ہمارے معاصرِ محترم جناب غیاث الدین صاحب نے 'بحث' کا جو انداز اختیار کیا ہے وہ 'خلطِ مبحث'' کی ایک دلچسپ مثال ہے، اگر یہ راہ اختیار کر لی جائے تو شاید ہی کوئی بحث ختم ہو۔

معاصر موصوف سے گفتگو اس لئے بھی بدمزہ رہتی ہے کہ ان کی بات میں علم کم مگر جذبات میں تصنع اور خانہ ساز مفروضات زیادہ ہوتے ہیں اور اس باب میں یہ طبقہ اسی قدر تہی دامن ہے کہ اگر کبھی کسی علمی مبحث میں قدم رکھتا بھی ہے تو علم و تحقیقی کی پسلی پھڑک اُٹھتی ہے، مثال کے طور پر اسی مبحث کے دوران لکھتے ہیں کہ:

''قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے آل جزو محمد مصطفیٰ ہے، تمام مذاہب اسلامیہ کی رو سے درود بروئے قرآن و تفسیر رسول محمد و آل محمد ہی پر بھیجنے کا حکم ہے اور بھیجا جاتا ہے۔ اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں لیا جا سکتا کہ آل محمد اجزائے محمد ہیں۔ اسی لئے قرآن حکیم میں آیہ درود میں 'یصلون علی النبي' آیا ہے۔ ''یصلون علی نبي''نہیں آیا۔ یعنی ال (الف لام) جنسی آیا ہے، یعنی نبی اور اس کے ہم جنس پر درود ہے۔'' (معارف اسلام جون ۱۹۷۳، ص ۱۴)

الف لام جنسی کی اس تشریح پر شارح کافیہ علّامہ رضی (شیعہ) اور جزو کل کے اس جدید تصور پر فلسفہ و منطق کے امام بو علی سینا، فارابی اور کندی جیسے افاضل ہی ان کو داد دے سکتے ہیں ہماشما کی کیا مجال۔ بس سارے مضمون میں کچھ اسی قسم کے ان کے علمی شاہکار اور نمونوں کی بھرمار ہے جہان کیفیت یہ ہو، وہاں ان سے گفتگو کوئی کیا کرے اور کیسے کرے؟ اس پر مستزادیہ کہ تقیہ باز لوگ ہیں۔ اس لئے یہ کتنا بھی لکھیں ایک قاری اوّل تا آخر اندھیرے میں ہی رہتا ہے کہ موصوف نے جو لکھا ہے، واقعی یہ ان کے دل کی آواز ہے۔ یا کوئی چکر چلا کر تقیہ بازی کا شوق فرما رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ان کے امام کیا کرتے تھے۔ زرارۃ بن اعین شیعوں کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ وہ فرماتے ہیں، میں نے امام باقر سے ایک مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے بتا دیا، پھر وہی مسئلہ آپ سے ایک اور شخص نے پوچھا تو اس کو دوسری طرح جواب دیا، تیسرے نے آکر پوچھا تو کوئی اور جواب دیا۔ ان کے جانے کے بعد میں نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے؟ فرمایا تمہارے اور ہمارے لئے یہی بہتر ہے۔

«عن زرارة بن أعین عن أبي جعفر علیه السلام قال سالته عن مسئالة فأجابني ثم جاءه رجل فسئاله عنھا فأجابه بخلاف ما أجابني ثم جاء اٰخر فأجابه بخلاف ما أجابني وأجاب صاحبي فلما خرج الرجلان قلت يا ابن رسول الله رجلان من أھل العراق من شيعتكم قد ما يسئلان فأجبت كل واحد منھم بغير ما أجبت به صاحبه فقال يا زرارة إن ھذا خير لنا وأبقي لنا» (اصول كافي)

رجال کشی میں محمد بن قیس کا ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ میں نے امام باقر سے ایک مسئلہ پوچھا تو مجھے بتا دیا اگلے سال پھر وہی پوچھا تو اور طرح بتایا، میں نے اس اختلاف کی وجہ پوچھی تو فرمایا، تقیہ کیا ہے۔ (رجال کشی)

فرمائیے! ان کی کس بات پر اعتماد کیا جائے۔ جہاں ان کے اکابر کا یہ عالم ہے وہاں ان کے اصاغر کا کیا حال ہو گا؟ خود ہی سوچ لیجئے!

یہ یاد رہے کہ حضرت امام باقر کے سلسلے کی یہ باتیں بقول شیعہ کے ہم نے لکھی ہیں ورنہ ہمارا ایمان ہے کہ شیعوں کا کوئی امام باقر ایسا ہو تو ہو لیکن ہمارے امام باقر ان تہمتوں اور بزدلانہ حرکات سے بالکل مبّرہ تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

بہر حال گویہ صورت حال کافی پریشان کن ہے تاہم ہمارے بس میں صرف اتنا ہے کہ یہ لوگ جو کچھ بھی بتائیں، اسی کو سامنے رکھ کر ان سے بات کی جائے۔ گو یہ کتنے ہی بے اعتبارے کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اس کے سوا اور ہمارے لئے چارہ کار نہیں ہے۔ یقین کیجئے! جب ہم ان دوستوں کے مسلکی حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں تو یقین ہو جاتا ہے۔ کہ یہ لوگ واقعی کسی اسلام دشمن شاطر کے فریب میں آگئے ہیں۔ ورنہ غور کیجئے! باتوں میں جعل سازی، تبرّا اور تقیہ بازی، اور صلحاء امت کی پاک سیرتوں کو مسخ کرنے کی مساعی، قرآن کے خلاف بدگمانی، اور دین نبی میں کتربیونت بھی کچھ ایسے کام ہو سکتے ہیں کہ کوئی ان کو کار ثواب تصور کرے۔؟

ہم نے اپنے پہلے مضمون میں جن حقائق کا ذِکر کیا تھا وہ ابھی معاصر محترم پر ہمارا قرض ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی روائتی ہیرا پھیری سے تو کام لیا ہے، موضوعِ بحث کی طرف توجہ مبذول نہیں فرمائی۔ قارئین سے درخواست ہے کہ ہمارا مضمون مکرر ملاحظہ فرمائیں اور ان کا بھی۔ تاکہ آپ اندازہ فرما سکیں کہ کیا قصہ ہے۔ وہ پرچے محدث ماہِ محرم ۱۳۹۳ھ اور معارف اسلام شیعہ جون جولائی ۱۹۷۳ء تھے۔ اب ہم بحث کو سمیٹنے کے لئے چند مخصوص ایسے عنوانوں کا آغاز کرتے ہیں کہ اگر ایمان اور انصاف سے تبادلہ خیال کی کوشش کی جائے تو بات آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک معاصر موصوف کے سارے مباحث مندرجہ ذیل عنوانوں کے تحت آجاتے ہیں۔ ان سے ہم درخواست کریں گے کہ اگر دیانتداری اور خوفِ خدا کا کچھ پاس ہو تو خلط مبحث سے پرہیز کریں۔ اور صرف موضوع سے متعلق بات کریںِ ورنہ ہم آپ کی کسی بات کے جواب دینے سے معذور ہوں گے، جس طرح آپ پہلے اِدھر اُدر کی مارتے ہے ہیں، مارتے رہیے۔ ہمارے لئے آپ سے آوارہ بحث کے لئے اپنا وقت ضائع کرنا مشکل ہو گا۔ اگر بحث موضوعِ حق کیلئے ہے تو سنجیدہ گفتگو کیجئے! اگر صرف چکر چلانا ہے تو آپ کو مبارک، ہم اس میدان کے شاہ سوار نہیں ہیں۔ مجوزہ عنوان یہ ہیں۔

(۱) خلافت کی حقیقت (۲) شیعوں کے علی

(۳) شیعوں کے اربعہ ائمۂ معصومین (۴) شیعوں کا قرآن و حدیث

(۵) شیعوں کی اخلاقی اور سماجی اقدار

خلافت کی حقیقت:

خلافت کے لغوی معنی نیابت اور جانشینی کے ہیں۔ اصلاحاً اس کے متعدد معنے اور کئی ایک شکلیں ہیں۔

خلافت نسلِ انسانی:

حق تعالیٰ کی عطا کردہ قوت اور اس کی حرارت سے منجملہ باختیار اور مجاز ہونے کی بناء پر کائناتِ ارضی پر انسان جو تصرف یا حکومت کرتا ہے۔ اس کو 'خلافت نسلِ انسانی' کہہ سکتے ہیں۔ بعض علماء نے اس کا نام 'خلافتِ قدرت' رکھا ہے۔

﴿إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً﴾

ہم زمین میں ایک خلیفہ بنانے والے ہیں۔

میں اسی خلافت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں مومن اور کافر، نیک اور بد سبھی انسان آجاتے ہیں۔ اور سبھی خلیفہ کہلاتے ہیں۔ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی امامت مراد نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں فساد اور خوں ریزی کو انکی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ ایک نبی کی طرف اس کا انتساب جائز نہیں ہے۔ اس لئے یہی کہنا پڑے گا کہ اس سے نوعی نیابت مراد ہے۔ یعنی پوری نسل انسانی خلیفہ ہے۔ یہ جعل تکوینی ہے تشریعی نہیں ہے۔

﴿هُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلـٰئِفَ فِى الأَر‌ضِ ۚ فَمَن كَفَرَ‌ فَعَلَيهِ كُفرُ‌هُ...٣٩﴾... سورة فاطر

وہی ایسا ہے جس نے تمہیں زمیں میں خلیفہ بنایا، سو جو کوئی کفر کرے گا۔ اسی پر پڑے گا۔

﴿وَيَجعَلُكُم خُلَفاءَ الأَر‌ضِ﴾

(یا وہ جو) تم کو زمین میں خلیفہ (صاحب تصرف) بناتا ہے۔

﴿وَاذكُر‌وا إِذ جَعَلَكُم خُلَفاءَ مِن بَعدِ قَومِ نوحٍ...٦٩﴾... سورة الاعراف

(حضرت ہود نے کہا اے بھائیو!) وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعد (وارث) بنایا۔

ان تمام آیات میں نسل انسانی کی نیابت اور خلافت مراد ہے کیونکہ جن سے انبیاء خطاب فرما رہے ہیں۔ وہ عموماً کافر ہیں۔ مومن کم ہیں۔ اسی طرح طرح اس آیت کا حال ہے۔

﴿وَهُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلـٰئِفَ الأَر‌ضِ وَرَ‌فَعَ بَعضَكُم فَوقَ بَعضٍ دَرَ‌جـٰتٍ...١٦٥﴾... سورة الانعام

اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنایااور تم میں سے ایک کے رتبے دوسرے پر بلند کیے۔

سورہ یونس میں فرمایا:

﴿ثُمَّ جَعَلنـٰكُم خَلـٰئِفَ فِى الأَر‌ضِ مِن بَعدِهِم...١٤﴾... سورة يونس

پھر ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین پر خلیفہ (نائب) بنایا۔

امام ابن کثیر ﴿إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

اس سے مراد مختلف اوقات میں باری باری اقوام عالم کا آنا ہے۔ صرف حضرت آدم مراد نہیں کیونکہ سفکِ دماء ان کی طرف منسوب ہے۔ اس لئے اس سے حضرت آدم مراد نہیں ہو سکتے۔

﴿إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً﴾ أي قوما يخلف بعضھم بعضًا قرنا بعد قرن وجيلا بعد جيل.... وليس المراد ھھنا بالخليفة اٰدم عليه السلام فقط ..... والظاھرأنه لم يرد اٰدم علينا إذ لو كان ذلك لما حسن قول الملئكة (اتجعل فيھا من يفسد فيھا ويسفك الدماء) فإنھم أرادوا أن من ھذا) الجنس من يقعل ذلك (تفسير ابن كثير)

امام ابن کثیر کا قول قابل قبول نہ بھی ہو تب بھی مندرجہ بالا آیات اسی مضمون میں بالکل واضح ہیں کہ اس خلافت سے مراد بلا استشہاء 'نسل انسانی' کی خلافت ہے جن لوگوں نے ان آیات کے الفاظ 'جاعل یا یجعل' سے امامت اور سیاسی پیشوائی مراد لی ہے۔ انہوں نے شاید قرآن حکیم کے سیاق و سباق پر توجہ نہیں دی۔

خلافت ابوت:

اس سے مراد آبائی وراثت ہے اور بس۔ یہ دونوں خلافتیں وہ ہیں، جن کا تعلق ہمارے موضوع سے نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں کا تعلق پوری نسل انسانی سے ہے۔ جن میں خدا کی زمین پر ان کو قدرت تصرت حاصل ہے۔ اور اس سلسلے میں وہ ابتداءً اور وراثةً یکے بعد دیگرے نیابت اور خلافت پر متمکن چلے آرہے ہیں۔

خلافت رسالت:

اس سے مراد امامت انبیاء ہے جو حق تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ اور تنقید اور اقامتِ دین کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

﴿يـٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنـٰكَ خَليفَةً فِى الأَر‌ضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ...٢٦﴾... سورة ص

اے داؤد! ہم نے آپ کو زمیں پر خلیفہ بنایا ہے۔ سو لوگوں کے مابین حق کے مطابق فیصلہ (کیا) کریں۔

انبیاء کا تعلق اسی خلافت سے ہے۔ رب بہ راہِ راست ان کی تقرری فرماتا ہے اور ان کی حفاظت خود کرتا ہے اس لئے وہ معصوم رہتے ہیں ان پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے ارشادات سے انحراف معصیت اور کافری تصور کیا جاتا ہے۔

خلافتِ رسول ﷺ:

یعنی اللہ کے رسول کے جانشین، خلیفہ اور اولو الامر کہلاتے ہیں۔ ان کا کام 'قرآن اور حامل قرآن' کا اتباع ان کے احکام کی تبلیغ اور تنفیذ ہوتا ہے۔ لیکن یہ معصوم نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ مبعوث ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی تقرری رب کی طرف سے نہیں ہوتی۔ اس لئے ان سے اختلاف اور نزاع کیا جا سکتا ہے۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَأُولِى الأَمرِ‌ مِنكُم ۖ فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّ‌سولِ...٥٩﴾... سورة النساء

مسلمانوں! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولوں کا اتباع کرو اور اپنے حکمرانوں کا (کہا مانا کرو) اگر کسی چیز میں تم باہم جھگڑ پڑو تو (قطع نزاع کے لئے) اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔

اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

الف۔ اللہ اور رسول کی براہِ راست اطاعت کا حکم ہے۔

ب۔ حکمرانوں (اولیٰ الامر) کی اطاعت کو بالتبع رکھا ہے۔ اس لئے یہاں 'اطیعوا' اولی الامر نہیں کہا گیا بلکہ تنا اولی الامر بولا گیا ہے تاکہ یہ ذہن نشین ہو جائے کہ خلیفہ کی اطاعت مشروط ہے۔

ج۔ منکم (اپنے میں سے) کہہ کر یہ بتا دیا ہے کہ وہ بھی انسان ہی ہو گا۔

د۔ نزاع کی اجازت دے کر یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مامور من اللہ یا معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے، اس لئے ان کی اطاعت غیر مشروط نہیں ہوتی۔

ہ۔ قاطع نزاع اور درجۂ استناد صرف اللہ اور اس کے رسول پاک کا خاصہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک، فرد یا جمیعیت خلیفہ ہو یا کوئی اور کارکن خدا کے ہاں جواب وہ ہے، وہ کسی کے ہاں جواب وہ نہیں ہیں۔

﴿لا يُسـَٔلُ عَمّا يَفعَلُ وَهُم يُسـَٔلونَ ﴿٢٣﴾... سورة الانبياء

یعنی خدا کے سامنے جواب دہ نہیں ہے۔ وہ سارے خدا کے ہاں جواب دہ ہیں۔

اس لئے ہمارے نزدیک 'خلیفہ اور امام کے معصوم' ہونے کا نظریہ صحیح نہیں ہے۔ ایک تو یہ نظریہ آیت کے خلاف ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ہے، اس کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد بھی یہی ہے۔

«فإنی لست في نفسه بفوق أن أخطي ولا اٰمن ذلك من فعل إلا أن يكفي الله في نفسه وھو أملك مني» (نھج البلاغه ص ۱۷۴)

میں اپنے نفس کو خطا کرنے سے بالا نہیں پاتا اور نہ اپنے فعل میں ماموں ہوں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے میرے نفس سے بچائے اور وہ مجھ سے زیادہ قادر اور مالک ہے۔

خارجیوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کرتے ہیں:

ھولاء يقولون لا امرة وإنه لابد للناس من أمير برأو فاجر (نہج البلاغہ، شرح میسم مطبوعہ طہران)

وہ (خارجی) کہتے ہیں کہ حکومت نہ ہو حالانکہ وہ لوگوں کے لئے ضروری ہے، کوئی امیر نیک ہو یا بد۔''

معلوم ہوا، خلیفہ کے لئے معصوم ہونا شرط نہیں۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ خوارج گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر تصور کرتے ہیں۔ اور وہ خلافت کے سلسلے میں شیعوں سے بھی سخت عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کو ''بر اور فاجر'' کا بالخصوص ذکر کرنا پڑا ہے۔

شیعوں کے علی:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عظیم انسان اور رسول اللہ ﷺ کے عظیم صحابی اور 'رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ' کے زمرہ میں شامل تھے، لیکن شیعہ دوستوں نے جو تعارف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیش کیا ہے۔ اگر وہ صحیح ہے تو پھر خلافت آپ کا مقام نہیں ہے اس لئے خلافت کے لئے جھگڑا کرنا تضیع اوقات کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیونکہ آپ کے پیش فرمودہ تعارف کی بنا پر ان کو خدا سے اوپر یا خدا سے نیچے بلا فصل ہونا چاہئے۔ رسول کریم ﷺ کی نیابت ان کے بیان کردہ مقام سے فروتر ہے خواہ وہ بلا فصل ہی کیوں نہ ہو۔ مندرجہ ذیل اکابر اور رہنماؤں کے افکار و تصریحات ملاحظہ فرمائیں!

أناحي لا یموت:

مشارق انوار الیقین شیعہ حضرات کی معروف کتاب ہے، اس میں لکھا ہےکہ:

'اجنع بن بنانہ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

أنا أخذت العهد علي الأرواح في الأذل، أنا المنادي لھم ألست بربكم، أنا منشئ الأرواح، أنا صاحب الصور، أنا أخرج من في القبور، أنا جاوزت بموسي البحر وأغرقت فرعون وجنوده، أنا أرسيت الجبال الشامخات، وفجوت العيون الجاديات، أنا ذلك النور الذي اقتبس موسي ھذا الھدي، أنا حي لا يموت۔

'میں نے ہی ازل میں روحوں سے عہد لیا تھا، میں نے ہی ان کو آواز دی تھی کہ: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں! میں نے ہی روحوں کو پیدا کیا، صور اسرافیل کا ملک میں ہی ہوں اور میں ہی قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہوں، میں نے ہی موسیٰ کو دریا پار کرایا تھا۔ اور میں نے ہی فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا تھا۔ اور میں نے ہی اونچے اونچے پہاڑ گاڑے تھے۔ اور میں نے ہی آبِ رواں کے چشمے جاری کیے، میں ہی وہ نور ہوں جس سے حضرت موسیٰ نے کسب فیض کیا اور ہدایت پائی تھی۔ میں ہی حی لا یموت ذات ہوں، جس کو فنا نہیں ہے۔''

اوّل و آخر:
؎ بیشک کہ تو ہی باطن و ظاہر ہے السلام

حقا کہ تو ہی اوّل و آخر ہے السلام! (فضائل مرتضوی ص ۱۶)

خالق و مشکل کشا:
یہ وہ ہے کہ کونین کو جس نے کیا ایجاد       بے چوب دستوں خیمۂ گردوں کیا استاد
یہ قابض ارواح ہے اور خالقِ اجساد        ناصر ہے رسولوں کا، فرشتوں کا ہے استاد

(فضائل مرتضوی مطبع یوسفی، دہلی ص ۳۰)

تاریخ الائمہ میں مرقوم ہے:

کوئی نبی اور وحی اور ولی از آدم تا ایندم نہیں گزرے کہ جس کی علی نے بلاد مصیبت میں مدد نہ کی ہو (فضائل مرتضوی ص ۱۳۶)

از ابتداء خلقت آدم و حوا کے تا عہدِ دولت جناب رسول اللہ ﷺ ایک لاکھ اسی ہزار پیغمبر ہوئے۔ سب کی مدد علی نے فرمائی۔ (ص ۵۱)

علی نے آدم و حوا کو ملایا۔ آگ کو خلیل پر گلشن بنایا، زکریا کو آرے سے بچایا، یوسف کو چاہ سے نکال کر مصر میں تخت پر بٹھایا، دیدۂ یعقوب کو نور بخشا، سلیمان کو جنّات سے چھڑایا۔ (تاریخ الائمہ ص ۵۲)

اور اسی طرح حضرت داؤد کو الحان اور حضرت موسیٰ کو یدِ بیضاء عنایت کیا۔ اور جس وقت پہاڑ پر موسیٰ کو غش آیا تو دستگیری فرمائی، آسمان پر جانے کو عیسیٰ کی رہبری کی...... ؎
علی کا معجزہ اک اک ہے نادر         علی کی ذات ہر شے پر قادر (تاریخ الائمہ ص ۵۳)

علامہ شیخ عبد العلی ہروی تہرانی شیعہ حضرات کے نزدیک بڑا اونچا مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے 'مواعظ حسنہ' نامی کتاب تالیف فرمائی تھی۔ کتاب کے ٹائٹل پر ان کے یہ القاب لکھے گئے ہیں۔

''زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، عمدۃ المتکلمین و فخر المتالہین، عالم علوم ربّانی، کاشف اسرار حقانی، وحید العصر، فریدِ دہر، سرکار علامہ الشیخ عبد العلی الہروی الطہرانی۔''

یہ بزرگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی کے متعلق کتاب مذکور میں لکھتے ہیں۔

''پس معلوم ہوا کہ موت ان کے تابع ہے، بلکہ روز قیامت نفح صور انہی کے حکم سے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین ایک معمولی کرتا پہن کر لڑائیوں میں شریک ہوتے تھے اور لڑتے تھے۔ ایک مرتبہ اصحاب نے عرض کیا۔ تو فرمایا میں وہ ہوں جو موت کو بھی مارنے والا ہے۔ مجھے کیا خوف ہے اور قیامت میرے حکم سے برپا ہو گی۔''

أناا لساعة، أنا الموت المميت ومخرج الكربات عن وجه خير البريات یعنی حضرت علیؓ فرماتے ہیں، میں خود قیامت ہوں اور موت کو مارنے والا ہوں۔ اور پیغمبر خدا سے رنج اور بلا دور کرنے والا ہوں (مواعظ حسنہ ص ۱۳۰)

قال أمیر المؤمنین عليه الصلوٰة والسلام إني خمرت طنية آدم بيدي أربعين صباحا۔ یعنی فرمایا 'امیر المؤمنین نے کہ میں نے خمیر کیا آدم کی مٹی کو اپنے ہاتھوں سے چالیس روز تک۔' (ص ۲۲۸)

'علی ساقی کوثر ہے، قیامت میں دنیا میں مرّبی، و حیات کو تقسیم کرتا ہے۔' (مواعظ حسنہ ص ۲۷۵)

ایک شیعہ شاعر نے اپنے 'دیوان وفائی' میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 'قدیم اور درجہ میں خدا سے کچم کم' کہا ہے۔
علی کہ در قدیمش نہ ریب ہست نے شکے
علی کہ از خدا کی تبا شد جز اند کے (دیوان وفائی)

جناب حبیب اللہ فارسی شیعہ 'گلستان حکیم قا آنی' میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جان اور جہاں آفریں اور انسانی لباس میں خدا ہیں۔
علی بندۂ خاص جان آفریں         ولے در حقیقت جہاں آفریں

آگے کہا کہ: گو وہ جہانِ آفرین کا بندہ ہے۔ مگر اصل میں جہاں آفریں وہی ہے۔
جہان آفریں راہمیں بند اوست       ولیکن جہاں آخر نیّدہ اوست

پھر کہا کہ عاجزی کے لباس میں اس کی سر بلندی ہے اور انسانی لباس میں وہ خدا ہیں۔
سرا فرازیش درسر افگندگی       خدائیش در کسوت بندگی

دیوان وفائی ہی میں ہے کہ: علی بے مثل یعنی لیس کمثلہ شےٌ ہے، وہی نور لم یزل ہے عیبوں سے پاک، مصدر کائنات اور معشوق ازل ہے۔
علی است فرد بے بدل، علی است مثل بے مثل       علی است مصدر دوم علی ہست، صادر اول
علی است خالی از خلل علی ہست عاری از ذلل       علی است شاہد ازل علی است نور لم یزل!
کہ فرد لا یزال راد جود اوست مظہرا (دیوان وفائی)

پھر لکھتا ہے کہ تمام ا نبیاء اور الیاء حضرت علی کے کفش بردار ہیں اور اللہ نے اپنی بادشاہی کے سارے اختیارات اس کے حوالے کر دیئے ہیں۔ اور وہ لا مکان ہے۔
زمام ملک خویش راسپردہ حق بدست او
چہ اولیاء، چہ انبیاء تمام پائے بست او
نظر بہ لا مکان عنابہ ببیں مقام حیدرا (دیوان وفائی)

مزید فرمایا! حضرت علی کو فنا نہیں، قیامت وہی برپا کریں گے۔ اور یہ راز قیامت میں کھل جائے گا مَا رَمَیَتَ إذ رَمیتَ کا مصداق کون تھا، کیونکہ علی خدا کا ہاتھ ہے اور وہ عین خدا ہے۔
چوں ایں جہاں فنا شود و علی فناش میکند
قیامت اربپا شود علی بپاس میکند
کہ دست دست او بود ولے خداش میکند
وما رمیت اذ رمیت بر تو فاش میکند (دیوانِ وفائی)

ہو سکتا ہے کہ معاصر معارف دوسروں کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیں، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ خود معارف کو معارف کے آئینے میں بھی پیش کر دیا جائے۔

آپ کے نزدیک یہ خلافت محمدیہ نیابت الٰہیہ ہے۔ تو آپ کے مقام خلافت محمدیہ یا نیابت الٰہیہ میں سرِ مُو فرق نہ تھا۔ (معارف علی فاطمہ تمبر دسمبر ۱۹۶۳ء)

ہونے لگا بہتوں کو خدا کا دھوکا یہ عبد تو ملتا ہوا معبود سے ہے (معارف مذکور ص ۴۴)
علی کی ذات۱ زیبا ہے رکوع ہست و بود اس کا
قیام اس کو قعود اس کو سلام اس کو درود اس کو
بنائے لا الٰہ کا پاس نگر ہوتا نہ قدرت کو
یہ ذات پاک ایسی ہے کہ جائز تھا سجود اس کو (ایضاً ص ۴۴)

اس لئے وہ بھی تمام انبیاء سے افضل ہیں لہٰذا آنحضرت نے ایک دفعہ جبکہ حضرت علیؓ باہر سے تشریف لائے فرمایا: مرحبا سید المرسلین وامام المتقین (معارف ص ۴۷)

اور جس وجہ الہ، دستِ خدا، شیرِ خدا، جان محمد، نفس پیغمبر، نائب رسالت، سربراہ امت، روح امامت، شہنشاہ ولایت، جوہر شجاعت، علی ولی قوت اللہ، مشکل کشا، سلطان حضرت کبریا دافع لا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بدولت حق کو فتح اور باطل کو شکست نصیب ہوئی۔ (معارف ص ۱۳ مارچ ۱۹۶۶ء)

کربلا اور مسجد کوفہ میں کیوں شکست کھائی؟ کچھ تو بولئے!

حضرت علی علیہ السلام اسی وقت عالم وجود میں آئے جبکہ کوئی سے خلق نہ ہوئی تھی۔ نہ آدم کا وجود تھا۔ نہ فرشتے تھے نہ عرش نہ کرسی نہ آسمان و زمین وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے اپنے صفت نصیر سے متصف ہونے کے سبب جملہ انبیاء علیہم السلام کی امداد فرمائی۔ (معارف ماہ جنوری ۱۹۷۰ء)

«عن النبي أنه قال لعلي يا علي إن الله قال لي يا محمد بعثت عليا مع الأنبياء بالمناد معك ظاھرا» (ترجمہ) فرمایا نبی ﷺ نے جنابِ علی علیہ السلام سے کہ مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ میں نے علی کو تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ پوشیدہ طور پر بھیجا ہے اور تمہارے ساتھ ظاہری طور پر (انوار نعمانیہ ص ۱۲) (معارف جنوری ۱۹۷۰ء)

حضرت علی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ کی فضیلت انبیاء سابقین علیہم السلام پر کیا ہے۔ جبکہ ان انبیاء علیہم السلام کو بلند معجزات معروفہ عطا کئے گئے تھے تو آپ نے فرمایا:

فقال عليه السلام: والله قد كنت مع إبراھيم في النار وأنا الذي جعلتھا برداً وسلاما وكنت مع نوح في السفينة فأنجيناه في الفرق وكنت مع موسي فعلمته التوراة وأنطقت عيسيٰ في المھد وعلمته الإنجيل وكنت مع يوسف في الجب فأنجيته من كيد إخوته وكنت مع سليمان علي البساط وسخرت الرياح (انوار النعمانيه ص ۱۳)

یعنی امیر علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں حضرت ابراہیم کے ساتھ تھا۔ جبکہ انہیں آگ میں ڈالا گیا اور میں ہی وہ ہوں کہ جس نے اسے ٹھنڈا کیا۔ اور باعث سلامتی بنا اور میں جناب نوح کے ساتھ کشتی میں تھا، پس میں نے انہیں غرض ہونے سے بچا لیا۔ اور میں جنابِ موسیٰ کے ساتھ تھا پس میں نے ہی گہوارہ میں نطق کر دیا۔ اور انہیں انجیل پڑھائی اور میں ہی یوسف کے ساتھ کنویں میں تھا۔ پس میں نے ان کو بھائیوں کے مکر و فریب سے پناہ دیں۔ اور میں ہی سلیمان کے ساتھ بساط پر تھا۔ اور میں نے ہی ہواؤں کو ان کا تابع فرمان بنا دیا تھا۔ (معارف جنوری ۱۹۷۲ء)

معارف اسلام علی فاطمہ نمبر نومبر، دسمبر ۱۹۶۲ء میں ''اندر نام دید اور اتھروید میں حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا ایک پوتر نام'' کے عنوان سے گیلانی صاحب مدیر نے ایک مضمون تحریر فرمایا ہے۔ جس میں الوہیت علی جیسی باتیں جمع کر دیں کہ خدا کی پناہ، اس میں سے چند یہ ہیں کہ:

(۲) آپ خدائی قوتوں کے مالک ہیں اور اسی لئے آپ کو 'قوۃ اللہ' کہا جاتا ہے۔

(۴) آپ سب پر غالب آنے واہے ہیں۔ غالب کل غالب۔

(۸) ہر جگہ اور ہر مقام پر مولا علی ہی کی حکومت ہے۔

(۹) کائنات عالم کا ذرہ ذرہ آنجناب کے تحت المحکم اور زیر فرمان ہے۔ غالب کل غالب ہونے کی وجہ سے آپ کا ہر چیز پر غلبہ ہے۔

(۱۰) کوثر و تسنیم و سلسبیل، جناب امیر کے قبضہ میں ہے، امیر علیہ السلام کو بہشت کا مالک کہا گیا ہے۔ الجنت تحت العلیٰ (ملخصاً)

سام دید میں آنے والے 'اندر' سے متعلق پیشن گوئی کی گئی ہے کہ وہ ہمنام خدا ہو ا۔ اس میں اندر کی ایک ایسی تعریف کی گئی ہے جس کا اطلاق کسی صورت میں اور کسی مبالغے میں حضور رسالت مآب کی ذات اقدس پر نہیں ہوتا۔ (معارف مذکور)

علی نبی کے گھر کچھ تھا تو خدا تھا یا خدا کا علم تھا (ایضاً)

یا علي أنت وجه اللہ، یا علي أنت عین اللہ، یا علي أنت لسان اللہ، یا علي أنت ید اللہ، یا علي أنت أذن اللہ (معارف اسلام ملخصاً علی فاطمہ نمبر اکتوبر، نومبر ۱۹۶۶ء)

الغرض شیعہ اکابر نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو تعارف پیش کیا ہے۔ وہ آپ کے سامنے ہے، نقل کفر کفر نہ باشد، ورنہ ان اقتباسات کو نقل کرنے کا حوصلہ نہیں پڑتا۔ بہرحال شیعہ حضرات کو چاہئے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خلافت کا لالچ نہ کریں۔ کیونکہ یہ مقام مقامِ علی نہیں۔ نیابت رسول، رسول کے اُمتی اور ایک انسان کے لئے تو ممکن ہے۔ لیکن وہ ذات گرامی جو بقول شیعہ بزرگان، انبیاء سے افضل اور انسانی لباس میں خود خدا ہو۔ اس کے لئے رسول کے عاجز امتیوں سے 'خلافت رسول' کی بھیک مانگنا، شایان شان بات نہیں ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اب اس بحث کو ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ جس بات میں جھگڑا ہے، وہ علی رضی اللہ عنہ میں نہیں۔ جو منصب آپ کے لئے مخترعہ مقام کے نسبِ حال ہے۔ اس کے بارے میں ہم سوچنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ باقی رہے آپ؟ سو وہ آپ نے ان کو دے ہی رکھا ہے۔ اس لئے اب جھگڑا بے سود ہے۔

خدا سے بھی افضل:

شیعوں کا اعتقاد ہے کہ علیؓ ہر غلطی، خلل اور زلل سے پاک ہے۔ ہر امام عالم الغیب ہے۔ لیکن خدا کے بارے میں ان کا نظریہ یہ ہے کہ خدا کو 'بدا' ہوتا ہے یعنی آئندہ کے واقعات کے بارے میں خدا پر بے خبری اور جہالت طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ:

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بعد قائم مقام اسمٰعیل کو قرار دیا تھا۔ پھر اسمٰعیل سے وہ بات ظاہر ہوئی۔ جو ان کو پسند نہ تھی تو انہوں نے موسیٰ کو قائم مقام مقرر کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا تو فرمایا:

''اللہ کو بدا ہو گیا ہے۔'' (مجاز الانوار محقق طوسی)

ما بدا اللہ في شیء کما بدا اللہ في إسمٰعیل ابنی یعنی اللہ کو ایسا بدا کبھی نہیں ہوا۔ جیسا میرے بیٹے اسمٰعیل کی بابت ہوا۔ (رسالہ اعتقادیہ شیخ صدوق ص ۲۶)

عن الرضا یقول ما بعث اللہ نبیاقط إلا بتحریمه الخمر وأن يقرالله بالبدا (اصول كافی ص ۸۴)

اللہ نے جو بھی بھیجا اس کو تحریم شراب کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کے لئے بداء کا اقرار کریں۔

شیعوں کے ہاں یہ روایات ملتی ہیں کہ:

حضرت امام جعفر کے ذریعے خدا نے اعلان کیا کہ امام جعفر کے بعد ان کے بیٹے اسمٰعیل امام ہوں گے۔ مگر ا سے کچھ حرکات نالشائستہ صادر ہوئیں۔ جن کا علم خدا کو نہ تھا، اس لئے پھر اس کے بجائے آپ کے دوسرے بیٹے موسیٰ کاظم رضا کو بنایا۔ کہتے ہیں کہ ایسا بڑا بداؔ خدا کو کبھی نہیں ہوا تھا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ خدا نے امام نقی کے بیٹے محمد کی امامت بتائی مگر خدا کو معلوم نہ تھا۔ کہ وہ باپ کے سامنے فوت ہو گا۔ اس لئے بعد میں خدا کو اپنی رائے بدلنا پڑی اور امام حسن عسکر کو امام بنایا۔

امام باقر فرماتے ہیں کہ اللہ نے امام مہدی کے ظہور کا وقت ۷۰ء مقرر کیا۔ مگر امام حسین شہید ہو گئے اور اللہ میاں ناراض ہو گئے۔ امام مہدی کے ظہور کو غیر متعلق میعاد کے لئے ملتوی کر دیا۔

الغرض 'بدا' اس کو ہوتا ہے جو انجام کار سے بے خبر ہو۔ خدا تو انجام کار سے ناواقف مگر ائمہ حضرت علی سمیت اس سے منزہ اور پاک؟ تو خود خیال فرمائیے! ایسے علی کے لئے خلافت رسول تو کجا، نیابت الٰہیہ بھی فروتر ہے۔ ہاں اگر خدا حضرت علی کے نائب اور خلیفہ بننا چاہیں تو شاید یہ اعتقاد شیعہ احباب کوئی حرج نہ ہو۔

ان تصریحات کے پیش کرنے سے غرض یہ ہے کہ خلافت سے یہاں بحث کرنا فضول ہے۔ کیونکہ حضرت علی ''نیابت'' کی چیز نہیں ہیں۔ اس لئے یہ احباب ملت اسلامیہ کا خوا مخواہ وقت ضائع نہ کریں۔

شیعوں کے آئمہ معصومین:

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ آئمہ معصوم ہوتے ہیں، گویا کہ وہ اس طرح اجراءِ نبوت کے قائل ہیں۔ کیونکہ عصمت خاصۂ انبیاء ہے ویسے بھی تاریخ اور کتب شیعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معصوم نہ تھے۔

حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت کے حق میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ دست بردار ہو گئے۔ غالباً شیعوں کے نزدیک یہ ایک سنگین بات ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے عہدِ خلافت میں حضرت حسین، حضرت حسن، کے ہمراہ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ اور وہ گراں قدر عطیات سے نوازے جاتے تھے۔

شرح ابن ابی الحدید جلد دوم (شیعہ) میں ہے کہ:

معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے۔ جنہوں نے دس دس لاکھ درہم عطا کئے اور ان کے فرزند (یزید) پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسے دگنا کر دیا۔ حضرت کے بیٹوں امام حسن اور حسین کو ہر سال عطا ہوتے تھے۔ (شرح ابن ابی الحدید)

پھر ان کی باہم رشتہ داریاں تھیں (مثلاً) امام حسین کی بھتیجی اور حضرت جعفر طیار کی صاحب زادی سیدہ اُم محمد یزید کے عقد میں تھیں اور امام حسین کی زوجہ محترمہ امیر معاویہ کی حقیقی بھانجی تھیں۔ (شاہکار رسالت ص ۴۵۶)

گو ہم ان باتوں کو شیعوں کے نظریہ کے مطابق غلط نہیں سمجھتے لیکن شیعوں کو سوچنا چاہئے کہ جو امور ان کے نقطہ نظر سے کفر و اسلام کا مسئلہ میں ظاہر ہے، ان کا ارتکاب ان کے نقطۂ نظر سے ان کی عصمت کے خلاف ہی ہو گا اور ہونا چاہئے۔

امام جعفر صادق حضرت حسن پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

لو توفي الحسن بن علي علی الزناوالربا وشراب الخمر کان خیرا مما توفي علیه (احتجاج طبری ص ۱۹)

اگر حسن بن علی زنا، بیاج اور شراب نوشی کے مرتکب ہو کر مرتے تو اس سے بہتر تھا، جس (حالت) پر اس نے وفات پائی۔

ظاہر ہے یہ خلافت سے دستبرداری کی طرف اشارہ ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر عصمت کہاں؟

رجال کشی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے آئمہ عوام کو جھوٹ مسائل بتایا کرتے تھے۔ فأجابه فیھا بخلاف الجواب الأول (رجال کشی)

بلکہ حضرت امام جعفر صادق کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ:

خذ بما فيه خلاف العامة (روي عمر بن الحنظلة خذ بما خالف العامة ودع ما وافقھم (كافي كليني)

جو اکثریت کے خلاف جائے وہ لے لو اور جو موافق ہو چھوڑ دو۔

غور کیجئے! حضرت امام جعفر کس امر کی تلقین فرما رہے ہیں؟ کیا عصمت ایسی باتوں کی متحمل ہے؟

حضرت علی سے ان کے حقیقی بھائی عقیل، چچا حضرت عباس، چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس سے سخت اختلاف رہا خاص کر حنین کی اَولاد کے درمیان خوب رنجش رہی۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

لیس منا أحد إلاوله عدو من أھل بيته فقليل لابنوا الحسن لا يعرفون الحق قال بل ولكن يحملھم الحسد يمنعھم (احتجاج طبري ص ۱۹۲)

ہم میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ اہل بیت میں سے ہی کچھ لوگ اس کے دشمن نہ ہوں، حضرت جعفر سے پوچھا گیا کہ کیا حسن کی اولاد کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کس کا حق ہے؟ فرمایا ہاں جانتے ہیں مگر حسد کے مارے کرتے ہیں۔

شیعوں کے ایک بڑے امام ذرارہ حضرت امام باقر کے متعلق یہ کہتے تھے:

شیخ لا علم له بالخصومة (اصول كافي ۵۵۶) بابا مناظرہ کرنا جانتا ہی نہیں۔

مجالس المؤمنین اور حق الیقین (کتب شیعہ) نے حضرت علی کے بارے میں حضرت سیدہ فاطمہ کے جو ریمارک نقل کئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کی عصمت کی قائل نہ تھی۔ ہم اس کے چند فقرے بغیر ترجمہ کے ذکر کرتے ہیں، کیونکہ حوصلہ نہیں پڑتا۔ خود سوچ لیجئے!

اگر او (نبی) بوقت عجز بغار فرار نمود این (علی) بوقت منع وعجز درخانہ بر روئے خود فراز کرد اگر بنی دختر بعثمان داد وی (علی) دختر بہ عمر فرستاد (بی لس ص ۶۹)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام انتظار معاودت اومی کشید چون بمنزل قرار گرفت خطا بہاں درشت باسید او صیا نمود کہ مانند چنیں در رحم پردہ نشین شدہ و مثل خائباں درخانہ گریختہ الخ۔ (حق الیقین ص ۲۳۳)

ترجمہ: کسی سے کرا کے دیکھ لیجئے اور پھر گریبان میں جھانک کر دیکھئے! شاید بات سمجھ میں آجائے۔

شرح میسم مطبوعہ طہران میں ہے:

ھولاء یقولون لا امرة وإنه لابد للناس من أمير بر وفاجر(شرح ميسم۔ نھج البلاغة)

یہ (خوارج) کہتے ہیں، حکومت نہیں ہے، حالانکہ ضروری ہے کہ لوگوں کا کوئی امیر ہو، وہ نیک ہو یا بند (بہرحال ہو ضرور) یہ معلوم ہوا کہ امامت کے لئے عصمت کے دعوے عامیانہ ارادت مندی کا ایک گونہ اظہار ہے۔ اور کچھ نہیں۔ یہ لوگ تو عصمت انبیاء کے بھی قائل نہیں۔ عصمت امامت کو کیسے نباہ سکیں گے؟ ان کا کہنا ہے کہ عبودیت میں راسخ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ انبیاء سے کسی قدر گناہ صادر ہں۔

داؤد علیہ السلام کے قصے کے بیان میں حیات القلوب میں ملّا باقر مجلسی نے یہ تحریر کیا ہے۔

از پیغمبراں گناہصادر نمی شود لیکن چوں نہایت مرتبہ کمال انسانی اقرار لعجز و ناتوانی وتذلل است و ایں معنے بدوں صدور فی جملۃ مخالفتے حاصل نہ میشود ولہٰذا حق تعالیٰ گاہے انبیاء ودوستان خودرا بخودمی گذارو کہ مکرو ہے باترک اولی ازیشان صادر کرود (صافی ترجمہ کافی مطبوعہ لکھنو کتاب التوحید ص ۲۲۹)

نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی نے اقرار کیا کہ لست في نفسي بفوق أن أخطیٔ ولا آمن ذلك من فعل (ص ۱۷۴) میں اپنے نفس کو خطا کرنے سے بالا نہیں پاتا اور نہ اپنے فعل میں، میں مامون ہوں۔

حضرت زین العابدین نے یزید سے کہا۔

أنا عبد مکرہ لك فإن شئت فأمسك وإن شئت فبع (کافی کی کتاب الروضہ ص ۱۱۰)

''میں آپ کا مجبور غلام ہوں چاہیں تو غلام رکھ لیجئے جی چاہے تو فروخت کر ڈالئے!''

طوالت مانع نہ ہوتی تو مزید مثالیں پیش کی جا سکتی تھیں۔ دانشمند کے لئے اشارہ کافی ہے)

یہ تو تھی ایک نظری بحث اور تفصیل حالِ واقعی۔

ہم نے اوپر کی سطور میں مفروضہ ائمہ معصومین کے سلسلے میں جو کچھ بیان کیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم معاذ اللہ ان کو گنہگار تصور کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ایک نظری بحث اور حال واقعی کی ایک تفصیل تھی۔ اور وہ بھی خود شیعہ حضرات کے مفروضوں کی بنیاد پر ورنہ جہاں تک ہماری عقیدت کا تعلق ہے۔ ہم سب کو صلحائے امت اور بزرگان ملت تصور کرتے ہیں۔ اگر ہم ان کے مبارک عہد میں ہوتے تو ہم ان کے پاؤں دھو کر پیتے۔ اگر بقول شیعہ حضرات وہ اب بھی تشریف لاتے تو ہم ان کی راہوں پر اپنی آنکھیں بچھاتے۔ کیونکہ وہ قرآن کے پیرو کاور اور متبع سنت تھے جو حوسیّأت شیعہ نے ان کی طرف منسوب کی ہیں وہ ان سے بالکل دور تھے۔ اور اصلی موحد تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر صدہا رحمتیں اور برکتیں ہوں۔

لطیفہ

شیعہ دوستوں کے دانشمندانہ لطیفوں میں سے ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ عصمت آئمہ کا نعرہ لگانے والوں نے اِن ائمہ کو چھپا رکھا ہے، تاکہ ان کو ہوا نہ لگے۔ اور ہم پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر بہ فرض محال آج وہ تشریف لے آئیں تو بھی یہی شیعہ سب سے پہلے ان کے خلاف محاذ بنائیں گے، کیونکہ یزید کو گالیاں دیتے دیتے وہ خود یزید صفت حکمرانوں سے مانوس ہو گئے ہیں۔ باقی رہے ہم؟ سو ہم ان سے کہتے ہیں کہ:

جنبا! ہم سے لڑتے کیوں ہو، ان بزرگوں کو لاؤ! ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، بیعت خلافت، بیعت جہاد،اور بیعت ارادت، غرض جو بھی بیعت آپ چاہیں گے ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے دکھا دیں گے۔ مگر ان کا حال وہی ہے جو ایک مخلص پٹھان کا بیان کیا جاتا ہے کہ:

اس نے کسی کافر کو دیکھ لیا، تو تلوار سونت لی اور اس سے کہا کہ کلمہ پڑھو اور مسلمان ہو جاؤ۔ ورنہ ہم تمہارا سر قلم کر کے رکھ دیں گے۔ وہ بے چارہ ہاتھ جوڑ کر بولا، کہ جناب! ہمیں مارو نہیں، ہمیں کلمہ پڑھاؤ، ہم مسلمان ہوتے ہیں۔ پٹھان بولا۔ افسوس! کلمہ ہمیں بھی نہیں آتا ورنہ آج تم کو ضرور مسلمان کر ڈالتے۔ بالکل یہی بات ان کی ہے کہ یہ لوگ خواہ مخواہ ہم سے لڑتے ہیں، ہم تو کہتے ہیں کہ وہ پاک لوگ ہمارے سامنے کریں تاکہ ہم ان کے حضور اپنا ہدیۂ قیادت پیش کریں ویسے بھی وہ کون ظالم اور عقل کا دشمن ہے جو ان صلحاء کے ہوتے ہوئے مسٹر بھٹو، کرنل قذافی، انور السادات، سو رہا رتو، اور شاہ فیصل کو مقدم کرے گا۔ لیکن پٹھان کی طرح یہ جواب دیتے ہیں کہ افسوس ہمارے پاس دونوں نہیں ہیں۔ ورنہ ہم ضرور بیعت کروا لیتے۔بہرحال ہمارے نزدیک وہ سب بزرگ اپنی اپنی باری بھگتا گئے ہیں۔ اور قرآن و سنت کے مطابق بھگتا گئے ہیں۔ ان کے مابین وہ رنجشیں نہیں تھیں۔ جو بعد والوں نے باہم گوارہ کر لیں ہیں۔ اور نہ ان میں وہ عملی کوتاہیاں تھیں جو بعد میں ان کے نام پر گھڑ لی گئی ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ بھی وقت ضائع نہ کریں، ہوا میں تیر نہ چلائیں۔ وہ باتیں کرنا سیکھیں جو ہو سکیں۔ یوں مفروضوں پر اپنی صلاحیتیں نہ گنوائیں۔ اور نہ ہی باہمی کدورتوں کو فروغ دینے کا موجب بنیں۔ اگر ان کا نام لیتے ہو تو یزید صفت حکمرانوں کو راہ پر لاؤ۔ ورنہ شور مچا مچا کر ہمارے کان نہ کھاؤ، کچھ ہوش کرو، آخری عمر میں ہی کچھ ہوش کی باتیں کر دیکھو۔

شیعوں کا قرآن و حدیث:

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسے 'مفروضی' فرقہ سے پالا پڑ گیا ہے جو آئمہ معصومین کے نام پر بات سیاسی اور خلافت کی کرتا ہے مگر ان کا اپنا حال یہ ہے کہ:

ان سے خلافت کے لئے آدمی مانگو تو کہتے ہیں، اس وقت نہیں ہیں کبھی آئیں گے، نظام مملکت کے لئے کوئی دستوری اور آئینی کتاب طلب کرو تو فرمائیں گے کہ وہ بھی امام کے ساتھ کہیں غائب ہے۔ تو ان سے کوئی پوچھے کہ سامان پاس نہیں ہے تو تم یہاں کیا لینے آئے ہو، اور ہم سے کیا چاہتے اور مانگتے ہو؟

اصل بات یہ ہے کہ ان کو کام سے غرض نہیں ہے، مفروضی لوگ ہیں۔ شیخ چلی کی طرح باتیں کر کر کے دل بہلاتے رہتے ہیں۔ لیکن عملاً جب کبھی یہ لوگ نظر آتے ہیں، عموماً یزید صفت حکمرانوں کی گود میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر کوئی کیا سمجھے کہ ان کو کیا ہو گیا ہے؟

دیکھئے! قرآن کے بارے میں ان کا یہ نظریہ ہے کہ اس میں کمی بیشی کی گئی ہے۔

باب فيه نكت ونتف من التنزيل في الولاية (اصول كافي ص ۲۶۱)

یہ باب اسی بیان میں ہے کہ امامت کی آیتیں قرآن سے نکال دی گئی ہیں۔

اس کے بعد متعدد روایات بیان کی گئی ہیں جن سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ فلاں فلاں آیتیں خارج کر دی گئی ہیں۔

وزادوا فیه ما ظھر تناکرہ وتنافرہ (اجتجاج ص ۱۳۰)

اس نے اس (قرآن) میں وہ آیتیں بڑھا دیں جن کا خلاف فصاحت و قابل نفرت ہونا ظاہر ہے۔

اصول کلینی ص ۶۷۱ مطبع کشوری میں ہے کہ حضور کے وصال پر حضرت علیؓ نے قرآن جمع کیا۔ لوگوں نے پسند نہ کیا اور کہا کہ ہمارے پاس جامع قرآن موجود ہے۔ ہمیں تمہارے مرتب کردہ قرآن کی حاجت نہیں۔

فقال واللہ ما ترونه بعد يومكم ھذا أبدا (اصول كليني)

اس پر حضرت علی بولے، خدا کی قسم! آج کے بعد تم اس قرآن کو کبھی نہیں دیکھو گے!

حضرت امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام مہدی اصلی شکل والا قرآن لائیں گے۔ حتی یقوم القائم فإذا قام القائم قرء کتاب اللہ عزوجل علی حدہ (ص ۶۷۱ اصول)

تفسیر صافی ص ۱۳ (شیعہ) میں ہے:

إِما اعتقادھا مشائخنا في ذلك في الظاھر من ثقة الإسلام من يعقوب الكليني أنه يعتقد التحريف والنقصان

تحریف قرآن کے بارے میں ہمارے بزرگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ ثقۃ الاسلام امام کلینی کے کلام سے ظاہر ہے کہ وہ اس میں تحریف اور کمی ہو جانے کے قائل تھے۔

اسی سلسلہ کی روایات بیان کر کے تفسیر صافی میں لکھا ہے کہ:

المستفاد من جمیع ھذہ الأخبار وغیرھا من الروایات من طریق أھل البیت أن القراٰن الذي بین أظھرنا لیس بتامه (تفسیر صافی مقدمه سادسه مطبوعه طھران ص ۱۳۰)

ان روایات اور ان کے سوا اور روایات جو طریق اہلِ بیعت سے مروی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ یقین کیجئے! جو قرآن اس وقت ہمارے سامنے ہے وہ پورا نہیں ہے۔''

علامہ خلیل قزوین لکھتے ہیں:

دعوئے ایں کہ قرآن ہمیں است کہ در مصاحف مشہورہ است خالی از اشکال نیست (صافی ترجمہ کافی فصل القرآن ص ۷۵، ۶)

یہ دعوے (جو علامہ شریف مرتضی نے موجودہ قرآن کو صحیح سمجھنے کے لئے پیش کیا ہے) کہ قرآن اسی قدر ہے جو مصاحب مشہورہ میں ہے۔ محلِ نظر ہے۔ یعنی شیعوں میں سے شریف مرتضیٰ قرآن کو جو پورا سمجھتا ہے۔ وہ جمہور شیعہ کے مسلک کے خلاف ہے۔

عن أبی جعفر قال لولا أنه زِيد في كتاب الله ونقص ما خفي حقنا علي ذي حجي

حضرت امام باقر فرماتے ہيں كہ اگر قرآن ميں كمی بیشی نہ کی گئی ہوتی تو ہمارے حقوق کسی عقلمند انسان سے پوشیدہ نہ رہتے۔ تفسیر صافی میں ہے۔

إنھم أثبتوا في الکتب ما لم یقل اللہ لیلبسوا علی خلیقة (مقدمہ سادسہ مطبوعہ طھران ص ۱۰.۱۱)

انہوں (صحابہ) نے کتاب (قرآن) میں وہ کچھ لکھ دیا ہے۔ جو اللہ نے انہیں کہا تاکہ خلق خدا کو گمراہ کر سکیں۔

علامہ نوری طبرسی فصل الخطاب (مطبوعہ ایران ص ۹۷) میں لکھتے ہیں:

فحجیه عن أعینھم وکان عند ولدہ.... وھو عند الحجة عجل اللہ خروجه یظھرہ للناس بعد ظھورہ ویأمرھم بقراته وھو مخالف لھذا القراٰن الموجود من حيث التأليف وترتيب السور والايات بل الكلمات أيضاجھة الزياده والنقصية وحيث أن الحق مع علي عليه السلام وعلٰي مع الحق خفي القراٰن الموجود تفسير من جھتين وھو المطلوب (فصل الخطاب ص ۹۷)

تو انہوں (علیؓ) نے اس کو لوگوں سے چھپا لیا اور وہ قرآن ان کی اولاد کے پاس رہا..... اور اب وہ امام مہدی کے پاس ہے۔ اللہ اسے جلدی لائے، وہ اپنے ظہور کے بعد اس کو نکالیں گے۔ اور لوگوں سے اس کے پڑھنے کو کہیں گے۔

اور وہ قرآن موجودہ قرآن کے مخالف ہے، تالیف سورتوں کی ترتیب، آیات بلکہ الفاظ تک، سب کے مخالف ہے۔ کمی بیشی کے لحاظ سے اور اسی لحاظ سے کہ حق علی کے ساتھ ہے۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ موجودہ قرآن میں دونوں طرح سے تحریف ہو گئی ہے اور یہی ہمارا مقصدہے۔

قارئین سے درخواست ہے اور شیعہ بھائیوں سے اپیل ہے کہ وہ غور فرمائیں کہ، شیعہ حضرات جس نام خلافت کے داعی ہیں، اس کے بھی امام غائب، صدیوں سے غائب، ان کے ساتھ ان کا قرآن بھی غائب اور صدیوں سے غائب۔ آخر وہ کس منہ سے شیعی نظامِ سیاست کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں؟

قوتِ حاکمہ اور نظامِ خلافت دونوں غائب ہونے کے بعد شیعوں کے پاس ملت اسلامیہ کے لئے اور کیا منشور ہے؟ تقیہ، متعہ، سب اور موجودہ یزید صفت حکمرانوں کی خوشامد اور اطاعت؟
''کیا یہی شاہکار ہے تیرے ہنر کا''

باقی رہیں ان کی حدیثیں؟ سو وہ زیادہ اقوال اہلِ بیعت اور ائمہ کے ارشادات ہیں۔ ان کا ان کے نزدیک 'قولِ نبی' ہے۔ اور وہ بھی جتنی روایات ہیں، کتبِ رجال و تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیجئے! تقریباً تقریباً اکثریت ان میں وضاع اور کذابوں اور تقیہ بازوں کی ہے اگر کوئی صاحب ان سے کہے کہ
اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی!
تو بھلا کیا جواب ہو گا؟

شیعوں کی اخلاقی اور سماجی اقدار:

حکمران اقوام اونچے اخلاق اور بلند کیریکٹر کی حامل ہوتی ہیں، جس کے آئمہ بھی حامل تھے۔ مگر بعد میں ان کے نام لیوا شیعوں نے اخلاق کے جو نمونے چھوڑے ہیں۔ وہ کچھ زیادہ بلند نہیں ہیں۔ یعنی ایک تقیہ باز فرقہ پر کون اعتبار کرے گا۔ کہ خدا جانے اس نے جو بات کہی ہے وہ اس کے دل کی بات ہے یا کچھ اور؟ متعہ کا باب کھول کر قلب و نگاہ کو جس قدر مکدر رکھنے کے سامنے کر ڈالے ہیں، اس نے جنسی انار کی کی حد کر دی ہے پھر جو دنیا سے جا چکے، ان تک کو 'سب' بکنا آخر کون سا معیار فضیلت ہے کہ دنیا خلافت ان کے سپرد کرے؟

قال أبو جعفر علیه السلام التقية من دیني ودین اٰبائي ولا إیمان لمن لا تقیة له (اصول كافی ص ۲۸۴)

حضرت امام باقر فرماتے ہیں کہ تقیہ میرا اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے۔ جو تقیہ کے سرمایہ سے خالی ہے، وہ ایماندار نہیں ہے۔

غور کیجئے یہ لوگ پوری قوم کو ایک دوسرے کے خلاف کس بے اعتمادی کا درس دینے لگے ہیں۔ اور جرأت مند قوم کو کس بزدلی اور بے ایمانی کا درس دینے لگے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات حضرت امام باقر نے بالکل نہیں کہی۔ وہ بہادر، اور اصحاب عزیمت لوگ تھے۔

قال أبو عبد اللہ علیه السلام یا سلیمان إنکم علی دین من کتمه أعزه الله ومن أزاعه أذله الله (اصول كافی ص ۴۵۷)

امام جعفر صادق نے فرمایا! اے سلیمان! تم لوگ ایسے دین پر ہو جو اسے چھپائے گا، اللہ اس کو عزت بخشے گا اور جو اسے عام کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا۔

بھلا جس مذہب کی بنیاد 'چھپانے' پر ہو، وہ بھی سر بلند کر کے چلنے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ خدا جانے اندر خانے وہ کیا قباحتیں ہیں جن کو چھپانے کے لئے قوم کو خدا کا واسطہ دیتے رہتے ہیں؟

من تمتع مرة درجته کدرجة الحسن ومن تمتع مرتين درجته كدرجة الحسين ومن تمتع ثلاث مرات درجة كدرجة علي ومن تمتع أربعة درجته كدرجتي (منھج الصادقين ص ۲۵۸)

یعنی نبی کا (معاذ اللہ) ارشاد ہے کہ جس شخص نے ایک دفعہ متعہ کیا، اس کو حضرت حسن کا مرتبہ ملے گا، جس نے دو دفعہ کیا اسے حضرت حسین کا، جس نے تین بار کیا اسے حضرت علی اور جس نے چار مرتبہ کیا اس کو میرا درجہ ملے گا۔

؎ نقلِ کفر کفر نہ باشد، بہرحال غور کر لیجئے! ايسی باتيں كر كے ان لوگوں نے خود بزرگوں کی کس قدر توہین کی ہے۔ پھر یہ لوگ کس بازار کو سجانے کی دعوت دے رہے ہیں؟ اس کا اندازہ خود کر لیجئے!

الغرض! مسٹر غیاث الدین صاحب ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرنے کے عادی ہیں۔ ہم نے کچھ اصولی باتوں کا ذکر کیا ہے اگر یہ طے ہو جائیں تو بات طے ہو سکتی ہے۔ باقی رہیں بے سرو پا ان کی لن ترانیاں؟ سو ہم ان سے بیزار ہیں۔ ان کی ان غیر ذمہ دارانہ تحریروں کو پڑھ کر ہم نے اب یہ تہیہ کر لیا ہے کہ ان کی ان عامیانہ باتوں کا جائزہ نہ لیا جائے۔ کیوں کہ یہ لوگ وقت بہت ضائع کرتے ہیں۔ تحقیقی اور سنجیدہ گفتگو سے بالکل غیر مانوس ہیں اس لئے ہم آج سے ان کو الوداعی سلام کہتے ہیں۔

اس مضمون کی پہلی قسط محدث (محرم، صفر ۱۳۹۴ھ) میں 'فرضی خلیفہ بلا وصل' شائع ہوا تھا، جو کہ غلط ہے، درست یوں ہے۔ ''فرضی خلیفۂ بلا فصل اور وصیٔ رسول اللہ کے ایک دلچسپ وکیل۔'' قارئین تصحیح فرما لیں۔ (ادارہ)