تعارف

مقابل کے صفحہ پر حضرت شاہ صاحب کی جس تحریر کا عکس ہے اس کے متعلق چند سطریں پیش خدمت ہیں:

ہمارے یہاں مشرقی کتاب خانہ پٹنہ (خدابخش لائبریری) میں صحیح بخاری کا ایک مکمل نسخہ شیخ محمد بن شیخ پیر محمد بن شیخ ابوالفتح بلگرامی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ یہ نسخہ اس لحاظ سےبہت قیمتی ہے کہ یہ شاہ صاحب کے حلقہ درس میں استعمال ہوا ہے اور اس پر ان کے دست خاص کا لکھا ہوا اجازت نامہ ثبت ہے نیز شاگرد (محمد بن پیر محمدیہ پورا نسخہ جن کالکھا ہوا ہے) کے آخری نوٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ استاد کی نگرانی میں شاگرد نے اس کی تصحیح کی تھی۔مزید برآں شاہ عالم بادشاہ(1173۔1221ھ) کے حکم سے 1184ھ میں کسی محمدناصح صاحب نے نسخہ کی مزید تصحیح کی اور اعراب لگایا۔یہ اجمالی خاکہ تھا۔نسخہ کی اہمیت کے پیش نظر تھوڑی تفصیل اور دستخطی تحریروں کے کچھ نمونے دیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری کا یہ نسخہ دو جلدوں میں ہے پہلی جلدمیں270 ورق ہیں۔ دوسری جلد میں 404 ورق (808 صفحات) میں کتاب صفحہ 749 پر ختم ہوجاتی ہے۔اسی صفحہ کے آکر میں شیخ محمد بن پیر محمد کی مندرجہ ذیل دستخطی تحریر ہے۔

ثم الكتاب الجامع الصحيح اللإمام..... محمد بن إسماعيل..... الجعفي البخاري في المسجد الجامع الفیروزي علی ساحل نھرا الجوت في محروسة الدھلي (كذا) يوما الأربعاء سادس شعبان المعظم في سنة ١١٥٩.... بيد أحقر العباد شيخ محمد بن شيخ پير محمد...... مع قراءته من الأوّل إلى الآخر و تصحيحه مرة بعد أخري في خدمة قدوة علماء الزمان...... الشيخ ولي الله العمري ۔ الخ

اسی صفحہ کے حاشیہ پر محمد ناصح کی تحریر یہ ہے۔

بحمداللہ...... تصحیح و اعراب صحیح بخاری بحکم اقدس حضرت شاہ عالم بادشاہ ..... درسنہ یکہزار و یک صد و ہشتاد و چہار ہجری فقیر محمدناصح..... باتمام رسانید۔ '' یہاں تک خط صاف نستعلیق ہے۔

اس کے بعد صفحہ 750 سے صفحہ 757 تک حضرت شاہ صاحب کے دستخطی اجازت نامے ہیں۔ہر ہر کتاب کی الگ الگ اجازت ہے۔پوری سند کے ساتھ خط نہایت پاکیزہ ،کشادہ و صاف اور نسخ و نستعلیق کے درمیان ہے۔ روشنائی اب تک واضح ہے ۔اوّل اور آخر کاکچھ نمونہ دیا جاتا ہے۔

الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.... أما بعد فان أخانا في الله عزوجل الفاضل الصالح الشيخ محمد بن شيخ پير بن الشيخ أبي الفتح.... قرأ الجامع الصحیح..... وقرأ علی أیضا أطرافا من سائر الکتب السنة ومن موطأ الإمام مالك بن أنس ومن ...... ومن.... فأجزت له أن يردي أن كل ماصح عنده أنه من مروياتي..... كتبه بيده الفقير إلى رحمة الله الكريم الودود ولي الله أحمد بن عبدالرحيم بن وجيه الدين بن معظم..... العمري نسبا الدھلوي ولھنا الأشعري عقيدة الصوفي طريقه الحنفي عملا والحنفي الشافعي تدريسا خادم التفسير والحديث والفقه والعربية والكلام وله في كل ذلك تصانيف والحمدلله أولاوآخرا..... كان يوم الثلثاء الثالث والعشرين من الشوال (كذا)سنة١١٥٩۔

ان اجازت ناموں کے بعد کتب خمسہ کی کچھ حدیثیں (اطراف) درج ہیں اور ص771 تا ص807 تک شاہ صاحب کی تالیف (الفضل المبین فی المسلسل من حدیث النبی الامین) ہےجو شیخ پیر محمد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔

آخر میں پھر ایک اجازت نامہ ہے جو شاہ صاحب کے دست خاص کا لکھا ہوا ہے۔ مختصر ہونے کے باعث اس کا عکس لینا مناسب معلوم ہوا۔خط کی شان اور زبان کی حلاوت یکساں ہے صرف اس کے حروف کچھ اُڑے ہوئے ہیں۔سیاہی اپنی رونق کھو رہی ہے ۔ممکن ہے عکس کے پڑھنےمیں کچھ دشواری ہو۔اس لیے یہ مختصر اجازت نامہ یہاں بھی درج کردیا جاتا ہے.... اس تعارف کا اس سے بہتر کاتمہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

الحمدلله قراأعلي ھذه الرسالة كلھا صاحب النسخة أخونا الصالح الشيخ محمد أحسن الله تعالى إليه و أصلح حاله فأجزت له روايتھا عني على أن فيھا بعض شيء من الخلل في خبط الأسماء لا سيما اسما المغاربة لم نتضرغ لتصحيحها ساعتنا ھذا وعسي أن يسير الله تعاليٰ لنا ذلك في الزمان المستقبل۔

كتب ھذا السطور مولفھا الفقير ولي الله عفي عنه اوائل محرم سنة ١١٦٠ آخر الساعة من يوم الجمعه والحمدلله تعاليٰ أولا وآخرا وظاھراو باطنا۔
۔۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔۔۔