(قسط 9)


﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَر‌وا فَيَقولونَ ماذا أَر‌ادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثـٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ‌ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَر‌ضِ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ٢٧﴾... سورة البقرة

یہ ایک واقعہ ہے کہ اللہ کسی مثال کے بیان کرنے میں (ذرہ بھی) نہیں جھینپتا (چاہے وہ مثال) مچھر کی ہو یا اس سے بھی بڑھ کر (کسی اور حقیر چیز کی) سو جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ تو یقین رکھتے ہیں کہ یہ (مثال بالکل) ٹھیک ہے (اور یہ بھی يقين ركھتے ہیں کہ) ان كے پروردگار کی طرف سے ہے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس (ذلیل) مثال کے بیان کرنے میں خدا کی کون سی غرض (اٹکی پڑی) تھی، ایسی ہی مثال سے خدا بہتیروں کو گمراہ کرتا ہے اور ایسی ہی مثال سے بہتریوں کو ہدایت دیتا ہے لیکن اس سے گمراہ کرتا (بھی) ہے (تو) بدکاروں کو جو پکا کیے پیچھے خدا کا عہد توڑ دیتے ہیں اور جن (تعلقات) کے جوڑے رکھنے کو خدا نے فرمایا ان کو قطع کرتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ (آخر کار) نقصان اُٹھائیں گے۔

لَا يَسْتَحْيي (نہیں جھینپتا، نہیں شرماتا)

عرب کے خانہ ساز الٰہ اور اصنام کی بے بسی اور بے کسی کا نقشہ کھینچتے ہوئے حق تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُواذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿الحج: ٧٣﴾

''خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو (وہ تو) ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کر سکتے، اگرچہ اس کے لئے وہ سب کے سب اکٹھے (ہی کیوں نہ) ہو جائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو اس کو اس سے چھڑا (بھی) نہیں سکتے (کیسے) بودے یہ (بت) ہیں جو (مکھی کے) پیچھے بھاگیں (اور اس کو پکڑ نہ سکیں) اور (کیسی) بودی (بے چاری مکھی) جس کا پیچھا کیا جائے (اور پھر بھی ہاتھ نہ آئے)''

دوسری جگہ بتایا کہ ان کی مثال تارِ عنکبوت (مکڑی کے جالے) کی ہے    ۔ ﴿ مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا... ﴿العنكبوت: ٤١﴾

یہ بات، پتے کی بات تھی اور نہایت معنی خیز بھی، اگر وہ دیانت داری کے ساتھ سوچتے تو ہوش میں آنے کے لئے کافی تھی، لیکن ناس ہو ہٹ دھرمی، اوہام پرستی اور کج بینی کا کہ اور ہی الٹے چلے کہنے لگے کہ: مسلمانوں کا خدا بس مکھیاں ہی مارتا ہے، خدا کو خدا ہو کر مکھیوں مچھروں کی ہی مثالیں سوجھتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا: اس میں شرمانے کی کون سی بات ہے، اگر میری نسبت سے دیکھو تو پھر بھی بجا ہے، کیونکہ میرے لیے جب ان کو پیدا کرنا برا نہیں تو ان کا نام لینا کیوں برا ہو گا؟ مگر باطل معبودوں کو سامنے رکھا جائے تو بھی ان کی بے بسی اور بے کسی کے اظہار کے لئے اِس سے بہتر اور معنی خیز طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ نیز فرمایا، آپ تو مچھروں کی مثال پر سیخ پا ہو رہے ہیں اگر اس سے بھی کسی کمزور تر شے کا ذِکر کر دیا جائے تو بھی بے محل نہ ہو گا بلکہ اس سے بتوں کی صحیح پوزیشن اور صورت حال کے سمجھنے کے لئے اور مدد ملے گی۔ (فَمَا فَوْقَھَا)

فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ (تو وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک اور حق ہے) حق تعالیٰ کے سلسلے میں قلبی طمانیت، خشوع و خضوع اور تسلیم و رضا شرط ایمان ہے اور صرف وہی ایمان رنگ اور برگ و بار لاتا ہے جو مندرجہ بالا اقدار کی اساس پر قائم ہوتا ہے، اس لئے بندۂ مومن کے سامنے جب حق تعالیٰ کی بات آجاتی ہے تو وہ سچی پیاس کے ساتھ اس کی طرف لپک پڑتا ہے فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ میں اسی عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم نے 'مسلم' کی اس کیفیت کو مختلف انداز میں ذکر کیا ہے۔

خشوع و خضوع اور بڑھ جاتا ہے:

 ﴿إِذا يُتلىٰ عَلَيهِم يَخِرّونَ لِلأَذقانِ سُجَّدًا ﴿الاسراء:١٠٧﴾وَيَقولونَ سُبحـٰنَ رَبِّنا إِن كانَ وَعدُ رَبِّنا لَمَفعولًا ﴿الاسراء:١٠٨﴾وَيَخِرّونَ لِلأَذقانِ يَبكونَ وَيَزيدُهُم خُشوعًا  ﴿  الاسراء:١٠٩

جب ان کے روبرو (قرآنی آیات کی) تلاوت کی جاتی ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے۔ واقعی ہمارے رب کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا اور ٹھوڑیوں کے بل گِر پڑتے ہیں (سجدے میں) روتے (جاتے) ہیں اور قرآن کی وجہ سے ان کی عاجزی (اور) زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس میں کتنا سوز ہے۔ تسلیم و رضا کی کیا کیفیت ہے اور رب کے حضور کس قدر والہانہ انداز میں وہ تڑپتے ہیں؟ آپ کے سامنے ہے۔

شدید مزاحمت کے باوجود:

نفس و طاغوت کی شدید مزاحمت کے باوجود، ایمان ان کا گھٹتا نہیں اور بڑھتا ہے۔

﴿وَما جَعَلنا عِدَّتَهُم إِلّا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا لِيَستَيقِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ وَيَزدادَ الَّذينَ ءامَنوا إيمـٰنًا ... المدثر:٣١

''اور ان کی گنتی (بھی) اس غرض سے ٹھہرائی ہے کہ جو لوگ منکر ہیں ان کو اور زیادہ پریشانی ہو (اور) تاکہ اہل کتاب یقین کر لیں اور جو مسلمان ہیں، ان کا ایمان اور زیادہ ہو۔''

ذکر تھا کہ دوزخ پر 19 فرشتے تعینات ہیں، کیوں؟ کچھ خبر نہیں، بس اس پر منکر تو انکار میں اور تیز ہو گئے اور جو مسلمان تھے، ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ اپنا اپنا ظرف اور اپنا اپنا نصیب۔

ان کی عید ہو جاتی ہے:

نزولِ وحی بارانِ رحمت ہے، مگر جو سمجھے چنانچہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو مسلمانوں کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور ان کے لئے وہ دن یومِ عید ہو جاتا۔ یومِ غم وہ مناتے ہیں جو بد عملی میں مگن، جو سیر الی اللہ میں مصروف رہتے ہیں وہ تو چشم براہ رہتے ہیں کہ رب کا سندیسہ پھر کب آئے گا؟

﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوافَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿التوبة: ١٢٤﴾
''اور جس وقت کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگتے ہیں کہ بھلا اس (سورت) نے تم میں سے کسی کا ایمان بڑھا دیا؟ سنیے جو مومن ہیں، اس نے ان کا ایمان بڑھایا اور وہ خوشیاں مناتے ہیں۔''

پکے اور سچے مسلمان


 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْإِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿الأنفال: ٢﴾اَلَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ.﴿ الأنفال:٣﴾ اُوْلٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ...٤

(سچے) مسلمان تو بس وہی ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب آیاتِ الٰہی ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو اور بھی زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ بہرحال میں اب اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں، جو نماز پڑھتے ہیں اور اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو روزی د ہے۔ یہی پکے اور سچے مومن ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ آیاتِ الٰہی سن کر جن کا ایمان تازہ اور زیادہ ہوتا ہے، وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ پر غیر متزلزل یقین اور اعتماد رکھتے ہیں، نمازیں قائم کرتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ میں پیش پیش رہتے ہیں۔

خطرات میں اور نکھرتے ہیں:

سب سے کٹھن منزل میدانِ کار زار ہے، جب یہ پیش آجاتی تو حرارت ایمانی اور دو آتشہ ہو جاتی اور اپنے آپ کو پورا پورا خدا کے حوالے کر دیتے۔ چنانچہ جب غزوۂ احزاب پیش آیا تو کہا۔

﴿ وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا ﴿الأحزاب: ٢٢﴾

اور جب سچے مسلمانوں نے فوجیں دیکھیں، (تو) بولے، یہ تو وہی (موقع) ہے جو خدا اور اس کے رسول نے ہمیں پہلے بتا رکھا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور تسلیم و رضا کی کیفیت اور زیادہ ہو گئی۔

﴿هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ...﴿الفتح: ٤﴾

وہ (خدا) ہی تو تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت نازل فرمائی تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ اور ایمان زیادہ ہو۔

اگر دشمن ان کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لئے کوئی کوشش کرتے تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا اور اللہ پر پہلے سے زیادہ بھروسہ کرنے لگتے۔

﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ﴿آل عمران: ١٧٣﴾

(یہ) وه لوگ (ہیں) جن کو لوگوں نے (آکر) خبر دی کہ (مخالف) لوگوں نے تمہارے (ساتھ لڑنے کے) لئے (فوج کی) بڑی بھیڑ جمع کی ہے۔ (ذرہ) ان سے ڈرتے رہنا تو (ڈرنے کے بجائے) ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور بول اُٹھے کہ ہم کو اللہ کافی ہے۔

اصل قصہ یہ ہے کہ: جب مشکل گھڑی پیش آجاتی ہے تو عموماً وہی ہستی یاد آتی ہے جس سے حسنِ ظن، پیار اور جس پر پورا پورا اعتماد ہوتا ہے۔ جیسے بچہ ڈر کے موقع پر جب پناہ ڈھونڈتا ہے، تو ماں ہی کی پناہ لیتا اور آغوش رحمت ڈھونڈتا ہے۔ چونکہ سب سے زیادہ ان کو خداوند تعالیٰ سے تعلق تھا اس لئے جب ڈرانے دھمکانے کی باتیں ہوتیں تو وہ اپنے خدا کی طرف لپکتے تھے۔

وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (ہاں جو منکر ہیں) ہر وہ آیت جو نازل ہوتی، اس کا وہ انکار کرتے، اس لئے یکے بعد دیگرے انکار کی وجہ سے ان کے کفر و طغیان میں اضافہ ہی ہوتا رہتا تھا۔ قرآن حکیم نے ان کی اسی کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے۔

کفر و طغیان:

﴿ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا...المائدة: ٦٨﴾
(تو یہ قرآن) جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کے زیادہ ہونے کا ضرور باعث ہو ا۔

نفرت:

 ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـٰذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا ﴿الإسراء: ٤١﴾

اور ہم نے اس قرآن میں (لوگوں کو) طرح طرح سے سمجھایا تاکہ یہ لوگ (کسی طرح سمجھیں، مگر اس سے ان کی نفرت ہی بڑھی۔

بڑی سرکشی:

 ﴿وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا﴿الإسراء: ٦٠﴾

اور ہم ان کو (طرح طرح سے) ڈراتے ہیں لیکن ہمارا ڈرانا اس کی سرکشی کو اور زیادہ کرتا ہے۔

قرآن کے ساتھ ان کا معاملہ:

جب کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ جیسی کچھ حرکتیں کرتے، نہایت عامیانہ ہوتیں مثلاً کہتے: مَاذَا اَرَادَ اللهُ بِهذَا مَثَلًا (پ۲۹. المدثر ع۱)

ایسی مثال بیان کرنے میں خدا کی کون سی غرض (اٹکی پڑی) تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 ﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُوا صَرَفَ اللَّـهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴿التوبة: ١٢٧﴾

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے، ان میں سے ایک کی طرف ایک دیکھنے لگتا ہے پھر (یہ کہہ کر کہ) کہیں تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں! (اُٹھ کر) چل دیتے ہیں۔ (یہ لوگ پیغمبر ﷺ کی مجلس سے کیا پھرے) اللہ نے ان کے دلوں کو (دینِ حق سے) پھیر دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کو مطلق سمجھ نہیں۔

 وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـٰذَا أَوْبَدِّلْهُ ...يونس: ١٥﴾

جب ہمارے واضح احکام ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملاقات کی امید نہیں وہ فرمائش کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسی میں (کچھ) رد و بدل کر دو۔

 ﴿فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿المدثر: ٤٩﴾ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ ﴿المدثر: ٥٠﴾ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ ﴿المدثر: ٥١﴾ بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ﴿المدثر: ٥٢﴾

ان لوگوں کو کیا (بلا مار گئی) ہے کہ نصیحت (قرآن) سے (اس طرح) رو گردانی کرتے ہیں گویا کہ وہ (جنگلی) گدھے ہیں (اور) شیر (کی صورت) سے بدک بھاگتے ہیں بلکہ ان کے تو یہ ارادے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص کو (قرآن کے بجائے) کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔

﴿يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿الأنعام: ٢٥﴾

منکرِ قرآن کہتے ہیں کہ قرآن (میں رکھا ہی کیا ہے اس میں) تو صرف اگلوں کی کہانیاں اور قصے ہیں۔

﴿ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ...الأنعام: ٢٦﴾

اور یہ لوگ قرآن (کے سننے) سے دوسروں کو روکتے ہیں اور (آپ بھی) اس سے بھاگتے ہیں۔

منکرینِ حق کی یہ سرکشی اور چالیں ہیں، جن کی پاداش میں ان کے دل کا کوڑھ بڑھتا ہی گیا ہے۔

﴿ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ﴿التوبة: ١٢٥﴾

اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے تو اس (سورت) نے ان کی (پچھلی) خباثت پر ایک خباثت اور بڑھائی اور یہ لوگ کفر کی حالت میں مر گئے۔

انسان کی جیسی کچھ فطرت ہوتی ہے، مختلف لمحات میں عموماً وہی ترقی کرتی ہے، اچھی ہے تو اچھی، بد ہے و بد۔ اس سے مراد وہ عادات نہیں جو غلط ماحول کی وجہ سے بن جاتی ہیں، کیونکہ حالات کے بدل جانے سے وہ بدل جاتی ہیں بلکہ یہاں اس سے مراد خلقی مزاج اور افتاد طبع ہے جو خاص حالات میں بالخصوص کروٹ لیتی ہے جیسے یہاں۔

یُضِلّ بِه كَثِيْرًا (اس كے ذیعے خدا بہتوں کو گمراہ کرتا ہے) اس میں زاویۂ نگاہ کے نتائج کا بیان ہے۔ ایک شخص صحیح بات سے اتفاق کر کے پھل پاتا ہے، دوسرا اسی بات کا الٹا کر کے نقصان اُٹھاتا ہے۔ بس قرآن نے اس کو یُضِلُّ بِه كَثِيْرًا وَّيَھْدِيْ بِه كَثِيْرًا فرما كر بيان كيا ہے۔ حق تعالیٰ ضلالت کو پسند نہیں کرتا اس لئے وہ از خود کسی پر اس کو مسلط نہیں کرتا بلکہ گمراہی اور ضلالت کی نشاندہی فرما کر اس سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے اور مزید کرم یہ کیا ہے، سمجھانے کو انبیاء بھیجے ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی شخص انہی غلط راہوں پر دوڑنے کو ترجیح دیتا ہے تو پھر وہ جانے، ضلالت اس لئے فرمایا: اس سے صرف فاسق لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ قرآن کی رو سے لوگوں کی گمراہی کے ساماں یوں بنتے ہیں۔

بہانے بازی:

يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًالِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّـهُر...التوبة: ٣٧﴾

جس کی وجہ سے منکر (راہِ حق سے) گمراہ ہوتے رہتے ہیں، ایک سال ایک مہینہ کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور اسی کو دوسرے سال حرام کر لیتے ہیں (اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ) اللہ نے جو (چار مہینے) حرام کیے ہیں (اپنی گنتی سے) اس گنتی کو مطابق کر کے، اللہ کے حرام کیے ہوئے (مہینوں کو حلال کر لیں۔)

ایسی سبیل اور سکیم گھڑ لینی کہ اس کے بعد حکم خداوندی سے پیچھا چھڑانا آسان ہو جائے، بہت بڑی بد دیانتی ہے گویا کہ وہ اپنے سامنے سے حق کا دروازہ خود بند کرتے ہیں۔

اہل اسراف اور اہل شک:

جو لوگ اسراف پسند ہیں اور ؎ بابر بہ عیش کہ عالم دوبارہ نیست کا نعرہ لگاتے ہیں اور حق تعالیٰ کی باتوں میں شکوک و شبہات کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ وہ بھی گمراہ رہتے ہیں۔

﴿كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّـهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌمُّرْتَابٌ ﴿غافر: ٣٤﴾

داعی حق کے مخالف:

جو لوگ ان بزرگوں کی مخالفت کرتے ہیں جو حق کے داعی کہلاتے ہیں۔ ضلالت ان کے لئے مقدر ہو جاتی ہے۔

﴿ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿الأحقاف: ٣٢﴾

جو خدا کی طرف سے منادی کرتے ہیں، جو کوئی ان کی بات نہ مانے گا وہ روئے زمین پر خدا کو عاجز نہیں کر سکے گا۔ اور نہ خدا کے سوا (کوئی) اس کے حمایتی ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (پڑے) ہیں۔

شیطان کے رفیقِ سفر:

جو شیطان، سرکش، خدا کے نافرمانوں کے رفیقِ سفر ہوتے ہیں وہ گمراہی میں پڑ کر ہی رہتے ہیں۔

 ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ ﴿الحج: ٣﴾
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بے جانے بوجھے خدا کے بارے میں جھگڑتے اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، جس کی نسبت (خدا کے ہاں سے) یہ (حکم) لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کی رفاقت کرے گا، وہ اس کو گمراہ کرے گا۔

جمہور کا اتباع:

اکثریت عوام کی ہوتی ہے، اور عوام کالانعام ہوتے ہیں۔ ان کی خدمت تو کی جا سکتی ہے لیکن ان سے رہنمائی حاصل نہیں کی جا سکتی، جو لوگ ان کی خواہشات کی حمایت کا دم بھرتے ہیں وہ بھٹک کر ہی رہتے ہیں جیسا کہ آج کل مغربی جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے۔

 ﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ...الأنعام: ١١٦﴾

(اے پیغمبر!) اکثر لوگ تو دنیا میں ایسے ہیں کہ اگر ان کے کہنے پر چلو تو تم کو راہِ خدا سے بھٹکا کر چھوڑیں۔

دنیا جس قدر خدا سے دور 'جمہوری دور' میں ہوئی ہے، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اصل اور سچے خدا کے مقابلے میں 'ارباب متفرقون' نے لے لی ہے۔ صدق اللہ ورسوله. فاعتبروا يا اولي الابصار.

بے انصاف لوگ:

﴿وَيُضِلُّ اللهُ الظّٰلِمِينَ﴾ (پ۱۳. ابراہیم. ع۴)

اللہ بے انصاف لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔

گمراہ کرنا ایک محاورہ ہے، یعنی ان کے لئے اس غلط روی کے نتائج مرتب فرماتا ہے۔

خواہشِ نفس کا اتباع:

نفس امارہ کا اتباع ضلالت کا بنیادی پتھر ہے اس لئے اس سے بچیے! ورنہ وہ گمراہ کر دے گا۔

﴿ وَلَا تَتَّبِعِالْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ...ص: ٢٦﴾

خواہشِ نفس کا اتباع مت کیجئے! (ورنہ) وہ آپ کو راہِ حق سے بھٹکا دے گا۔

جھوٹا ناشکرا:

جھوٹے اور ناشکرے بھی راہِ راست سے محروم رہتے ہیں۔

َ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ﴿الزمر: ٣﴾

جو جھوٹا اور ناشکرا ہو، اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا۔

﴿ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ﴿غافر: ٢٨﴾

خائن:

خائن بھی ضلالت سے نہیں بچ سکتے۔

﴿ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ﴿يوسف: ٥٢﴾

اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی تدبیروں کو چلنے نہیں دیتا۔

دین کو مشکل سمجھنا:

دین سے تعلق نہ ہو تو اس کا ہر حکم مشکل محسوس ہوتا ہے جو سرتاپا ضلالت کی نشانی ہے اس آیت میں ان کی اسی کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے۔

﴿وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ...الأنعام: ١٢٥﴾

اور وہ جس شخص کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، اس کے سینے کو (دین حق کے بارے میں) تنگ اور بھچا ہوا کر دیتا ہے گویا اس کو آسمان میں چڑھنا پڑتا ہے۔

یہ بیماری جس قدر مہلک ہے اس قدر عام بھی ہے۔

حق کی راہ مارنا:

جو حق کی راہ مارتے ہیں یعنی نہ خود چلتے ہیں، نہ کسی کو چلنے دیتے ہیں، وہ بہت ہی دور نکل جاتے ہیں۔

﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿النساء: ١٦٧﴾

بے شک جنہوں نے (حق کا) انکار کیا اور راہِ خدا سے روکا، وہ بڑی دور بھٹک گئے۔

شرک:

شرک، تمام ضلالتوں کا ابو الاباء گناہ ہے، اس لئے فرمایا۔

﴿وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿النساء: ١١٦﴾

جس نے اللہ کے ساتھ شریک گردانا وہ (بڑی) دور بھٹک گیا۔

برا نمونہ دکھانا:

برا نمونہ پیش کرنا، جسے دوسرا بھی دیکھ کر اختیار کر سکے، ضلالت کی بات ہے۔

وَجَعَلَ لِلَّـهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ...الزمر: ٨﴾

خدا كے شريك بنا چلتا ہے کہ (اپنا برا نمونہ دکھا کر دوسروں کو بھی) خدا کی راہ سے گمراہ کرے۔

ضلالت کی نشان دہی کیے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔

م وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ... التوبة:١١٥

اللہ کی شان سے بعید ہے کہ ایک قوم کو ہدایت دے کر گمراہ کر دے تاوقتیکہ ان کو وہ چیزیں نہ بتا دے جن سے ان کو بچنا چاہئے۔

ہدایت

اسی طرح ہدایت بھی خاندانی وراثت نہیں ہے اور نہ جنس بازار ہے کہ کسی سے جا کر کوئی اسے خرید لائے گا، اس کے لئے بھی کچھ آداب، شرائط اور اصول ہیں، چند ایک یہ ہیں:

رضائے الٰہی کے طلبگار:

جو خدا کی رضا چاہتے ہیں ان کو ہدایت دیتا ہے۔

﴿ يَهْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ... المائده:١٦

جو لوگ خدا کی رضا کے طلب گار ہیں، اللہ ان کو (سلامتی کے) رستے دکھاتا ہے۔

قرآن ذریعہ ہدایت ہے:

اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ...الزمر: ٢٣﴾

اللہ نے بہت ہی اچھا کلام (یعنی یہ) کتاب اتاری (جس کی باتیں ایک دوسری سے) ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی گئی ہیں۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس کے سننے سے ان کے بدن کانپ اُٹھتے ہیں پھر ان کے جسم اور دل گرم ہو کر یادِ الٰہی کی طرف راغب ہوتے ہیں یہ (قرآن) ہدایت الٰہی ہے، جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔

یعنی ہدایت کا ذریعہ قرآن ہے۔ مگر یہ ان کے لئے جو رب سے ڈرتے ہیں اور کلامِ الٰہی سنتے ہی جلالِ الٰہی سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

جس کا دھیان رب کی طرف رہتا ہے:

جو سدا رب کی طرف رجوع رہتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے۔

﴿وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ﴿الرعد: ٢٧﴾

اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے، وہ اس کو اپنی طرف سے رستہ دکھاتا ہے۔

اس کی نشانی یہ بتائی:

الَّذينَ ءامَنوا وَتَطمَئِنُّ قُلوبُهُم بِذِكرِ اللَّـهِ ۗ... الرعد:٢٨

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو خدا کی یاد سے تسلی ہوتی ہے۔

اسلام کے لئے انشراح:

ہدایت اس کو ملتی ہے جس کا سینہ اسلام کے لئے کھلا ہوتا ہے جو اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس کرتے ہیں۔

فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ... الانعام:١٢٥ 

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ اسے راہِ راست دکھائے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔

ایمان و عمل:

ایمان اور عمل صالح، حصول ہدایت کے لئے بنیادی شے ہے۔

﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم ... يونس:٩

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کا رب ان کو ہدایت دیتا ہے۔

انبیاء کے نقشِ قدم پر چلنا:

 ﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدىٰهُمُ اقتَدِه...الانعام:٩٠

یہ (اگلے پیغمبر!) وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے راہِ راست دکھائی۔ انہی کے طریقے کی (تم بھی) پیروی کرو۔

الذین (جو لوگ) فاسق اس کو کہتے ہیں جو حد سے نکل جائے، یہاں پر اس کی چند علامات بیان فرمائی ہیں۔

عہد توڑنا:

کلمہ پڑھنے کے بعد، کلمہ پر پورا نہ اترنا بلکہ بڑی بے رحمی سے اس کی دھجیاں بکھیر دینا۔ اللہ کے عہد کو توڑنا ہے۔ گویا کہ، پہلے ہی پرچے میں وہ فیل ہو گیا ہے۔ یہ فاسق کی پہلی نشانی ہے کہ کلمہ شریف اور اس کی زندگی کے مابین قابل ذکر کوئی مناسبت نظر نہ آئے۔ یومِ ازل کا عہد ''اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ'' یا وہ اسلامی معاہدات جو کبھی کیے گئے، ان سب کی خلاف ورزی بھی اسی کے تحت آجاتی ہے۔

قطع علائق:

حق تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، ان کی پروا نہ کرنا۔ وہ تعلقات سیاسی ہوں یا رحمی، معاشرتی ہوں یا دینی، ان کا احترام نہ کرنا، یا کماحقہ ان کو نبھانے میں کوتاہی کرنا يَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَ اللهُ بِه كے تحت آجاتے ہیں۔ یعنی فاسق کے یارانے ہی عجیب ہوتے ہیں، جن سے مناسب ہیں ان کی پرواہ نہیں کرتے اور جن سے پرہیز چاہیے، ان میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تخریب:

فساد فی الارض، ان کی زندگی کا عنوان اور معیار ہوتا ہے۔ عموماً ان کے کام تخریبی ہوتے ہیں۔ روحانی اعتبار سے بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی۔ لوگوں کو ان سے نفع کم نقصان زیادہ پہنچتا ہے۔ فاسق کی یہ تیسری علامت ہے۔ خدا کے معاملے میں غیر محتاط، بندگان خدا کے سلسلے میں حد درجہ مسرف اور دھرتی کے لئے اس کا وجود، زمین پر بوجھ۔ یہ تین عناسر ہوں تو بنتا ہے فساق۔

دوسرے مقام پر فرمایا: جو منافق ہیں، اصلی فاسق ہیں۔ ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿التوبة: ٦٧﴾

یہ فساق اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ عصمت مآب خواتین کے سلسلے کی باتوں میں پڑے رہتے ہیں اور ان پر تہمتیں لگاتے رہتے ہیں، پھر اس پر کوئی شہادت پیش نہیں کرتے۔

﴿ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿النور: ٤﴾ یہی لوگ فاسق ہیں۔

جو غیر فطری بدکاری کرتے ہیں وہ فاسق ہیں:﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سُوْءٍ فٰسِقِينَ ﴾(پ۱۷. الانبیاء. ع۵)

فرعون اور اس کی قوم، فاسق قوم تھی: ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِينَ ﴾(پ۱۹. النحل. ع۱)

خدا فراموش فاسق ہیں:

﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ نَسُوا اللَّـهَ فَأَنسىٰهُم أَنفُسَهُم ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿ الحشر:١٩

ان لوگوں جیسے نہ بنو جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کی ایسی مت ماری کہ اپنے آپ کو بھی بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں۔

جن کو آباؤ اجداد، آل اولاد، بھائی بند، میاں بیوی، کنبہ، مال متاع، کاروبار اور مکانات، اللہ اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ عزیز ہیں، وہ بھی فاسق ہیں (پٍ۱۰. توبہ. ع۳)

یہ سب جزئیات ہیں جو انہی تین عناصر سے ماخوذ ہیں جو اوپر کی سطور میں بیان کی گئی ہیں۔

ان کے متعلق قرآن کا اعلان ہے کہ:

 ﴿أُولَـٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ﴿الرعد: ٢٥﴾

یہی لوگ ہیں جن پر (خدا کی) لعنت ہے اور برا ٹھکانا ہے۔

اگر اس قماش کے لوگ کوئی بات سنائیں تو ان پر اعتبار نہ کیجئے! پہلے چھان پھٹک کر لیجئے پھر کوئی قدم اُٹھائیے۔

﴿اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاءٍ فَتَبَيَّنُوْا ﴾(پ۲۶. حجرات. ع۱)

اگر كوئی فاسق (بد ذات) تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح (اس کو) تحقیق کر لیا کرو۔