1

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

چوری کے متعلق احکام الٰہی اور فقہ حنفی!
چوری ایک ایسا جرم ہے جس کی مذمت پر تمام اقوام عالم متفق ہیں۔کیونکہ اس سے انسان کا مال ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی کے قیام کا باعث بنایا ہے، غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات مزاحمت کی صورت میں جان بھی چلی جاتی ہے۔ اسے روکنے کے لیے لوگوں نے اپنی عقل سے کئی قانون بنائے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں رائج ہیں مگر اس کی روک تھام نہ کرسکے۔ بلکہ انسانوں کی تجویز کردہ سزاویں اس جرم کوختم کرنےکی بجائے اسے بڑھانے کا باعث ہی بنیں۔طویل قیدیں بھی چوروں کی عادت ختم کرنے کی بجائے انہیں زیادہ بے باک او رماہر چور بنانے کا ذریعہ بن گئیں۔ یقین نہ ہو تو دنیا کے سب سے زیادہ مہذب ہونے کے دعویدار ملک امریکہ کو دیکھ لیجئے کہ سزائیں موجود ہونے کے باوجود وہاں نہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، بلکہ دن بدن چوریاں اور ڈاکے زیادہ ہورہے ہیں۔

ہاں اللہ تعالیٰ کے قانون(i) میں یہ قوت موجو دہے کہ اس کےنفاذ سے نہ صرف جانیں محفوط ہوجاتی ہیں بلکہ مال اور عزت بھی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے، عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں:
''بینا أنا عندالنبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا أتاہ رجل فشکا إليه الفاقة ثم جاء ہ آخر فشکا إليه قطع السبیل فقال یا عدي! ھل رأیت الحیرة؟ قلت لم أرھا وقد أنبئت عنھا قال فإن طالت بك حیاة لترین الظعینة ترحل من الحیرة حتیٰ تطوف بالکعبة لا تخاف أحدا إلا اللہ قلت فیما بیني و بین نفسي فأين دعار طيئ الذين قد سعر وا البلاد؟ ۔۔۔۔۔۔ الحدیث''1
کہ '' ایک دفعہ میں نبیﷺ کے پاس تھا۔ ایک آدمی آیا، اس نے آپؐ کے پاس فاقے کی شکایت کی۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا، اس نے آپؐ کےپاس (چوروں اور ڈاکوؤں کی طرف سے) راستے کاٹ دینے کی شکایت کی۔ آپﷺ نے فرمایا: عدی ! تم نے حیرہ شہر دیکھا ہے؟'' میں نے عرص کیا: ''میں نے اسے نہیں دیکھا، البتہ مجھے اس کے متعلق بتایاگیاہے۔'' آپﷺ نے فرمایا: ''اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھو گے جو حیرہ سے اپنے سفر کا آغاز کرے گی یہاں تک کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اسےاللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہوگا۔'' عدیؓ فرماتے ہیں: ''میں نے اپنے دل میں کہا:'' اس وقت بنو طے کے بدمعاش، جنہوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، کہاں ہوں گے؟''

رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی اگرچہ وقت کی بے امنی کے پیش نظر تعجب خیز تھی مگر یقیناً سچی ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ کے قانون پر عمل شروع ہوا اور شریعت کی مقرر کردہ سزائیں دی جانے لگیں تو جن چوروں اور ڈاکوؤں نے شہروں میں آگ لگا رکھی تھی، ان کے دماغوں سے چوری اور ڈاکے کا خیال تک مٹ گیا۔ چنانچہ یہی عدیؓ بن حاتم ، جواس پیشگوئی کو سن کر حیران ہوئے تھے او رجو اس وقت کی بدامنی کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ بنو طے کے مفسدون کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ہوسکے گا، خود فرماتے ہیں:
''فرأیت الظعینة ترتحل من الحیرة حتیٰ تطوف بالکعبة لا تخاف إلا اللہ'' 2
''پھر میں نے خود وہ شتر سوار عورت دیکھی جو حیرہ سے چل کر بیت اللہ کا طواف کررہی تھی۔ اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔''

یہ اللہ تعالیٰ کے قانون پر عمل کی برکت تھی کہ بدامنی و فساد کے مراکز امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئے، نہ کسی کی جان کو خطرہ رہا، نہ مال کو او رنہ عزت کو۔ او رجب تک مسلمانوں نے قانون الٰہی کو قائم رکھا، ان جیسا امن و سکون کسی قوم کو میسر نہیں ہوا۔ ابتدائی دور کے بعد بھی جس جگہ یا زمانے میں مسلمانوں نے اس پر عمل کیا وہ مثالی امن کی نعمت سے بہرہ مند ہوئے۔مدت ہائے دراز تک قانون الٰہی کے عملی نفاذ سے محروم رہنے کے بعد چند سال پیشت نجد و حجاز (سعودی عرب) کی سرزمین کو جب یہ نعمت دوبارہ میسر ہوئی تو اس وقت سے وہ تمام دنیا سے زیادہ پرامن سرزمین بن گئی ہے۔ لوگ اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں مگر انہیں چوری کا خطرہ نہیں ہوتا۔ رات کسی کی نیند اس خوف سے اچاٹ نہیں ہوتی کہ کہیں میرا سرمایہ حیات چور نہ لے جائیں۔ لوگوں کو چوری اور ڈاکے سے ایسا اطمینان و امن حاصل ہے کہ امریکہ، برطانیہ بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لوگ خواب میں بھی اس کا تصور نہیں کرسکتے۔

عالم اسلام کی قانون الٰہی سے محروم ہونے کی اصل وجہ :
مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے مسلمان ممالک عرصہ دراز سے قانون الٰہی سے محروم ہیں۔اس کے ذمہ دار وہ حکمران ہین جنہوں نے حدود الٰہی کو عملاً نافذ کرنا ترک کردیا او ران سے بھی زیادہ اصحاب علم و فتویٰ ذمہ دار ہیں، جنہوں نے حکمرانوں کے لیے حدود الٰہی میں ایسی شقیں ایجاد کردیں جن کی موجودگی میں حدود کا نفاذ ممکن نہ سمجھا گیا ہے۔

ان حضرات نے سب سے پہلے گذشتہ امتوں کی طرح اقامت حدود میں شریف و ضعیف میں تفریق پیدا کی اور اپنے زور قانون ساسی سے سلاطین کو حدود الٰہی سے مستثنیٰ قرار دیا او رایک ایسا قانون بنا دیا جو نہ اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا نہ اس کے رسول ﷺ نے۔ چنانچہ کہا گیا:
''وکل شيء صنعه الإمام الذي لیس فوقه إمام فلا حد عليه إلا القصاص فإنه یؤخذ به وبالأموال'' 3
کہ '' وہ امام ، جس کے اوپر کوئی امام نہ ہو، جو کچھ بھی کرے، اس پر حد نہیں۔ii مگر قتل وغیرہ کہ اسے قصاص اور مالی لین دین میں مؤاخذہ ہوگا۔''

اس قانون کے ساتھ بادشاہ سے زنا، شراب نوشی، بہتان تراشی کی حد اور چوری پر قطع ید ختم کردیا گیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ حدود ختم نہ کی تھیں۔ پھر جب انہوں نے حکمران سے یہ حدود ختم کیں تو رعایا پر انہیں نافذ کرنا آسان نہ رہا، کیونکہ رعایا کے بھڑک اٹھنے کا خطرہ تھا۔ کیونکہ شریف (بادشاہ) چوری کرے، زنا کرے، شراب نوشی کرے، بہتان تراشی کرے اسے سب کچھ معاف ہو، اور ضعیف سے جرم ہوجائے تو اس کی کمر پر دّرے برسیں، ہاتھ کاٹے جائیں، سنگسار کیا جائے، ہمیشہ ایسا نہیں ہوکتا تھا۔ اس لیے انہیں مجبور ہونا پڑا کہ قانون میں ایسی گنجائش پیدا کریں کہ کسی پر بھی حد نافذ نہ ہو۔ سوچئے جہاں مجتہدین کے زور اجتہاد او رقانون سازوں کی قانون سازی کا رخ ہی ابطال حدود کی طرف ہو او رحکمران بھی اپنے عیش و نشاط کو محفوط رکھنے کے لیے اپنی قلمرو میں صرف ایسے لوگوں کو عہدہ قضا پر فائز کریں جو ان حکمرانون کا ہی قانون مانیں، وہاں سے قانون الٰہی جلا وطن نہیں ہوگا تو او رکیا ہوگا؟ یہ قانون ، قانون حنفی تھی جو خیر القرون کے بعد کوفہ کے چند قانون سازوں نے بنایا اور اس کی مختلف شقون کے ذریعے حدود الٰہی کا نفاذ عملاً غیر ممکن ہوگیا۔ اسی دعویٰ کے لیے خارجی دلائل تلاش کرنے کی بجائے اس قانون کی داخلی شہادتیں زیادہ مضبوط دلیل ہیں او ریہی آئندہ صفحات میں پیش کی جائیں گی۔

ابطال حدود کا ایک ناکام طریق کار:
عالم اسلام میں ایسے لوگ بھی رہےہیں جنہوں نے حدود الٰہیہ سے صاف ہی انکار کردیا ۔ خواہ رجم ہو یا چور کا ہاتھ کاٹنا۔ اب بھی مسلمان کہلانے والے کئی جج، وکیل اور نام نہاد دانشور، منکرین حدیث بلکہ دراصل منکرین قران موجود ہیں جو مغربی افکار سے مرعوبیت کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹنے کو وحشیانہ سزا قرار دیتے ہیں او رہاتھ کاٹنے کی صورت میں تمام ملک کے لوگوں کے ٹندے کردیئے جانے کا خلاف اسلام پروپیگنڈہ بڑے زور و شور سے کرتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن مجید کے فرمان ''چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔'' کو بھی نت نئے معانی کا جامہ پہناتے رہتے ہیں۔ مقصد ساری تگ و دو کا یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح حدود اللہ کو نافذ ہونے سے روکا جائے۔ مگر عام مسلمان ان کی رائے کو ایک گمراہ ذہنیت سے زیادہ کوئی مقام دینے کے لیے تیار نہیں۔ کیونکہ ان کے دل سے اُس مبارک دور کی یاد مٹ نہیں سکتی، جب ان حدود الٰہیہ کی بدولت حیرہ سے تنہا عورت چل کر بیت اللہ کا طواف کرتی تھی اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوتاتھا او راب بھی وہ بچشم سَر اِن برکات کو سعودی عرب میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ چیز اگر مغربی قوانین یا انسان کے بنائے ہوئے کسی دوسرے قانون کی بدولت ممکن ہوتی تو تاریخ کے کسی دور میں یا موجودہ دور میں ہی، جو تہذیب و تمدن کی ترقی کا دور کہا جاتا ہے، ان قوانین کی بدولت بھی کسی ملک میں اس امن و اطمینان کی کوئی نطر ملتی۔مگر چونکہ ان قوانین کا نتیجہ چوری ، ڈاکے، آبروریزی او ربدامنی میں روز افزوں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں نکلا، اس لیے عام مسلمان، مغرب کے ان ذہنی غلامون کی بات کو دل و دماغ میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوسکے او رابطال حدود کے لیے ان کا طریق کار عامة المسلمین میں موثر نہیں ہوسکا۔

ابطال حدود کا کامیاب طریقہ:
ابطال حدود کا دوسرا طریق کار ، جو بظاہر کچھ کامیاب بھی ثابت ہوا، ان لوگوں نے اختیار کیا جو پورے زور سے اعلان کرتے رہے کہ زنا کی سزا دّرے اور رجم ہے، چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، شراب کی حد دّرے مارنا ہے۔ اپنی تقریروں اور تحریروں میں خلافت اسلامیہ کے مبارک دور کے خواب بھی دکھاتے رہے، عوام کے سامنے حدود الٰہیہ کے پاسبان بن کر بھی آئے مگر قانون بناتے وقت صرف کتاب و سنت پر اکتفاء کرنے کی بجائے اس میں اپنی عقل موشگافیوں اور دور اذکار شکوک و شبہات کے ذریعے ایسی شقیں شامل کردیں کہ عملاً نہ چور کا ہاتھ کاٹنا ممکن رہا، نہ زانی کو دّرے مارنا یا رجم کرنا او رنہ ہی شرابی پر حد نافذ کرنا۔ چونکہ یہ لوگ قانون الٰہی کے محافظ ہونے کے روپ میں سامنے آئے او رانہوں نے تنفیذ حدود کے پردے میں ابطال حدود کا کام سرانجام دیا۔ اس لیے ان کے دام ہمرنگ زمیں سے بہت کم خوش قسمت بچ سکے۔ ورنہ اکثر کا حال وہی ہوا کہ ؎


حسنِ سبزے بخط سبز مرا کرد اسیر
دام ہمرنگ زمین بود گرفتار شدم


اس وقت بھی حالت یہ ہےکہ ایک طرف پاکستان کے مسلمان حدود اسلامی کے نفاذ کے لیے سخت بے قرار کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور دوسری طرف ان کی اکثریت نے ایسے لوگوں کو اپنا پیشوا اور رہنما بنایا ہواہے جو خلافت راشدہ کے نقشے بھی اپنی تحریوں اور تقریروں میں کھینچتے ہیں، اقامت دین کا صُور بھی پھونکتے ہیں، تنفیذ حدود کے نعرے بھی لگاتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ خلافت راشدہ کے ایک عرصہ بعد بنائے جانے والے ایسے قوانین کو نافذ کرنے کا مطالبہ بھی دن رات کررہے ہیں جنہوں نے حدو د الٰہیہ کوعملاً معطل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اکثریت کے مدعی نام نہاد علماء اور قائدین، باہمی ہزار اختلافات کے باوجود، حنفی قانون نافذ کرنےکے مطالبہ میں یک زبان ہیں۔ خواہ وہ بریلوی ہوں یا دیوبندی یا اقامت دین کی دعویدار تحریک جماعت اسلامی کے علمبردار جن کے نزدیک پاکستان میں حنفی قانون کے نفاذ کی دلیل بس یہ ہے کہ یہاں کی اکثریت حنفی ہے۔

حدود الٰہیہ کی حفاظت کے لیے ربانی علماء و سلاطین کی کاوشیں:
یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے ان لوگوں کے مقابے میں ایسے اہل علم و فضل بھی رکھے، جنہوں نے ہر طرح قانون الٰہی کی پاسانی کی۔اس کارواں کے سرخیل وہ فقہاء محدثین ہیں جنہوں نے سندوں کےساتھ احادیث رسولﷺ کو اس طرح جمع کردیا کہ سند دیکھ کر صحیح غیر صحیح کی تمیز بھی ممکن ہوگئی اور اپنی رائے کے ساتھ قانون کی ضرورت بھی نہ رہی۔ انہوں نے اپنے پاس سے کوئی قانون بنایا نہ کوئی قیاس موشگافی کی۔اپنی کتابوں میں صرف ایسے تراجم ابواب قائم کرنے پر اکتفاء کی جن کے ذریعے احادیث کے مفاہیم و معانی بھی نمایاں ہوتے رہیں اور ان کے ذریعے شریعت کے احکام کو مسخ اور حدود الٰہیہ کو معطل کرنے والوں کی عقلی موشگافیوں اور دوراذکار شکوک و شبہات کا ردّ بھی واضح ہوتا رہے۔ بعض نے ابواب کی ضرورت بھی نہیں سمجھی، احادیث رسول اللہ ﷺ کو جمع ہی ایسے ترتیب سے کردیا ہے کہ ترتیب خود مطلب کا اظہار کرتی ہے ۔ بعض نے صرف احادیث جمع کردیں اللہ تعالیٰ نے بعد میںآنے والے محدثین کے ذریعے ان کی کتابوں کی بتویب بھی کرا دی ہے۔ ان بزرگون میں امام بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ترمذی ، مالک ، احمد، شافعی، بیہقی، دارقطنی، ابن ابی شیبہ، ابن حبان، ابن خزیمہ اور دوسرے بہت سے ائمہ کرام شامل ہیں رحمہم اللہ تعالیٰ ،ان میں سے امام مالک، شافعی ،احمد او ر کچھ دوسرے ائمہ نے تراجم و ابواب کے ساتھ جمع احادیث سے بڑھ کر کچھ استنباطات و اجتہادات بھی پیش فرمائے جو اکثر و بیشتر آیات و احادیث کے مطابق ہیں، مگر اجتہادی خطاء سے کون محفوظ رہ سکتا ہے؟ خطاء سے پاک تو صرف وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائے۔ تاہم ان تمام ائمہ کرام نے تعطیل حدود کی عام روش سے آگے جس طرح بند باندھا، وہ اسلام کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ان کے بعد تاریخ میں جہاں کہیں کوئی حد نافذ ہوتی دکھائی دیتی ہے، ان لوگوں کی علمی محنت کا نتیجہ او رانہی کے فیض یافتہ علماء و قضاة و سلاطین کی بدولت ہے۔فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔

میں نے انہی ائمہ کرام کی خوشہ چینی کرکے صحیح احادیث سے اور ایات قرآنیہ سے حدود اللہ کی تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی ہے اور کوشش کی ہے جہاں جہاں قانون حنفی میں حدود اللہ کو باطل کیا گیا ہے، اس کی نشاندہی قرآن و حدیث کی روشنی میں کردوں۔ بعض بعض مقامات پر ائمہ ثلاثہ کا مؤقف بھی پیش کیا ہے لیکن بطور حجت نہیں۔ صرف حنفی قانون سازوں او رائمہ ثلاثہ کی عام روشن کا تقابل مقصود ہے ۔ کیونکہ اصل حجت صرف قرآن و سنت ہے۔

سب سے پہلے میں چوری کی حد کے متعلق اپنی گذارشات پیش کروں گا ۔ مناسب سمجھتا ہون کہ شروع میں کتاب و سنت سے چوری کی تعریف مختصر طور پر بیان کردوں۔ اس کے بعد حنفی قانون سازوں کی اسے ختم کرنے کے لیے بنائی ہوئی شقیں عرض کروں گا۔

کتاب و سنّت میں چور کی حد :
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَٱلسَّارِ‌قُ وَٱلسَّارِ‌قَةُ فَٱقْطَعُوٓاأَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَـٰلًا مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٣٨...سورۃ المائدہ
''چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔ بدلہ اس کا جو انہوں نے کمایا، عبرت اللہ کی طرف سے او راللہ غالب ، حکمت والا ہے۔''

اس آیت سے معلوم ہوا کہ چور کی حد ہاتھ کاٹنا ہے او راس کے بڑے مقصد دو رہیں:
(1) اس کے جرم کا بدلہ ہی ہاتھ کاٹنا ہے اگر اس سے کم جسمانی سزا یا جیل وغیرہ کی سزا ہو تو نہ اس کے جرم کا بدلہ ہوسکتا ہے نہ ان مظلوموں کی اشک شوئی ، جنہیں اس نے مالی نقصان کےساتھ ساتھ نہایت ناقابل بیان ذہنی اذیت پہنچائی ہے اور اگر اس سے زیادہ جسمانی سزا دی جائے، مثلاً اسے قتل کردیا جائے تو وہ سزا اس کے جرم کے مقابلہ میں زیادہ ہے او راس پر ظلم ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔

(2) اس چور کو اور دوسرے تمام لوگوں کو چوری سے روکنے کے لیے عبرت ناک سزا ہاتھ کاٹنا ہی ہے۔ اس سے کم جسمانی سزا یاقید کردینے میں وہ عبرت نہیں جو اس مجرم کو یا دوسرے لوگون کو اس جرم سے روک سکے اور اگر اس سے سخت سزا مثلاً بعض ظالم حکمرانوں کی طرح چور کو قتل ہی کردیا جائے، تو اس سے بھی عبرت کا مقصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہوگاکیونکہ جب چور کی زندگی ہی ختم کردی گئی تو اس کے لیے تو عبرت حاصل کرنے کا موقع ہی نہ رہا۔ دوسرے لوگ اسےقتل ہوتے وقت ضرور دہشت زدہ ہوں گے، مگر کچھ مدت کے بعد دوسرے فوت شدہ لوگوں کی طرح وہ بھی ذہنون سے محو ہوجائے گا او ربطور عبرت اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ ہاں اگر قرآن مجید کے حکم کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹا جائے تو خود اسے بھی عبرت ہوگی، ہاتھ کٹتے وقت دیکھنے والے بھی لرزہ براندام ہوں گے او رپھر یہ شخص ساری زندگی کٹے ہوئے ہاتھ کےساتھ خود اپنے لیے اور دوسرے تمام دیکھنے والوں کے باعث عبرت بنا رہے گا۔

قطع ید کے لیے چوری کا نصاب:
چونکہ ہاتھ کاٹنا بہت سخت سزا ہے، اس لیے آنحضرت ﷺ بالکل معمولی اورکم قیمت پرہاتھ نہیں کاٹتے تھے۔ بلکہ آپؐ نے اس کے لیے وہ مقدار متعین فرما دی ہے جس کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا او راس سے کم قیمت کی چیز میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا:
''عن عائشة رضي اللہ تعالیٰ عنها قالت لم یکن ید السارق یقطع علیٰ عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في الشيء التافه ولم یقطع في أدنیٰ من ثمن حجفة أو ترس'' 4
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں چور کا ہاتھ معمولی قیمت والی چیز پر نہیں کاٹا جاتا تھا او رچمڑے کی ڈھال یا لوہے کی ڈھال سے کم قیمت میں نہیں کاٹا گیا۔''

''عن عائشة رضي اللہ تعالیٰ عنها قالت لم تقطع ید السارق في عھد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في أدنیٰ من ثمن المجن ترس أو حجفة وکان کل واحد منھما ذاثمن'' 5
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ چور کا ہاتھ نبی ﷺ کے زمانے میں ڈھال ''لوہے کی ہو یا چمڑے کی'' سے کم قیمت کی چیز کی چوری میں نہیں کاٹا گیا او ران میں سے ہر ایک قیمت والی تھی۔''

''عن نافع عن ابن عمر قال قطع النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ید السارق في مجن ثمنه ثلٰثة دراھم''6
''نافع بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال کی چوری میں کاٹ دیا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔''

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس ڈھال سے کم قیمت کی چیز چرانے پر آنحضرتؐ ہاتھ نہیں کاٹتے تھے، جس کی قیمت تین درہم ہوتی تھی۔

ڈھال کے اندازے کے علاوہ آپؐ نے سونے کے حساب سے اس کی حد واضح طور پربھی متعین فرما دی ہے۔

''عن عائشة رضی اللہ تعالیٰ عنها قالت قال النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقطع الید في ربع دینار فصاعدا''7
''حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہاتھ دینار کے چوتھے حصے یا ا س سے زیادہ میں کاٹا جائے۔''

صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: ''لا تقطع الید إلا في ربع دینار فصاعدا''

احناف نے دس درہم نصاب مقرر کیاہے، مگر یہ مذکورة الصدر متفق علیہ احادیث کے خلاف ہے۔ یہ درست ہے کہ دس درہم یا ایک دینار کی چوری میں بھی ہاتھ کاٹنا لازم ہے کیونکہ وہ تین درہم یا چوتھائی دینار سے زیادہ ہے مگر ایک بھی صحیح حدیث ایسی نہیں کہ دس درہم یا ایک دینار سے کم کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے۔''

وہ چیزیں جن کی چوری پر بعض صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا:
''عن رافع بن خدیج عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال لا قطع في ثمر ولا کثر'' 8
''رافع بن خدیجؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''پھل او رکھجور کے درخت کے درمیانی گودے کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔''

دوسری احادیث میں آپؐ نے اس پھل کی تفصیل بیان فرمائی ہے جس کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

''عن عبداللہ بن عمر وأن رجلا من مزینة أتیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال یارسول اللہ کیف تریٰ في حریسة الجبل فقال ھي و مثلھا و النکال ولیس في شيء من الما شیة قطع إلا فیما آواہ المراح فبلغ ثمن المجن ففیه قطع الید و مالم یبلغ ثمن المجن فقیه غرامة مثلیه وجلدات نکال قال یارسول اللہ کیف تری في الثمر المعلق؟ قال ھو ومثله معه والنکال ولیس في شيء من الثمر المعلق قطع إلافیما آواہ الجرین فما أخذ من الجرین فبلغ ثمن المجن ففیه القطع و مالم یبلغ ثمن المجن ففیه غرامة مثلیه وجلدات نکال'' 9
''حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: ''یارسول اللہ ﷺ! پہاڑ سے چرائی ہوئی (بکری) کے متعلق آپؐ کیا فرماتے ہیں؟'' فرمایا:''وہ اور اس کی مثل اور سزا او رجانوروں میں ہاتھ کاٹنا نہیں مگر اس میں جسے باڑہ جگہ دے او رڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا او رجو ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے اس میں دوگنا جرمانہ ہوگا اور سزا کے چند کورے'' اس نے عرض کی: ''یارسول اللہ ﷺ! (درخت پر)لگے ہوئے پھل کے متعلق آپؐ کیا فرماتے ہیں؟'' آپؐ نے فرمایا: ''وہ اور اس کے ساتھ اس کی مثل اور سزا ۔اور کسی درخت پر لگے ہوئے پھل کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر اس میں جو پھل کے ڈھیر میں آجائے۔ تو جو ڈھیر سے چرایا جائے او رڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا او رجو ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے اس میں دوگنا جرمانہ اورسزا کے چند کوڑے ہوں گے۔''

ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت کے شروع میں یہ الفاظ ہیں:
'' من أصاب بفیه من ذی حاجة غیر متخذ خبنة فلا شيء عليه'' 10
یعنی ''کوئی ضرورت مند اگر درخت سے اتار کر پھل کھالے ، جھولی بنا کر نہ لے جائے تو اس پر کوئی چیز نہیں۔''

حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی یہ حدیث الفاظ کی کچھ کمی بیشی کے ساتھ نسائی او رابوداؤد کے علاوہ ترمذی ، دارقطنی، بیہقی، ابن جارود وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ احناف بھی حرز کی شرط کے لیے اسی حدیث کو دلیل بناتے ہیں۔

اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:
باہر چرتے ہوئے جانور کو چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا البتہ دوگنا جرمانہ اور سزا کے چند کوڑے لگائے جائیں گے۔
باڑے میں آنے کے بعد چوری کرنے پر اگر ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے توہاتھ کاٹا دیا جائے گا۔
باڑے میں آنے کے بعد چوری کرنے پر اگر ڈھال کی قیمت سے کم ہوتو دوگنا جرمانہ اور سزا کے چند کوڑے لگائے جائیں گے۔
کوئی ضرورت مند درخت پر سے پھل اتار کر کھالے، ساتھ نہ لے جائے تو اس پر نہ سزا ہے نہ جرمانہ۔
درخت سے اتار کر پھل ساتھ لے جائے خواہ تر پھل ہو جیسے کھجور سنگترہ مالٹا وغیرہ یا خشک مثلاً بادام پستہ چلغوزہ وغیرہ تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا البتہ دوگنا جرمانہ ہوگا اور سزا کے چند کوڑے۔
پھل جب ڈھیر میں جمع کردیا جائے خواہ تر ہو مثلاً کھجور ، مالٹا ، کیلا وغیرہ، خواہ خشک مثلاً بادام، اخروٹ، پستہ وغیرہ تو ڈھیر میں سے چرانے پر اگر ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
ڈھیر سے چرانے کی صورت میں اگر نصاب کو نہ پہنچے تو دوگنا جرمانہ ہوگا اور سزا کے چند کوڑے۔

معمولی چیز ہو یا غیر معمولی ، نصاب کو پہنچ جائے تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا:
''عن أبي هریرة عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال لعن اللہ السارق یسرق البیضة فتقطع یدہ و یسرق الحبل فتقطع یدہ'' 11
''حضرت ابوہریرہؓ، نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، انڈا چرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور رسیّ چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔'' 12

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کی مستثنیٰ کردہ جانور او رپھل کی چوری کی صورتوں کے علاوہ کسی معمولی چیز کی چوری بھی کرے مثلاً انڈے چرائے یا رسّی چرائے اور وہ آنحضرتﷺ کے مقررہ کردہ نصاب کو پہنچ جائے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ چوری کسی کے گھر سے کرے یا مسجد وغیرہ سے، جہاں داخلہ کی عام اجازت ہو، ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
''حدث عبداللہ بن عمر أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قطع ید رجل سرق ترسا من صفة النسآء ثمنه ثلاثة دراھم'' 13
''حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان فرمایا: ''نبیﷺ نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جس نے عورتوں کے صفّہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔''

یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ مسند احمد، نسائی میں بھی ہے او راس کے راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چور کسی کے گھر کے علاوہ اگر کسی عام داخلے والی جگہ مثلاً مسجد وغیرہ سے چوری کرے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے گا او ریہ بھی ثابت ہوا کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے بند دروازے کوکھول کر چوری کرنا یا کسی محافظ کی حفاظت سے چوری کرنا شرط نہیں کیونکہ عورتوں کے صفہ میں یہ شرائط ثابت نہیں۔

حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرنے کے بعد مال کا مالک بھی چور کو معاف نہیں کرسکتا:
''عن عمرو بن دینار عن طاؤس عن صفوان بن أمیة أنه سرقت خمیصته من تحت رأسه وھو نائم في مسجد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فأخذ اللص فجاء به إلی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فأمر بقطعه فقال صفوان أتقطعه قال فھلا قبل أن تأتیني به ترکته''
''حصرت صفوان بن امیہ ؓ فرماتے ہیں، وہ نبی ﷺ کی مسجدمیں سوئے ہوئے تھے کہ کسی نے ان کے سر کے نیچے سے ایک چادر چرالی، انہوں نے چور کو پکڑ لیا او راسے لاکرآنحضرتﷺ کے سامنے پیش کردیا۔ آپؐ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صفوان نےکہا: ''کیاآپؐ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟''آپؐ نے فرمایا: ''تو میرے پاس لانے سے پہلے تم نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا۔''

''عن ابن طاؤس عن صفوان بن أمیة قال ...... فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقلت یارسول اللہ إن ھٰذا سرق خمیصة لي لرجل معه فأمر بقطعه فقال یارسول اللہ إني قدوھبتھاله قال فھلا قبل أن تأتیني به'' 14
''صفوانؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے ایک آدمی کے متعلق، جو میرے ساتھ تھا، کہا: ''یارسول اللہ ﷺ، اس نے میری ایک چادر چرائی ہے۔'' تو آپؐ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ صفوانؓ نے کہا: ''یارسول اللہ ﷺ! میں نے یہ چادر اسے ہبہ کردی!'' آپؐ نے فرمایا''تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں ایسا نہیں کیا۔''

یہ حدیث صحیح ہے اور مسند احمد کی روایت کے رجال بخاری مسلم کے راوی ہیں۔

طاؤس کے علاوہ صفوان بن اُمیہ سے کئی اور اصحاب نے بھی یہ روایت بیان کی ہے جن میں بعض وہ چادر اس کے پاس بیچنے کا ذکر بھی ہے۔ یہ طرق ابوداؤد، نسائی، ابن جارود، حاکم، بیہقی وغیرہ میں موجود ہیں۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حاکم کے پاس جرم ثابت ہوجانے کے بعد چور کو قطع ید سے بچانے کی کوئی صورت نہیں۔ مال کا مالک بھی اسے نہیں چھوڑ سکتا ، خواہ وہ چیز اسے ہبہ کردے ، ہاتھ بہرصورت کاٹ دیا جائے گا۔'' (جاری ہے)


حوالہ جات
1. بخاری صفحہ 8۔507 ج1
2. بخاری صفحہ 508 ج1
3. ہدایہ ناشر ملک سراج دین اینڈ سنز لاہور صفحہ216 ج2
4. رواہ ابن أبي شیبة في مسندہ والآخرون۔ کذا في نصب الرایة باب ما یقطع فيه ومالا یقطع صفحہ 103 ج2 مطبع علوی
5. بخاری صفحہ 1004 و دیگرکتب احادیث
6. بخاری صفحہ 1004 ج2 و رواہ مسلم و مالك و أبوادود والترمذي والنسائي والدارمي و ابن ماجة والطحاوي و ابن الجارود والدارقطني والبیهقی والطیالسي و أحمد ۔کذا في إرواء الغلیل حدیث نمبر 2412 ج8
7. أخرجه البخاري و مسلم و أبوداود و النسائي والترمذي والدارمي و ابن ماجة وابن الجارود والطحاوي و ابن أبي شیبة و الدارقطني والبيهقي والطیالسي و أحمد واللفط للبخاري کذا في إرواء الغلیل حدیث 2402 ج8
8. رواہ مالك والترمذي وأبوداود والنسائي والدارمي وابن ماجة۔مشکوٰة صفحہ 313
9. نسائی (سلفیہ) صفحہ 257 ج2
10. ابوداؤد صفحہ 603
11. متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰة صفحہ 313
12. بخاری مسلم و دیگر کتب احادیث
13. ابوداؤد صفحہ 602
14. مسنداحمد ، ج6 صفحہ 465۔466

i. لفظ ''قانون'' کے معنی ''بناوٹی قاعدے اور ضابطے'' کے ہیں۔اس کا استعمال صرف مقابلتاً اسلامی احکامات کو سمجھانے کے لیے کیا جاتا ہے، ورنہ اس میں اتنی وسعت بھی نہیں ہے جو حکم الٰہی یا شریعت محمدی میں ہے۔
ii.بعض لوگ اس قانون کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ جب اس سے اوپر کوئی حاکم ہی نہیں تو اس پر حد کون نافذ کرے گا؟ خود تو وہ اپنے آپ پر حد نافذ کرنے سے رہا۔ اگر اس کی مرضی کے خلاف دوسرے لوگ اس پر حد قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو فتنہ و فساد کا خطرہ ہے اس فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے اس پر حد ختم کی گئی ہے۔
حالانکہ اس عذرلنگ کا جواب خود اسی قانون میں موجود ہے۔ کیونکہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ قصاص میں اس پر مواخذہ ہوگا۔ چنانچہ یہ سوال یہاں بھی موجود ہے کہ اس سے قصاص کون لے گا؟ جو قوت اس سے بندوں کے حقوق پر مواخذہ کرے گی، اسی قوت پریہ بھی لازم ہے کہ اسے حقوق اللہ میں پکڑے۔ اسی لیے آنحضرتﷺ نے پہلی اُمتوں کے تمام لوگوں کواس بات کا مجرم ٹھہرایا کہ انہوں نے اشراف پر سے (جن میں بادشاہ شریف نمبر ایک ہوتا ہے) چوری کی حد ختم کی اور اسی چیز نے انہیں برباد کرڈالا۔ چنانچہ آپﷺ کا فرمان ہے:
''إنما أھلك الذین قبلکم إنھم کانوا إذا سرق فیھم الشریف ترکوہ وإذا سرق فیھم الضعیف أقاموا عليه الحد وأیم اللہ لو أن فاطمة بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرقت لقطعت یدھا'' (متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰة صفحہ 314)
کہ ''تم سے پہلے لوگون کو صرف اسی چیزنے ہلاک کیا کہ جب ان میں کوئی شریعت (بڑا آدمی) چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے او رجب کوئی صعیف (کمزور) آدمی چوری کرتا، اس پر حد قائم کردیتے تھے او راللہ کی قسم! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ (بھی) کاٹ دیتا۔''
چوری میں ہاتھ کاٹنا خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔جس کا مطالبہ کرنے کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے زمین پر تشریف نہیں لانا تھا یہ حق اس کے بندون نے ہی نافذ کرنا تھا۔ جن پر اس کی تنفیذ فرض تھی او رجنہیں اسے معاف کرنے یا باطل کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ پھر ان لوگوں نے بھی فتنہ و فساد کے خوف سے اور دوسری انہی وجوہات کو مدنظر رکھ کر اسے اپنے بڑوں سے ختم کیا ہوگا، جن وجوہات کے اثبات کے لیے ہمارے ان قانون ساز حضرات نے اپنی تمام قوت استدلال وقف کررکھی ہے۔ اگر اُن کو وہ استدلالات و اندیشے ہلاکت سے نہ بچا سکے تو ہمین کیا بچا سکیں گے؟
دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے ہماری بغاوت پہلے لوگوں کی بغاوت سے بڑھ کر ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بیان کے مطابق شریف (بڑے لوگوں) سے حد ختم کی، مگر ضعیف پر حد قائم رکھی ۔پھر بھی وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ہم نے بادشاہ سے حد ختم کرنے کے بعد تمام چوروں کی حد ختم کرنے کے لیے بھی قوانین بنا لیے۔ پھر سوچئے ہمارا ٹھکانہ کیا ہوگا؟ [ نیزحاکم کے بارے میں یہ بہانہ اس لیے بھی غلط ہے کہ اسلام میں اصل بالادستی شریعت کی ہے، جس کےمکلف حاکم و محکوم سب ہوتے ہیں، جو شریعت کا حکم اپنے لیے نہ سمجھے، وہ اللہ کا باغی ہوتاہے او رباغی کو مستثنیٰ کرنے کی بجائے ، شریعت اس کے ساتھ جہاد کا حکم دیتی ہے] (ادارہ)
تنبیہ: قصاص، جس کو یہاں بادشاہ پر بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، اسے باطل کرنےکے طریقوں کے بیان کے لیے ایک مستقل مضمون درکار ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو وہ بھی سپرد قرطاس کردیا جائے گا۔