رسالہ ''تدبر'' شمارہ 3 صفحہ 33 پر سنن ابی داؤد کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ:
(ترجمہ) '' اس واقعہ (ماعزؓ کے رجم ہونے) کے بعد حضورﷺ نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سنا: اس بدبخت کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تھا، لیکن اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگسار کردیا گیا۔''

لیکن اس حدیث کے آخری جملے چھوڑ دیئے گئے یا حضرت ماعزؓ کو ''بدخصلت، گنڈا'' ثابت کرنے کا جوش اتنا غالب رہا کہ حدیث کے آخری الفاظ نگاہوں سے مخفی رہ گئے۔ اس حدیث کے بقیہ الفاظ یہ ہیں:
''فسکت عنھما ثم سارساعة حتیٰ مر بجیفة حمار شائل برجله فقال أین فلان و فلان فقالا نحن ذان یارسول اللہ فقال انزلا فکلا من جیفة ھٰذا الحمار فقالا یانبي اللہ من یأکل من ھٰذا قال فما نلتما من عرض أخیکما آنفا أشد من أکل منه والذي نفسي بیدہ أنه الآن لفي أنھار الجنة ینغمس فیھا'' 1
''رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کی بات سن کر سکوت اختیار فرمایا: پھر آپؐ چلے، یہاں تک کہ آپؐ کا گزر ایک ایسے مردہ گدھے کی لاش پر سے ہوا جس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ تو اپؐ نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟'' ان دونوں نے کہا ''ہم حاضر ہیں، یارسول اللہ ﷺ'' آپؐ نے فرمایا: ''دونوں اتر جاؤ او راس گدھے کی لاش میں سے کھاؤ'' ان دونوں نے عرض کی، ''اے اللہ کے نبیؐ، اس گدھے کا گوشت کون کھا سکتا ہے؟'' آپؐ نے جواباً فرمایا ''ابھی تم نے اپنے بھائی کی آبرو پر حملہ کیا تھا وہ اس (مردار گدھے کے) گوشت کھانے سے بھی زیادہ (کراہت کا باعث) ہے۔ قسم ہے اس ذات کی ، جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بیشک وہ (ماعزؓ) اس وقت جنت کی نہروں میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔''

اسی طرح ابوداؤد ہی کے درج ذیل الفاظ سے حضرت ماعزؓ کو ''بدخصلت ، گنڈا'' نیز ''کٹر منافق'' ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
''یا قوم ردّوني إلیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فإن قومي قتلوني و غروني من نفسي و أخبروني أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر قاتلي''
کہ ''(جب حضرت ماعزؓ پر پتھروں کی بوچھاڑ ہوئی تو انہوں نے چیخ کر کہا) اے میری قوم، مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس لے جاؤ، میری قوم نے مجھے قتل کروا دیا او رمجھے دھوکا دیا۔یہ بتاتے ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے قتل کروانے والے نہیں ہیں۔''

حالانکہ اس پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب پتھروں کی بارش ہوئی اور وہ زخموں کی شدت سے بلبلا اٹھے تو بے ساختہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے۔بہرحال اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ماعزؓ کی قوم نے ان سے کہا تھا کہ آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضری دو۔ شاید کوئی نجات کی شکل نکل آئے۔اصل الفاظ یہ ہیں، راوی کا بیان ہے:
''فقال له ابي ائت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فأخبرہ بما صنعت لعله یستغفر لك وإنما یرید بذٰلك رجاء أن یکون له مخرجا''


انہی الفاظ کو حضرت ماعزؓ نے ''إن قومي غروني'' سے تعبیر کیا ہے۔ اس کو وقتی طور پر ضعف ایمانi سے تعبیرکیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا کہ ۔ حالانکہ وہ بدری صحابی تھے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان الفاظ کی بناء پر حضرت ماعزؓ کو ''کٹر منافق'' یا منافق نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ اگریہ منافق تھے تو دوسرے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ کیوں ادا فرمائی؟ اور یہ الفاظ کیوں ارشاد فرمائے:
''لقد تاب توبة.................... الخ''

حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے مترجم ''تلمیذ خاص'' نے مزید ستم یہ کیا ہے کہ الفاظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اپنے خیالات کی ترجمانی فرمائی ہے، مثلاً :
''یمنح إحداھن الکثبة''

کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے۔
''اور (وہ) کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا تھا۔''

حالانکہ اس جملہ کا مطلب صرف اتنا ہے کہ:
''وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سا دودھ دے دیتا۔''

اہل علم غور فرمائیں کہ صحیح ترجمہ کون سا ہے؟ اوّلاً تو حدیث کی اس عبارت کو حضرت ماعزؓ پر چسپاں کرنا ہی غلط ہے او رپھر اس کا ترجمہ غلط در غلط....................!

''فإلی اللہ المشتكى''

حضرت ماعزؓ کے حسن کردار او رگناہ سے ندامت کے بارے میں مزید چند شواہد درج ذیل ہیں:
جب ماعزؓ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں آکر اپنی معصیت کا اظہار کیا او راپنے اوپر حد جاری کرنے کی درخواست کی تو آپؐ نے ان کی قوم اور قبیلے کے افراد سے دریافت کیا (یعنی چال چلن کے بارے میں) تو انہوں نے کہا کہ:
''مانعلم به بأسا إلاأنه أصاب شیئا یرٰی أنه لا یخرجه منه إلا أن یقام فیه الحد'' 2

دوسری روایت میں ہے:
''قالوا ما نعلم إلا وفي العقل من صالحینا'' 3

یعنی ''ہم اس میں کوئی عیب نہیں پاتے۔ ہاں صرف اتنی بات ہے کہ اس سے گناہ ہوگیا ہے۔ اسی بناء پر اس کا خیال ہے کہ جب تک اس پر حد قائم نہیں ہوگی بات نہیں بنے گی۔''

اس وضاحت
سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت ماعزؓ کی بھی یہی خواہش تھی کہ ان کی ذات پر سیاہ کاری کا جو داغ لگ چکا ہے، اسے حد کے اجراء سے صاف کردیا جائے۔ کتنا پاکیزہ جذبہ ہے حضرت ماعزؓ کا؟ اور اس پاکیزہ جذبے کی شہادت کون دے رہا ہے؟ خود ان کا قبیلہ!

مؤطا امام مالک میں ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص حضرت ابوبکرؓ کے پاس ایا او راس نےکہا کہ '' ذلیل و حقیر آدمی نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔'' اس پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: ''کیا یہ بات تو نے میرے سوا کسی اور سے بھی بیان کی ہے؟'' اس نے جواب دیا ''نہیں'' تب حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا، ''اللہ تعالیٰ کے دربار میں توبہ کر، او راللہ تعالیٰ نے جو تیری پردہ پوشی کی ہے اس پر کاربند رہ (یعنی اپنی اس معصیت کا چرچا نہ کر) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنےبندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔''

راوی کا بیان ہے:
''لیکن ان باتوں سے ماعزؓ کو قرار نہ آیا، وہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضرت عمرؓ کے سامنے وہی بات دہرائی جو وہ حضرت ابوبکرؓ سے عرض کرچکا تھا او رحضرت عمرؓ نے وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکرؓ دے چکے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر بھی اسے قرار نہ ایا۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا او راس نے درخواست کی کہ ''حقیر ذلیل انسان سے گناہ ہوگیا ہے۔'' بدوی سعید کا بیان ہے کہ ''رسول اللہ ﷺ نے تین بار اس سے اعراض فرمایا..... لیکن جب زیادہ ہی اصرار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر والوں کو پیغام پہنچایا کہ ''ماعزؓ بیمار تو نہیں ہے؟ اس پر جنون کا اثر تو نہیں ہے؟'' انہوں نے جواب دیا ''بخدا وہ صحیح سالم تندرست ہے۔'' اس کے بعد آپؐ نے دریافت فرمایا کہ ''یہ کنوارا ہے یا شادی کرچکا ہے؟'' (یعنی ثیب ہے؟) جوا ب ملا ''بل ثیب'' (شادی شدہ ہے) اس سوال و جواب کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔'' 4

مؤطا ج4 صفحہ 821 او رابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے:
''ہزال ؓ سے مروی ہے، ماعزؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چار مرتبہ اپنی معصیت کا اقرار کیا ۔ تب آپؐ نے اس پر حد رجم جاری کرنے کا حکم دیا۔ او رہزال سے فرمایا اگر تم اس کی پردہ پوشی کرتے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا۔'' اصل الفاظ یہ ہیں:
''وقال لھزال لو سترته بثوبك کان خیر الك'' 5

واضح رہے کہ یہ ہزالؓ، ماعزؓ کے مربی او رکفیل تھے ۔ماعزؓ کے والد مالک اسلمی ؓ نے وصیت کی تھی کہ ہزالؓ، ماعزؓ کا خیال اور نگرانی رکھیں گے۔ ماعزؓ نے ان کے ہاں پرورش پائی تھی۔
''وکان مالك أبو ماعزقد أوصیٰ ھزالا بابنه ما عز و کان في حجرہ یکفله'' 6

ان دونوں روایتوں سے پہلے بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ماعزؓ ارتکاب معصیت کے بعد انتہائی بے چین تھے۔ انہیں کسی کروٹ قرار نہیں آرہا تھا۔ کبھی وہ اس کا اظہار حضرت ابوبکرؓ سے کرتے او رکبھی حضر ت عمرؓ کے پاس پہنچتے۔ آخر کار آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر باربار اپنی بے قراری کا اظہار کیا، اپنے گناہ کا اعتراف کیا او راپنے اوپر حد جاری کرنے کی درخواست کی۔ کیا جس شخص کا یہ کردار ہو، اس کو ''بدخصلت گنڈا'' اور ''کٹر منافق'' کہا جاسکتا ہے؟ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضورﷺ نے اور حضرات شیخینؓ نے یہی مشورہ دیا کہ پردہ پوشی بہتر ہے، اگر واقعی حضرت ماعزؓ کے گنڈے پن سے لاء ایند آرڈر کامسئلہ پیدا ہورہا تھا تو یہ بار بار گناہ کو چھپانے کی تلقین کیوں کی جاتی؟

احادیث میں رجم کے بارے میں حضرت ماعزؓ اور حضرت غامدیہؓ کے علاوہ مزید واقعات ملتے ہیں۔ مثلاً خالد بن اللجلاج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ''ہم نو عمر بچے بازار میں کام کاج میں مشغول تھے کہ ایک عورت بچہ لیے ہوئے گزری، لوگ اٹھ کر کھڑے ہوئے میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ وہ عورت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ لوگ بھی اس کے ہمراہ تھے۔ آپؐ نے عورت سے دریافت فرمایا، ''اس بچے کا باپ کون ہے؟'' عورت خاموش رہی۔ (لیکن) ایک نوجوان نے، جو لوگوں کی بھیڑ میں شامل تھا، کہاں وہ (بچہ) میرا ہے۔ مجھے آپؐ پاک کردیجئے۔''

دوسری روایت میں ہے کہ ''آپؐ نے سوال کیا،'' کیا تم نے شادی کی ہے؟'' اس نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپؐ نے اس نوجوان کے رجم کرنے کا حکم دیا۔کچھ دیر کے بعد ایک بوڑھا شخص ،سنگسار شدہ نوجوان کے بارے میں دریافت کرتا ہوا آیا۔ صحابہ کرامؓ کا بیان ہے کہ ہم اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی ''یہ بوڑھا اس خبیث کے بارے میں دریافت کررہا ہے جو آج رجم کیا گیاہے۔'' آپؐ نے فرمایا: ''اسے خبیث مت کہو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بلا شبہ وہ اب جنت میں ہے۔'' دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ''وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک عنبر سے زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہے۔''

اصل الفاظ یہ ہیں:
''لھو أطیب عنداللہ من ریح المسك'' 7

اس روایت میں بھی رجم کا سبب زنا بالاحصان ہے نہ کہ دہشت پسندی اور غنڈہ گردی ۔ ورنہ اس کا ذکر ضرور ہوتا۔نیز اگر یہ منافق محارب ہوتا تو آپؐ یہ نہ فرماتے کہ وہ جنت میں ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ماعزؓ او رحضرت غامدیہؓ کے بارے میں روایات میں اگر کہیں کسی لفظ سے مذمت کا پہلونکلتا ہے تو خواہ کتنا ہی تکلف ہو یا کتنا ہی وہاں ابہام ہو، اس کو تو بہت زور شور سے پیش کیا جاتا ہے لیکن جن روایات سے واضح طور پر ان کی تعریف او رحسن کردار طاہر ہوتا ہے، اُسے نظر انداز کردیا جاتا ہے آخر یہ کون سا انصاف ہے او رعلمی تحقیق کا یہ کون سا انداز ہے؟

خاکہ برائے تقابلی مطالعہ
وہ الفاظ حدیث جن سے مذمت کا پہلو نکلتا ہے: وہ عبارت حدیث جس سے حسن کردار کا رخ سامنے آتا ہے:

''ینب نبیب التیس.............'' ''قالوا إنه وفي العقل من صالحینا.......''

یہاں حضرت ماعزؓ کا صراحة تذکرہ نہیں ہے، بلکہ لفظ ''أحدکم'' آیا ہے۔ (صحیح مسلم) یہ حضرت ماعزؓ کے قبیلے والوں کا بیان ہے۔
سابقہ صفحات میں تفصیل گذر چکی ہے۔ (صحیح مسلم)
''ما استغفرله ولا سبه.............'' (2)''ذکر خیرا وصلّٰی علیه'' یعني ''علیٰ ماعز ؓ

ابوداؤد میں ہے : ''ولم یصل علیه '' یعني ''علی ماعز رضی اللہ عنه'' (صحیح بخاری) ''وصلّٰی علیھا''...... ..... یعني علی الغامدیة......''

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ماعزؓ پرنماز جنازہ آنحضورﷺ نے ادا نہیں کی۔ (ابوداؤد) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماعزؓ اور غامدیہؓ پر نماز جنازہ ادا کی۔

تعارض روایات کو سابقہ صفحات میں رفع کردیا گیا ہے کہ آپؐ نے حضرت ماعزؓ کی نماز جنازہ پہلے دن ادا نہیں کی۔ لیکن دوسرے دن آپؐ اور لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی۔ یہ بات واضح رہے کہ صرف ماعزؓ کے بارے میں تعارض ہے کہ ان کی نماز جنازہ آنحضورﷺ نےادا کی یا نہیں؟ لیکن حضرت غامدیہؓ پر نماز جنازہ پڑھنے پر روایات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ 8

(3) ''قالا رجم رجم الکلب'' دو آدمیوں نے کہا کہ وہ (ماعزؓ) اس طرح سنگسار کیا گیا جس طرح کتا سنگسار کیا جاتا ہے۔'' (3) ''إنه لینغمس الآن في أنھار الجنة'' یہ ارشاد نبویؐ ہے کہ ''وہ (ماعزؓ) اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔''

(4) ''إلیٰ رجل من الأنصار......''' وفي روایة ''إلیٰ رجل من المسلمین.......'' (4)''دعا ولیالھا، فقال: أحسن إلیھا.......''
یعنی رسول اللہ ﷺ نے حضرت غامدیہؓ کے ولی (سرپرست) کوبلایا اور فرمایا: ''اس سے اچھا برتاؤ کرو۔''

(5)''إن قومي غروني وقتلو ني.......''
''بے شک میری قوم نے مجھے دھوکہ میں رکھا او رمیرے قتل کا سامان کرڈالا۔'' (5)

(الف)''لقد تاب توبة لو قسمت بین أمة لو سعتھم.....''
(ب) ''لقد تابت توبة لو قسمت بین سبعین من أھل المدینة لو سعتھم''


(الف)''بے شک ماعزؓ نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک امت کے درمیان تقسیم کردی جائے، تو اسے کافی ہوجائے۔''
(ب) ''بلا شبہ اس (غامدیہ) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر افراد پر تقسیم کردی جائے تو انہیں کافی ہوجائے۔''

ضروری تفصیل عرض کردی گئی ہے۔ اب یہ ناظرین کا فرض ہے کہ وہ ان احادیث صحیحہ کے مفہوم کو متعین کریں۔

قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَبَشِّرْ‌ عِبَادِ ﴿١٧﴾ ٱلَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُۥٓ۔ الاٰیة '' (الزمر:17۔18)

استدراک:
صحابہ کرامؓ کے اجماعی فیصلوں کے دین میں حجت ہونے کی صراحت مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنے ایک مفصل مضمون میں کی ہے، جو فروری 1956ء کے ماہنامہ ''ترجمان القران'' لاہور میں ''سنت خلفائے راشدینؓ'' کے عنوان سے چھپا تھا۔ آٹھ صفحے کے اس مضمون کا آخری حصہ درج ذیل ہے:
''اب میں یہ بتاؤں گا کہ میں خلفائے راشدین کے اس طرح کے طے کردہ مسائل کو کیوں سنت کا درجہ دیتا ہوں۔میرے نزدیک اس کے وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:

اس کی پہلی وجہ تو وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی ہے، جس میں نبیﷺ نے خود خلفائے راشدین کی سنت کو سنت کا درجہ بخشا ہے اور اسی حیثیت سے مسلمانوں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ہدایت اور وصیت فرمائی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اجماع ہمارے ہاں ایک شرعی حجت کی حیثیت رکھتا ہے او راجماع کی سب سے اعلیٰ قسم اگر کوئی ہوسکتی ہے تو وہی ہوسکتی ہے جس کی مثالیں خلفائے راشدین کے عہد میں ملتی ہیں۔ اوّل تو یہ خیر القرون کے لوگوں کا اجماع ہے جن کی حق طلبی کوشی ہر شبہ سے بالاتر ہے۔ ثانیاً اسی مبارک دور میں عملاً یہ شکل اختیار کی جاسکی کہ اگرکوئی مسئلہ پیش آیا تو اس میں وقت کے اہل علم او رصالحین کی رائیں معلوم کی گئیں او رپھر ایک متفق علیہ بات طے کرکے ایک خلیفہ راشد نے اس کو جاری و نافذ کیا او رسب نے اس پر بغیر کسی اختلاف و اعتراض کے عمل کیا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ ابتداء سے خلفائے راشدین کے تعامل کو ملت میں ایک مستقل شرعی حجت کی حیثیت دی گئی ہے۔ سعید ابن مسیب کی فقہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ؓ کے فیصلوں کو ایک اصولی چیز کی حیثیت سے تسلیم کرلیاگیا ہے۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کی فقہ میں حضرت علیؓ کے فیصلوں کو ایک مستقل جگہ حاصل ہے۔ یہی اعتماد ہر مسلمان کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے فیصلوں پر ہے۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو فقہ مالکی ہو یا فقہ حنفی، ہر ایک کے اندر خلفائے راشدین کے تعامل کو سنت ہی کی حیثیت سے جگہ دی گئی ہے۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ دین کی تکمیل اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ کے ذریعے سے ہوئی ہے لیکن امت کی اجتماعی زندگی میں اس کے مضمرات کا پورا پورا مظاہرہ حضرات خلفائے راشدین کے ہاتھوں ہوا۔ انہی کے مبارک دور میں اسلام کے تمام ادیان پر غلبے کا قرآنی وعدہ پورا ہوا اور اسلامی شریعت کے بہت سے احکام کا انطباق زندگی کے معاملات میں عملاً متعین ہوا۔اس پہلو سے خلفائے راشدین کا دور گویا عہد رسالت ہی کا ایک ضمیمہ ہے او رہمارے لیے وہ پورا نظام ایک مثالی نظام ہے، جو ان کے مبارک ہاتھوں سے قائم ہوا۔ پس اس دور میں جو نظائر قائم ہوچکے ہیں وہ ہمارے لیے دینی حجت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے لیے ان سے انحراف جائز نہیں ہے۔اس کلیہ سے اگر کوئی چیز مستثنیٰ ہوسکتی ہے تو صرف وہ چیز ہوسکتی ہے جو مجرد کسی وقتی مصلحت کے تحت انہوں نے اختیار فرمائی ہو۔'' 9

بلکہ اصلاحی صاحب اس کے بھی قائل ہیں کہ جس مسئلے میں ائمہ اربعہ بھی متفق ہوں تو ان کا یہ اتفاق بھی اجماع امت کے مترادف اور دین میں حجت ہے۔ چنانچہ موصوف ایک مقام پر لکھتے ہیں:
''ایک انطباق تو وہ ہے جس پر خلفائے راشدین اپنے دور کے اہل علم و تقویٰ کے مشورے کے بعد متفق ہوگئے ہیں۔ یہ اسلام میں اجماع کی بہترین قسم ہے او ریہ بجائے خود ایک شرعی حجت ہے۔ اسی طرح ایک انطباق وہ ہے جس پر ائمہ اربعہ متفق ہوگئے ہیں۔ یہ اگرچہ درجے میں پہلی قسم کے اجماع کے برابر نہیں ہے تاہم چونکہ یہ امت من حیث الامت ان ائمہ پر متفق ہوگئی ہے او رہر دور کے اہل علم و تقویٰ ان کی دینی بصیرت، ان کے تبحر، ان کے مرتبہ اجتہاد او ران کے تمسک بالکتاب و السنة کو تسلیم کرتے آئے ہیں او ران کے دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش مشکل ہی سے کسی نے کی ہے۔ اس وجہ سے ان ائمہ کے کسی اجماع کو محض اس دلیل کی بنا پر ردّ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ معصوم نہیں تھے۔ یہ معصوم تو بے شک نہیں تھے۔ لیکن ان کے معصوم نہ ہونے کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ کسی امر پر ان کا اتفاق بھی دین میں حجت نہ بن سکے۔'' 10

اور یہ ظاہر ہے کہ رجم کی وہ زیر بحث حد، جس کا انکار مولانا اصلاحی صاحب فرما رہے ہیں، ائمہ اربعہ سمیت تمام آئمہ امت کا اس پر اتفاق ہے۔پھر شادی شدہ زانی کے لیے رجم (بطور حد) سے انکار کیوں ہے؟


حوالہ جات
1. سنن ابی داؤد مع عون جلد4 صفحہ 253۔254 کتاب الحدود
2. جامع الاصول ج3 ص515 بحوالہ صحیح مسلم۔ ابوداؤد
3. جامع الاصول جلد3 صفحہ 517
4. ج4 ص820 کتاب الحدود۔ طبع بیروت
5. ابوداؤد ج4 ص233، کتاب الحدود باب الستر علیٰ اھل الحدود
6. تعلیق سنن ابی داؤد ، جلد4 کتاب الحدود
7. مسنداحمد، جامع الاصول ج3 ص535، کتاب الحدود۔بحوالہ سنن ابی داؤد
8. صحیح مسلم۔ ابوداؤد
9. ماہنامہ ''ترجمان القرآن'' لاہور ، فروری 1956ء، صفحہ 38، 39
10. ''عائلی کمیشن رپورٹ پر تبصرہ'' صفحہ 58 طبع فیصل آباد

i. ''ضعف ایمان'' کی بجائے حضرت ماعزؓ کے ان الفاظ کو شدید تکلیف کے عالم میں ایک وقتی ردّ عمل کا نام بھی دیا جاسکتا ہے او ریہ مفہوم قبول کرلینے میں کوئی امر مانع بھی نہیں ہے کہ یہ بات فطرت انسانی میں داخل ہے۔لہٰذا فاضل مضمون نگار کے مذکورہ بالا الفاظ ہی درست ہیں کہ ''جب پتھروں کی بارش ہوئی او روہ زخموں کی تکلیف سے بلبلا اُٹھے تو بے ساختہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے۔'' (ادارہ)