ایک جائزہ

۱۵ھ، ۶۳۶ء میں مسلم عرب کی حیثیت سے حکم ثقفی نے بمبئی کے مشہور علاقہ 'تھانہ' پر حملہ کیا۔ اس کے بعد 'بھروچ' کا رخ کیا اور اسی دوران حضرت مغیرہؓ نے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیول پر چڑھائی کی۔ اور حضرت حکیم بن جبلہؓ نے سرکاری حیثیت میں ہندوستان کے سلسلے میں سروے کیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ہندوستان کے علاقے فتح ہوتے گئے۔ شروع میں جو فرمانروا تشریف لائے، انہوں نے ملکی انتظام سنبھالنے کے بعد تبلیغ بھی کی اور خوب کی، ہند میں مسلم اکثریت کے علاقے تقریباً تقریباً انہی شمع حق کے پروانوں کی تبلیغ کا نتیجہ ہیں۔

غزنوی، غوری، خلجی، تغلق، سید، لودھی، سوری، بنگالی، جونپوری، ملتانی، کشمیری، خاندیس کے فاروقی، مالوی، گجراتی، بہمنی، نظام شاہی، عادل شاہی، قطب شاہی، عماد شاہی، برید شاہی، ملیباری اور معبر کے بادشاہ اور تیموری خاندان مختلف اوقات میں ہند کے مختلف علاقوں پر قابض رہے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب سارا ہند داِن کے قدموں کا غبار ہو ر رہ گیا، اس پر کئی سو سال حکمران رہنے کے باوجود مجموعی لحاظ سے 'مسلمان اقلیت' میں رہے۔ غور کیجئے ۱۵ھ، ۶۳۶ء سے لے کر ۱۲۷۴ھ، ۱۷۹۷ء تک ہندوستان پر مسلمان کسی نہ کسی درجہ حکمران رہے۔ مگر ان میں اکثریت 'رنگیلے شاہوں' کی تھی، لڑتے مرتے اور دادِ عیش دیتے اور پاتے رہے، ہمیں یقین ہے کہ، خدا ان سے ضرور پوچھے گا ہ تمہیں اقتدار 'اعلاء کلمۃ اللہ' کا فریضۃ انجام دینے کے لئے دیا گیا تھا مگر تم نے اپنی خدائی کا ڈنکا بجایا اور پوری ملت اسلامیہ جو معزز تھی محض تمہاری نادانیوں کی وجہ سے اس کو ذلیل و خوار ہو کر اس کوچہ سے نکلنا پڑا۔ تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔ اور جو حکمران اب انہی پامال راہوں پر چل رہے ہیں ان کا بھی ان شاء اللہ وہی حشر ہو گا جو ان کا ہوا۔

ہند کے مسلمان جن کے متعلق دشمن یہ کہتے رہے:

عزم، تعلیم اور ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے مسلمان ہندوؤں سے کہیں زیادہ فائق ہیں اور ہندو ان کے سامنے بالکل طفلِ مکتب معلوم ہوتے ہیں، علاوہ اس کے مسلمانوں میں انتظامی کاموں کی اہلیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔'' (بغاوت ہند از ٹامس ہرنگٹن)

ہندو مصنفین پر مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے، ان لوگوں سے ہمیں توقع تھی کہ اپنی قوم کے احساسات، توقعات اور معتقدات ہمیں بتائیں گے لیکن وہ اب تک (شاہی) احکام و ہدایات کے مطابق لکھتے ہیں، محرم کو 'محرم شریف' اور قرآن پاک کو 'کلام پاک' کہتے ہیں اور اپنی تحریروں کو 'بسم اللہ' سے شروع کرتے ہیں۔' (تاریخ ہندوستان از سر ہنری ایلٹ)

اب وہی دشمنانِ دین لکھنے لگے کہ:

'ہندوستان کے مسلمان ذلیل ترین امت محمد (ﷺ) سے ہیں اور قرآن کے مسئلوں اور ہندوستان کی بت پرستی سے مل ملا کر ان کا مذہب ایک عجیب مجموعہ بن گیا ہے۔' (روشن مستقبل بحوالہ ایک انگریز مورخ)

یہ وہ حالات تھے، جن سے مصلحین امت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اور نہ رہے، انہوں نے پھر سے ملت اسلامیہ کے احیاء کی کوشش کی، اس سلسلے میں ان کو مختلف مصائب سے بھی گزرنا پڑا اور پوری استقامت سے گزرے۔ اس دوڑ میں 'جماعتِ مجاہدین' سید اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی رحمہما اللہ بھی میدان میں اتر آئے، مگر تقدیر کے سامنے تدبیر نہ چل سکی اور اپنی قوم کی نادانیوں کی وجہ سے ساحل پر پہنچتے پہنچتے یہ ناؤ پھر گردانِ بلا کا شکار ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس کے بعد مسئلہ یہ رہ گیا کہ کسی طرح پہلے انگریزوں سے گلو خلاصی کرائی جائے، جب یہ تحریک اوج پر پہنچی تو ہندو بولا۔

''اس نے پرانے ڈاکٹروں کی تشخیص کو غلط قرار دے کر یہ بتلایا کہ ہماری سیاسی غلامی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم اپنی اخلاقی، روحانی اور معاشرتی زندگی سے جدا کر سکیں، اس لئے ہماری سیاسی جدوجہد کو معاشرتی، اخلاقی اور روحانی جدوجہد کے ساتھ وابستہ کرنے کی ضرورت ہے (گاندھی)

ایک اور صاحب بولے:

پس اگر ہندوستان کو کبھی آزادی ملے گی تو یہاں ہندو راج ہو گا۔ اگر ہندو قوم میں آئندہ بیداری ہو گی تو نہ صرف ہندو راج قائم ہو جائے گا بلکہ مسلمانوں کی شدھی، افغانستان کی فتح وغیرہ باقی ضروری آورش (نصب العین) بھی پورے ہو جائیں گے (روزنامہ ملاپ لاہور جون ۱۹۲۵ء)

اس پر مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سوچنے لگے کہ اب کیا ہونا چاہئے؟ کچھ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ، بس ہمیں الگ وطن مل جائے تاکہ ہندوؤں اور انگریزوں سے خلاصی ہو جائے۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ ریاست، اسلامی ریاست بھی ہو؟ اس سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کو اسلام کے نام سے چڑ ہی ہو گئی تھی، اور جب کبھی اسلام کا نام زبان پر آیا تو وہ اس وقت بھی اپنے سے باہر ہوئے ہیں جب کہ لا الٰہ کی بنیاد پر پاکستان بھی معرضِ وجود میں آگیا۔ چنانچہ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

اگر پاکستان کی آئیڈیالوجی سے مراد ایک اسلامی مملکت کا قیام ہے جیسا کہ بعض لوگ نہایت شد و مد اور قسم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں تو پھر میں یہ کہوں گا کہ ہمیں کسی اور اسلامی مملکت، مثلاً افغانستان یا ایران کے اندر مدغم ہو جانا چاہئے۔

اس کے مقابل ایک گروہ تھا جس نے اعلان کیا کہ، مسلم الگ ایک قوم ہے، جس کی اپنی روایات، تہذیب اور اصول ہیں جن کا سرچشمہ قرآن ہے، اور یہی اقدار ان کو متحد بھی رکھ سکتی ہیں، علامہ اقبالؒ نے کہا۔

میری آرزو ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان کو ملا کر ایک واحد ریاست قائم کی جائے ہندوستان کو حکومت خود اختیاری زیر سایہ برطانیہ ملے یا اس سے باہر۔ کچھ بھی ہو، مجھے تو یہ نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کا قیام کم از کم اسی علاقہ کے مسلمانوں کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے (خطبہ الٰہ آباد)

''اگر آج آپ اپنے تمام تصورات اور تخیلات کو اسلام اور صرف اسلام کے نقطۂ ماسکہ پر مرکوز کر دیں اور زندہ و پائندہ اور قائم و دائم نظریۂ حیات سے جو وہ پیش کرتا ہے، نور بصیرت حاصل کریں تو اس سے آپ اپنی منتشرہ قوتوں کو پھر سے مجتمع اور گم گشتہ مرکزیت کو از سرِ نو حاصل کر لیں گے۔ اور یوں اپنے آپ کو تباہی اور بربادی کے مہیب جہنم سے بچا لیں گے (علامہ اقبال۔ خطبہ الٰہ آباد)

نہرو کو اپنے ایک مکتوب کے ذریعے مطلع کیا کہ:

'میں صرف ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی مملکت کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔'

مولانا حسین احمد مدنی کو تحریر فرمایا کہ:

اسلام ہیئتِ اجتماعیہ انسانیہ کے اصول کی حیثیت سے کوئی لچک اپنے اندر نہیں رکھتا اور ہیئت اجتماعیہ انسانیہ کے کسی اور آئین سے کسی قسم کا راضی نامہ یا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں بلکہ اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ ہر دستور جو غیر اسلامی ہو، نامقبول و مردود ہے۔

علامہ اقبال کے اسی مجوزہ پاکستان کی تخلیق کے لئے جناب محمد علی جناح مرحوم اُٹھے اور لے کر آپ کے حوالے کیا، یہاں پر ہم اس سلسلے میں بانیٔ پاکستان مرحوم کے رفقاء اور خود ان کے اپنے ارشادات کے کچھ اقتباسات آپ کے سامنے رکھتے ہیں، تاکہ پاکستان اور اہلِ پاکستان کے سمجھنے میں آپ کو مدد مل سکے۔

قائد ملت نواب بہادر یار جنگ مرحوم نے کراچی (۱۹۴۳ء) میں پاکستان کی ماہیت بیان کرتے ہوئے ہا تھا کہ:

''اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہم پاکستان صرف اس لئے نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی جگہ حاصل کر لیں، جہاں وہ شیطان کے آلۂ کار بن کر ان 'دساتیر کافرانہ'' پر عمل کریں جس پر آج ساری دنیا کار بند ہے، اگر پاکستان کا یہی مقصد ہے تو کم از کم میں ایسے پاکستان کا حامی نہیں ہوں۔ ہمارے تصور کے مطابق مجوزہ پاکستان ایک انقلاب ہو گا، اس کا قیام ملت کی نشأۃ ثانیہ کا موب ہو گا، یہ ایک حیات نو ہو گی جس میں فراموش کردہ تصورات اسلامی ایک مرتبہ پھر روبہ عمل لائے جائیں گے۔ ہندوستان کی سرزمین میں حیاتِ اسلامی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے گی۔''

مسلم لیگ کا یہ آخری اجلاس تھا، اس میں بانیٔ پاکستان جناب محمد علی جناح مرحوم بھی موجود تھے۔ اس میں ان کو مخاطب کرتے ہوئے نواب صاحب نے کہا کہ:

قائد اعظم! پاکستان کے متعلق میرا اپنا تصور یہ ہے، اگر آپ کا پاکستان یہ نہیں ہے تو ہمیں کسی پاکستان کی حاجت نہیں ہے۔

اس پر بانیٔ پاکستان مرحوم مسکرائے اور فرمایا:

''آپ مجھے قبل از وقت چیلنج کیوں دیتے ہیں؟'' اس پر نواب صاحب نے فرمایا۔

''میں آپ کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں، میں اس استفسار کے ذریعے آپ کے عوام کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ کے پیش نظر وہی پاکستان ہے جس کا اجمالی تصور پیش کیا گیا ہے۔ برادرانِ ملت! یاد رکھیے کہ پلاننگ کمیٹی آپ کے لئے جو دستور و سیاسی نظام مرتب کرے گی اس کی بنیادیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ہوں گی، سن لیجئے ! اور آگاہ ہو جائیے! کہ جس سیاست کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر نہیں ہے وہ شیطانی سیاست ہے اور ہم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔''

اس تقریر کے آخر میں جو بانیٔ پاکستان کی موجودگی میں کی جا رہی تھی، فرمایا:

میں آپ کی توجہ اس امر کی جانب خصوصیت کے ساتھ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ کر کے آپ ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جس میں پاک لوگ بستے ہوں، جو خیالات کے لحاظ سے، افکار کے لحاظ سے اور اعمال کے لحاظ سے پاک ہوں، میرے دوست! جسمانی ناپاکی دور ہو سکتی ہے لیکن ذہن و فکر اور قول و عمل کی ناپاکی وہ گندگی ہے جس کو دور کرنے کے لئے خدا نے انبیاء جیسی ہستیاں پیدا کیں، ناپاکیوں میں آلودہ ہو کر، جھوٹ کو اپنا شعار بنا کر، مکر و فریب میں مبتلا رہ کر، ظلم و استبداد کو جاری رکھ کر کیا اپنی پاکبازی اور پاک دامنی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ ان گندگیوں سے آلودگی کے باوجود اگر ہمیں ہندوستان کے دونوں شمالی گوشوں میں خوش مختار حکومت بھی حاصل ہو جائے تو وہ پاکستانی کہلانے کی مستحق ہو سکے گی؟''

نواب بہادر یار جنگ بانیٔ پاکستان کے خصوصی احباب اور معاونین اور پاکستان کے عظیم داعیوں میں سے ایک تھے، ہم چاہتے ہیں کہ اس فرصت میں خود جناح علیہ الرحمۃ کے ارشادات کی روشنی میں یہ جائزہ لیں کہ ان کے سامنے جو پاکستان تھا، اس کے خدوخال کیا تھے۔ ۱۳ نومبر ۱۹۳۹ء میں مرحوم نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

معاشی احیاء ہو یا سیاسی آزادی اسے آخر الامر زندگی کے کسی گہرے مفہوم پر مبنی ہونا چاہئے اور مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہمارے نزدیک، زندگی کا وہ گہرا مفہوم اسلام اور روح اسلام ہے۔' (تقاریر ص ۱۰۸، ۱)

مارچ ۱۹۴۴ء کو فرمایا:

ہماری کشتی کا لنگر اور ہماری عمارت کی بنیاد اسلام ہے۔'' (ص ۸۹ /۲)

۱۹۴۵ء میں ایک موقعہ پر کہا کہا:

یاد رکھیے! اسلام صرف روحانی احکام و نظریات یا مذہبی رسوم و مراسم کا نام نہیں۔ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اسلامی معاشرہ کے ہر گوشے کو محیط ہے۔ خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو اور خواہ حیات اجتماعیہ سے۔'' (تقاریر ص ۳۰۱، ۲)

۲۱ نومبر ۴۵ء کو فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس میں خطاب کتے ہوئے فرمایا کہ:

''مسلمان اس لئے پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مملکت میں وہ اپنے ضابطۂ زندگی، اپنے ثقافتی نشوونما اور روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ (ایضاً ص ۳۳۳،۲)

پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کو خطا کرتے ہوئے فرمایا:

''پاکستان کا مطالبہ اب کروڑوں مسلمانوں کے نزدیک جزو ایمان بن چکا ہے۔ یہ اب ایک نعرہ نہیں رہا۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ان کی حفاظت، نجات اور مقدر کا واحد ذریعہ پاکستان ہے۔ وہ پاکستان کہ جب وہ وجود میں آگیا تو ساری دنیا میں یہ آواز اُٹھے گی کہ ہاں! اب ایک ایسی مسلم سٹیٹ کا قیام عمل میں آگیا ہے جو اسلام کے ماضی کی درخشندہ عظمت و شوکت کا احیاء کرے گی۔'' (تقاریر ص ۸۵، ۲)

کچھ طلباء نے آپ سے ایک پیغام کے لئے کہا تو فرمایا:

''تم نے مجھ سے کہا ہے کہ میں تمہیں کوئی پیغام دوں جب کہ ہمارے پاس پہلے ہی ایک عظیم پیغام موجود ہے جو ہماری رہنمائی اور بصیرت افروزی کے لئے کافی ہے، وہ پیغام ہے خدا کی کتابِ عظیم، قرآن کریم (ایضاً ص ۵۱۶،۱)

وحدت ملی کی اساس کیا ہونی چاہئے جس سے یہ مستحکم ہو تو فرمایا:

'وہ بندھن، وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر خدا کی کتاب عظیم، قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگ بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ وحدت پیدا ہوتی جائے گی۔ ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسول فلہٰذا ایک قوم' (ایضا ص ۵۰،۲)

۴۵ء میں ایک پیغام عید کے سلسلے میں کہا کہ:

'اس حقیقت سے سوائے جہلا کے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی ضابطۂ زندگی ہے جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوج، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے، مذہبی رسوم ہوں یا روز مرہ کے معمولات، روح کی نجات کا سوال ہو یا بدن کی صفائی کا، اجتماعی حقوق کا سوال ہو یا انفرادی واجبات کا، عام اخلاقیات ہوں یا جرائم دنیاوی، سزا کا سوال ہو یا آخرت کے مواخذہ کا، ان سب کے لئے اس میں قوانین موجود ہیں۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہر مسلمان قرآن کریم کا نسخہ اپنے پاس رکھے اور اسی طرح اپنا مذہبی پیشوا آپ بن جائے۔ (طلوع اسلام بحوالہ تقاریر)

پاکستان کے سلسلے کی یہ طویل تصریحات صرف اس لئے نقل کی گئی ہیں تاکہ پاکستانیوں کو 'پاکستان' سمجھ میں آجائے۔ یہ سطور بھی ہم ۱۴ء اگست کے مشاہدات کے بعد ۱۵ء اگست کو تحریر کر رہے ہیں، اور صرف اس خیال سے کہ ۱۴ اگست اتمام پاکستان کا دن ہے، شاید آج کے دن وہ ہم بد نصیبوں کو نظر آجائے۔

لیکن افسوس! اس کو جس پہلو سے بھی آپ دیکھنے کی کوشش کریں گے، آپ کو سخت مایوسی ہو گی، شروع سے لے کر اب تک جتنے اربابِ اقتدار آئے۔ ''ننگ پاکستان'' ہی آئے، الا ما شاء اللہ! اربابِ اقتدار کے اس معنوی بانجھ پن کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معدودے چند بزرگوں کے سوا ان میں ان کے جو 'داشتہ مولانا یا مولوی' تھے، وہ اپنے حلقہ میں بھی بدترین خلائق تھے، انہوں نے ضمیر اور قرآن فروشی کے ہٹ کھولے رکھے، محض چند روزہ مفادِ عاجلہ کے لئے سیاست بازوں کی کاسہ لیسی کر کے اپنا پیٹ پالتے اور آخرت سیاہ کرتے رہے۔ اور ہیں:

۱۴ء اگست منایا گیا، کبڈی کھیل کر، تاش کی بازی لا کر، شراب و کباب اڑا کر، اللہ کے قرآن اور رسول کی سنت کا منہ چڑا کر، فلمی شو دیکھ کر، رقص و سرود کی محفلیں جما کر۔ الغرض: اس دن ہر وہ کام کیا جس سے پاکستان کی معنوی عصمت کی نفی ہوتی ہے۔

دعائیں مانگیں غریبوں نے، پرانے وقتوں کے نمازیوں نے، ان کی ناکردیاں دیکھ دیکھ کر دل جلے تو بزرگوں کے، تڑپے تو علمائے حق، روئے تو خدا دوست، آہ و زاری کی تو سچے پاکستان کے دیوانوں نے۔

جمہوریت کشوں نے جمہوریت کے پیام دیئے، روحانیات کے قاتلوں نے، اسلام کے درس دیئے، خدا سے برگشتہ لوگوں نے خوفِ خدا کی رٹ لگائی، ملت فروشوں نے، ملت اسلامیہ کی خدمت کے نعرے بلند کیے، انواع و اقسام کی نعمتوں میں جھولنے والوں نے، غریبوں کی غریبی پر مگرمچھ والے ٹسوے بہائے۔ انا للہ۔

بہرحال دنیا کہتی ہے کہ ۱۴ء اگست یومِ آزادی ہے۔ مگر ہمیں وہ پاکستان کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کی معاشیات سوشلزم، ان کی سیاست جمہوریت کش جمہوریت، ان کا ایمان کرسی، ان کا اوڑھنا بچھونا، اغراض سفلی، دھونس، دھاندلی اور مکر و فریب۔

علمائے حق کا ایک گروہ رہ گیا ہے، لیکن افسوس! ان کو بھی شکار کرنے کے لئے انہوں نے نام نہاد مولانا قسم کے لوگووں کو 'سیاسی داشتہ' کے طور پر رکھ کر خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ سخت جان علماء کے سوا دوسروں کا بس خدا ہی حافظ ہے۔

ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ علامہ اقبال اور محمد علی جناح نے جس پاکستان کی امانت ان کے سپرد کی تھی اس کے لٹیروں کے خلاف سینہ سپر ہوں۔ خود اس کی حفاظت کریں اور دوسروں سے بھی کرائیں۔