دل مومن پرستار صنم خانہ نہیں ہوتا
حرم کا پاسباں کعبے سے بے گانہ نہیں ہوتا

مئے توحید جس کے ساغر دل سے چھلکتی ہو
کوئی بھی فعل اس انساں کا رندانہ نہیں ہوتا

تو انسان ہے کر انسانوں کی خدمت رہ کے شہروں میں
کہ اہل حق کا مسکن کنج ویرانہ نہیں ہوتا

حساب آخرت پر ہے یقین محکم جسے حاصل
اسے شوق رباب و چنگ وپیمانہ نہیں ہوتا

غم انسانیت روشن ہے جس کے خانہ دل میں
اس انساں کی نظر میں کوئی بے گانہ نہیں ہوتا

اثر کیا خاک ہو سامع کے دل پر اس کے اے واعظ
کہ انداز بیاں تیرا حکیمانہ نہیں ہوتا

یہ ممکن ہے کہ شعلہ مسکرا کرپھول بن جائے
مسلماں کا مگر کافر سے یارانہ نہیں ہوتا

ترے غم میں ہمیشہ جو پریشاں حال پھرتا ہو
وہ دیوانہ تو کہلاتا ہے دیوانہ نہیں ہوتا

جو فکر آخرت سے مضطرب رہتا ہے اے عاجز
مزین عشرتوں سے اس کا کاشانہ نہیں ہوتا