موجودہ زمانے کو سائنس کا زمانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس صدی میں سائنس کے جو حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ان سے حضرت انسان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی ہیں۔ سائنس کی یہ ترقی ذہین اور زرخیز دماغوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ لوگ علم و دانش میں اپنی مثال آپ تھے لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کی جانے والی یہ کوششیں ایک دن انسانیت کے لئے وبال جان بھی بن جائیں گی۔ یہ حقیقت کتنی تکلیف دہ ہے کہ سائنس انسانیت کے لئے موجبِ رحمت بننے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے ہلاکت کا سامان بھی لے کر آئی ہے۔ نوکلیر Nuclear سائنس کی بے پناہ ترقی انسانیت کے لئے ایک مہلک خطرہ بن چکی ہے ایٹمی توانائی (Atomic Energy) تعمیری کاموں کی بجائے زیادہ تر تخریبی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ سائنسدان تجربہ گاہوں میں بیٹھے جہاں انسانی دکھوں کا مداوا تلاش کر رہے ہیں وہاں وہ اسے اذیت ناک موت سے دو چار کرنے کے سامان بھی تیار کر رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے زندگی کو جتنا حسین، سبک اور خوشگوار بنانے کی کوشش کی ہے وہ اتنی ہی یژ مردہ اور مضمحل ہوتی چلی گئی ہے۔ جسم کے خدوخال یقیناً تیکھے اور دلکش نظر آنے لگے ہیں لیکن روح زخموں کی تاب نہ لا کر بلبلا اُٹھی ہے۔ فاصلے سمٹتے اور دل دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ انسانی شخصیت کا شیرازہ بکھرتا چلا جا رہا ہے۔ عقل کی بھول بھلیاں میں بھٹک کر انسان خود سراغِ گم گشتہ بن گیا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب ہمارا مادہ پرستانہ نظریہ حیات ہے۔ مادہ پرستی نے انسان کو دولت تو بخش دی لیکن دولت کی یہ فراوانی روح کی آسودگی نہیں دے سکی۔ وہ مادیت کی دلدل میں پھنس کر روح کی آسودگی کو ترس رہا ہے اور اگر روح آسودہ نہ ہو تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ زندگی کی الجھنوں نے دماغ کو شل کر کے رکھ دیا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے ذہنوں میں فکری انتشار اور ذہنی پریشانیوں کے اژدہے لئے ہوئے ہیں۔ ان اژدھوں کی پھینکاریں کاروبارِ حیات کو درہم برہم کیے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانی ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے والا ہے۔

اگر ہم حقائق کی نظر سے دیکھیں تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ انسانی روح جس خلفشار اور کرب میں مبتلا ہے اس کا مداوا سوائے مذہب کے اور کسی کے پاس نہیں ہے۔ مادیت پرستی خود غرضی کو جنم دیتی ہے اور یہی خود غرضی انسان کی موجودہ ذہنی کش مکش کا باعث ہے۔ فرانس کا ملحد فلسفی رینان Renon اپنی ایک کتاب 'The History of Religions' میں خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ مادیت ایک فریب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا ہمیں لا محالہ مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر موجودہ زمانے تک کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مذہب ہی ایک ایسی فعّال قوت ہے جو انسانیت کی ترقی اور فلاح کی علمبردار ہے۔ قرآن کریم میں ایسی بیشتر اقوام کا ذکر ملتا ہے جو تہذیب و تمدن میں اپنی مثال آپ تھیں لیکن جب بھی انہوں نے اپنی عقل کو لا محدود اور اپنی بصیرت کو بڑا جان کر مذہب کی مسلمہ اہمیت سے انکار کیا تو وہ فکر و نظر کی تاریکیوں میں بھٹک کر رہ گئیں۔ اگر ہم گزشتہ اقوام کے عروج و زوال کے فکری اسباب پر غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ہر تہذیب اور معاشرے کو اپنی ابتداء سے انتہاء تک تین مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ابتدائی زمانہ۔ کمالِ عروج کا زمانہ اور اس کے بعد زوال۔ اپنے ابتدائی عروج کے زمانہ میں وہ تہذیب اس نظریے کی حامل رہی کہ یہ کائنات ایک ارادے اور ایک شعور کا کرشمہ ہوئی ہے اور ارتقاء کا عمل ایک منظم طریق سے ہو رہا ہے۔ زندگی ایک شرارہ ہے جو اس کائنات کے ربّ اور الٰہ کی طرف سے جب مادے کو ودیعت کیا جاتا ہے تو اس میں ایسی صلاحیتیں اُبھر آتی ہیں جو مادے کے اپنے خواص نہیں ہیں۔ انسان محض ایک ترقی یافتہ حیوان (Social Animal) نہیں ہے بلکہ اسے اخؒاقی حس اور خیر و شر کی تمیز کی صلاحیت عطا کر کے اسے اس کے خالق نے اپنی خلافت و نیابت کے لئے مامور کر دیا ہے۔ اب اس کا مقصد وجود ربّ کائنات اور رب الناس کی رضا کے مطابق زندگی کی تعمیر کرنا ہے اور یہ اس کے لئے پوری طرح ذمہ دار اور جواب دِہ ہے۔

اس نظریے کی رو سے وہ قوم مادے کی تسخیر اور اس کو انسانی صورتوں کے لئے استعمال کرنے کے طریقے دریافت کرتی ہے۔ وہ زندگی کی پوری وسعتوں سے آگاہ ہو کر ارتقائے حیات کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ ابتداء میں وہ قوم مذہب کو ایک عقیدے کی شکل دے دیتی ہے لیکن شاہراہِ ارتقاء پر ایک موڑ ایسا آتا ہے، جب نہ صرف مذہب کو عقیدے کے طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے بلکہ عقلی طور پر اس کی حقانیت بھی پہچانی جاتی ہے اور اس کے آخری سر چشمہ اور مصدر کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مذہب کی اس ترتیب و تشکیل میں کائنات کے نظم و ضبط میں منطقی طور پر خدا کو ایک مخصوص درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ دور اس قوم کے کمالِ عروج کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس دور میں ایمان و ایقان کی بنیادوں پر تہذیب کی عمارت اور زیادہ پختہ اور مستحکم ہو جاتی ہے۔

کائنات کے نظم و ضبط میں جب عقلی طور پر خدا کو ایک مخصوص درجہ حاصل ہو جاتا ہے تو انسان اس کی حقیقت پانے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے لیکن اس کے لئے بھی وہ عقلیت کا راستہ اختیار کر تا ہے حالانکہ حقیقت کو پانے کے لئے عقلیت کا راستہ کامیاب راستہ نہیں، مذہب ہی کا راستہ اس کے لئے موزوں ہے۔ عقلیت کا استعمال سائنس یا علم کے لئے کسی بہت بڑے خطرے کا باعث نہیں ہوتا۔ سائنس کا محل عقلیت کے فریب کی بنیاد پر بھی کھڑا رہ سکتا ہے۔ مگر مذہب میں ایسا نہیں ہو سکتا لہٰذا یہیں سے اس قوم کا فکری اور ذہنی بگاڑ شروع ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ زندگی اور کائنات کے بارے میں اس کا زاویۂ نگاہ بدلنے لگتا ہے۔ انسان اپنی عقل کو غیر محدود اور اپنے علم کو یقینی اور قطعی تصور کر لیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر کے بارے میں ابتدائی تصورات سے گریز کا رجحان شروع ہو جاتا ہے اور وہ اپنا ایک علیحدہ طرزِ زندگی (Code of Life) تصنیف کر لیتی ہے۔ اس قوم کے ذہنوں میں آہستہ آہستہ یہ نظریہ جڑ پکڑنے لگتا ہے کہ یہ کائنات اپنے پیچھے کوئی ارادہ، کوی شعور، کوئی منصوبہ اور کوئی اقتدار نہیں رکھتی۔ یہ کائنات مادے کا ایک ظہور ہے اور اس میں جو کچھ ہو رہا ہے ایک حادثے کے طور پر ہو رہا ہے۔ یہاں زندگی بھی مادے کے ایک تقاضے کی حیثیت سے خود بخود نمودار ہو گئی ہے اس زندگی نے جس طرح اور بہت سے پیکر اختیار کیے ہیں ایک پیکر وہ بھی اختیار کر لیا جس کا نام انسان پایا۔ انسان کا مقصد زندگی اپنی خواہشات کی تکمیل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

ایمان و ایقان کی جگہ مجرد عقلیت پسندی اور الحاد کے اس نظریے پر کھڑی ہونے والی تہذیب دنیا کے لئے فساد کا باعث بن جاتی ہے اور قوم اخلاقی انحطاط کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہے۔

آج کا موجودہ انسان بھی اپنے ملحد نظریات کی وجہ سے ایک مہلک ابتلاء میں پھنسا ہوا ہے۔ موجودہ یورپ کا عام فرد عقلیت کے فریب میں گھرا ہوا ہونے کی وجہ سے زندگی کی روحانیت سے واقف نہیں۔ اس کے خیالات کی کی دنیا میں ایک شدید کش مکش برپا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کے نظریۂ ارتقاء نے اسلام کی دنیا میں جہاں رومی کے اس تخیل کو پیدا کیا کہ انسان کے لئے حیاتیاتی اور نفسیاتی لحاظ سے ایک بہت وسیع اور ہمیشہ بڑھنے والا مستقبل ہے جسے حاصل کرنے کے لئے اسے جدوجہد کرنی چاہئے وہیں اسی نظریۂ ارتقاء نے یورپ میں یہ تخیل پیدا کیا کہ انسان کے لئے اس کی موجودہ حالت ہی سب کچھ ہے گویا ایک ہی نظریے نے اسلام کے مفکر کو مستقبل کے یقین اور اطمینان سے نواز کر رجائیت پسند بنا دیا اور یورپ کے مفکرین کو اس یقین سے محروم کر کے ان میں قنوطیت پیدا کی۔ چنانچہ یورپ کے مفکر نے جب زندگی کو مادے تک محدود سمجھ لیا اور اسی میں اٹک کر رہ گیا تو وہ خود غرضی، ہوشِ زر اور مادی فوائد جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو گیا جنہوں نے اس کے دل میں زندگی کے اعلیٰ مقاصد سے نفرت اور خود زندگی سے بیزاری پیدا کر دی۔

چونکہ ہمارا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کی گہرائیوں سے واقف نہیں تھا لہٰذا یورپ کے سائنسی فلسفے نے جس کی بنیاد سراسر مادہ پر مبنی ہے اور جس میں مذہب کے خلاف شدید نفرت موجود ہے، اسے خاص طور پر متاثر کیا، لہٰذا اس نے یہ کہنا شروع کیا کہ مذہب سے انسان کے قومی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل پوری طرح حل نہیں ہو سکتے اور یہ کہ مذہب ایک فرسودہ چیز ہے جو سائنسی اور انسانی ارتقاء کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے چنانچہ اس تصور کے طبعی نتیجے میں مادہ پرستوں کی طرف سے مذہب کے حامیوں کو بے عقلی، جمود، رجعت پسندی اور تنگ نظری کے طعنے پوری بے تکلفی اور تسلسل کے ساتھ عنایت کیے جاتے ہیں لیکن اگر مرعوبیت سے دامن بچا کر غور کیا جائے تو یہ تصور بجائے خود بے دانشی او عقل دشمنی کا شاہکار ہے اس کے پیچے کوئی ٹھوس اور سائنٹیفک استدلال نہیں بلکہ اس کا سارا زور و شور آدمی کی ان نفسانی خواہشات اور جسمانی داعیات کے اُبال سے عبارت ہے جس پر کسی بھی قسم کی پابندی اور قید و بند اور ذمہ داری کا کوئی بوجھ آج کا وہ انسان (جسے انسان کہنا بھی انسانیت کی وہین ہے) پسند نہیں کرتا جسے مادہ پرستانہ افکار نے تمام اخلاقی و انسانی قدروں سے کاٹ دیا ہو۔ وہ گوناگوں عوامل کے تحت جس ظاہر پرستی کا غلام بن جاتا ہے وہی اسے اس بات پر اکستانی ہے کہ مذہب کو تردید و تحقیر کا نشانہ بنائے اور مذہب کے علمبرداروں کو عقل و تدبر سے محروم قرار دے کیوں کہ مذہب اسے وہ لا نہایت اور لا محدود آزادی عطا نہیں کرتا جس کے سایۂ عاطفت میں اس کے بھڑکے ہوئے جذبات، مچلتی ہوئی خواہشات اور بے کراں حرص و ہوس کو کھل کھیلنے کے مواقع میسر آسکیںَ بقولِ سید کرامت حسین جعفری 'چاہے پرانے ادوار کا مطالعہ کیا جائے چاہے دورِ حاضر کا، جن معاشروں میں جب کبھی خدا کا اعتماد ختم ہو گیا ان میں نفسیاتی اور اخلاقی دونوں طرح کی خرابیاں زیادہ پھیلی ہیں۔ دوسری طرف آپ گہرائی میں جائیں تو یہ دیکھیں گے کہ ہر وہ فرد جس پر غلط خواہشات کا دباؤ زیادہ بڑھ جاتا ہے اور وہ لازماً انہیں پورا کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے راستے سے ضمیر کی رکاوٹ ہٹانے کے لئے خدا کا انکار کر دیتا ہے یا اس کے تصور میں تحریف کر دیتا ہے۔ آپ اپنی زندگی میں ایسے جتنے لوگوں کا مشاہدہ کر چکے ہوں ان سب کا تصور ذہن میں تازہ کر کے دیکھ لیجئے کہ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ ٹھیک یہی حال قوموں اور معاشروں کا ہے۔ وہ جب اخلاقی لحاظ سے غلط راستوں کو پسند کر لیتی ہیں تو پھر ضمیر کی کشمکش سے نجات پا کر کھلی پیش قدمی کرنے کے لئے تصورِ خدا سے نجات حاصل کرتی ہیں۔ تمام ملحد اقوام اخلاقی بحران سے دوچار ہو کر رہتی ہیں۔ وہ یا تو کھلم کھلا الحاد کی علمبردار ہوتی ہیں یا خدا کا ایسا تصور اختیار کرتی ہیں جو ان کی من مانی زندگی میں خلل انداز ہونے والا نہ ہو۔

اس ساری بحث سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سائنس کی ملحدانہ ترقی انسانیت کے لئے فساد کا باعث بن جاتی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مذہب اور سائنس کو پہلو بہ پہلو چلایا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا ایسا مذہب ہے جو سائنس کے ہم پہلو ہو کر چل سکے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ مذاہب میں سے کوئی بھی تو اس قابل نہیں کہ اس کے سامنے ٹھہر سکے۔ اگر کوئی مذہب ٹھہر سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے کیونکہ جیسا کہ پیچھے ذکر ہو چکا ہے کہ سائنسی نظریۂ ارتقاء نے اسلام کے مفکر کو مستقبل کے یقین اور اطمینان کی دولت سے مالا مال کر کے جہاں اسے رجائیت پسند بنایا وہیں یورپ کے مفکر کو اس دولت سے محروم کر کے قنوطیت پسند بنایا۔ لہٰذا ہم بلا جھجک یہ کہتے ہیں کہ صرف اسلام ہی ایسی خوبی رکھتا ہے کہ یہ سائنس کے دوش بدوش چل کر کاروان انسانیت کا جادۂ ارتقاء پر آگے بڑھانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔

سائنس نے کائنات کے ایک بڑے حصے کو مسخر کر دیا ہے لیکن انسان اس تسخیر کائنات سے کیا کام لیتا ہے؟ اس کا تعین فکری ضابطے اور اخلاقی رویے کریں گے اور یہ ضابطے اور رویے سب سے بہتر صورت میں اسلام کے پاس ہیں۔

کائنات کی ساری ماڈرن تھیوریاں (Modern Theories) ایک نہایت ہی چھوٹے اور نہ دکھائی دینے والے ذرے پر مبنی ہیں جسے الیکٹرون (Electron) کہتے ہیں۔ الیکٹران کیا ہے؟ کوئی سائنسدان کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ چنانچہ ایک ذرہ بھر مفروضے پر تکیہ کر کے جس کی ہیئت نامعلوم ہے۔ سائنسدان کل کائنات کا سفر کر رہے ہیں۔ سائنس کی بنیاد عقل پر ہونے کے باوجود اگر سائنسدان ایسا کر سکتے ہیں تو کیا انسان ایک ایسا مفروضہ اپنی روح کے آرام، اپنی سائیکی Psyche کی بقا اور اپنے شعور کی جلا کے لئے نہیں کر سکتا جس کا آرام کلی طور پر انسان کی اپنی ذات ہی کو ہو؟ اور وہ مفروضہ کیا ہے؟ یہی کہ 'خدا ہے' اگر انسان آج سے اس مفروضے پر زندگی بسر کرنا شروع کر دے تو اس کے لئے اس سے زیادہ اور کسی مفروضے کی ضرورت نہ ہو گی۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ عقل کا اندھا ہے۔ خدا کے وجود سے انکار عقل کی بدولت نہیں ہو سکتا۔ ہم خدا کے وجود سے انکار اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہم نے کائنات کا ایک ایک کونہ چھان لیا ہو اور ہمیں کہیں بھی خدا نظر نہ آیا ہو۔ اب یہ دعویٰ کون کو سکتا ہے؟ اور جو کرتا ہے عقل اس کے دعوے کو تسلیم نہیں کرے گی۔ بیسویں صدی کے سائنسدان جس قدر حقیقتوں کے قریب پہنچتے جا رہے ہیں، اسی قدر خدا کے وجود پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب الحاد ایک سائنسی حقیقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ہر برٹ ہوور کہتا ہے:

''جوں جوں سائنس میں ترقی ہوئی ہے، ایک خاص گروہ زور پکڑتا گیا۔ اس فرقے میں دہریہ فلسفی شامل ہیں جو کہتے ہیں، خدا جیسی موہوم ہستی کا ادراک محال ہے۔ یہ لوگ ہر وقت بحث مباحثے میں مصروف رہتے ہیں کہ مذہب اور سائنس دو متضاد چیزیں ہیں۔ ان کا سخت مقابلہ ہے جس میں فتح سائنس کی ہو گی۔ میں یہ ہرگز نہیں مانتا۔ میرا عقیدہ ہے کہ مذہب نہ صرف فتح یاب ہو گا بلکہ انسان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ فتح یاب ہو۔ دیکھا جائے تو تمام مذاہب کی بنیاد ایک ہی ہے۔ سائنس میں جو انکشافات ہوئے ہیں۔ ان سے ثابت ہو چکا ہے کہ فضا کے تاروں سے لے کر ایٹم تک ساری کائنات چند اٹل قوانین کے زیرِ تسلط ہے اور ایک زبردست قوت موجود ہے جس نے یہ قانون بنائے ہیں۔ انسان کو جانوروں سے بلند کر کے اشرف المخلوقات کا رتبہ بخشا گیا۔ اس فرق کو نمایاں کرنے کے لئے انسان کو وہ اعلیٰ جوہر عطا ہوا ہے جس سے ضمیر، روحانیت اور تصوّریت پیدا ہوئی۔ ان ملکوتی جذبوں کے ہوتے ہوئے بھلا اس قادر مطلق کے وجود سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے۔ جس کا لمس ہر جگہ محسوس ہو رہا ہے۔ جس کی کارکردگی کائنات کی ہر چیز سے عیاں ہے۔

یہ دہریے انسانی ترقی و بہبود کو مادیت کے پیمانے سے ناپنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے اگر ٹھوس مادیت ہی سب کچھ ہے تو انسان کے دل میں ایمان اور روحانیت کے جذبے کس طرح آئے؟ بلند اخلاقی، صاف دلی اور نیک نیتی کی خواہش کیسے پیدا ہوئی؟ یہ سب خوبیاں جن پر تعمیر و اصلاح کی اساس رکھی گئی ہے۔ خود بخود کہاں سے آگئیں۔

زندہ اور ترقی پذیر قومیں خدا پر اعتماد رکھتی ہیں۔ اس کی ہستی سے منکر ہونا اور ایمان کی کمی انحطاط پذہیر قوموں کی نشانیاں ہیں۔

اس ساری بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جس طرح سائنس ترقی کرتے ہوئے منزل بہ منزل مادی فطرت کی نقاب کشائی کرتی چلی جا رہی ہے۔ اسی طرح مذہب بھی عروج و ارتقاء کی منزلیں طے کر سکتا ہے لیکن یہ عروج وارتقاء سے یقیناً مختلف ہو گا۔ سائنس جس حقیقت کی تلاش میں ہے اس حقیقت کو مذہب نے پا لیا ہے۔ اسلام نے علی الاعلان یہ دعوےٰ کیا ہے کہ خدا کی ہستی ایک اور وحدانیت کی جس طرح تشریح و توجیہ کی ہے وہ ایسی جامع اور اکمل ہے کہ فلسفہ اور سائنس اس کا ابطال نہیں کر سکتے۔ اَن دیکھے خدائے واحد کی ہستی جس کو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس کا مقصد بنی نوع انسان کو طبیعی پابندیوں اور حیاتی کائنات سے آزادی بخشنا ہے۔ خدا کو تمام معیاروں کا غیر مرئی ماخذ قرار دینا حیاتِ انسانی کو ارتقائی اور متحرک بنانا ہے۔ انسان اس وقت تک موجودات کا معیار کمال، اشرف المخلوقات اور زمین پر خدا کا نائب نہیں ہو سکتا جب تک وہ موجودات کی حلقہ بگوشی سے چھٹکارا نہ پائے اور اَن دیکھے نصب العین کی بلندیوں کی طرف عروج نہ کرے۔