1۔ ایک وتر پڑھنا سنّت نبویؐ
2۔ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کا ثبوت
3۔ رکعت پوری ہونے کے بعد اُُٹھتے وقت زمین پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت؟

حبیب الرحمان صاحب اوکاڑہ سے لکھتے ہیں:
درج ذیل سوالات کا جواب کتاب و سنت کی روشنی میں مطلوب ہے:
1۔ ''کیا ایک وتر پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے؟
2۔قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کا ثبوت کیا ہے؟
3۔ رکعت پوری کرکے اٹھتے وقت زمین پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کیا ہوگی؟'' جزاکم اللہ!

الجواب :
1۔ ایک وتر:
ایک وتر پڑھنا نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان فرماتے ہیں:
''کان النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلي من اللیل مثنیٰ مثنیٰ و یوتر برکعة''1
''نبیﷺ رات کو دو دو رکعت کرکے نماز پڑھا کرتے او روتر ایک رکعت پڑھا کرتے تھے۔''

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں:
''کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یسلم في کل ثنتین و یوتر بواحدة'' 2
''رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھا کرتے تھے۔''

حضرت جابرؓ سے درج ذیل الفاظ مروی ہیں:
''صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مثنیٰ مثنٰی وأوتر بواحدة'' 3
''رسول اللہ ﷺ نے دو دو رکعت کرکے نماز پڑھی اور وتر ایک رکعت کےساتھ کیا۔''

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان فرماتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
''الوتر رکعة من آخر اللیل'' 4
''وتر ایک ہی رکعت ہے آخری رات میں۔''

وتروں کے متعلق ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ اور تیرہ رکعتوں کا ذکربھی آیا ہے۔ ان میں سے صرف آخری رکعت وتر ہے باقی نفل، اگر ایک ہی رکعت پڑھے تو اس میں نفل کوئی نہیں۔

2۔ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا:
متعدد صحابہؓ سے اس کا ثبوت ملتا ہے مثلاً
جناب عبداللہ بن مسعودؓ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ 5

جناب عمرؓ بن خطاب، جناب ابوہریرہؓ او رجناب ابن عباسؓ سبھی قنوت میں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ 6

ظاہر ہے، ان صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو قنوت میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے دیکھا ہے۔ تبھی وہ ایسا کرتے رہے ہیں۔ وگرنہ ان حضرات پرعبادت میں اختراع پسندی اور شریعت سازی کا الزام آئے گا۔جو کسی مومن و مسلمان کے تصور میں نہیں آسکتا کیونکہ صحابہ کرامؓ کے متعلق ایسا سوچنا سرے سے ایمانی تقاضے کے منافی ہے۔

3۔ ہاتھ رکھنے کی کیفیت:
دوسرے سجدے سے اٹھ کر نمازی سیدھا ہوکر ذرا دیر بیٹھا رہے، پھر کھڑے ہونے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں سے زمین پر سہارا لے کر اٹھے۔ یہ ہے مسنون طریقہ جس سے نمازیوں کی اکثریت ناواقف ہے یا غفلت برتتی ہے۔ اب اس سلسلہ میں چند روایات پیش خدمت ہیں:
1۔ جناب مالک بن حویرثؓ (جو وفات نبویؐ سے چند ماہ قبل آکر آپﷺ سے نماز سیکھ کر واپس ہوئے) نماز نبویؐ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''فإذا رفع رأسه من السجدة الثانیة في أوّل الرکعة استویٰ قاعداثم قام فاعتمد علی الأرض'' 7
''رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھے ہوکر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر (ہاتھوں کا) سہارا لیتے تھے۔''

بعض لوگوں کا خیال ہے ایسا عمر رسیدگی او رکمزوری کی بنا پر کیا کرتے مگر یہ خام خیالی ہے کیونکہ صحابہ کرام ؓ اس کو سنت سمجھا کرتے۔ چنانچہ امام ابواسحاق نے ''غریب الحدیث'' میں روایت نقل کی ہے کہ ازرق بن قیس نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کودیکھا۔ وہ نماز میں مٹھیاں بند کرکے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر اٹھتے ہیں۔ دریافت کیا تو جناب ابن عمرؓ نے فرمایا:
''رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یفعله''
''میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔''

علامہ ناصر الدین الالبانی اس روایت کے بعد لکھتے ہیں:
''قلت و إسنادہ حسن''8
''سند کے لحاظ سے یہ حدیث حسن ہے۔''

ازرق کہتے ہیں، میں نے آپ کے مصاحبین او ربیٹوں سےکہا ''کہ شاید بڑھاپے کی بنا پر مجبو رہوں گے؟'' انہوں نے کہا ''نہیں، بلکہ یہ اٹھنے کی کیفیت سنت نبویؐ ہے۔'' 9

ان روایات سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نمازی رکعت پوری کرکے کھڑا ہو تو دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرکے انہیں زمین پر لگا کر کھڑا ہونا چاہیے۔

ھٰذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب!

حوالہ جات
1. صحیح البخاری ج1 ص126
2. سنن ابن ماجہ مصری ، 1؍358
3. قیام اللیل مروزی صفحہ 203
4. صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰة ، ج2 ص82
5. مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص307 طبع ہند
6. قیام اللیل مروزی صفحہ 230
7. سنن النسائی طبع لاہور ج1 ص136
8. سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة ج2 ص392
9. سنن البیہقی ج2 ص135