تعلیم و تبلیغ، مسلم اقلیتوں، تارکینِ وطن اور اسلامی قانون کی تدوین کے مسائل پر اہم مباحث

اسلامی استحکام مخلصانہ سماجی خدمات اور خالص اسلامی تعلیمات سے ہی ممکن ہے

(بسلسلہ عالم اسلام کے ممتاز علمائے کرام کے ایک کنونشن کی کارروائی)

استاد علال فاسی لکھتے ہیں کہ جب مغرب میں فرانسیسی استعمار روبہ زوال تھا تو مبشرین نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کی اور 'آزادیٔ فکر اور بحث مباحثہ'' کے مراکز قائم کئے۔ ان میں سے ایک مرکز، جس کو بڑی اہمیت اور شہرت حاصل ہوئی، وہ تھا جو رباط تیوملیلین (Monster de Toumliline) کہلاتا تھا۔ پیرس، امسٹر ڈم اور بون (جرمنی) میں انجمنیں قائم تیں، جو مذہبی فریضہ کے طور پر اس رباط کو مالی وسائل فراہم کرتی تھیں۔ رفتہ رفتہ مسلمان، عیسائی، یہودی، کمیونسٹ، بے دین ملحد سب اس مرکز میں جمع ہونے لگے اور کوئی موضوع ایسا نہ تھا جو ان کے دائرۂ بحث سے خارج ہو۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسایت کے رشتہ میں بندھے ہوئے سب کے سب 'حقیقت' کی تلاش اور جستجو میں ہیں اور اس تلاش اور جستجو کی خاطر انہوں نے دین، اخلاق، قومی روایات کے تمام بندھن توڑ دیئے ہیں۔ بس یہی اس مرکز کے قیام کا اصل مقصد تھا کہ مسلمان تعلیم یافتہ نوجوان اپنے دین، اخلاق اور قومی روایات کے باہر حقیقت کی تلاش میں لگ جائے، بلکہ دین، اخلاق اور قومی روایات کو حقیقت کی جستجو میں سنگِ راہ سمجھنے لگے۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ یہ حقیقت کے شیدائی اور آزادی فکر کے علمبردار مغربی مجاہدین کی جنگِ آزادی کا تماشہ دیکھتے ہیں اور ان کی حمایت میں ایک کلمہ بول کر نہیں دیت یہ بات بار بار دہرانے، یاد رکھنے اور سبق لینے کی ہے کہ ایک طرف استعمار اور تبشیر اور دوسری طرف کمیونسٹ اور بائیں بازو کی ساری جماعتیں، ان میں سے کسی نے مغرب اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں کی جنگِ آزادی کا قولاً فعلاً کسی طرح ساتھ نہیں دیا۔ یہ ناقابلِ انکار شہادت علال فاسی کی ہے جس مغرب کی جنگِ آزادی کے قائدین میں سے ہیں۔

آخر ایسا کیوں؟ ویت نام اور الجزائر اور مغرب میں کونسا فرق ہے؟ امریکہ کے اڈے مغرب میں بھی تھے اور وہ بھی استعمار کی پشت پناہی کے لئے تھے بس فرق صرف اتنا ہے کہ الجزائر اور مغرب کے مجاہد مسلمان تھے، اور ہیں اور اسلام دشمنی استعمار تبشیر اور کمیونزم، فرانس، امریکہ اور روس سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ اتنا کہتا چلوں کہ ہمارے 'اشتراکی کوچہ گرد' شاعر و افسانہ نویس اور نعروں پر جینے اور مرنے والے بے شوق اور بد ذوق طالب علم (جنہوں نے جامعہ کی لائبریری کے در و دیوار کو بے معنی اور انتہائی بد خط سیاہ اور سرخ نعروں سے داغدار بنا رکھا ہے) یہ کانگو اور ویت نام پر تو تلملا اُٹھتے ہیں۔ کیا ان میں سے کسی نے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کیا ہے؟ وسط ایشیا کے مسلمان اگر آہ و زاری بھی نہیں کر سکتے تو یہ روس کی حکمتِ عملی ہے۔ لینن کا سیاسی تدبر اور حسن سلوک ہے! اجتماع میں کئی ایسی ممتاز علمی اور سیاسی شخصیتیں شریک تھیں جنہوں نے وسط ایشیا کے مسلمانوں کے احوال کا دیدۂ عبرت سے مشاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا اور سب سے بڑھ کر الجزائر کے وزیرِ تعلیم نے بالکل غیر ڈپلومیسی انداز میں اس کی تصدیق کی کہ تاشقند اور بخارا کی مسجدوں میں بڈھوں ہی بڈھوں کا ایک انبوہ ہوتا ہے۔ نوجوان ایک دو صرف وہ ہوتے ہیں جنہیں روس کی حکومت باہر سے آنے والے مہمانوں کے ساتھ کر دیتی ہے یا یوں کہئے کہ پیچھے لگا دیتی ہے۔ یہ بڈھے مسلمان زائرین کو دیکھ کر زار و قطار روتے ہیں اور ایک لفظ نہیں بولتے۔ جب امام اور ترجمان سے پوچھا گیا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں تو جواب ملا کہ 'یہ خوشی کے آنسو ہیں۔' دکتور بیصار سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے جھنجھلا کر کہا: یہ خوشی سے نہیں رو رہے ہیں۔ اپنی بے بسی پر خاموش ماتم کر رہے ہیں۔ الجزائر کے وزیرِ تعلیم نے حکومت روس سے باقاعدہ احتجاج کیا کہ انہیں آزادی کے ساتھ ملنے جلنے اور بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ خیر اگر اسلام کے رشتہ سے کچھ بولنا رجعت پسندی ہے تو کیا چیکو سلواکیہ اور ہنگری کو محض اس لئے بھلایا جا سکتا ہے کہ وہاں لڑائی نے طول نہیں پکڑا اور ایک بھرپور وار میں کام تمام ہو گیا؟ آخر بنگلہ دیش کے سلسلہ میں روس کے کردار پر لب کشائی کا وقت کب آئے گا؟ کیا اس بات کا انتظار ہے کہ مغربی پاکستان بھی قومیتوں (نیشنلٹیز) میں بٹ جائے تب دل کی بھڑاس نکالی جائے؟ الجزائر کے اجتماع میں تو روس کو صاف صاف موردِ الزام قرار دیا گیا۔ استاد محمد عبد اللہ عنان کا ذکر پہلے آچکا ہے استاد علال فاسی نے بھی تکلف برطرف دن کو دن اور رات کو رات کہا۔ ہماری ڈپلومیسی کا شاہکار ابھی سب کو یاد ہو گا کہ جب روس اور ہندوستان کا معاہدہ ہوا تو وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ہمارے نمائندے نے روسی لیڈروں سے بات چیت کی ہے اور ہم مطمئن ہیں کہ اس معاہدہ سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ رموزِ مملکت خویش خسرواں واند۔

ہاں تو رباط تیوملیلین نے ایک محترم مقام پیدا کر لیا یہاں تک کہ مغرب کی آزاد حکومت نے اسے مالی امداد سے نوازا۔ ممتاز اہل وطن اور حکومت کے مشیر اس کے جلسوں میں شرکت کو باعثِ عزت تصور کرنے لگے۔ استاد علال فاسی کو بھی باصرار دعوت نامے آئے لیکن انہوں نے برابر انکار کیا۔ کچھ عرصہ بعد امریکہ سے ایک صاحب وارد ہوئے انہوں نے 'رباط تیوملیلین' کو اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع بنایا تھا۔ جب وہ علال فاسی سے ملے اور ان کی رائے دریافت کی تو علال فاسی لکھتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا: ہمارے ہاں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی (جامعۃ القزوین۔ فاس) موجود ہے اسے چھوڑ کر آپ نے تیوملیلین کو اپنی توجہ کا مرکز اور بحث کا موضوع بنایا ہے۔ یہ علم کے پردے میں اسلام شمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے بعد حکومتِ مغرب کی بھی آنکھی کھلیں اور اس نے سخت اقدام کر کے تیوملیلین کو بند کر دیا اور سر زمینِ مغرب سے اس کا وجود ختم کر دیا۔

استاد علال فاسی لکھتے ہیں کہ ایک تیوملیلین بند ہو گیا تو کیا؟ اور بہت سے ادارے مختلف روپ دھارے اب بھی کام کر رہے ہیں مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاکستان میں اسی قسم کا ادارہ کانگریس فار کلچرل فریڈم (Congress for Cultural Freedom) قائم تھی۔ یونیورسٹیوں کے سربراہ اور اساتذہ اس سے وابستہ تھے۔ اس کے مالی وسائل کی بابت شک کرنے کے وجوہ موجود تھے۔ لیکن کوئی بولے تو سننے والا کوئی نہیں اور بولنے والے کا منہ بند کرنے کے ہزار طریقے۔ بالآخر امریکہ سے تصدیق ہوئی کہ وہ سی۔ آئی۔ اے۔ کا ذیلی ادارہ تھا تب اس کا کاروبار بند ہوا جو اس ادارے میں ملوث تھے وہ آج بھی مکرم و محترم ہیں اور بدستور دوسروں کو اسلام اور حبِ وطن کا درس دیتے ہیں۔ ورلڈ یونیورسٹی سروس کی بابت جب شک و شبہ کا اظہار کیا گیا تو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے محافظوں نے اسے بری کر دیا اور بیرونِ ملک اس کی مجلسوں میں شرکت کو اپنے لئے جائز کر لیا۔

بحث کے دوران ان پر سب کا اتفاق تھا کہ موجودہ وقت میں اسکول ہسپتال اور ثقافتی اور معاشرتی بہبود کے ادارے جو مشنریوں نے اسلامی ممالک میں قائم کر رکھے ہیں۔ اسلام دشمنی کا سب سے مؤثر حربہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومتیں ایسی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دینے میں حق بجانب ہوں گی اور اگر وہ ایسا نہیں کرتیں تو اپنے فرض میں کوتاہی کرتی ہیں لیکن یہ محض منفی رویہ ہو گا جو پست ہمتی کی دلیل ہے۔ ضرورت ایجابی عمل ہے اور وہ یہ کہ ہم خود مشنری اداروں کی ٹکر کے تعلیمی طبی اور ثقافتی ادارے قائم کریں۔ استعمار کے دور میں یہ ادارے دنیوی مناصب اور مال و جاہ تک چڑھنے کا زینہ تھے۔ اگر یہ صورتِ حال اب بھی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ غلامانہ ذہنیت باقی ہے۔ کم از کم اتنا ضرور ہے کہ مسلم ممالک کو اب خطرے کا احساس ہو گیا ہے (اس خطرے کا احساس غیر مسلم ممالک کو بھی ہے جیسے برما اور سیلون جنہوں نے مشنری اسکولوں کو قومی تحویل میں لے لیا ہے اور فورڈ فاؤنڈیشن، ایشیا فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو بھی ملک بدر کر دیا ہے) بعض مسلم ممالک نے مشنری اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ میں نے اس ضمن میں بتایا کہ حکومت پاکستان نے مشنری اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اسلامیات کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ یہ سب کچھ خوش آئند تو ہے لیکن اس مرض کا علاج نہیں۔ اصل مرض وہ ہے جس کی نشاندہی استاد علال فاسی نے کی وہ لکھتے ہیں کہ یورپ کی استعماری طاقتوں نے، بالخصوص انگریزوں اور فرانسیسیوں نے مسلم ممالک میں جو نام تعلیم رائج کیا تھا، وہ بدستور آج تک رائج ہے۔ اس میں کوئی بنیادی تبدیلی کہیں بھی نہیں ہوئی۔ اس نظام تعلیم کی بدولت دین تو بالکل ہی ہاتھ سے گیا۔ دنیا بھی حاصل نہ ہوئی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کا آج بھی کوئی مقام نہیں جب کہ ایشیا کی دوسری قومیں جاپان اور چین دیکھتے ہی دیکھتے کہیں سے کہیں پہنچ گئیں۔ اسلام علوم برابر کس مپرسی کی حالت میں ہیں۔ نظامِ تعلیم کی تشکیلِ نو کے سلسلہ میں اربابِ حکومت اسلامی علوم کو مرکزیت اور ان کے شایان شان اہمیت دینے کو تیار نہیں، قدیم اور جدید کے امتزاج کی جو کوششیں کی جاتی ہیں ان کی زد اسلامی علوم پر پڑتی ہے۔ برائے نام اسلام کو نصابِ تعلیم میں شامل کرنا اسلامی علوم کو فنا کرنے کا آسان طریقہ ہے اور اس سے وہ مقصد پورا ہوتا ہے جس میں شارل دوفوکو (اور میکالے) ناکام رہے انہوں نے اسلامی علوم کو نصاب سے خارج کر کے انہیں فنا کرنا چاہا لیکن وہ سرکاری اسکولوں سے باہر زندہ و باقی رہے۔ اب جو کوششیں جاری ہیں ان کا ما حصل یہ ہے کہ قدیم و جدید کے اجتزاج کے نام پر اسلامی مدارس کا وجود بے معنی ہو جائے اور اسلامی علوم نہ یہاں کے نہ وہاں کے، کہیں کے بھی نہ رہیں۔ اسلامی علوم کی تجدید کے نام پر جو کچھ کیا جاتا ہے اس سے بھی اسلام کی صورت مسخ ہوتی ہے۔ یہ تبشیر کے وہ مقاصد ہیں جو ہم خود اپنے ہاتھوں پورا کرتے ہیں۔

دکتور وصفی ابو مغلی نے اس نقطہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مدارس میں طلبہ کو قرآن کی آیات اور احادیث رٹا دی جاتی ہیں اور قرآن و حدیث کے علم سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حال عرب ممالک کا ہے۔ دوسروں کے سامنے کہتے شرم آتی ہے لیکن اپنوں کو تو معلوم ہونا چاہئے کہ ایوب کے دور میں جن ماہرینِ تعلیم کو بلا استحقاق اسلامی ریسرچ اور اسلامی تعلیم کا پرمٹ دیا گیا تھا انہوں نے عربی سے معریٰ ایسی اسلامیات ایجاد کی اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کہ ایم۔ اے کے درجہ میں بھی قرآن کی آیات اور احادیث نہیں بلکہ ان کا اردو ترجمہ رٹایا جاتا ہے۔ اگر سزا و جزا حق ہے تو اسلامی علوم کو رسوا کرنے اور اسلام کو بازیچۂ اطفال بنانے کا یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔

اس بحث کے ضمن میں استاد عثمان الکعاک نے ایک بڑی دلچسپ اور مفید بات بتائی جو قابلِ ذکر ہے۔ مسلمان سو ڈیڑھ سو برس سے مغربی نظام تعلیم اپنائے ہوئے ہیں۔ سائنس کی تعلیم پر خاص توجہ ہے، اور بے حد و حساب خرچ ہو رہا ہے، پھر بھی مسلمانوں کا سب سے بڑا سائنسدان وہ ہے جو مغرب کا ادنیٰ شاگرد ہو۔ سونے پر سہاگہ بعض نام نہاد علماء کے ایسے فتوے ہیں جن سے دشمنانِ اسلام کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام سائنس سے ڈرتا ہے اور اور بھاگتا ہے۔ استاد عثمان الکعاک نے کہا کہ جب عباس بن فرناس نے ۸۷۳ء میں پہلی گھڑی ایجاد کی تو اس کی غایت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ نماز کے اوقات معلوم کرنے میں آسانی ہو۔ چنانچہ جب اس نے گھڑی قرطبہ کے اموی خلیفہ محمد بن عبد الرحمٰن کی خدمت میں پیش کی تو اس پر یہ دو شعر بھی لکھے تھے۔

ألا إننی للدین خیر أداة إذا غاب عنکم وقت کل صلاة

ولم تر شمس بالنھار ولم تنر کواکب لیل حالك الظلمات

''گھڑی لسانِ حال سے کہتی ہے، دیکھو میں دین کے کام بہترین آلہ ہوں۔ جب تمہیں نماز کے وقت کا پتہ نہ چلے، نہ تو دن کو سورج دکھائی دے اور نہ اندھیری سیاہ رات میں ستارے روشن ہوں۔'' یہ وہی عباس ہی فرانس ہے جو پہلی مرتبہ پرندوں کی نقل کرتا ہوا ہَوا میں اڑا اور جس نے مصنوعی بلوّر (کرسٹل) ایجاد کیا۔

الجزائر کے وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ عباس فرناس کے یہاں جو رُوح کار فرما تھی اسی کو برقرار رکھتے ہوئے علم الفلک اور فلکیات کے جدید آلات کو دین کے کام کے آلات سمجھنا چاہئے اور اگر مطلع ابر آلود ہو یا کسی وجہ سے چاند دیکھنا ممکن نہ ہو اور حساب کی رو سے افق پر چاند موجود ہو تو اسے تعلیم کر لینا چاہئے اور آنکھ سے چاند دیکھنا ممکن نہ ہو اور حساب کی رو سے افق پر چان موجود ہو تو اسے تسلیم کر لینا چاہئے اور آنکھ سے چاند دیکھنے پر اصرار نہ ہونا چاہئے۔ کچھ عرصہ قبل کویت میں مسلم وزراء اوقاف کی جو کانفرنس ہوئی تھی اس میں یہی فیصلہ کیا گیا کہ چاند کی گردش کے حساب کو ماہرین فلکیات پر چھوڑ دیا جائے اور وہ علمی وثوق کے ساتھ جو تقویم (کیلنڈر) تیار کریں اس پر عمل کیا جائے۔ کوئی تعجب نہ ہو گا اگر مستقبل قریب میں یہ فیصلہ نافذ ہو جائے مجھے اپنے بچپن کی بات یاد ہے کہ بھوپال میں نواب حمید اللہ خان عید گاہ میں لاؤد سپیکر نصب کرانا چاہتے تھے اور قاضی شہر کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح یہ بلا ٹل جائے۔ آج یہ حال ہے کہ آئے دن لاؤڈ سپیکر پر جو بدعتیں منائی جاتی ہیں ان سے پورے محلے کے طالب علموں کے مطالعہ میں اور مریضوں کے آرام میں خلل پڑتا ہے۔

اس بحث کے دوسرے روز الجزائر کے عربی روزنامہ نے ایک لطیفہ لکھا۔ بعد میں تصدیق ہوئی، کہ دراصل وہ ایک واقعہ ہے جو شاہ فیصلہ کو پیش آیا۔ چند بدو قبائلی شیخ اپنی کیڈلک کاروں میں بیٹھ کر شاہ فیصل کے محل پہنچے۔ اندر پہنچے تو شاہِ فیصل ایک ٹیلی ویژن پروگرام دیکھ رہے تھے۔ شیخ خالص بدوی انداز میں معترض ہوئے اور بولے، صحابہؓ کے عہد میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ شاہِ فیصل نے نہایت خاموشی سے اپنے ملازمین کو بلایا اور ان سے کچھ بات کی۔ شیخ برہم تو تھے ہی۔ تھوڑی دیر بعد جانے کے لئے محل سے باہر نکلے اور الٹے پیروں اندر واپس آئے۔ مزید برہمی کے لہجے میں شاہِ فیصل سے بولے۔ ہماری کاریں غائب ہیں، کہاں چلی گئیں؟ شاہ فیصل نے کہا، صحابہؓ کے عہد میں کاریں نہیں ہوتی تھیں۔ کاروں کی جگہ چند اونٹ کھڑے ہیں ان پر سوار ہو کر آپ جہاں سے آئے ہیں وہاں تشریف لے جائیں۔

اجتماع کے دوران اس پر مستقل بحث ہوئی کہ انسان چاہے تو ریڈیو ٹیلیویژن کے ذریعہ خیر کو فروغ دے اور چاہے تو گھر گھر فساد پھیلائے۔ یہ انسان کا اپنا فعل ہے اور وہ اس کے لئے ویسا ہی جواب دہ ہے جیسا کہ اپنے ہاتھ، پیر، کان، آنکھ اور زبان کے افعال کے لئے۔

ایک اور موضوع جس پر خوب بحث ہوئی اور خاصا اختلاف رائے بھی رونما ہوا وہ تھا 'مسلم اقلیتیں' خاص طور پر گفتگو کا محور یہ تھا کہ مسلم اقلیتوں کو جو غیر مسلم اکثریت سے گھری ہوئی ہیں۔ کس قسم کے خطرات لاحق ہیں اور اس سلسلہ میں مسلم حکومتوں پر کیا فرض عائد ہوتا ہے اور وہ کس طرح اس سے عہدہ بر آ ہو سکتی ہیں تاکہ مسلم اقلیتوں کا اخلاقی ثقافتی اور اجتماعی تشخص برقرار رہے اور ان کی عزت و وقار میں بھی فرق نہ آئے۔

استاد محمد عبد اللہ عنان نے اپنے مقالہ میں صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ کچھ مسلم اقلیتیں تو وہ ہیں جو ''ہجرۃ اختیار یہ'' یعنی اپنے اختیار اور مرضی سے ترکِ وطن کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہیں۔ آج کینیڈا، امریکہ، برازیل، ارجنٹائن، انگلینڈ، فرانس، اٹلی اور بہت سے دوسرے ملکوں میں وہ مسلمان آباد ہیں جو تلاشِ روزگار، اقتصادی خوشحالی اور علمی ترقی کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلمان غیر اسلامی اکثریت کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان کو بڑی حد تک شہری آزادیاں اور بنیادی حقوق حاصل ہوئے ہیں، لیکن اس سے بھی یہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بسا اوقات یہ مختلف قسم کے تعصبات کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے مواقع آتے ہیں، جب ان کی عزت و وقار کو ٹھیس لگتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اپنی مخصوص دینی، ثقافتی اور اجتماعی زندگی کی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔ چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر نہ تو ان کے لئے مساجد ہوتی ہیں اور نہ مقبرے جہاں اسلامی طریقہ کے مطابق دفن کا انتظام ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مقامی عورتوں سے شادی بیاہ کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ مقامی زبان سے گھر کے باہر تو واسطہ پڑتا ہی ہے۔ گر کے اندر بھی استعمال ہونے لگتی ہے اور مقامی نظامِ تعلیم اور ماحول اسلامی ثقافت اور اسلامی اقدار سے بالکل ہی بیگاہ ہوتا ہے نتیجہ یہ کہ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے یہ مسلمان مقامی معاشرہ میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین باشندے جو اسلامی ممالک میں رہتے ہیں ان کی اپنی عبادت گاہیں، مقبرے اسکول اور کلب ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح اپنی روحانی اور ثقافتی ضروریات کا احساس کرتے ہیں۔ اس تقابل سے مسلم حکومتوں کا فرض بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی ایسے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے ہونا چاہئیں جن کو حکومت کی سرپرستی اور امداد حاصل ہو اور جو دینی اور قومی خدمت کے جذبہ سے بیرون ملک رہنے والے بھائیوں کی نگہداشت کریں۔

دوسری طرف وہ مسلم اقلیتیں ہیں جو تاریخی عوامل کے نتیجہ میں وجود میں آئیں اور جو اپنے ہی وطن میں اقلیت کی حیثیت سے رہتی ہیں۔ اکثر جگہ دیکھا جائے تو تعداد کے لحاظ سے یہ خاصی بڑی ہیں۔ انہیں اقلیت محض اضافی طور پر کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوگو سلاویا، بلغاریا، یونان، حبشہ اور فلپین کے مسلمان ہیں ان کی اپنی مساجد اور مدارس ہیں اور یہ بڑی حد تک اسلامی طریقہ زندگی پر قائم ہیں اور خود اپنے اندر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود غیر مسلم اکثریت کی حکومتیں وقتاً فوقتاً انہیں تفریقِ عنصری اور سیاسی ظلم کانشانہ بناتی رہتی ہیں۔ جو مسلم اقلیتیں علمی و اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھی ہوئی ہیں وہ کچھ نہ کچھ اپنا دفاع کر لیتی ہیں اور بیرونی دنیا کو اپنی آواز سنا دیتی ہیں۔ اس صورت میں بھی مسلم حکومتوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ مسلم اقلیتوں کے حقوق کی حمایت میں جتنا بھی ممکن ہو اپنا اثر و نفوذ استعمال کرنے میں دریغ نہ کریں۔

ان مسلم اقلیتوں کا مسئلہ بے شک مایوس کن ہے جو تعداد میں بہت کم ہیں مثلاً قبرص میں ۸۰ ہزار، روڈس میں ۱۵ ہزار، رومانیا میں ۲۰ ہزار، پولینڈ میں ۵ ہزار مسلمان ہیں۔ قبرص کے مسلمانوں کو حکومتِ ترکی کی حمایت حاصل ہے اور ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلم اکثریت میں ضم نہیں ہونے دیں گے لیکن اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اگر مسلم حکومتوں نے کوئی متحدہ کوشش ہ کی تو باقی اور جو اقلیتیں ہیں وہ ایک نہ ایک روز غیر مسلم اکثریت میں گھل مل جائیں گی۔

استاد محمد عبد اللہ عنان کو اندلس کی تاریخ سے خاص شغف ہے اور اس موضوع پر ان کی کئی اعلیٰ تصانیف ہیں۔ انہوں نے اندلس کی تاریخ سے مثال دیتے ہوئے کہ کہ جب اندلس کے عیسائیوں نے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کی ریاستوں اور ان کے علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو ان علاقوں کے بہت سے مسلمان عیسائی حکومتوں کے تابع بن کر وہیں کے وہیں رہ گئے۔ انہیں تاریخ میں 'مد جنون' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ 'مد جنون' رفتہ رفتہ عیسائیوں میں ضم ہو گئے محض اس لئے کہ مسلم حکومتیں ان سے بے تعلق ہو گئیں۔ انہیں ا نکے حال پر چھوڑ دیا یا یوں کہے کہ خدا کے حوالہ کر دیا، ان کے لئے کچھ نہ کیا یہاں تک کہ دعاؤں میں بھی بھلا دیا۔

اس وقت دو علاقے ایسے ہیں جہاں کھلم کھلا مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش اور منظم کوشش جاری ہے ایک تو حبشہ اور ارٹریا میں تقریباً پچاس برس سے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی تعداد تین چار ملین ہے پہلے ذکر آچکا ہے کہ مسلم حکومتیں، حتیٰ کہ قریب کی عرب حکومتیں اس بارے میں سکوت مصلحت آمیز کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ شہنشاہ ہیلا سلاسی کی آؤ بھگت کرتی ہیں۔ دوسری طرف فلپین میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور ظلم و تشدد کے ایسے واقعات ہو رہے ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سال گزشتہ (۷۲ء) کے اسی اجتماع میں فلپین کے نمائندے نے اس کی تفصیلات بلا جھجک بیان کی تھیں۔ اسی فلپین میں بدھ اور دین نا آشنا قبائل بھی آباد ہیں لیکن عیسائیوں کے حملہ کا نشانہ صرف مسلمان ہیں۔ فلپین کے بارے میں مسلم حکومتوں کا شعور کچھ کچھ بیدار ہوا ہے لیکن مؤثر عمل کی منزل ہنوز دور ہے۔

اندلس ہی کی تاریخ سے ایک اور مثال دیتے ہوئے استاد محمد عبد اللہ عنان نے کہا کہ پندرہویں صدی سے لے کر سترہویں صدی عیسوی تک کا زمانہ وہ ہے جب اندلس میں عیسائی ایک ایک کر کے مسلمانوں کا صفایا کر رہے تھے۔ یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس زمانہ میں عالمی سطح پر مسلمان اپنی طاقت کھو چکے تھے اور بے بس تھے نہیں! اس کے برعکس اسی زمانہ میں دولتِ عثمانیہ ایک زبردست طاقت بن کر ابھر چکی تھی اور محمد الفاتح جنوبی اٹلی کی بندرگاہوں پر کامیاب حملہ کر چکے تھے۔ اندلس کے مسلمانوں نے دولتِ عثمانیہ سے مدد کی درخواست بھی کی لیکن وہاں کے حکمران مشرقی یورپ اور مصر فتح کرنے میں لگے رہے اور انہوں نے اندلس کے مسلمانوں کی فریاد نہ سنی حالانکہ وہ طاقت جو دیا ناتک روندتی چلی گئی اور جس نے بحیرۂ روم میں اپنی بالا دستی ثابت کر دی تھی اس کے لئے اندلس کے حکمرانوں سے حساب چکانا کوئی مشکل نہ تھا۔

اس وقت بھی گو مسلم ممالک پس ماندہ ہیں اور ان کی فوجی طاقت عالمی سطح پر قابل ذکر نہیں تاہم اگر وہ مسلم اقلیتوں کی حمایت اپنا فرض سمجھیں اور متحد ہو کر ممکنہ تدابیر اختیار کریں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

اسی موضوع پر دوسرا مقالہ دکتور محمد عبد الرحمٰن بیصار کا تھا جو مجموع البحوث الاسلامیہ (اسلامی ریسرچ کونسل) مصر کے سیکرٹری جنرل ہیں اور عرصہ تک اسلامک سنٹر واشنگٹن کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ انہیں پورا پورا اتفاق تھا کہ مسلم اقلیتوں کے حالات تشویشناک ہیں اور ان کی مدد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ لیکن مدد کس سطح پر کی جائے اور کن طریقوں سے کی جائے۔ اس بارے میں ان کی رائے بالکل مختلف تھی۔ ان کی رائے میں حکومتوں کے دخل دینے سے معاملات سلجھنے کے بجائے اور زیادہ سنگین بن جاتے ہیں۔ انہوں نے بڑی حد تک یہ ثابت کیا کہ بین الاقوامی سیاست کی بساط پر مہرہ بازی ایسی شاطرانہ ہے۔ چالیں ایسی الجھی ہوئی ہیں اور پینترے اتنی تیزی سے ادلتے بدلتے ہیں کہ اگر مسلم اقلیتوں کی حمایت کا بوجھ ڈالا جائے تو بہت سی کمزوریاں سامنے آتی ہیں۔ عجب عجب تضاد ابھرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ مسلم اقلیتوں کو فائدہ پہنچے الٹے اپنی رسوائی ہوتی ہے۔ دکتور بیصار کا پختہ خیال تھا کہ غیر سرکاری ادارے ہونا چاہئے جو علمی ثقافتی اور سماجی میدان میں مسلم اقلیتوں کی مدد کریں اور ان میں عزلت اور تنہائی کا شعور کم کریں۔ مسلم حکومتیں دوستانہ طریقہ پر دوسری حکومتوں سے مسلم اقلیتوں کے حق میں جتنا کہہ سکیں اسی پر اکتفاء کریں۔

مجھے اس موضوع پر تعقیب (اظہار رائے) کا موقع ملا، میں نے کہا کہ استاد محمد عبد اللہ عنان نے یورپ افریقہ اور مشرق بعید کی مسلم اقلیتوں کا ذکر کیا اور بجا طور پر کیا لیکن وہ ہندوستان اور وسط ایشیا کی نہایت اہم مسلم اقلیتوں کو بھول گئے۔ یقیناً انہوں نے عمداً ایسا نہیں کیا۔ اس سے قطع نظر مجھے ان کی رائے سے پورا پورا اتفاق ہے کہ اقلیتوں کی حمایت کا کام بنیادی طور پر حکومتوں کا ہے۔ مسلم عوام اور غیر سرکاری ادارے حکومتوں کی مدد کر سکتے ہیں، حکومتوں سے تعاون کر سکتے اور حکومتوں پر دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن بالآخر یہ کام حکومتوں ہی کو انجام دینا ہے۔ ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اور آج بھی یہی ہو رہا ہے کہ حکومتوں کی دلچسپی کے بغیر اقلیتوں کی حمایت کا مسئلہ محض علمی اور جذباتی مسئلہ بنا رہتا ہے جب حکومت کوئی اقدام کرتی ہے۔ خواہ وہ محض قول اور زبانی احتجاج تک محدود ہو۔ تب ہی کچھ اثر کی توقع ہوتی ہے۔ جس طرح بھلی بری حکومت کے بغیر ایک معاشرہ کا تصور نا ممکن ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی میدان میں بعض کام ایسے ہیں جو حکومت کے توسط کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ یہ صحیح ہے کہ بڑی طاقتوں کی طرف جھکاؤ کے بارے میں مختلف مسلم ممالک مختلف خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن اگر حق انصاف اور اسلامی اخوت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تھوڑی سی جرأت اور قربانی کا جذبہ نہ ہو تو بات کرنا ہی فضول ہے۔ مختلف اوقات میں پاکستانی حکومتوں کا جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے فلسطین میں عربوں کے حقوق کی حمایت کرنے میں آنا کافی نہیں کی۔ بحث کے دوران اقوام متحدہ کا بھی ذکر آیا تھا۔ میں نے کہا کوئی مسلم ملک ایسا خوش قسمت نہیں جسے اقوام متحدہ سے کچھ بھی ہاتھ لگا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے حق و ناحق بڑی طاقتوں کی چوہدراہٹ اور بالا دستی قائم رکھنے کے سوا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا۔ پاکستان کا تازہ تلخ تجربہ یہ ہے کہ وہ ادارہ جو قوموں کی سالمیت اور آزادی اور بین الاقوامی امن کی نگرانی کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اسی ادارہ کا ایک رکن، ایک بڑی طاقت کی مدد اور پشت پناہی میں، ایک دوسرے رکن پر جارحانہ حملہ کر کے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتاہے۔ تھوڑے دن بعد اس ادارے کے ارکان یکے بعد دیگرے اس جارحانہ حملہ کی حقیقت کو 'حقیقت بنگلہ دیش نہیں، بلکہ پاکستان پر جارحانہ حملہ ہے) خود اپنے ہی منشور کی عصمت وری کو دھڑا دھڑ تسلیم کر لیتے ہیں۔

ایں دم تحریر یہ اضافہ کر لیجئے کہ جب اٹلی نے ابی سینا پر حملہ کیا تو اقبال کی دور رس نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ لیگ آف نیشنز کا قابوت تیار ہے مستقبل کا مورخ بتائے گا کہ پاکستان پر حملہ یونائیٹڈ نیشنز کے مرض الموت کی علامت ہے یا نہیں۔ اس میں تو شک نہیں کہ اسے بھی جلد یا بدیر موت آنی ہے۔

آخر میں میں نے کہا کہ ایک ٹھوس مثال لیجئے: ہندوستان کی مسلم اقلیت ایک باعزت اور باشعور اقلیت ہے۔ اس نے ذامے درمے سخنے ہمیشہ اپنی اسلامی حمیت کا ثبوت دیا ہے۔ اس نے محض اپنے ذرائع و وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی اور ملّی ضروریات کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی، جس کی آغوش میں تربیت پانے کا مجھے بھی فخر حاصل ہے۔ اس یونیورسٹی میں نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی بلکہ افریقہ اور ایشیاء کے دور دراز حصوں میں بسنے والے مسلمانوں کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہندو طلبہ پر بھی اس کے دروازے برابر کھلے رہے ہیں۔ آج ہندوستان کی حکومت جبر و تشدد کے ذریعہ اس عظیم یونیورسٹی سے اس کی اسلامیت چھیننے یا یوں کہئے کہ اس کی روح سلب کرنے پر مُصّر ہے۔ کوئی بتائے کہ غیر سرکاری طریقوں سے اس اسلامی ورثہ کو کیونکر تباہی سے بچایا جا سکتا ہے؟ آپ ایک عربی و اسلامیات کا پروفیسر بھیج دیں۔ کتابیں تحفہ میں دے دیں، مالی امداد کر دیں۔ اس سے صورت حال میں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہاں! اگر مسلم حکومتیں یک زبان ہو کر احتجاج کریں تو کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہو گا۔ بات لشکر کشی یا انتقامی کارروائی کی نہیں۔ صرف ذرا سی اخلاقی جرأت کی بات ہے۔

میں اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں شاید بہت آگے بڑھ گیا، بحث علمی تھی، لیکن سیاست کے حوالہ سے ہو رہی تھی۔ سخن گسترانہ پاکستان کا نام بھی آگیا۔ دکتور بیصار کی جوابی تقریر کا رخ بیشتر میری طرف تھا۔ انہوں نے بڑی شدت سے اپنی رائے کا اعادہ کیا اور سیاست کی گندگی بلکہ حماقت اور جہالت کو کھول کر رکھ دیا۔ ان کا یہ کہنا صحیح تھا کہ جہاں اسلام کا واسطہ ہو وہاں سیاست میں سب امام ہوتے ہیں اور مقتدی کوئی نہیں۔ اس لئے کسی بھی منظم عمل کی توقع عبث ثابت ہوتی ہے حکومتوں کا حال اس لئے برا ہے کہ اربابِ حکومت بسا اوقات علم سے محروم ہوتے ہیں اور اہل علم کو دور رکھتے ہیں۔ اس ذیل میں انہوں نے اپنا تجربہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس زمانہ میں، مَیں اسلامک سنٹر واشنگٹن کا ڈائریکٹر تھا تو میرا سابقہ تمام اسلامی ملکوں کے سفیروں سے رہتا تھا جو سب کے سب سترہ اٹھارہ بلحاظ عہدہ سنٹر کی مجلسِ ادارت (گورننگ باڈی) کے ممبر تھے ان میں شاذ و نادر ہی کوئی علم کی بات کرتا تھا سب کے سب سفارت کی آن بان کے ساتھ بولتے تھے اور اپنا اپنا راگ الاپتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے عید کی نماز پڑھائی تو اتفاق سے سورۃ الطارق کی یہ آیت تلاوت کی یوم تبلی السرائر فماله من قوة ولا ناصر آخری لفظ 'ناصر' ایک اسلامی ملک کے سفیر سمجھ پائے اور وہ ان کی سیاست کو ایسا کھٹکا کہ نماز کے بعد احتجاجاً بولے (انگریزی میں) ڈاکٹر بیصار! آپ نماز میں 'ناصر ازم' کا پرچار کرر ہے تھے۔ علم و دانش کے اس شاہکار پر سارا ہال قہقہہ سے گونج اُٹھا۔ قہقہہ میں بھی شریک تھا لیکن میری نظریں نیچی تھیں۔ میرے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ اس لئے کہ ڈاکٹر بیصار نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی تھی اور پاکستان کا نام بھی لے دیا تھا۔ الغرض یہ قہقہہ اس سنجیدہ اور گرم گرم بحث کا مقطع بن گیا اور سب ہلکے پھلکے ہنستے ہوئے مجلس سے باہر نکلے۔

اس پر مجھے یاد آرہا ہے کہ دکتورہ بنت الشاطی مصر کی نامور ادیبہ اور یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ چند سال ہوئے وہ ہندوستان گئی تھیں۔ واپسی پر انہوں نے قاہرہ کے روزنامہ الاہرام میں ایک مضمون لکھا۔ انہوں نے لکھا۔ مجھے سخت حیرت ہوئی جب میں ہندوستان میں ایسے لوگوں سے ملی جو عربی زبان سے نابلد ہیں اور ان میں سے کسی نے قرآن کا ترجمہ کر ڈالا ہے اور کسی نے تفسیر لکھ ڈالی ہے دکتورہ بنت الشاطی نے مسلم حکومتوں سے اپیل کی تھی کہ جس طرح وہ قرآن کو غلط طباعت سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتی ہے اسی طرح قرآن کو نا اہلوں کے ترجمہ و تفسیر سے محفوظ رکھنے کا بھی اہتمام کریں۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب نہ مولانا کوثر نیازی وزیر تھے اور نہ ہماری حکومت کو اس طرف توجہ تھی۔ آج اگر یہ بات کان میں پڑ جائے تو شاید دل کو لگ جائے۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ جو ادارے حکومت کی نگرانی میں ہیں ان میں کوئی شخص عربی زبان کا باقاعدہ علم حاصل کئے بغیر قرآن پر لب کشائی اور خامہ فرمائی نہ کرے۔ علمی دیانت اور دین کے تقدس دونوں کا یہی تقاضا ہے۔

مسلم اقلیتوں کے ذیل میں ان الجزائری باشندوں کا مسئلہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے جو اس صدی میں طلبِ رزق کے لئے جا کر فرانس میں آباد ہو گئے ہیں۔ فرانس میں الجزائری باشندوں کی فلاح و بہبود کو الجزائر کی حکومت اپنی بہت ڑی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اس موضوع پر ایک خصوصی مقالہ دکتور العربی زبیری نے پڑھا۔ دکتور زبیری یورپ میں الجزائری باشندوں کے امور مذہبی کے نگران ہیں۔ نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ حکومت کے اعلیٰ عہدہ دار، تواضع اور علم کا احترام ان کی نمایاں صفت۔ یہ بات 'سول سروس کی جنت' کے علاوہ اور کہیں دیکھنے میں نہیں آئے گی کہ علماء کا یونیورسٹی کے پروفیسروں کا اجتماع ہو اور ایک معمولی بی۔اے۔ ایم۔ اے۔ پاس سول ملازم کرسی صدارت کی طرف بڑھے۔ تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو! الغرض دکتور زبیری اختصاصی معلومات رکھتے تھے جو انہوں نے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران بطورِ خود مستعدی اور خلوص سے جمع کی تھیں ان کا مقالہ بہت مفید تھا اور یہ ایک ہی مقالہ تھا جس کی بابت مناقشہ کی گنجائش نہیں پائی گئی۔

دکتور زبیری لکھتے ہیں: اس وقت بیس میں سے ایک الجزائری ملک کے باہر روزی کماتا ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر ہے۔ فرانس نے الجزائر پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں کی اقتصادیات تمام تر فرانسیسی آباد کاروں کے تصرف میں دے دیں۔ تمام اچھی زمینوں کا انہیں کو مالک بنا دیا۔ اہلِ وطن محرومی اور بیکاری کا شکار ہوئے۔ ۱۹۱۲ء میں فوج میں جبری بھرتی کا قانون نافذ ہوا۔ جب الجزائری فوجی خدمت کے سلسلے میں یورپ گئے تو انہوں نے وہاں کی معیشت کو وطن کی معیشت سے بدرجہا بہتر پایا۔ وہاں کی ترقی یافتہ صنعت و حرفت کو ان کے زورِ بازو کی ضرورت تھی۔ یہ وہیں رہ پڑے۔ ان کی دیکھا دیکھی ترک وطن کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔ ایسا بھی ہوا کہ تعلیم یافتہ حساس نوجوانوں نے دیکھا کہ جن شہری حقوق اور بنیادی آزادیوں کا فرانس کے مقبوضہ الجزائر میں خون ہو رہا ہے وہ حقوق اور آزادیاں انہیں فرانس میں نصیب ہو سکتی ہیں۔ اس لئے انہوں میں فرانس میں سکونت کو ترجیح دی۔ پورے یورپ میں جو باہر کے مزدور کام کر رہے ہیں ان کا دسواں حصہ الجزائری ہیں۔

۱۹۱۴ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک فرانس میں رہنے والے الجزائری ایک فرانسیسی شہری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے حقوق و فرائض وہی تھے جو فرانس کے اہل وطن کے تھے۔

الجزائر کی آزادی کے بعد سے سارے الجزائری فرانس میں اجنبی اور پردیسی بن گئے۔ اب ان کو صرف وہ حقوق ملیں گے جو دونوں حکومتوں کی باہمی رضا مندی سے طے پاجائیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ اب ان کے خلاف بہت سے تعصبات اور عداوتیں کار فرما ہیں۔

یہ امید بے جا نہیں کہ جب الجزائر کے اقتصادی حالات بہتر ہو جائیں گے تو ترکِ طن کا محرک باقی نہیں رہے گا لیکن اس وقت تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا جا سکتا۔ اس وقت یورپ میں الجزائر کے ساٹھ ہزار خاندان آباد ہیں ان میں بیس سال سے کم عمر کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ہیں۔ ان کو جو خطرے در پیش ہیں وہ یہ ہیں۔

1. اجتماعی اور سماجی خطرے: یہ تارکینِ وطن تنہائی اور ماحول سے عدم مطابقت کے نتیجے میں طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں جنسی امراض اور سینہ کے امراض خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ گھر سے تربیت پا کر جب الجزائری فرانس جاتا ہے تو وہ کھانے پینے کی ان تمام چیزوں سے پرہیز کرتا ہے جو اسلام میں حرام ہیں۔ حلال چیزیں اسے ملتی نہیں اور اگر ملتی ہیں تو اس کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی ہیں۔ اب کچھ ایسی جماعتیں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں جو ذبیحہ کی اور بعض دوسری کھانے پینے کی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ ان کو بسا اوقات حکومت کی سرپرستی اور امداد بھی حاصل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے عمل کی نوعیت کچھ مشکوک ہو جاتی ہے۔ بہرحال یہ اجتماعی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کی بجائے اسلام کے نام پر مسلمانوں کو بے وقوف زیادہ بناتی ہیں اور اپنا الّو سیدھا کرتی ہیں وہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مسلمانوں کو اس قسم کی غذا میسر نہیں آتی جو اس کی صحت کے لئے ضروری ہے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ صحت کے تقاضوں کے مطابق رہنے کو مکان نہیں ہوتا۔ چھوٹی جگہ میں بہت سے آدمی رہتے ہیں جہاں گرم رکھنے کا انتظام نہیں ہوتا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک پلنگ پر باری باری کئی آدمی سوتے ہیں جس سے متعدی امراض پھیلتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو زکام ہو جائے تو وہ ایک دن آرام نہیں کرتا۔ برابر کام پر جاتا ہے کہ اجرت کا نقصان نہ ہو یہاں تک کہ مرض بڑھ کر خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سردی سے بچنے کے لئے کپڑوں کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ یہ مقامی مزدوروں کی طرح شراب بھی نہیں پیتے جس سے کچھ بدن کی حرارت کا سامان ہو۔ سخت اور جان لیوا کام جس سے مقامی مزدور گریز کرتے ہیں وہ یہ بخوشی قبول کر لیتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ اور مقررہ اوقات سے زیادہ کام کرتے ہیں جس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں حادثات سےدو چار ہوتے ہیں اس لئے کہ مشینوں کے استعمال سے متعلق لکھی ہوئی تعلیمات پڑھ نہیں سکتے۔ اعداد و شمار سے پتہ لگتا ہے کہ عورتیں خاص طور پر عقلی امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں اس لئے کہ وہ ایک قیدی کی طرح پڑی رہتی ہیں اور تنہا زندگی کی صعوبتیں جھیلتی ہیں۔

یہ حال تو اس نسل کا ہے جو وطن سے تربیت پا کر باہر جاتی ہے۔ یہ اپنے وطن سے عزیز رشتہ داروں سے گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ مخصوص دینی اور اجتماعی روایات کے عادی ہوتے ہیں اور باوجود ان شواریوں کے جو اوپر بیان ہوئیں، ان پر قائم رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ نئے معاشرہ میں میل جول بڑھائیں اور ان سے متاثر ہوں۔ لیکن ان کے بچوں کا حال ان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ بچے پردیس میں آنکھیں کھولتے ہیں۔ ان کے باپ سارا سارا دن گھر سے باہر رہتے ہیں۔ مائیں بالکل جاہل اور غیر تربیت یافتہ ہوتی ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ بچوں کی نگرانی کر سکیں۔ یہ بچے سارا سارا دن اسکول میں اور محلہ میں مقامی بچوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ بے تکلفانہ دوستوں کے گھر جاتے ہیں۔ اور فطری طور پر ان کے رہن سہن کا اپنے رہن سہن سے مقابلہ کرتے ہیں۔ انہیں اپنے دوستوں کے والدین کی عقلیت ذہنیت بھی روشن اور برتر نظر آتی ہے۔ مجموعی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور یہ اپنے معاشرہ کی ہر چیز سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جب یہ کیفیت پوری طرح ابھر کر سامنے آتی ہے تو ماں باپ کو سخت صدمہ ہوتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کو عاجز اور بے بس پاتے ہیں۔

وطن سے کٹ جانے کا ایک سبب یہ ہے کہ دوری کے باعث آمدورفت دشوار ہے۔ وطن کی بہ نسبت ایک تارکِ وطن پردیس میں اچھا خاصا کماتا ہے لیکن اتنی ہی وہاں گرانی بھی ہوتی ہے۔ وطن جانے کے لے ایک تو سفر کے مصارف، دوسرے اعزہ و احباب کے لئے تحفہ تحائف خریدنے کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ چھ سات سال میں بمشکل اتنا جوڑ پاتا ہے کہ اہل و عیال کے ساتھ تھوڑے دن کے لئے وطن جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے وطن اور اہلِ وطن کو اپنا سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایک طرف تو پردیس کا ماحول احساس کمتری پیدا کرتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ سارے وسائل ابلاغ یہ تاثر دیت ہیں کہ الجزائر پس ماندہ ملک ہے۔ وہاں کے لوگ وحشی اور جاہل ہیں۔ بالخصوص عورت کی وہاں معاشرہ میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔

اس طرح یورپ کے بعض خطرناک رجحانات قبول کرنے کے لے زمین تیار ہو جاتی ہے۔ آج یورپ میں آرام آسائش اور لذت اندوزی کے تمام مادی وسائل بقدر وافر میسر ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ روحانی قدریں معدوم ہیں اور اخلاقی شعور مردہ ہو چکا ہے نوجوان ایک اندرونی کرب و بے چینی سے نجات پانے کے لئے طرح طرح کے نشے کرتے ہیں اور بے ہودہ اور ناشائستہ حرکات کی نمائش کرتے ہیں۔ تارکینِ وطن کے بچے بھی ان کی تقلید کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ الجزائر کے معاشرہ میں یہ سب معیوب اور لائق تفریر ہے تو وہ اس معاشرہ سے باغی ہو جاتے ہیں۔

نوجوانوں کی یہ انانیت اور خود رائی جو بے راہ روی اور بے قید و بند لذت اندوزی کے سوا کچھ نہیں گھر اور خاندان کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ جب ایک الجزائر لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کو باپ کے سامنے پیش کیا تو اس نے خود کشی کر لی۔ کبھی کبھی جب باپ نے سختی کی تو لڑکی نے حکومت سے شکایت کر دی اور حکومت نے لڑکی کو آزاد قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس کا علاج کسی کے پاس نہیں۔ لڑکوں کا فرانسیسی لڑکیوں کا ہو رہنا تو معمولی بات ہے۔ بہت سے لڑکے تو اپنا نام تک بدل دیتے ہیں۔ ہشام ک بجائے میثال اور یوسف کے بجائے جوزف۔

پردیس میں پلنے بڑھنے والے نوجوانوں کے ذہن دین کے صحیح تصور اور اس کی تعلیمات سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ گھروں میں اسلام کا جو نمونہ ان کے سامنے ہوتا ہے وہ جہل خرافات اور اوہام کی وجہ سے ان کے لئے نفرت انگیز ہوتا ہے۔ ایسے میں ان پر ایک طرف تو مسیحی مبلغ حملہ کرتے ہیں اور دوسری طرف بائیں بازو کی جماعتیں ترقی پسندی کے نام پر ان کو بآسانی اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ فرانس میں مسیحیت کے بعد دوسرا نمبر دینِ اسلام کا ہے اس لئے مسیحی مبلغ خاص طور پر اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے میں سرگرم ہیں۔ مادی خدمات سے لبھانا اور مادی منافع کا لالچ دینا ان کا جانا پہچانا حربہ ہے۔ دن کو جب مرد گھروں سے غائب ہوتے ہیں وہ دھڑلے سے عورتوں اور بچوں کو اپنی مہربانیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے بعض اصول خوشنما اور جاذبِ توجہ ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ وہ قوم اور جنس کی بنا انسان انسان میں تفریق کی مخالفت کرتی ہیں لیکن جب کوئی ان کے قریب چلا جائے تو یہ سبق سیکھے بغیر نہیں رہتا کہ دین مذہب ایک افیون ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ اسلام جاگیر داری، سرمایہ داری کا دین ہے۔

ایک جماعت وہ بھی ہے جو اپنے آپ کو 'حزب الفرنسیین' کہتی ہے۔ یہ جماعت دین کے نام پر الجزائری مزدوروں کی ہمدردی حاصل کرتی ہے اور ان کو الجزائری حکومت کے خلاف اکساتی ہے اور یہ سبز باغ دکھاتی ہے کہ منظم ہو کر وہ فرانس میں اپنا مقام پیدا کریں۔ یہ جماعت پیرس کی مسجد سے اپنی سرگرمیوں کی ابتدا کرتی ہے اور اس کے پیچھے ایسی قوتیں کار فرما ہیں جو منظر عام پر نہیں آتیں۔

کچھ یارانِ طریقت ایسے بھی ہیں جنہوں نے بھانپ لیا ہے کہ پردیس میں رہنے والے تارکانِ وطن جہل کے باوجود دین سے عقیدت رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہ پھیری والوں کی طرح گشت کرتے ہیں۔ تعویذ گنڈے بیچتے ہیں، خوب کھاتے پیتے ہیں اور منہ مانگا معاوضہ لے کر وعظ کرتے ہیں، میلاد پڑھتے اور قرآن سناتے ہیں۔ وہ لوگ جو قرآن بھی نہیں وہ ان شعبدہ بازوں کے کرتب کو باعث برکت سمجھتے ہیں اسلام بدنام ہوتا ہے اور نوجوانوں کی نفرت بڑھتی ہے۔

دکتور زبیری کی رائے میں سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ درویشوں اور شعبدہ بازوں کا راستہ روکا جائے اور گھر کے اندر اور گھر کے باہر اسلام کی پاک، صاف، سادہ، اصل شکل پیش کی جائے جس میں ایسی حرکیت (Iynamism) ہو کہ اس کے سامنے نہ تو تعویذ گنڈے اور ادہام و خرافات ٹھہر سکیں اور نہ جاگیر داری اور معاشی ظلم باقی رہ سکے۔

دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ تارکینِ وطن کی نئی نسل کو عربی زبان اور دین کی تعلیم کا انتظام کیا جائے، لیکن یہ انتظام اسی اعلیٰ معیار کا ہونا چاہئے جو فرانس کے مدارس کا معمول ہے۔ اس کا بچے کے ذہن پر بہت برا اثر پڑتا ہے کہ وہ عربی اور دین کی تعلیم کسی پست معیار کے مدرسہ میں پست معیار کے مدرس سے حاصل کرے۔

تیسری اہم ضرورت یہ ہے کہ ایسی تعلیم یافتہ مخلص خواتین کی ایک جماعت تیار کی جائے جو تارکینِ وطن کی جاہل عورتوں کو زندگی کے طور طریقے سکھائیں اور انہیں اولاد کی تربیت کا اہل بنائیں۔ بعض تارکینِ وطن اپنے بال بچوں کو الجزائر میں ہی چھوڑ کر جاتے ہیں۔ یہ بچے بھی آوارگی اور بے راہ روی اختیار کر لیتے ہیں۔ ماؤں سے نگرانی نہیں ہوتی اور باپ پردیس سے جو رقم بھیجتے ہیں وہ عام معیار سے کچھ زیادہ ہوتی ہے اس لئے نوجوانوں کو رنگ رلیوں کی سوجھتی ہے۔ اس لئے خود الجزائر میں بھی سماجی کارکن خواتین کے لئے وسیع میدان ہے ایسے خاندانوں کی حالت جن کا اوپر ذکر ہوا وہی درست کر سکتی ہے۔

دکتور زبیری نے کہا۔ میں بہت سے ایسے نوجوانوں سے ذاتی طور سے ملا ہوں جو اسلام سے بیزار ہیں۔ امید افزا بات یہ ہے کہ وہ معقول گفتگو کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے صفائی کے ساتھ بتایا کہ وہ اسلام کی بابت کچھ نہیں جانتے۔ انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ اسلام جاگیر داری نام سے وابستہ ہے۔ اسلام میں مرد و عورت کے درمیان عدمِ مساوات ہے۔ اوہام خرافات اور درویشوں کی شعبدہ بازی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر اسلامی معاشرہ کی کوئی بہتر شکل ہو تو انہیں نفرت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں۔

دکتور زبیری نے یہ بھی کہا کہ پورے عالم اسلام کے نمائندوں کے سامنے میں مخصوص طور پر الجزائر کے تارکینِ وطن کے احوال پیش کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے دوسرے اسلامی ممالک کے تارکین وطن یورپ میں بالکل ہی حالات سے دوچار ہیں۔ اس لئے یہ موضوع عالم دلچسپی کا ہے اور سب کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔

دکتور زبیری نے بالکل سچ کہا۔ ان کی تقریر کے آئینہ میں اگر ہم پاکستانی اپنی شکل دیکھیں تو بہت سے داغ دھبے نظر آجائیں۔ انگلینڈ میں لاکھوں پاکستانی باشندے رہتے ہیں۔ الجزائر کی حکومت کا احساسِ ذمہ داری آپ نے دیکھا۔ عملی طور سے انہوں نے بھی شاید کوئی بڑا قدم نہیں اُٹھایا لیکن احساس ذمہ داری تو ہے کیا ہماری سفارت کے کسی رکن کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اتنی سمجھ خلوص اور ہمدردی سے انگلینڈ میں بسنے والے پاکستانیوں کے احوال کا جائزہ لے؟ بہتوں سے وہاں کے پاکستانیوں کے لطیفے سننے کا اتفاق ضرور ہوتا ہے اور ہاں! ہمارے لیڈر جو طرح طرح کے پلان بنانے کے لئے علاج کے بہانے لندن جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس طرف توجہ کی؟ ہماری حکومت کو اس سے دلچسپی ہے، کہ پاکستانی وہاں سے زر مبادلہ کما کر بھیجتے رہیں۔ یہ دلچسپی بے جا نہیں، لیکن ان پاکستانیوں کو جہل سے نجات دلانا، غیر ملک میں ان کا وقار بڑھانا، ان کی اسلامی ثقافت اور پاکستانی تہذیب کو برقرار رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ عالمانِ شریعت ورثۃ الانبیاء ہیں۔ خدا انہیں رشد و ہدایت کی جرأت و ہمت دے لیکن یہ پیرانِ طریقت جو جہل کا خراج وصول کرتے پھرتے ہیں انہیں کب تک چھوٹ ملی رہے گی؟ سوشلسٹ حکومت سے ایک توقع یہ تھی جو خاک ہو گئی۔ خود اپنے گھر کا حال یہ ہے کہ مزاروں پر اوہام خرافات اور بدعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہیتھ رو کے ہوائی اڈے کو موچی دروازہ بنا دینا آسان ہے لیکن اپنے ضابطۂ حیات سے اپنے علم اور پاکیزگی اخلاق سے دوسری قوموں کو متاثر کرنا عقل شعور تنظیم اور اَن تھک محنت کا کام ہے۔

الجزائر میں علماء کے اجتماع کی روئداد ختم ہوئی، تعلیم یافتہ اور مفکر طبقہ نے توجہ سے پڑھا اور مجھ سے چند سوالات بھی کیے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ انہیں خاص طور پر اسلامی فقہ و قانون سے دل چسپی پیدا ہوئی۔ اگر تھوڑا سا اس کا تاریخی پس منظر بیان کر دیا جائے تو امید ہے کہ الجزائر کے اجتماع میں جو نکات زیر بحث آئے ان کے سمجھنے میں مدد ملے گی۔ صد افسوس کہ ہمارے یہاں ایک طبقہ نے جو عربی و اسلامی علوم سے بے بہرہ اور اسلام سے خود غرضانہ اور ریاکارانہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اس طبقہ نے اسلام کو ایک آئیڈیالوجی بنا ڈالا ہے جس کا اردو ترجمہ 'نظریۂ حیات' کیا جاتا ہے جو زشتہ چودہ صدی کے اسلامی لٹریچر میں کہیں استعمال نہیں ہوا۔ یہ طبقہ چونکہ حکومت میں دخیل ہے دنیاوی جاہ کا مالک، ڈکٹیٹروں کے ظلم و استبداد میں اپنا حصہ لگاتا ہے اور جب جمہوریت کی ہوا چلے تو عوام کے جمہوری حقوق پر بھی تقریریں جھاڑ دیتا ہے۔ اس لئے نظریہ حیات کی اصطلاح ایسی چل پڑی ہے کہ علماء کی زبان پر بھی چڑھ گئی ہے جو اسلامی جماعتیں ووٹ کی دیوانی ہیں وہ اس کی حفاظت کے لئے میدان میں اتر آئی ہیں اور اس کے نام پر سرمایہ داروں، زمینداروں سے لاکھوں روپے چندہ جمع کر چکی ہیں۔ حد یہ ہے کہ اسلامی نظریۂ حیات ہماری یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے جو علمی دیوالیہ پن کی کھلی دلیل ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات کو ایک منضبط علم (Academic Discipline) کا درجہ دینا ایسی ڈھٹائی ہے جس کی مثال دنیا میں مشکل سے ملے گی۔ الغرض یہ طبقہ جس نے اسلام کو نظریہ حیات بنا ڈالا ہے یہ اسلامی قانون و شریعت کو دلوں سے بھلا دینے کا مجرم ہے دوسری طرف ایک طبقہ وہ ہے جسے حکومت اور تمام دنیاوی کاروبار سے ایسا بے دخل کیا گیا ہے کہ وہ عملی طور سے اسلامی شریعت کے نفاذ سے مایوس ہو چکا ہے۔ اس لئے اس نے اسلام کو عبادات میں محصور کر دیا ہے اور اپنے دائرۂ نفوذ کو توسیع دینے کے لئے طرح طرح کی غیر اسلامی رسمیں اور بدعتیں ایجاد کرتا رہتا ہے۔ اس سب کے ساتھ یہ ایک پیش پا افتادہ حقیقت ہے جس کا اعتراف مشکل ہی سے کیا جاتا ہے کہ انگریز نے دو چیزیں ایسی چھوڑی ہیں جن سے چھٹکارا پانا آزادی کے دور میں بھی آج تک کسی اسلامی ملک کو نصیب نہیں ہوا۔ ایک تو ہے نام تعلیم اور دوسرے قانون۔ جس طرح حج میں لوگ (الا ماشاء اللہ) شیطان پر کنکریاں پھینک کر آتی ہیں اور ویسے کے ویسے رہتے ہیں اسی طرح ہمارے ماہرین تعلیم انگریزی نظام تعلیم کی کیا کیا برائیاں نہیں کرتے لیکن بنیادی اصلاح اور پست کر دیتے ہیں۔ اصلاح کے لئے جس وسعت علم، ثقافت اور انقلابی فکر اور جرأت کی ضرورت ہے وہ ہمارے یہاں مفقود ہے۔

اس تمہید سے مقصد یہ ہے کہ اسلام اگر شریعت و قانون نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اب ذرا تاریخ کا مختصر جائزہ لیجئے۔ جب اسلام آیا تو اس نے سب سے پہلے جزیرہ عرب میں اپنا قانون نافذ کیا۔ جب فتوحات کا سلسلہ چلا تو بہت سے ایسے ممالک قبضہ میں آئے جہاں رومانی اور ایرانی قانون چلتا تھا۔ ہر جگہ مسلمانوں نے اپنی شریعت اور اپنا قانون نافذ کیا۔ یہ بتاتا چلوں کہ جہاں تک حکومت کے نظم و نسق (Administration) کا تعلق ہے مسلمانوں نے رومیوں اور ایرانیوں سے بہت کچھ لیا اور سیکھا۔ ضرورت ظاہر ہے۔ عرب منظم مرکزی حکومت سے نا آشنا تھے۔ اور ان کے پاس مرکزی حکومت کے ادارے (Institutions) نہ تھے لیکن حضرت عمرؓ کا 'دیوان' قائم کرنا یا عبد الملک کا سکہ اور برید کے نام کو فروغ دینا اور بات ہے۔ قانون بالخصوص معاملات اور تعزیرات کا قانون اور بات ہے۔ فن تعمیر میں فلسفہ اور سائنس میں عربوں نے سب ہی کچھ دوسری قوموں سے لیا اور بلا جھجک بغیر کسی احساس کمتری کے پورے اعتراف اور شرکیہ کے ساتھ لیا۔ اور جو کچھ لیا اسے بڑے سلیقہ سے برتا مگر قانون کے دائرہ میں کسی دوسری قوم سے کچھ لینا اسلام کے وجود کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ بنو امیہ کا دور ہو یا بنو عباس کا۔ قانون وہی شریعت کارہا۔ یہ صحیح ہے کہ کسی دور میں خلوص کے ساتھ اسے نافذ کیا گیا اور کسی دور میں اس پر عمل کرانے میں چشم پوشی کی گئی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ شریعت کو کسی اجنبی قانون سے بدلا گیا ہو۔ مسلمان اپنی بد اعمالیوں کے نتیجہ میں یہودیوں سے قرض لیتے اور انہیں سود دیتے رہے لیکن کسی کو ''ربوٰا'' حلال کرنے کی نہ سوجھی۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب مسلمان عروج پر تھے تو دوسری قومیں تہذیب اور معیشت کے اعتبار سے اتنی پست تھیں کہ فیشن کے طور پر کسی کی نقالی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صلیبی جنگوں میں جب یورپ سے نیم وحشی جماعتیں شام پہنچیں تو انہوں نے پہلی دفعہ ایک مہذب اور متمدن معاشرہ دیکھا۔ اس ترقی یافتہ معیشت اور معاشرہ کی کونسی ضرورت ایسی تھی جو اسلامی قانون سے پوری نہ ہوتی ہو؟ بنو عباس کے دور میں مسلمانوں نے یونانیوں کے سارے علمی خزانے کھکول ڈالے۔ ارسطو کو ''معلم'' کے لقب سے نوازا۔ لیکن دو چیزیں ایسی تھیں جنہیں اپنے استفادہ کے لائق نہ سمجھا۔ پہلی چیز یونانی ادب۔ ارسطو نے خطابت اور شعر پر جو لکھا ہے وہ عربی میں منتقل ہوا۔ عربی ترجمہ آج تک موجود ہے لیکن ترجمہ کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کہ ارسطو نے جو معیار قائم کئے ہیں وہ عربی شعر و ادب کی مخصوص فطرت سے میل نہیں کھاتے۔ لہٰذا وہ سب قابلِ توجہ قرار پائے۔ صرف خطابت کے چند اصول جو عام انسانی فطرت کے ملاحظہ پر مبنی ہیں ادب کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ آج اردو کے ناقدوں کا یہ حال ہے کہ انگریزی سے چور کرتے ہیں اور چوری نہیں کرتے تو اسی پر تکیہ کرتے ہیں۔ بسا اوقات ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ جب تک انگریزی اصل ذہن میں نہ ہو۔ اگر مغربی معیار کی ٹوپی ہمارے شعر و ادب کے سر پر ٹھیک نہ بیٹھے تو سر کا حجم اور شکل بدل دیتے ہیں۔ اور اس کو ہیئت کے نئے تجربہ کا نام دیتے ہیں۔ بھانڈ بھی جو کچھ کرتا ہے وہ ہیئت کے نئے تجربہ سے مختلف تو نہیں ہوتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ نئے تجربے ضرور کیجئے لیکن اپنی ہیئت تو مسخ نہ کیجئے۔ موجودہ دور میں بھی ادب اور شاعر اپنی کانفرنسوں میں باقاعدہ قرار داد کے ذریعہ یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ مثلاً آزاد نظم معرّی اور بے قافیہ نظم ہماری زبان کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہیں۔ چنانچہ عربی میں اس بے راہ روی کا سد باب ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود جدید عربی شاعری جدت سے بھرپور ہے۔ الغرض عربوں نے یونانی ادب کی طرف ایک نظر دیکھا اور منہ پھیر لیا۔ رہی دوسری چیز یعنی قانون تو اس کی طرف تو دیکھا ہی نہیں۔

عباسی دور ختم ہوا تو عثمانی دور شروع ہوا۔ اس میں بھی وہی اسلامی قانون رائج رہا۔ شیخ الاسلام محض نکاح طلاق کے فتوے دینے کے لئے تو نہ تھا۔ پوری سلطنت کے نام قضاء کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اس کی ذمہ داری تھی۔ جب نئی تدوین کی ضرورت پیش آئی تو وہی اسلامی قانون تھا جسے ''مجلہ'' کی شکل میں ڈھالا گیا۔ اس میں کسی غیر مسلم کی رائے شامل نہ تھی۔ نہ کسی غیر اسلامی قانون سے کچھ اخذ کیا گیا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ عالمی تجارت اور صنعت و حرفت سے جو نئے مسائل پیدا ہوئے تھے ان کے شرعی احکام بھی اس میں شامل تھے۔ الغرض اٹھارویں صدی عیسوی تک ساری دنیا میں جہاں کہیں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ وہاں قانون کا سرچشمہ اسلامی شریعت ہی تھی۔ ہندوستان میں جب اسلامی شریعت کے بعض تقاضوں کو سیاسی مصلحت پر قربان کیا گیا تو عالمگیر نے شریعت کا احیاء کیا۔ ترکش مارا خدنگ آفریں۔ فتاویٰ عالمگیری آج بھی قابل قدر کارنامہ ہے۔

اس کا ذکر آچکا ہے کہ کوڈ نپولین اسلامی فقہ سے ماخوذ ہے۔ کیا اسلامی فقہ کی برتری کا یہ اعتراف کافی نہیں؟ پھر آج کیوں ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انگریزی قانون کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا؟ اچھا تو یوں دیکھئے کہ کسی قانون کے اچھا یا برا ہونے کا معیار کیا ہے؟ اچھا قانون وہ ہے جو معاشرے کو جرائم سے پاک رکھے۔ مجرم قرار واقعی اور عبرت آموز سزا سے نہ بچنے پائے۔ انصاف بلا زحمت بلا معاوضہ اور بلا تاخیر ہو کسی کا حق ضائع نہ ہواور کسی کو باطل کی حمایت کی جرأت نہ ہو۔ بڑے سے بڑا مغرب زدہ بھی یہ دعوےٰ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ انگریزی قانون اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ سینٹ جاں فلبی کی کتابیں پڑھیے۔ اس نے یہ نظارہ دیکھا ہے کہ نجد کے قصبوں میں بڑے سے بڑے مقدمے کا فیصلہ آدھ گھنٹہ میں ہو جاتا ہے اور جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے وہ بھی مطمئن جاتا ہے کہ انصاف ہوا۔ فریقین از خود اپنا اپنا ثبوت اور اپنے اپنے گواہ لے کر قاضی کے پاس جاتے ہیں۔ قاضی دونوں کی سنتا ہے۔ اپنا فیصلہ دیتا ہے اور دونوں کو سمجھا دیتا ہے کہ اس کا فیصلہ حق ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو یاد ہو گا کہ کراچی جیل کے سامنے عین دوپہر کے وقت ایک لڑکی بالجبر اغوا کی جاتی ہے۔ تقریباً سو آدمی اس جرم کے شاہد عینی ہیں۔ اگر اس واقعہ کے ایک گھنٹے کے اندر قاضی موقع پر پہنچ کر شہادت سن لیتا تو وہیں کے وہیں فیصلہ سنایا جا سکتا تھا اور ملزم کے پکڑے جانے کے بعد فوراً ہی اسی جگہ جیل کے سامنے اسے ایسی عبرت ناک سزا دی جا سکتی تھی کہ آئندہ برسوں تک اغواء کا کوئی واقعہ نہ ہوتا۔ اس کے برعکس انگریزی قانون کے تحت کیا ہوا؟ برسوں مقدمہ چلا اور نتیجہ ناگفتنی اور ہاں! ایسے دلاور مجرم کو بھی اپنے دفاع کے لئے وکیل میسر آیا۔ یہ وکالت کا 'پیشہ' اور کیلوں کی بے ضمیری جو انگریزی قانون کا جزو لا ینفک ہے۔ اس کی عزت تو اب مسلم ہو چکی ہے۔ اپنے بچپن کی بات مجھے یاد آتی ہے۔ لوگ فتوےٰ پوچھتے پھرتے تھے کہ وکالت کی آمدنی جائز ہے یا ناجائز؟ ایسے لوگ بھی میری نظر میں ہیں جنہوں نے ساری عمر وکالت کی۔ لیکن وکالت کی کمائی سے حج کرنا پسند نہیں کیا۔ باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد بیچ کر یا بیوی کا میکہ سے لایا ہوا زیور بیچ کر حج کیا۔ یہ بات پاکستان کی نہیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوا بلکہ اس ہندوستان کی ہے جو انگریز غلام تھا۔ اب تو مدت ہو گئی، کسی عالم سے کسی موقع پر وکالت کے پیشہ کی بابت ایک لفظ نہیں سنا۔ اور لیجئے انگریزی قانون اتنی مدت سے نافذ ہے اور چوری کے جرائم کی تعداد برابر بڑھتی جاتی ہے جہاں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے وہاں یہ حال ہے کہ مدینہ کے والی نے مجھے بتایا کہ تین چار سال میں کوئی ایک چھوٹا موٹا واقعہ سامنے آتا ہے۔ بہرحال یہ سمجھنا غلط ہے کہ جس کثرت سے روز چوری کے مقدمات ہوتے ہیں اسی کثرت سے روزانہ ہاتھ کاٹے جایا کریں گے۔ اگر ایک ہاتھ کٹنے سے کئی برس تک معاشرہ کو امن و سکون مل جائے تو کونسا مہنگا سودا ہے؟ اس میں کونسی وحشت اور بربریت ہے۔ نیو یارک کی سڑکوں پر مغرب کے بعد نکلنا خطرناک ہو تو تہذیب و تمدن کا عروج ہے اور مکہ میں دوکان کھلی چھوڑ کر آپ اطمینان سے گھنٹہ دو گھنٹہ کے لئے کہیں چلے جائیں تو رجعت پسندی اور بربریت ہے!!! ''محتسب'' کا لفظ کچھ ایسا غزل کے نذر ہوا ہے کہ ہم اپنے نظام احتساب کو بھول گئے ہیں۔ یہ نظام سارے عالمِ اسلام میں رائج تھا۔ البتہ اندلس کی تاریخوں میں اس کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، نفع خوری اور گلی کوچوں میں بد اخلاقیوں کا یہ واحد موثر علاج ہے۔ اگر ایک قاضی مجسٹریٹ کے درجہ کی محترم اور باوقار ہستی پیادہ بازاروں میں گشت کرے، خود جانچ پڑتال کرے۔ عوام کی شکایات سنے اور وہی کے وہیں موقع پر قرار واقعی سزا دے تو ان سماجی برائیوں کے خاتمہ میں کتنی دیر لگتی ہے۔ آپ نے یہ غور نہیں کیا کہ اگر محتسب اپنی کچہری میں بیٹھا رہتا اور مقدمات کی پیشی کا انتظار کرتا، تاریخ پر تاریخ بڑھتی وکیلوں کو جرح و بحث کا موقع ملتا تو پھر میخواروں کو محتسب کا اتنا ڈر کیوں ہوتا؟ اور سنیئے! مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ میری طالب علمی کے زمانے میں طالب علموں کے قانونی حقوق کیا تھے؟ البتہ اتنا یاد ہے کہ کبھی میرے یا میرے والد کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ استاد کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔ آج استاد اگر طالب علم تو سزا دے تو FIR تیار کرتا ہے۔ ثبوت کا ریکارڈ بناتا ہے اور یہ یاد رکھتا ہے کہ اگر طالب علم کا باپ پیسہ والا ہو تو وہ کوئی بڑا وکیل لے کر عدالت پہنچے گا اور بڑا وکیل وہ ہے کہ چاہے معاشرہ کو کچھ نقصان پہنچے، اس کا موکل کامیاب ہو جائے۔ ویسے عدالت کے باہر معاشرتی اصلاح پر وہ بڑی اچھی تقریر بھی کر سکتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ استاد ٹک ٹک دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں بولتے جب اس صورت حال سے استاد کے علاوہ کسی دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ استادوں نے اپنا وقار اور اثر کھو دیا ہے۔

یہ چند مثالیں ہیں اس بات کی کہ انگریزی قانون جرائم کی انسداد میں ناکام ہے۔ اس کے تحت سماجی برائیوں کا یہ حال ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اس کے برخلاف اسلامی قانون کا جہاں اور جس حد تک تجربہ کیا گیا ہے۔ کامیاب رہا ہے۔

اسلامی قانون کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ سوسائٹی کی ضروریات کے ساتھ اس میں بڑھنے کی فطری صلاحیت رکھی گئی ہے۔ ترکی مجلہ کے بعد سے اس کی بڑھت کی ہوئی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس کی دوبارہ تدوین کی جائے اور اسے شریعت کے بتائے ہوئے اجتہاد کے طریقوں سے موجودہ زمانہ کی ضروریات کا کفیل بنایا جائے لیکن یہ محض بہانہ سازی ہے کہ پہلے کوئی نیک بندہ شرعی قوانین کا مجموعہ تیار کرے پھر اس پر غور کیا جائے۔ درخت اسی وقت بڑھتا ہے جب اس کی جڑیں زمین میں ہوتی ہیں۔ اسی طرح قانون اسی وقت بڑھتا ہے۔ جب اس پر عمل ہو۔ پھر بھی علماء اس فرض سے غافل نہیں۔ مالی وسائل کی کمی بے شک ان کی راہ میں حائل رہتی ہے۔ ایک منصوبہ حکومت کویت کی اعانت سے شروع کیا گیا تھا او دوسرے منصوبہ پر دمشق میں کام ہو رہا تھا۔ دکتور مصطفی الزرقاء سے الجزائر کے اجتماع میں یہ معلوم کر کے بڑا ہی قلق ہوا کہ مالی امداد بند ہو جانے کے سبب یہ دونوں منصوبے ختم ہو گئے۔ ابھی چند دن ہوئے اخبار سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب کی حکومت نیا منوبہ بنا رہی ہے۔ خدا کرے یہ منصوبہ کامیاب ہو۔ (بشکریہ ''جنگ'' کراچی)