ترجمانِ خلّت

عید قربان آتی ہے تو شاطر لوگ، عوام سے کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ:

قوم اور ملک کے لئے اپنے مفاد کی قربانی دو، یعنی جو ہم کہتے ہیں، بس اس کے لئے سر کٹانا پڑے تو کٹا دو۔ اجڑنا پڑے تو اجڑ جاؤ۔ لٹنا پڑے تو لٹ جاؤ۔ بہرحال اب تمہارا امتحان ہے کہ عیدِ قربان کا حق کیسے ادا کرتے ہو؟ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیتے ہو یا گوشت کھا، پی کر ہمیں بھی بھول جاتے ہو۔

کارخانہ دار مزدوروں سے کہنا شروع کر دیتا ہے کہ، ملک اور قوم کا مستقبل اسی سے وابستہ ہے کہ: تم رات دن محنت کرو، پیداوار زیادہ کرو اور اپنے آرام اور ضرورتوں کی قربانی دے کر زیادہ سے زیادہ خدمت کا ثبوت دو۔ اس تلقین سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ، عید قربانی کے نام پر ان مزدوروں کو قربانی کا بکرا بنا لیا جائے، تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

حکمران، قوم کے نام اپنے پیغام میں کہتے ہیں: وقت بڑا نازک ہے، حالات دگرگوں ہیں، دشمن تاک میں ہے، ان کے ایجنٹ (یعنی ان کے سیاسی مخالف) ملک کے گوشے گوشے میں گھس گئے ہیں۔ مہنگائی کی باتیں چھوڑ دو، ایثار سے کام لو، دشمن اس سے ناجائز فائدہ اُٹھائے گا، بھوک ننگ کی باتیں مت کرو، عید قربان کا مطلب ہے قربانی دو، پیٹ پر پتھر باندھنے پڑیں تو دریغ نہ کرو۔ غنڈہ اور سماج دشمن عناصر کو ہم بھی ختم کرنا چاہتے ہیں، تم بھی آگے بڑھو، سر کٹاؤ اور ان کا مقابلہ کرو، قربانی کا وقت ہے بزدلی مت دکھاؤ۔ مقصد یہ ہے، کہ ہمیں نہ پوچھو، ہم سے نہ الجھو، ہمارا طوقِ غلامی اتار کر پھینکنے کی کوشش نہ کرو۔ قربانی کا ثبوت دو۔

مزدور اُٹھتا ہے کہ: سرمایہ داروں کے گریبان چاک کر ڈالو، اپنے حقوق کے لئے خون کا آخری قطرہ بہادو۔ کارخانہ داروں کا فرض ہے کہ وہ ایثار اور قربانی کے جذبات سے کام لیں، جو پیداوار ہے وہ گھر لے کر نہ جائیں، ہم نے پیدا کی ہے ہمیں بانٹ کر جائیں، یعنی قربانی کا بکرا ہمیں نہ بناؤ، تم بنو!

الغرض: ہر شخص نے 'عید قربان' کے نام کا استحصال کیا اور اپنے مفاد اور حقوق کے حصول کے لئے دوسرے سے قربانی دینے کو کہا اور جو حقوق ان کے ذمے نکلتے تھے، ان کو بھی بھول جانے کے لئے قربانی دینے کی باتیں کیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان ظالموں نے قربانی کا مفہوم ہی نہیں سمجھا، اگر سمجھا ہے تو عمداً اِس کی غلط تعبیریں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس عظیم دن کے ذریعے وہ اپنا الّو ہی سیدھا کر سکیں۔

ہمارے نزدیک 'عید الاضحیٰ' کی یہ توہین ہے، اس کا استحال ہے۔ اپنے اغراض سیئہ کے لئے اس کا غلط استعمال ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عظیم مقاصد اور 'روحِ حنیفیت' کے ضیاع کی ایک بھونڈی کوشش اور ملت حنیفیہ کو اپنے مرکز ثقل سے دور لے جانے کی ایک ذلیل سازش ہے۔ جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ یقین کیجئے! ان میں سے ایک بھی پیغام اور استنباط ایسا نہیں ہے، جو عید الاضحیٰ سے مناسبت رکھتا ہو۔ ان رہنماؤں کے 'پیامات' سے 'استحصال' کی بو آتی ہے اور یہ ڈھیٹ لوگ ہیں، جو انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ خلیل اللہ کے مقاصد پر بوجھ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو عید تمام سفلی خواہشات، شخصی اور گروہی مفادات کے گلے پر چھری پھیرنے کا درس دیتی ہے۔ اسی سے وہ اپنے گھٹیا مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ اس فرصت میں، ہم آپکو حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ کے وہ مبارک پہلو دکھائیں، جو 'عید الاضحٰی' کے سمجھنے کے لئے مفید ہو سکتے ہیں، تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ حقیقتِ حال کیا ہے اور بو الہوس سیاسی شاطروں اور دوسرے مفاد پرستوں نے اسے کیا سے کیا بنا دیا ہے؟

حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پوری زندگی 'حنیفیت تامہ' کی عملی تفسیر اور تعبیر تھی، ماسوی اللہ کی جو چیز بھی توجہ اور سیر الی اللہ کی راہ اور سمت میں حائل ہوئی، انہوں نے ان سب کے گلے پر چھری رکھ دی اور خدا یابی اور خدا جوئی کے سلسلے میں جس ادا، جس وفا اور جس جس مال و متاع کی قربانی دینا پڑی دے ڈالی اور ایک لمحہ کے لئے بھی تامل نہ کیا، نہ سوچا اور نہ جھجکے، بس اُٹھے اور اس کے گلے پر چھری چلا دی، موروثی روایات کے گلے پر چھری، غیر اللہ کی ہر ترغیب و ہر ترہیب پر خنجر چلایا۔ وطن کا بت توڑا، خاندانی سیاسی برتری کی شہ رگ کاٹی، جھوٹے خداؤں کی خدائی کا پردہ چاک کیا۔ آگ کا سمندر پار کرنے کی نوبت آئی تو چھلانگ لگا دی۔ رفیقۂ حیات اور جگر گوشے کو بے آب و گیاہ اور لق و دق صحراؤں کے حوالے کرنے کا وقت آیا تو 'اللہ کے حوالے' کہہ کر چل دیئے۔ بڑھاپے کا سہارا آخری عمر کی عظیم تمنا اور قلب و نگاہ کی جنت نظر ٹھنڈک کے گلے پر 'چھری' چلانے کی 'ہوش رُبا گھڑی' آئی تو بخدا، جہاں 'صف ماتم' بچھ جاتی ہے وہاں ان کی عید ہو گئی۔ یہ ہے وہ 'عید الاضحیٰ' جو آپ منانے لگے ہیں۔ غور فرمائیے! کہ آپ کی عید کو اس سے کوئی نسبت ہے؟ راہِ خدا میں گھر بار، مال و منال اور جانیں لٹ گئیں تو ان کی عید ہو گئی، آپ پر یہ گھڑی آتی نہیں۔ اگر آجائے تو صف ماتم بچھ جائے۔

قرآن حکیم نے حضرت خلیل اللہ کی 'خلّت اور حنیفیت' کے جو نقوش ہمارے سامنے رکھے ہیں، ان سب کا استیعاب تو مشکل ہے ہاں چند ایک یہ ہیں:

آپ نے اعلان کیا:

﴿إِنّى وَجَّهتُ وَجهِىَ لِلَّذى فَطَرَ‌ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ حَنيفًا...٧٩﴾... سورة الانعام

میں نے تو ہر طرف سے منہ موڑ کر اپنا رُخ صرف اِسی ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین بنائے۔ یہ آپ کا وہ اعلان تھا جس کے گرد آپ کی زندگی کی ساری قدریں گھومتی رہیں، دوستی بھی اور دشمنی بھی۔ دلچسپی بھی اور نفرت بھی۔ اس راہ میں جو لٹانا پڑا، لٹا ڈالا خواہ وہ اپنی جان تھی یا عزیز از جان، جانِ پدر اور جو شے حائل ہوئی اسے راستے سے ہٹانا پڑا تو ہٹا ڈالا۔ وہ خاندانی ریاست تھی یا وطن۔ غرض ہر رنگ میں کامیاب رہے اور کامیاب نکلے۔ صلی اللہ عليه وعلي نبينا وبارك وسلم

﴿وَإِذِ ابتَلىٰ إِبر‌ٰ‌هـۧمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمـٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ...١٢٤﴾... سورة البقرة

اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا، تو انہوں نے ان کو پورا کر دکھایا (یعنی پاس ہو گئے)

آس پاس مورتیاں دیکھیں کہ دنیا ان کے لئے اعتکاف بیٹھتی ہے، اور آزر اس ادارہ کے چیئرمین ہیں۔ اپنے باپ بلکہ پوری قوم سے کہا۔

﴿ما هـٰذِهِ التَّماثيلُ الَّتى أَنتُم لَها عـٰكِفونَ ﴿٥٢﴾... سورة الانبياء

یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم لگے بیٹھے ہو؟

جواب ملا:

﴿يـٰإِبر‌ٰ‌هيمُ ۖ لَئِن لَم تَنتَهِ لَأَر‌جُمَنَّكَ ۖ وَاهجُر‌نى مَلِيًّا ﴿٤٦﴾... سورة مريم

اے ابراہیم! اگر (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تجھے سنگسار کر ڈالوں گا اور ہمیشہ کے لئے میری آنکھوں سے دُور ہو جا۔

لیجئے! ہم چلے:

﴿وَأَعتَزِلُكُم وَما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ...٤٨﴾... سورة مريم

تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو میں کنارہ کرتا ہوں۔

کدھر کو چلے؟

﴿إِنّى ذاهِبٌ إِلىٰ رَ‌بّى سَيَهدينِ ﴿٩٩﴾... سورة الصافات

میں اپنے رب کی طرف چلا ہوں، وہ مجھ کو راہ دے گا۔

ازلی بد بخت بولے: پکڑ کر اس کو آگ میں ڈال دو۔

﴿قالوا حَرِّ‌قوهُ وَانصُر‌وا ءالِهَتَكُم...٦٨﴾... سورة الانبياء

روایات میں آتا ہے، اس پر ملائکہ مدد کو پہنچے تو آپ نے کہا۔

مجھے کسی سے امداد کی ضرورت نہیں، وہ جیسے راضی، میں بھی ویسے راضی۔ ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

اور اس حسرت کے ساتھ کہ ؎
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

جان کے بعد عزیز از جان کی قربانی کا مطالبہ ہوا تو چھری لے کر اسے لٹا دیا۔

﴿فَلَمّا أَسلَما وَتَلَّهُ لِلجَبينِ ﴿١٠٣﴾... سورة الصافات

آواز آئی: بس! بس! مان گئے!

﴿قَد صَدَّقتَ الرُّ‌ءيا...١٠٥﴾... سورة الصافات

فرمایا: امتحان بڑا تھا۔ پر آپ پاس ہو گئے!

﴿إِنَّ هـٰذا لَهُوَ البَلـٰؤُا المُبينُ ﴿١٠٦﴾... سورة الصافات

یہ 'قربانی' ہے،جاؤ! اس کی قربانی دو:

﴿وَفَدَينـٰهُ بِذِبحٍ عَظيمٍ ﴿١٠٧﴾... سورة الصافات

جو بھی یوں یعنی آپ کے رنگ میں قربانی دے گا، چھترے بکرے کی ہی سہی، ہمیں منظور ہے:

﴿وَتَرَ‌كنا عَلَيهِ فِى الءاخِر‌ينَ ﴿١٠٨﴾... سورة الصافات

ہم آپ كو سلام کہتے ہیں:

﴿سَلـٰمٌ عَلىٰ إِبر‌ٰ‌هيمَ ﴿١٠٩﴾... سورة الصافات

حکم ہوا یہاں سے دور، اور کہیں جا کر خانۂ خدا تعمیر فرمائیں: باپ بیٹا تعمیر کعبہ میں مصروف ہو گئے۔ بناتے جاتے تھے اور دعائیں کرتے جاتے تھے! الٰہی! قبول کیجیو!

﴿وَإِذ يَر‌فَعُ إِبر‌ٰ‌هـۧمُ القَواعِدَ مِنَ البَيتِ وَإِسمـٰعيلُ رَ‌بَّنا تَقَبَّل مِنّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ ﴿١٢٧﴾... سورة البقرة

اس کے بعد رب سے درخواست کی کہ:

الٰہی ہمیں مسلمان رکھیو! اور نسل سے بھی ایک 'امت مسلمہ' قائم کیجیو! اور اظہارِ عبودیت کے انداز اور طور خود سکھائیو۔

﴿رَ‌بَّنا وَاجعَلنا مُسلِمَينِ لَكَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِنا أُمَّةً مُسلِمَةً لَكَ...١٢٨﴾... سورة البقرة

فکر تھی کہ آنے والی ذریت کو بھی کوئی حنیف رہنما ہی دستیاب ہو، اس لئے خدا سے دعا کی! الٰہی! انہی میں سے ایک رسول بھیجیو جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔

﴿رَ‌بَّنا وَابعَث فيهِم رَ‌سولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِم...١٢٩﴾... سورة البقرة

غور فرمائیے! خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حنیفیت اور مبارک زندگی کے یہ خط و خال کس قدر محیر العقول ہیں:

رب کے لئے یکسو تھے، جس کی کیفیت بالکل یوں تھی ؎
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ، مجھے کام اپنے کام سے تیرے ذکر سے       ، تیری فکر سے، تیری یاد سے تیرے نام سے

اس لئے:

الف۔        خاندان، خاندانی ریاست و جاہ و حشمت چھوڑی۔

ب۔           آگ کے سمندر سے گزرے۔

ج۔           وطن چھوڑا۔

د۔             جبابرہ کے غضبناک تیوروں کا مقابلہ کیا۔

ق۔            قوم کے سب و شتم اور بے پناہ غیظ و غضب کا سامنا کیا۔ پر 'تعلق باللہ' پر آنچ نہ آنے دی۔ خدا تک پہنچنے کے لئے اکلوتے جگر گوشے کی قربانی دینا پڑی تو دے ڈالی، دے کر یوں مسرور ہوئے کہ بس 'عید' ہو گئی۔

کیا آپ کی عید بھی ایسی ہی عید ہے، کہ اس کی راہ میں 'تن، من اور دھن' کی بازی لگا کر بھی آپ چین پاتے ہیں، اور خدا سے قبول کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور صرف اپنی ذات کی نہیں، سارے سنسار کی بھی آپ فکر کرتے ہیں کہ وہ شرک سے بچ جائے اور 'بندۂ حنیف' بن جائے؟ تو پھر آپ کو عید مبارک ہو۔ دعا ہے یہ عید آپ کے لئے 'پیامِ حنیفیت' بن کر آئے اور اپنے رنگ میں رنگ کر آپ کو 'مسلم حنیف' بنا دے۔ آمین!