( قسط 4/ آخری)

قارئین جناب جسٹس ایس اے رحمان صاحب کی انگریزی تصنیف Punishment of Apostacy in Islam کے چیدہ چیدہ مقامات پر تبصرہ محدّث کے صفحات پر ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ حالیہ شمارہ میں آخری قسط پیشِ خدمت ہے، جس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی ہے کہ اسی موضوع پر جناب پروفیسر منظور احسن عباسی کی مفصل کتاب ''جرام ارتداد'' بھی عنقریب منظر عام پر آرہی ہے۔ (ان شاء اللہ) (ادارہ)

یہ کتاب اس قسم کے کمزور اور بے تعلق دلائل سے بھری پڑی ہے جس کی تفصیل کتاب 'جرمِ ارتداد' جو زیرِ طبع ہے، میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے مثلاً ایک بدو کا واقعہ کہ اس نے حضور کی بیعت کی، اس کے بعد اسے اتفاقاً بخار ہو گیا اس نے سمجھا کہ شاید بیعت ہی کی وجہ سے ایسا ہوا لہٰذا وہ بیعت توڑنے کے لئے حضور کی خدمت میں آیا اور کئی بار درخواست کرنے کے باوجود اس کی بیعت حضور نے نہیں توڑی اور جب (بغیر فسخ بیعت چلا گیا) تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ آگ کی بھٹی کی مانند ہے جو کثافت کو دور کر دیتا ہے۔

مدعا یہ تھا کہ یہ شخص بھی کثافت لے کر آیا لیکن شہر مدینہ کی برکت نے اس کی کثافت دور کر دی۔

مولفِ کتاب کا کہنا یہ ہے کہ اسے قتل کیوں نہ کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جا سکتا یعنی اس کے باوجود کہ اس کے دل کی کثافت دور ہو گئی اس کو قتل کر دینا چاہئے تھا۔

ایک دلیل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر مکہ میں پناہ لے تو اُسے اہلِ مکہ واپس نہ کریں گے۔ اس سے ثات ہوتا ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا حالانکہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اگر وہ مکہ میں پناہ نہ لیتا تو قتل کر دیا جاتا۔

ایک دلیل یہ ہے کہ قبیلہ لحم کے ساتھ معاہدہ میں یہ تھا کہ اگر ان میں سے کوئی مسلمان ہونے کے بعد اسلام سے پھر جائے گا تو خدا اور رسول اس کی جان و مال کے ذمہ دار نہ ہوں گے۔

مؤلفِ کتاب کا ارشاد ہے کہ اس سے ظاہر نہیں ہوتا کہ مرتد کی سزا قتل ہے بلکہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی جان محفوظ رہے گی نہ مال۔

میں کہتا ہوں کہ چلئے یہی مان لیجئے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت قتل نہیں کرے گی؟ باقی جس کا جی چاہے، قتل کر دے حکومت باز پرس نہ کرے گی۔ لیکن یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ مرتد مستلزمِ قتل نہیں ہے۔

ایک دلیل یہ ہے کہ ہرقل نے ابو سفیان سے پوچھا تھا کہ کیا پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کے متبعین ان سے پھر جاتے اور ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں؟ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ جو ان کا پیرو ہوا کبھی اس نے ان کو نہیں چھوڑا۔ فاضل مؤلف نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر مرتد کو قتل کا حکم ہوتا تو ابو سفیان کہتے کہ وہ تو قتل کر دیتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ابو سفیان سوال از آسماں اور جواب ریسمان دیتے تو قتلِ مرتد کا حکم ثابت ہو جاتا۔

ایک دلیل یہ ہے کہ تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا تو کچھ مسلمان مرتد ہو گئے تھے لیکن کسی کو قتل نہیں کیا گیا، لہٰذا ثابت ہوا کہ مرتد کو قتل نہ کرنا چاہئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس حکم کے نازل ہونے پر کون مرتد ہوا جسے قتل نہیں کیا گیا؟ یہ واقعہ ۲ھ کا ہے اور ابو سفیان کی گفتگو ۶ کا واقعہ ہے جس سے عیاں ہے کہ اس دوران کوئی مرتد ہوا ہی نہ تھا۔ یہ ارتداد محض مؤلفِ کتاب کی ذہنی تخلیق ہے۔

ایک دلیل یہ ہے کہ سورہ توبہ کی آیت ۷۴ میں بعض منافقوں کا ذکر ہے جو حضور کے خلاف ناشائستہ الفاظ کہتے تھے۔ شکایت ہوئی تو قسم کھا کر مکر گئے۔

مؤلف فرماتے ہیں کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہوا کہ مرتد کو قتل کا حکم نہیں ہے۔ معلوم نہیں کہ منافق کے قتل نہ کیے جانے سے کس طرح مرتد کے قتل نہ کیے جانے کی دلیل حاصل ہوتی ہے۔

ایک اور دل چسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور (قبل اس کے کہ اسے قتل کیا جاتا) وہ مر گیا۔ عیسائیوں نے اسے دفن کر دیا۔ اگلے روز اس کی لاش قبر کے باہر پڑی ہوئی ملی۔ یہ واقعہ تین بار ہوا۔ عیسائیوں کو یہ شبہ تھا کہ یہ کام مسلمانوں کا ہے۔ یہ واقعہ بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ مرتد واجب القتل ہے جس کو عیسائی بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں کے نزدیک مرتد ہونا کتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کوئی سزا سے بچ بھی جائے تو مرتے دم تک مسلمان اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ فرمانا کہ مرتد مستوجب سزا نہیں ہے بجز خوش فہمی کے اور کیا ہے۔

ایک واقعہ یہ ہے کہ بادشاہِ یمامہ نے دو شخصوں مجاعہ اور رجال کو خدمتِ اقدس ﷺ میں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اگر آپ اس کو حکومت کا جانشیں بنا لیں تو وہ مسلمان ہو جائے ا۔ یہ دونوں اشخاص حضور کی خدمت میں آکر مسلمان ہو گئے۔ رجال تو یہیں رہ گیا اور مجاعہ واپس جا کر مرتد ہو گیا اور مسیلمہ کے ساتھ مل گیا۔

مؤلفِ کتاب کا ارشاد ہے کہ اسے قتل کیوں نہ کر دیا گیا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کون قتل کرتا؟ کیا مسیلمہ؟ پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ مسیلمہ کے ساتھی سبھی قتل ہو گئے تو اس کے قتل نہ کیے جانے کا کیا ثبوت ہے؟

ایک حیرت ناک خلاف بیانی یہ کی گئی ہے کہ پروفیسر ہیفنگ نے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں لکھا ہے کہ:

''آنحضرت ﷺ نے مرتدوں کو معاف کر دیا۔''

لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ حضور نے کبھی مرتد کو معاف کیا نہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں یہ مذکور ہے۔ نہ نسائی، ابو داؤد اور تفسیر طبری وغیرہ میں جس کا حوالہ دیا گیا ہے، کہیں مرتد کے معاف کرنے کا ذکر ہے۔ اس کے برعکس انسائیکلو پیڈیا کے مصنفین نے بتایا ہے کہ اسلام میں مرتد مستوجبِ سزائے موت ہے۔ ہاں مرتد اگر مسلمان ہو جائے تو معاف کیا جا سکتا ہے اور یہی بتایا گیا ہے ملاحظہ ہو لفظ مرتد۔

ان عجیب و غریب اور قطعاً غیر منطقی استدلالات کے بعد جناب مولف کا ارشاد ہے کہ:

'راسخ العقیدہ یا تقلید پسند علماء کی زبردست روایات کی موجودگی میں بھی اگر احادیثِ تقویت نہیں پہنچتی کہ اگر کوئی دین سے پھر جائے تو وہ سزائے موت کا مستوجب ہے۔'' (ص ۸۶)

اب ملت اسلامیہ کی بد قسمتی اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کے عرصہ میں تاریخ کی روشنی میں گہری نظر سے احادیث کا مطالعہ کرنے والا ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوا جو اسلام کے اس نکتہ لطیف کو سمجھ سکتا۔ جس کے باب میں مؤلف کا ارشاد یہ ہے کہ قرآن حکیم کے واضح احکامات سے ثابت ہے کہ مرتد کی کوئی سزا نہیں ہے۔

احادیث کے بعد آثارِ خلفائے راشدین سے بھی انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرتد کی سزائے قتل اسلام کے خلاف ہے۔

ان کے دلائل کا خلاصہ ملاحظہ ہو:

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتدہ عورت ام فرقہ کو قتل کا حکم دیا لیکن وہ حکم ارتداد کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ محاربہ تھی۔

اسی طرح مدعیانِ نبوت اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب اور ان کے ساتھیوں کو جو خلیفۂ اول نے قتل کا حکم دیا وہ بھی ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کی بنا پر تھا۔

اس کے علاوہ قبیلہ بنو اسد اور ایک شخص لقیط بن یزدی کے مرتد ہو جانے کا ذکر کیا ہے اور یہ تسلیم فرمایا ہے کہ ان کے خلاف خلیفہ اول نے لشکر بھیج کر ان کا خاتمہ کر دیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ سب باغی تھے اس لئے قتل کئے گئے۔ یعنی مرتد ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کی بنا پر قتل ہوئے۔ لیکن یہ مرتد کی سزائے قتل کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ گویا ارتداد بغاوت کا پیش خیمہ ہے لیکن قتل نہ کیے جانے کا کوئی ثبوت اس سے بھی نہیں نکلتا۔

اس کے بعد بحوالہ ترجمہ تاریخ طبری ج ۳ (جو دراصل ج ۲ ہے) لکھا ہے کہ ایک شخص عینیہ بن حصن جو مرتد ہو گیا تھا خلیفۂ اول نے اسے معاف کر دیا لہٰذا مرتد کی سزا اسلام کے خلاف ہے۔ اول تو معاف کرنے کا لفظ ہی یہ بتاتا ہے کہ وہ مستوجبِ سزائے قتل تھا۔ پھر معاف کرنے کا سبب بھی بتایا گیا ہے جسے مؤلف کتاب نے درج نہیں فرمایا، کہ جب اس سے کہا گیا کہ:

''اللہ کے دشمن! ایمان لانے کے بعد تو کافر ہو گیا، اس نے جواب دیا کہ میں آج تک اللہ پر ایمان ہی نہیں لایا تھا۔'' (ملاحظہ ہو ترجمہ طبری)

معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہی نہ ہوا تھا تو مرتد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مؤلفِ کتاب کی انصاف پسندی ملاحظہ ہو کہ وہ اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس سے عیاں ہے کہ مرتد کے لئے کوئی طے شدہ سزا نہیں ہے۔

عہدِ خلافت اولےٰ کی ان واقعات سے غایت ما فی الباب جو امر ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ارتداد اور بغاوت لازم و ملزوم ہیں لیکن یہ کسی طرح نہیں کہا جا سکتا کہ مرتد واجب القتل نہیں ہے۔

جناب مؤلف نے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمرو بن العاص کو ایک مرتد شخص کے بارے میں یہ حکم لکھ کر بھیجا کہ 'جتنی بار بھی وہ توبہ کرے اسے تسلیم کر لیا جائے اور آخر میں اسلام پیش کیا جائے اگر اس کی پیروی سے انکار کرے تو اس کی گردن مار دی جائے۔'

تعجب ہے کہ اس حکم سے بھی وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مرتد کو قتل کا حکم نہیں ہے ورنہ بار بار اس کی توبہ قبول کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ لیکن وہ یہ وضاحت نہ فرما سکے کہ آخر میں جو گردن کاٹنے کا حکم ہے، وہ کس جرم کی پاداش میں ہے۔

شاید اس کا جواب بن نہ پڑنے کے باعث انہوں نے حضرت عمرؓ کے اس حکم کو خلاف قرآن ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون (تفصیل میری کتاب 'جرم ارتداد' میں ملاحظہ ہو)

عہدِ خلافت ثانیہ کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عمر کو اطلاع دی کہ ایک عرب مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا تھا اسے قتل کر دیا گیا۔ اس پر خلیفہ ممدوح نے لکھا کہ:

'(قتل کرنے سے پہلے) تمہیں چاہئے تھا کہ اسے کوٹھڑی میں بند کر دیتے اور ہر روز ایک روٹی کا ٹکڑا دے دیتے، بہت ممکن تھا کہ وہ توبہ کر لیتا۔' (یعنی توبہ کے بغیر اس کا زندہ رہنا ممکن نہ تھا)

باوجود اس کے جناب مؤلف بغیر کسی دلیل کے اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس کو جرمِ ارتداد میں نہیں بلکہ حربی ہونے کے جرم میں قتل کیا گیا تھا۔

ایک اور واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابو موسیٰ کے فرستادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ حاجبہ اور بکر بن وائل اور اس کی جماعت کے لوگ جو مرتد ہو گئے تھے ان کا کیا حشر ہوا، حضرت انس نے فرمایا کہ وہ سب قتل کر دیئے گئے۔ اس پر خلیفہ ثانی نے فرمایا کہ اگر ان کو زندہ گرفتار کیا جاتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ میں ان سے کہتا کہ جس دروازے سے تم باہر آئے ہو وہ اب بھی کھلا ہے وغیرہ۔ تاہم ان کے قتل کو امیر المؤمنین نے قتل ناحق قرار نہیں دیا بلکہ قتل برحق قرار دیا کیونکہ کوئی باز پرس نہیں فرمائی۔

لیکن جناب مؤلف یہی فرماتے جا رہے ہیں کہ ان کو بھی حربی ہونے کے جرم میں قتل کیا گیا۔

عہدِ خلافت ثانیہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ کچھ لوگ مسجد نبوی میں بیٹھ کر مسیلمہ کی نبوت کی تصدیق کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو ان کے بارگاہِ خلافت میں پیش کرنے کا حکم دیا سب نے توبہ و استغفار کیا تو چھوڑ دیئے گئے اور ان سے وعدہ لیا گیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ ان میں سے عبد اللہ بن نواحہ کو قتل کر دیا گیا۔ یہ وہ شخص تھا جو مسیلمہ کا پیغام لے کر حضور ﷺ کے پاس آیا تھا اور حضور نے فرمایا تھا کہ اگر یہ بطور سفیر کے نہ آیا ہوتا تو اسے قتل کروا دیتا لیکن اس بار وہ نہ بچ سکا۔

اس کے بعد مؤلف کتاب نے عہد خلافت ثانیہ کے اس واقعہ کا سہارا پکڑا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی ام ولد کو جس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا قتل کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ اسے ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کر دینے کا حکم دیا جو عیسائی نہ ہو۔

لیکن اس دلیل کی بنیاد ہی غلط ہے۔ عورت کو قتل کرنے کا حکم نہیں بلکہ تعزیر کا حکم ہے۔

مرتد کی سزائے قتل کا ثبوت عہدِ خلافتِ ثالثہ سے بھی ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ قطعی اور واضح ارشاد ہے جسے خود جناب مؤلف نے نقل فرمایا ہے کہ:

'جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد اس سے پھر جاتا ہے اسے قتل کر دیا جائے۔' (ص ۹۷)

اور اس پر بھی یہ ارشاد ہے کہ اس حکم میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کن حالات میں وہ شخص واجب القتل ہے۔ یعنی یہ جو وضاحت کی گئی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد اس سے پھر جائے وہ مستوجبِ قتل ہے۔ یہ وضاحت نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک وضاحت کا صرف ایک ہی مفہوم ہے کہ اس میں یہ بتایا جائے کہ اسلام سے پھر جانے کے بعد وہ حربی ہو گیا تب واجب القتل ہو گا۔ لیکن اگر ایسی وضاحت کی جاتی تو میرے خیال میں یہ ایک احمقانہ حکم ہوتا کیونکہ کوئی حربی واجب القتل نہیں بلکہ واجب القتال ہے۔ قتل کا حکم صرف جرم کی سزا کے طور پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا اعتراف خود مؤلفِ کتاب کو بھی ہے۔

پھر یہ ارشاد بھی عجیب ہے کہ حضرت عثمانؓ کے اس حکم میں قرآن یا سنت کے کسی فیصلہ کا ذکر نہیں ہے۔ شاید مؤلف کتاب موصوف کا یہ خیال ہے کہ حضرت عثمانؓ نے یہ حکم کتاب و سنت کے خلاف دے دیا اس لئے ناقابلِ تسلیم ہے۔ حیرت ہے کہ ضد اور بے جا پاسداری انسان کو کس مقام پر پہنچا دیتی ہے۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ نے تین بار ایک شخص سلیمان بن موسےٰ کو ارتداد سے باز آنے کے لئے کہا۔ اس نے نہ مانا۔ آخر قتل کر دیا گیا۔

جناب مؤلف کا ارشاد ہے کہ جن حالات میں یہ حکم دیا گیا تھا وہ تاریکی میں ہیں اور یہ تاریکی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تسلیم نہ کیا جائے کہ وہ شخص محارب تھا جس سے تین بار خلیفۂ ثالث نے ارتداد سے باز آجانے کو کہا لیکن وہ نہ مانا لہٰذا قتل کر دیا گیا۔ تعجب ہے کہ خلیفۂ ممدوح نے حرب سے باز آجانے کی بجائے ارتداد سے باز آجانے کو کہا حالانکہ بخیال مولف ارتداد امرِ مستوجب قتل ہے ہی نہیں۔ پھر یہ کون پوچھے کہ کیا اہلِ حرب کو اس طرح بار بار مشورہ دینا ممکن تھا؟

ایک اور واقعہ ہے کہ حضرت عبد اللہؓ بن مسعود نے حضرت عثمانؓ سے عراق کی ایک مرتد ہو جانے والی جماعت کی بابت حکم دریافت فرمایا۔ خلیفۂ ممدوح نے لکھا کہ انہیں اسلام پیش کرو، انکار کریں تو قتل کر دو۔

مؤلفِ محقق فرماتے ہیں کہ وہ بھی اہل قتال ہی تھے۔ اور دلیل یہ دی ہے کہ اخبار 'زمیندار' کے کسی پرچہ میں کسی نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں اقتلوا کی بجائے قاتلوا آیا ہے جس سے عیاں ہے کہ وہ لوگ اہلِ قتال تھے مستوجبِ قتل نہ تھے۔ جناب ممدوح کا مطلب یہ ہے کہ اگر اقتلوا ہوتا تو بے شک یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ صرف مرتد تھے۔ اہل حرب نہ تھے۔ لیکن تعجب ہے کہ نکتہ انہیں ان تمام روایات کو بیان فرماتے ہوئے ذہن سے اتر جاتا ہے جن میں اقتلوا آیا ہے، قاتلوا نہیں ہے اور لطف یہ ہے کہ اس روایت میں بھی اقتلوا ہی ہے کسی نے غلطی سے قاتلوا لکھ دیا تو وہ حجت نہیں ہے اور قاتلوا سے بھی مرتد کی سزا موت ہی ثابت ہوتی ہے۔ اس کی بریت تو کسی طرح بھی ثابت نہیں ہے۔

اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہدِ خلافت کے واقعات کو لیجئے۔ سب سے پہلے جناب مؤلف نے حضرت علیؓ کی خارجیوں کے ساتھ جنگ کا ذکر کیا ہے، جنہیں ارتداد ہی کی بنا پر قتل کیا گیا ص ۹۹ لیکن مؤلف کی تحقیق یہ ہے کہ وہ مسلمان تھے اور خود حضرت علیؓ بھی انہیں مسلمان سمجھتے تھے۔ گویا حضرت علیؓ کا انہیں قتل کرنا مرتد کا قتل کرنا نہیں بلکہ قتلِ مسلم کی نظیر ہے جس میں حضرت علی کو ملوث قرار دیا گیا ہے اور صرف اس لئے کہ کہیں مرتد کو مجرم نہ قرار دیا جا سکے۔

دوسرا واقعہ زندیقوں کو حضرت علیؓ کے حکم سے زندہ جلائے جانے کا ہے ص ۹۹ جس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا بلکہ قتل کرتا کیوں کہ حضرت کا ارشاد ہے:

«من بدل دینه فاقتلوه»

جناب مؤلف نے اس پر بھی تنقید فرمائی ہے کہ اول تو یہ روایت ہی قابلِ اعتبار نہیں اور اگر صحیح مان لی جائے تو یہ لوگ ابنِ سبا کے پیرو تھے جو نظام کو درہم برہم کرنا چاہتے تھے اس لئے قتل کئے گئے حالانکہ حضرت ابن عباس جس بنا پر قتل کا مستوجب سمجھتے تھے وہ ارتداد یا تبدیلی مذہب ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے۔ عرض اس سے بھی ان کا واجب القتل نہ ہونا ثابت نہ ہوا۔ (مزید تفصیل کے لئے کتاب ''جرم ارتداد'' ملاحظہ فرمائیے)

عہدِ حضرت علی کا ایک واقعہ یہ ہے ص ۱۰۱ کہ قبیلہ بنی نجیہ میں سے ایک گروہ مسلمان ہو گیا۔ ایک گروہ بدستور عیسائی رہا۔ ایک گروہ مسلمان ہو کر پھر مرتد ہو گیا۔ آخر الذکر سے اسلام کے لئے کہا گیا۔ اس نے انکار کیا لہٰذا ان سب کو جرمِ ارتداد کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔

مؤلفِ کتاب کا یہ ارشاد ہے کہ اس واقعہ سے ان لوگوں کے خیال کو کوئی تقویت نہیں پہنچتی کہ ارتداد جرم ہے محض ایک معصیت آلود خطا نہیں ہے لیکن اس واقعہ سے اس خیال کو کیسے تقویت پہنچتی ہے کہ ارتداد نہ جرم ہے نہ امرِ قابلِ تعزیر؟

ایک اور واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتد عیسائی حضرت علی کے سامنے پیش کیا گیا اس نے آپ کے کان میں کچھ کہا لیکن قتل کر دیا گیا۔

مؤلفِ کتاب فرماتے ہیں کہ وہ بھی محارب تھا یعنی محارب ہونے کے باوجود حضرت علیؓ کے کان میں گفتگو کا موقع پا گیا۔

ان دلائل کے علاوہ مختلف دلائل اوٹ پٹانگ ہیں۔ اختصار کے پیش نظر اس کی تفصیل ترک کر دی گئی ہے۔

مؤلف کتاب کا سب سے زیادہ دشوار مرحلہ فقہاء کے خلاف قتلِ مرتد کو خلافِ اسلام ثابت کرنا تھا۔ اس کے لئے سب سے پہلے انہوں نے یہ تسلیم فرمایا ہے کہ:

''تمام فقہاء نے بالاتفاق ارتداد کی سزا قتل قرار دی ہے۔'' ص ۱۲۷

باوجود اس اعتراف کے وہ خود فقہاء کے اس فیصلہ کے خلاف ہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ تمام فقہاء کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دور کی کوڑی لائے ہیں اور تحقیق احکامِ اسلامی میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ تمام زعمائے امت ان کے گرد راہ بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ ہے ان افراد ملت کی ایک مختصر فہرست جنہوں نے سزائے جرم ارتداد میں غلطی کی ہے:

حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت عکرمہ، حضرت ایوب، حماد، محمد بن الفضل، ابو النعما، ابو موسیٰ، ابو بردہ، حمید بن بلال، قرۃ بن خالد، یحییٰ، مسدد، حضرت ابو ہریرہ، ابن عبد اللہ، ابن عتبہ، عبید اللہ، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، امام مالک، محمد خطیب بغدادی، ابو حنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل، ابو بکر جصاص، ابن العربی، امام بیضاوی، جلال الدین سیوطی، ابن حیان، ابن اکثیر، خازن بغداد، جریر طبری، زمخشری، رازی، آلوسی، محمد ابراہیم البغدادی (صاحب خازن)، ابن الہمام، چلپی، علامہ شہیر سید قطب مصری، علامہ شلتوت، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ اسمٰعیل حنفی، امام ابن تیمیہ، شیخ عبد القادر جیلانی، شاہ عبد القادر، شیخ سعدی۔

یہ وہ اصحاب ہیں جن کے فیصلے کتابوں میں درج ہیں اور جو راقم الحروف کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی ایسا عالم دین نہ سننے میں آیا اور نہ پڑھنے میں جس نے آنحضرت ﷺ کے اس حکم کے خلاف آواز اٹھائی ہو کہ «من بدل دینه فاقتلوه» بدقسمتی سے پاکستان ہی کا ایک شخص کہتا ہے کہ یہ ملّا کا قول ہے۔

فاضل مؤلف نے اس بے رحمی سے حدیث کو رد نہیں فرمایا تاہم زیرِ تنقید کتاب میں اس خیال کی تائید فرمائی ہے کہ مرتد کی سزائے قتل اسلام اور قرآن کے خلاف ہے لیکن یہ کہہ کر انہوں نے غیر شعوری طور پر ان تمام اصحاب کی توہین کر ڈالی ہے کیونکہ اس ارشاد کے معنے سوا اس کے اور کچھ نہیں ہیں کہ:

تمام ابطالِ ملّت قرآن اور اسلام کے سمجھنے میں قاصر رہے۔ تاہم انہوں نے ان کے اس تصورِ فہم کا یہ سبب جو بیان فرمایا ہے وہ ان حضرات کے لئے عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ہے۔ ص ۱۲۷

''رسالتِ مآب ﷺ یا خلفائے راشدین کے زمانہ میں جن مرتدین کو قتل کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ یہ نہیں فرمایا وہ کون کون سے اصحاب تھے اور ان کا کیا حشر ہوا؟) چنانچہ ان ایام میں یہی خیال کیا جاتا تھا کہ جو شخص اسلام سے پھر گیا وہ دشمنانِ اسلام کے ساتھ مل گیا اور تاریخ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے جس کی وجہ سے قدمائے فقہاء کی تحریروں میں (یعنی فقہائے متاخرین و حال کی تحریروں میں نہیں) ان مرتدوں کے درمیان جنہوں نے محض مذہب تبدیل کیا اور وہ مرتدین جو ملک کے دشمن بھی ہو گئے امتیاز نہیں کیا گیا اور ایک عرصہ کے بعد یہی قانون بنا لیا گیا کہ مرتد اگر توبہ نہ کرے تو اسے واجب القتل قرار دیا جائے۔''

فاضل مؤلف کتاب اب اس قانون میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور اس کی ضرورت یوں محسوس فرمائی کہ قتل مرتد قرآن حکیم کے صریح حکم کے خلاف ہے اور سنت سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ گویا فقہا نے جو قانون بنایا وہ قرآن کے صریحاً خلاف ہے اور سنت کے بھی خلاف ہے۔ خلاصہ ان کے دلائل کا یہ ہے کہ وہ قرآن کو نہیں سمجھے اور احکامِ سنت کے پس منظر سے آنکھیں بند کر کے یہ قانون بنا لیا اور اس جوشِ اصلاح میں انہوں نے کم از کم چار ایسے اشخاص کے نام بتائے ہیں جن کو وہ اپنا ہم خیال تصور فرماتے ہیں۔ ان میں ایک ابن حیان اندلسی، دوسرے شیخ محمد شلتوت، تیسرے ابن الہمام اور چوتھے چلپی۔

اس عاجز نے اس مضمون کی پہلی قسط (رسالہ محدّث اشاعت ماہ رجب شعبان ۱۳۹۳؁) میں بتایا ہے کہ ان اصحاب پر یہ الزام ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے مرتد کی سزا قتل قرار دی ہے اور اس کو عین انصاف بتایا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ علامہ محمد شلتوت کی تحریروں کو جو صراحتاً قتل مرتد کی حامی ہیں اور جس کی تفصیل انہوں نے وضاحت سے کر دی ہے، نظر انداز کر کے جناب مؤلف نے اپنی ایک تحریر میں شیخ شلتوت کی ایک اور عبارت کو غلط معنے پہنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ وہ محض ارتداد کو جرم مستلزم سزائے موت نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ موصوف کی تفسیر میں ایک جگہ یہ درج ہے:

«الکفر وحدہ لیس مبیحا للدم وإنما یبیحه الاعتداء»

یعنی محض کافر ہونا مستوجب قتل نہیں ہے بلکہ اعتداء موجبِ قتل ہے۔

لفظ اعتداء کے معنی ظلم اور تعدی کے ہیں اور وہ مرتد ہو جانے کو بھی دین پر ظلم تصور فرماتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے:

عقوبة الاعتداء علي الدين بالرده

یعنی مرتد کو جو سزا دی جاتی ہے وہ دین پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہے۔

چنانچہ انہوں نے اس حدیث نبوی کی تفسیر فرمائی ہے جس میں حضور نے تین اشخاص کو مستوجب قتل قرار دیا ہے۔ قتل ناحق کرنے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا، اور دین اسلام سے مرتد ہو جانے والا۔ ان تینوں کے جرائم کو اعتداء سے تعبیر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ قتل صرف تین صورتوں میں قرینِ عدل ہے:

الاعتداء علی النفس الاعتداء علی النظام العالم الاعتداء علی جماعة المسلمين

یعنی کسی کی جان پر ظلم کرنا، نظام عالم یا معاشرتی نظام پر ظلم کرنا یا مسلمانوں کی جماعت پر ظلم کرنا۔

اس میں تینوں جرائم کو اعتداء سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

فاضل مؤلف نے یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ جرم کے ساتھ جو اعتداء کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مرتد دشمنی پر نہ اتر آئے اسے قتل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہی لفظ قاتل اور زانی کے لئے بھی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ زانی محصن اور قاتل بھی جب تک مسلمانوں کے خلاف حربی نہ ہو جائیں ان کو قتل نہ کیا جائے گا۔

غرض یہ آشفتہ بیانی صرف اس اصرار کا نتیجہ ہے جو جناب مؤلف کو مرتد کے مستوجب سزائے موت نہ ہونے پر ہے۔

اس کے علاوہ بعض دوسرے فقہاء و علماء پر اس قسم کے الزامات ہیں، جن کی تفصیل میرے رسالہ 'جرمِ ارتداد' میں ملاحظہ فرمائی جائے۔ جناب مؤلف کی اس تالیف کا سب سے زیادہ افسوسناک حصہ وہ ہے جس میں غلط بیانی یا الزام تراشی سے کام لیا گیا ہے، چنانچہ کتابِ زیرِ تنقید کا آخری فقرہ بھی ایک بہت بڑی غلط بیانی ہے کہ:

''پیغمبر اسلام ﷺ کی عظیم الشان سنت کسی طرح بھی اس کے خلاف نہیں ہے (کہ اسلام سے پھر جانےوالے کو اس دنیا میں کوئی سزا نہ دی جائے۔)''