يلَيتَنا أَطَعنَا اللَّهَ وَأَطَعنَا الرَّ‌سولا۠ ﴿٦٦﴾ وَقالوا رَ‌بَّنا إِنّا أَطَعنا سادَتَنا وَكُبَر‌اءَنا فَأَضَلّونَا السَّبيلا۠ ﴿٦٧﴾ رَ‌بَّنا أتِهِم ضِعفَينِ مِنَ العَذابِ وَالعَنهُم لَعنًا كَبيرً‌ا ﴿٦٨﴾... سورة الاحزاب ع8

جب ان ۰تابعداروں) کے منہ (سیخ کے کباب کی طرح دوزخ کی) آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور (وہ مارے افسوس کے) کہیں گے: اے کاش! ہم نے (دنیا میں) اللہ کا کہا مانا ہوتا، رسول کا کہا مانا ہوتا۔ اور وہ (یہ بھی) کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم نے اپنے رئیسوں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو گمراہ کیا۔ اے ہمارے رب! ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر بڑی (سے بڑی) لعنت کر۔

﴿وَيَومَ يَعَضُّ الظّالِمُ عَلىٰ يَدَيهِ يَقولُ يـٰلَيتَنِى اتَّخَذتُ مَعَ الرَّ‌سولِ سَبيلًا ﴿٢٧﴾ يـٰوَيلَتىٰ لَيتَنى لَم أَتَّخِذ فُلانًا خَليلًا ﴿٢٨﴾ لَقَد أَضَلَّنى عَنِ الذِّكرِ‌ بَعدَ إِذ جاءَنى ۗ وَكانَ الشَّيطـٰنُ لِلإِنسـٰنِ خَذولًا ﴿٢٩﴾... سورة الفرقان

اور جس دن نافرمان (مارے افسوس کے) اپنے ہاتھ کاٹے گا (اور) کہے گا: اے کاش! میں (بھی) رسول کے (دین کے) رستے لگ لیتا۔ ہائے میری کم بختی! اے کاش! میں فلاں (شخص) کو دوست نہ بناتا۔ اس نے تو ''یادداشت'' (الٰہی) کے آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان (کا قاعدہ ہے کہ وقت پڑنے پر) انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔

مسلمانو! کل جو ان کے خلاف لا حاصل واویلا کرو گے، آج ہی ان سے الگ ہو کر صالح لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں ہو لیتے۔ اب ہوش میں آگئے تو کچھ بن جائو گے لیکن حسرت و نامرادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

بہرحال اتنی چیخ و پکار کے بعد بھی ان کے بچنے کی کوئی صورت نہیں نکلے گی، کیونکہ اللہ کے رسول بھی ان کی سفارش کرنے کے بجائے، ان کے خلاف ہی ایک اور مقدمہ کھڑا کر دیں گے۔

﴿وَقالَ الرَّ‌سولُ يـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هـٰذَا القُر‌ءانَ مَهجورً‌ا ﴿٣٠﴾... سورة الفرقان

اور اس وقت پیغمبر (محمد رسول اللہ، خدا کی جناب میں) عرض کریں گے کہ اے میرے رب! میری امت نے اس قرآن کو ''یونہی سی شے'' سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ جب رسولِ عربیﷺ ہمارے خلاف     خدا کے حضور میں مقدمہ دائر کریں گے تو کوئی بتائے، چھٹکارے کی کوئی اور صورت باقی رہ جائے گی؟ الیکشن کے ان دنوں میں بھی کچھ اسی قسم کا سماں بنا ہوا ہے۔ عوام کے بڑے حیلے بہانوں سے بہکا کر قرآن اور رسولِ پاک کی سنت سے دور لے جا رہے ہیں، اور لوگ ہیں کہ، جان بوجھ کر ان کے پیچھے دوڑے جا رہے ہیں اور یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ جن لوگوں کے پیچھے لگ کر ہم بھاگے جا رہے ہیں، کل اس کا انجام کیا ہو گا؟

آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ، یہ شاید جنگ اقتدار ہے۔ حالانکہ بات صرف اتنی نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان انتخابات کے ذریعے آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان میں حق کا بول بالا ہو یا باطل کا۔ رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے نظام برحق کی جیت ہو یا کارل ماکس یا کسی اور عدو اللہ کی، خیر اور شر، اسلام اور کفر کے اس معرکہ میں کس کی ہار ہو اور کس کی جیت ہو۔ یقین کیجئے! اس الیکشن کے نتائج نہایت دور رس ہوں گے، ووٹ کی ''پرچی'' رف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ آپ کا نامۂ اعمال ہے۔ کوینکہ آپ کو ملت اسلامیہ کی قیامت اور نمائنگی کے لئے ایک موزوں انسان کا انتخاب کرنا ہے۔ اگر اسی کے لئے کسی برے اور نااہل انسان کو منتخب کیا تو ملت محمددیہ پر یہ آپ کا بہت بڑا ظلم ہو گا۔ اس لئے آپ کو نہایت غور اور ہوش کے ساتھ قدم اُٹھانا چاہئے، اسے کاروبار یا کھیل نہ تصور فرمائیں۔ کل خدا کے حضور میں پیشی ہو گی۔ سوچ لیجئے کہ وہاں کیا جواب دیں گے؟ باقی رہی دولت اور برادری؟ یقین کیجئے ان میں سے کوئی شے بھی آپ کے کام نہ آئے گی بلکہ الٹا لے ڈوبیں گی۔

آپ کو یوں بھی سوچنا چاہئے کہ:

اِس وقت جو لوگ آپ کو بلا رے ہیں، وہ کیسے ہیں؟ ان کی زندگی کے رنگ ڈھنگ کیا ہیں، نعرے کیسے ہیں؟ اس سفر میں ان کے پیچھے چل کر، خدا کے حضور میں پہنچیں گے یا ادھر ادر کے کسی اور آستان پر۔ ان کی باری اور دوستی پر خدا کی طرف سے ''شاباش'' ملے گی یا پھٹکار۔ ان کی رفاقت میں آپ ''بخدا'' بن رہے ہیں، یا خدا سے غافل ہو رہے ہیں۔ اگر رسول پاکﷺ آپ کو ان لوگوں کے ساتھ دیکھ پائیں تو کیا وہ خوش ہوں گے یا آپ کا دِل برا ہو گا۔ اگر یہ لوگ آپ کے ووٹوں سے کامیاب ہو جائیں تو وہ واقعی دین اسلام کی ترقی چاہیں گے اور وہ اسلامی دستور بنانا بھی چاہیں تو کیا بنا بھی سکیں گے۔ ان کو قرآن پاک اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پاک سنت کا فہم کتنا حاصل ہے۔ قابل اعتماد ہے یا گزارہ۔ اتنی باتیں سوچے بغیر اگر آپ نے اپنا ووٹ استعمال کیا تو خدا کے ہاں آپ مجرم ہوں گے۔ اگر جان بوجھ کر ووٹ بے جا استعمال کیا تو اپنی آخرت کا آپ نے ستیاناس کیا۔ حضور کا ارشاد ہے کہ:۔

«من شر الناس منزلة یوم القیامة عبد اذھب آخرته بدنیا غیره» (ابن ماجہ، ابو امامہ)

قیامت کے دن سب لوگوں سے بدتر درجہ اس شخص کا ہو گا جس نے کسی کی دنیا کے لئے اپنی آخرت گنوا دی۔

بالخصوص آج کل ووٹوں میں تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ اقتدار کے چسکے کوئی لیتا ہے اور خون پسینہ اور ایمان کوئی گنواتا ہے۔ إنا للّٰہِ وإنا إلیہ راجعون۔

ضرورت مدرس

مدرسہ محمودیہ کے لئے ایک قابل، محنتی اور شریف الطبع استاد کی ضرورت ہے۔ خواہش مند حضرات مندرجہ ذیل پتہ پر رجوع کریں۔ مہتمم مدرسہ محمودیہ سرہالی کلاں۔ تحصیل قصور، ضلع لاہور۔