(قسط 8)

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ وَإِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَ‌ةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٢٣ فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّت لِلكـٰفِر‌ينَ ٢٤وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ ۖ كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها مِن ثَمَرَ‌ةٍ رِ‌زقًا ۙ قالوا هـٰذَا الَّذى رُ‌زِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشـٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزو‌ٰجٌ مُطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَهُم فيها خـٰلِدونَ ٢٥﴾... سورة البقرة

لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، پیدا کیا، عجب نہیں تم (آخر کار) پرہیز گار (بھی) بن جاؤ۔ جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بنایا اور آسمان کی چھت اور آسمان سے پانی برسا کر تمہارے کھانے کے پھل پیدا کئے پس کسی کو اللہ کا ہم پلّہ نہ بناؤ اور تم جانتے (بوجھتے) ہو اور وہ جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے اگر تم کو اس میں شک ہو (اور سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدا کی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی ہے) اور اپنے اس (دعوے میں) سچے ہو تو اس جیسی ایک سورہ (تم بھی بنا) لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمائتیوں کو بھی بلا لاؤ پس اگر (اتنی بات بھی) نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو (دوزخ کی) آگ سے ڈرو جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور وہ) منکروں کے لئے تیار ہے۔ اور (اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کیے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے (بہشت کے) باغ ہیں جن کے تلے پڑی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب ان کو ان میں کا کوئی میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو ہم کو پہلے بھی (کھانے کےلئے) مل چکا ہے اور (یہ اس لئے کہیں گے کہ) ان کو ایک صورت (شکل) کے میوے ملیں گے اور وہاں ان کے لئے بیبیاں ہوں گی، پاک صاف اور وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ﴾ (اے لوگو!) بلا استثناء یہ خطاب سب لوگوں سے ہے وہ مومن ہوں یا کافر، گورے ہوں یا کالے، مشرقی ہوں یا مغربی، جنوب میں رہتے ہوں یا شامل میں۔ غرض یہ کہ: کوئی ہو کہیں کا رہنے والا ہو اور کیسا ہو، قرآن اسے پکارے جا رہا ہے۔

پہلے خالص مومن کا ذکر تھا، پھر پکے منکرینِ حق (کافروں کا) اس کے بعدبزدل منافقوں اور سیاسی پینترے بازوں کا۔ اب ان سب کا ہے، تاکہ قرآن و حکیم کے تیز و تند تبصرہ سے کافر اور منافق یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ: اب خدا کا ہم سے کوئی تعلق نہیں رہا اور وہ ہمیشہ کے لئے ہم سے کٹ گیا ہے، اب ﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ﴾ کہہ کر ان کی اس بد گمانی اور مایوسی کو دور کیا ہے کہ، تبصرہ سے مقصود ''حالِ واقعی'' کا اظہار تھا، جہاں تک تعلق کی بات ہے؟ سو اس کے لئے خدا کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، بلکہ کچھ بھی ہو، وہ اب بھی آپ کے انتظار میں ہے۔

﴿اعبُدوا﴾ (عبادت کرو) پُر سوز اور پُر خلوص مگر غلامانہ عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور، بے ریا وفا اور طاعت کا نذرانہ پیش کرنے کو 'عبادت' کہتے ہیں۔

معنی العبادة، الخضوع لله بالطاعة والتذلل له بالاستكانة (تفسير ابن جرير طبري۔ آيت مذكوره)

اس میں شرط یہ ہے کہ یہ رنگ صرف خدا کے لئے ہو اور بلا شرکت غیرے ہو، اس لئے اُعْبُدُوْا کے معنی وَحِّدُوْہُ (اس کو وحدہ لا شریک لہ یقین کرو) بھی کئے گئے ہیں۔ یعنی سارے سنسار اور جگ کو چھوڑ تنہا اس کی 'طاعت اور عبادت' کرو۔

وحدوہ أي أفردوا الطاعة والعبادة لربكم دون سائر خلقه (ابن جرير)

عبادت کے مفہوم دو ہیں۔ ایک یہ کہ، نمازیں پڑھی جائیں، ذکر کیا جائے، حج، زکوٰۃ اور روزے رکھے جائیں، دوسرا یہ کہ پوری زندگی خدا کی مرضی کے مطابق گزاری جائے۔ نظریہ توحید کے شایانِ شان یہی مفہوم ہے۔ اگر زندگی کے بعض پہلو نفس و طاغوت کے حوالے رہے تو ظاہر ہے یہ زندگی دوئی کی راہ پر پڑ گئی، صرف خدائے واحد کے لئے یکسو نہ رہی۔

طاعت اور عبادت میں فرق:

طاعت جائز امور میں غیر خدا کی بھی ہو سکتی ہے، لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں ہو سکتی اور اسی میں بندگانہ خضوع شرط ہے، طاعت میں یہ ممنوع ہے۔ ورنہ یہ طاعت عبادت بن جاتی ہے۔

إن العبادة غاية الخضوع ولا تكون إلا لله والطاعة الفعل الواقع علي حسب الإرادة ويكون للخالق والمخلوق (كتاب الفراق)

﴿الَّذى خَلَقَكُم﴾ (جس نے تمہیں پیدا کیا) ایک خلق یہ ہے کہ نیست سے ہست کیا جائے، دوسرا یہ کہ ہست سے ہست کیا جائے۔ یعنی ایک موجود شے سے دوسری شے پیدا کی جائے۔ یہاں دونوں معنی مراد ہیں، پہلے انسان کا کچھ بھی مذکور نہیں تھا، پھر اسے بنا ڈالا، مٹی سے پیدا کیا، مٹی کہاں سے بنی۔ اس سے اگلی شے کہاں سے وجود میں آئی۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ ایک ایسی 'تجرید' پر جا ختم ہوتا ہے جہاں خدا کے سوا باقی ہر 'ہست' معدوم ہوتا ہے۔ اس سٹیج پر جو عمل تخلیق ہوتا ہے وہ بغیر مادہ اور مثال سابق کے ہوتا ہے جسے عربی میں 'ابداع' بھی کہتے ہیں۔

یعنی اس ذات کی عبادت اور سچی غلامی اختیار کیجئے، جس نے تمہیں ہست کر کے بتدریج کمال تک پہنچایا۔ صرف تمہیں نہیں، تم سے پہلے جو تھے ان کو بھی اسی ذات خالق نے پیدا کیا۔ ﴿وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم﴾

عملِ تخلیق صرف ذاتِ واحد کے دست قدرت کا کرشمہ ہے، اس لئے آپ کے قلب و نگاہ کا مرجع بھی صرف اور صرف اسی ذاتِ واحد کو ہونا چاہئے ورنہ اتمامِ توحید مشکل ہے۔

﴿تَتَّقونَ﴾ (پرہیز گار بن جاؤ گے) راہِ توحید اختیار کیے بغیر، خدا کی سچی غلامی کی توفیق حاصل نہیں ہوتی اور نہ تقویٰ شعار انسان بن سکتا ہے۔ انسانی فکر و نگاہ منقسم ہو تو ظاہر ہے خدا کی سچی غلامی کا حق ادا نہیں ہو گا۔ اسی طرح وہ ادھر ادھر سے بچ بچا کر سفر حیات کا بے داغ اتمام بھی نہیں کر سکے ا۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ اسی ذات کی عبادت کرو جو تمہارا اور تم سے پہلوں کا رب اور خالق ہے، تم متقی بن جاؤ گے، یعنی تمہیں ماسوی اللہ سے بچ بچ کر چلنے کی توفیق اسی وقت ہی نصیب ہو سکتی ہے جب دائیں بائیں اور آگے پیچھے خدا کے سوا آپ کی آنکھوں میں اور کوئی شے اور ذات مسائی ہوئی نہ ہو۔ اگر کچھ اور بھی سمایا ہو گا، تو ادھر ادھر سے رخ موڑ کر اور یکسو ہو کر صرف اسی کے لئے اور اس کی طرف سفر جاری رکھنا محال ہو جائے گا۔

﴿رِ‌زقًا لَكُم﴾ (تمہارے لئے روزی) یہاں پر ان نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی بقا اور راحت کے لئے ضروری ہیں۔ زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ یوں ابھری ہوئی نہیں ہے، کہ اس پر قرار ممکن نہ رہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ زمین گول نہیں ہے، چپٹی ہے۔ دوسرا یہ کہ فرش (بچھونا) آرام گاہ شے کا نام ہے، کیونکہ یہ انسانی بود و باش کے لئے ایک ساز گار قرار گاہ ہے۔ دوسرے ان سیاروں کی طرح نہیں ہے جن میں زندگی محال ہے۔

آسمان کو عمارت اور چھت سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک چھت والے مکان کی طرح اوپر سے ڈھانپ رہا ہے اور انہی خواص کے ساتھ جو ایک مکان کے ہو سکتے ہیں۔ زمین و آسمان کے بیان کرنے سے غرض ان کی ہیئت بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ان سے انسان کا جو تعلق ہے اس کو بیان کرنا مقصود ہے۔

مینہ برسا کر پھل پھول اگائے تاکہ انسان ان سے متمتع ہو۔

﴿لَكُم﴾(تمہارے لئے) کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ، تم ان چیزوں کے لئے نہیں بنائے گئے ہو بلکہ یہ چیزیں تمہاری ضیافت طبع اور بقا کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔

﴿فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا﴾ (سو تم اللہ کے ہم سر نہ ٹھہراؤ) یعنی ایسا نہ ہو کہ کھاؤ کسی ذاتِ برحق کا اور گاؤ کسی اور کا۔ شیخ سعدیؒ نے کیا خوب کہا ہے۔
ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکار اند
تاتو نانے بکف آری و بغفلت نخوری
ہمہ از بہر تو سر گشتۂ وفرمانبردار
شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نہ بری

اَنْدَاد، نِدٌّ کی جمع ہے۔ نِدٌّ کے معنی نظیر، مثل اور عدل کے ہیں، امام ابن الاثیر (ف . ؁ھ) فرماتے ہیں:

ھو مثل الشيء الذی  یضادہ في أمورہ وینادُّه أي يخالفه (تاج العروس)

نِدشے کے اس مثیل کو کہتے ہیں جو اس کے تمام امور میں مخالف ہو یعنی اسی کا حریف و مد مقابل ہو۔

امام ابن جریر (ف ۳۱۰ ؁ھ) فرماتے ہیں: اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو کسی شے کی نظیر اور مشابہ ہو:

کل شي ءکان نظیر الشيء وشبیھا (جامع البیان عن تاویل آی القراٰن)

حضرت مجاہد (ف ۱۲۳ھ) حضرت قتادہ (ف ۱۱۷ھ) نے اس کے معنی: عُدَلاء (مثیل، نظیر، مانند، ہمسر، ہم مرتبہ) کیے ہیں۔ (ابن جریر)

یہ مماثلت جوہر اور اصل میں بھی ہوتی ہے اور صفات میں بھی، خدا جیسا خدا بنا لیا جائے یا کسی کو خدائی اختیارات کا مالک تصور کر لیا جائے۔ سب کو نِد کہتے ہیں۔

حضرت ابن مسعودؓ (ف ۳۴ھ) اور دوسرے بہت سے صحابہ نے انداد کے معنی یہ کیے ہیں۔

«أکفاء من الرجال تطیعوا نھم في معصية الله» (ابن جرير)

خدا کو ناراض کر کے اپنے جیسے انسانوں کی اطاعت کرنی 'انداد' کہلاتا ہے۔

حضرت عکرمہ (ف ۱۰۵ھ) نے اس کو ایک مثال سے سمجھایا ہے، وہ فرماتے ہیں: جیسا کہ آپ کہیں کہ: اگر گھر میں کتا نہ ہوتا تو چور گھر میں گھس آتا۔

أندادا أي تقولوا لو لا کلبنا لدخل اللص الدار، لو لا کلبنا صاح في الدار ونحوذلك (ابن جریر)

دیوتاؤں اور بزرگوں کو خدائی اختیارات کا ملک تصور کرنا، خدا کو ناراض کر کے بعض شخصیتوں کی دلجوئی کرنا، یا فتح و شکست، کامیابی اور ناکامی کے لئے اسباب پر نگاہ رکھنا اور ان کو موثر خیال کرنا، انداد کہلاتا ہے۔

دورِ حاضر میں بھی یہ سبھی قسم کی قباحتیں پائی جاتی ہیں، دیوتاؤں، بتوں، مزارات، بزرگوں سے جس طرح خلق خدا آسیں لگا کر رہتی ہے، وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے، اس سے بھی بڑھ کر یہ فتنے عام ہیں۔

الف۔ جن امور میں خدا کی نافرمانی ہوتی ہے ان میں بھی لوگوں کی اطاعت کی جاتی ہے اور ان کو خوش رکھا جاتا ہے۔

ب۔ اسباب اور وسائل پر نگاہ رکھی جاتی ہے اور اس سلسلے کی خدائی تلقینات کی پرواہ نہیں کی جاتی۔

یہ وہ انداد ہیں، جن کو ہم خدا کے مد مقابل اڈے کہہ سکتے ہیں۔ اور جو بد نصیب لوگ ان فتنوں کے نرغوں میں گھر گئے ہیں، ان کی عاقبت سخت خطرے میں ہے بلکہ دنیا بھی۔

﴿وَأَنتُم تَعلَمونَ﴾ (حالانکہ تم جانتے بوجھتے ہو) یہ بات کہ سچا خدا ایک ہے، وہی خالق، وہی رب اور صرف وہی رازق ہے، سب کو معلوم ہے، اس لئے مناسب بھی یہی ہے کہ اب اطاعت اور عبادت بھی تنہا اسی ذاتِ واحد ی کی بجائے۔ اس میں شکر گزاری بھی ہے اور عقل و ہوش کی بات بھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و شرک کے جو کام لوگ کر رہے ہیں، وہ ان کی بے خبری کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ جلد بازی کا ہے۔ چاہتے ہیں کہ، خدا نے تو دیر کر دی ہے، اس لئے اب یوں کر کے دیکھ لیں، شاید جلدی ہو جائے، یا جو کام وہ نہیں چاہتا، وہ دوسروں کی معرفت اس سے منوا لیا جائے کچھ لوگ اس بھول میں بھی رہتے ہیں کہ جو کام جائز یا ناجائز طریقے سے ہو سکتا ہے اس کے لئے خدا کے گرد چکر کاٹنے کی کیا ضرورت، اور اس کے احکام کے انتظار کا کیا فائدہ؟ کیونکہ غرض کام سے ہے نام سے نہیں۔ اگر اس طرح ہمارا کام ہو سکتا ہے تو خدا کا کیا بگڑتا ہے۔ لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ ناجائز طریقہ سے جو کام کیا جائے گا، ظاہر ہے وہ ضرور کسی اور کا کچھ بگاڑ کر ہی کیا جائے گا۔

جو کام جائز طریقے سے بھی کیے جائیں چاہے کہ وہ بھی مثبت طور پر اس بنیاد پر کیے جائیں کہ خدا نے اس کی اجازت دی ہے۔ اس انتساب کی ضرورت اس لئے ہے کہ نسبت، توجہ اور تعلق خاطر کی استواری کے لئے ایک عظیم نفسیاتی رابطہ ہے، اس نسبت میں کمی واقع ہو یا وہ منقسم ہو جائے تو یہ اکسیر بے کار ہو جاتی ہے، خاص کر توحید کے شایان نہیں رہتی۔ اس لئے ہمارے نزدیک جائز امور میں بھی، وحی الٰہی کے امتثال کا احساس اور شعور زندہ اور تابندہ رہنا چاہئے، ورنہ ایمانی اور اخروی نقطۂ نظر سے اس کی حیثیت فعلِ عبث سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گی۔

﴿نَزَّلنا﴾ (ہم نے اتار) اتارنا دو طرح سے ہوتا ہے، بتدریج تھوڑا تھوڑا اور یکبارگی اور اکٹھا اتارنا۔ پہلی صورت تنزیل کی ہے، دوسری صورتِ انزال کی ہے، جس میں دونوں صورتیں آجاتی ہیں، قرآن حکیم کے نزول کی صورت پہلی ہے اور یہ عین حکمتِ الٰہی کے مطابق ہے تاکہ وحی الٰہی اور انسانی طبائع میں ساز گاری اور قدرتی ہم آہنگی پیدا ہو، اور انسانی معاشرہ بہ آسانی اس کا متحمل ہو سکے۔

﴿عَبدِنا﴾ (ہمارا بندہ، محمد ﷺ یہ اضافت تشریفی اور تکریمی ہے، محمد رسول اللہ ﷺ اپنی تمام تر سرفرازیوں، عظمتوں اور رفعتوں کے باوجود خدا کے ہاں سے آپ کو جو سب سے بڑا اعزاز اور عظیم لقب عطا ہوا وہ ''عبدہ'' (خدا کا بندہ) ہے تاکہ دنیا آپ کی رفعت شان کو دیکھ کر آپ کو کچھ اور نہ بنا ڈالے۔ کلمۂ شہادت، جو اولین شرطِ ایما ہے، اس میں 'عبدہ ورسولہ' اس کا جزو ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ، اللہ کا بندہ قرب و اختصاص میں جتنا آگے بڑھتا ہے 'عبدہ' کا رنگ پھیکا پڑنے کی بجائے اور گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص بندگی اور عبدیت کے باب میں جتنا راسخ ہوتا ہے، اتنا وہ خدا کا بڑا عبد اور غلام کہلاتا ہے۔ چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کی بندگی اور عبدیت میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں، اس لئے آپ ساری دنیا سے زیادہ خدا کے عبد اور غلام ہیں۔

﴿مِن مِثلِهِ﴾ (اس جیسی) حسن انشاء، فصاحت و بلاغت، مطالب کی جامعیت اور احکام و قصص کی معنی خیز حقانیت اور افادیت اور ندرت میں قرآن حکیم اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن اس کے باوجود منکرین رسالت کو اس امر پر اصرار تھا کہ یہ کلامِ خدا نہیں بلکہ محمد بن عبد اللہ کی تصنیف ہے۔ قرآن حکیم نے اس پر ان کو چیلنج کیا کہ اگر یہ کلامِ خدا نہیں ہے تو ویسا کلام بنا کر پیش کرنا آپ کے لئے بھی ممکن ہو گا۔ سارا قرآن نہ سہی، کوئی سی چھوٹی موٹی سورت جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آئیے! خود نہیں بنا سکتے تو اپنے دوسرے معاونین سے مل کر ہی ایک سورت بنا ڈالیے ﴿وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ﴾ بلکہ سارے جہان کے لوگوں کو اپنی مدد کو بلا لاؤ، انسان کیا جنوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر پیش کر سکتے ہو تو ضرور کرو!

﴿قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ الإِنسُ وَالجِنُّ عَلىٰ أَن يَأتوا بِمِثلِ هـٰذَا القُر‌ءانِ لا يَأتونَ بِمِثلِهِ وَلَو كانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهيرً‌ا ﴿٨٨﴾... سورة الاسراء

﴿وَلَن تَفعَلوا﴾ (اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے) اس کے دو معنی کیے جاتے ہیں! ایک یہ کہ ایسا تم ہرگز نہیں کر سکو گے، دوسرے یہ کہ، تم ایسا ہرگز کرو گے نہیں۔ لیکن صحیح پہلے معنی ہیں، کیونکہ کفار کی اس سلسلے کی کوششیں معروف ہیں۔

﴿وَالحِجارَ‌ةُ﴾ (پتھر) دوزخ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ ایندھن سے آگ بھڑکتی ہے، سو اس میں جتنے نافرمان انسان اور پتھر پڑیں گے اتنی ہی آگ تیز ہوتی جائے گی۔ ان پتھروں سے مراد وہ اصنام ہیں جو گھڑ کر پتھروں سے بناتے اور ان کو پوجتے تھے۔

﴿إِنَّكُم وَما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ...٩٨﴾... سورة الانبياء

''تم اور وہ بت، خدا کے سوا جن کو تم پوجتے تھے، سب دوزخ کا ایندھن ہیں۔''

پتھروں کے ذریعے آگ تیز ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ جو لوگ ان کوپوجتے تھے، اب ان کا یہ حشر دیکھ کر کڑھیں گے اور حسرت کی آگ میں اور جلیں گے۔

مرزائیوں نے 'الحجارۃ' سے وہ پتھر دل مراد لئے ہیں جو محبتِ الٰہی سے خالی ہیں، مگر ان کے دعوائے نبوت کی طرح، ان کی یہ دریافت بھی سو فی صد غلط ہے، کیونکہ جو الناس یا الانس دوزخ میں جائیں گے یہ وہی تو ہوں گے جن کو خدا سے نفس و طاغوت زیادہ عزیز ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد الگ اس کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

﴿أُعِدَّت﴾ (تیار کی گئی ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ: دوزخ کا وجود اب بھی ہے۔ یہ نہیں کہ، کل ضرورت پڑنے پر پیدا کر لی جائے گی۔ ﴿لِلكـٰفِر‌ينَ﴾ (کافروں کے لئے) سے بھی معلوم ہوا دوزخ کی تخلیق کا اصل محرک اور بنیادی داعیہ کفاروں کا وجود ہے۔ گنہگار مسلمانوں کو جو سزا ملے گی اس کی حیثیت تادیب کی ہو گی۔ بالکل یوں جیسے راہ چلتے۔

﴿بَشِّرْ﴾ (خوش خبری دیجئے!) یہ پیامِ بشارت، ان خوش نصیب حضرات کے لئے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہیں۔ ایمان 'مَا جَاءَ بِهِ الرَّسُوْل' (جو خدا کے رسول لائے) کو برحق یقین کرنے کا نام ایمان ہے۔ اس کے مطابق زندگی گزارنے کا نام عمل صالح ہے، یا یوں خیال کیجئے کہ یقین کی یہ کیفیت جب تک دل میں رہتی ہے، ایمان کہلاتی ہے، جب پوری زندگی پر وہ چھا جاتی ہے تو اس کو اسلام کہتے ہیںِ اسلام کے ان بو قلموں مظاہر کا نام 'عمل صالح' ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض﴿لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

أخلصه وأصوبه وقال إن العمل إذا كان خالصا ولم يكن صوابا لم يقبل وإذا كان صوابا ولم يكن خالصا يقبل حتي يكون خالصاً وصوابا، قال والخالص إذا كان لله عزوجل والصواب إذا كان علي السنة (شرح اربعين لابن رجب ص ۸)

يعنی عمل صالح اور درست رکھ، فرمایا عمل خالص تو ہو لیکن صواب (درست) نہ ہو، قبول نہیں ہو گا، اگر ثواب تو ہو مگر خالص نہ ہو تو بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ ایک خالص بھی ہو اور صواب بھی۔ خالص یہ ہے کہ محض اللہ کی رضا کے لئے ہو اور صواب (درست) یہ ہے کہ، سنت پر مبنی اور اس کے موافق ہو۔

یہاں بھی عمل صالح سے یہی مراد ہے۔ ایمان لانے کے بعد، یہی مرحلہ سب سے مشکل ترین مرحلہ ہے، زندگی کے تمام شئون اور کیفیات میں اللہ کی رضا اور خوشنودی ملحوظ رہے اور پھر ان کو کتاب و سنت کے مطابق کرنے کی پابندی کی جائے تو 'پیامِ بشارت' کے وہ صحیح مستحق اور اہل ثابت ہوں گے۔

﴿لَهُم جَنّـٰتٍ﴾ (ان کے لئے بہشت ہیں) یہاں سے پیامِ بشارت کے اجمال کی تفصیل شروع کی جا رہی ہے۔ وہ باغات بہشت کی خوش خبری ہے کہ وہ ان کو نصیب ہوں گے۔

بہشت اور اس کے لوازمات ایسے خوش آئند حقائق ہیں جو ہمارے وہم و گمان سے بالا تر ہیں۔ لیکن ہمارے سمجھانے کے لئے انہیں ہمیں ہماری معروف اور دلچسپ زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ باغات، ان میں نہروں کا جال، پھر انواع و اقسام کے پھلوں کی ارزانی اور پاکیزہ رفیقۂ حیات کی معیت کے وعدے کچھ ایسے معروف اور دل آویز تصورات ہیں جو تھکے ماندے انسانوں کو گرم اور تازہ دم رکھنے کے لئے ہر آن نیا حوصلہ بخشتے ہیں۔

﴿ءامَنوا﴾ اور ﴿وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ﴾ کو مقدم بیان کیا گیا ہے جس سے غرض یہ ہے کہ: ان کے ایمان اور عمل صالح کا محرک یہ بظاہر حیوانی تقاضائے نہیں ہیں، بلکہ صرف رضائے الٰہی اور امتثال احکام خداوندی ہے۔ وہ صرف اس لئ نیک عملی کی راہ اختیار کرتے ہیں کہ اللہ میاں کا یہی حکم ہے اور اسی میں اس کی رضا ہے۔ بہرحال اگر خوش ہو کر اللہ تعالیٰ ان پر اپنے ان انعام و اکرام کی بارش بھی کر دے تو اس کے بندے اس کے بھی محتاج تو ہیں ہی۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ: بندۂ مومن اس امر سے کہیں بلند ہے کہ وہ محض ان اشیاء کے حصول کے لئے آداب بندگی بجا لائے، ان کے لئے اپنی پیشانی رگڑے، سر کٹائے، گھر اور جان لٹائے۔

﴿رُ‌زِقنا مِن قَبلُ﴾(جو ہمیں پہلے ملے) وہ یہ بات ازراہِ فرطِ مسرّت کہیں گے، کیونکہ بہشت کا ہر میوہ اتنا روح پرور ہو گا کہ کھا کر بھی اس کا انتظار رہے گا، جب وہ مل جائے گا تو جھوم کر کہیں گے، یہ لو، وہی شے آگئی! دوسری وجہ یہ ہے کہ ان پھلوں کی حیثیت دنیوی پھلوں جیسی نہیں ہو گی کہ اگر ایک دفعہ کوئی پھل کھا پی لیا جائے تو اس سے دل بھر جائے بلکہ وہ ایک ایسے نشاط آور، لذیذ اور روح پرور پھل ہوں گے کہ جی یہی چاہے گا کہ بس انہیں دیکھتے اور کھاتے ہی رہیں۔

یہ لذت، کیف اور کھانا، بس ہمارے سمجھانے کے لئے ایک اسلوبِ بیان ہے، کیونکہ اس دنیا کی ریت یہاں سے بالکلیہ مختلف ہے۔ رنگ و بو اور مزے سب صورتوں میں مختلف ہیں، وہاں کھانا ہے لیکن یہاں کی طرح کا نہیں، وہاں پھل ہوں گے مگر دنیوی پھلوں اور پھلواریوں جیسے نہیں، بس یوں تصور فرما لیجئے! کہ وہاں وہ کچھ ہو گا جس سے ہر بہشتی وہاں کی دنیا کے مطابق شاد کام ہو گا، سکون اور روح پرور نشاط محسوس کرے گا۔

جنت کے پھلوں میں جو تشابہ ہو گا، وہ از قسم جنتی ہو گا، جو بہرحال دنیا کے پھلوں سے جدا ہو گا، جیسے یہاں بھی ہے کہ، ایک علاقے میں جو پھل ہوتا ہے وہ بعض دوسرے علاقے سے مختلف ہوتا ہے، اس لئے ان کا یہ تشابہ اپنا تشابہ ہو گا۔ کچھ بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہ پھل ظاہری شکل و صورت میں دنیوی پھلوں جیسے ہوں گے۔ تبھی دیکھتے ہی وہ بول اُٹھیں گے کہ لو! یہ تو وہی پھل آگئے۔ لیکن ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جب جب ملے گا، یہی کچھ ان کو محسوس ہو گا۔ صرف پہلی دفعہ ملنے پر ایسا نہیں کہیں گے ﴿كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها﴾

﴿أَزو‌ٰجٌ﴾ (ساتھی، رفیق، شوہر، بیوی) زوج جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس جوڑے سے کیا مراد ہے؟ دوست، بیوی یا شوہر؟ یہ سبھی ہو سکتے ہیں، اگر ساتھی اور دوست سے تعبیر کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ کیونکہ یہ عام ہے۔

بہترین اور پاکیزہ ساتھی، خدا کی دین اور انعام ہے۔ چونکہ دنیا میں اس کی مانگ ہونے کے باوجود تقریباً تقریباً وہ نایاب ہے۔ اس لئے آخرت میں اس کا اتمام ہو جائے گا کیونکہ انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت یہی ہے کہ اچھا ساتھی اور رفیق میسّر ہو جائے۔ وہ دوست ہو یا شوہر یا بیوی۔ بہرحال وہ وجہ سکون ہوتا ہے۔