نام کتاب : آداب المریدین

مؤلف : شیخ ضیاء الدین سہروردی

مترجم : محمد عبدالباسط

ناشر : المعارف گنج بخش روڈ لاہور

قیمت : دس روپے

مسلمانوں میں ابتدا سے ایک ایسا گروہ رہا ہے جس کی زندگی یاد خداوندی اور ریاضت و عبادت کے لیے مخصوص تھی۔ اس گروہ نے دنیوی کشاکش سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور عوام کی انفرادی اصلاح کے لیے وعظ و نصیحت اور عبادت و ریاضت کی تلقین، زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ ابتداء میں یہ گروہ کسی خاص نام سےموسوم نہ تھامگر دوسری صدی میں یہ گروہ ''گروہ صوفیہ'' او راس کا مسلک ''تصوف'' کہلایا۔

ان بزرگوں کی زندگی کامقصد قرآن، سنت نبوی اور تعامل صحابہ کی پیروی تھا اور وہ اپنے اختیارکردہ طرزعمل کو قرآن و سنت کی احسن تعبیر خیال کرتے تھے۔جوں جوں زمانہ گزرتا گیا۔تصوف (احسان و سلوک) کے چشمہ صافی میں بدعات اور غیر اسلامی عقائد کی کثافتیں شامل ہوتی گئیں اور آج بقول مولانا عبدالماجد دریابادی:

''تصوف کی مسخ شدہ شکل یونانی اوہام، ایرانی تعلیمات ، ہندی مراسم اور دیگر غیر اسلامی عناصر کامعجون مرکب ہے۔''

قدیم صوفیاء کی کتابوں اورملفوظات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان بزرگوں کے پیش نظر اسوہ نبوی کی پیروی اور اس پر مقاومت کے سوا کوئی مقصد نہ تھا۔ مثلاً خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، سلسلہ چشتیہ کے مسلم بزرگ تھے۔ ان کے ملفوظات کا مجموعہ خواہ قطب الدین بختیار کاکی نےمرتب کیا۔ اس مجموعہ میں اوّل سے آخر تک نماز و عبادات کی تاکید اور اتباع سنت پر زور دیا گیا ہے۔وضو وغیرہ کے مسائل میں بعض سنن پراس قدر زور دیا گیا ہے کہ آج فرائض وضو پر بھی اس قدر پابندی نہیں ہوتی۔

تاہم بعض صوفیاء نے مروجہ نظام ہائے اخلاق و ریاست کےاثرات قبول کیے اور تصوف، احسان و سلوک کے بجائے فلسفہ کی حدود میں داخل ہوگیا۔ ابن عربی کی کتب فلسفہ اور یونانی افکار سے مملو ہیں۔ تصوف کے لٹریچر میں فلسفہ اور اخلاق دونوں پہلوبہ پہلو ہیں۔

ڈاکٹر اقبال نے ایک مکتوب میں لکھا ہے:

''تصوف کے ادبیات کا وہ حصہ جو اخلاق و عمل سے تعلق رکھتا ہےنہایت قابل قدر ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے طبیعت پر سوزوگداز کی حالت طاری ہے فلسفہ کا حصہ محض بیکار ہے او ربعض صورتوں میں میرے خیال میں قرآن کے مخالف۔''

زیرنظر کتاب ''آداب المریدین'' کا اُردو ترجمہ ہے۔مؤلف شیخ ضیاء الدین سہروردی چھٹی صدی ہجری کے بلند مرتبہ اہل علم و نظر تھے۔سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی ان کے بھتیجے تھے۔ ان کی یہ کتاب صوفیا کے حلقوں میں بطور نصاب پڑھی جاتی ہے خواجہ گیسودراز نے اس کتاب کاترجمہ کئی بار فرمایا او ریہ کتاب اکثر ان کےزیرمطالعہ رہتی تھی۔

کتاب کے مطالعہ سے صوفیائے کرام کے اعتقادات اور سلوک کے آداب معلوم ہوتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں تصوف کا مفہوم کیا تھا اور صوفیہ کیاطریق کار اختیارکیے ہوئے تھے۔

کتاب 42 فصول پرمشتمل ہے اور صوفیہ کا نقطہ نظر شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے۔ ''آداب سماع'' پرنسبتاً طویل فصل ہے۔ سماع کے بارے میں خود صوفیاء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک جماعت تو سماع کی سرے سےمخالف ہے اور اس عمل کو حرام قرار دیتی ہے جو جماعت سماع کی قائل ہےان کے نزدیک بھی ''سماع ''کچھ پابندیوں کا متقاضی ہے۔ حضرت علی ہجویری نے اپنی تالیف ''کشف المحجوب'' میں ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔''آداب المریدین'' کامؤلف بھی ان پر روشنی ڈالتا ہے۔

سماع صرف اس شخص کیلئے جائز ہے جس کادل زندہ اور نفس مردہ ہو لیکن جس کا نفس زندہ اوردل مردہ ہو تو اس کے لیے جائز نہیں۔ (ص103)

سماع ایک ایسی چکنی پھسلنے والی زمین ہے جس پر صرف علماء کے قدم ہی ثابت رہ سکتے ہیں۔ ص (104)

سماع میں مشائخ لڑکوں کی موجودگی کوناپسند کرتے ہیں۔ (ص105)

مجلس سماع کی ابتداء قرآن سے کرنی چاہیے او راسی پر ختم کرنی چاہیے۔ (ص 107)

بعض مریدین نے مشائخ کو کہا کہ کیا مشائخ سماع نہیں کیا کرتے تھے۔ انہوں نےجواب دیا اگر تم ان جیسے ہوتو تم بھی سن سکتے ہو۔ (ص108)

کتاب میں حکمت آمیز اور حکمت آموز جملے جابجا ملتے ہیں مثلاً۔

اگر علم، عمل سے خالی ہو تو وہ عقیم (بانجھ) ہے اور اگر عمل ، علم سے خالی ہو تو وہ سقیم ہے۔

تصوف کیا ہے؟ حضرت ابوبکر کتانی کہتے ہیں:

''تصوف تمام تر اخلاق ہی کانام ہے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے۔ اس کا تصوف زیادہ ہوگا۔''

حضرت سہیل بن عبداللہ سے حسن خلق کے متعلق سوال کیا گیا۔ انہوں نےجواب دیا:

''اونیٰ ترین اخلاق، تحمل اور ترک مکافات اور ظالم پر رحم او راس کے لیےدعا کرنا ہے۔ یہ اخلاق متصوفین کے ہیں نہ کہ جونام نہاد صوفیوں نے اختیارکررکھے ہیں کہ وہ طمع کو ارادہ اور سوئے ادب کا نام اخلاص رکھتے ہیں اور حق سےفروخ کو ''شطح'' کہتے ہیں اورمذموم چیزوں سےتلذذ کو تطبیب (آزمائش)کہتے ہیں..... یہ صوفیاء کا طریقہ نہیں ہے۔'' (ص35)

جب خواہش نفسانی غالب ہوجائے تو عقل غائب ہوجاتی ہے۔(ص45)

مترجم نے رجال کے بارے میں مفید حواشی لکھے ہیں۔ ترجمہ دلچسپ ہے او رطباعت و کتابت ''المعارف'' کے روایتی انداز کے مطابق مثالی ہے۔

.............................

نام کتاب : تصوف اسلام

مؤلف : عبدالماجد دریابادی

ناشر : ''المعارف'' گنج بخش روڈ لاہور

قیمت : دس روپے

مولانا عبدالماجد دریا بادی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔موصوف کی ابتدائی عمر تجدد پسندی اور فلسفہ زندگی کے عالم میں گزری او رہرمعاملے کو عقل کے ترازو میں تولتے تھے۔ بقول ان کے کسی زمانے میں وجود خداوندی میں بھی شک تھا مگر جب قرآن و سنت کی طرف رخ کیا تو عقل و فلسفہ کے تمام کانٹے ایک ایک کرکے چنےگئے۔

موصوف کو تصوف سے دلچسپی پیدا ہوئی تو آج سے تقریباً پچاس سال پہلے صوفیاء کی 9کتابوں کا خلاصہ تیار کیا جو ''تصوف اسلام'' کے نام سے شائع ہوا۔ ایک عرصہ سے یہ کتاب مارکیٹ میں نہ تھی۔ ادارہ ''المعارف'' نے شائع کرکے کمی پوری کردی۔

عبدالماجد دریابادی نے جن بزرگوں کے افکار کا مطالعہ کیا ہے ذیل میں ان کے اسمائے گرامی مع کتب درج ہیں:

1۔ شیخ ابونصر سراج : کتاب اللمع

2۔ شیخ علی بن عثمان ہجویری : کشف المحجوب

3۔ شیخ ابوالقاسم قشیری : رسالہ قشیریہ

4۔ شیخ عبدالقادر جیلانی : فتوح الغیب

5۔ شیخ شہاب الدین سہروردی : عوارف المعارف

6۔ خواجہ نظام الدین دہلوی : فوائد الفواد

7۔ شیخ عطار : منطق الطیر

8۔ عبدالرحمٰن جامی : لوائح

9۔ احمد الواسطی : فقر محمدی

مولانا دریا بادی نے پہلے مؤلف کتاب کے مختصر حالات مستند ماخذوں سے لکھے ہیں بعد میں کتاب کا جامع تعارف اور خلاصہ پیش کیا۔مولانا نے دریا کوزے میں بند کردیا ے۔کتاب کے پہلے صوفی سراح ہیں جو چوتھی صدی میں گزرے ہیں اور آخری بزرگ احمد الواسطی ہیں جونویں صدی سے تعلق رکھتے ہیں۔کتاب کے مطالعہ سے معلو م ہوتا ہے کہ تصوف کس طرح مختلف منازل سے گزرا اور صوفیاء کے افکار متاثر ہوئے۔

کتاب قابل قدر ہے۔ ''المعارف'' نے اپنی روایتی آپ و تاب کے ساتھ پیش کی ہے۔

۔۔۔۔۔:رسالہ ختم شد:۔۔۔۔۔۔