﴿مَثَلُهُم كَمَثَلِ الَّذِى استَوقَدَ نارً‌ا فَلَمّا أَضاءَت ما حَولَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنورِ‌هِم وَتَرَ‌كَهُم فى ظُلُمـٰتٍ لا يُبصِر‌ونَ ١٧ صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَر‌جِعونَ ١٨ أَو كَصَيِّبٍ مِنَ السَّماءِ فيهِ ظُلُمـٰتٌ وَرَ‌عدٌ وَبَر‌قٌ يَجعَلونَ أَصـٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم مِنَ الصَّو‌ٰعِقِ حَذَرَ‌ المَوتِ ۚ وَاللَّهُ مُحيطٌ بِالكـٰفِر‌ينَ ١٩ يَكادُ البَر‌قُ يَخطَفُ أَبصـٰرَ‌هُم ۖ كُلَّما أَضاءَ لَهُم مَشَوا فيهِ وَإِذا أَظلَمَ عَلَيهِم قاموا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمعِهِم وَأَبصـٰرِ‌هِم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ٢٠﴾... سورة البقرة

ان کی کہاوت (بھی) اس شخص کی سی کہاوت ہے جس نے آگ روشن کی پھر جب اس کے آس پاس کی چیزیں جگمگا اُٹھیں تو اللہ نے ان کا نور سلب کر کے ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا کہ اب ان کو کچھ نہیں سوجھتا۔ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں کہ وہ پھر (راہِ راست پر) نہیں آسکتے۔ یا جیسے آسمانی بارش کہ اس میں (کئی طرح کے) اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی، موت کے ڈر سے مارے کڑک کے انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے لیتے ہیں۔ اور اللہ منکروں کو گھیرے ہوئے ہے (کہ اس کی پکڑ سے کہیں نہیں نکل سکتے) قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے جائے جب ان کے آگے بجلی چمکی تو اس میں (کچھ) چلے اور جب ان پر اندھیرا چھا گیا تو کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہے تو (یوں بھی) ان کے سننے اور دیکھنے کی قوتیں (ان سے) سلب کر لے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(۱۰) مَثَلَهُمْ (ان کی کہاوت، مثال) یہاں پر ان منافقوں کی کیفیت اور پیچ و تاب کا حال ایک مثال کے ذریعے واضح فرمایا گیا ہے۔

زبانی کلامی کلمہ پڑھ کر مسلمان برادری میں شامل ہو گئے اور مزے مزے رہنے لگے، یہاں تک کہ وحی الٰہی نے آکر ان کی قلعی کھولی، کہ گو یہ لوگ مسلمانوں میں گھل مل گئے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے نہیں ہیں بلکہ مارِ آستین ہیں، چنانچہ اس کا انکشاف ہوتے ہی ان کے سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ دین تو پہلے بھی نہیں تھا، اب دنیاوی مقاصد کا مستقبل بھی تاریک ہو گیا، بس ؎ خدا ہی ملانہ وصالِ صنم

بالکل یوں، جیسے آگ جلا کر روشن کی، جب ماحول جگمگا اُٹھا تو روشنی گل ہو گئی اور وہ پھر اس اندھیرے کی لپیٹ میں آگئے جس سے وہ نکلے تھے یا نکلنا چاہتے تھے۔

آج تقریباً تقریباً ساری دنیا کا یہی حال ہے، اسلام کا نام لیتے ہیں کہ مسلمانوں کا اعتماد حاصل رہے اور وہ ان کے اقتدار کی پنجابی آسانی کے ساتھ اپنے گلے میں ڈال لیں۔ لیکن جب قوم یہ کہنا شروع کر دیتی ہے کہ جس اسلام کے آپ گن گا رہے ہیں اگر واقعی آپ کے نزدیک وہ اتنی عظیم دولت ہے تو پھر عملاً اسے پورا پورا قبول کیوں نہیں کرتے؟ تو ''گُم سُم'' ہو کر رہ جاتے ہیں یا کہنے والے کو کرسی کا بھوکا کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ تاہم پھر ہزار کوشش کے باوجود قوم سے چپ نہیں سکتے اور سیاسئین سوء کی یہ سیاسی منافقت بالآخر منظرِ عام پر آکر رہتی ہے۔

(۱۱) صُمٌّ (بہرے) یعنی نہ حق سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں، جہاں صورتِ حال یہ ہو، وہاں راہ راست کی طرف ان کے پلٹ آنے کی کوئی توقع کرے بھی تو کیسے؟ یعنی مفادِ عاجلہ (یعنی نقد اور حاضر فائدے) کے سلسلےمیں وہ اس قدر 'ذکی الحس'' (حساس) ہو گئے ہیں کہ ان کے سوا ان کو اور کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے، بالکل ایک کاروباری خبطی کی طرح کہ: بات کوئی ہو، اسے مال و منال کی بات ہی سنائی دے گی۔ محل و موقع کوئی ہو وہ بہرحال چیروں کے بھاؤ کی بات کرے گا، سامنے کچھ ہو رہا ہو، اسے بہرحال ''غلّے کی ڈھیری'' ہی نظر آئے گی۔ یہی حال ان کا ہے، رسول اللہ ﷺ کی زبانِ اقدس سے جو بھی سن پاتے ہیں، اس پر وہ یہی سوچنے لگ جاتے ہیں کہ اب اس کی آڑ میں کیا شکار کھیلا جا سکتا ہے، جو بھی دیکھ پاتے ہیں، اسے وہ 'خوانِ نعیما' ہی دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔ بولنا بھی پڑ جائے تو بھی سودے کی ہی بات کریں گے کہ: آخر اس سے کیا وصول ہو گا۔اب آپ غور فرمائیں، جہاں کیفیت یہ ہو وہاں 'بہروں گونگوں اور اندھوں' کی دنیا آباد نہ ہو گی تو اور کیا ہو گا۔

'یعنی اللہ کے نبی نے دینِ اسلام روشن کیا اور خلق نے اس میں راہ پائی اور منافق اس وقت اندھے ہو گئے، آنکھ کی روشنی نہ ہو تو مشعل کیا کام آوے، کا شکے نرا اندھا ہو تو کسی کو پکارے یا کسی کی بات سنے، بہرا بھی ہو اور گونگا بھی، وہ کیونکر راہ پر آوے، منافقوں کو یہ عقل کی آنکھ ہے نہ آپ سے پہچانیں، نہ مرشد کی طرف رجوع ہے کہ وہ ہاتھ پکڑے نہ حق کی بات کو کان رکھتے ہیں۔ ایسے شخص سے توقع نہیں کہ پھر پاوے۔ (موضح)

(۱۲) اس مثال میں بھی مطلب پرستوں کی ذہنیت بیان کی گئی ہے یعنی وہ چاہتے ہیں کہ انہیں صرف ایسا اسلام چاہئے جو ان کے صرف مفاد عاجلہ کی ضمانت مہیا کرے اور وہ بھی اس قدر 'بے آمیز' ہو کہ، جان جوکھوں میں ڈالنے والی بات کا کھٹکا تک بھی باقی نہ رہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کانوں میں اس کی بھنک بھی نہ پڑے تاکہ رنگ میں بھنگ نہ پڑے، عیش کی کوئی گھڑی بھی منغص نہ ہانے پائے، اور پرلطف زندگی کی دوڑ میں کہیں بھی کوئی بریک نہ لگنے پائے۔ اگر کہیں ایثار کامرحلہ آجاتا ہے تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس سے بچ ہی جائیں، خدا کہتا ہے کہ بچاؤ کے لئے بھی جو تدبیریں اختیار کرتے ہیں وہ بھی خدا سے بے نیاز ہو کر کرتے ہیں، حالانکہ اگر اللہ چاہے تو وہ ان کے سوچنے سمجھنے کے وسائل (کان اور آنکھیں) ہی مسمار کر دے، آخر ان کو سوچنا چاہئے کہ خدا کیا نہیں کر سکتا۔

بارش سے مراد 'وحی الٰہی' ہے جس میں پیامِ بشارت بھی ہے اور ذمہ داریوں کے چونکا دینے والے احکام بھی، بشارتوں پر نظر کرتے ہیں تو دوڑ کر شامل ہو جاتے ہیں، لیکن جب مشکلات کا تصور کرتے ہیں تو چھپتے ہیں۔ بچنے کی تدبیریں کرتے ہیں اور جب محسوس کرتے ہیں کہ کسی طرح بھی جان نہیں چھوٹے گی تو ٹھٹک کر رک جاتے ہیں۔

اس میں کمزور ایمان والوں کی بات نہیں بیان کی گئی جیسا کہ بہت سے بزرگوں نے لکھا ہے، بلکہ ایسے منکرینِ حق کا ذکر ہے جو 'مطلب پرستی' میں اتنے دور نکل گئے ہیں کہ سطحی مقاصد کے حصول کے لئے اگر ان کو اپنی کافری میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ بھی کر گزرتے ہیں۔ یعنی کفر میں حد درجہ مخلص ہوتے ہیں۔ بہرحال کافروں میں کم از کم یہ خوبی تو ہوتی ہے کہ اپنے شخصی مفاد کے لئے کفر میں لچک پیدا کرنے کو بھی اپنے خصوصی مفہوم میں 'کفر' ہی تصور کرتے ہیں، مگر یہ منافق ایسے بے ضمیر اور بزدل کافر ہیں کہ معمولی سے معمولی فائدہ کے لئے بھی اپنے کفر کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کے کام و ذہن کے چسکے پورے ہو سکیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو مطلب کی بات ہو تو دین دار بن جاتے ہیں، ورنہ اپنے کو گنہگار کہہ کر کنارہ کر جاتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہاں بھی بات 'دین' کی نہ رہی، نفس طاغوت کی رہی۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کا بھی حشر مسلمانوں میں نہ ہو۔ ہمارے نزدیک اس مرض میں اہلِ سیاست زیادہ مبتلا ہیں بلکہ حد درجہ خدا سے بے خوف ہو کر ''کلمۂ اسلام'' کا کاروبار کرتے ہیں۔

خدا نے دو مثالیں بیان کی ہیں کہتے ہیں، پہلی خالص منافقین کی ہے اور دوسری نیم منافقوں کی، لیکن ہمارے نزدیک زیادہ صحیح یہ ہے کہ دونوں خالص منافقین کی ہیں، کیونکہ ان میں جو بھی بات ہے، اس کا ہر جزئیہ کفر کو مستلزم ہے۔ پہلی مثال میں یہ ہے کہ کچھ چل کر ٹھٹک جاتے ہیں کہ اب کیا کریں؟ انہیں کچھ نہیں سوجھتا، دوسری میں یہ ہے کہ: اگر بعض اغراض سیئہ کے لئے 'آمنا' کہتے ہیں تو ان کو اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد جان و مال اور مفاد کی یہ یہ قربانیاں بھی دینا پڑیں گی۔ اس لئے گھبرا جاتے ہیں اور ان سے بچنے کے لئے تدبیریں کرتے ہیں، پھر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بس اب ہم بچ گئے۔

عہد نبوی میں اہل نفاق کی مزید کار گزاریاں

اہل نفاق کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس کا کچھ حصہ اوپر کی سطور میں بیان کیا گیا ہے اور مزید درج ذیل ہے۔ گویہ ساری تفصیل دور نبوی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک دور کے اہلِ نفاق سے متعلق ہے، تاہم بعد کے اہلِ نفاق کے سمجھنے کے لئے بھی اس سے مدد مل سکتی ہے۔ بندۂ عاصی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ ایک مضمون کے سلسلے کی ساری تفصیل ایک جگہ جمع ہوتی جائے، خدا جانے ''التفسیر والتعبیر'' کے اتمام کی نوبت آتی ہے یا نہ، تاہم جتنے مباحث آتے جائیں مناسب حد تک مکمل ہوتے جائیں تو بہتر رہے گا، غرض یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدمتِ قرآن ہو جائے جو قیامت میں میرے لئے ذریعۂ نجات بنے۔

بے یقینی کا مرض:

یہ لوگ سدا تذبذب کا شکار رہتے تھے، اس لئے ادھر بھی اور ادھر بھی، سبھی سے 'صاحب سلام' کے قائل مگر بغرض استحصال۔

﴿مُذَبذَبينَ بَينَ ذ‌ٰلِكَ لا إِلىٰ هـٰؤُلاءِ وَلا إِلىٰ هـٰؤُلاءِ...١٤٣﴾... سورة النساء

درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں، پورے ان کی طرف ہیں نہ ان کی طرف

﴿الَّذينَ يَتَرَ‌بَّصونَ بِكُم فَإِن كانَ لَكُم فَتحٌ مِنَ اللَّهِ قالوا أَلَم نَكُن مَعَكُم وَإِن كانَ لِلكـٰفِر‌ينَ نَصيبٌ قالوا أَلَم نَستَحوِذ عَلَيكُم وَنَمنَعكُم مِنَ المُؤمِنينَ ۚ فَاللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيـٰمَةِ ۗ وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكـٰفِر‌ينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلًا ﴿١٤١﴾... سورة النساء

یعنی یہ (منافق ہنوز) تمہارے (مآل کار کے) منتظر ہیں تو اگر اللہ نے فتح دے دی تو کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم آپ ﷺ کے ساتھ نہیں تھے؟ اگر کافروں کو فتح نصیب ہوئی تو ان سے کہنے لگتے ہیں، کیا ہم تم پر غالب نہیں ہو گئے تھے اور مسلمانوں کو تم سے بچایا نہیں تھا؟

رسول پر نکتہ چینی:

رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی کرنا ان کا شیوہ تھا، ہاں اگر حضور ان کو کچھ مرحمت فرما دیتے تو کہتے سب اچھا ورنہ سب برا۔

﴿وَمِنهُم مَن يَلمِزُكَ فِى الصَّدَقـٰتِ فَإِن أُعطوا مِنها رَ‌ضوا وَإِن لَم يُعطَوا مِنها إِذا هُم يَسخَطونَ ﴿٥٨﴾... سورة التوبة

خدا پر نکتہ چینی:

خدا پر نکتہ چینی اور ذات پاک کے خلاف بدگمانی کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔﴿ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ إِلّا غُر‌ورً‌ا ﴿١٢﴾... سورة الاحزاب

رسول پر احسان دھرنا:

ایمان کا نصیب ہونا رب کا کرم ہے مگر یہ منافق الٹا خدا پر احسان دھرتے ہیں کہ ہم نے تجھے مانا۔ ﴿يَمُنّونَ عَلَيكَ أَن أَسلَموا...١٧﴾... سورة الحجرات

دیکھنے میں بڑے معزز مگر.....:

دیکھنے میں وہ بڑے مہذب، نہایت معقول، دانشور اور شستہ ادیب کہ دل موہ لیتے ہیں۔ حقیقت میں وہ بہکے ہوئے اور مارِ آستین ہیں۔

﴿وَإِذا رَ‌أَيتَهُم تُعجِبُكَ أَجسامُهُم ۖ وَإِن يَقولوا تَسمَع لِقَولِهِم ۖ كَأَنَّهُم خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ ۖ يَحسَبونَ كُلَّ صَيحَةٍ عَلَيهِم ۚ هُمُ العَدُوُّ فَاحذَر‌هُم ۚ قـٰتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنّىٰ يُؤفَكونَ ﴿٤﴾... سورة المنافقون

نہايت الدُّالخصام، جھگڑلو اور بہت ہی بد طینت اور تخریب کار اپنے جھوٹے وقار کے لے غلط کاموں پر اُڑ جانے والے لوگ ہیں۔

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يُعجِبُكَ قَولُهُ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيُشهِدُ اللَّهَ عَلىٰ ما فى قَلبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الخِصامِ ﴿٢٠٤﴾ وَإِذا تَوَلّىٰ سَعىٰ فِى الأَر‌ضِ لِيُفسِدَ فيها وَيُهلِكَ الحَر‌ثَ وَالنَّسلَ...٢٠٥﴾... سورة البقرة

بہانے باز:

اگر کوئی کٹھن مرحلہ در پیش ہوتا توکھسک جاتے اور پھر آکر جھوٹے بہانے بناتے۔

﴿وَسَيَحلِفونَ بِاللَّهِ لَوِ استَطَعنا لَخَرَ‌جنا مَعَكُم...٤٢﴾... سورة التوبة

مصیبت کی گھڑی آتی تو شکر کرتے کہ ہم ان کے ساتھ نہیں تھے، خوشی کی بات ہوتی تو ہاتھ ملتے کہ کاش ان کے ساتھ ہوتے۔

﴿فَإِن أَصـٰبَتكُم مُصيبَةٌ قالَ قَد أَنعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ إِذ لَم أَكُن مَعَهُم شَهيدًا ﴿٧٢﴾ وَلَئِن أَصـٰبَكُم فَضلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقولَنَّ......يـٰلَيتَنى كُنتُ مَعَهُم...٧٣﴾... سورة النساء

اگر کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو باہم صلاح مشورہ کر کے کھسک جاتے:

﴿وَإِذا ما أُنزِلَت سورَ‌ةٌ نَظَرَ‌ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ هَل يَر‌ىٰكُم مِن أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَ‌فوا...١٢٧﴾... سورة التوبة

جب وقت نکل جاتا تو باتیں بناتے تاکہ ان کو بھی کچھ مل جائے۔

﴿فَإِذا ذَهَبَ الخَوفُ سَلَقوكُم بِأَلسِنَةٍ حِدادٍ أَشِحَّةً عَلَى الخَيرِ‌...١٩﴾... سورة الاحزاب

حق كی راه مارتے تھے:

نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، جہاد سے خود بھی پرے رہتے اور دوسروں کو بھی روکتے تھے اور جو شرکت کرنے سے رہ جاتے تو خوش ہوتے۔

﴿قَد يَعلَمُ اللَّهُ المُعَوِّقينَ مِنكُم وَالقائِلينَ لِإِخو‌ٰنِهِم هَلُمَّ إِلَينا...١٨﴾... سورة الاحزاب"﴿فَرِ‌حَ المُخَلَّفونَ بِمَقعَدِهِم خِلـٰفَ رَ‌سولِ اللَّهِ...٨١﴾... سورة التوبة

اگر شرکت کرتے بھی تو شرارت کرنے کے لئے۔

﴿لَو خَرَ‌جوا فيكُم ما زادوكُم إِلّا خَبالًا وَلَأَوضَعوا خِلـٰلَكُم يَبغونَكُمُ الفِتنَةَ...٤٧﴾... سورة التوبة

رب او رسول کے خلاف سازشیں:

ان کی یہ کوشش ہوتی کہ کسی طرح خدا کی بات پوری نہ ہو اور نہ رسول اپنے مقصد میں کامیاب ہوں، اس لئے وہ خفیہ میٹنگیں کرتے رہتے تھے۔

﴿وَيَتَنـٰجَونَ بِالإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ وَمَعصِيَتِ الرَّ‌سولِ...٨﴾... سورة المجادلة

﴿وَيَقولونَ طاعَةٌ فَإِذا بَرَ‌زوا مِن عِندِكَ بَيَّتَ طائِفَةٌ مِنهُم غَيرَ‌ الَّذى تَقولُ...٨١﴾... سورة النساء

اپنی پارٹی کے آدمیوں سے کہتے ہیں کہ صبح کو مسلمان ہو کر شام کو پھر جاؤ تاکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوں۔

﴿وَقالَت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ ءامِنوا بِالَّذى أُنزِلَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ‌ وَاكفُر‌وا ءاخِرَ‌هُ لَعَلَّهُم يَر‌جِعونَ ﴿٧٢﴾... سورة آل عمران

اب جو لوگ كلمہ پڑھ كر اسلامی تحریکوں اور اسلامی نظام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، ان کا کیا بنے گا؟ یہ وہ خود ہی سوچ لیں۔

جھوٹی تعریف:

کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ان کو ہر کارِ خیر کے سلسلے میں کریڈٹ لینے کی ہوس رہتی تھی۔

﴿يُحِبّونَ أَن يُحمَدوا بِما لَم يَفعَلوا...١٨٨﴾...سورة آل عمران

نماز کا مذاق اُڑانا:

نماز کا مذاق اُڑاتے تھے اذان سنی اور باتیں بنانا شروع کر دیں۔

﴿وَإِذا نادَيتُم إِلَى الصَّلو‌ٰةِ اتَّخَذوها هُزُوًا وَلَعِبًا...٥٨﴾... سورة المائدة

اگر نماز کے لئے جاتے بھی تو الکسائے ہوئے اور محض دکھلاوے کے لئے۔

﴿وَإِذا قاموا إِلَى الصَّلو‌ٰةِ قاموا كُسالىٰ يُر‌اءونَ النّاسَ...١٤٢﴾... سورة النساء

اور وہ بھی مشروط طور پر

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَعبُدُ اللَّهَ عَلىٰ حَر‌فٍ ۖ فَإِن أَصابَهُ خَيرٌ‌ اطمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِن أَصابَتهُ فِتنَةٌ انقَلَبَ عَلىٰ وَجهِهِ...١١﴾... سورة الحج

عزت كے خلاف سمجھتے:

اگر ان سے کہا جاتا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس چلو تاکہ وہ آپ کے لئے بخشش کی دعا کریں تو اسے اپنی عزت کے خلاف خیال کرتے۔

﴿وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا يَستَغفِر‌ لَكُم رَ‌سولُ اللَّهِ لَوَّوا رُ‌ءوسَهُم وَرَ‌أَيتَهُم يَصُدّونَ وَهُم مُستَكبِر‌ونَ ٥﴾... سورة المنافقون

خوفِ خدا کی تلقین کی جاتی تو اسی طرح ان کو جھوٹا وقار آڑے آجاتا۔

﴿وَإِذا قيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتهُ العِزَّةُ بِالإِثمِ ۚ فَحَسبُهُ جَهَنَّمُ...٢٠٦﴾... سورة البقرة

انفاق بھی مارے سے کرتے:

راہِ خدا میں دینے کا وقت آتا تو برے دل کے ساتھ دیتے۔

﴿وَلا يُنفِقونَ إِلّا وَهُم كـٰرِ‌هونَ ﴿٥٤﴾... سورة التوبة

اگر یہ خوش دلی سے بھی دیتے تو بھی بایں خبث باطن ان سے قبول نہ کیا جاتا۔

یہ احمق ہیں:

یہ بے وقوف لوگ ہیں کہ خدا کے سامنے جراتیں کرتے ہیں۔

﴿ذ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَفقَهونَ ﴿١٣﴾... سورة الحشر

فاسق لوگ ہیں:

﴿إِنَّكُم كُنتُم قَومًا فـٰسِقينَ ﴿٥٣﴾... سورة التوبة

بزدل ہیں:

﴿وَلـٰكِنَّهُم قَومٌ يَفرَ‌قونَ ﴿٥٦﴾... سور التوبة

احادیث میں اہلِ نفاق کا ذکر

قول حکیمانہ، کام ظالمانہ:

یہ منافق کی نشانی ہے کہ ان کی باتیں سنو تو پر حکمت مگر کام دیکھو تو ظالمانہ۔

«کُلَّ مُنَافِقٍ یَتَکَلَّمُ بِالْحِکْمَةِ وَیَعْمَلُ بِالْجَوْرِ» (مشکوٰۃ بحوالہ شعب الایمان)

سامنے کچھ اور پسِ پشت کچھ کہنا بھی نفاق ہے۔

«إِنَّا نَدْخُلُ عَلٰي سُلْطَانِنَا فَنَقُوْلُ لَه بِخِلَافِ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِه قَالَ» (الي ابن عمر)

«كُنَّا نَعُدُّ ھٰذَا نِفَاقًا» (بخاری)

یہ نہیں کہ بادشاہوں کے خلاف کلمۂ حق بھی نہ کہا جائے بلکہ یہ عظیم جہاد ہے، مقصد یہ ہے کہ ان کی خوشامد نہ کی جائے جو حق ہے وہ سامنے بھی کہہ دیا جائے۔ أفضل الجھاد كلمة حق عند سلطان جائر (مشكوٰة)

بد زبانی:

بد زبانی اور زبان آوری نفاق کا حصہ ہے۔

«البذاء والبیان شعبتان من النفاق» (ترمذی)

درشت مزاجی اور کنجوسی بھی نفاق کی شاخیں ہیں۔

«ان البذاء والجفاء والشح من النفاق» (رواہ احمد)

منافق دیکھنے میں اچھا لگتا ہے:

منافق دیکھنے میں خوش نصیب اور سلامت نظر آتا ہے، لیکن جب آفت آتی ہے، یکدم آتی ہے اور اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔

«المنافق كمثل الأرزة المحذية التي لا يصيبھا شيءحتي يكون انجعامنا مرة واحدة» (صحيحين عن كعب)

اگر تھوڑی بہت بیماری یا دیکھ سکھ آجائے تو اس کو وہ اتفاقات تصور کرتا ہے یا بعض طبعی تقاضے۔ پس پردہ خدا کا ہاتھ اس کو نظر نہیں آتا۔

«إن المنافق إذا مرض ثم عُوْفِي کان کالبعیر عقله أھله ثم أرسلوه فلم يدر لِمَ عقلوه ولم أرسلوه» (ابو داود)

دلچسپ تعارف:

«إن للمنافقين علامات يعرفون بھا تحيتھم لعنة وطعامھم نھبة وغنيمتھم غلول ولا يقربون المساجد إلاھوا ولا يأتون الصلوٰة إلادبراً مستكبرين لا يألفون ولا يُؤمنون خُشُب بالليل ضحب بالنھار »(ابن كثير بحواله احمد عن ابي ھريرة)

منافقوں کی چند نشانیاں ہیں جن کے ذریعے ان کی شناخت کی جاتی ہے۔ سلام کی بجائے ان کی زبان پر لعنت رہتی ہے، لوٹ مار کا مال ان کی غذا، مال خیانت ان کے لئے مالِ غنیمت، مسجد میں آتے ہیں تو بک بک کرتے ہوئے، نماز میں آتے ہیں تو سب سے آخر میں اور اتراتے ہوئے، نہ کسی سے محبت کرتے ہیں، نہ اس سے کوئی محبت کرتا ہے۔ رات کو شہتیر کی مانند بستروں پر پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور مچاتے پھرتے ہیں۔

عملی نفاق

چرچا ہے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کچھ عملی کوتاہیاں بھی انسان سے سرزد ہو جاتی ہیں لیکن وہ اصطلاحی نفاق میں شمار نہیں ہوتیں۔ ہمارے نزدیک یہ کسی حد تک درست بھی ہے، لیکن ان پیہم کوتاہیوں کے ذریعے عموماً قلبی نفاق کی راہ ہموار ہو ہی جاتی ہے، اس لئے آپ نے بہت سے افراد کو دیکھا ہو گا کہ دین کے سلسلے میں، وہ ریب و تذبذب اور تشکیک میں مبتلا ہو گئے ہیں، خاص کر اہل اقتدار اور کمیونسٹ طبقہ۔

جسے دنیا ''عملی نفاق'' سے تعبیر کرتی ہے، اس میں اکثریت ان لوگوں کی ہے، جو گو وہ زبان سے نہ کہیں لیکن تیور بتاتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حیات کے سلسلے میں ان کو بے اطمینانی، تشکیک اور بے یقینی کا گھُن لگ گیا ہے۔ اسلام کی حقانیت کے بارے میں ان کے قلب و دماغ میں تصدیق کی جو رمق پائی جاتی ہے وہ بھی ''اجمالی'' حیثیت میں ہے، تفصیلی حد تک وہ کافی حد تک اس سے غیر مطمئن ہیں۔

صورت و معنی:

سورۃ بقرہ کے رواں 'رکوع ۲' سے یہ امور مستنبط ہوتے ہیں۔

• ایمان کے لئے تنہا زبانی اقرار کافی نہیں، اقرار مع تصدیق قلبی ضروری ہے۔ (وما ھم بمؤمنین)

• معصیت سے دل کی سیاہی بڑھتی ہے، معصیت کفر کی صورت میں گو دل سارا سیاہ ہو جاتا ہے تاہم پیہم انکار و حجود کی بنا پر اس کی کثافت الی غیر نہایۃ بڑھ سکتی ہے۔ (فزادھم اللہ مرضا)

• قرآن حکیم کی اصطلاح میں، فساد فی الارض صرف تخریبی سرگرمیوں کو نہیں کہتے بلکہ کفر و حجود کا نام بھی فساد فی الارض ہے۔ (ألا إنھم ھم المفسدون)

• راہ حق میں، مصلحتوں اور مفادِ عاجلہ کی پراوہ نہ کرنا لوگوں کے نزدیک حماقت ہے، خدا کے نزدیک احمق وہ ہیں جو رضائے الٰہی کے لئے قربان ہونے اور قربان کرنے' کو بے وقوفی خیال کرتے ہیں (ألا إنھم ھم السفھاء)

• دو رُخی پالیسی کا نام نفاق ہے، دو مسلم بھائیوں کے مابین اختیار کی جائے تو عظیم معصیت ہے، اگر مسلم اور کافر کے درمیان روا رکھی جاے تو خالص نفاق۔ (وإذا لقوا الذین امنوا قالوا اٰمنا)

• دین کے سلسلے میں بے یقینی یا مسرفانہ غیر محتاط زندگی کے باوجود اگر 'خیر سلا' دکھائی دیتی ہے تو وہ ان کے غلط طرزِ حیات کی حقایت کی دلیل نہیں ہوتی بلکہ استدراج ہوتا ہے، جس کا انجام خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ (اللہ یستھزیٔ بھم)

• جو لوگ دنیا کے لئے دین چھوڑتے ہیں، شرعی نقطۂ نظر سے وہ منافق ہوتے ہیں، خدا کے نزدیک ایسے لوگ دین و ایمان بیچتے ہیں۔ (اشتروا الضلالة)

• جن لوگوں کا یہ شیوہ ہے کہ 'میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو' وہ دراصل نفس و طاغوت کے غلام ہیں، خدا کے نہیں ہیں، خدا کے نزدیک یہ اہل نفاق ہیں جو غضب الٰہی کے نرغے میں آگئے ہیں۔ (واللہ محیط بالکفرین)