پاکستان کی قومی اسمبلی کی نمائندہ کمیٹی کا 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ اور دونوں ایوانوں کی 'مہر تصدیق' پاکستانی قوم بلکہ کل عالمِ اسلام کے لئے ایک عظیم 'نوید مسرت' تھی جس پر حکومت پاکستان اور عوامی رہنماؤں کو دل کھول کر 'دادِ تحسین' بھی ملی۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس اعلان سے سیاسی سطح پر 'حزبِ اقتدار' کی کافی عرصہ سے گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا ملا تو غلط نہ ہو گا لیکن۔۔۔۔ گھٹا اُٹھے، بادل آئیں، بجلی کوندے اور شور مچے کہ' چھماچھم بارش برسی، اور باہر جھانک کر دیکھا تو: زمین کے کسی گوشے میں کوئی نمی نظر نہیں آتی، بوند تک دکھائی نہیں دیتی اور جو باہر سے آئے ان میں سے کسی کے تن اور کپڑے پر مینہ کا کوئی قطرہ نہ پڑا، پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ: ہم نے بھی سنا ہے کہ بارش ہوئی ہے، بلکہ ہو رہی ہے، لیکن ہم حیران تھے کہ، شاید ہمارے حواس کو کچھ ہو گیا ہے یا کہنے والے بہک رہے ہیں، یہاں آکر ہمیں بھی پتہ چلا کہ آپ اسی مخمصہ میں پڑے سوچ رہے ہیں۔

بالکل اسی طرح ہمارا بھی حال ہے، سنتے ہیں کہ، قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے، لیکن ملک میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ربوہ میں ان کی ریاست ویسے ہی قائم ہےجیسے کبھی تھی۔ کلیدی اسامیوں پر ان کا ویسے ہی تسلط ہے جیسے پہلے تھا، ہماری عبادت گاہوں کے نام پر وہ ویسے ہی اپنی عبارت گاہوں کے نام رکھتے ہیں جیسے رکھتے تھے، ان کے اوقاف اسی طرح محفوظ ہیں جیسے ہوتے تھے، بیرون ملک مختلف طاقتوں سے جیسے پہلے اندرون ملک مداخلت کرنے کے لئے سازش کیا کرتے تھے ویسے اب بھی کر رہے ہیں، الغرض: ان سے کوئی پوچھے کہ: جناب! قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے، وہ غیر مسلم اقلیت کیا شے ہوتی ہے، کہاں رہتی ہے۔ اُس کے خارج میں کیا نشان اور علامات ہیں، ان کو کیسے پہچانا جاتا ہے، ہم اسے پہچاننا چاہیں تو کیسے پہچانیں! ہمارے خیال میں، بجز اس کے کہ: وہ مسکرا دیں اور کیا جواب دے سکیں گے! یوں محسوس ہوتا ہے کہ: جب تک اس کے لئے بھی کوئی سیاسی داعیہ پیدا نہیں ہو گا، اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو گا پیپلز پارٹی اور اس کے رہنما کوئی کام کریں یا مطالبہ مانیں اور پھر اس کے عوض، قوم سے کچھ سیاسی خراج بھی وصول نہ کریں۔ ؎
ایں خیال است و محال است و جنوں

بکری دودھ دیتی ہے پر مینگنیاں ڈال کر، وہی کچھ اب اس سلسلے میں ہو رہا ہے۔ کوئی صاحب ان سے کہے کہ: بھئی اگر کام کرنا ہے تو سیدھے طریقے سے کرو اور کرنے کی طرح کرو، نخرے کیوں کرتے ہو؟ اگر نیک نیتی سے کہا ہے تو اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا، اور یہی اللہ سے دعا ہے کہ اس کے عوض آپ کو اتنا دے کہ: آپ کو اس تاریخی فیصلہ کے کاروبار کی حاجت ہی نہ رہے۔ یقین کیجئے! وہ ایسا ہی کرتا ہے، بشرطیکہ آپ بھی اپنے کو اس کا اہل ثابت کر دیں۔

شیعہ کا نصاب۔ الگ قرار دے دیا گیا

ملکی آئین اور دستور میں ان اسلامی قوانین اور دستور کی ضمانت دی گئی ہے، کتاب و سنت جن کی متقاضی ہے، باقی رہے، مختلف مکاتب فکر کے اپنے اپنے دائرے؟ سو ان کو اس حد تک اپنانے اور زندہ رکھنے کی کھلی چھٹی ہو گی جس حد تک وہ مملکت کے مقررہ آئین اور قوانین سے متصادم نہیں ہو گی۔ گویا کہ صرف ملکی آئین اور قانون کو سرکاری حیثیت ہو گی، باقی جو بھی ہوں گے، وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں، ملک میں ان سب کی حیثیت نجی اور پرائیویٹ معاملے کی ہو گی اور ہونی چاہئے! کیونکہ ملکی آئین میں 'کتاب و سنت' کو اساس قرار دیا گیا ہے، کسی ایک یا کئی ایک مکاتبِ فکر کو نہیں۔ اگر اربابِ اقتدار ملک کی کسی ایک جماعت کے نجی مفاد کو سرکاری حیثیت دے کر مملکت پر اس کی سرپرستی اور ذمہ داری کا بوجھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ہمارے نزدیک مکمل آئین کی رُو سے وہ ایسا کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، اس کے علاوہ یہ سوال پیدا ہو گا کہ ملک میں دوسری موجود جماعتوں کو کیوں نظر انداز کیا جائے؟

ان گزارشات کی ضرورت اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ شیعہ حضرات جن کو ملک میں یقیناً کوئی خطرہ نہیں تھا وہ طویل عرصہ سے اصرار کر رہے تھے کہ سرکاری تعلیمی درسگاہوں میں ان کے لئے نصابِ تعلیم الگ تشخص کیا جائے جو وہ خود دیں۔ اب حکومت نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے جو آئندہ ہائی کلاسز سے شروع ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ سوچتے ہوں کہ چونکہ مسٹر بھٹو کا تعلق شیعہ خاندان سے ہے اس لئے یار دوستوں نے ان کی دلجوئی کرنا ضروری خیال کیا ہو، لیکن ابھی تک ہم نے اس انداز سے نہیں سوچا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ہم جو سوچ رہے ہیں کہ، چونکہ حکومت 'چاند' تک اپنی کمندیں محض اس لئے ڈال رہی ہے کہ کسی طرح ملک میں عید ایک ہوتا کہ ملتِ اسلامیہ کی وحدت موجود اور مشہود ہو سکے، خدا جانے ان کا تو سنِ ادراک یہاں آکر کیوں لنگڑانے لگ گیا ہے اور ان کو یہ کیوں خیال نہیں آیا کہ اس طرح ہر مکتب فکر اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور اس کے بعد ان کو اس کا حق حاصل ہو گا۔ اگر یہ لے بڑھی تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اور یہ وحدت کس بری طرح 'اجزاء پریشان' کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب جو کچھ ہو، اسلام کی بنیاد پر ہو کیونکہ دنیا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بغیر دوسرے تمام نجی افکار اور مذاہب پر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کے موڈ میں نہیں رہی۔ اگر آپ نے زبردستی ان کا بوجھ اس کے کندھے پر ڈالنے کا اصرار جاری رکھا تو ہو سکتا ہے کہ: لوگ سرے سے اسلام سے ہی منحرف ہو جائیں۔ کیونکہ غیر سرکاری افکار اور مساعی، تعلیم دین کی حد تک تو مبارک ہو سکتی ہیں، لیکن بجائے خود 'دین حق' نہیں کہلا سکتیں۔ اِس لئے ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ تاکہ انتشار کی طاغوتی قوتیں کروٹ نہ لے سکیں اور ناحق مسٹر بھٹو کی ذات بھی موضوع بحث بننے سے بچ جائے۔ ہمارے نزدیک ہماری یہ گزارشات ملکی آئین کی روح سے عین مطابقت رکھتی ہیں، اس لئے ہمارا نہ سہی ملکی آئین کا ہی احترام انتشار اور افتراق کا ایک ایسا بیج بو دیا ہے جس کے مہلک نتائج شاید یہ 'خواہ سراء' اب احساس نہ کر سکیں بہرحال ان کو لازماً احساس ہو گا، لیکن ؎ بعد از خرابیٔ بسیار