1

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

فقہ کو شریعت قرار دینے کی جسارت !
گزشتہ شمارہ (محدث مراچ 1986ء) میں ہم نے لکھا تھا کہ ''اسلامی مملکت کا دستور کتاب اللہ ہی ہوتا ہے، جس کی کامل اور متعین تعبیر سنت رسول اللہ ﷺ ہے او راسی کا نام شریعت ہے'' اسلامی دستور کے بارے میں یہی مؤقف ہم محدث کے ادارتی کالموں اور دیگر مضامین میں بھی ، موقع بہ موقع پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا اس کی تفصیلات میں تو ہم نہیں جائیں گے، لیکن چونکہ اپنے وعدہ کے مطابق (جو گزشتہ شمارہ میں ہم نے اپنے قارئین سے کیا تھا) نویں دستوری ترمیم1 اور نفاذ شریعت بل2 پر تبصرہ ہمارے پیش نظر ہے، اس لیے تمہیداً اس سلسلہ کی چند گزارشات ضروری سمجھتے ہیں۔

اسلامی مملکتوں اور لادین ریاستوں کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلامی مملکت کے راعی او ررعایا احکام الٰہی کا پابند ہونا نہ صرف تسلیم کرتے ہین، بلہ وحی اور رسالت ہی ان کے تمام مسائل کا حل ہوتے ہیں۔اس لیے وہ بناوٹی دساتیر و قوانین کے چکر میں پڑنے کی بجائے براہ راست اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ شرائع کے مکلف ہوتے ہیں۔ یعنی خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی شریعت (کتاب و سنت) ہی ان کے نزدیک دستور و قانون ہوتی ہے۔ یہی بات آج سے کچھ عرصہ پیشتر صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنی ایک نشری تقریر میں بانئ پاکستان محمد علی جناح کے حوالہ سے دہرائی تھی کہ:
''مسلمان اپنا دستور خود مرتب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ان کا دستور مرتب و مدوّن ان کے ہاتھوں میں موجود ہے او روہ ہے قرآن مجید!''

جبکہ لا دین ریاستیں وضعی اور بناوٹی قوانین کا نفاذ کرتی ہیں او راگرکسی مجبوری کے پیش نظر دین و شرعیت کے نام سے بھی کہیں کوئی چربہ لگانا مقصود ہو تو اس کا جواز ان کے پاس صرف یہی ہوتا ہے کہ مثلاً عوام کی ایک عظیم اکثریت اس کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے کہ اسلامی ریاست کے دعوے کے باوجود وہ قانون سازی اور نفاذ شریعت کے لیے اسی معمول کو اپنائے ہوئے ہے یعنی عوامی تحریک اور عوامی مطالبات کے نتیجے میں شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے! سوچنے کی بات یہ ہے کہ کل کو اگر عوام، نفاذ شریعت کا یہ مطالبہ چھوڑ دیں، یا کوئی اکثریت، شریعت میں ترمیم و تنسیخ کا مطالبہ کردیتی ہے تو کیا شریعت کو معطل کردینا یااس میں تغیر و تبدل کرنا ارتداد نہ ہوگا؟ جبکہ خاتم المرسلینﷺ پر ایمان لانے کے بعد شریعت محمدیہ کے کسی ایک جزء کا انکار بھی کفر و ارتداد ہے۔ یہ بات مذکورہ بالا شریعت بل کی تمہید کے سلسلہ میں ایک قابل غور نکتہ ہے کہ اگر نفاذ شریعت بل کو ایک عظیم اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہوتی تو کیا نفاذ شریعت کی کوششوں سے ہاتھ اٹھا لیا جائے گا؟
فاعتبروا یا أولي الأبصار!

سیدھی سی او رانتہائی واضح بات یہ ہے کہ شریعت کا نفاذ بہرحال ہونا چاہیے او رجو کتاب و سنت کی دستوری حیثیت تسلیم کرلینے سے ہی ممکن ہے۔

1973ء کے دستور کی دفعہ 229 میں قرآن وسنت کو یہ حیثیت دی گئی تھی کہ ملک کا جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہوگا، کالعدم قرار پائے گا۔لیکن کسی بھی عمومی اقرار کے لیے عملی حیثیت اور اصل اہمیت اس کے طریق کار کی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا طریق کار یہ اختیار کیا گیا کہ شریعت کورٹ آرڈیننس جاری کیا گیا۔ جس کے تحت، قوانین کی قرآن و سنت سے مطابقت، کا یہ فریضہ شرعی عدالت کو سونپا گیا۔ لیکن اس آرڈیننس میں قوانین کو قرآن و سنت پر پیش کرنے کےلیے، قانون کی تعریف کو اس قدر محدود کردیا گیا کہ ملک کا تقریباً سارا قانونی نظام ہی اس کے اثرات سے محفوظ رہا۔ یعنی بنیادی دستور، قوانین ضابطہ پرسنل لاء او رمالی قوانین وغیرہ قانون کی تعریف سے مستثنیٰ او روفاقی شرعی عدالت کے دائرہ کار سے خارج قرار دے دیئے گئے۔ گویا نعوذ باللہ، اللہ اور اس کے رسولؐ کوبھی ''مقدس'' انسانی دساتیر و قوانین پر غور کی اجازت نہیں۔ فإنا للہ وإنا إلیه راجعون۔

قرارداد مقاصد ، جس کے متعلق بڑا شہرہ ہےکہ اسے دستور کا مستقل حصہ قرار دے دیا گیاہے، اس کی حیثیت بھی ایسی ہی ہے۔ اولاً تو یہ قرار داد ہی مقاصد ریاست کے لیے تھی او رکسی دستور و ریاست کے مقاصد، دستور و قوانین کے لیے راہنما اصول تو ہوتے ہیں، لیکن ان کی اپنی کوئی قانون حیثیت نہیں ہوتی، ہاں اصل حیثیت ان خصوصی قوانین کی ہوتی ہے جو عمل کے لیے وضع کئے جاتے ہیں۔ ثانیاً قرار داد مقاصد کو دستور کا حصہ بنا دینے کے باوجود، اسے وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے کہ دستور بشمول قرار داد مقاصد، اس کے زیرسماعت نہیں آسکتا۔ثالثاً اس قرارداد مقاصد کو دستور کی خصوصی دفاعت کے ذریعے ہی عمل میں لانا ممکن ہے۔ جبکہ اصول قانون کی رو سے عملی اعتبار سے اصل پابندی خصوصی دفعات کی رہ جاتی ہے او رعمومی دفعات محض تجریدی اصول ہی ہوتے ہیں۔لہٰذا دستور میں دیگر خاص دفعات، قرار داد مقاصد کو عملاً معطل ہی رکھیں گے۔ گویا قرار داد مقاصد کو دستور کا مقتقل حصہ قرار دینا یا نہ قرار دینا برابر، اور محض ایک تکلف ہے۔

اس تفصیل سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ پاکستان کا اہل مسئلہ دستور کے طریق کار اور اس کے لیے مناسب، معیاری مشینری کا بھی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں ایک طرف ، اس مشینری کے لیے ایسے معیار کا کوئی لحاظ نہیں اور دوسری طرف پیچ در پیچ طوالتوں کا ایک ایسا انبار ہے کہ جن کے باعث قانون و اقعتاً موم کی ناک بن کر رہ گیا ہے۔ پھر یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ اگر کوئی جرأت مند جج، یا انتطامیہ کا کوئی فرد، دستوری بھلائی کے پہلوؤں کو مؤثر حیثیت دینا بھی چاہے تو اسے کون سی آزادی اور کس قدر تحفظ حاصل ہے؟

لہٰذا متذکرہ بالا اہم رکاوٹوں کی موجودگی میں ہم جو کچھ کرسکتے ہین، وہ اسی وضعی دستور اور غیر معیاری مشینری کے ذریعہ ہی کرسکتے ہیں۔ چنانچہ آئندہ سطور میں ہم جو رائے پیش کریں گے وہ اسی انداس کی ہوگی۔

ان تمہیدی گزارشات کے بعد اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ نویں ترمیم اور شریعت بل کی قانونی حیثیت کا ایک جائزہ پیش کریں کہ قارئین کرام سے متذکرہ وعدہ کے علاوہ نفاذ شریعت بل پر 24۔اپریل 1986ء تک تجاویز و آراء بھی طلب کی گئی ہیں:
ہماری رائے میں نویں ترمیم کی ایک قانونی اہمیت ہے۔ لیکن اس کے لیے قومی اسمبلی کی دو تہائی اور سینٹ کی اکثریت کی تائید ضروری ہے جس کی موجودہ حالات میں، صدر مملکت اور سابق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب ضیاء الحق کے ریفرنڈم او رانتخابات میں عوام سے وعدے کے باوجود اسلام کے نفاذ سے پسپائی کے بعد، امید موہوم ہی ہوگی ۔ تاہم اگر اس ترمیم کی کامیابی فرض کرلی جائے (کہ دنیا بہ امید قائم است) تو ہماری نظر میں نویں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کی قرار داد میں حسب ذیل اہم نقائص ہیں:
متذکرہ قرار داد کی دفعہ (1) شق ب (i) میں قانون کی تعریف میں وہی گھپلا موجود ہے جو یکم جنوری 1978ء کو شریعت کے نفاذ کے اعلان کے بعد شریعت کورٹ آرڈیننس میں درج تھا کہ قانون کی تعریف محدود رکھی گئی تھی۔ یہاں بھی قانون کی تعریف نہ صرف جامع نہیں، بلکہ واضح طور پر دستور کو پھر قرآن و سنت کی مطابقت سے مستثنیٰ کرنےکی جرأت کی گئی ہے۔ پھر اسی دفعہ کی شق ب (ii) واضح نہیں ہے جبکہ اس دفعہ کی شق ب (iii) کے ذریعہ مالیاتی بینکاری کو پھر وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے اس طرح نکال دیا گیا ہے کہ مذکورہ عدالت متعلقہ ماہرین کے مشورے کے بعد متعین اقدامات کے لیے ایک مقررہ مدت کی صرف سفارش ہی کرسکے گی، جس کی قانون ساز ادارے پر پابندی لازمی نہ ہوگی، گویا اس کی سفارشات کا وہی حشر ہوگا جو ربع صدی سے اسلامی مشاورتی کونسل او رپھر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا ہورہا ہے۔

اس قرار داد کی دفعہ 2 اور 3 میں کمیشن کی تشکیل اور اس کی دستوری ترامیم اور نفاذ اسلام کے عمل کو تیز بنانے کے اقدامات کی تجویز محض خانہ پری ہے۔ چنانچہ ایسے کمیشنوں کی تشکیل او ران کی سفارشات ، کسی چیز کو ٹالنے کے لیے ایک عمدہ تکنیک سمجھے جاتے ہیں۔

نویں دستوری ترمیم کی دفعہ (الف) ہی بنیادی دفعہ ہے۔اس دفعہ میں دستور کی دفعہ 229، (جس میں قرآن و سنت کے منافی قوانین کو کالعدم کرنے کا ذکر ہے) کا مثبت انداز سے ذکر کرنا ہی کافی ہے کہ ''اسلام پاکستان کا سرکاری دین اور شریعت محمدی (کتاب و سنت ) ہی اس کا دستور و قانون ہوں گے۔'' لیکن اس قرار داد کی دفعہ (1) شق (الف) کے الفاظ میں تعبیر کی کمزوری کے باوصف ، جہاں ایک طرف قرآن و سنت کو ملک کا بالا ترین (سپریم ) قانون بنانے کا ذکر کیا گیاہے، وہاں دوسری طرف قرآن و سنت کو ہی پالیسی بنانے اور قانون سازی کا اصل منبع قرار دیا گیاہے۔ چنانچہ یہ شق فی ذاتہ باہم متعارض ہے۔ کیونکہ قرآن وس نت کے بالاترین قانون ہونے کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ خود قانونی حیثیت کے حامل ہوں۔ لیکن اسی شق کے دوسرے حصے میں اسے قانون سازی کا اصل منبع قرار دینے سے قرآن و سنت کے بالاترین (سپریم) قانون ہونے پر زد پڑتی ہے کہ ''قانون کا منبع اور مأُخذ'' ہونے سے مراد ''راہنما اصول'' ہوتے ہیں۔جو قانون میں مؤثر عملی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے۔ جس کی مثال قرار داد مقاصد ہے۔ چنانچہ ملک کے جملہ دساتیر میں یہ مأخذ قانون تو 35 سال رہی، لیکن خود اس کی کوئی قانون حیثیت نہ تھی۔ بالکل اسی طرح یہاں قرآن و سنت کے لیے ''بالاترین قانون'' کے الفاظ او رپھر اسی بالاترین قانون کا قوانین کے لیے محض منبع او رمأخذ ہوکر رہ جانا، یہ الفاظ چغلی کھا رہے ہیں کہ قرآن و سنت کی حیثیت محض بطور برکت رہے گی، جبکہ اصل اہمیت اور عملی حیثیت بناوٹی اور وضعی قوانین کو حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ ہم اسلام میں قواعد و ضوابط کی تشکیل کے مخالف نہیں ہیں، جنہیں جدید دور میں ذیلی قوانین کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم اصل قانونی حیثیت صرف اور صرف شریعت (کتاب و سنت)کی سمجھتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ﴿٤٤.....هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٤٥.....هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ﴿٤٧'' (المائدہ:44۔ 45۔47)

جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ حکم و قضاء میں پابندی صرف ''ما أنزل اللہ'' (کتاب و سنت) کی ہے۔باقی سب تدابیر ہوتی ہین جو ہنگامی اور وقتی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں۔

نویں دستوری ترمیم کے بعد ہم نفاذ شریعت بل 1985ء کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ محض ایک بل ہے اور اگر بالفرض یہ سینٹ میں اکثریت سے پاس ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اکثریت کی تائید سے پاس ہوجاتا ہے ، تو بھی اس کی حیثیت دستور کے تابع ایک ذیلی قانون کی ہوگی۔ چنانچہ اس کی کوئی دفعہ یاشق ، دستور کے منافی ہونے کی بناء پر کالعدم قرار پائے گی۔ اس لیے ہماری نظر میں اس بل کی کوئی اہم حیثیت نہیں ہے، تاہم اگر آراء طلب کی گئی ہین تو ضروری تبصرہ ہم بھی کئے دیتے ہیں:
اس ایکٹ کی دفعہ 2 میں شریعت کی جو تعریف کی گئی ہے۔ اس کی رو سے یہ محض نام کا شریعت بل ہے کیونکہ شریعت وہ خاص طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاتم النبیینﷺ پر وحی کے ذریعہ بندوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ وحی صرف اور صرف کتاب و سنت ہیں، اور کتاب و سنت کے علاوہ انسانی اجتہادات نیز مختلف فرقوں کی فقہیں، خود ان فرقوں کے نزدیک بھی وحی نہیں ہیں۔ آج تک حنفی ، جعفری وغیرہ، خود پر تقلیدی جمود کے طعن کا جواب یہی دیتے چلے آئے ہیں کہ ہماری فقہیں، شریعت کی ایک تشریح ہیں (خود شریعت نہیں ہیں) جبکہ دوسری فقہیں بھی برحق ہیں(3) اور ''چاروں مذاہب برحق'' کا ذکر ان کے ہاں مشہور ہے، جبکہ اس بل کی دفعہ 2 شق (د) میں مستند فقہاء کے مدون قیاس و اجتہاد کو بھی شریعت شمار کیا گیا ہے۔ جو خود اہل مذاہب کے نقطہ نظر سے بھی صحیح نہیں۔ بایں ہمہ اگر ان قیاسات و اجتہادات کو شریعت شمار کیا گیا ہے تو یہ فقہ کو شریعت قرار دینے کی ایک بہت بڑی جسارت ہے۔ ظاہر ہے ، کسی بھی قانون کی تشریح و تطبیق خود قانون کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت صرف معاون قانون کی ہوتی ہے۔ ائمہ کے اجتہادات ، شریعت (کتاب و سنت) کے فہم میں ہمارے معاون ضرور ہوتے ہیں۔یہ خود شریعت نہیں او رنہ ہی شریعت کا حصہ۔اس کی مثال بالکل ایسی ہے، جیسے آج کل اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے قانون کے لیے معاون ہوتے ہیں، لیکن خود قانون نہیں ہوتے او ران میں جو رولنگ دی جاتی ہے، اس کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو شریعت میں فتوےٰ کی ہے۔پھر یہ بات بھی علماء کے ہاں مسلّمہ ہے کہ فتوؤں میں اختلاف ممکن بھی ہے او ران میں حالات و واقعات کے تغیر و تبدل سے تغیر بھی روا۔ جبکہ شریعت دائمی اور غیر متبدل ہے۔لہٰذا فتویٰ خود شریعت نہیں ہوتا۔4

حاصل یہ کہ حنفی، جعفری وغیرہ فقہوں کے تعدّد سے کسی کو مجال انکار نہیں۔ او رنہ ہی کوئی مسلمان حنفی، جعفری فقہ کو حنفی ، جعفری شریعت مان سکتاہے کہ شریعت ایک ہے اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے کتاب و سنت کا نام ہے۔ پھر یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ اس بل میں مختلف فقہوں اور متعدد اجتہادات کو شریعت کیون شمار کیا گیاہے۔ کیا انہیں شریعت کا حصہ بنا کر وہی تعدد و اختلاف، جو مختلف فقہوں میں پایا جاتا ہے، شریعت واحدہ میں بھی پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے؟ العیاذ باللہ!

(1) پھر اسی شق (د) میں اجماع امت کو بھی شریعت کا حصہ گردانا گیا ہے۔ جبکہ اسی ایکٹ کی دفعہ 2 کی شق (ج) میں اجماع امت کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے، گویا اجماع ''شریعت کا مظہر''ہونے کی بجائے ''شریعت کو ثابت کرنے والا'' ہو۔ جبکہ اصول فقہ کی مشہور کتابوں میں اجماع کو فقہ کا اصل صرف ایسی صورت میں مانا گیا ہے، جب اس سے شریعت کے ثبوت کا عقیدہ نہ ہو۔(5) کیونکہ شریعت کا ثبوت صرف بذریعہ وحی، جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کاص ہے، ہی ممکن ہے اور آپؐ کی موجودگی میں اجماع کی کوئی ضرورت نہیں تھی! لہٰذا اجماع کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا اور ایکٹ کی دفعہ 2 شق (ج) میں اس تکلف کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ اجماع بھی شریعت کا حصہ ہے بلکہ فقہ کے اصول اربعہ میں سے ایک اصل اجماع بھی ہے یعنی اجماع و قیاس اصول فقہ تو ہوسکتے ہیں جن کی حیثیت فہم دین میں زیر بحث آئے گی۔لیکن نہ تو یہ شریعت کا حصہ ہین او رنہ ہی ان کو وحی ماننا درست ہے۔6

(2) اسی دفعہ 2 کی شق (د) سے بظاہر اجماع اور قیاس کے شریعت میں شامل ہونے کا تصور ابھرتا ہے۔ لیےلیکن عبارت غور سے پڑھیں، تو شریعت خود ''اجماع امت''نہیں بلکہ کتاب و سنت کے علاوہ ''اجماع امت کے قیاس و اجتہاد کے ذریعے مستنبط مدونہ احکام'' شریعت بتلائے گئے ہیں ، جس سے عبارت یا تو بے معنی ہوگئی ہے او ریا یہاں اجماع امت سے مراد فقہ کی تدوین کا مخصوص تصور ہے، جیسا کہ یہ بے دلیل بات قصداً بہت زیادہ مشہور کی گئی ہے کہ ''فقہ حنفی کی تدوین چالیس علماء کی ایک مجلس نے کی تھی'' یعنی اس طریقہ سے فقہ حنفی کا نام لیے بغیر اسے شریعت قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ شریعت بل جملہ مسلمانوں کے لیے ہے، کسی مخصوص فرقہ کا تحفظ کرنے کے لیے نہیں۔ اسی طرح بل کی دفعہ 2 شق (ج ) میں بھی اجماع امت کو شریعت کا حصہ بنانے کے بجائے کسی ایسے حکم یا ضابطے کو ، جواجماع امت سے ماخوذ ہو، شریعت کہا گیا ہے۔ گویا یہیں بھی اجماع کا کوئی خصوصی ''مفہوم'' پوشیدہ ہے۔

(3) بل کی دفعہ 2 شق (ب) میں قرآن پاک اور سنت رسول اللہ ﷺ کو شریعت کا مأخذ کہا گیاہے۔ یہاں ایک دوسری انتہا ہے کہ پہلے انسانی تشریحات کو شریعت کی تعریف میں داخل کیا گیا اور اس شق کے ذریعہ اصل وحی کو شریعت کی بجائے مأخذ شریعت ہونے کا تصور دیا گیا۔ ہم اس سے قبل واضح کرچکے ہیں کہ مأخذ قانون، قانون نہیں ہوتا۔ حالانکہ جب وحی صرف کتاب و سنت ہے تو شریعت کی تعریف بھی کتاب و سنت ہی ہے۔ اس کی تائید ''شریعت کے احکام'' کےلفظ سےبھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اصول فقہ کی اصطلاح میں ''حکم'' اللہ کے اس خطاب کو کہتے ہیں جو بندون کے فعل سے متعلق ہو۔ جب حکم خطاب الٰہی ہے تو کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کا خطاب، اس کے رسولؐ کے علاوہ، جو اس کا نمائندہ ہوتاہے، کسی اور کو بھی ہوسکتا ہے؟7

حاصل یہ کہ احکام شریعت صرف وہی ہیں جو اللہ کے خطاب سے مقرر ہوئے ہیں، اور جس کی ایک شکل وحی جلی ہے او ردوسری شکل وحی خفی۔8

(4) شریعت کی تعریف کے لیے بل کی دفعہ 2 شق (الف) کے بعد ''اور وہ کتاب و سنت ہے'' کےالفاظ کے اضافہ سے شریعت کی تعریف مکمل ہوجاتی ہے۔ شق ب، ج، د کی کوئی ضرورت نہیں۔لہٰذا بل سے انہیں حذف کردینا چاہیے۔ بالخصوص اس لیے کہ سنت کی تشریح و تعبیر کے لیے مستقل دفعہ نمبر 12 موجود ہے او رآج کے الحادی رجحانات میں قرآن و سنت کی تشریح و تطبیق کے لیے یہ دفعہ تحفظ دیتی ہے کہ اس میں اہل بیت عظامؑ، صحابہ کرام ؓ اور مستند مجتہدین  کے مسلّمہ قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے مسلّمہ اسلاف کا طریق کار ہی ہمیں اپنے روشن ماضی سے وابستہ رکھتاہے او رامت کو اسی طریق پر گامزن کرتاہے جس کے ذریعہ ہمارے اسلاف نے اسلامی مملکت کی وسعتوں اور نت نئے مسائل کے سلسلے میں شریعت کی روشنی میں مہیا کی۔ بلا شبہ ہمارے لیے ان مجتہدین کی یہ مساعی روشنی کا مینار او رسرمایہ افتخار ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں انہی کی طرح ایمان لانے او رانہی کے انداز پر شریعت کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

ارشاد باری تعالی ہے:
﴿فَإِنْ ءَامَنُوابِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْافَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍ...﴿١٣٧﴾...سورۃ البقرۃ
''اگر یہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم (قرآن مجید کے پہلے خطاب) ایمان لائے تو انہوں نے ہدایت پائی او راگروہ منہ پھیریں تو وہ شقاق ۔(تفرقہ او رانتشار کا شکا رہوگئے۔''

الغرض نفاذ شریعت بل ایک مستحسن اقدام ہے اور اس بل کو پاس کرانے کے لیے مشترکہ کوششیں بھی ہونی چاہیں۔ تاہم اسے ان خامیوں اور کوتاہیوں سے مبّرا اور پاک کرنے کے بعد، جن کی نشاندہی ہم نے کردی ہے ۔ ورنہ اس کے نقصانات فوائد کی بجائے کہیں زیادہ ہوں گے۔

حوالہ جات
1. قارئین کی سہولت کے لیے نویں دستوری ترمیم اور نفاذ شریعت بل 1985ء اسی شمارہ کے آئندہ صفحات میں شائع کئے جارہے ہیں۔
2. ایضاً۔
3.اگر ایک کی بجائے متعدد فقہیں برحق ہیں، تو ظاہر ہے یہ فقہیں شریعت نہیں ہوسکتیں کیونکہ شریعت صرف ایک ہے، جبکہ فقہیں کئی!
4.عصر حاضر میں اس سلسلہ کی افراط و تفریط بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف مقلدین نے شریعت کی طرح اجتہاد و فقہ کو دائمی حیثیت دی کہ ان کی فقہ ہر دور کے مسائل کا واحد حل ہے تو دوسری طرف ملحدین نے اس کے برعکس یہ دعویٰ کردیا کہ سنت و حدیث کی حیثیت بھی فقہ و فتویٰ کی ہے کہ فتویٰ میں تبدیلی کے جواز کو انہوں نے شریعت میں تبدیلی کا جواز بنا لیا ہے۔ گویا رسول کریمﷺ بھی عام مجتہدین میں سے ایک مجتہد تھے کہ آپؐ کا اسوہ حسنہ بھی کتاب اللہ کی حتمی مراد نہ تھی او راس الحاد کو جدید دور کا اجتہاد گردانا جاتا ہے۔
5.قرآن کریم میں ہے: ''ٱتَّخَذُوٓاأَحْبَارَ‌هُمْ وَرُ‌هْبَـٰنَهُمْ أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ۔ الاٰیة'' ( التوبة :31) ''انہوں (یہود و نصاری) نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔''
حضرت عدیؓ بن حاتم نے جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں نصاریٰ کی طرف سے یہ عذر پیش کیا کہ وہ اپنے علماء اور درویشوں کو رب نہیں پکڑتے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ ''یہود و نصاریٰ کیا اپنے علماء کے حلال کو حلال او رحرام کو حرام تسلیم نہیں کرتے؟'' حضرت عدیؓ نے اقرار کیا کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ''یہی انہیں رب بنانا ہے۔''
جب تقلید شخصی کے خلاف یہ دلیل مقلدین کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ مجتہدین و فقہاء کو تشریح کا حق دیتے ہین، ان کے حرام و حلال (فقہ و اجتہاد) کو شریعت نہیں گردانتے لیکن شریعت بل میں انہی اجتہادات اور مدون فقہون کو شریعت تصور کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آج کل جس طرح کا اجماع بعض مسلمان تلاش کرتے ہیں، حتیٰ کہ کسی ایک ملک کی اسمبلی میں سادہ اکثریت کو بھی اجماع کا نام دے دیا جاتاہے، حالانکہ اگر اسی کا نام اجماع ہے تو اس سے بہت اعلیٰ صورت کا اجماع نصرانیوں کےہاں موجود ہے کہ بائیبل کی تدوین کے لیے اجلّ علماء کی بہت بڑی تعداد کئی دفعہ جمعہ ہوتی رہی او رایسے ہی اجتماعات کے نتیجے میں بائیبل کی تدوین عمل میں لائی جاتی رہی۔ لیکن قرآن کریم نے پہلی امتوں کے ایسے اجماع کو بھی شریعت گرداننا، انہیں رب بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شریعت کتاب و سنت میں منحصر ہے، جو وحی ہیں۔ ان کے علاوہ انفرادی اجتہاد ہویا اجتماعی اجتہاد، اس کا تعلق فہم شریعت سے ہے، وہ خود شریعت نہیں۔
6.یہاں یہ مغالطٰہ نہ ہو کہ شیعہ انبیاؑء کے علاوہ ائمہ اہل بیت کی عصمت ، یا ان ائمہ پر وحی الہام کے قائل ہیں۔اس لیے کہ شیعہ (جو شریعت کے قائل ہیں) کے ہاں بھی شریعت صرف نبی کے ذریعہ آتی ہے او ران کے ہاں ائمہ اہل بیت کے مقام عصمت کا تعلق شریعت کی روایت و درایت سے ہے، شریعت کی تکمیل میں وہ شامل نہیں ہیں۔ شریعت کو فقہ و اجتہاد کی پچ سے بچانے کے لیے انہوں نے اجتہاد کے مفہوم میں بھی تنگی پیدا کردی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجتہاد کو مجتہد کا فعل بھی ماننے کےلیے تیار نہیں، بلکہ اسے وہ مجتہد کی صفت گردانتے ہیں کہ فعل ایک خارجی چیز ہوتا ہے ، جس سے خارجی اجتہادات کے شریعت میں شامل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن اسے مجتہد کا وصف شمار کرنے سے اجتہاد سے مقصود، شریعت کا فہم رہے گا اور اضافی رائے شمار نہ ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ!
حاصل یہ کہ شیعہ کے ہاں بھی، اجتہادات ، خواہ وہ ائمہ معصومین ہی کے کیوں نہ ہوں، شریعت کا حصہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت بل پر اخبارات میں، ان کی جو آراء شائع ہوئی ہیں، ان میں انہوں نے بل کی دفعہ 2 شق (ج،د) کے حذف کا مطالبہ کیا ہے۔
7.صحیح مسلم میں بریدہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ جہاد کے لشکروں کے جرنیلون کو جو خصوصی ہدایات فرمایا کرتے تھے، ان میں یہ ہدایت بھی دیتے تھے: ''وإذا حاصرت أھل حصن فأرا دوك أن تنزلھم علیٰ حکم اللہ فلا تنزلھم علیٰ حکم اللہ ولٰکن أنزلھم علیٰ حکمك فإنك لا تدري أتصیب حکم اللہ فیھم أم لا۔۔۔۔۔۔ الحدیث'' کہ ''جب تو کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرے پھر وہ تجھ سے یہ چاہیں کہ تو انہیں اللہ کے حکم پرپناہ دے، تو یہ کام نہ کرنا۔ بلکہ انہیں اپنے حکم پر پناہ دینا۔اس لیے کہ تو نہیں جانتا کہ اللہ کے حکم کی تعمیل تو درست کرسکے گا یا نہیں؟'' حدیث بالا کی رو سے جرنیلوں او رحکام کااجتہاد او رحکم الٰہی کی قانونی حیثیت کو الگ الگ کیا گیا ہے کہ مجتہد کا حکم، جس میں خطاء و ثواب دونوں کا احتمال ہے، حکم الٰہی نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کا اپنا اجتہاد ہی ہوتا ہے۔ پس اس کی نسبت اس مجتہد کی طرف ہونی چاہیے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف۔ لہٰذا شریعت جو اللہ کا مقرر کردہ طریقہ ہے، انسانی اجتہاد کو اس کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا او رنہ اس اجتہاد کو حکم الٰہی کہا جاسکتا ہے۔
8. وحی خفی (سنت) حقیقت کے اعتبار سے وحی جلی کا بیان ہے، جو براہ راست وحی سے بھی کیا جاتا ہے او ربالواسطہ بھی۔ یعنی رسول اللہ ﷺ عملی نمونہ کے لیے جو بعض اجتہادات کرتے تھے، انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفظ دیا جاتا تھا۔ آپؐ کے معصوم ہونےکے یہی معنیٰ ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ آپؐ کی اطاعت و اتباع مستقل حیثیت رکھتی ہے۔ بلکہ قرآن مجید کی اطاعت بھی ظاہراً آپؐ ہی کی اطاعت ہے کہ آپؐ کے فرمانے کے مطابق مسلمان قرآن مجید کو کتاب اللہ مانتے ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کی نسبت سے یہ مغالطہٰ نہ ہونا چاہیے کہ سنت، قرآن سے الگ چیز ہے، بلکہ سنت، قرآن مجید کا بیان اور اس کا عملی نمونہ ہے۔ پس یہ کہنا بجا ہے کہ کتاب اللہ شریعت ہے تو سنت اس کی مکمل اور دائمی تعبیر و تبیین، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ''وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ۔ الاٰیة'' (النحل:44) کہ ''(اے نبیؐ) ہم نے یہ ذکر آپؐ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ آپؐ اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں۔''