نام کتاب : حفاظت حدیث

مؤلّف : پروفیسر خالد علوی۔ ایم اے۔ ایم او ایل

استاذ شعبۂ علومِ اسلامیہ۔ پنجاب یونیورسٹی۔ لاہور

صفحات : 354 صفحات

ناشر : المکتبۃ العلمیہ. لاہور

قیمت : 12 روپے

ملنے کا پتہ : المکتبۃ العلمیہ. 15 لیک روڈ. لاہور

کتاب و سنت کے سلسلے میں جن لوگوں نے دلچسپی لی ہے ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ منکرینِ حق، اہلِ تسلیم اور مذبذبین۔

منکرینِ حق:

انہوں نے تو سنت کے ساتھ کتاب اللہ میں بھی تشکیک کی راہ پیدا کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ دنیا کے دل سے ان کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یہ لوگ علمی مغالطہ میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ اسلام دشمنی کے مریض ہیں۔

ان کا علاج دلائل کے ذریعے مطمئن کرنا نہیں ہے بلکہ تبلیغ اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ حیات کا مشاہدہ کرانا ہے تاکہ ان کے دلوں میں ایمان کی تحریک پیدا ہو، اِن شاء اللہ اس کے بعد اس کے سب 'بل کس' نکل جائیں گے۔

اہلِ تسلیم:

یہ وہ اہلِ اسلام ہیں جو اہل تسلیم ہیں اور وہ خوش قسمت اس آیت کا مرئی پیکر ہیں:

﴿حَتّىٰ يُحَكِّموكَ فيما شَجَرَ‌ بَينَهُم ثُمَّ لا يَجِدوا فى أَنفُسِهِم حَرَ‌جًا مِمّا قَضَيتَ وَيُسَلِّموا تَسليمًا ﴿٦٥﴾... سورة النساء

ان کی صحیح خدمت یہ ہے کہ ان کے اس نظریہ کے مطابق ایک اسلامی نظام قائم کیا جائے تاکہ ان کی خوئے تسلیم و رضا میں مزید آب و اب پیدا ہو، کیونکہ فکر و نظر میں استحکام، عملی مواقع مہیا کیے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

مذبذبین:

یہ وہ اہلِ تشکیک اور اہلِ بدعت لوگ ہیں جو سنت کے سلسلے میں ظنون فاسدہ، ریب، تذبذب اور شک و شبہات میں پڑ گئے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم ان کے رحم و کرم پر رہ یا ہے۔ امام حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ (ف ۷۵۱ھ) نے الصواعق المرسلة علي الجھمية والمعطلة میں اس موضوع پر بما لا مزید علیہ روشنی ڈالی ہے۔ اور حق ادا کر دیا ہے۔ اس وقت راقم الحروف کے سامنے اس کی مختصر ہے جو شیخ محمد بن الموصلی نے مرتب کی تھی۔ جسے جلالۃ الملک عبد العزیز آلِ سعود کے خرچہ سے شائع کیا گیا تھا۔

ان مذبذبین کی کئی قسمیں ہیں:

ایک کا کہنا ہے کہ: چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سہو و خطا سے پاک نہیں ہیں اس لئے آپ ﷺ کی سنت شرعی ماخذ نہیں بن سکتی۔ خوارج کے اسلاف کا یہی مذہب تھا۔

ایک اور گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ: صرف وہ حدیث قبول کی جائے گی، جو قرآن کے موافق ہو گی۔

تیسرے کہتے ہیں: متواتر احادیث تو مانیں گے، احاد نہیں۔

چوتھے طبقے کا کہنا ہے کہ صرف وہ روایات قبول کی جائیں گی جو اہل بیت کی معرفت پہنچیں گی۔

پانچویں گروہ کا خیال ہے کہ: جمل اور صفین کی لڑائیوں میں جو صحابہ شریک رہے ان کی روایات قبول نہیں کی جائیں گی۔

چھٹا ٹولہ شرط عاید کرتا ہے کہ صرف وہ روایت قبول کریں گے جن کے راوی چار ہوں اور وہ ایک دوسرے سے دور رہنے والے ہوں۔

ساتویں صاحب کہتے ہیں کہ جس روایت کے مضمون میں صحابہؓ نے نزاع نہ کیا ہو، صرف وہ روایت قبول کی جائے گی۔

آٹھواں گروہ کہتا ہے کہ صرف ان احکام میں خبر واحد قبول کی جائے جو شبہات سے ساقط نہیں ہوتے یعنی حدود میں نہیں۔ یہ معتزلہ کا مسلک ہے۔

نہم وہ طائفہ ہے جو یہ شرط عائد کرتا ہے کہ جب تک کوئی اور ثقہ راوی بیان نہ کرے خبر واحد نہیں قبول کی جائے یعنی ایک سے زائد راوی، وہ ایک ہو یا زیادہ، امام ابو بکر رازی نے اسے بعض حنفیوں کا مسلک قرار دیا ہے۔

دہم وہ ہیں جن کا اصرار ہے کہ عموم البلوی کی صورت میں خبر واحد قبول نہیں کی جائے گی، یہ احناف میں سے عیسیٰ بن ابان اور امام کرخی رحمہا اللہ کا مذہب ہے۔

گیارہویں طبقہ کا ارشاد ہے، غیر فقیہ صحابی کی روایت قبول نہیں کی جائے گی (جو قیاس کے مخالف ہو گی)

بارھویں وہ لوگ ہیں جو ان روایات کو قبول نہیں کرتے جو ان کے زعم کے مطابق ظاہر قرآن کے خلاف ہیں (الصواعق المرسلۃ ج ۲، ص ۴۳۴ تا ۴۴۱)

اگر خالد علوی صاحب اس کتاب کو بھی سامنے رکھ لیتے تو انہیں انکارِ حدیث کی باریک سے باریک چالوں اور مغالطوں کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی۔ اگر اسی جامعیت کے ساتھ ان پر بھی روشنی ڈالی ہوتی تو کتاب کی افادی حیثیت دوبالا ہو جاتی۔

تیرہواں ٹولہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے 'ردِ احادیث' کے لئے نظریۂ توحید کو استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: اسلام کا نصب العین یہ ہے کہ عبد اور معبود کے درمیان دوسرا کوئی واسطہ نہ رہے، ان کامقصد ہے کہ حدیث و سنت کو بھی درمیان میں سے اُٹھا دیا جائے، ورنہ توحید کا اتمام نہیں ہو گا۔ یہ مسلک ہندو پاک کے منکرینِ حدیث کا ہے جن کے سرخیل آج کل جناب غلام احمد پرویز ہیں، ان کے دلائل اور بول تقریباً وہی ہیں جو امام ابن القیم کے بیان کردہ طبقات نے مہیا کئے ہیں، گویا کہ محترم پرویز 'خاتم المنکرین' ہیں۔

؎ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

زیر نظر کتاب 'حفاظت حدیث' پاک و ہند کے ان ہی منکرین حدیث کو سامنے رکھ کر ان کے وساوس اور تلبیسات کو دور کرنے کے لئے لکھی گئی ہے۔

ہمارے دوست خالد علوی فاضل نوجوان ہیں جو کبھی 'پرویزیت گزیدہ' بھی رہے ہیں جس کا انہوں نے کتاب کے دیباچے میں بھی ذکر کیا ہے کہ بالآخر مولانا مودودی کی تحریر 'منصبِ رسالت' کے مطالعہ سے متاثر ہو کر منکرین کے نرغے سے نکلے ہیں۔

فاضل موصوف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک میں مقامِ حدیث کے عنوان سے ضرورتِ حدیث اور اس کی اہمیت کو دلائل سے واضح فرمایا ہے اور منکرین کے بنیادی مغالطات کی قلعی کھولی ہے اور دوسرے 'حفاظتِ حدیث' میں منکرین کے اس واویلا کا جائزہ لیا ہے کہ: جب حدیث خود حضور ﷺ نے مرتب کر کے نہیں دی تو لوگوں کا کیا اعتبار؟ سہو و خطا کے امکان کے ہوئے ہوئے اس کو کیسے ماخذ دین بنایا جا سکتا ہے۔

کتاب کا اسلوب استدلال علمی، منطقی اور قرآنی ہے۔ انداز بیان آسان، عام فہم، عبارت نہایت شستہ وار رواں ہے دلائل میں کافی جامعیت ہے۔

عزیز محترم پروفیسر علوی صاحب نے یہ انکشاف کیا ہے کہ: منکرین حدیث چاہتے ہیں۔

''لوگوں کو حدیث سے بدظن کر کے فقط قرآن تک محدود رکھا جائے تاکہ قرآن کی من مانی تاویل کے لئے گنجائش نکل سکے۔'' (ص ۱۱)

ہم بہرحال منکرین کی اس نیک نیتی سے واقف نہیں ہیں جس کا علوی صاحب نے ذکر کیا ہے۔ لیکن ہم اسے تسلیم کئے دیتے ہیں کیونکہ جناب فرماتے ہیں کہ وہ ان کے ہاں سے تشریف لا رہے ہیں۔ صاحب البیت أدری مافیه۔

زیرِ نظر کتاب کے بعض مقامات میں بڑی دلکشی، سوز، ادبی چاشنی اور دلچسپ تلمیحات ملتی ہیں کہ پڑھ کر طبیعت وجد میں آجاتی ہے۔ پرویز کی آغوش، خدا فراموش ماحول اور خود فراموش نظامِ تعلیم کے نرغے میں رہ کر ہم سوچتے ہیں کہ:

جناب پرویز کی ساحرانہ آغوش، ماحول خدا فراموش اور نظام تعلیم خود فروش جیسے نرغوں سے نکل کر کتاب و سنت کی یوں خدمت کرنا، یہ رب کی دین اور توفیقِ الٰہی کا کرشمہ ہے، جس پر ہم عزیز موصوف کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔

علامہ موصوف نے شروع میں لکھا ہے کہ مدارس نظامیہ میں سوال کرنا گستاخی تصور کیا جاتا ہے (ص ۶) ہمارے لئے انکشاف ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کے بالکل خلاف ہے، جتنی آزادی یہاں ہے شاید ہی اور کہیں ہو۔ ہاں احترام ضرور ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ بخلاف جدید درس گاہوں کے۔ ایک اور مقام پر فاضل موصوف لکھتے ہیں کہ:

جمع احادیث کا اصل سبب خود حضور ﷺ کی جاذب اور محبوب شخصیت تھی۔ مسلمانوں کو آپ سے جو قدرتی اور والہانہ محبت تھی اس کے نتیجے میں احادیث کی تدوین ہوئی (ص ۱۲ ملخصاً)

ہمارے نزدیک اسے اگر یوں بیان کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا کہ: محبت کے ساتھ شرعی ضرورت تدوینِ حدیث کی موجب بنی۔ یعنی محبت کا تقاضا تھا کہ محبوب کی باتیں کی جائیں، شرعی ضرورت تھی کہ زندگی کے مختلف مرحلوں میں ان سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔

اہلِ تعطیل نے خدا کو تخلیق کے بعد معطل کر کے رکھ دیا اور ہمارے منکرین حدیث وہ اہلِ تعطیل ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو معطل کر کے رکھ دیا ہے کہ ان کی پاک زندگی کو اپنی امت کے لئے بالکل غیر متعلق شے بنا دیا ہے۔ خدا ان کو سمجھ دے۔

(۲)

نام کتاب : اسلام کا معاشرتی نظام

مؤلّف : پروفیسر خالد علوی

صفحات : 388 صفحات

ناشر : المکتبۃ العلمیہ. لاہور

قیمت : 9 روپے

ملنے کا پتہ : المکتبۃ العلمیہ. 15 لیک روڈ. لاہور

اسلام دین رہبانیت نہیں ہے اور نہ اس کی حیثیت پرائیویٹ مذہب کی ہے بلکہ یہ ایک جامع نظام حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے، انفرادی ہوں یا اجتماعی۔ عہد حاضر نے، انسان کی منفرد حیثیت کو گو ختم نہیں کیا لیکن ابنائے جنس کے ساتھ اس کے میل ملاپ میں اتنا امتزاج پیدا کر دیا ہے کہ اب اس کی الگ حیثیت دھندلا گئی ہے۔

معاشرتی نظام سے مراد ایک ایسا سلیقہ حیات ہے جس میں باہمی حقوق اور حدود کا تعین کیا جاتا ہے، جو جس ذہن اور استعداد کا مالک تھا، اس نے اسے خود ہی اپنے رنگ میں ترتیب دیا لیکن خدا سے پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی، اس لئے دنیا میں جتنے غیر اسلامی نظام معاشرت پائے جاتے ہیں وہ بس ایک 'گزارہ' ہیں، نظام نہیں ہیں، کیونکہ ان میں نظام والی جامعیت اور خاصیت والی بات نہیں ہے۔ ان کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ان میں خدا کے حقوق اور تعلق کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی، دوسرا یہ کہ ان سب کی حیثیت حقیقۃً غیر سرکاری کی ہے، کیونکہ وہ ایک غالب مگر محدود گروپ کی مرضی اور خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں اس لئے ان سب کی حیثیت حقیقۃً غیر سرکاری کی ہے، کیونکہ وہ ایک غالب مگر محدود گروپ کی مرضی اور خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں اس لئے اس امر کی ضرورت تھی کہ دنیا کو ایک ایسے نظامِ معاشرت سے آگاہ کیا جاتا جو جامع بھی ہو اور غیر جانبدار نہ بھی۔ اس کے دوش پر کسی فرد واحد یا چند افراد کے مفاد کی ضیافت طبع کے سامان کرنے کا بوجھ نہ ہو۔ بلکہ بے آمیز اور بے لوث ہو اور سب کے لئے یکساں ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسا نظام صرف وہی ذات مہیا کر سکتی ہے جو سب کی مالک ، خالق اور مربی ہے۔ یعنی خدا۔

بس کتاب 'اسلام کا معاشرتی نظام اسی سلسلے کی ایک کڑی اور کوشش ہے، جس میں معاشرتی نظام کی ضرورت اس کے تاریخی مختلف ادوار اور سب کی جداگانہ خصوصیات کے بعد اسلامی نظام معاشرت کی جامعیت اہمیت، افادیت اور اس کے انواع و اقسام کی پوری پوری نشاندہی کی گئی ہے۔

وحدت نسل انسانی اور اس کی فکری وحدت، شرف انسانیت کے متعلقات، اس کے بعد معاشرتی اداروں کی تفصیل کا ذکر ہے۔ مثلاً خاندان، حقوق نسواں، حقوق والدین، اولاد، قرابت داروں، مساجد، مکاتب، ریاست کے حقوق و حدود کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں 'ثقافت کی تشریح اور اسلامی ثقافت کا مابہ الامتیاز بتایا گیا ہے۔ اور یہ بحث بالخصوص قابلِ دید ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فاضل نوجوان کو خدمتِ دین کی مزید توفیق دے اور اپنی جناب سے اس کو خصوصی اجر جزیل عنایت کرے۔

اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے، بلکہ چاہئے کہ ہر مسلم اس کا مطالعہ کرے اور اسے اپنے پاس رکھے۔ جو لوگ اسلام کو ایک فرسودہ اور دقیانوسی نظام تصور کرتے ہیں، اس کے مطالعہ کے بعد ان کو یقیناً اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔

مختلف ادیان اور اقوام کے معاشرتی نظاموں کے جو تقابلی ابواب پیش کئے گئے ہیں ان کا مطالعہ ان لوگوں کو بالخصوص ضرور کرنا چاہئے جو اسلام کے بجائے اغیار کی تہذیب کے گن گاتے رہتے ہیں۔

اس کتاب میں 'انگریزی' کتابوں کے حوالوں کی بڑی بھرمار ہے، گو یہ کچھ بری بات نہیں لیکن مصلحت اسی میں ہے کہ اب اقوام مغرب کو استناد کی حدود سے باہر دھکیل دیا جائے بلکہ جب تک مسلمان ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے نہیں ابھرتے اس وقت تک مغربی مفکرین کو اُٹھا کر بالکل پس پردہ پھینک دیا جائے تاکہ کم از کم ہماری نئی نسل 'معیار و استناد' کے لئے اغیار کی طرف دیکھنے کی فرصت نہ پا سکے، یقین کیجئے! گھر میں بہت کچھ ہے ان کو آوارہ صحرا نوروی کے خبط سے بچائیے۔

(۳)

نام کتاب : تحریک جامع محمدی۔ فکر و فلسفہ

تالیف : سید محمد متین ہاشمی (ایم۔ اے)

صفحات : 28 صفحات

قیمت : 4 روپے

ناشر : شعبۂ تصنیف و تالیف، جامعہ محمدی شریف، جھنگ، پاکستان

مولانا محمد ذاکر ایم۔ این۔ اے۔ نے ۱۳۵۲ھ میں ضلع جھنگ کی ایک قدیم بستی محمدی شریف میں ایک دینی دار العلوم کی بنیاد رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج یہ دینی دار العلوم ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ شیخ الجامعہ مولانا محمد متین ہاشمی نے اس تحریک کے فکر و فلسفہ پر یہ کتاب لکھی ہے۔

امتِ مسلمہ کی تباہی کا سب سے بڑا سبب افتراق و انتشار ہے۔ تحریک جامعہ محمدی کے فکر و فلسفہ میں 'اتحاد بین المسلمین' کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح آج ہمارا معاشرہ دین اور دنیا کی تفریق کا شکار ہے اور ہمارے مروجہ نظام ہائے تعلیم اس خلیج کو بڑھا رہے ہیں۔ دینی دار العلوموں سے فارغ التحصیل ہونے والے دنیوی معاملات سے کورے ہوتے ہیں اور کالجوں کے پڑھے لکھے لوگ اسلام کے بارے میں کوئی قابلِ رشک معلومات نہیں رکھتے۔ جامعہ محمدی قدیم و جدید اور دین و دنیا کا امتزاج چاہتی ہے۔

کتاب میں تاریخی پس منظر کے ساتھ قدیم و جدید کی آمیزش پر زور دیا گیا ہے اور اتحاد کے لئے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ 'الجمع بین المختلفات' کو لائحہ عمل بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔ مولانا ہاشمی نے کامیابی سے 'جامعہ محمدی' کا تعارف پیش کیا ہے۔

دورانِ مطالعہ مندرجہ ذیل خامیاں محسوس ہوئی ہیں جنہیں اگلے ایڈیشن میں درست کر دیا جائے تو کتاب کی وقعت بڑھ جائے گی۔

1. مؤلف نے فقہی مسالک میں 'دہلوی فقہ' کا عنوان قائم کیا ہے۔ دہلوی فقہ، حنفی فقہ ہی ہے۔

2. فتاویٰ تا تار خانیہ کے مؤلف حنفی تھے۔ اسی طرح فتاویٰ عالمگیری بھی حنفی مسلک کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

3. کتاب میں کہیں ہجری سن لکھا گیا ہے اور کہیں عیسوی۔ مثال کے طور پر ص ۸ پر جامعہ کی تاریخ تاسیس ۱۸ محرم ۱۳۵۲ھ بتائی گئی۔ ص ۱۰ پر لکھا ہے اس کے مقاصد و عزائم ۱۹۴۸ء میں رجسٹرڈ کرائے گئے۔ ہر دو جگہ ایک ہی کیلنڈر عیسوی یا ہجری استعمال ہوتا تو قاری درمیانی عرصے کا صحیح اندازہ کر سکتا۔

4. 'اطلبوا العلم ولو کان بالسین' مشہور مقولہ ہے اسے حدیث قرار دینا درست نہیں۔

5. برصغیر میں مسلمانوں کا دورِ زوال اورنگ زیب عالمگیر کی وفات ۱۷۰۷ء سے شروع ہو گیا تھا۔ ص ۳۶ پر ۱۷۱۲ء کو دورِ تنزّل کا آغاز قرار دیا گیا ہے۔

6. ۱۹۵۱ء میں کراچی میں ۳۱ علماء شریک ہوئے تھے اور اسلامی دستور کے ۲۲ بنیادی نکات پیش کئے تھے۔ ص ۱۱۳ پر تعدادِ علماء ۲۷ بتائی گئی ہے۔

علاوہ ازیں ہماری رائے میں 'الجمع بین المختلفات' کے فلسفہ کا محرک تو بڑا نیک جذبہ ہے اور مرض 'انتشار' کی تشخیص بھی درست ہے لیکن پیش کردہ علاج صرف اہری عوارض تک محدود ہے۔ لہٰذا جب تک بنیادی خرابی اور جڑ کا مداوا نہ کیا جائے اتحاد کا خواب شرمندۂ تعیر نہ ہو سکے گا۔ قرآن کریم نے افتراق کا باعث تو واقعی 'بغیاً بینہم' کو قرار دیا ہے لیکن اس کا علاج باطنی طور پر 'تقویٰ' اور ظاہری طور پر اعتصام بحبل اللہ' بتایا ہے جو تقویٰ ہی کی بنا پر ممکن ہوتا ہے۔ اسی لئے ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا﴾ سے پہلے اتقوا اللہ کا ارشاد فرمایا۔ تقویٰ کی مثبت صورت اللہ کے لئے یکسوئی یعنی توحید اور خیفیت ہے گویا اتحاد کا انحصار توحید پر ہے اور توحید کا پورا نقشہ دین ابراہیمی کی آخری اور مکمل صورت سنتِ رسول اللہ ﷺ میں ہی ملتا ہے۔ لہٰذا تمام اختلافات کا حل اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے گہری وابستگی یا دوسرے لفظوں میں صرف 'اتباعِ کتاب و سنت' ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مسلک اعتدال کے ذیل میں جس رواداری کا ذکر کیا گیا ہے اس سے موجودہ حالات میں منافقت کا بھی اندیشہ ہے جو ایک خطرناک مرض ہے اور انتشار کا سب بھی۔ اس لئے اگر معتقدات یا معمولات میں مداہنت کی تلقین کی بجائے جذبۂ اتباع کتاب و سنت بیدار کیا جائے تو خود ہی شخصی اختلافات کی شدت کم ہو کر اتحاد زور پکڑے گا اور بے لاگ تحقیق کا میلان پیدا ہو ا۔ جس سے نہ صرف مسائل میں عوام کا الجھاؤ کم ہو کر باہمی نفرت و تعصب میں تخفیف ہو گی او فتویٰ بازی کا میدان ٹھنڈا پڑ جائے گا بلکہ مسائل میں بھی الاھم فالاھم کی بنیاد پر زور دیا جائے گا صرف مابہ الاشتراک کی تلاش تو فوضویت (انتشار) کا موجب ہوتی ہے نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کا مشترکہ سرمایہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کتاب و سنت ہی ہیں اور انہی سے حقیقی وابستگی باہمی دلبستگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ (مدیر)

(۴)

نام کتاب : دو ماہی 'اسلامی تعلیم' ڈاکٹر محمد رفیع الدین نمبر

مرتب : مظفر حسین

صفحات : 88 صفحات

قیمت فی شمارہ : 2 روپے

سالانہ چندہ : 10 روپے

ناشر : آل پاکستان اسلامک ایجوکیشن کانگرس.۷. فرینڈز کالونی ملتان روڈ. لاہور

ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم ایک بلند پایہ فلسفی تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ مستقبل کا انسان قرآنی 'نظریۂ کائنات' کے علاوہ ہر نظریۂ کائنات کو عہد قدیم کی جہالت قرار دے گا (انتساب قرآن اور علم جدید) مرحوم نے اسلامی فلسفۂ کائنات کی تشریح و توضیح میں عمرِ عزیز کا ایک حصہ گزارا۔ دو ماہی 'اسلامی تعلیم' ان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہے۔ زیر نظر اشاعت ڈاکٹر مرحوم کی یاد میں مختص ہے۔ آغاز میں ڈاکٹر صاحب کا مختصر تعارف اور ان کا عکسِ تحریر پیش کیا گیا ہے۔ مدیر رسالہ جناب مظفر حسین صاحب کے مختصر اور پُر زور اداریہ کے بعد مضامین شروع ہوتے ہیں۔ عبد الحمید کمالی عباد اللہ فاروقی مرحوم اور ندیم کے مضامین شامل اشاعت ہیں جن میں ڈاکٹر صاحب کے نظریات کی تفہیم و تشریح کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے چار مختصر مضامین قومی کردار، مستقبل کا نعرۂ انقلاب، اسلام میں آزادی اور ترقی کا مفہوم اور نظریاتی تعلیم پرچے کا اہم جزو ہیں۔

(۵)

نام کتاب : ایک لمحہ فکریہ

تالیف : عبد الحمید صدیقی و نعیم صدیقی

قیمت : ۴۰ پیسے

صفحات : ۴۰

ناشر : مکتبہ معاویہ، ۶/۱۱ بی ون ایریا، لیاقت آباد کراچی نمبر ۱۹

اعلانِ تاشقند کے بعد مایوس کن فضا میں 'حزبِ اختلاف' نے لاہور میں 'نیشنل کانفرنس' بلائی تھی۔ جس میں مشرقی و مغربی پاکستان کے آٹھ سو مندوبین نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں جناب نعیم صدیقی نے فکر انگیز تقریر کی تھی کہ جذبات کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لیا جائے۔ ان کی یہ تقریری بے حد پسند کی گئی تھی۔

مارچ ۱۹۶۶ء میں عبد الحمید صاحب نے 'ترجمان القرآن' میں کانفرنس اور حالات کا تجزیہ کیا تھا۔ 'مکتبہ معاویہ' نے افادۂ عام کی خاطر نعیم صدیقی صاحب کی تقریر او عبد الحمید صاحب کا مقالہ یکجا شائع کیا ہے۔

آج بنگلہ دیش کی منظوری کے بعد ہمارے ملک کی سیاسی فضا میں وہی ہیجان اور کھچاؤ پایا جاتا ہے جو معاہدہ تاشقند کے بعد تھا۔ ان حالات میں یہ کتابچہ اہل علم و نظر کے لئے واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے۔

(۶)

نام کتاب : رجب کے کونڈوں کی حقیقت

صفحات : 32 صفحات

قیمت : 40 پیسے

ناشر : مکتبہ معاویہ، ۶/۱۱ بی ون ایریا، لیاقت آباد کراچی نمبر ۱۹

بعض نادان اہل سنت میں یہ رسم ہے کہ ۲۱ رجب کی شب کو میدہ، شکراور دودھ گھی وغیرہ ملا کر ٹکیاں پکائی جاتی ہیں اور ان ٹکیوں پر امام جعفر صادقؓ کی فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور ۲۲ رجب کی صبح عزیز و اقارب کو بلا کر کھلائی جاتی ہیں۔ اس رسم سے مقصود یہ ہے کہ اس طرح حاجات حل ہو جاتی ہیں۔

زیر نظر کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک بدعت ہے اور دشمنانِ صحابہؓ نے اسے رائج کیا ہے۔ ۲۲ رجب حضرت امیر معاویہؓ کا یوم وفات ہے اور دشمنانِ صحابہؓ کونڈوں کا اہتمام کر کے درحقیقت خوشی مناتے ہیں جس میں نادان اہل سنت بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

کتابچہ کے آغاز میں علمائے اہلِ سنت کے فتاویٰ شامل ہیں جنہوں نے اس رسم کو بدعت قرار دیا ہے۔ آخر میں حضرت معاویہؓ کے فضائل مختصراً بیان کر دیئے گئے ہیں۔

(۷)

نام کتاب : میلاد النبی

صفحات : 52

قیمت : ایک روپیہ ۸۷ پیسہ

نام کتاب : دو عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)

صفحات : 69

قیمت : دو روپیہ انیس پیسہ

ناشر : مکتبہ ظفر ناشران قرآنی قطعات بالمقابل جامع مسجد محلہ فیض آباد گجرات

مولانا ابو الکلام آزادؒ کے مضامین و مقالات کے مجموعے جس کثرت سے شائع ہوئے ہیں۔ اسی قدر کتابت و طباعت میں کور ذوقی کا ثبوت دیا گیا ہے۔ مولانا کے گراں قدر مضامین اور تصانیف کی اشاعت صُوری طور پر اسی انداز پر ہونی چاہئے تھی جس کو وہ مستحق ہیں۔ مکتبہ ظفر کی شائع کردہ یہ دونوں کتابیں دیکھ کر طبیعت خوش ہوتی ہے۔ ناشر نے حسنِ ذوق کا ثبوت دیا ہے۔ دو رنگوں میں آفسٹ کی طباعت ہے۔

جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے۔ عنوانات سے واضح ہیں۔ مولانا آزاد کی تحریر پر کچھ لکھنا چھوٹا منہ اور بڑی بات کے مترادف ہے۔

(۸)

نام کتاب : اسلام کا تعارف

مؤلف : وحید الدین خان

صفحات : 32 صفحات

قیمت : 40 پیسے

ناشر : مکتبہ معاویہ، ۶/۱۱ بی ون ایریا، لیاقت آباد کراچی نمبر ۱۹

وحید الدین خان مدیر ہفت روزہ 'الجمیعت' دہلی اپنی کتاب 'علم جدید کا چیلنج' کی وجہ سے خاصے معروف ہیں۔ ان کا یہ دلچسپ مضمون 'مکتبہ معاویہ' نے تبلیغی غرض سے شائع کیا ہے۔