تفصیل:

گو ان سب کا حاصل ایک جیسا ہے، تاہم ان میں ایک گونہ تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً اس کا بھی ذکر ہو جائے تو قلب و نگاہ' پر مہر اور پردے والی بات بھی مزید واضح ہو جائے زیادہ یہ تفصیل حضرت امام ابن القیمؒ (ف۷۵۱ھ) کی کتاب 'شفاء العلیل في مسائل القضاء والقدر و الحکمةوالتعلیل' (ص ۹۲ تا ص ۱۰۷) سے ماخوذ ہے اور کچھ 'مفرداتِ راغب' سے۔ ان کے علاوہ اگر کوئی اور کتاب ہو گی تو اس کا حوالہ ضرور دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، ہاں یہ سبھی کچھ بطور حاصل اور تلخیص کے ہو گا۔ من و عن ترجمہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہاں اس کی اتنی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن تشریحی اور توضیحی پہلو نمایاں ہو گا۔

1. ان میں سے بعض کا تعلق براہِ راست دل سے ہے جیسے ختم، طبع، قفل وغیرہ

2. بعض وہ ہیں، جو دل تک رسائی کا واسطہ اور ذریعہ ہیں جیسے صمم اور دقر۔

3. کچھ وہ ہیں جو اس سلسلے کے مقدمات کی طرف رجوع کرتے ہیں جیسے عمی اور غشاوہ۔

4. اور کچھ وہ ہیں جن کا تعلق دل کے ترجمان اور قاصد سے ہے۔ جیسے بکم نطقی۔

5. ہاں یہ یاد رہے، یہ سب حقائق ہیں مجاز اور استعارے نہیں ہیں کیونکہ بات موقع محل کی ہے، جس محل پر جو بات کہی گئی ہے، اس کی وہی حقیقت ہے۔ دراصل یہ نظریہ شیخین (ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ) کا خاص نظریہ ہے، کیونکہ وہ قرآن میں مجاز کے قائل نہیں ہیں۔

ختم اور طبع:

ڈھانپ لینا اور یوں چھا جانا کہ باہر سے کوئی شے اندر داخل نہ ہونے پائے 'ختم اور طبع' ہے۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اگر یہ صفت فطرتِ ثانیہ بن جائے تو اسے 'طبع' کہتے ہیں۔ گویا کہ بہیمیت اور نفسانی خواہشات اور بعض مصالحِ عاجلہ یوں چھا جاتے ہیں کہ ان کو چاک کر کے حق کا ان کے قلب میں داخل ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اَکِنّہ:

اس سے وہ ترکش اور غلاف مراد ہیں جن کی لپیٹ میں دل آجاتے ہیں۔ یعنی دل ان اغراض کی تہ میں چلا جاتا ہے جن سے علیحدہ ہو کر اس کے لئے 'حق' کو سوچنا اور سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔

غطاء:

اس سے مراد 'سرپوش' ہے جیسے ڈھکنا وغیرہ۔ اس کے دو معنے ہیں ایک یہ کہ آنکھوں پر 'کھوپے' (یاپٹی کہہ لیجئے) چڑھے ہیں۔ اس لئے وہ قدرت کی نشانیوں اور آثارِ توحید کے دیکھنے سے قاصر رہتا ہے۔

دوسرا یہ کہ ان کے دلوں کی آنکھوں پر کھوپے چڑھے ہیں کہ اب وہ قرآن میں تدبر، تفکر، فہم اور کسبِ فیض کے قابل نہیں رہے۔ پہلے دل کی آنکھوں پر کھوپہ چڑھتا ہے پھر سر کی آنکھوں پر بھی چھا جاتا ہے۔

دل کے کھوپے کا نام 'اکنّہ'، کان کے کھوپے کا نام 'وقر' اور آنکھ کے کھوپے کا نام 'حجاب' ہے۔

غلاف:

غلاف کے ایک معنے ہیں کہ ہمارے دل خود علوم و معارف کے خزانے ہیں، ہمیں آپ کے علم و معارف کی ضرورت نہیں یعنی وہ اپنی عقل و فہم پر غرہ تھے۔ دوسرے کی بات خواہ وہ حق ہی ہو، سننے کو اپنی کسر شان تصور کرتے تھے۔

دوسرے یہ کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں۔ اب 'اکنہ' اور 'غلاف' ہم معنے ہوں گے۔ بہرحال کوئی صورت ہو، دونوں کا حاصل یہ ہے کہ وہ قرآن میں غور و تدبر کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کفار کا کہنا یہ تھا کہ ہماری ہدایت خدا کو ہی منظور نہیں، ہمارا اس میں کیا قصور ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ غلاف کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ غلاف خود ان کے کفر و جحود کا نتیجہ ہے۔﴿بَل لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفرِ‌هِم﴾

حجاب:

حجاب سے مراد 'حائل اور مانع' ہے وہ مادی ہو یا معنوی۔ یہاں اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو کفار کے دلوں اور فہم قرآن کے درمیان حائل اور مانع رہتی ہے۔

حجابؔ رویتِ حق سے مانع ہے۔ اکنہ فہمِ قرآن میں حائل اور وقر سماعِ حق سے مانع کیفیت کا نام ہے۔

وقر:

وقر کان کے ثقل، بھاری پن اور بہرے پن کو کہتے ہیں جس طرح 'وسق' اونٹ کے بوجھ کو کہتے ہیں۔ اسی طرح 'وقر' گدھے کے بوجھ کا نام بھی ہے۔

کان کا یہ 'وقر' انسان کو حق سننے کا اہل نہیں رہنے دیتا۔ قرآن حکیم نے آوازِ حق سے ان کے بدکنے کو﴿كَأَنَّهُم حُمُرٌ‌ مُستَنفِرَ‌ةٌ ﴿٥٠﴾... سورة المدثر" گویا وہ گدھے ہیں جو بدکتے ہیں، سے تعبیر کیا ہے۔

یہ 'ثقل اور بوجھ' جھوٹے وقار، سیاسی مصلحت اور منفعتِ عاجلہ کے شغف کا عموماً نتیجہ ہوتا ہے۔

غشاوۃ:

اس سے مراد وہ کھوپا اور پردہ ہے جو صرف آنکھوں پر پڑ جاتا ہے۔ یہ پردہ دل کے کھوپے اور پردے کا مظہر، نتیجہ اور عکس ہوتا ہے۔ پہلے دل پر اس کی سلطانی ہوتی ہے پھر اس کی وساطت سے آنکھ اسی رنگ میں رنگی جاتی ہے، کوتاہ بینی، کج بینی، کور چشمی سبھی اس کے مختلف انواع اور اسماء ہیں۔

یہ غشاوہ اپنے تحت کو پوری جامعیت کے ساتھ ڈھانپ لیتا ہے۔ یہاں تک کہ 'دلِ کج' کی ہر کج ادا کے نظارہ میں آنکھ محو رہتی ہے لیکن جو 'حقائق' بے پردہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں وہ اسے دکھائی ہی نہیں دیتے۔

رین، رأن:

ران سے مراد زنگ ہے یعنی گناہوں کا، اگر اسے دھویا نہ جائے تو جس طرح لوہے کو زنگ کھا جاتا ہے، اسی طرح گناہوں کا زنگ بالآخر مجلّی اور مصفا دل کو کھاجاتا ہے یعنی گناہ یوں محیط ہو جائیں کہ اس کے دل سے احساسِ زیاں بھی جاتا رہے۔

رینؔ، کثرتِ گناہ سے دل سیاہ ہو جانے کا نام ہے۔ طبع اس پر ٹھپہ لگانے کو کہتے ہیں جو رینؔ سے سخت ترین ہے اور اقفال، طبع سے بھی سخت ہے کہ اس سے دل مقفل ہو جاتے ہیں یعنی سیل ہو جاتے ہیں۔

غین:

غین بھی رین ہی ہے لیکن اس کا زنگ اس سے لطیف ہوتا ہے۔ یہ زنگ عموماً ادیبوں کے گناہوں اور دین پسند خوش فہموں کی خود فریبیوں کا حاصل ہوتا ہے یا صلحاء پر ایک انقباضی سی کیفیت ہے جو محض بشری اور ملکوتی ملکات کے درمیان کراسنگ کا نتیجہ ہوتی ہے مگر استغفار اور پیہم اعمالِ صالحہ کی بنا پر مغلوب رہتی ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

«وإنه ليغان علٰي قلبي وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة» (مشكوٰة)

الغرض:

رین ایک سیاہ کاری اور سیاہ فہمی ہے جس سے دل کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ حیوانی دل تو سلامت رہتا ہے لیکن وہ دل مر جاتا ہے جس کے قریب رب کا بسیرا ممکن ہوتا ہے (نحن أقرب إليه من حبل الوريد)

الغلّ:

اس کی جمع اغلال ہے۔ اس کے اصل معنے کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلنے جانے کے ہیں جو پانی درختوں کے درمیان میں بہہ رہا ہے، اسے بھی غلل کہتے ہیں اور اس طوق کو بھی ''غل'' کہتے ہیں جس سے کسی عضو کو کس کر اور جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے۔

وہ دلچسپیاں، مصلحتیں، اغراض اور رسومات ہیں جن میں ڈوب کر انسان راہِ حق کی طر ف پلٹنے اور رجوع کرنے کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی نے اس کو جکڑ کر باندھ یا قید کر دیا ہو بس دل کی اس 'مانع عن الایمان کیفیت یا محرومی' کا نام 'غّل' ہے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ:

حق کی بات، ذکر خیر، اعمال صالحہ، ایمان، کتاب اور سنت کے نام سے اس بیمار کا دل، منقبض (بھنچے) ہونے لگتا ہے جیسے منوں بھارا اس کے دل پر کسی نے رکھ دیا ہو یا جیسے اس کا گلا کسی نے دبا دیا ہو۔ بہرحال ختم (مہر) جیسی کیفیت ہے جو ختم سے چار درجے آگے ہے۔

سدّ:

دیوار، آڑ اور رخنہ بند کرنے کو سدّ کہتے ہیں۔ یہاں وہ خدا فراموش شغف، کوتاہ بینی اور کم فہمی مراد ہے جن کی وجہ سے انسان نہ ماضی کے عبرت آموز واقعات سے کوئی درس لیتا ہے اور نہ حالیہ طرزِ زندگی کے عواقب اور انجام پر غور کرنے کی توفیق پاتا ہے۔ اس لئے اس کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ سورۂ یٰسین میں اس کو یوں بیان فرمایا ہے۔

﴿وَجَعَلنا مِن بَينِ أَيديهِم سَدًّا وَمِن خَلفِهِم سَدًّا فَأَغشَينـٰهُم فَهُم لا يُبصِر‌ونَ ﴿٩﴾... سورة يس

اور ہم نے ايك ديوار (تو) ان كے آگے بنائی اور ايك ديوار ان كے پیچھے اور اوپر سے دیا ان کو ڈھانک، تو (اب) یہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔

قفل:

تالے کو کہتے ہیں۔ دل گویا دروازہ ہے۔ حق کے لئے اس کے انشراح اور تدبر کے فقدان کو قتل (تالے) سے تعبیر کیا گیا ہے:

﴿أَفَلا يَتَدَبَّر‌ونَ القُر‌ءانَ أَم عَلىٰ قُلوبٍ أَقفالُها ﴿٢٤﴾... سورة محمد

یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے) ہیں۔

اس آیت میں اسی کیفیت کا ذِکر ہے۔ دروازہ کا بند ہونا بجائے خود بہت بڑا فتنہ ہے جب اس کے ساتھ اس کو مقفل بھی کر دیا جائے تو اس کے کھلنے کی امید باقی کیا رہ جائے گی۔ ہاں اس کی چابی خود انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنی ناکردنیوں کے ہاتھ اس نے وہ 'چابی' بھی کھو دی ہے جس سے اسے کھولا جا سکتا تھا۔

صمم:

حاسئہ سماعت کے ضائع ہو جانے کا نام 'صمم' ہے۔ یہاں مراد ایسا شخص ہے جسے آوازۂ حق سنائی دے نہ اسے قبول کرے بلکہ اپنی کہے اور اپنی ہی مرضی کرے۔ اس کو 'صدائے حق' سے یوں وحشت ہوتی ہے جیسے اس سے اس کو اپنے کان پھٹ جانے کا اندیشہ ہو۔

﴿يَجعَلونَ أَصـٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم مِنَ الصَّو‌ٰعِقِ حَذَرَ‌ المَوتِ...١٩﴾... سورة البقرة

موت کے ڈر سے مارے کڑک کے انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے لیتے ہیں۔

اس آیت میں ان کی اسی 'وحشت' اور حق سے ان کی اسی اجنبیت کا ذکر ہے۔ جہاں کیفیت یہ ہو وہاں قبولِ حق کی استعداد ختم ہو جاتی ہے۔

بکم:

پیدائشی گونگے گو بکم کہتے ہیں۔ اخرس عام ہے۔ پیدائشی ہو یا بعد میں کسی حادثے کا نتیجہ ہو سب کو اخرس کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ بکم القلب اور بکم اللسان۔ دل کا گونگا اور زبان کا گونگا۔ دل کا گونگا (بکم) زبان کے گونگے سے سخت ہے۔ دل کے گونگے ہونے کے معنے ہیں کہ کلمہ حق کے قبول کرنے کی استعداد ہی نہ رہے۔

عُمٰی:

اندھے پن کو عمی کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ آنکھوں کا اندھا اور دل کا اندھا۔ یہاں یہی دل کے اندھے مراد ہیں کہ ان میں بصیرت کا فقدان ہے۔ اس لئے آنکھیں جو دیکھتی ہیں وہ اسے جچتی ہی نہیں۔

﴿لا تَعمَى الأَبصـٰرُ‌ وَلـٰكِن تَعمَى القُلوبُ الَّتى فِى الصُّدورِ‌ ﴿٤٦﴾... سورة الحج

(سر کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں۔ سینہ کا مکیں دل ہی اندھا ہو گیا ہے۔

اس آیت میں اسی حقیقت کا ذکر ہے۔ یہ دل کی بینائی، سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ سیاہ اغراض اور سیاہ اعمال، بہرحال دل کی دنیا کے لئے حد درجہ مہلک ہیں۔

کان، آنکھ اور دل، علم و آگہی کے اصل ذرائع ہیں۔ کوئی شخص اگر ان کو اپنی بدعملی کے ذریعے خود ہی پھوڑ دے تو وہ جانے، کوئی کیا کرے؟ خدا نے ان کی اس بد نصیبی کا یوں ذکر کیا ہے۔

﴿لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِر‌ونَ بِها وَلَهُم ءاذانٌ لا يَسمَعونَ بِها...١٧٩﴾... سورة الاعراف

ان کے پاس دل (تو) ہیں، پر غور و فکر کے لئے نہیں، آنکھیں (تو) ہیں پر حقیقت بینی کے لئے نہیں، کان (تو) ہیں پر شنیدِ حق کے لئے نہیں۔

صدّ:

رکنے اور روکنے کو کہتے ہی۔ یہ بدنصیبی کی انتہا ہے کہ خود بھی خیر کے قریب ہوجائے اور دوسرے کو بھی قریب نہ آنے دے، خدا نے اسے 'فراعنہ' کی ایک صفت قرار دیا ہے۔

﴿زُيِّنَ لِفِر‌عَونَ سوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبيلِ...٣٧﴾... سورة المومن

یوں عموماً مشنری ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں جو حق کی راہ مارنے کو کارِ خیر یا سیاسی حکمت عملی تصور کرتے ہیں۔

صرف:

اس کے معنے ہیں 'پھیر دینا' عموماً بطور نتیجہ کے قرآن میں اس کا ذکر ہے یعنی راہِ حق سے ان کے انحراف اور انصراف پر اصرار کا نتیجہ یہ نکلا کہ:

اللہ تعالیٰ نے ا کے دلوں کے رخ بھی ادھر کو ہی موڑ دیئے جدھر ان کے اغراضِ سیئہ کا رُخ تھا یعنی اب ان کے دل میں احساس زیاں کی خلش بھی جاتی رہتی ہے:

﴿وَإِذا ما أُنزِلَت سورَ‌ةٌ نَظَرَ‌ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ هَل يَر‌ىٰكُم مِن أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَ‌فوا ۚ صَرَ‌فَ اللَّهُ قُلوبَهُم بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَفقَهونَ ﴿١٢٧﴾... سورة التوبة

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے ایک طرف ایک دیکھنے لگتا ہے پھر (یہ کہہ کر کہ) کہیں تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں (اٹھ کر) چل دیتے ہیں (یہ لوگ پیغمبر کی مجلس سے کیا پھرے) اللہ نے ان کے دلوں کو (دین حق سے) پھیر دیا۔ اس لئے کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو مطلق سمجھ نہیں ہے۔

امام ابن القیم فرماتے ہیں، صلاحیت اور قابلیت کا انحصار دو امور پر ہے۔ حسن فہم اور حسن قصد یہاں دونوں غائب ہیں۔ سمجھ بالکل غائب اور قصد برا ہی برا۔

سماع خاص سے محرومی کے اسباب بھی قرآن نے خود بیان فرمائے ہیں۔ کبر، تولّی اور اعراضِ کبر سمجھنے سے مانع ہے، تولّی جذبہ انقیاد اور اطاعت کے لئے مہلک ہے اور اعراض عطاء الٰہی سے محرومی کا باعث ہے۔

صرف یوں تصور کر لیجئے کہ ایک شخص موٹر، گاڑی یا جہاز سٹارٹ تو کرتا ہے مگر راہ پر نہیں، بلکہ ادھر اُدھر آس پاس کے گڑھوں کی طرف، اس لئے موٹر کا ادھر کو دوڑ پڑنا اس کا 'صرف' اور قدرتی نتیجہ ہے کہ یوں تو یوں سہی! الغرض بری سمجھ اور ردی قصد، ضلالت اور شقاوت کا بنیادی نسخہ ہے۔

الشد والتقسیہ:

الشد کے معنے 'سخت کر دینے' کے ہیں یعنی اے اللہ! ان کو یوں پتھر بنا دے کہ اس کو جونک لگے ہی نہیں۔ بس وہی 'صد' جس کا اوپر ذکر ہوا:

﴿رَ‌بَّنَا اطمِس عَلىٰ أَمو‌ٰلِهِم وَاشدُد عَلىٰ قُلوبِهِم...٨٨﴾... سورة يونس

الٰہی! ان کے مالوں پر پانی پھیر دے اور ان کے دلوں کو (اور) سخت کر دے۔

یعنی اس مالی زیاں کی وجہ سے بھی ان کے دل 'موم' نہ ہوں۔ کیونکہ یہ بظاہر قبولِ حق کی ایک شکل محسوس ہوتی ہے، تاہم حقیقت میں اب بھی اس کا محرک مفادِ عاجلہ کے چرکے ہیں۔ رضاءِ الٰہی نہیں۔ اس لئے اب بھی پرنالہ اپنی جگہ پر ہے، مگر دیکھنے والے اس سے دھوکا کھا سکتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ اس کو سخت کر کے اس پر ٹھپہ ہی لگا دے کہ یہ ظاہری فریب کی شکل بھی پیدا نہ ہونے پائے۔

تقسیہ:

تقسیہ سے مراد پتھر جیسی سختی ہے اس کی ایک قراءت 'قسیّہ' بھی ہے یعنی اغراضِ سیئہ کی ملاوٹ پر مبنی سختی ہو۔ درھم قسية اس وقت اس وقت کہتے ہیں جب اس میں کھوٹ ملا ہو گویا کہ یہ 'أشداء علی الکفار' کے قبیل سے نہیں ہوتی کیونکہ وہ مبنی برحق ہوتی ہے۔ وہ صلابت اور سختی استقامت علی الحق کی آئینہ دار ہوتی ہے لیکن تقسیہ کی صلابت ایسی 'سنگدلی' کی آئینہ دار ہوتی ہے جو حق سے بے پرواہ رہنے کے لئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ضلال بعید:

گمراہی ایک یہ ہے کہ راہ بھٹک جائے۔ دوسری یہ کہ غلط راہوں میں ہی کھو جائے۔ اگر ابتدائی درجہ کی ہے تو صبح کا بھولا شام کو واپس آسکتا ہے۔ اگر یہ انتہائی درجہ کی ہے تو واپس پلٹنے کی امید باقی نہیں رہتی۔ انہیں میں کھپ جاتا ہے یا آفات ناگہانی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ضلال بعید سے مراد یہی دور کی گمراہی ہے کہ انسان کے رجوع الی الحق کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری عموماً سیاسی کھلنڈروں کو لاحق ہوتی ہے یا دین پسندوں کو۔ بہرحال قرآن میں ان 'ضلّال' کے لئے عنوان نصاریٰ ہے۔ آپ دیکھ لیجئے کہ علم و فن میں اتنے اونچے چلے جانے کے باوجود حق کی طرف رجوع کرنے یا اس کے سمجھنے کی توفیق سے بالکلیہ محروم ہیں۔

اغفال:

غفلت اس سہو کو کہتے ہیں جو تحفظ اور احتیاط کی کمی کے نتیجہ کے طور پر طاری ہوتا ہے۔ جب اس پر اصرار جاری رہے تو یہ سہو حق سے مجرمانہ بے نیازی میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں 'احساسِ غفلت' بھی باقی نہیں رہتا۔ اسی کو 'اغفال' سے تعبیر کیا گیا ہے۔

﴿مَن أَغفَلنا قَلبَهُ عَن ذِكرِ‌نا...٢٨﴾... سورة الكهف

اجاڑ اور ویران شے کو بھی 'غفل' کہتے ہیں گویا کہ غافل کا دل 'حق سے خالی' ہو جاتا ہے، جیسے ایمان سے پہلے کیفیت تھی وہی عود کر آئی۔

المرض:

معتدل صحت میں کمی کا نام 'مرض' ہے روحانیات میں حق کا عرفان، اس سے صحیح تعلق اور ماسوا پر اس کو مقدم رکھنے کا نام 'صحت ' ہے۔

شک، عدمِ تعمیل، حجود اور انکار سے صحت ضائع ہو جاتی ہے۔ ریب اور شک منافقین کا مرض ہے، بدعملی اور نفسانی خواہشات کا ارتکاب عاصیوں کا مرض ہے۔ جب انسان ان کا خوگر ہو جاتا ہے تو یہ امراض بڑھتے ہیں۔ ﴿فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَ‌ضًا﴾ میں اسی بات کا ذکر ہے۔ مرض یہ تیسرا درجہ ہے جس میں اصلاح کے امکانات تاریک ہو جاتے ہیں۔

تقلیبِ افئدۃ:

﴿نُقَلِّبُ أَفـِٔدَتَهُم وَأَبصـٰرَ‌هُم﴾

ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔

اُلٹے برتن میں کبھی کوئی چیز نہیں ٹھہرتی، بلکہ داخل ہی نہیں ہوتی۔ یعنی بہتی گنگا کے کنارے ان کے لب خشک ہی رہیں گے۔ اس لئے نہیں کہ شیریں پانی نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ کسب فیض کی اہلیت نہیں رکھتے۔ دراصل یہ بھی 'ختم، مہر' کی ایک قسم اور نوع ہے۔ کیوں کہ جو لوگ سننے اور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں، وہاں کوئی کیا کرے گلہ کا ہے کا اور شکوہ کس سے؟

الحول بین المرء وقلبہ:

﴿وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَحولُ بَينَ المَر‌ءِ وَقَلبِهِ...٢٤﴾... سورة الانفال

تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔

بات یہ چل رہی تھی کہ اب ہم تمہیں بلا رہے ہیں، آجاؤ! جب ہم راستہ روک کر کھڑے ہو جائیں گے تو پھر کسے جرأت کہ سر مو بھی کوئی آگے سرک سکے۔ وہ راستہ، بندے کا اس کے دل تک کا راستہ ہے جب کوئی ماسوائے اللہ کے لئے دل کی دنیا کا ٹریفک کھول دیتا ہے تو رب درمیان میں حائل ہو جاتا ہے جس کے بعد خود بندے کے لئے اپنے دل تک کی رسائی ناممکن بنا دی جاتی ہے۔ ؎
اگر بایں مسلمانی کہ دارم!                 مرا از کعبہ مے راند حق او ست (ارمضانِ حجاز ص ۱۰۰)

ازاغۃ قلوب:

حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے ضلالت کی جانب مرعوبانہ جھکاؤ کا نام 'ازاغت' ہے۔ جب کوئی اللہ کے بجائے غیر اللہ سے مرعوب ہوتا ہے اور پھر اس کے حضور جھک رہتا ہے تو کچھ مدت کے بعد وہ اسی سمت کا ہو جاتا ہے اس لئے آپ نے ہر باطل تحریک، چکا چوند اور اس کے پجاریوں کا مشاہدہ کیا ہو گا کہ وہ جس قدر باطل پر ہوتے ہیں اتنے ہی اس پر پختہ بھی ہوتے ہیں۔ قرآن نے اس کو یوں بیان کیا ہے۔

﴿فَلَمّا زاغوا أَزاغَ اللَّهُ قُلوبَهُم﴾

جب وہ (خود غلط سمت کو) جھک گئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو اسی طرف جھکا دیا۔

خذلان:

وقت پر ساتھ چھوڑ دینے کو خذلان کہتے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ کسی سے توفیق سلب کر کے اس کو اپنے نفس وہوےٰ کے حوالے کر دے۔ ظاہر ہے کہ یہ حد درجہ خسارے کا سودا ہے۔ کیونکہ جب انسان خدا کے بجائے دوسروں کی رہنمائی اور آسروں کی ٹوہ میں پڑ جاتا ہے تو خدا کو غیرت آتی ہے۔ اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اس کا انجام بھی دیکھ لے۔

﴿وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُ‌كُم مِن بَعدِهِ...١٦٠﴾... سورة آل عمران

اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے۔ میں اسی کا بیان ہے۔

ارکاس:

رکس کے معنے کسی چیز کو اس کے سر کے بل الٹا کر دینا یا اس کے اول سرے کو موڑ کر پچھلے سرے کے ساتھ ملا دینا ہے۔ یعنی فلاں گروہ جو بظاہر مسلمان بن رہا تھا واپس جا کر کافروں میں جا ملے۔
؎ پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

گویا کہ یہ لوگ گو ہم میں تھے، پریوں تھے جیسے 'سیدھے برتنوں میں اوندھا اور الٹا لوٹا۔' اس لئے تا آخر خالی رہے اور رہیں گے۔ کیوں کہ ان کے دل 'سچی طلب اور جذبہ اخلاص' سے بالکل محروم ہیں۔ اس لئے ان سے 'خیر' کی توقع کرنا عبث ہے۔

تثبیط:

اس کے معنے روک دینے اور ہٹا دینے کے ہیں، چونکہ وہ دل سے نکلنا نہیں چاہتے تھے اس لئے ہم نے بھی انہیں رہنے دیا جسے خدا جامد رہنے دے اسے کون حرکت دے سکا ہے۔ اس آیت میں ان کی اسی محرومی اور کیفیت کا ذکر ہے۔

﴿وَلـٰكِن كَرِ‌هَ اللَّهُ انبِعاثَهُم فَثَبَّطَهُم﴾

لیکن اللہ نے ان کا اُٹھنا پسند نہ کیا سو ان کو روک دیا۔

گویا کہ جو وہ چاہتے تھے، خدا نے اس کا اہتمام کر دیا۔

تزیین:

عمدہ، آراستہ اور حسیں کر دکھانا، تزئین ہے۔ کام بد ہو، پر انسان اسے کمال، خوبی اور جوھر لاجواب تصور کرنے لگتا ہے تو ظاہر ہے اس کے لئے اپنے کردار یا زندگی پر نظر ثانی کرنا یا اس کا احتساب کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ سٹیج کسی کی آخرت، انجام اور مستقبل کو غارت کرنے کے لئے حد درجہ مہلک ثابت ہوتی ہے دراصل یہ کیفیت:

﴿نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ﴾ جو (راستہ) اس نے اختیار کر لیا ہے اسی راستہ پر ہم بھی اس کو چلائے جائیں گے۔

کی ہو بہو تصویر ہے۔ جسے انہوں نے 'اچھا' سمجھا اسی میں ان کو مگن رہنے دیا۔

عدمِ تطہیر قلوب:

دل سے کفر و شرک اور بد عملی کی گندگی دور کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے 'حکمت عملی' تو بتا دی ہے۔ لیکن دھونے کی زحمت انسان کو خود ہی کرنی ہے۔ اگر کوئی چاہے کہ یہ کام بھی خدا خود ہی کرے تو یہ بہت بڑی جسارت ہے۔ اس لئے فرمایا:

جو منافق ہیں جھوٹ کے دل دادہ، تحریف کتاب اللہ کے عادی، صرف مطلب اور گرد کی بات سے واسطہ رکھنے والے ہیں۔

﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ لَم يُرِ‌دِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ‌ قُلوبَهُم...٤١﴾... سورة المائدة

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو پاک نہیں کیا۔

یہ عدم تطہیر دراصل ان کی بد عملی اور بد پرستی کا نتیجہ ہے اس کے معنے دلوں کو گندہ کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اگر وہ خود پاک نہیں کرتے تو پھر نہ سہی، والی بات ہے۔

اماتۃ القلوب:

دلوں کو مردہ کہنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ حق کی خواہش نہیں رکھتے۔ باطل سے نفرت اور حق و باطل میں امتیاز نہیں کرتے۔ اس لئے ایسے بیماروں کو قرآن نے موتیٰ کہا ہے:

﴿إِنَّكَ لا تُسمِعُ المَوتىٰ﴾ بے شک آپ مردوں کی باتیں نہیں سنا سکتے

گویا یہ بھی توفیق الٰہی سے بالکلیہ محروم ہیں۔ جیسے ایک مردہ۔

ضیق صدر اور حرج:

ضیق صرف تنگی کو کہتے ہیں۔ حرج شدید ضیق (تنگی) کا نام ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے بنو بکر کے ایک شخص سے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنو کنانہ کے ایک فرد سے پوچھا کہ، حرجہ کسے کہتے ہیں؟ گھنے جنگل والی وادی جس میں اتنی کثرت سے درخت ہوں کہ اس میں جانے کے لئے راہ نہ مل سکے، نہ راعی کو نہ جنگلی جانور کو۔ اس پر حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

«کَذٰلِكَ قَلْبُ الْکَافِرِ» (شفاء العلیل ص ۱۰۶) کافر کے دل کی یہی کیفیت ہے۔

کہ اس میں خیر کا گزر ممکن نہیں رہتا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے اس کا دل گھٹنے لگتا ہے۔ اگر بتوں کی بات آجائے تو کشادہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کو کسی بد نصیب کی تنگی صدر مطلوب ہوتی ہے تو اس کو اتنا تنگ کرتا ہے کہ حق اس میں داخل نہیں ہو سکتا اس لئے وہاں مڑ جاتا ہے۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ لوگوں کے سامنے حق کی بات آجائے تو یوں دب جاتے ہیں جیسے ان پر پہاڑ آپڑا ہو۔ بہرحال حق کے سلسلے میں 'ضیق صدر' کامریض حد درہ تنگ دل ہوتا ہے۔ اس لئے 'کتاب و سنت' سے کسبِ فیض کی کشش سے دور جا پڑتا ہے۔

امساکِ نور:

یہی 'امساکِ نور' بھی ہے کہ شرح صدر کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسلام میں قدم رکھتے ہوئے ہزاروں تاریک اور ڈراؤنے خواب آنے لگتے ہیں کہ خدا جانے کیا ہے؟

الغرض: ﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم﴾ کے مفہوم کے لئے قرآن حمید نے جو مختلف اسلوبِ بیان اختیار کیا ہے۔ اوپر کی سطور میں اسی کا مختصر سا خاکہ پیش کر دیا گیا ہے جس سے ختم وغیرہ کی نوعیت محرکات، پس منظر، اسباب و داعی کی تفصیل بھی آگئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

ہدایت اور نور کی جو مشعلیں حق تعالیٰ نے روشن کی ہیں جو لوگ اغراضِ سیئہ کی بنا پر ان کی روشنی سے بدکتے ہیں کتراتے اور بھاگتے ہیں۔ خدا بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور اپنی 'توفیق' کی خصوصی عنایات بھی ان سے چھین لیتا ہے کہ یونہی تو یونہی سہی۔ ﴿نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ﴾ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا ان کے سامنے سے دروازہ بند کر دیتا ہے کہ وہ اندر نہ داخل ہوں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جو دروازہ وہ خود اپنے سامنے سے بند کر دیتے ہیں، خدا تعالیٰ جبراً وہ ان پر مکرر نہیں کھولتا یا کھول کر زبردستی ان کو اپنی طرف گھسیٹنے کی کوشش نہیں فرماتا کیونکہ سودا اختیار کا ہے۔ ٹھونسنے کی بات نہیں ہے۔ (مسلسل)