جس قوم میں اللہ کی طاعت نہیں رہتی           اللہ کو اس قوم کی چاہت نہیں رہتی
جس قوم میں تنظیمِ جماعت نہیں رہتی             اس قوم کو پھر ہیبت و دہشت نہیں رہتی
جس قوم کے افکار میں وحدت نہیں رہتی            اس قوم کی پھر عزت و عظمت نہیں رہتی
جو قوم مے و نغمہ سے ہو جاتی ہے مانوس          اس قوم میں پھر روحِ شجاعت نہیں رہتی
اربابِ حکومت کہیں ہو جائیں جو عیاش            پھر ملک نہیں رہتا حکومت نہیں رہتی
بے پردگی و پردۂ نسواں ہے برابر              نظروں میں انہیں کے جنہیں غیرت نہیں رہتی
آتے ہیں کبھی سامنے اعمال جو اپنے             اس وقت پھر اپنی کوئی وقعت نہیں رہتی
احساسِ گنہ تک سے بھی ہو جائے جو محروم              اس دل کی پھر اصلاح کی صورت نہیں رہتی
پھنس جاتا ہے دل حلقۂ افکارِ جہاں میں          جب فکرِ اجل، فکرِ قیامت نہیں رہتی
اس دورِ جوانی کو نہ غفلت میں گزارو             پیری میں عبادت کی بھی قوت نہیں رہتی
بے سود ہے اس دم کسی نیکی کی تمنا            جب نطق و اشارہ کی بھی قوت نہیں رہتی
عاجزؔ کہیں آجائے نہ وہ وقت اچانک!
جس وقت کہ توبہ کی بھی مہلت نہیں رہتی!