در اجلاس ششم ربیع الآخر ۱۳۹۴ھ

الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ وسلم وبارک علی عبدہ ورسوله نبينا محمد وعلٰي اٰله وصحبه أجمعين۔

فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ و صدر اعلیٰ مشاورتی کمیٹی یونیورسٹی ہذا کی دعوت پر یونیورسٹی کی اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کا چھٹا اجلاس ہوا، اجلاس کی کاروائی نو روز تک چلتی رہی ہر روز ایک نشست ہوئی۔ تمام تر اجلاس چانسلر یونیورسٹی کی صدارت میں ہوا، اس اجلاس میں حسبِ ذیل ماہرین تعلیم، ممتاز علماء اور مفکرین نے شرکت کی۔

1. شیخ ابو بکر جومی چیف جسٹس شمالی نائیجیریا

2. شیخ ابو الحسن علی ندوی ناظم اعلیٰ ندوۃ العلماء لکھنؤ (بھارت)

3. ڈاکٹر احمد محمد علی ڈپٹی سیکرٹری وزارت تعلیم سعودی عرب

4. شیخ حسنین محمد مخلوف سابق مفتیٔ مصر

5. ڈاکٹر سید محمد الحکیم پروفیسر شریعت کالج یونیورسٹی ہذا

6. شیخ عبد العزیز الفدا ناظم تعلیمات ریاض یونیورسٹی (سعودی عرب)

7. شیخ عبد الرؤف اللبدی پروفیسر شریعت کالج یونیورسٹی ہذا

8. شیخ عبد العزیز محمد عیسیٰ وزیر امور ازہر (مصر)

9. شیخ عبد اللہ العقیل وزیر اوقاف و امور دینیہ (کویت)

10. ڈاکٹر محمد باقر پروفیسر ٹریننگ کالج ریاض یونیورسٹی

11. ڈاکٹر محمد امین المصری نگران اعلیٰ تعلیم ملک عبد العزیز یونیورسٹی (مکہ مکرمہ)

12. شیخ محمد بہحت اثری سابق وزیر اوقاف (عراق)

13. ڈاکٹر محمد حبیب خوجہ پرنسپل زیتونیہ کالج (برائے شریعت و اصولِ دین) تونس

14. شیخ محمد المبارک مشیر ملک عبد العزیز یونیورسٹی (جدّہ)

15. شیخ مصطفیٰ احمد العلوی مہتمم دار الحدیث الحسینیہ (رباط مراکش)

بعض نا مساعد حالات و ناگزیر وجوہ کی بنا پر حسب ذیل اراکین کمیٹی تشریف نہ لا سکے۔

1. شیخ محمد امین الحسینی سابق مفتیٔ اعظم فلسطین

2. شیخ عبد اللہ الغوشہ چیف جسٹس ارد

3. مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان

4. شیخ محمد محمود الصواف مشیر وزارت تعلیم (سعودی عرب)

اعلیٰ مشاورتی کمیٹی نے ان اجلاس میں ان بلوں کو پاس کیا جنہیں یونیورسٹی کی انتظامیہ کمیٹی نے بحث و تمحیص کے لئے اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا وہ تین بل حسب ذیل ہیں۔

1. قرآن کالج برائے علومِ قرآن

2. دعوت و تبلیغ کے لئے مرکز کا قیام

3. شریعت کالج اور دعوت و اصولِ دین کے نصاب میں ترمیم و اضافہ

قرآن کالج کے پلان سے متعلق چند باتیں

چونکہ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کی بنیاد ایک عظیم مقصد کے تحت رکھی گئی اور ایک واضح نصب العین کے لئے یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے وہ یہ کہ اس میں زیرِ تعلیم طلبہ کو قرآن و حدیث میں نکھری ہوئی اسلامی ثقافت و تہذیب کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرنا، ان کو اخلاق و کردار اور گفتاد میں امت کے لئے نمونہ اور قابلِ تقلید بنانا، اور چونکہ قرآن مجید تمام نیکیوں کی بنیاد اور اللہ کا وہ کلام پاک ہے جس کی تلاوت بندوں پر لازمی اور ضروری ہے۔ نیز قرآن کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے۔ یہ ایسی کتاب عزیز ہے جس پر کسی صورت باطل کا غلبہ نہیں ہو سکتا، مولائی حکیم و حمید کی جناب سے نازل کیا ہوا کلام ہے۔ اس لئے یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ جس قدر ممکن ہو قرآن مجید کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی جائے اور اس کے لئے اعلیٰ پیمانے پر کام کیا جائے اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ یونیورسٹی میں دوسرے کالجوں کی طرح قرآنی تعلیم کے لئے ایک مستقل کالج کھولا جائے۔ چنانچہ 'قرآن کالج' کے نام سے اس کا خاکہ تیار کیا گیا اور اسے اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ کمیٹی نے اس اقدام کو بہت ہی مستحسن قرار دیتے ہوئے کچھ ترمیم و اضافہ کے بعد اسے پاس کر دیا اور قرآن مجید پر خصوصی توجہ دیتے ہوے قرآن کالج قائم کرنے پر یونیورسٹی والوں کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں حسب ذیل تجاویز باتفاق رائے پاس کی گئیں۔

1. قرآن مجید کی خصوصی تعلیم کے لئے یونیورسٹی میں ایک کالج قائم کیا جائے جس کا نام 'قرآن کالج' ہو۔

2. اس کالج میں مدت تعلیم چار سال ہو گی۔

3. تلاوتِ قرآن کے علاوہ باقی تمام مضامین کا امتحان تحریری ہو گا لیکن کالج کی کمیٹی تقریری امتحان کے لئے ہر سال چار مضامین کا انتخاب کرے گی اور ۵۰ فی صد نمبر حاصل کرنے والے کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔

4. قرآن کالج میں داخلہ کی شرائط وہی ہیں جو جامعہ کے دوسرے کالجوں کے لئے ہیں۔ البتہ اس کالج میں داخلہ کے امیدوار کا حافظِ قرآن ہونا لازمی ہے اور اس کے لئے داخلہ سے پہلے خصوصی امتحان لیا جائے گا۔

5. ملکی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کالج میں سعودی طلبا کی تعد ۵۰ فی صد مقرر کی گئی ہے۔

6. قرآن کالج میں مندرجہ ذیل مضامین پڑھائے جائیں گے۔

1. تلاوتِ القرآن 2. المدخل الی علم القراءات 3. القراءات السبع

4. القراءات الشاذۃ 5. التوجیہ القراءات 6. تاریخ المصحف

7. الوقف والابتداء 8. الرسم والضبط 9. عدّ الآی

10. علوم القرآن 11. اعجاز القرآن و بلاغتہ 12. التفسیر

13. التوحید 14. الحدیث 15. النحو والصرف

16. البحث والمراجع

مذکورہ بالا مضامین پر مشتمل اسباق کی تقسیم اسی خاکہ کے مطابق ہو گی جس پر اس کالج کا پلان تیار کیا گیا ہے اور دیگر امور کے طریقۂ کار کے لئے ایک مفصل نصابِ تعلیم شائع کیا جائے گا۔

یونیورسٹی میں دعوت و تبلیغ کے ایک مرکز کا قیام

یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ یہ یونیورسٹی کوئی علاقائی، ملکی، قومی اور صوبائی یونیورسٹی نہیں ہے اور نہ یہ نصابی یونیورسٹی ہے، بلکہ یہ ایک علمی، عملی، عالمی اور اسلامی عظیم الشان سرچشمہ اور ادارہ ہے جو عالمِ اسلام کے مسلمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایک اکیڈمی اور مرکز ہے، یونیورسٹی نے اپنا پیغام عام کرنے کے لئے اسی طریقہ اور نصب العین کو سامنے رکھا ہے جو اسلام نے روز اوّل سے پیش کیا تھا یعنی علم کو عملی زندگی کے لئے ایک بنیاد بنانااور تعلّم سے طریقۂ تعلیم بتلانا۔ چنانچہ یونیورسٹی نے اپنا پیغام چہار دانگ عالم میں پہنچانے کے لئے ایک ٹھوس پروگرام بنایا ہے، یونیورسٹی کی سرگرمیاں اور جدوجہد صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ زیرِ تعلیم طلباء کو تعلیم دے اور فارغین کو سند فراغت دے بلکہ اس کے علاوہ ایک عظیم مقصد اور منصوبہ ہے جسے عملی جامہ پہنانا اسلامی و اخلاقی فریضہ ہے۔ چونکہ تمام عالمِ اسلام کی نظریں مدینہ منورہ پر ہیں اس لئے مسلمانانِ عالم نے اپنی امیدیں، نیک توقعات یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہیں۔ چنانچہ اس ادارہ نے کثیر المقاصد دعوت و تبلیغ کے میدان میں اپنی کاوشوں اور سعی و تبلیغ کو ثمر آور بنانے کے لئے عملی اقدام کا آغاز کیا ہے اور دنیا کے اطراف و اکناف کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی جدوجہد تیز کر دی ہے۔ اسی سلسلہ کی پہلی اہم کڑی یہ ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے دعوت و تبلیغ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک مرکز کے قیام کو اہمیت دی اور اس کا پلان بنا کر آخری شکل دینے کے لئے اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کر دیا۔ چنانچہ اس کمیٹی نے کافی غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد اس پلان کی منظوری دیتے ہوئے حسب ذیل سفارشات کیں۔

1. اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں ایک مرکز قائم کیا جائے جس کا نام 'دعوت و تبلیغ مرکز' (مرکز شئون الدعوۃ) ہو۔

2. یہ مرکز براہِ راست چانسلر یونیورسٹی کی سرپرستی میں ہو گا۔

3. تبلیغی مرکز کا ڈھانچہ حسب ذیل امور پر مشتمل ہو گا۔

a. جامعہ کے علمی پروگراموں کو دعوت و تبلیغ کے میدان میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنا۔

b. یونیورسٹی ہذا کی سرگرمیوں کو دوسری اسلامی تنظیموں، یونیورسٹیوں اور عظیم شخصیات کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ بنانا جو کہ دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرمِ عمل ہیں اور ان سے رابطہ قائم رکھتے ہوئے عملی تعاون کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا۔

c. تمام دنیا کے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا نیز ان کے دینی و اجتماعی احوال و ظروف سے باخبر رہنا اور خاص کر ان ملکوں اور علاقوں کے مسلمانوں کی طرف توجہ دینا جو کہ دینی، معاشی، تعلیمی و ثقافتی ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں اور ان کی امداد و تعاون، دینی معاملات میں رہنمائی کے لئے مختلف ذرائع اختیار کرنا۔

d. ملحدانہ مذاہب، گمراہ کن دعوتیں، اسلام دشمن نظریات، بدعات و انحرافات کے مختلف اقسام کا پورا پورا مطالعہ کرنا، مستشرقین اور ان کے ہمنوا و خوشہ چینوں کو دندان شکن اور مسکت جواب دیتے ہوئے ان کے ابطال کے لئے وسائل و پروگرام بنانا، اسلامی تنظیموں، معاشرہ اور سوسائٹی کو ان باطل افکار سے پاک کرنا۔

e. دعوتِ اسلامیہ کے سلسلہ میں بحث و تحقیق اور مطالعہ کے لئے لیکچروں اور مذاکرات کا انتظام کرنا اس کے لئے مقتدر علماء اور مفکرین کو مدعو کرنا جو علمی سطح پر یہ کام کریں۔ ان مباحث، حاصل مطالعہ اور تقاریر کو مفید تر و سود مند بنانے کے لئے مرکز دعوت کے رسالہ اور دیگر نشر و اشاعت کے وسائل کے ذریعہ مختلف زبانوں میں پیش کرنا۔

f. تبلیغ و اشاعتِ اسلام کے میدان میں جامعہ کے فارغین سے رابطہ قائم کیا جائے جو کہ اپنے ملکوں میں قرآن و حدیث کی شمع کو فروزاں کرنے کے لئے شبانہ روز کوشاں ہیں اور ہر ممکن وسائل سے ان کی امداد کی جائے۔

4. یہ مرکز حسبِ قاعدہ ایک ایسے ڈائریکٹر کی سرکردگی میں کام کرے گا جس کا تعین چانسلر یونیورسٹی کرے گا، مرکز کا چارٹ اس کی تعیین کے کوائف متعین کرے گا۔

5. مرکز کے لئے ایک کمیٹی مندرجہ ذیل اراکین پر مشتمل ہو گی۔

a. رئیس الجامعہ یا ان کے نائب صدر کمیٹی

b. مدیر المرکز (ڈائریکٹر) رکن

c. یونیورسٹی کے کالجوں کے پرنسپل حضرات ارکان

d. جامعہ کی تعلیمی کمیٹی کے مزید دو ارکان رئیس الجامعہ دو سال کی مدت کے لئے نامزد کرے گا۔ کمیٹی کے صدر کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ کمیٹی میں شرکت کے لئے دیگر اہل بصیرت کو اپنی صوابدید کے مطابق دعوت دے تاکہ ان کی آراء اور مشوروں سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔

6. مجلس کے اختیارات

(الف) جنرل پالیسی متعین کرنا اور ایسے وسائل بروئے کار لانا جو مرکز کے مقاصد پورے کریں۔

(ب) سالانہ کارکردگی کی اسکیم تیار کرنا اور بحٹ تیار کرنا۔

(ج) ایک بورڈ کا قیام جو ہر شعبہ کے اختیارات متعین کرے گا اور ان کو منظم کرے گا۔

7. کمیٹی کا کم از کم تین ماہ میں ایک اجلاس ہو گا اس کے علاوہ صدر کو اختیار ہو گا کہ ہنگامی اجلاس بلائے۔

8. کمیٹی کی قراردادیں کثرت رائے سے طے ہوں گی اور کوئی قرار داد تاوقتیکہ رئیس الجامعہ اس کی توثیق نہ کرے قابل نفاذ نہ ہو گی۔

9. مرکز شئون الدعوۃ سے متعلق تنظیمی قواعد کی تکمیل کروانے کا حق جامعہ کو ہو گا۔

جامعہ کی انتظامیہ کے بارے میں قرارداد

کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ جامعہ کے نظام پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو ایسے رنگ میں رنگا جائے کہ وہ اپنے اعلیٰ مقاصد کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لا سکے۔ چنانچہ ملک میں مقیم ارکان کی ایک کمیٹی بنائی گئی جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

1. ڈاکٹر عبد العزیز الفدا ناظم ریاض یونیورسٹی

2. ڈاکٹر احمد محمد علی ڈپٹی سیکرٹری وزارت تعلیم سعودیہ

3. ڈاکٹر کامل محمد باقر پروفیسر ٹریننگ کالج ریاض یونیورسٹی

یہ کمیٹی نظام کے بارے میں غور کرے اور اپنی معلومات سے جامعہ کو مطلع کرے تاکہ آئندہ جامعہ کے ساتویں اجلاس میں اس کو بطور رپورٹ اعلیٰ کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔

دعوتی امور کے متعلق قرار داد

1. بیرونِ ملک دُعاۃ کو سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی جائے خواہ وہ جامعہ کے اساتذہ ہوں یا طلبہ۔

2. تبلیغ اور مبلغین سے متعلق زیادہ سے زیادہ کتابوں کو حاصل کرنے پر پوری توجہ کی جائے تاکہ طلبہ اس کا مطالعہ کر سکیں اور مستفید ہوں۔

3. مختلف زبانوں میں اسلامی کتابیں وافر مقدار میں اکٹھی کی جائیں اور وسیع پیمانہ پر دنیا کے گوشہ گوشہ میں تقسیم کی جائیں۔

4. دنیا میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرنے والوں سے روابط مضبوط کیے جائیں خواہ وہ انفرادی طور پر کام کر رہے ہوں یا جماعتی طور پر، تاکہ ان کے تجربوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی راہ ہموار ہو۔

طلباء سے متعلق تجاویز

1. جامعہ کے سرپرست اور اساتذہ طلبہ کے ذہن میں صحیح عقیدہ اور ایمان مستحکم کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور یہ باور کرائیں کہ اسلام وہ نظام پیش کرتا ہے جو عقیدہ و بندگی، اصول و قوانین اور طرزِ زندگی کے ہر شعبہ پر مشتمل ہے اور یہ کہ دعوتِ اسلام ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کی انجام دہی، کتاب و سنت کے فہم و مطالعہ، دعوت کے اصولوں سے واقفیت۔ عوام کی مزاج شناسی اور لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا صحیح طریقہ اپنانے کے بعد ہی ہو سکتی ہے اور یہ کہ دعوت الی اللہ کا راستہ بہت دشوار گزار اور صبر آزما ہے۔ یہ اللہ کے پیغمبروں اور رسولوں کا طریقہ ہے۔ نیز طلبہ کو اس بات کی ترغیب دلائیں کہ وہ لوگوں کے لئے بہترین نمونہ بنیں اور اسلامی تعلیمات کو روز مرّہ کی زندگی میں عملی جامہ پہنا کر مثال قائم کریں۔ گویا ان کے عملی کردار سے عوام کے اذہان، گفتار و کردار میں کتاب و سنت اور سلف صالحین کا طرزِ حیات پھلے پھولے۔

2. طلبہ کو تقریر و وعظ کے اسلوب کی مشق کرائی جائے اور مناسب وقتوں میں خطابات و مقالات کے لئے ان کے اجتماعات منعقد کیے جائیں۔

3. طلبہ کو بحث و تحقیق کی مشق کرائی جائے، ان کو استقلالِ فکر نیز قدیم و جدید کے مفید منبع سے استفادے کا عادی بنایا جائے۔

4. علمی و ثقافتی رحلات کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ سعی و کوشش کے عادی ہوں اور اس سلسلہ میں انعامات سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

5. طلبہ کو مفید کتابوں کے مطالعہ اور اس کے بعد ان کے نوٹ تیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔

6. طلبہ کو اپنے وطن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دلائی جائے جن سے مفید اشیاء کو جامعہ کے مجلہ 'الجامعۃ الاسلامیۃ' اور اس کے علاوہ دیگر جرائد میں شائع کیا جائے۔

7. طلبہ کی آپس میں فصیح عربی میں بات چیت پر زور دیا جائے اور اساتذہ کو بھی اس کی طرف خاص توجہ دلائی جائے۔

8. طلباء کو ان کے لباس اور رہن سہن میں طالبعلمانہ شان اختیار کرنے اور ہر قسم کے حالات میں اسلامی شعار اپنانے کی زیادہ سے زیادہ توجہ دلائی جائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔