پچھلے سال رمضان المبارک 1393ھ میں مکہ مکرمہ میں رابطۂ عالمِ اسلامی نے دنیائے اسلام کے ماہرین فلکیات کو دعوتِ غور و فکر دی کہ ہجری کیلنڈر، معیاری وقت اور اسلامی مہینوں کے تعین کے بارے میں جو دقتیں در پیش ہیں انہیں کس طرح دور کیا جائے۔ چنانچہ تین دن تک بحث مباحثے کے بعد متفقہ طور پر کئی اور امور کے علاوہ ایک اسلامی رصد گاہ کے قیام کا بھی فیصلہ ہوا جو مکہ مکرمہ کے قریب قائم کی گئی ہے۔

اس رصد گاہ کے پہلے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر محمود خیری علی صاحب مقرر ہوئے ہیں جو طبیعات فلک (Astrophysios) کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے مجوزہ رصد گاہ کے مقاصد، تفصیلات اور پروگرام کے بارے میں رابطہ کے انگریزی مجلے The Journal of Muslim World League کے مئی 1944ء والے شمارے میں ایک عمدہ سا مضمون لکھا ہے۔ یہ اسی کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

اس مضمون سے آپ محسوس کریں گے کہ اسلامی دنیا اب بیدار ہو چکی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے میں کس قدر تندہی سے کام لے رہی ہے تاکہ رفتارِ زمانہ اور ترقی یافتہ اقوام کے دوش بدوش چل سکے (مترجم) اس موقعہ کی قرار داد پر رابطہ کے اہم رکن جناب عبد اللہ بن حمید شیخ المحرم المکی کے نقد 'تبیان الادلہ' کا اردو ترجمہ بھی کسی فرصت میں پیش کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

(ادارہ)

قبل از اسلام عرب لوگ صحراء میں سفر کرنے کے لئے ستاروں سے مدد لیتے تھے۔ سورج کے طلوع و غروب، اسی طرح چاند کے ظہور اور دیگر ستاروں کے نکلنے سے انہوں نے غیر سائنسی بنیادوں پر ان ستاروں کے مقامات اور ان کی حرکات کے باہمی تعلقات کے کچھ طریقے جان لیے تھے۔ انہوں نے ستاروں کو بروج و منازل کے اعتبار سے کئی گروپوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ نیز ان کے اسماء بھی مقرر کر رکھے تھے جو فلکیاتی لٹریچر میں آج تک مستعمل چلے آتے ہیں۔ خاص فاصلوں پر واقع مختلف ستاروں کی نسبت سے سورج کی جو حرکت بنتی ہے اور فضائی بسیط کے بڑے دائرے میں ان سب کی سالانہ حرکات معلوم کر لی تھیں اور اس کی مدد سے انہوں نے ان ستاروں کے محیط معلوم کر لیے تھے۔ ستاروں کے طلوع و غروب کے اوقات میں مشاہدات کی مدد سے وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ انہوں نے زرعی موسموں کے وقوع اور موسمی مظاہر میں تھوڑا بہت تعلق جان لیا تھا۔

اسلام کی روشنی پھیلنے کے ساتھ بنیادی علوم اور ایمان کی بدولت مسلمان قدرت کے نظام کو سمجھنے اور کائنات کے فلسفہ کی کنہ میں جانے کے لئے بہت دلچسپی لینے لگے۔ عبادات کے ضمن میں انہوں نے نماز کے لئے مختلف مقامات پر اوقات کی تعیین میں اپنی وسعت علم سے کام لیا۔ اسی طرح انہوں نے حج کے ایام اور صحیح سمت قبلہ معلوم کرنے میں پوری تندہی دکھائی۔ جوں جوں اسلام پھیلتا گیا مختلف ممالک میں مسلمانوں نے طول بلداور عرض بلد کے علاوہ دن کے مختلف اوقات کے لئے فلکیاتی مشاہدات کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔ عہد عباسی میں مسلمانوں کے بڑے بڑے شہروں میں کئی فلکیاتی رصد گاہیں قائم کی گئیں۔ یہ رصد گاہیں اندلس، سمر قند اور ان کے درمیان بغداد، دمشق، قاہرہ، اسکندریہ اور مراغہ کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی قائم ہوئیں۔ ان سائنسی اداروں نے ستاروں کی چمک، پوزیشن، حرکات اور دوائر حرکات کے مشاہدات کے ضمن میں بہت اچھا رول ادا کیا۔ ابن یونس، زرقا فی الطواسی، خوارزمی اور ابو الوفاء کے مشاہدات اور جد اول مسلمانوں کے اس میدان میں سعی و عمل کے نمونے ہیں۔ بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے اس علم میں طول بلد و عرض بلد اور زمین کے میط کی تعیین جیسے جغرافیائی علوم بھی شامل کر لیے۔

عرب ماہرین فلکیات اپنے مشاہدات کے لئے اپنے بنائے ہوئے جو صحیح ترن مختلف آلات استعمال کرتے تھے ان میں اسطرلاب اور مزولہ بہت مشہور ہیں۔ جب تمام یورپ خوابِ غفلت میں سو رہا تھا۔ تب یہ گراں قدر علمی کام کئی صدیوں تک مسلمان ہی سر انجام دیتے رہے۔ یہ درحقیقت اس سلسلۂ علم کا ایک مضبوط حلقہ تھا جس کی پہلی کڑیاں یونانی، مصری، کلدانی، اہل فارس اور چینیوں کے علاوہ دیگر مختلف تھیں جن کو آج کوئی نہیں جانتا۔

اس عظیم نیک نامی والے سائنسی عہد کے بعد ایک لمبے عرصے تک مسلمان غیر فعال بن گئے ان پر تنزل طاری ہو گیا اور اس عرصہ میں کوئی قابل قدر کام سر انجام نہ دے سکے۔ اب صرف چند رصد گاہوں کے کھنڈرات باقی ہیں اور ایسی بہت سی رصد گاہیں اس دنیا سے ناپید ہو چکی ہیں۔ اس عرصے میں ان کے مشاہدات اور سارا علم اہلِ یورپ نے اچک کر لیا، مختلف زبانوں میں اِس کے ترجمے کئے اور اس کو بنیاد بنا کر اس کے مختلف شعبوں میں معتد بہ اضافہ کیا۔ موجودہ علمِ سائنس نے، جس میں فلکیات اور فضائے بسیط کے علوم بھی شامل ہیں، فی زمانہ حیران کن ترقی کی ہے۔ یہ دونوں علوم ترقی کے میدان میں نہ صرف آگے بڑھے ہیں بلکہ دیگر علوم سے گوئے سبقت لے گئے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے نہ صرف ضروری ہو گیا ہے بلکہ ان کے لئے یہ لابدی امر ہے کہ موجودہ وسائل اور اہلیت کے ساتھ اپنی خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور نہایت سریع سائنسی ترقی کے شانہ بشانہ چلنے کی سعی کریں۔

رصدگاہ کا قیام:

دنیا بھر کے مسلمانوں نے اب شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ ہجری کیلنڈر اور عربی مہینوں کی اہم تاریخوں کی تعیین میں جو الجھنیں اور غیر یقینی حالت ہے وہ (اس ظاہر کی دنیا میں) اسلام کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے۔ مسلمان ہمیشہ کوشاں رہے ہیں کہ کسی طرح اس مشکل کو حل کر سکیں اور اس کے عمدہ حل میں جو بھی دقتیں ہیں انہیں دور کرنے میں ایسے طریق اختیار کیے جائیں جو دین اسلام کی روح اور قرآنی تعلیمات سے ٹکراتے نہ ہوں۔ اس دیرینہ اختلافی مسئلہ کو جو ہزاروں مسلمانوں سے متعلق ہے، رابطہ عالم اسلامی (مکہ) نے پوری طرح محسوس کیا ہے۔ کئی جلسوں میں اس مسئلے پر طویل بحث مباحثوں کے بعد مکہ کے قریب ایک اسلامی رصد گاہ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ رصد گاہ رابطہ کو سائنسی بنیادوں پر فلکیاتی مشاہدات اور بالکل صحیح حساب کے ذریعے کئی مسائل کے حل کرنے میں مدد دے گی۔ یہ ایک ادارے کی حیثیت سے ہو گی جسے مسلم ممالک کے سائنس دان استعمال کر سکیں گے اور اس کام میں حصہ لے سکیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ اس سائنسی ادارے کے قیام پر، جو تمام مسلمانوں کے فائدے کے لئے ہو گا، غیر صحت مند دماغوں کے حامل لوگ اسلام پر حملہ آور ہونے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھیں گے۔ مگر یہ ادارہ ایسے لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات کہ اسلام غیر ترقی یافتہ اور قدیم مذہب ہے کھُرچ کر نکالنے میں مکمل طور پر کوشاں رہے گا۔

اسلامی منشا و مقصد اور اتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت کے پیش نظر شاہِ فیصل نے رابطہ کے لئے مکمل تائید و حمایت کا اظہار کیا ہے، اور رصد گاہ کے لئے مناسب جگہ اور اس منصوبے کو فوری طور پر قابلِ عمل بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ رابطہ نے اس ذمہ داری کو فوری طور پر اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں رابطہ نے عالمِ اسلام کے ماہرین فلکیات کو دعوت دی جو پچھلے رمضان میں تین دن تک مکہ مکرمہ میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اس منصوبے کی تنفیذ کے لئے تدابیر اور خاکہ تیار کیا۔

رصد گاہ کے لئے جگہ:

کسی رصد گاہ کے لئے مناسب جگہ کے چناؤ کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس رصد گاہ کے مقاصد اور پروگرام کیا ہیں اور ان پروگراموں کے لئے مشاہدات کی نوعیت کیا ہے؟ تاہم چند ایسے امور ہیں جو ہر فلکی رصد گاہ کے قیام کے لئے نہایت اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مناسب جگہ کے چناؤ میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال ضروری ہے۔

1. یہ جگہ شہر کی روشنی، آواز، دھوئیں اور دیگر ہنگاموں سے کافی فاصلے پر ہو۔

2. وہ جگہ اونچی پہاڑی پر ہو جو طبقۂ اسفل سے ذرا بلند ہو۔

3. وہاں بجلی، پانی وغیرہ کا مناسب انتظام ہو اور بذریعہ سڑک وہاں تک پہنچنا آسان ہو۔

4. اور دیگر سائنسی اداروں اور جامعات سے زیادہ دور نہ ہو۔

5. ساحل سمندر سے بھی زیادہ دور نہ ہو۔

6. یہ جگہ بادل، تند و تیز ہوایں، بارش، کُہر، گرد کے بُرے اثرات کے لحاظ سے مناسب ہو۔

7. وہ جگہ مستقبل میں وسعت کا خیال رکھتے ہوئے منتخب کی گئی ہو۔

وہ مقام فلکیاتی مشاہدات کے لیے شفاف ماحول کا حامل ہو۔

مکہ کے قریب مغرب میں سلسلۂ کوہ پر چند مقامات سے متعلق ابتدائی تحقیقات اور موسی عناصر کے تجزیے کے بعد، جس میں سات سال کا عرصہ لگا اور جزیرہ نمائے عرب میں پھیلے ہوئے کئی مقامات کا جائزہ لیا گیا، ایک علاقے کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ ہمارے مشاہدات و تجربات کے لے یہ مناسب جگہ ہے۔ یہ مقام طائف کے قریب سطح سمندر سے 1500 میٹر اونچائی پر واقع ہے تاہم ابھی حتمی فیصلہ تب ہو گا جب منتخب کردہ جگہوں پر ایک لمبے عرصے میں کئی اور تجربات کیے جائیں گے۔

رصد گاہ:

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اسلامی رصد گاہ، اپنے ابتدائی مراحل میں خصوصی اہمیت کے حامل پروگراموں پر عمل کرے گی۔ تاہم ان میں وقت کے ساتھ ساتھ ان پروگراموں سے متعلق دوسرے امور بھی شامل کیے جاتے رہیں گے۔ مجموعی طور پر یہ رصد گاہ ان امور پر کام کرے گی۔

(الف) 1. تعیین وقت

2. مشاہدۂ قمر

3. شمس اور اجرام فلکی پر تحقیقات

4. ہجری کیلنڈر

(ب) ان تمام امور کے بارے میں کمپیوٹر سنٹر کا قیام

(ج) ایک عمدہ لائبریری

(د) ان مقاصد کی تکمیل کے لئے بین الاقوامی اتحادِ عمل

تعیینِ وقت:

ایک دن میں زمین کے مغرب سے مشرق کی طرف گردش محوری کے نتیجے میں تمام کائنات کے اجرام شرق سے ظاہر ہوتے ہوئے اور مغرب میں غائب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دن کی لمبائی کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے وقت کا شمار چاند، سورج یا کس ستارے سے کیا گیا ہے؟ سیاروں و مدار تاروں اور دیگر ایسے اجرام فلکی کو اوقات وغیرہ کی تعیین کے سلسلے میں پیش نظر نہیں رکھا جا سکتا۔ کیونکہ ان کی حرکات بے قاعدہ ہوتی ہیں۔ اگر ہم کسی رات کچھ ستارے، شمس، قمر کو سمت الرأس میں دیکھیں اور اگلی رات بھی بعینہٖ مشاہدہ کریں تو اس طرح ہم شمسی، قمری اور کوکبی (Sidereal) دن کی بالکل صحیح ترین لمبائی متعین کر سکیں گے۔ ستاروں کی نسبت سے شمس و قمر کی جو رفتار ہے اِس کے سبب ان تینوں اقسام کے دنوں میں معمولی سا فرق ہے۔ ان اجرام فلکی پر مسلسل مشاہدات سے وقت کے مختلف النوع وقفوں کو متعین کیا جا سکتا ہے۔ یہی کام دنیا کی کئی رصدگاہوں میں انتہائی باریکی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت درست ترین وقت کے سگنل دنیا بھر میں مختلف رصد گاہیں نشر کر رہی ہیں جن میں واشنگٹن کی بحری اور برطانیہ میں گرین وِچ کی شاہی درصد گاہیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

دنیائے اسلام میں مکہ مکرمہ کی حیثیت بہت اہم ہے۔ کرّۂ ارض پر یہ مقدس ترین جگہ ہے جہاں خانہ کعبہ موجود ہے جس طرف مسلمان رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور جہاں حج کے لئے جاتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی مکہ (عرض بلد ۲۱ درجے ۵ء۲۴ منٹ شمالی اور طول بلد ۳۹ درجے ۵ء۵۲ منٹ مشرقی) دنیائے اسلام کے جو ۱۶۰ درجے طول بلد اور ۶۰ درجے عرض بلد سے زیادہ علاقے میں پھیلی ہوئی ہے، عین وسط میں واقع ہے۔ علاوہ بریں ہم دیکھتے ہیں کہ اس پورے علاقے میں بجز چند رصدگاہوں کے جو محدود طور پر اقات کے تعیین کا کام کرتی ہیں، کوئی معیاری وقت (Standard Time) کا مرکز نہیں ہے۔ یہ امر شک و شبہ سے بالا ہے کہ مسلمانوں کا یہ عظیم پھیلا ہوا علاقہ معیاری وقت کا محتاج ہے۔ یہی وہ سب ہے جو مکہ مکرمہ کو معیاری وقت کے تعین کے لئے مرکز بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ چنانچہ اس رصد گاہ کے قیام میں اس امر کا بھی خیال رکھا جائے گا کہ اوقات کو نشر کرنے والے سگنل دنیائے اسلام کے کونے کونے میں سنائی دے سکیں۔

مشاہدۂ قمر:

زمین کے گرد چاند کی گردش ایک قمری مہینے میں مکمل ہوتی ہے جس کی لمبائی کا اندازہ ستاروں، سورج و دیگر اجرام کی نسبت سے قمر کے متوالی انتقال مکانی سے کیا جاتا ہے۔ ہم یہاں قمر کی صرف ایک حرکت سے بحث کرتے ہیں جس کے نتیجے میں چاند کے کئی معلوم ممازجات ظاہر ہوتے ہیں۔ جب یہ چاند سورج اور زمین کے درمیان واقع ہوتا ہے تو اس کا روشن حصہ عین دوسری جانب ہوتا ہے اور زمین کے کسی حصے سے بھی نظر نہیں آسکتا، یہاں تک کہ اس کی یہ حالتِ قرآن ختم نہیں ہو جاتی۔ یہ خاص حالت پیدائش قمر کہلاتی ہے اور ایسے دو قرانوں کے درمیان کے عرصے کو قمری مہینہ کہتے ہیں جو ۲۹ دن ۱۲ گھنٹے ۴۴ منٹ اور ۸۷ء۲ سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہمیں چاند کا مدھم روشن حصہ نظر آنے کے لئے کچھ وقت کا گزرنا ضروری ہوتا ہے جو عام طور پر بیس گھنٹوں کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ اگر پیدائش قمر نصف شب سے ذرا بعد میں ہو تو یہ چاند اگلے دن غروبِ آفتاب تک ۱۸ گھنٹوں کی عمر کا ہو گا۔ اگر اس دن موسم عمدہ ہوا اور افق مغرب پر مناسب وقت (جو تیس منٹ سے کم نہیں) تک چاند رہا یہاں تک کہ اسے رات کی روشنی نے مدھم نہ کر دیا تو اس کا نظر آجانا ممکن ہوتا ہے مگر یہ سب شرائط کسی ایک مقام کے لئے ایک وقت میں شاذ و نادر ہی پوری ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہمیں مختلف مقامات پرغروبِ شمس و قمر میں جو وقت کا اختلاف ہے اس کا خیال بھی رکھنا ہو گا چونکہ اسلامی مہینے کی ابتداء اس دن سے شمار ہوتی ہے جو ظہور قمر کے بعد اگلی صبح سے شروع ہوتا ہے، اس لئے یہ نہایت ہی ٹیڑھے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ تمام مسلم ممالک کے لئے وہی ایک دن کیسے مقرر کریں۔ اس معاملے میں ہمیشہ سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ تمام دنیائے اسلام کے اندر اسلامی مہینے کی ابتداء میں وحدت کے ،مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں اگر ہم واقعی صدق دل سے خواہش مند ہوں تو بہرحال کئی ایسے ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم ان دقتوں اور مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور عمدہ بات ہو گی کہ تمام دنیائے اسلام کے مسلمان متحدہ طور پر ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دِن مذہبی تہوار منائیں۔ چنانچہ اسلامی رصد گاہ کا یہ کام ہو گا کہ وہ حرکات شمس و قمر کا حساب رکھے گی اور تمام اسلامی ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں ظہورِ ہلال کی امکانی صورت کا تعین کرے گی۔ علاوہ بریں یہ رصد گاہ سورج، چاند اور دیگر قریبی اجرام فلکی کے بارے میں خالص سائنسی بنیادوں پر جدید ترین آلات کی مدد سے مشاہدات کرے گی اور متعلقہ امور میں ریسرچ کا کام بھی کرے گی۔

ہجری کیلنڈر:

موجودہ شمسی کیلنڈروں کے بنانے میں گرین وِچ کی شاہی اور واشنگٹن کی بحری رصد گاہوں سے بہت مدد لی جاتی ہے۔ یہ رصد اہیں کئی ہزار سالوں کے لئے بہت مختصر مگر جامع جنتریاں نکالتی رہتی ہیں۔ یہ جنتریاں سورج چاند اور دیگر اجرامِ فلکی کے بارے میں اوقات کی تعیین اور دیگر فلکیاتی معلومات بہم پہنچانے میں سب سے زیادہ قابلِ اعتبار سمجھی جاتی ہیں۔ ان تقویموں میں دی گئی معلومات سادہ جدولوں کی صورت میں دی جاتی ہیں جو بلاشبہ کئی مقاصد کے لئے کافی ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہ تقویمیں گریگوری کیلنڈر سے متعلق تمام معلومات کی امل ہوتی ہیں۔ مگر ہجری کیلنڈر میں سال کی ابتداء کے تعیین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس (اسلامی مہینے کی ابتداء) کا تعین مشاہدہ قمر اور اس کے حساب کے علاوہ دیگر پانچ پرکھ سے کیا جا سکتا ہے، جو ہیئت کے اعتبار سے خالصۃً پیدائش قمر پر منحصر ہوتا ہے یہ مختلف طرق و ذرائع بعض اوقات ٹھیک نہیں بیٹھتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ہجری کیلنڈر میں بہت سا تفاوت ہے۔ ہر طبقۂ جانچ اپنے اندر کچھ خوبیاں رکھتا ہے اور اسی طرح کچھ سقم بھی۔ جب ہم اس کا فیصلہ کر لیں کہ ہجری کیلنڈر کے لئے ہم کون سا طریقہ اختیار کریں گے تو اس طرح ہمارے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ آئندہ کئی سالوں کی تاریخ کا تعین کر سکیں۔ ایسے عالم گیر کیلنڈر کے لئے، جو تمام مسلم ممالک کے لئے کار آمد ہو گا، ایک متفقہ فیصلہ کرنا ہو گا جس کے تحت کسی ایک اسلامی ملک کا صدر مقام معیار قرار پائے گا۔ چنانچہ ہماری نر میں دنیائے اسلام میں مکہ مکرمہ سے بڑھ کر کوئی اور مقام نہیں ہے جسے یہ ترجیح حاصل ہو۔

دُور بین:

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ شمس و قمر اور دیگر اجرام فلکی کے مشاہدے کے لئے، منطقہ بروج کی روشنی اور فلک شِپ اور انہی سے متعلق کئی اور امور میں تحقیق کے لئے یہ رصد گاہ کئی دور بینیں نصب کرے گی۔ ان تحقیقات کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ خاص قسم کی دور بینیں ہوں اور پھر انہیں کئی امدادی آلات سے بھی لیس کیا گیا ہو۔ یہ تمام تفصیلات ابھی طے نہیں پائی ہیں مگر توقع ہے کہ عنقریب اس بارے میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔

کمپیوٹر اور لائبریری:

اس رصد گاہ میں ایک کمپیوٹر اور ایک عمدہ کتب خانہ قائم ہو گا۔ یہ کمپیوٹر ہجری کیلنڈر، فلکیاتی مشاہدات اور کمپیوٹر پروگرام سے متعلق، ہر ایک معاملے کا حساب رکھے گا۔ الیکٹرانک کمپیوٹر کی مدد سے بھی کچھ خاص کام کئے جائیں گے جو پٹرول اور معدنیات کے کالج واقعہ ظہر ان کے کمپیوٹر سنٹر میں ہوں گے۔ یہ بھی منصوبہ بنایا گیا ہے کہ مجوزہ لائبریری میں بتدریج اسلامی لٹریچر اور مخطوطات کے علاوہ علم ہیئت سے متعلق موجود عہد کے لٹریچر، اٹلس اور مجلات و رسائل کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی تعاون:

یہ امر نہایت ہی خوش آئند ہے کہ سعودی عرب کی کئی یونیورسٹیوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اس رصد گاہ کے پروگراموں میں پورا پورا حصہ لیں گی اور اپنے ہاں سے ماہرین سائنس کی مدد سے جو طبیعات اور ریاضی کے گریجوئیٹ ہوں گے، رصد گاہ کے کاموں میں ممد و معاون ہوں گی۔ مستقبل قریب میں اس امر کے لئے علم فلکیات کے گریجوئیٹ بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مشترکہ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق اس امر کا بھی امکان ہے کہ سعودی حکومت کے جامعات اور سائنسی ادارے اس معاملے میں رصد گاہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ یہ سائنسی تعلق صرف سعودی حکومت کے اداروں تک ہی محدود نہ رہے گا بلکہ مستقبل میں اس تعاون کا دائرہ کار تمام دنیائے اسلام کی مخصوص رصد گاہوں تک بڑھ جائے گا۔ اس معاملے میں دنیا بھر کی دیگر رصد گاہوں سے تعاون کی بھی مکمل امید ہے۔

کوئی رصد گاہ بھی اکیلے اپنے طور پر کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کر سکتی جب تک کہ اسے باہر سے ایسا تعاون حاصل نہ ہو۔ ان فلکیاتی مشاہدات میں کئی خصوصی امور شامل ہوتے ہیں اور دنیا بھر کی رصد گاہوں میں کئی تکنیک اور مختلف آلات کی مدد سےان کے حل تلاش کئے جاتے ہیں۔ ان میں بعض اوقات صرف ایک ہی ستارے سے متعلق مشاہدات ہوتے ہیں، بعض دفعہ کئی ستاروں کے ایک گروپ کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ ایک خاص عرصہ تک اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ اسے ایک خاص اندازِ مشاہدہ اور خصوصی آلات کی مدد سے حل کیا جائے۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی ستارہ کرّہ ارض کے مختلف مقامات پر یا کسی ایک خاص وقت میں نظر نہیں آسکے گا تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر یہ لابدی امر ہے کہ دوسرے ایسے اداروں سے قریبی تعلقات پیدا کیے جائیں اور ان سے ضروری مدد لی جائے۔ ایسے امور کے لئے بین الاقوامی فلکیاتی یونین بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ تعاون متصل واقع مسلم ممالک جیسے الجزائر، لیبیا، مصر، ترکی، شام، پاکستان اور انڈونیشیا کی رصد گاہوں سے ہو سکتا ہے۔

یہ امر بہت اہم اور دلچسپی کا حامل ہو گا کہ مستقبل میں ایک ٹریننگ سنٹر قائم کیا جائے جو تمام مسلمانانِ عالم کو اس قابل بنا دے کہ ایسے معاملات میں ان میں اس امر کی سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے کہ انہیں اپنے اپنے ممالک اور دائرۂ اختیار میں کن کن اصولوں کی پابندی کرنی ہو گی یا انہیں کام میں لانا ہو گا۔