کیا عقیقہ پر گائے، بھینس او راونٹ ذبح کرنا درست ہے؟
عقیقہ صرف بکری، مینڈھا اور دنبہ سے ہی کیا جانا چاہیے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بھینس ، گائے اور اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق کووی صحیح او رقابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس مسئلہ میں اکثر علمائے سلف و خلف، ائمہ حدیث اور مجتہدین کا عمل اور فتویٰ یہی ہے کہ بھیڑ،یا بکری یا دُنبہ کے علاوہ کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔1

عقیقہ میں اونٹ ذبح کرنے کے متعلق حضرت انسؓ سے مروی ایک حدیث ملتی ہے جسے طبرانی نے المعجم الصغیر کے صفحہ 278 پر روایت کیا ہے اور امام ابن القیم نے انس بن مالکؓ کے متعلق بیان کیاہے: ''انہوں نےاپنے بچوں کا عقیقہ اونٹ سے کیا تھا۔''2 اسی طرح ابی بکرہؓ سے مروی ہےکہ : ''انہوں نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا تھا او راس سے اہل بصرہ کی دعوت کی تھی۔''3

بعض علمائے خلف جو اونٹ، بھینس اور گائے کے عقیقہ پر ذبح کرنے کی اجازت دیتے ہیں ان کی دلیل طبرانی کی مذکورہ روایت اوربعض صحابہؓ کے عمل کے علاوہ امام بخاری او رابن منذر کی وہ روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
''مع الغلام عقیقة فأھر یقوا عنه دما''
یعنی ''لڑکے کےساتھ عقیقہ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ''

چونکہ اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ''دم'' کے بجائے لفظ ''دماً'' ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ حدیث کے ظواہر او رلفظ ''دما'' کے عموم سے مولود پر صرف بھیڑ، بکری اور دُنبہ کو خاص کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس لفظ کے عموم میں گائے، بھینس اور اونٹ بھی ذبح کرنے کی اجازت اور گنجائش موجود ہے۔لیکن گائے اور بھینس کے ذبیحہ کے لیے شرط ہے کہ وہ دو سال کی عمر مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو، اسی طرح اونٹ پانچ سال کی عمر مکمل کرکے چھٹے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

طبرانی کی جس حدیث کا اوپر ذکر کیا گیاہے، اس کے متعلق محدثین و محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے۔4اسلاف میں سے بعض بزرگوں کا فعلاً عقیقہ کے موقع پر اونٹ ذبح کرنا اگر واقعة ثابت بھی ہوجائے تو بھی مقبول اور مشہو راحادیث کی موجودگی میں ان بزرگوں کا قول و فعل قابل قبول او رحجت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان بزرگوں کو اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث نہ پہنچی ہوں او رانہوں نے اجتہاداً ایسا کیا ہو۔

بعض احادیث5 میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عقیقہ پر اونٹ ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ اس عملی سنت رسولؐ اور ارشادات نبویﷺ کے سرموکلاف عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق استفسار کیا گیا تو آپ ؓ نے نہایت فیصلہ کن انداز میں اس کی مخالفت فرمائی:
''نفس لعبد الرحمٰن بن أبي بکر غلام فقیل لعآئشة رضی اللہ عنها یا أم المؤمنین ! عقي عنه جزوراً فقالت: معاذ اللہ ولٰکن ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاتان مکافئتان'' i
''حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی بکرؓ کےہاں لڑکا پیدا ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہؓ سے استفسار کیا گیا کہ '' اے ام المؤمنین! اس کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا جائے؟'' آپؓ نے فرمایا: ''اللہ کی پناہ، اس کے بجائے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یعنی ) ایک جیسی دو بکریاں''

کیا جن جانوروں میں سات حصّے قربانی ہوسکتی ہے،
ان میں سات عقیقے بھی ہوسکتے ہیں؟
جیسا کہ اوپر صحیح احادیث کی روشنی میں واضح اور ثابت کیا جاچکا ہے کہ سوائے بکری، بھیڑ اور دُنبہ کے کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ کے صریح خلاف ہے۔ اور مجدثین و مجتہدین اور علمائے سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت گائے، بھینس اور اونٹ سے عقیقہ کرنا درست نہیں سمجھتی، اُم المؤمنین او رکبار صحابہؓ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے، پس جن جانوروں سے عقیقہ کرنا ہی درست نہیں ان میں سات بچوں کا عقیقہ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے؟

جو بعض علمائے خلف گائے، بھینس او راونٹ سے عقیقہ کرنا درست سمجھتے ہیں وہ بھی اس میں اشتراک کے قائل نہیں ہیں۔چنانچہ الاستاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان فرماتے ہیں:
''عقیقہ میں اشتراک صحیح نہیں ہے جس طرح کہ سات آدمی، اونٹ میں اشتراک کرتے ہیں کیونکہ اگر اس میں اشتراک صحیح ہو تو بچہ کی طرف سے '' إهراقة الدم'' کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ عقیقہ کا ذبیحہ مولود کی طرف سے فدیہ ہوتا ہے۔ بھیڑ ، یا بکری کے بدلہ میں اونٹ یا گائے ذبح کرنا درست ہے ، بشرطیکہ یہ ذبیحہ ایک مولود کے لیے ایک جانور کی صورت میں ہو۔'' ii

کیا عیدالاضحیٰ کی قربانی میں عقیقہ کا حصّہ شامل کیا جاسکتا ہے؟
بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے ایک جانور میں جس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں، پانچ حصے قربانی کے اور باقی دو حصے ایک لڑکے کی طرف سے یا دو لڑکیوں کی طرف سے عقیقے کے شامل کردیتے ہیں۔ اور ایک ہی جانور ذبح کرکے قربانی کے تمام شرکاء کی قربانی اور عقیقے کے شرکاء کے عقیقوں سے ایک ساتھ سبکدوش ہوجاتے ہیں، ایسا کرنا بھی سنت رسول اللہ ﷺ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کی حقیقت بھی ''اشتراک فی العقیقہ'' ہی کی ایک صورت ہے جس کا حکم اوپر بیان ہوچکا ہے۔

کیا عقیقہ کے جانور کی قیمت کسی غریب محتاج یارفاہ عام کے کاموں میں دینا درست ہے؟
عقیقہ کے جانور کی قیمت کسی غریب و محتاج کی مدد پر یا بیمار کے علاج و خبرگیری میں صرف کرنا یا اُسے کسی اجتماعی و رفاہی کام میں خرچ کردینا، عقیقہ کے مقصد و احکام کے صریح خلاف ہے۔ ایسا کرنا نہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے او رنہ ہی آپؐ کے صحابہؓ و تابعین و اسلاف امت میں سے کسی ایک سے ! علمائے فقہ و اجتہاد بھی اس بات کو خلاف سنت قرار دیتے ہیں۔ کسی قرض دار یا غریب و محتاج کی مدد یا بیمار کا علاج یا اسی طرح قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا طوفان یا فساد یا آتش زدہ لوگوں کی مدد یا دوسرے رفاہ عام کے کاموں پر مال خرچ کرنا کسی طرح بھی عقیقہ کا بدل نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

عقیقہ کا جانور مولود کے نام پر ذبح کرنا اور عقیقہ کی دعاء :
عقیقہ کا جانور مولود کا نام لے کر ذبح کرنا مستحب ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
''اذبحوا علی اسمه فقولوا، بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذہ عقیقة فلان'' iii
''(مولود) کے نام پر ذبح کرو او ریہ دعا پڑھو۔''
''بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذا عقیقة فلان''
(فلاں کی جگہ مولود کا نام لیا جائے)''

(جاری ہے)

حوالہ جات
1. تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ عبداللہ ناصح علوان الجزء الاوّل صفحہ 98
2. تحفة المودود في احکام المولود مصفنہ امام ابن القیم
3. تحفة المودود في أحکام المولود مصفنہ امام ابن القیم
4. إرواء الغلیل ج4 صفحہ 393
5. مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239 و الطحاوی ج1 صفحہ 457

i. معاني الآثار للطحاوي صفحہ 1؍457 و اسنادہ جید
ii. تربیة الأولاد في الإسلام الجزء الاّول صفحہ 98
iii. رواہ ابن المنذر و کذا في حصن حصین لابن الجزري