اگر ذبح کرنے والا شخص عقیقہ کے متعلق صرف نیت کرلے اور ''بسم اللہ اللہ أکبر'' پڑھ کر ذبح کرڈالے او رمولود کا نام نہ لے تو بھی عقیقہ ہوجائے گا۔

عقیقہ کے گوشت کی تقسیم اور استعمال
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم و استعمال کے متعلق جو ذبیحہ اضحیہ کے احکام ہیں، وہی ذبیحہ عقیقہ کے بھی ہیں۔ یعنی اس میں سے خود اہل خانہ کھائیں، صدقہ کریں، ہدیتہً اپنے اعزاء و اقرباء و اصدقاء کو دیں۔اہل خانہ میں سے ماں باپ، بہن بھائی، نانا نانی، خالہ ماموں، چچا تایا، دادا دادی اور پھوپھی وغیرہ او ران کے اہل و عیال سب ہی لوگ بلا استثناء عقیقہ کا گوشت استعمال کرسکتے ہیں۔ بعض جہلاء نے مشہور کررکھا ہے کہ بچہ کی ماں اور ماں کے اہل خاندان مثلاً خالہ، ماموں، نانا او رنانی وغیرہ عقیقہ کا گوشت نہیں کھا سکتے، یہ قطعاً درست نہیں ہے۔1 اسی طرح صدقہ کے لیے صدقہ کے لیے بھی ایک تہائی یا دو تہائی یا نصف یا چوتھائی یا او رکسی خاص مقدار کی کوئی قید نہیں ہے۔ سید قاسم محمود صاحب عقیقہ کے گوشت کی تقسیم کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
''عقیقہ کے گوشت کا زیادہ حصہ فقیروں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔''2

او رجناب مفتی ماہنامہ اقراء ڈائجسٹ کراچی فرماتے ہیں:
''عقیقہ کے گوشت کا ایک تہائی حصہ مساکین کو تقسیم کردینا افضل ہے۔ الخ''3

اس سلسلہ میں حق بات یہ ہے کہ صدقہ جتنا زیادہ کیا جائے وہ باعث خیر و برکت و اجر ہے۔ لیکن ''ایک تہائی'' یا ''زیادہ تر حصہ ''فقراء و مساکین اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کو معیار بنا لینا صحیح اور منصوص نہیں ہے۔

اگر کوئی شخص عقیقہ کے گوشت سے اپنے عزیز و اقارب اور دوست واحباب کی دعوت و ضیافت کا اہتمام کرے تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، بہت سے فقہاء نے اس کی اجازت د ی ہے۔ اس دعوت کو عرف الناس میں''طعام الخرس''4یا ''طعام الحقیقة'' کہتے ہیں۔

اپنی خوشی میں دائی یا دایہ کو شریک کرتے ہیں، عقیقہ کا گوت اسے دینا درست ہے، لیکن یہ گوشت اس کی اجرت کے طور پر نہیں بلکہ بطور ہدیہ دیا جائے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسین ؓ کے عقیقہ پر حضرت فاطمة الزہراؓ کو اس طرح ہدایت فرمائی تھی:
''وزني شعر الحسین و تصد قي بوزنه فضة وأعطي القابلة رجل العقیقة''5
''حضرت حسینؓ کے بالوں کو وزن کیا جائے، اس کے وزن کے مساوی چاندی صدقہ کی جائے گی اور دائی کو عقیقہ (کے جانور کا) ایک پیر دیا جائے۔''

ایک اور روایت میں مروی ہے:
''أن ابعثوا إلی القابلة منھا برجل الخ'' 6
''اس میں سے ایک پایہ دائی کو بھیج دو۔''

نوٹ: عقیقہ کے جانور کی کھال اجرت میں قصاب کو نہ دی جائے بلکہ اس کا صدقہ کردینا بہتر ہے۔

عقیقہ کے جانور کی ہڈی توڑنے کی کراہت
مولود کے عقیقہ کے امور میں جن چند باتوں کی رعایت ضروری ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ذبح کرنے او رکھانے کے وقت کے علاوہ جانور کی ہڈی میں سے کوئی چیز توڑی نہ جائے۔ ذبیحہ کو کاٹتے وقت ہر ہڈی کوجوڑ پر سے بغیر توڑے ہوئے علیحدہ کرنا مستحب ہے۔ جعفر بن محمدؓ نے اپنے والد سے روایت کی ہے نبی ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقوں کے موقعہ پر فرمایا:
''أن ابعثوا إلی القابلة منھا برجل وکلوا وأطعموا ولا تکسروا منھا عظما'' 7
''اس میں سے ایک پیر دائی کوبھیج دو ، کھاؤ اور کھلاؤ مگر اس کی کوئی ہڈی نہ توڑو''

ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ ایسا فرماتے تھے:
''تقطع جدولا ولا یکسر لھا عظم'' 8
''اس کے اعضاء الگ الگ کاٹو لیکن اس کی ہڈی نہ توڑو''

ابن منذر نے بھی عطاء سے او رانہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان اس بات کی دو حکتمیں بیان کرتے ہیں۔ ''اوّل یہ کہ اس سے فقراء و اقرباء کے درمیان ہدیہ و طعام کے شرف کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ کسی عضور میں سے کچھ توڑا او رکاٹ کر علیحدہ نہ کرنا بلکہ سالم عضو کسی کو ہدیہ میں پیش کرنا جو دواکرام کی عظیم مثال ہے۔ دوم اس سے مولود کے اعضاء و قوت و صحت اور سلامتی کی نیک خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔''9

عقیقہ سے متعلق بعض مروجہ رسوماتِ باطلہ
ہندوستان و پاکستان میں عام طور پر غیر تعلیم یافتہ طبقہ میں عقیقہ کو محض ایک رسم سمجھا جاتا ہے ، جو سراسر اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔ اس موقع پر بعض بُری رسومات بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ مثلاً ناچ رنگ و ڈھول، گانے باجے یا مجلس میلاد کا اہتمام، گھوڑے پر بچہ کو سوار کرا کر کسی مسجد یا بزرگ کے مزار تک لے جانا،بچہ کے سر پرپھول یا سہرا باندھنا، نظر بد سے بچانے کے یے اس کے چہرے پر کالا ٹیکہ لگانا، منت کے طور پر لڑکے کے کان چھیدنا، سرخ و پیلے رنگ یا کالے و ہرے رنگ کا دھاگا گلے میں لٹکانا یا بازو اور کمر پر باندھنا، کوئی سکہ یا ہڈی کا ٹکڑا یا کانٹا یا لوہے یا چاندی یا سونے کا چاقو گلے میں لٹکانا، بچہ کے سر کے چاروں طرف روپیہ یا زیو رکئی بار گھما کر اس کا صدقہ او ربلائیں اتارنا، بچہ کے بازو پر امام ضامن باندھنا، کمر میں پٹہ اور تلوار لٹکانا، آبِ زمزم پلانا، نیاز و فاتحہ کرنا اور اس کی شیرینی تقسیم کرنا، ماں باپ کا سج سنور کر دولہا دلہن بننا، جانور ذبح کرنے کے بجائے چائے پارٹی کا اہتمام کرنا وغیرہ یہ سب غیر شرعی اور جاہلانہ رسوم و اختراعات ہیں۔ ان سے خود بچنا اور دوسروں کو بھی روکنا چاہیے۔10

عقیقہ کی تشریح کی اہمیت، حکمت اور فوائد
1۔ اسلام میں نومولود کے حقوق بھی اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں، ان حقوق مین عقیقہ بھی شامل ہے۔ 11
2۔ بعض روایات میں ہے کہ ''جب تک (مولود کا) عقیقہ نہ کیا جائے، برکت و سعادت میں سے اسے بہت کم حصہ ملتا ہے'' 12
3۔ امام احمدبن حنبل عقیقہ کی اہمیت و حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''ھٰذا في الشفاعة یرید أنه إذا لم یعق فمات طفلا لم یشفع في أبویه''13
''عقیقہ کا تعلق شفاعت سے ہے ۔ اگر مولود بچپن میں مرگیا او راس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو وہ اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا۔''
4۔ صحیح بخاری کی سلمان بن عامر الضبی والی حدیث کی رُو سے عقیقہ کرنے سے بچہ کی اذیت14 دور ہوتی ہے۔15
5۔ عقیقہ، مولود کی طرف سے مصائب و آفات سے محفوظ رہنے کا فدیہ ہے۔ 16
6۔ شرائع اسلام کی اقامت پر فرحت و مسرت کا اظہار ہے۔
7۔ احیائے سنت رسولؐ کے ساتھ خیر و برکت اور اجر عظیم کا باعث ہے۔
8۔ مولود کی ولادت پر اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
9۔ مولود پر والدین کی شفاعت کی ذمہ داری کا نعم البدل ہے۔
10۔ مولود کی امد کی خوشی میں دعوت طعام کے لیے جمع ہونے والوں کے مابین عدل اجتماعی، الفت و محبت او رمعاشرہ کے اجتماعی روابط کا قائم و مکمل اور مستحکم ہونا۔
11۔ طعام عقیقہ پر جمع ہونے والوں کا مولود کے لیے اجتماعی طور پر صحت و عافیت کی دعا کرنا۔
12۔ معاشرہ کے پسماندہ، غریب، فاقہ زدہ اور محروم طبقہ کی مدد ہونا وغیرہ۔

ان سب خصوصیات کے باعث عقیقہ، اجتماعیت اور شریعت کی ایک اہم اساس اور ضرورت بن جاتا ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العلٰمین والصلوٰة والسلام علی رسوله الکریم

حوالہ جات
1. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم، ماہنامہ ''میثاق'' لاہور جلد نمبر 30 عدد 1، 2 صفحہ 72
2. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1083
3. ماہنامہ اقراء ڈائجسٹ کراچی ج نمبر1 شمارہ نمبر 7 صفحہ 185 مجریہ ماہ ستمبر 1985ء
4. طعام الخرس دراصل یوم پیدائش کی دعوت کو کہتے ہیں۔(لسان المیزان ج7 ص363 اور تحفة المودود صفحہ 53) ادارہ
5. رواہ البیہقی ج9 صفحہ 304
6. رواہ ابوداؤد فی المراسیل
7. مراسیل ابی داؤد صفحہ 16
8. سنن البیہقی ج9 صفحہ 302
9. تربیة الأولاد في الإسلام تالیف شیخ عبداللہ ناصح علوان الجزء الأوّل صفحہ 96، 97
10. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' قسط دوم ماہنامہ میثاق لاہور ،ج30 عدد 1 ،2۔ صفحہ72۔73 مجریہ ماہ جنوری و فروری 1981ء
11. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون ''اسلام اور حقوق اطفال'' طبع شدہ بالاقساط عدیدہ در ماہنامہ میثاق لاہور
12. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082
13. فتح الباری شرح صحیح البخاری ج1 ص594 طبع مصر
14. اذیت سے مراد آلائش و گندگی ہے۔ (ادارہ)
15. صحیح بخاری، کتاب العقیقہ
16. تربية الأولاد في الإسلام تالیف عبداللہ ناصح علوان الجزء الأوّل