ایک ہنگامہ ہے حرب و ضرب اضداد کا
سامنا اسلام کو ہے کفر او رالحاد کا

نام مٹ جائے جہاں سے نالہ و فریاد کا
یانکل جائے جنازہ قہر و استبداد کا

ظلم بڑھ جاتا ہے جب حد سے تو آتا ہے زوال
نام تک باقی نہیں رہتا کسی جلّاد کا

ساری قوموں میں ہے قائم اتفاق و اتحاد
ہے خلاف اسلام ہی کے سلسلہ بیداد کا

سارےکوشاں ہیں مٹانے کے لیے اسلام کو
امتحاں ہے حق و باطل کی اب استعداد کا

اک نظر بھاتا نہیں اسلام کا اُن کو وجود
یا خدا فضل و کرم کر وقت ہے امداد کا!