(قسط 10)

﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ٢٨ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمـٰو‌ٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ٢٩وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ...٣٠﴾... سورة البقرة

(لوگو!) تم خدا کا کیونکر انکار کر سکتے ہو اور (تمہارا حال یہ ہے کہ) تم بے جان تھے اور اسی نے تم میں جان ڈالی۔ پھر (وہی) تم کو مارتا ہے پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) جلائے گا (بھی) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی کل کائنات پیدا کی پھر (اس کے علاوہ ایک بڑا کام یہ کیا کہ) آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز (کی کنہ) سے واقف ہے۔ (اے پیغمبر لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو) جب

اَمْوَاتًا (بے جان، عدم محض) یہاں پر بندوں کے غیر معمولی احتیاج اور خدا کے حدود فراموش انسانوں کا ذِکر کیا جارہا ہے۔

اَمْوَاتًا کے معنی دو ہیں، ایک یہ کہ تم عدم محض تھے اور تمہارا مذکور تک نہ تھا ﴿لَم يَكُن شَيـًٔا مَذكورً‌ا ﴿١﴾... سورة الدهر" کہ خدا کے سوا کسی کے وہم و گمان میں بھی تمہارا کوئی تصور نہ تھا، دوسرا یہ کہ، دنیا میں ظہور اور پیدائش سے پہلے کے سینکڑوں مختلف مراحل ایسے تھے کہ تمہارا تصور ہی تصور تھا، جان نہیں تھی۔

فَأَحيـٰكُم(پر اس نے تم میں جان ڈالی) پھر آپ کو دنیائے بے نام و نشان، سے دنیائے ہست میں لایا، اور جان ڈال کر خلعتِ وجود سے سرفراز فرمایا۔

ثُمَّ يُميتُكُم (پھر (وہی) تم کو مارتا ہے) دنیا دار العمل ہے، سستانے اور دم لینے کو بھی کچھ وقفہ چاہئے۔ اس کے لئے دو مرحلے تجویز فرمائے، ایک 'وقفہ نیند' کہ انسان محدود سلسلۂ کار کے دوران، مختصر سا دم لے لیتا ہے، دوسرا وقفہ 'وقفہ موت' ہے، جو پورے کارِ حیات کے لئے تجویز کیا گیا ہے تاکہ اسے جدوجہد اور جھنجھٹ سے چھٹی دے کر اس کو پوری کمائی دے دی جائے۔ اس لئے بعد میں فرمایا: ثُمَّ يُحْيِيكُمْ احیاء کا یہ مرحلہ، اخروی مرحلہ ہے جو موت کے بعد پیش آئے گا، جہاں انسان اپنی پوری زندگی کی کمائی اور اس کا پھل اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لے گا۔

ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ (پھر اسی كی طرف لوٹائے جاؤ گے) حق تعالیٰ نے ہی وجود بخشا اور یہاں بھیجا۔ فارغ ہو کر اب جانا بھی مڑ کر پھر اسی ذاتِ برحق کے حضور ہے۔ یہ بات نہیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ، کچھ اور مبارک ہستیاں ایسی بھی ہیں کہ ان کو صرف ان کے حضور حاضر ہونا ہو گا، غلط ہے۔ کیونکہ اور کسی نے انسان کو بھیجا ہی نہیں ہے کہ اب اپنا دفترِ عمل لے کر انسان کے لئے اس کے حضور پیش ہونا بھی ضروری ہو۔

خدا انسان کو عدم سے وجود میں لایا اور بغیر کسی استحقاق کے لایا، جان بخشی، پھر آرام کرنے اور دم لینے کے لئے مواقع مہیا کئے، پھر تھکا دینے والی ڈیوٹی سے پوری چھٹی دے کر اسے اپنے حضور شرف باریابی بخشا۔ اللہ تعالیٰ کے یہ وہ عظیم احسان ہیں، جس کا جواب 'احساسِ ممنونیت' کے سوا بندہ کے بس میں اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ان تمام منزلوں میں انسان کس قدر بے بس، درماندہ اور محتاج ہے اور کارسازی کے لئے خدا کے سوا اس پر اور سب دروازے کس طرح بند ہیں؟

إِلَيهِ تُر‌جَعونَ میں ایک تلمیح یہ بھی ہے کہ بالآخر جب اس کی طرف ہی رجوع کرنا ہے تو درمیانی عرصہ میں ادھر ادھر کیوں بھٹکتے پھریں، شروع سے ہی رب کی طرف رُخ کیوں نہ کر کے رہیں، وَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے۔

خَلَقَ لَكُم (تمہارے لئے پیدا کیا) اس سے غرض یہ ہے کہ آپ اس سے مستفید اور محظوظ ہوں۔ دوسرے مقام پر اس کو سَخَّرَ لَكُمْ (تمہارے اختیار اور بس میں کر دیا) سے عبیر کیا گیا ہے۔ غرض یہ ہے کہ:

• ان میں سے کسی بھی چیز کا خدا ضرورت مند نہیں ہے، جو کچھ ہے صرف آپ کے انتفاع کے لئے ہے۔

• دنیا جہان کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے، جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہو، کیونکہ انسان سب سے اشرف ہے، اس کے بعد اگر انسان خدا کے سوا اور بھی کسی کا دم بھرتا ہے تو یہ مقامِ آدمیت کی نافہمی کی دلیل ہے۔ کیونکہ سب چیزیں انسان کے لئے ہیں، لیکن انسان صرف خدا کے لئے ہے۔

• زہدیہ نہیں، کہ ان سے استفادہ نہ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کو صحیح اور جائز طریقے سے استعمال کیا جائے اور وحی الٰہی کے مطابق ان سے استفادہ کیا جائے اور خود کو ان کی غلامی سے بالا تر رکھا جائے۔

• ان سے انتفاع کی اجازت ہے، ان کے اسراف کی نہیں ﴿وَلَا تُسْرِفُوْا﴾

باقی رہا ان سے استفادہ کرنے کا طریقہ؟ سو وہ مختلف ہے۔ ایک اباحیوں کا ہے، دوسرا منکرینِ حق کا اور تیسرا حق پرستوں کا۔

اباحی کہتے ہیں کہ سب چیزیں سب کے لئے ہیں۔ کسی کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ زر، زن اور زمین سب کو سب کے لئے یکساں مال مباح قرار دیتے ہیں، لیکن حال یہ ہے کہ اگر کوئی ان کے علاقے پر نظریں جما لے تو آنکھیں پھوڑ دیتے ہیں، ان کی سائیکل چرا لے تو جان سے مار دیتے ہیں۔ بس یہ باتونی لوگ مکار ہیں۔

منکرینِ حق کا معیار، ان کا ملکی رواج، ارباب اختیار اور جمہور کی صوابدید ہے، اور بس۔

حق پرستوں کے سامنے 'وحی الٰہی' رہتی ہے، کیونکہ جو مالک ہے حق یہ ہے کہ استفادہ کرنے کی صورت میں، مرضی بھی اسی کی ملحوظ رہنی چاہئے۔ اس سلسلے میں مختصراً اسلامی تعلیمات یہ ہیں۔

الف۔ جو شے کسی کے قبضہ سے پہلے اپنی تحویل میں لے لی جائے، وہ بھی اسی کی۔ «من سبق إلی ما لم یسبق إليه فھو له» (ابو داؤد)

ب۔ کسی کے قبضہ کے بعد اس سے باہم رضا مندی کے ساتھ استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ﴿إِلّا أَن تَكونَ تِجـٰرَ‌ةً عَن تَر‌اضٍ مِنكُم...٢٩﴾... سورة النساء

ج۔ بخشش یا مزدوری کی صورت میں جو حاصل ہو، وہ بھی اسی کی ملکیت ہو گی۔ ﴿وَأَقرِ‌ضُوا اللَّهَ قَر‌ضًا حَسَنًا﴾﴿يـٰأَبَتِ استَـٔجِر‌هُ﴾

اباحی لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب کے لئے ہے۔ لیکن وہ بات نہیں سمجھے، اصلی غرض یہ ہے کہ یہ زمین وما فیہا، کسی شخص، خاندان یا گروپ کے نام الاٹ نہیں کی گئی ہے کہ وہ مالک رہیں اور دوسرے ان کے منگتے، بلکہ قانون کے مطابق سب کے لئے اس سے اپنی اپنی ضروریات پوری کرنے اور استفادہ کرنے کی چھٹی ہے، کسی پر دروازہ بند نہیں ہے۔ دوسرا اور بنیادی تاثر یہ دینا مقصود ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ نے آپ کے لئے بنائی ہیں، یہ انصاف نہیں کہ، آپ کھائیں اس کا اور گائیں کسی کا۔

ثُمَّ استَوىٰ (پھر وہ متوجہ ہوا۔ پھر وہ چڑھ گیا) اس کے استعمالات مختلف ہیں، دو یا دو سے زیادہ فاعل کی طرف نسبت ہو تو برابر کے معنی ہوں گے فاستوی زید و عمرو فی کذا دو کی بجائے ایک کی طرف ہو تو اعتدال کی کیفیت پر دال ہوتا ہے:﴿ذو مِرَّ‌ةٍ فَاستَوىٰ﴾ جب عَلٰی کے ساتھ ہو تو چڑھنے، غلبہ پانے اور قرار پکڑنے کے معنی میں ہوتا ہے﴿فَاستَوىٰ عَلىٰ سوقِهِ﴾،﴿الرَّ‌حمـٰنُ عَلَى العَر‌شِ استَوىٰ﴾ بعض ائمہ نے اس كے یہ معنی کیے ہیں کہ آسمان و زمين كی تمام چيزيں اس كے سامنے مساوی ہیں یعنی جيسا چاہتا ہے سب چیزیں ویسی ہی ہو جاتی ہیں۔ یا یہ کہ تمام چیزوں کی نسبت خدا کی طرف برابر ہے، ایسا نہیں کہ کوئی چیز دوسری کی بہ نسبت خدا کے زیادہ قریب ہو۔ جب اِلٰی کے ساتھ استعمال ہو تو کسی چیز تک بالذات یا بالتدبیر پہنچ جانے کے معنی ہوتے ہیں ثم استویٰ الی السماء (مفردات) استویٰ، عَلَا اور ارتفع (بلند اور اونچا ہوا) کے معنی میں بھی آتا ہے (قرب) شاہ صاحب نے اس کے معنی 'چڑھ گیا' کیے ہیں (موضح) لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں:" ونعلمھا في الجملة من غير أن نتعقلھا أو نشبھھا أو نكيفھا أو نمثلھا بصفاتِ خلقه تعالٰي الله عن ذلك علوا كبيرا فالاستواء كما قال مالك الإمام وجماعة: معلوم ..... والكيف مجھول (كتاب العلوم الذھبي)" یعنی چڑھنا معنی ٹھیک ہیں لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں کہ یسے؟ کیونکہ وہ بندوں جیسا نہیں ہے۔ ہاں ''متوجہ ہوا'' کے معنی کی صورت میں مطلب صاف ہے کہ آسمان بنانے کا ارشاد فرمایا، سو اس میں کوئی اشکال نہیں۔ ؎
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا        بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے

'ثم' کے معنی ہوتے ہیں 'پھر!' لیکن اس جگہ 'ترتیب' کا لحاظ نہیں، بس یوں سمجھیے! جیسے کہا جائے کہ، یہ کیا اور وہ بھی۔ اس لئے 'پھر' سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان۔ کیونکہ سورت نازعات میں تصریح ہے کہ ﴿بَعدَ ذ‌ٰلِكَ دَحىٰها﴾ (اس کے بعد اس کو بچھایا) ویسے بھی یہاں پر زمین کی پیدائش کی بات نہیں بلکہ ''ما فیھا'' کی ہے۔ بندوں کے فائدہ کے لئے، جو کچھ اس میں ہے، وہ بعد میں بنایا۔

سبع سمٰوٰت (سات آسمان) ان سے کیا مراد ہے، حقیقۃً سات یا بطور محاورہ سات یا بکثرت، اس کے علاوہ ان آسمانوں سے مراد 'حلقے' ہیں جن میں سیارگاں محو خرام ہیں یا واقعی ذی حرم کوئی حقیقت ہے۔ جو ابھی تک ہماری نگاہ اور علمی دسترس سے بہت دور ہے۔ بہرحال قرآن حکیم نے ان میں سے کسی بھی 'شکل' کا تعین نہیں کیا اور نہ اس کا تعلق تبلیغ اور رشد و ہدایت سے ہے، مادی تقاضوں سے جتنا تعلق ہے انسان اپنی احتیاج کی بنا پر خود اس کے کھوج میں مصروف رہے گا۔ اور یہی شے اس کے لئے مفید بھی ہے۔ جس طرح روحانیات کا تعلق 'محنف اور عمل کا متقاضی ہے اسی طرح مادی نظام کے کوائف بھی مسلسل محنت، جدوجہد اور عمل کے متقاضی ہیں۔ ہاں اس نے اس کی طرف کچھ تلمیحات کر دی ہیں، تاکہ ان کی طرف انسان کا ذہن منتقل ہوتا رہے۔ سو وہ ہو گیا۔ چنانچہ اسی عظیم حکمت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔

﴿وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَكانَ عَر‌شُهُ عَلَى الماءِ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا...٧﴾... سورة هود

اور وہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کر دیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں سے سب سے بہتر کون ہے۔

یہ حسنِ عمل ایک روحانی نوعیت کی چیز ہے جو انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات پر مبنی ہوتی ہے اور ایک مادی قسم کی ہے کہ اس نگار خانہ کائنات میں اپنی محنت اور عمل کے ذریعے کون نئی نئی دریافت کرتا اور اس پر قابو پاتا ہے اور ان کی ان محنتوں سے خلق خدا متمع ہوتی ہے؟ یہاں یہ دونوں مقصود ہیں۔

اس آیت میں ہیئت او ریاضی کے مسائل پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے، بلکہ دنیا کو خدا کی بے مثال قدرتوں کی طرف دعوت مطالعہ دی جارہی ہے تاکہ اس کو اندازہ ہو جائے کہ جو خدا اور خدائی عظیم صفات کی حامل ذاتِ کریم ہوتی ہے وہ کس قدر عظیم قدرتوں، محیر العقول سطوت، باجبروت جلال و کمال، حیرت افزا حسن و جمال اور حدود و فراموش الطاف و عنایات کی مالک ذات ہوتی ہے؟ جو اقوام غیر اللہ کے در پر ناصیہ فراسا ہیں، وہ دراصل ''خدا'' کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور ساتھ ہی یہ ''آدم نافہمی'' پر بھی دال ہے۔

فقہ القرآن:

اس رکوع سے یہ باتیں مترشح ہوتی ہیں:

• عبادت اور سچی غلامی صرف اِسی ذاتِ کبریا کا حق ہے جو خالق اور منعم ہے، دوسرا نہیں۔ دوسرے کی مشروط اطاعت تو ممکن ہے، عبادت بالکل نہیں۔ ﴿اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى﴾

• دنیا جہان کی ساری طاقتیں مل کر بھی، قرآن حکیم کی چھوٹی سو سورت جیسی سورت بھی نہیں بنا سکتیں، صورۃً نہ معناً۔ ﴿وَلَن تَفعَلوا﴾

• جنت اور اس کی بہاریں صرف ان لوگوں کے لئے مخصوص ہیں جو ایمان اور عمل صالح کا ٹکٹ رکھتے ہوں فی سبیل اللہ بہشت کا وہاں کوئی ذکر نہیں۔ ﴿وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ﴾

• وضوحِ حق کے لئے مناسب مثالوں کو بیان کیا جا سکتا ہے تاکہ بات لوگوں کی سمجھ میں آجائے، مثال کو نہیں دیکھنا کہ وہ بڑی ہے یا چھوٹی، بلکہ اس کے لئے مخاطب کے معیارِ استعداد اور مضمون کی توضیح کے تقاضوں اور سب و روز کو ملحوظ رکھنا چاہئے ﴿لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا﴾ ہاں ان سے استفادہ خالی الذاہن لوگ کرتے ہیں، اپنی ضد کے جو پکے ہیں، وہ نہیں۔ ﴿يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا﴾

• فاسق، بد عہد، بد معاملہ اور تخریب کار کا نام ہے۔﴿الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ﴾

• کچھ قومیں سمجھتی ہیں کہ روشنی کی خالق ایک ذات ہے اور اندھیرے کی دوسری، اسی طرح بعض کا کہنا ہے کہ: برہما جی خالق، وشنوجی باقی رکھنے والے اور شیوجی موت دینے والے ہیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ: یہ سب رب العٰلمین کی تخلیق ہیں۔ ﴿كُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم﴾

• زمین میں جو کچھ ہے انسان کی ضیافت طبع اور بقا کے لئے ہے، انسان ان کے لئے نہیں ہے۔ یعنی انسان مخدوم ہے ان کا خادم نہیں ہے۔ ﴿خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ﴾ سو ان کا شکار کیجئے خود ان کا شکار نہ بنیے۔ ﴿وَابتَغوا مِن فَضلِ﴾

• زمین کے ساتھ آسمانوں کا ذِکر دراصل ان کے باہمی تعلق کے اظہار کے لئے ہے کیونکہ ان کے بغیر زمین کے لئے تنہا گہوارہ بننا دشوار بات ہے۔ ﴿ثُمَّ استَوىٰ﴾

اِذْ (جب، جس وقت، جس ٹائم میں) یہ عموماً ماضی کے کسی 'ٹائم' یا اس میں واقع کسی 'بات اور امر' کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے آتا ہے کہ فلاں وقت کو یاد کرو یا یہ کہ فلاں واقعہ کو یاد کرو جو فلاں گھڑی اور دن کو پیش آیا۔ جس سے مقصود تذکیر، استدلال اور ہوش میں آنے کے لئے درسِ عبرت ہوتا ہے۔ جب اس کے ساتھ ''مما'' لگ جاتا ہے۔ ''اذ ما'' تو شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہے۔

قَالَ (کہا، تصور کیا، رائے قائم کی، تعمیل کی، الہام کیا) اس کے متعدد معنی ہیں جیسا کہ قوسین میں واضح کئے گئے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز سے بات کی جاتی ہے مگر اس کے حسبِ حال۔ جیسا کہ یہاں ہے، ملائکہ (فرشتوں) سے رب نے کہا مگر ہماری طرح نہیں بلکہ ویسے، جیسے ان کے لئے چاہئے۔ ہمارے نزدیک یہ پیرایۂ بیان مجاز نہیں ہے، کیونکہ ان کے لئے وہی حقیقت ہے جو انداز ان کے لئے مخصوص ہے اور اسی پیرائے میں ان سے بات کی گئی۔

مَلَائِکَةَ (رشتے، پیام رساں، الٰہی منتظمین) بعض ائمہ کا ارشاد ہے کہ مَلَکٌ، مُلْکٌ کے لفظ سے نکلا اور بنا ہے، جو فرشتے، انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو ''مَلَکْ'' کہتے ہیں، جس طرح دنیا کے سیاسی حکمرانوں کو ''مَلِکْ'' (بادشاہ) کہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں، جو فرشتے دنیا کا انتظام کرتے ہیں۔ ''مَلَکْ'' کا لفظ صرف انہی کے لئے مخصوص ہے، جو فرشتے انتظامیہ سے تعلق نہیں رکھتے ان کو ''مَلَک'' نہیں کہتے (مفردات راغب) تخلیق آدم کے سلسلے میں، فرشتوں سے ذکر کرنے کی وجہ بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ آدم اور اس کی اولاد ان کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔

امام بیضاوی فرماتے ہیں، فرشتوں کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ ہیں جو حق کی معرفت اور تسبیح و تقدیس میں مستغرق رہتے ہیں۔ ﴿يُسَبِّحونَ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ لا يَفتُر‌ونَ ﴿٢٠﴾... سور ةالانبياء" یہ بارگاہِ الٰہی کے مقرب فرشتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو ''قضا و قدر'' کے مطابق زمین و آسمان کی تدبیر اور نظم و انصرام سے تعلق رکھتے ہیں۔ (بیضاوی ملخصاً)

اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ایک نورانی مخلوق ہے، جس کا خارج میں وجود پایا جاتا ہے، صفاتِ الٰہیہ یا روحانی اور طبیعی قوی سے عبارت نہیں ہیں۔ جیسا کہ بعض عقلاء کا کہنا ہے کہ یہ صرف ملکہ اور معنوی قوتوں کا نام ہے، اور وہ اس سلسلے میں یہاں تک چلے گئے ہیں کہ وحی الٰہی بھی ان کے نزدیک انسان کے باطن اور اندر سے ایک مخصوص آواز کے اُبھرنے اور پیدا ہونے کا نام ہے، وہ نبوت کو بھی ایک ملکہ قرار دیتے ہیں اور اس کا نام 'جبرئیل' رکھتے ہیں۔ عقلاء کے یہ افکار کسی تجربہ، شواہد اور قطعی دلائل پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ اوہام ہیں، فکر و نظر کی کوتاہ دامنی اور عقل کی نارسائی کی پیداوار ہیں، کہتے ہیں: یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، ہم کہتے ہیں جو چیز حدودِ عقل سے پرے کی ہے اِسے عقل کے کدال سے حاصل کرنا بجائے خود ''خلافِ عقل'' ہے۔ صحیح طریق کار یہ ہے کہ جو بات ہماری محدود عقل کی دسترس سے دراء الورا ہے، اسے ان مبارک ہستیوں کے بتانے پر مان لینا چاہئے جن پر 'عالم الغیب' کی جانب سے مناسب 'غیوب' کا فیضان ہوتا رہتا ہے۔

بہرحال فرشتے سراپا اطاعت اور سرتاپا وفا ایک نورانی مخلوق ہے، جس کے شب و روز اور تعامل کی کچھ تفصیلات بھی کتاب و سنت میں آگئی ہیں۔ جو اطاعت کی حد تک ہمارے لئے ایک نمونہ بھی ہیں اور ان کے اس تعارفی تذکار سے اس امر کا رد بھی ہو جاتا ہے کہ: یہ دنیا ایک غیر متبدل طبعی قوانین کے زور سے چل رہی ہے۔ یعنی ظہورِ کائنات کے بعد اب وہ 'یدِ غیب' کے تعاون اور سرپرستی سے بے نیاز ہو گئی ہے۔ حالانکہ وہ طبعی اسباب خود خدا نہیں ہیں بلکہ خدا کی مشیت کے پابند ہیں کیونکہ مسبب الاسباب اور علۃ العلل صرف اس کی مشیت ہے۔ ﴿لَّ يَومٍ هُوَ فى شَأنٍ ﴿٢٩﴾... سورة الرحمان

مَلَائِکَہ:

فرشتے پروں والی مخلوق ہے۔ ﴿أُولى أَجنِحَةٍ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُ‌بـٰعَ...١﴾... سورة فاطر

وہ موحد ہیں اور توحید کی شہادت دیتے ہیں۔ ﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلـٰئِكَةُ﴾ ﴿يُؤمِنونَ بِهِ﴾ وہ دیوی یا دیوتا نہیں ہیں بلکہ خدا کے 'عبد' (غلام، بندے) ہیں مگر بڑے محترم اور مکرم۔ ﴿عِبادٌ مُكرَ‌مونَ﴾ ﴿أَفَأَصفىٰكُم رَ‌بُّكُم بِالبَنينَ وَاتَّخَذَ مِنَ المَلـٰئِكَةِ إِنـٰثًا ۚ إِنَّكُم لَتَقولونَ قَولًا عَظيمًا ﴿٤٠﴾... سورة الاسراء ﴿وَجَعَلُوا المَلـٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبـٰدُ الرَّ‌حمـٰنِ إِنـٰثًا...١٩﴾... سورة الزخرف

یہ عبدیت ان کے لئے وجۂ عار نہیں ہے: لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِلهِ وَلَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ (النساء) عبديت (حضرت) مسیح اور مقرب فرشتوں کے لئے وجۂ عار نہیں ہے۔ وہ خدا کے سامنے اکڑتے نہیں ہیں وهُم لا يَسْتَكبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِه (انبياء) اگر خود خدا کا نعرہ بلند کرتے تو ان کے لئے بھی جہنم ہوتی۔

انتظامیہ کے علاوہ فرشتے بارگاہِ الٰہی میں حاضر رہتے ہیں: وَتَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَاَفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْحَرْشِ (زمر) اور كچھ عرشِ الٰہی كے آپس پاس رہتے ہيں۔ اَلَّذِينَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَه (مومن)

وہ نکمے یا شہزادے بن کر نہیں رہتے، بلکہ خدا کے سامنے سدا سر بسجود رہتے ہیں۔ وَلِلهِ يَسْجُدُ مَا فِي الْسَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلٰٓئِكَةُ (النحل)

اپنے رب کی تسبیح وتقدیس میں مصروف رہتے ہیں: يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ (مومن) وَالْمَلٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ (شوريٰ) نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (بقره) وه ذکرِ حق میں نہ تھکتے ہیں نہ کسی وقت سُست پڑتے ہیں۔ لَا يَسْتَكبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِه وَلَا يَسْتَحْسِرُوْنَ. يُسَبِّحُوْنَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتَرُوْنَ (انبياء)

وہ باوفا اور اطاعت شعار ہیں، رب کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے: لَا يَعْصُوْنَ اللهَ مَا اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (تحریم) تعمیلِ حکم کے سوا ان کو اور کسی شے سے غرض نہیں اور نہ ہی وہ اس کے سامنے لب ہلانے کی سکت رکھتے ہیں: لَا يَسْبِقُوْنَه بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِه يَعْمَلُوْنَ (انبياء) اس كے باوجود وه خدا سے سدا ڈرتے رہتے ہیں: يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (نحل) يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِه وَالْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِيْفَتِه (رعد) وه خوفِ خدا سے سدا کانپتے رہتے ہیں۔ وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِه مُشْفِقُوْنَ (انبياء)

ان کے ذمے خدا کی پیغام رسانی بھی ہے: اَللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا (الحج) خاص كر خدا اور بندے کے درمیان یہی وسائط ہیں: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيْ بِاِذْنِه مَا يَشَآءُ (شوريٰ)

ان کو خدا کی معیت اور نصرت و تائید حاصل ہوتی ہے: اِذْ يُوْحِي رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّي مَعَكُمْ (انفال) وه مسلمانوں کا دل بڑھاتے اور تثبت بخشتے ہیں: فَثَبِّتُوا الَّذِينَ اٰمَنُوْا (انفال) جو ثابت قدم رہتے ہیں، وہ مخصوص اور مناسب انداز میں ان کے لئے بشارت لے کر نازل ہوتے ہیں اور ان کی ڈھارس بندھاتے ہیں: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (حم السجده) وه خدا كے نیک بندوں اور مجاہدوں کی نصرت کو اتر آتے ہیں:اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِينَ اَلَنْ يَّكفِيكُمْ اَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلاَفٍ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِينَ (العمران) وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا (توبه) ان کے ذریعے اپنے نبی کی مدد فرمائی: وَاَيَّدَه بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا (توبہ) ايك باڈی گارڈ کے طور پر اللہ کے نبی کے آگے پیچھے رہتے تھے: يَسْلُكُ مِنْ بَينَ يَدَيهِ وَمِنْ خَلْفه رَصَدًا (الجن) انبیاء کے پاس بشارت لے کر آتے رہے: فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ فِيْ الْمِحْرَابِ اَنَّ اللهَ يُبَشِّرُك (العمران) حسبِ جرورت انسانی لباس میں نبی اور غیر نبی کے پاس بھی تشریف لاتے رہے۔ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ (العمران) فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَراً سَوِيًّا (مريم)

اہلِ زمین کے لئے بخشش اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ (شوری) وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ (مومن) مومنوں کی مدد کرتے ہیں وَاَيَّدَه بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا (توبه) اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةٍ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِيْنَ. (اٰل عمران)

ثابت قدم مسلمانوں پر ان کا نزول جاری رہتا ہے اور ان کو پیامِ بشارت سے نوازتے رہتے ہیں: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَخْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ (حم السجده) انبياء كے لئے بشارت لاتے ہیں۔ اَنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْي (اٰل عمران)

وہ حاملین عرش ہیں الذين يحملون العرش (مومن) وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمٰنِيَة (الحاقة) اورکچھ عرش کے ارد گرد رہتے ہیں: وَمَنْ حَوْلَه (مومن) انبياء اور ان کے سلسلے کے 'سلسلۂ پیامات' کی نگرانی اور حفاظت کرتے ہیں تاکہ سلسلہ بے داغ رہے۔ فَاِنَّه يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِه رَصَدًا. لَيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ (الجن)

اللہ کے رسول پر درود پڑھتے ہیں، آپ کی تائید و نصرت کرتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں: اِنَّ اللهَ وَمَلٰٓئِكَة يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ (احزاب) دعوتِ حق کے شیدائیوں اور راہیوں پر بھی 'صلوٰۃ' کہتے ہیں: هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيكُمْ وَمَلٰٓئِكَتهُ (الاحزاب)

دوزخ پر نگران اور کارکن بھی فرشتے ہوتے ہیں وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً (مدثر) یہ داروغے اپنی ڈیوٹی کے لحاظ سے غیر مداہن اور بڑے مضبوط دل والے ہیں: عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ (تحريم) منکرین کو دوزخ میں دھکیلتے ہوئے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس خدا کے فرستادہ نہیں پہنچے تھے اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ (زمر) اعداء الله كے لئے عذاب بن كر نازل ہوتے ہيں۔ چنانچہ قومِ لوط کے سلسلے میں آکر حضرت لوط سے کہا: هذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ (ھود) حضرات ابراہیم سے ان کے بارے میں کہا کہ ان کا برا حشر ہونے کو ہے: قَدْ جَآءَ اُمْرُ رَبِّكَ. وَاِنَّهُمْ اٰتِيهِمْ عَذَابٌ غَيرُ مَرْدُوْدٍ (ھود)

ملائكہ اللہ کے حکم سے جان قبض کرتے ہیں تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ (الانعام) اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰهُمْ الْمَلٰٓئِكَةُ (النساء) جب منکرین موت کی بے ہوشیوں میں پڑے ہوتے ہیں تو فرشتے ان کی طرف بڑھا کر کہتے ہیں کہ اپنی جانیں ہمیں واپس کرو اور نکال باہر کرو: وَلَوْ تَرَى اِذِا ظّٰلِمُوْنَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْا اَيْدِيْهِمْ اَخْرِجُوْا اَنْفُسَكُمْ (الانعام)

اعمال نامے لكھتےہیں: اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ (يونس) بَلٰي َرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْن (الزخرف) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ۔ (سوره ق)

انتظامیہ اور تدبیر امور کے فرائض ان کے ذمے ہیں اور وہ مختلف اور متنوع ہیں: فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا (النزعٰت) فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا (الذاریات)

انسان کے دلوں میں نیک امور کی طرف میلان اور تحریک پیدا کرنا بھی فرشتوں کی ذمہ داری ہے، وأما لمة الملك فإيعاد بالخير وتصديق بالحق (ترمذي عن ابن مسعود) جب کہیں کوئی گروہ یادِ الٰہی میں مصروف ہوتا ہے، فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان کے گرد گھومتے ہیں۔ ما من قوم یذکرون اللہ إلا حفت بھم الملائکة (ترمذي عن الخدري)

احادیث:

جب انسانِ رحم مادر میں گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ (انسانی ڈھانچہ تیار ہو جاتا ہے) تو فرشتہ اس پر متعین کر دیا جاتا ہے تو اس کے وہ عمل (۲) موت کا وقت (۳) اس کی روزی (۴) اور وہ نیک ہے یا بد جیسا کچھ بالآخر ان کو ہونا ہوتا ہے اِسے علم الٰہی کے مطابق وہ قلم بند کر لیتا ہے، اس کے بعد اس کے بدن میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ ثم یکون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله إليه ملكا بأربع كلمات فيكتب عملا وأجلا ورزقًا وشقي وسعيد ثم ينفخ فيه الروح (صحيحين۔ ابن مسعود) صبح اور عصر کی نماز کے وقت ان کی ڈیوٹیاں بدلتی ہیں اور وہ خدا کے ہاں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ یتعاقبون فیکم ملائكة بالليل وملائِكة بالنھار ويجتمعون في صلوٰة الفجر وصلوٰة العصر ثم يعرج الذين يأتوافيكم فيسئا لھم ربھم ،الحديث (صحيحين۔ ابو ھريره) جب تک نمازی نماز میں ہوتا ہے فرشتے نازل ہو کر ان کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں: لَمْ تَزُل الملائکة تصلي عليه مادام في مصلاه: اللّٰھم صل عليه، اللھم ارحمه (صحيحين۔ ابو ھريره) وه ان اعمال كے سلسلے میں باہم تبادلۂ خیال اور گفتگو کرتے ہیں، جن سے گناہ کا کفارہ ہوتا ہے: ھل تدري فیھا یختصم الملاء الأعلٰی قلت نعم في الکفارات (مشکوٰۃ) قرآن مجید کے بعض مقامات کی تلاوت ان کے لئے حد درجہ جاذب ہوتی ہے۔ قال تلك الملائكة أنت لصوتك ولو قرأت لأ صبحت ينظر الناس إليھا (صحيحين، الخدري)

جب انسان قبلہ رُو ہو کر کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے داہنے طرف ہوتا ہے: فإن أحدکم إذا استقبل القبلة فإنما يستقبل ربه والملك عن يمينه (ابو داؤد عن ابي سعيد) بلکہ فرشتے مساجد میں بھی ہوتے ہیں، ان کو انسانوں کی طرح بعض اشیاء سے اذیت بھی ہوتی ہے، اس لئے حکم ہوتا ہے کہ پیاز جیسی چیز کھا کر مساجد میں نہ جایا کرو۔ من أکل من ھذہ الشجرة فلا یقربن مساجدنا فإن الملائكة تتأذي مما يتأذي منه الإنسان (صحاح۔ عن جابرؓ)

آپ کی دعاؤں پر فرشتے آمین کہتے ہیں، اس لئے فرمایا، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ہم آہنگ ہوتی ہے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ من وافق تأمینه تأمين الملائكة غفرله ما تقدم من ذنبه (صحاح۔ ابو ھريره) بلکہ بندہ جو بھی دعا کرتا ہے فرشتے آمین کہتے ہیں۔ اس لئے حکم ہوتا ہے کہ خیر کی دعا کیا کرو لا تدعوا أنفسکم إلا بخیر فإن الملائکة يؤمنون علٰي ما تقولون (مسلم۔ ام سلمه) جمعہ کے دن جب امام خطاب کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتے بھی سننے کے لئے آجاتے ہیں۔ فإذا خرج الإمام حضرت الملائکة يستمعون الذكر (صحاح۔ ابو ھريره) عيد كے دن مختلف راستوں پر کھڑے ہو کر، لوگوں کو رب کریم کے حضور حاضر ہونے کو کہتے ہیں یعنی ان کے دلوں میں اس کے لئے تحریک پیدا کرتے ہیں اور جنہوں نے ماہِ صیام کے حقوق ادا کیے ان کو داد دیتے ہیں اور بخشش کی نوید سناتے ہیں۔ اذا کان یوم عید الفطر وقفت الملئکة علٰي أبواب الطرق فينادوا اغدوا يا معشر المسلمين إلي رب كريم۔ لقد أمرتم بقيام الليل وأمرتم بصيام النھار وأطعتم (بكم فأقبضوا جوائزكم فإذا صلو انادي منا دألا إن ربكم قد غفر لكم فارجعوا راشدين إلي رحالكم الحديث (طبراني كبير عن سعد بن الاوس)

جب انسان بیمار ہوتا ہے تو دو فرشتوں کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے جو اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ عیادت اور بیمار پرسی کرنے والوں سے خدا کی حمد و ثنا اور صبر و شکر کرتا ہے (یا شکوہ) إذ مرض العبد بعث اللہ عليه ملكين فقال انظرا ما ذا يقول لعوّاده فإن ھو إذا جاءه حمد الله وأثنٰي عليه رفعا ذلك إلي الله وھو أعلم الحديث (مالك بن عطا) جب فرشتے اس کے کسی جگر گوشے کی جان قبض کرتے ہیں تو رب ان سے پوچھتا ہے کہ مصیبت کے اس عالم میں میرا بندہ کیا کہتا تھا، تو وہ کہتے ہیں، الٰہی وہ آپ کی حمد اور اِنَّا لِلہ پڑھتا تھا، جس سے اللہ خوش ہو کر اس کے لئے بہشت میں 'بیت الحمد' تعمیر کرنے کا ان کو حکم دے دیتا ہے قال اللہ تعالٰی قبضتم ولا عبدي.... قبضتم ثمرة فوادہ فیقولون نعم فیقول ما ذا قال عبدي فیقولون حمدك واسترجع فیقول ابنوا لعبدي بیتا فی الجنة وسموه بيت الحمد (ترمذي۔ عن ابي موسٰي) جب مومن پر خود اپنی رحلت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کی معطر روح نکالتے ہیں اور اگر وہ کافر ہوتا ہے تو اس پر عذاب کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور بڑی سختی سے اس کی متعفن روح نکالتے ہیں۔ إذا احتضر المؤمن أتت ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون اخرجي راضية مرضيا عنك إلي روح الله..... وإن الكافر إذا احتضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلي عذاب الله (نسائي۔ ابو ھريرة) بعض خوش نصیب افراد کے جنازہ کے ساتھ رحمت کے فرشتے چلتے ہیں۔ إن رسول الله ﷺ أتي بدابة وھو مع الجنازة فأبي أن يركب فلما انصرف أتي بدابة فركب فقيل له فقال إن الملائكة فكانت تمشي فلم أكن لأ ركب وھم يمشون فلما ذھبوا ركبت (ابو داؤد۔ ثوبان) جنازه كے ہمراہ سواری پر لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا انہیں شرم آنا چاہئے، فرشتے پیدل اور یہ سوار چلتے ہیں۔ خرجنا مع رسول اللہ ﷺ في جنازہ فرأی ناسا رکبانا فقال ألا تستحیون أن ملائکة الله علي أقدامھم وأنتم علي ظھور الدواب (ترمذي۔ ثوبان)